Showing posts with label Graveyard. Show all posts
Showing posts with label Graveyard. Show all posts

Saturday, September 7, 2019

Saving Graveyards of Peshawar is possible through (delayed) Computerization of Land Record

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
سات محرم الحرام چودہ سو اکتالیس ہجری
سات ستمبر دورہزار اُنیس عیسوی
۔۔۔
قبرستان: لینڈ ریکارڈ!
۔۔۔
پشاور کے وقف اُور یہاں کی مقامی اَقوام و برادریوں کے لئے مختص و مخصوص قبرستانوں کی بیشتر اراضی قبضہ ہو چکی ہے‘ جہاں تعمیرات کو ’تجاوزات‘ قرار دے کر علامتی طور پر مسمار تو کیا جاتا ہے لیکن قبضہ کرنے والوں کے خلاف ایسی سخت قانونی کاروائی نہیں کی جاتی‘ جس کی وجہ وہ نشان عبرت بن جائیں اُور دوسرے اِس قسم کی قانون شکنی سے گریز کریں۔

اراضی کی نوعیت کے اعتبار سے پشاور کے قبرستان بنیادی طور پر 2 قسم کے ہیں۔ پہلی قسم ’وقف‘ قطعات پر بنے قبرستانوں ہے‘ جس کا ملکیت اُور ریکارڈ محکمہ اُوقاف کے پاس محفوظ و زیرنگرانی ہے۔ یہ قطعات قیام پاکستان سے سینکڑوں برس قبل اہل پشاور کے آباو و اجداد نے اپنی جانب سے قبرستانوں کے لئے وقف کئے تھے۔ دوسری قسم کے قبرستان وہ ہیں جو اِس وقف اراضی کے بیچوں بیچ یا متصل واقع ہیں اُور انہیں قوم برادری نے اپنے لئے مخصوص کر رکھا ہے۔ لائق توجہ ہے کہ اِن دونوں اقسام کے قبرستانوں کی اراضی قبضہ ہو رہی ہے۔ حیران کن اَمر یہ بھی ہے کہ جب عدالتی کاروائی کا مرحلہ آئے تو محکمہ اوقاف کا جھکاو بھی اُسی منظم مافیا کے پلڑے میں رہتا ہے‘ جس کی پشت پناہی کرنے والوں میں سیاسی و غیرسیاسی حکمران اُور سب سے بڑھ کر سرمائے کا عمل دخل ہے۔ ناقابل یقین حقیقت یہ بھی ہے کہ ملکیتی قبرستانوں کی اراضی بے نامی (شاملات) ظاہر کر کے اُن کے انتقالات کئے جاتے رہے ہیں اور سلسلہ اب زیادہ تیزی سے جاری ہے کیونکہ کمپیوٹرائزیشن سے پہلے قبضہ مافیا زیادہ سے زیادہ اراضی اپنے نام منتقل کرنا چاہتا ہے۔

قانون شکنی کھلے عام ہو رہی ہے۔ قبضہ مافیا کے اراکین قبرستان کے کسی منتخب حصے کا پٹوارخانے کی مدد سے انتقال حاصل کر رہے ہیں اور یہ منظم دھندا اب بھی جاری ہے بلکہ اِس میں وقت کے ساتھ تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

آخر پٹوار خانے کے اختیارات اُور کارکردگی کا احتساب کیوں نہیں کیا جاتا؟

آخر قبرستانوں کی اراضی کے اِنتقالات کا جائزہ لینے کے لئے عدالتی تحقیقات (جوڈیشل انکوائری) کیوں ممکن نہیں؟

قبرستان کی اَراضی قبضہ کرنے والوں کے دست راست قبرکند اُور خود ساختہ چوکیدار بھی ہیں‘ جنہوں نے قبرستانوں کی اراضی پر مکانات اُور دکانیں تعمیر کر کے اپنے کاروبار پھیلا رکھے ہیں۔ یہ دونوں کردار (قبرکند اُور خودساختہ چوکیدار) قبروں کی کھدائی‘ قبر کے لئے جگہ کے انتخاب‘ قبر کی تعمیرومرمت‘ تدفین کے لئے ضروری سازوسامان کی فروختاُور قبروں کے لئے کتبوں کی لکھائی جیسی خدمات منہ مانگے معاوضے کے عوض فراہم کرتے ہیں۔ اگر صوبائی اُور ضلعی حکومت قبرستانوں کی اراضی بچانے میں واقعی سنجیدہ ہے تو اِسے ’قبر کندوں‘ کی رجسٹریشن اُور قبرستانوں کے خودساختہ چوکیداروں کی رجسٹریشن کرنا ہوگی‘ جو بذات خود بھی قبرستانوں پر قبضہ کئے ہوئے ہیں۔ قبرکند اُور خودساختہ چوکیدار قبرستانوں کے قبضہ مافیا کو اِس طریقے سے مدد فراہم کرتے ہیں کہ انہیں اُن قبروں کے بارے میں علم ہوتا ہے جن کے رشتے دار سالہا سال سے فاتحہ کے لئے نہیں آتے۔ ایسی قبروں کی نشاندہی کر کے اُنہیں مسمار کرنے والوں کی مدد کی جاتی ہے اُور یوں قبرستانوں میں خود رو جھاڑیوں کی طرح رہائشی مکانات پھیلتے چلے جا رہے ہیں۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں وہ سب ممکن ہے‘ جس کا ایک وقت تک تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ خلاءسے بنائی گئی تصاویر پر مبنی گوگل میپ (Google Map) کے پلیٹ فارم سے اِسے وسائل مفت دستیاب ہیں‘ جنہیں کمپیوٹروں اور موبائل فونز کے مدد سے بذریعہ انٹرنیٹ حاصل کیا جا سکتا ہے اُور اِن نقشوں کی مدد سے قبرستانوں کی اراضی مخصوص (mark) کی جا سکتی ہے۔ اِس عمل (Geo-Fencing) کی بنیاد پر پنجاب کی صوبائی حکومت پہلے ہی پٹوارخانے کا بیشتر ریکارڈ (land-record) کمپیوٹرائزڈ کر چکی ہے؟ خیبرپختونخوا کی اِنتظامی تقسیم سات ڈویژنوں اُور پینتیس اضلاع پر مشتمل ہے اِن میں بنوں (3)‘ ڈیرہ اسماعیل خان (3)‘ ہزارہ (8)‘ کوہاٹ (5)‘ مردان(2)‘ مالاکنڈ(9) اُور پشاور ڈویژن کے 5 پانچ اضلاع کی کل آبادی اُور رقبہ پنجاب سے کم ہونے کے باوجود یہاں کمپیوٹرائزیشن ایک معمہ (جوئے شیر لانے کے مترادف ناممکن) بنا ہوا ہے‘ آخر کیوں؟

تحریک انصاف کے انتخابی وعدوں میں ایک وعدہ ’اِی گورننس‘ بھی متعارف کروانا تھا جس پر عمل درآمد کی رفتار سست نہیں بلکہ تیز ہونی چاہیئے۔

پچیس جنوری 2019ءکے روز خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کے تمام اضلاع میں ’لینڈ ریکارڈ‘ کی کمپیوٹرائزیشن کا اعلان کیا‘ اِس سلسلے میں منعقدہ اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا‘ صوبائی وزیر برائے ریونیو اینڈ اسٹیٹ شکیل احمد خان‘ رکن صوبائی اسمبلی مصور خان اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی جنہوں نے فیصلہ کیا کہ کمپیوٹرائزیشن کا عمل مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے اُور پہلے مرحلے میں سات اضلاع کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کیا جائے۔ اگر صوبائی وزراءاپنی اپنی وزارتوں کا ریکارڈ چیک کرتے تو اُنہیں معلوم ہوتا کہ ماضی میں بھی اِس قسم کی اعلانات ہو چکے ہیں اُور خود تحریک انصاف حکومت ہی کے پہلے دور (2018-2013) کے دوران چوبیس دسمبر 2014ءکو اِسی قسم کے مرحلہ وار لینڈ کمپیوٹرائزیشن منصوبے کا اعلان کیا گیا تھا‘ جس کے لئے پشاور‘ مردان‘ اِیبٹ آباد اُور ڈی آئی خان کا اِنتخاب کیا گیا۔ ابتدائی (ڈیٹا انٹری) فوری طور پر شروع ہونے کی نوید سنائی گئی ‘جس کے بعد کوہاٹ بنوں اُور بونیر کے اضلاع کے لئے بھی نجی کمپنیوں (M/S Systems Ltd & Deloitte) سے معاہدے کئے گئے لیکن مذکورہ حکمت عملی منطقی انجام تک نہیں پہنچائی گئی اُور ایک مرتبہ پھر نئے عزم سے لینڈریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کے عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے!

ایک لالی پاپ ہضم نہیں ہوا کہ دوسرا تھما دیا گیا ہے!
یہاں سوال یہ نہیں کہ ماضی میں لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کا عمل کیوں مکمل نہیں ہو سکا لیکن پیش نظر رہنا چاہئے ماضی میں اِس مقصد کے لئے کروڑوںروپے کے جو آلات خریدے گئے وہ کہاں گئے اُور مزید کروڑوں کی خریداری کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ یادش بخیر 28 اپریل 2014ءکے روز اُس وقت کے صوبائی وزیر برائے ریونیو سردار علی امین خان گنڈا پور نے ’لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن‘ کے لئے نجی کمپنی سے معاہدے کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”خیبرپختونخوا کے تمام اضلاع میں آئندہ لینڈ ریکارڈ کی آئندہ 3 برس میں کمپیوٹرائز کر دیا جائے گا۔“ کیا ایسا ہو سکا اگر نہیں تو حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لئے کیا اقدامات کئے گئے۔
یہ بات باعث حیرانگی نہیں کہ کمپیوٹرائزیشن کے عمل میں پٹوار خانے تعاون نہیں کر رہے لیکن ماضی کی طرح ہر کوشش ناکام ثابت ہو گی اگر حائل رکاوٹیں دور کرنے میں عوامی مفاد کو پیش نظر نہ رکھا گیا!

تحریک انصاف کی پہلی صوبائی حکومت (2013-2018ئ) نے پورے دھوم دھام سے خیبرپختونخوا کے تمام اضلاع کی لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن کا اعلان کیا تھا‘ مذکورہ منصوبے پر کل لاگت کا تخمینہ 6.8 ارب لگایا گیا لیکن اعلان کرنے کے بعد اِس مد میں صرف 42 کروڑ 73 لاکھ 67 ہزار روپے جاری کئے گئے‘ جو منصوبے کی کل لاگت کا بمشکل 7 فیصد تھا۔ دوسری طرف حکمت عملی یہ تھی کہ کمپیوٹرائزیشن دو مراحل میں مکمل کی جائے لیکن جاری کئے گئے فنڈز ملازمین کی تنخواہوں‘ مراعات اور آلات کی خریداری کی نذر ہو گئے!

حقیقت یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں سب سے پہلے لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کی بات 2012ءمیں کی گئی جب اُس وقت کی صوبائی حکومت نے سات اضلاع بشمول پشاور‘ مردان‘ ایبٹ آباد‘ بونیر‘ کوہاٹ‘ بنوں اُور ڈیرہ اسماعیل خان کا انتخاب کیا اِس پہلے مرحلے پر لاگت کا تخمینہ 1.245 ارب روپے تھا‘ جو 2016-17ءمیں مکمل ہونا تھا لیکن 2013-14ءسے جاری کام مکمل نہیں ہو سکا اُور تحریک انصاف کے بعد پھر تحریک انصاف ہی کی حکومت نے لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن کو مزید 12اضلاع بشمول چارسدہ‘ نوشہرہ‘ صوابی‘ ہری پور‘ مانسہرہ‘ بٹ گرام‘ سوات‘ شانگلہ‘ کرک‘ ہنگو‘ لکی مروت اُور ٹانک تک وسعت دینے کا فیصلہ کیا۔ اِس دوسرے مرحلے پر لاگت کا تخمینہ 5.561 ارب روپے لگایا گیا‘ جسے 2017-18ءمیں مکمل ہونا تھا لیکن کام جاری تھا‘ جاری ہے اُور اِس کی رفتار دیکھتے ہوئے یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ کمپیوٹرائزیشن کا یہ کام یونہی جاری رہے گا۔
........


Friday, September 6, 2019

Graveyards of Peshawar in danger!

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
قبرستان: شریک جرم حکمران!

جنوب مشرق اِیشیاءکے قدیم ترین اُور زندہ تاریخی شہر ’پشاور‘ میں قبرستانوں کی اَراضی نہایت ہی منظم اَنداز میں قبضہ ہو رہی ہے اُور یہ سلسلہ وفاقی حکمراں پیپلزپارٹی کی صوبائی اتحادی پختون قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے دور حکومت (2008ءسے 2103ئ) میں زیادہ بڑے پیمانے پر شروع ہوا۔

پشاور کے انتخابی حلقوں میں اکثریت (ووٹ بینک) بنانے کے لئے ’اے این پی‘ نے قبرستانوں کی سیاسی جس کے خلاف اہل پشاور نے عدالت عالیہ (پشاور ہائی کورٹ) سے بھی رجوع کیا اُور پشاور کے حق میں عدالت کا یہ فیصلہ موجود ہے کہ قبرستانوں میں تجاوزات کی اراضی تجاوز واگزار کرائی جائے اور مزید تجاوزات نہ ہونے دی جائے۔ عوامی دباو کارگر (فتح یاب) ثابت ہوا۔

جون 2011ءمیں ’قبرستان بچاو تحریک‘ نامی تنظیم سے تعلق رکھنے والے سول سوسائٹی کے اراکین (مختلف مکاتب فکر کے نمائندوں) نے قانونی چارہ جوئی جاری رکھنے کے ساتھ ’پریس کلب‘ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اُور قدیمی ’رحمان بابا قبرستان‘ میں ہونے والی تجاوزات کے خلاف صوبائی حکومت و ضلعی انتظامیہ کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کی۔ اِس موقع پر تحریک کی جانب سے قبرستانوں کی اراضی پر بننے والے رہائشی بستیوں اُور کاروباری مراکز کی جاری تعمیرات سے متعلق مدعا مو ¿ثر انداز میں اُجاگر کرتے ہوئے یہ اعدادوشمار بھی جاری کئے گئے کہ .... ”پشاور کے ’رحمان بابا قبرستان‘ کا کل رقبہ جو کبھی ’198 ایکڑ‘ ہوا کرتا تھا ’74 ایکڑ‘ رہ گیا ہے اُور قبرستان تجاوزات کے باعث کم سے کم ’ایک ارب روپے‘ سے زائد کی اراضی قبضہ کی جا چکی ہے لیکن اِس ”عوامی توجہ دلاو ¿ نوٹس“ کا بھی خاطرخواہ نوٹس نہیں لیا گیا اُور سال 2011ءسے 2019ءکے درمیانی عرصے میں بھی تجاوزات کا سلسلہ جوں کا توں جاری رہا‘ نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے کہ رحمان بابا قبرستان کا رقبہ (اندازاً) 50 ایکڑ ہی باقی بچا ہے اُور یہ صورتحال اِس لئے بھی توجہ (غور) طلب ہے کہ باقی ماندہ قبرستان کی اراضی ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی ہے‘ جسے گلی کوچوں کی تعمیر‘ ٹیوب ویل‘ سکول‘ مساجد‘ کیمونٹی سنٹرز (حجروں) اُور ضلعی حکومت کے دفاتر قائم کرنے کے لئے مختص کر لیا جائے گا۔ پشاور کے دیگر اثاثوں کی طرح قبرستانوں کی اراضی ’مال مفت‘ ہے‘ جس کے رہے سہے ٹکڑے قبضہ کرنے ماضی کی نسبت زیادہ آسان ہو گئے ہیں۔ سیاسی پشت پناہی رکھنے والے عناصر‘ متعلقہ پولیس تھانہ جات اُور پٹوار خانے کی ملی بھگت سے راتوں رات نہیں بلکہ دن دیہاڑے بھی قبرستان کی اراضی قبضہ کر رہے ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔

آج کے پشاور میں ’قانون شکنی‘ جرم نہیں رہا۔
قانون شکنوں کو کسی کا خوف نہیں اُور صوبائی و ضلعی فیصلہ سازوں کی عدم دلچسپی کا خاص نکتہ یہ ہے کہ اِن میں سے کسی کا بھی آبائی قبرستان پشاور میں نہیں‘ اِس لئے اگر رحمان بابا سمیت پشاور کے تمام قبرستانوں کی اراضی بھی قبضہ کر لی جائے تو اِنہیں کچھ فرق نہیں پڑے گا اُور نہ ہی ’قبرستان قبضہ مافیا‘ کو کھلی چھوٹ دینے والے شریک جرم حکمرانوں کو ضمیر نامی کوئی شے جھنجھوڑ رہی ہے!
رواں ہفتے (یکم سے چار ستمبر کے درمیان) پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے ’ہزارخوانی قبرستان‘ میں تجاوزات کے خلاف کاروائی کا فیصلہ کیا اُور اِس فیصلے پر ’نمائشی طور پر عمل‘ کرتے ہوئے 15 سے زائد غیرقانونی تعمیرات مسمار کرنے جیسی بڑی کامیابی حاصل کرنے دعویٰ کیا ہے۔ قومی تمغہ برائے ’حسن کارکردگی‘ کے زمرے میں شمار ہونے والی یہ کاروائی ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ٹاون ون آصف اقبال کی قیادت میں سرانجام پائی‘ جن کے بقول .... ”تجاوزات مافیا کو کئی بار نوٹس جاری کئے گئے لیکن اُن پر اثر نہیں ہو رہا تھا۔“ جس کے بعد ڈپٹی کمشنر پشاور محمد علی اصغر کی تائید و منظوری سے کی گئی کاروائی سے قبل پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی‘ جنگ کا سماں بنایا گیا لیکن اِس پوری کاروائی میں نہ تو کسی نے مزاحمت کی اُور نہ ہی کارسرکار میں مداخلت کے جرم میں کوئی ایک بھی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ کیا جن چودہ تجاوزات کو منہدم کیا گیا‘ وہ جنات نے تعمیر کی تھیں کہ جن کا اتہ پتہ معلوم نہ ہو سکا؟ اگر ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر مقامی تھانے ہی سے پوچھ لیں تو تجاوز کرنے والے ہر شخص کا نام بمعہ ولدیت و شناختی کارڈ اُور موبائل نمبر اب بھی حاصل کر سکتے ہیں‘ جن کا طریقہ واردات یہ ہے کہ پہلے قبروں کو توڑ پھوڑ کر خستہ کیا جاتا ہے۔ راتوں رات سنگ مرمر کے کتبے (اگر ہوں) تو غائب کر دیئے جاتے ہیں۔ پھر اُن قبروں پر گندگی ڈھیر (انبار) کی صورت ڈال دی جاتی ہے۔ چند روز بعد ضلعی انتظامیہ ہی کے اہلکاروں کی مٹھی گرم کر کے گندگی اٹھوائی جاتی ہے جس کے ساتھ قبر پر ڈھیر کی صورت مٹی اور اِس کے باقی ماندہ آثار زمین بوس (ہموار) کر دیئے جاتے ہیں۔ اِس کے بعد ہفتہ وار یا مسلسل کئی روز سرکاری تعطیلات کا انتظار کیا جاتا ہے‘ جب غیرمعیاری تعمیر کرتے ہوئے تیار چھتوں کے استعمال سے مکان اور دکانیں تعمیر کر لی جاتی ہیں۔ قبرستانوں کی اراضی پر بننے والے مکانات زیادہ تر کرائے پر دیئے جاتے ہیں اُور قبضہ مافیا چند ہزار روپے کے عوض تعمیر ہونے والے اِن مکان سے ماہانہ کرایہ وصول کرتے رہتے ہیں۔ اِسی بھتے کی رقم سے عام انتخابات میں ووٹوں کی خریداری اُور دیگر اخراجات اَدا ہوتے ہیں!

قومی وسائل اُور سیاسی و بلدیاتی انتخابات لوٹنے پر استوار اِس طرزِ عمل و حکمرانی کے باعث پشاور اُس حقیقی قیادت سے محروم ہو گئی ہے‘ جس کا جینا‘ مرنا یہاں کی مٹی اُور پشاور سے وابستہ ہے! جن اغیار کے ہاتھوں پشاور کے بزرگوں کی ہڈیاں اُور اُن کی آخری نشانیاں تک محفوظ نہیں اُن سے کس طرح توقع کی
جاسکتی ہے کہ وہ یہاں کی تعمیروترقی (مفاد) کے بارے سوچیں گے!؟
قصور اَپنوں کا بھی ہے۔
بے پرواہی اُور خاموشی علاج غم نہیں‘ ترک ہونی چاہئے۔
اہل پشاور کو اپنے زندہ ہونے کا اپنے عمل سے ثبوت دینا ہوگا کیونکہ یہاں کا صرف ’شہر خموشاں‘ ہی ’فتح‘ نہیں کر لیا گیا بلکہ ”حملہ آور“ پشاور کی تاریخ و ثقافت سے جڑی ہر نشانی کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتے ہیں۔ وقت ہے کہ اہل پشاور ثابت کریں کہ وہ زندہ اُور فکرمند ہیں۔ اپنے آباواجداد کی آخری آرامگاہوں کی حفاظت کے بارے میں متحدہ لائحہ عمل کی تشکیل میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ یقینا بہت دیر ہو چکی ہے لیکن نقصان کے تخمینے اُور پشیمانی کے اظہار سے زیادہ غلطی کی اِصلاح ضروری ہے۔
...


Sunday, March 11, 2018

Mar 2018: Save the graveyards of Peshawar, please!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
پشاور کی خبریں!
’روزنامہ آج‘ کی اشاعت میں شامل ’’پشاور کی خبریں‘‘ مستقل و مسلسل اُور مربوط سلسلہ ہے‘ جو نہ صرف ’اپنے شہر‘ سے آگاہی کا ’(مستند) وسیلہ ہے بلکہ مقامی اور غیرمقامی اہل پشاور یا ایک جیسی دلچسپی رکھنے والے قارئین آپس میں جڑے رہتے ہیں تاہم ’صفحہ 2‘ کے ذریعے ’پشاور شناسی‘ میں اضافہ ہونے کے امکان بارے ادارتی فیصلہ سازوں کو سوچنا چاہئے کہ صحافت ایک مشن بھی تو ہوسکتا ہے۔ 

نہایت ہی شدت سے کمی اِس بات کی بھی محسوس ہو رہی ہے کہ پشاور سے متعلق درپیش مسئلے مسائل کی بابت عام آدمی (ہم عوام) کی آراء خصوصیت اور تواتر سے شائع ہوں۔ فی الوقت پشاور کے لئے مختص جگہ (space) کا بڑا حصہ اعلامیوں (احکامات)‘ روائتی سیاسی و غیرسیاسی بیانات اور اُن واقعات کی خبروں نے لے رکھی ہے‘ جن کا اِرتکاب بصورت معمول یا جرائم ہوتا ہے۔ تین مارچ کی اشاعت میں چار کالم شہ سرخی چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ ’’(پشاور:) قبرستان پر قبضہ مافیا کے خلاف کاروائی‘ اُوقاف سے رابطہ۔‘‘ اِس خبر کو صفحے کے بالائی حصے میں نمایاں کرکے شائع کرنے کا مقصد یہی ہوگا کہ ’صوبائی اور ضلعی حکومتوں‘ کی جانب سے ’فوری توجہ (نوٹس)‘ لیا جائے لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ اب تو یہ بات پشاور سے شائع ہونے والے اور پشاور کی محبت کا دم بھرنے والے بہت سے اخباروں کے لئے خبر بھی نہیں رہی کہ ’’قبرستانوں کی اراضی قبضہ ہو رہی ہے اور صوبائی حکومت کی ناک کے نیچے قبضہ مافیا کی کاروائیاں جاری ہیں۔‘‘ عجب ہے کہ نہ تو خبر کا اثر ہو رہا ہے اور نہ ہی قانون کا خوف محسوس کرنے والوں کی کمی ہے! 

سیاسی پشت پناہی رکھنے والے اِیسے عناصر معلوم ہیں‘ جن کے لئے ’انٹرپول‘ یا ڈرون طیاروں کی ضرورت نہیں اور نہ ہی اِن ’دیدہ دلیر قانون شکنوں‘ نے کسی ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جس سے متعلق قانون کی کتابیں خاموش ہیں اور معلوم ہی نہیں ہو رہا کہ کن دفعات کا اطلاق کیا جائے! 

صد افسوس کہ ماضی کی طرح ’تبدیلی کی علمبردار‘ موجودہ صوبائی و ضلعی حکومتیں بھی مصلحتوں کا شکار ہیں‘ جن کے لئے ذرائع ابلاغ کی طرف سے ’’نشاندہی اور رہنمائی‘‘ کی خاطرخواہ اہمیت نہیں تو اِس (تجاہل عارفانہ پر مبنی) طرزِعمل سے ’صحافت یا اہل صحافت‘ کا نہیں بلکہ ’اہل سیاست‘ اپنا نقصان کر رہے ہیں۔ المیہ ہے کہ خبروں کی قدر و اِہمیت تو باقی ہے لیکن چونکہ متعقلہ حکام اِن کے بارے میں ’حساس‘ نہیں رہے تو خبریں خبروں کے بوجھ تلے دب کر دم توڑ رہی ہیں!

تین مارچ کو شائع ہوا کہ ’’(پشاور کے) زاہد آباد علاقے میں سرکاری قبرستان کی کھدائی جاری ہے۔ کچھ لوگ قبضہ کرنا چاہتے ہیں لیکن آغا میرجانی شاہ پولیس نے (بروقت کاروائی کرتے ہوئے) ملوث افراد کو غیرقانونی اقدام سے روک دیا۔‘‘ لمحۂ فکریہ ہے کہ پولیس نے ’غیرقانونی اقدام‘ میں ملوث افراد کو روکا لیکن اُن کے خلاف کاروائی نہیں کی اور یہی وجہ رہی کہ نہ صرف زاہد آباد بلکہ دیگر قبرستانوں کی اراضی پر قبضہ کرنے والوں کی حوصلہ شکنی نہیں ہوئی۔ حال تو یہ ہے کہ قبرستانوں کی اراضی ہڑپ کرنا نہ تو اخلاقی اور نہ ہی قانونی جرم تصور ہو رہا ہے اور اگرچہ یہ معاملہ پشاور ہائی کورٹ تک جا پہنچا ہے جہاں صوبائی حکومت نے دو ماہ کی مہلت لے رکھی ہے لیکن قبرستان محفوظ نہیں کئے جاسکے۔ یوں لگتا ہے کہ دو ماہ کی مہلت باقی ماندہ قبرستانوں کی اراضی مل بانٹ کر تقسیم کرنے کے لئے لی گئی ہے! 

9 مارچ کو (دو کالم) شائع ہونے والی اِس دوسری خبر کی سرخی تھی ۔۔۔ ’’اخون بابا قبرستان پر قبضہ مافیا کے خلاف احتجاج‘‘ رنگ روڈ بلاک (جبکہ) بیری باغ میں 80 مرلے اراضی پر دوبارہ قبضہ کر لیا گیا‘ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ’انتظامیہ نوٹس لے۔‘‘ منظرنامہ ملاحظہ کیجئے کہ ۔۔۔ ایک طرف قانون شکن ہیں جن کے سامنے پولیس بے بس ہے تو اُن کے مدمقابل مقامی افراد (اپنی مدد آپ کے تحت) قبرستانوں کی اراضی بچانے کے لئے احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔ اگر پولیس اپنی حقیقی موجودگی کو ثابت کرتی ہے تو صوبائی دارالحکومت کے علاقہ ہزار خوانی کے مکینوں کو احتجاج کی نوبت نہ آتی۔ ٹاؤن ون کی حدود ’اَخون بابا‘ اور ’بیڑی باغ‘ قبرستانوں پر قبضہ نہ تو راتوں رات ہوا‘ اُور نہ ہی یہ واردات جادوئی تھی کہ کسی کو کانوں کان اور نظروں نظر خبر ہی نہ ہو سکتی لیکن چونکہ پشاور دل و جاں کا حصہ نہیں اِس لئے عوام کے منتخب کردہ ’ضلعی نمائندے‘ صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ پولیس اسٹیشنوں کی پولیس کا رویہ عملاً ’پشاور دوست‘ بھی نہیں! 

تیسری خبر‘ تین کالم سائز میں ’10 مارچ‘ کے روز ’صحفہ دو‘ کی زینت بنی‘ جس کی ’شہ سرخی‘ میں ڈیزائن کی خوبیاں کے ساتھ ’عوام الناس‘ کو مطلع کیا گیا کہ ’’بیری باغ قبرستان میں قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن‘ کارِ سرکار میں مداخلت پر جھڑپیں۔‘‘ ماضی میں بھی ’بیڑی باغ‘ کے مقام پر ضلعی اِہلکاروں اُور اِحتجاج کرنے والے مقامی اَفراد کے درمیان اِسی قسم کی جھڑپیں ہو چکی ہیں لیکن قانون شکن عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی نہیں کی گئی! ضلعی حکومت پشاور کے طول و عرض میں تجاوزات کے خلاف ’گرینڈ آپریشن (بڑی کاروائیاں)‘ کرنے کی (زبانی) دعویدار تو ہے لیکن شہرخموشاں (قبرستانوں) سے لیکر ’عالم طلسم‘ تک برسرزمین صورتحال میں تبدیلی نہیں آ رہی۔ 

پشاور کے رہنے والوں کے لئے اِس سے زیادہ صدمہ اُور کیا ہو سکتا ہے کہ ہر چند ہفتوں بعد اُن کے آباؤ و اجداد کی قبریں مسمار کرنے والے ہاتھ کر جاتے ہیں جبکہ صاحبان اِختیار (حکومتیں) خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ یہی وہ مقام فکر و بیان ہے کہ جہاں ’پشاور کو لاوراث‘ قرار دیا جاتا ہے کہ اِس شہر کی فیصلہ سازی پر ایسے لوگ مسلط (حاوی) ہو گئے ہیں جن کی پشاور میں نہیں بلکہ اِس کے وسائل اور اراضی میں زیادہ دلچسپی ہے۔ آئندہ عام انتخابات (دوہزار اٹھارہ) کے موقع پر اگر اہل پشاور (ہندکووانوں) نے ایک مرتبہ پھر ماضی کی غلطیاں دُہرائیاں اُور اپنا ووٹ ’جانے پہچانے اَنجانوں‘ کے حق میں استعمال کیا تو پھر اُنہیں قبرستانوں اور بازاروں میں تجاوزات کے خلاف بولنے یا احتجاج کرنے کا بھی حق نہیں‘ پھر بنیادی سہولیات کی محرومی کا رونا بھی نہیں بنے گا۔ 

عام اِنتخابات کے موقع پر ۔۔۔ پشاور کے عام آدمی (ہم عوام) کو اپنی سوچ اُور عمل کی اصلاح کے ساتھ خوداحتسابی جیسے شعوری سفر کی منازل طے کرنی ہیں کیونکہ فیصلے کی گھڑی‘ ہر گھڑی قریب آ رہی ہے۔ 

’’عالم طلسم شہرخموشاں ہے سر بسر
یا میں غریب کشور گفت و شنود تھا (مرزا غالب)۔‘‘
۔
Three news items picked from Page 2 also known as City Page regarding encroachments in Graveyards of Peshawar

Layout of the editorial page of Daily Aaj - Mar 11, 2018 Sunday

Thursday, September 28, 2017

Sept 2017: Issues of Sheikh Ameer Abad - Beri Bagh, Peshawar

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
پشاور: مٹتے نقوش!
حل طلب مسائل کی شدت میں ہر گزرتے دن اضافہ ہونے کی وجہ سے ’پشاور کی شہری زندگی‘ کا حسن ماند پڑ چکا ہے۔ بیرون یکہ توت اُور گنج گیٹ سے ملحقہ رہائشی بستی ’شیخ امیر آباد کی بستی ’بیڑی باغ‘ کے نام سے بھی معروف ہے جو ضلعی حکومت کے زیرانتظام ’یونین کونسل وزیرباغ (یو سی اکیس)‘ قومی اسمبلی کے حلقہ ’این اے ون‘ اُور صوبائی اسمبلی کے حلقہ ’پی کے تھری‘ کا حصہ ہے۔ یہاں سے گزرنے والی ’نہر (Canal)‘ جو کبھی آب نوشی اور آبپاشی (زراعت) جیسے مقاصد کے لئے استعمال ہوتی تھی گندگی سے بھرے ’نالے‘ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ 

تحریک اِنصاف کی قیادت میں موجودہ صوبائی حکومت نے ’شیخ اَمیر آباد‘ کے مقام پر گہری نہر کے دونوں کناروں پر ’حفاظتی انتظامات‘ کو بہتر بنایا لیکن اصل مسئلے کی جانب توجہ تاحال مبذول نہیں ہو سکی جو ’نہر میں موجود کوڑا کرکٹ (ٹھوس گندگی) کی صفائی سے متعلق ہے‘ اُور اہل علاقہ کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ ’واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسیز (ڈبلیو ایس ایس پی)‘ اپنی موجودگی کا عملاً ثبوت دے اور ’شیخ امیرآباد‘ کے مقام پر نہر کی صفائی اور مذکورہ نہر کے نکاسئ آب کے لئے عمومی استعمال کی اصلاح کی جائے۔ شیخ اَمیر آباد سے گزرنے والا کھٹہ (لختئی) میں دو پائپ گزارے گئے۔ اِن پائپوں کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے نچلا پائپ بند ہے جس کی وجہ سے شیخ امیرآباد گلی نمبر ایک کی نکاسئ آب ممکن نہیں رہی۔ اِس علاقے کا دوسرا بڑا مسئلہ ’تجاوزات‘ کا ہے۔ ٹاؤن ون کے ناظم ’زاہد ندیم‘ سے اُمید ہے کہ وہ اپنی پہلی فرصت ’شیخ امیر آباد‘ کا ’پہلا دورہ‘ فرمائیں گے اور یہاں صفائی کی صورتحال بہتر بنانے‘ بڑھتی ہوئی تجاوزات بالخصوص برف خانے کے سامنے قبرستان کی اَراضی پر قبضے کی جاری کوششیں (سرگرمیوں) کا سخت نوٹس لیں گے اُور ہزار خوانی روڈ سے بیڑی باغ کی طرف موڑ کاٹتے ہوئے سڑک کنارے تجاوزات کے امکانات ختم کرنے میں ’واجب کردار‘ اَدا کریں گے۔ پشاور کے نقوش مٹانے کی کوشش کرنے والوں کے ساتھ سختی سے معاملہ ہونا چاہئے۔

پشاور کے کئی علاقے نایاب ہستیوں کے ناموں سے منسوب ہیں جن میں ’بستی شیخ اَمیر آباد‘ بھی شامل ہے۔ ’(ملک) شیخ امیر مرحوم‘ کا تعلق پشاور کی اُس ’اعوان برادری‘ سے تھا جس میں یہاں کے ’ملک خاندان‘ کے سپوتوں کی اکثریت ہے۔ یہی لوگ ’’پشاور کے مالک‘‘ بھی کہلاتے ہیں کیونکہ کاشتکاری‘ باغبانی اور زراعت سے وابستہ یہی سب سے زیادہ ’صاحب جائیداد‘ ہوا کرتا تھا۔ وزیرباغ کے اطراف سے ’سائنس سپرئیر کالج‘ تا ہزار خوانی‘ رنگ روڈ اُور بیڑی باغ سے گنج گیٹ اُور یکہ توت گیٹ تک پھیلے وسیع و عریض رقبہ ’فصیل شہر‘ کا وہ بیرونی علاقہ ہوا کرتا تھا‘ جہاں قیام پاکستان سے قبل یا تو دیگر ممالک اُور دور دراز علاقوں سے آنے والے تجارتی قافلوں کا گزر ہوتا یا پھر پشاور کے اِن زراعت پیشہ ملک گھرانوں کے آباواجداد زرعی آلات اُٹھائے منہ اندھیرے فصیل شہر کے دروازوں سے گزر کر کھیتوں کو جاتے اور دن ڈھلنے (وقت مغرب) سے قبل واپس لوٹ آتے تاکہ شہر کے داخلی دروازے بند ہونے سے قبل وہ اپنی رہائشگاہوں تک پہنچ سکیں۔ جس وقت ’بیرون پشاور‘ کا بیشتر علاقہ سرسبزوشاداب‘ گل و گلزار مہکتا تھا‘ جب ہر طرف لہلہاتے کھیتوں اور باغات کی قطاریں دکھائی دیتی تھیں اور کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ زرعی مقاصد کے لئے استعمال ہونے والی نہایت ہی قیمتی اراضی بناء منصوبہ بندی پھیلتے پشاور کی نذر ہو جائے گی اور یہی وجہ رہی کہ پشاور کے مضافاتی علاقوں میں اندرون شہر سے زیادہ گنجان آباد بستیوں سے رہنے والے بنیادی سہولیات سے محروم دکھائی دیتے ہیں۔ 

یادش بخیر پشاور کے اُس سنہرے دور میں ’شیخ امیر‘ نامی کاشتکار پیشہ شخص نے اپنی رہائشگاہ سے متصل ایک قطعہ اراضی آخری آرام گاہ اور دوسرا اس سے متصل مسجد (عبادت گاہ) کے لئے وقف کیا۔ آج اُن کا مزار کسمپرسی کی تصویر ہے جس پر قبضہ کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں گویا علاقے کی فلاح و بہبود کے لئے اُن کی خدمات کو اُن کے ساتھ ہی دفن کر دیا گیا ہو۔ مزار سے متصل مسجد موجود تو ہے لیکن اِس مسجد کا نام تبدیل کر دیا گیا ہے۔ چند ماہ قبل اُن کے مزار کو بھی مسمار کرنے کی کوشش کی گئی اور آج بھی تجاوزات قائم ہیں‘ جس پر شریف النفس اہل خانہ کی جانب سے ردعمل (احتجاج) کی وجہ سے آس پاس رہائش پذیر ’قبضہ مافیا‘ وقتی خاموش تو ہوگیا لیکن اُس کے ارادے معلوم و خطرناک ہیں۔ اِس سلسلے میں شیخ امیر مرحوم و مغفور کے عزیز ’ملک صابر حسین اعوان‘ کی کوششیں اپنی جگہ اہم ہیں‘ جو اپنی خرابئ صحت کے باوجود بھی پشاور کی اِس شناخت اور نقش کو باقی رکھنے کے لئے تن تنہا اِس محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اُن کی درازئ عمر‘ صحت و تندرستی اور سلامتی کے لئے بہت سی دعاؤں اور نیک تمناؤں پیش ہیں کیونکہ اُنہی کے دم کرم سے اِس علاقے کا تشخص‘ باقی ماندہ قبرستانوں کی حفاظت اُور شیخ امیر مرحوم کے مزار و مسجد کو محفوظ رکھنے کی کوششیں ایک تسلسل سے متواتر جاری ہیں۔ دیکھتے دیکھتے ’بیڑی باغ‘ کے قبرستان ہڑپ کر لئے گئے اور آج اِکا دُکا قبروں یا اُن کے نشانات باقی ہیں۔ 

اہل پشاور کے بزرگوں کی قبروں کی یہ بے حرمتی اور قبرستانوں کی وقف اراضی پر قبضہ کرنے والوں کو ’این اے ون‘ اور ’پی کے تھری‘ کے جس نمائندہ خاندان کی سربراہی حاصل ہے‘ انہوں نے اپنی قبروں کے لئے تو ’حضرت ابوالبرکات سید حسن بادشاہ (میراں بادشاہ) رحمۃ اللہ علیہ‘ سے متصل قطعۂ اراضی خرید لی ہے لیکن انتخابی سیاست کے لئے پشاوریوں کے آثار مٹانے کی قابل مذمت کردار سے تاحال رجوع نہیں کیا۔ 

شیخ امیر مرحوم کا مزار اِس لئے بھی محفوظ رہا کہ ایک تو وہ یہ اُن کی ملکیتی اراضی پر قائم ہے اور دوسرا مزار سے متصل جامع مسجد کی محراب اُن کی مزار سے متصل ہے جس طرف توسیع ممکن نہیں۔ کس جواز کے تحت اہل علاقہ نے ’شیخ امیر جامع مسجد‘ کا نام تبدیل کیا جبکہ آج کی تاریخ میں کوئی ایک مرلہ زمین بھی عطیہ نہ کرتا اُور شیخ امیر نے سینکڑوں مرلہ اراضی وقف کی تھی تو کیا اُنہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا یہی طریقہ ہے!؟ 

مادہ پرستی کے دور میں نوجوان نسل کو ’شیخ امیر آباد‘ جیسی ہستیوں اور اُن کی اپنی مٹی سے وابستگی سے آگاہ کرتے ہوئے ایسے مثالی عمل اور یادگاروں کی حفاظت ہونی چاہئے تاکہ ہر کس و ناکس کو اجتماعی فلاح و بہبود جیسی بے لوث خدمت و عمل کی رغبت مل سکے۔ بلاامتیاز خدمت ہی وہ سیاست ہے جس کا سکہ دنیا اور بعداز رحلت‘ تاقیامت کام آئے گا۔
Sheikh Ameer Abad (Beri Bagh) Peshawar faces many issues including a filth deposited canal & encroachments 

Friday, October 7, 2016

Oct2016: Graveyard for Christians

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
قبرستان: ایک ضرورت!

مسیحی براداری سے تعلق رکھنے والے ایک قاری نے خیبرپختونخوا حکومت کی توجہ ’مسیحی قبرستان‘ کی جانب سے مبذول کراتے ہوئے ایک سطر میں یہ قابل غور بات بھی لکھی کہ ’’اگرچہ اَقلیتوں میں مسیحی براداری کی اَکثریت غریب طبقات سے تعلق رکھتی ہے اور تعلیم کی وجہ سے سرکاری و نجی ملازمتوں میں مسیحی براداری کا تناسب بھی بڑھا ہے لیکن صوبائی حکومت اگر چاہے تو کم مالی وسائل رکھنے والے اقلیتی افراد کا معاشی و مالی سہارا (سپورٹ) بن کر ملک کے دیگر حصوں کے لئے روشن مثال قائم کر سکتی ہے۔‘‘ مختصر برقی مکتوب (اِی میل) کے لب و لہجے میں کہیں تلخی‘ کہیں شرینی اور کہیں محتاط رہنے کے باوجود گلے شکوے درج ہیں۔ مسیحی قبرستان الگ کیوں ہونے چاہیءں جبکہ مسیحی بھی اپنے مردوں کی مسلمانوں کی طرح تدفین کرتے ہیں اور بیرون ملک رہنے والوں کی قبریں کیا مسلم قبرستان میں ہوتی ہیں؟ 

قبرستانوں کا مذہبی تشخص کیا معنی رکھتا ہے اور کیا یہ برقرار رہنا چاہئے؟ قبرستانوں کے لئے اراضی اگر سرکاری وسائل سے خریدی جاتی ہے تو پھر اِس پر سب کا مساوی حق کیوں نہیں ہے؟ مسلم اور اقلیتی قبرستانوں کو اکھٹا بھی تو کیا جا سکتا ہے جیسا کہ کسی قبرستان کا ایک حصہ چاردیواری یا واضح علامات کے ذریعے مسیحی برادری کے لئے مخصوص ہونے میں کیا امر مانع ہے۔ جہاں تک مسیحی یا اقلیتی برادری کی مالی سرپرستی (ماہانہ وظیفہ) مقرر کرنے کی بات ہے تو اِس میں ایک سے زیادہ ’سپورٹ پروگرام‘ موجود ہیں جو وفاقی و صوبائی حکومتوں کے تعاون سے چلائے جاتے ہیں اور اِن میں اقلیتوں سے کوئی تعصب یا امتیاز نہیں برتا جاتا لیکن باوجود اِس کے اگر ضرورت محسوس کی جا رہی ہے اور ریاست کے پاس مالی وسائل کی بھی کمی نہیں تو وہ عوام کی بہبود اور بالخصوص ایک ایسی براداری کے اراکین کو بنیادی سہولیات و ضروریات کی فراہمی کے بعد ’’احسان‘‘ بھی تو کیا جا سکتا ہے جو مبینہ طور پر ’باوجود کوشش‘ بھی ایک مسلم اکثریتی معاشرے میں یکساں بنیادوں پر رہن سہن یا ملازمتی مواقع نہیں رکھتے۔



خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کی طرح پشاور کے گردونواح میں قبرستان کے لئے اراضی خرید کر مختص کرنا قطعی مشکل نہیں۔ اِس مقصد کے لئے حکومت کی ملکیتی اراضی کا کوئی خاص‘ الگ حصہ بھی مختص کیا جاسکتا ہے اور اگر یہ کام منصوبہ بندی کے ذریعے کیا جائے تو مسیحی برادری کے لئے رہائشی بستی بھی بنائی جاسکتی ہے جہاں اُن کے مکانات اُور قرب و جوار میں متصل قبرستان‘ گرجا گھر اور دیگر ضروریات موجود ہوں۔ ایسی کسی بستی کی حفاظت بھی زیادہ آسان ہوگی اور مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے پوری آزادی کے ساتھ وہاں اپنی عبادات و مذہبی رسومات ادا کرسکیں گے۔ جہاں تک پشاور کے موجودہ قبرستانوں کا احوال ہے تو تجاوزات کی وجہ سے قبرستان خود مسلمانوں کے لئے سکڑ گئے ہیں تو مسیحی براداری کو یہ گلہ نہیں کرنا چاہئے کہ اُن کے لئے قبرستان کی اَراضی کم پڑ گئی ہے بلکہ صورتحال تو یہ ہے کہ جہاں کبھی قبریں ہوا کرتی تھیں اب وہاں قطار در قطار مکانات بن گئے ہیں‘ فرق صرف اتنا ہے کہ قبروں کی جگہ بننے والے مکانات میں رہنے والوں کو ’زندہ‘ شمار کیا جاتا ہے! 

قبرستانوں کی اراضی انتخابی سیاست کرنے والوں نے اپنے حامیوں میں تقسیم کی‘ منافع بھی کمایا اور اب ہر عام انتخاب میں ووٹ بھی اُنہی کے نام ہوتے ہیں! پشاور کے آباواجداد کی آخری آرامگاہوں کا نام و نشان مٹانے والے منتخب ہوکر اپنی کامیابی کا جشن مناتے ہوئے شاید سوچ بھی نہ رہے ہوں کہ اُنہوں نے کس قدر خسارے کا سودا کیا ہے۔ قبرستانوں میں گلیاں‘ نالیاں‘ ٹیوب ویل اور سرکاری سکول بنانے والوں کے ناموں کی تختیاں ’ملزمان کی نشاندہی‘ کرتی ہیں‘ اے کاش کہ پشاور کے رہنے والوں کو اِس کا احساس ہو جائے!



پشاور کی مسیحی براداری کی جانب سے مکتوب میں کہا گیا ہے کہ ’’جب کبھی بھی کوئی نئی قبر کھودی جاتی ہے تو اُس مقام پر پہلے سے دفن رہے انسانی مردے کی ہڈیاں برآمد ہوتی ہیں۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ پشاور میں مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والوں کی آبادی ’30 ہزار‘ کے لگ بھگ ہے جن کے لئے 2قبرستان مخصوص ہیں۔ ایک گورا قبرستان چھاؤنی کی حدود میں شہر کے رہنے والوں کے لئے فاصلے پر ہے اور دوسرا قبرستان ’وزیرباغ‘ سے ملحقہ ہے جہاں قبروں کے لئے مزید گنجائش باقی نہیں رہی۔ 9 کنال پر پھیلے ’گورا قبرستان‘ اور 14 کنال رقبے پر ’وزیرباغ‘ کے مسیحی قبرستان کا عالم یہ ہے کہ ہر ایک قبر کم سے کم چار یا پانچ مرتبہ تدفین کے لئے استعمال ہو چکی ہے۔ 

مسیحی برادری کی اکثریت کا تعلق کم آمدنی والے طبقات سے ہے جو صاحب ثروت مسلمانوں کی طرح‘ اپنی مدد آپ کے تحت قبرستان کے لئے اراضی خریدنے کی مالی سکت نہیں رکھتے اور انہوں نے یہ بات پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے گوش گزار بھی کی‘ جنہوں نے ’کمال مہارت‘ سے معاملہ ضلعی حکومت کو سونپتے ہوئے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن چونکہ ضلعی حکومت کے پاس اِس قدر مالی وسائل نہیں کہ وہ کسی ایک اقلیت یا برادری کے لئے کروڑوں روپے کا ترقیاتی منصوبہ مکمل کر سکے‘ اِس لئے مرکز نگاہ صوبائی حکومت ہی ہے جس کی توجہ مبذول اگر نہیں ہوگی‘ تو اِس ضرورت کا پائیدار فوری اور ممکنہ حل ممکن نہیں۔ اُمید کی جاتی ہے کہ سال دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات کی تیاریوں میں غوروخوض کرتے ہوئے صوبائی حکومت مسیحی اقلیتی براداری کے جائز مطالبے پر کان دھرے گی اور ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کے لئے قبرستانوں کی مختص اراضی پر قبضہ کرنے والے اُس ’’سیاسی مافیا‘‘ سے بھی نمٹا جائے گا‘ جو سرکاری زمین کا استعمال کرتے ہوئے اندرون و مضافاتی پشاور کے انتخابی حلقوں میں اپنا اثرورسوخ (مقبولیت کے حلقے) بنائے ہوئے ہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Monday, April 18, 2016

APR2016: Anti Encroachments Drive & measures to treat the issue!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تجاوزات: مرض‘ سبب اُور علاج!
غلطیوں میں اِصلاح کے پہلو تلاش کرنے چاہیءں۔ کسی عمل کی ’مماثلت (نقل بمطابق اَصل)‘ بھی باعث خیروبرکت ہو سکتی ہے‘ اگر شامل کھوٹ (درپردہ مفادات) کی بجائے‘ نیت و عمل جیسے کلیدی اَجزأ میں ’اخلاص‘ کا اضافہ کر لیا جائے۔ یہی ضرورت پشاور میں رواں ماہ کے آغاز (9 اپریل) سے ’تجاوزات کے خلاف جاری مہم کے نئے مرحلے میں غیرمعمولی تیزی کو دیکھتے ہوئے بھی محسوس کی جا رہی ہے جس میں پہلی مرتبہ مساجد‘ اِمام بارگاہوں اور دیگر ایسے حساس مقامات کو حاصل استثنیٰ ختم کر دیا گیا ہے‘ جنہوں نے امن و امان کی خراب صورتحال کا فائدہ یا بلدیہ ملازمین کی مٹھیاں گرم کرکے پشاور کی کشادگی اور وسعت کو ہڑپ کر رکھا تھا۔

ماضی میں پشاور کے ضلعی حکمران ہی ’تجاوزات کے بادشاہ‘ تھے جن کے وزیروں اور مشیروں کے کارنامے انگلیوں پر شمار کرنا ممکن نہیں۔ یہ بات ’گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ‘ میں شامل ہونے لائق ہے کہ پشاور میں ایک ’سی این جی (گیس) اسٹیشن‘ ایسا بھی ہے جو سڑک کے کنارے نہیں بلکہ سڑک کے ایک حصے کو شامل کرتے ہوئے بنایا گیا! فصیل شہر کو مسمار کرکے پلازے بنانے والوں کی کرامات سٹی سرکلر روڈ کا طواف کر رہی ہیں اور حال ہی لاہوری گیٹ سے رہائشی کواٹر ختم کرنے کے بعد اُمید تھی کہ سٹی سرکلر روڈ کی نکاسئ آب کا منصوبہ تشکیل دینے میں آسانی ہوگی لیکن راتوں رات لاہوری گیٹ سے نشترآباد کی پٹی پر دکانیں اور کثیرالمنزلہ عمارتیں تعمیر ہوگئیں جن میں سے کئی ایک پر وکلأ کے ناموں کے بورڈز بھی آویزاں دیکھے جا سکتے ہیں یعنی ضلعی حکومت کو متنبہہ کیا گیا ہے کہ اگر اِس عمارت کو ہاتھ لگایا تو سخت قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

 تصور کیجئے کہ جو قانون سرکاری اِداروں کے لئے باعث تقویت ہونا چاہئے تھا اُس کا حوالہ دیتے ہوئے سرکاری اداروں کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے! یہی حال اَدویات فروخت کرنے والوں کا بھی ہے‘ جو اَسناد کی آڑ میں ’کاروبار کو شرعی و قانونی طور پر جائز‘ سمجھتے ہیں! ضلعی حکومت کو اپنی توجہ دیگر ایسی بے قاعدگیوں کی جانب بھی مبذول کرنا پڑے گی لیکن تجاوزات کے مرض‘ اِس کی بنیادی وجہ اُور علاج تجویز کرنے والوں کو ’توڑ پھوڑ‘ کے ساتھ ’بلڈنگ کنٹرول‘ کے شعبے کو فعال کرنا وقت کی ضرورت ہے تاکہ 1: نئی تعمیرات منظور شدہ نقشے کے مطابق کرنے کی پابندی کا اطلاق ہو سکے۔ مختلف علاقوں کی مٹی کے مطابق بلڈنگ کوڈز مرتب کئے جائیں۔ 2: نئی بستیوں اور بالخصوص اندرون پشاور کے رہائشی و تجارتی علاقوں کے درمیان پائی جانے والی تمیز برقرار رکھی جائے۔ 3: جن علاقوں سے تجاوزات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے وہاں اِنہیں پھر سے قائم نہ ہونے دیا جائے۔ 4: جہاں کہیں تاجروں دکانداروں (بازاروں کی سطح پر منتخب نمائندہ) تنظمیں موجود ہیں‘ اُنہیں تجاوزات کی نگرانی سونپی جائے اور کسی بے قاعدگی کی صورت اطلاع پر فوری کاروائی تعطیل کے ایام میں بھی ہونی چاہئے کیونکہ تجاوزات قائم کرنے والوں کا طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ عام تعطیلات کے ایام میں راتوں رات دکانیں تعمیر کر لیتے ہیں۔ 5: گوگل میپ (Google Map) کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے نہ صرف ضلع پشاور بلکہ شہری و دیہی علاقوں کے الگ الگ نقشہ جات ترتیب دیئے جائیں جو جدید ’’جیوگرافیکل انفارمیشن سسٹم (GiS)‘‘ کے اصولوں کے مطابق ہونے چاہیءں ایسے ’آن لائن نقشہ جات‘ مرتب کرنے کے بعد نہ صرف گلی کوچوں اور بازاروں کو تجاوزات سے پاک کرنے میں مدد مل سکے گی بلکہ ایک منظم و مربوط طریقے سے پشاور میں ترقی کا عمل بھی زیادہ پائیدار و معیاری بنایا جاسکے گا۔ مثال کے طور پر اگر ضلعی حکومت پشاور کے ہر رہنے والے کو پینے کا ’صاف پانی‘ فراہم کردے تو یہ ایک ایسا مثالی کام ہو گا جس سے پشاور ملک بھر میں ممتاز ہو سکتا ہے۔ اِسی طرح پشاور کے قبرستان تجاوزات کی زد میں ہیں‘ جن کی طرف بہت کم توجہ دی جاتی ہے اور قبرستانوں کی حدود کا خلائی سیارے سے حاصل کردہ تصویر اُور بعدازاں ’جی آئی ایس‘ کی مدد سے تعین کردیا جاتا ہے تو یہ ایک مستقل پریشانی کا مستقل حل ثابت ہوگا۔

پشاور سے تجاوزات کا خاتمہ محض ’ٹیکنالوجی‘ پر انحصار سے ممکن نہیں بلکہ ضلعی حکومتوں کے ہر ملازم اور بالخصوص عوام کے منتخب ضلعی نمائندوں کو انفرادی و اجتماعی حیثیت میں پشاور کو ’’اپنا شہر‘ اپنا گھر‘‘ جیسا سمجھنا ہوگا۔ تبدیلی لانی ہے تو اُس سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا‘ جس میں پشاور کسی دوسرے کا نہیں بلکہ ہم میں سے ہر ایک مسئلہ اور ترجیح ہونی چاہئے۔
Anti Encroachment drive in Peshawar need to be organize & extended up-to mapping the city from scratch