Showing posts with label Encroachment. Show all posts
Showing posts with label Encroachment. Show all posts

Friday, January 28, 2022

Peshawar - Where promise all fails!

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: ہر تغافل پہ نوازش کا گماں ہوتا ہے

جہاں اِرادے عمل اُور عملی کاروائیاں اِرادوں کے آگے ہاتھ باندھے (ہار مانتے) دکھائی دیں‘ حکومتی فیصلہ سازی کے اِس مقام کو ’عوامی لغت‘ میں ”پشاور“ بھی کہا جاتا ہے۔”دل گوارا نہیں کرتا ہے شکست ِاُمید .... ہر تغافل پہ نوازش کا گماں ہوتا ہے (روش صدیقی)۔“ خبر یہ ہے کہ پشاور شہر کی حدود میں تجاوزات کے خلاف (ایک اُور) ”بڑی کاروائی (گرینڈ آپریشن)“ کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں‘ جس کی حکمت ِعملی وضع کرنے کے بعد ’ٹاؤن ون‘ حکام نے تاجروں اُور دکانداروں کو ستائیس فروری سے 10 دن (پانچ فروری بروز ہفتہ تک) کی مہلت دی ہے تاکہ وہ رضاکارانہ طور پر (ازخود) تجاوزات ختم کر دیں بصورت دیگر انسداد ِتجاوزات کی بلاامتیاز‘ بے رحم اُور مرحلہ وار کاروائی کے تحت سختی سے پیش آیا جائے گا اُور کسی سے رو رعایت نہیں کی جائے گی۔ اِس سلسلے میں شاید پہلی مرتبہ تاجر تنظیموں کے نمائندوں کو بھی اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ تجاوزات کے خلاف کاروائی ہر نہ صرف کامیاب بلکہ یکساں قابل ِقبول اُور پائیداری کے لحاظ سے نتیجہ خیز ثابت ہو گویا پشاور میں تجاوزات کے خلاف طبل جنگ بج چکا ہے‘ صف بندی مکمل ہے جس کے لئے ٹاؤن ون انتظامیہ اُور اہلکاروں کے علاؤہ اِس کاروائی کی نگرانی کمشنر پشاور ڈویژن کریں گے۔ اِس بات کا بھی اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ اِس مرتبہ جن تجاوزات (سازوسامان) کو قبضے میں لیا جائے گا‘ اُس کی واپسی نہیں بلکہ نیلامی کی جائے گی اُور زیادہ بڑے پیمانے پر فیصلہ کن کاروائی کے لئے اِس مرتبہ صرف ٹاؤن ون کے افرادی اُور تکنیکی وسائل ہی پر بھروسہ نہیں کیا جائے گا بلکہ دیگر ٹاؤنز کے افرادی و تکنیکی وسائل سے طلب کئے جائیں گے۔ یہی مناسب وقت ہے کہ ماضی میں تجاوزات کے خلاف کی گئیں کاروائیوں کے انجام (ناکامی) کے محرکات پر غور کیا جائے اُور اُن چند غلطیوں سے سبق سیکھا جائے جن کے باعث ہر مرتبہ پہلے سے زیادہ جامع حکمت عملیاں خاطرخواہ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکیں اُور عمومی مشاہدہ یہی ہے کہ تجاوزات کے خلاف ہر کاروائی کے بعد اِن کی تعداد (مسئلے کی شدت) میں کمی کی بجائے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

انسداد تجاوزات کے سلسلے میں ”پہلی غلطی“ اعلانات ہیں‘ جن کی وجہ سے تاجر اُور دکاندار خبردار ہو جاتے ہیں اُور کچھ ایسے بازار بھی ہیں جہاں کے دکاندار ٹاؤن ون اہلکاروں سے ”تعاون“ کرتے ہوئے ازخود تجاوزات چند روز کے لئے ختم کر دیتے ہیں۔ اِس طرح کسی مہم کے ابتدائی چند روز صورتحال مثالی نظر آتی ہے لیکن رفتہ رفتہ تجاوزات پھر سے قائم ہونا شروع ہو جاتی ہیں اُور بات وہیں جا ٹھہرتی ہے جہاں سے شروع ہوئی تھی۔ اگر حقیقت میں تجاوزات ختم کرنا ہی ہیں تو اِس کے لئے مہم اعلانات سے نہیں بلکہ رازداری سے شروع ہونی چاہئے۔ 

”دوسری غلطی“ تجاوزات کے خلاف کاروائی کی مدت معین کرنے کی ہے کہ فلاں تاریخ سے فلاں تاریخ تک تجاوزات کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ اِس طرح تجاوزات کرنے والوں کو ’ٹائم فریم (time-frame)‘ مل جاتا ہے اُور وہ اِس سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کر لیتے ہیں۔ اِسی زمرے میں تجاوزات کے خلاف کاروائیوں کی تفصیلات پہلے سے جاری کرنا بھی ہے‘ جس کے نشانے پر آنے والے پیشگی تیاری کر لیتے ہیں۔ ”تیسری غلطی“ تجاوزات کی نشاندہی سے متعلق کی جاتی ہے کہ اِس میں مستقل و غیرمستقل تجاوزات کے درمیان تمیز نہیں کی جاتی اُور تجاوزات کے خلاف سارا غم و غصہ غیرمستقل (عارضی) تجاوزات پر نکال دیا جاتا ہے جبکہ ہنگامہ جان بوجھ کر اِس قدر برپا کیا جاتا ہے کہ اِس میں مستقل تجاوزات کی جانب دھیان ہی نہ جائے۔مثال کے طور پر پشاور شہر کی حدود سے گزرنے والے نکاسی¿ آب کی گزرگاہوں (شاہی کٹھہ) پر چھتیں ڈال کر ہر قسم کی تعمیرات کی گئی ہیں۔ کئی ایسے مقامات بھی ہیں جہاں شاہی کٹھے کے وسط اُور اِس کی نالیوں کے درمیان دیواریں اُور ستون کھڑے کئے گئے ہیں تاکہ کثیرالمنزلہ تعمیرات کو سہارا دیا جا سکے اُور اِس کھلم کھلا بے قاعدگی کی وجہ سے ”شاہی کٹھے“ سے نکاسی آب کی رفتار متاثر ہوتی ہے جبکہ بارش کی وجہ سے شاہی کٹھہ اُور دیگر نکاسی آب کی گزرگاہیں اُبلنے سے اندرون شہر معمولات ِزندگی کئی روز تک مفلوج ہو جاتے ہیں۔ اِسی وجہ سے گندگی و غلاظت کے ڈھیر‘ بدبو اُور تعفن بھی پھیلا رہتا ہے۔

کیا پشاور کی ضلعی انتظامیہ شاہی کٹھے سے تجاوزات ختم کرنے کے لئے بھی ”گرینڈ آپریشن“ کا آغاز کرے گی‘ جو اپنی جگہ ایک اہم ضرورت اُور اہل پشاور کا دیرینہ مطالبہ ہے؟ 

تجاوزات کے خلاف مزید (ایک اُور) کاروائی نتیجہ خیز بنانے کے لئے صرف عزم کافی نہیں اُور نہ ہی ہر چند ماہ بعد کی جانے والی ایک جیسی (بے نتیجہ) کاروائیوں پر عام آدمی (ہم عوام) کا یقین و اعتماد بحال کرنا ممکن ہے۔

اہل پشاور سے پوچھیں تو خلاصہ تحقیق یہ ہوگا کہ ”پشاور کے نبض آشنا نہیں رہے“ اُور یہ ”المیہ“ اپنی جگہ لمحہ فکریہ ہے کہ اہل پشاور کی اکثریت نے تجاوزات کے ساتھ جینا اُور مرنا سیکھ لیا ہے۔ یقین نہ آئے تو گھنٹہ گھر سے متصل رہائشی علاقوں کے رہنے والوں سے گزشتہ چند برس کے دوران یہاں بننے والی ’مرکزی مچھلی منڈی‘ کے بارے رائے لے لیجئے معلوم ہو جائے گا کہ اندرون شہر کے مسائل میں اِس حالیہ اضافے سے نہ صرف آمدروفت متاثر ہے بلکہ پچاس کروڑ سے زائد مالیت کی ثقافتی راہداری منصوبہ بھی خاطرخواہ نتائج نہیں دے رہا۔ تجاوزات سے پاک پشاور کسی خواب کی طرح ہے کہ اِس کی تفصیلات دھندلی اُور ناقابل یقین ہیں۔ پشاور کے جملہ فیصلہ سازوں اُور جملہ قومی‘ صوبائی و بلدیاتی نمائندوں کو اِس شہر سے لاتعلقی پر مبنی تعلق پر معافی مانگنی چاہئے۔ ذہن نشین رہے کہ توبہ صرف گناہوں پر بطور ندامت ہی نہیں ہوتی بلکہ بسا اُوقات توبہ نیکیوں پر بھی کی جاتی ہے‘ ایسی نیکی جو اطمینان کا باعث ہو‘ ایسی نیکی جس پر فخر محسوس ہو اُور ایسی نیکی جس پر اپنی ذات پرہیزگزار اُور دیگر تمام لوگ گناہ گار دکھائی دیں تو یہ بھی یکساں لائق ِمعافی مرحلہ فکر ہے۔

....

Clipping from Daily Aaj - Jan 28th 2022 Friday


Monday, September 13, 2021

Dreamland Peshawar!

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: خواب در خواب

شاعر ”عتیق اللہ“ کا یہ شعر بیان ایک ایسی صورتحال کا عکاس ہے‘ جو پشاور کے مسائل کا جامع بیان قرار دیا جا سکتا ہے کہ ”آئینہ آئینہ تیرتا کوئی عکس .... اُور ہر خواب میں دوسرا خواب ہے!“ اہل پشاور کی آنکھوں میں ہر خواب کے بعد بسنے والا دوسرا خواب کب شرمندہ تعبیر ہوگا‘ یہ ایک ایسا سوال ہے کہ اِس کے بارے میں سوچتے ہوئے مزید کئی سوالات جنم لیتے ہیں اُور یوں خواب در خواب ہی نہیں بلکہ سوال در سوال کا سلسلہ بھی چل نکلتا ہے! اہل پشاور سادہ لوح سہی‘ سادہ دل سہی لیکن اتنے بھی بیوقوف نہیں کہ وہ سب کچھ سمجھ نہ رہے ہوں جس سے اُنہیں الگ رکھنے کے لئے ”کارکردگی کے سراب“ تخلیق کئے جا رہے ہیں۔ سب سے پہلا سوال بصورت اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ پشاور کی ترقی کے وعدوں اُور زمینی حقائق میں فاصلہ کیوں ہے؟ حکومتی ادارے اگر کچھ کرنا چاہتے ہیں تو وہ اِس کا ذرائع ابلاغ کے ذریعے اعلان کیوں کرتے ہیں؟ اہل پشاور کی اکثریت کے لئے یہ اَمر بھی سمجھ (منطق) سے بالاتر ہے کہ صوبائی دارالحکومت کے کسی ایک حصے کو تجاوزات سے پاک کرنے اُور تجاوزات کے مسئلے کا مستقل و پائیدار حل تلاش کرنے کے لئے ’نئی حد براری‘ کروائی جا رہی ہے جس کے ذریعے سرکاری اراضی کا تعین کیا جائے گا لیکن باقی ماندہ پشاور یعنی درجنوں تجارتی و رہائشی مراکز میں موجود تجاوزات کو نظرانداز کر دیا گیا ہے! اِس سلسلے میں اندرون یکہ توت گیٹ سے منڈا بیڑی چوک تک تجاوزات نے جن رہائشیوں کے ناک میں دم کر رکھا ہے اُن میں سیّد سعید الزمان گیلانی بھی شامل ہیں‘ جو حال ہی میں خودساختہ جلاوطنی ترک کر کے امریکہ سے واپس آئے ہیں اُور اُن کے بقول ”بے ہنگم آبادی بڑھنے سے پیدا ہونے والے مسائل کے علاؤہ شہری سہولیات کے معیار و مقدار میں کمی اُور ہر طرف تجاوزات کی کھلی چھوٹ اِس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ متعلقہ بلدیاتی ادارہ (ٹاؤن ون)‘ ضلعی حکام (ڈسٹرکٹ گورنمنٹ)‘ ضلعی انتظامیہ (کمشنر و ڈپٹی کمشنر پشاور) اُور صوبائی حکومت (سیاسی فیصلہ سازوں) نے پشاور کو اُن افراد اُور حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے‘ جن کے دل اُور جن کے عمل (قول و فعل میں) پشاور کے لئے محبت اُور رحم کے جذبات نہیں ہیں۔“ اِس سے زیادہ جامع تبصرہ کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا کہ آج ”پشاور پر رحم“ یا ”پشاور سے رحم کا برتاؤ“ کرنے والوں کا شمار اُنگلیوں پر بھی ممکن نہیں رہا جبکہ سیاسی و غیرسیاسی نمائندوں کی تعداد آسمان سے باتیں کر رہی ہے!

خیبرپختونخوا حکومت کی ویب سائٹ (kp.gov.pk) پر موجود اعدادوشمار کے مطابق ضلع پشاور کا کل رقبہ 1257 مربع کلومیٹر ہے اُور یہاں کی کل آبادی کا 48.49 فیصد شہری علاقوں میں جبکہ 51.51 فیصد دیہی علاقوں میں آباد ہے اُور ہر خاندان میں اوسطاً 8.6 افراد بستے ہیں۔ آبادی کے یہ اعدادوشمار درست نہیں اُور جہاں فیصلہ سازوں کے پاس آبادی جیسے بنیادی کلیے سے متعلق کوائف ہی درست نہ ہوں‘ وہاں منصوبہ بندی اُور ترقیاتی عمل سے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔ اِس بات کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق سال 1950ءمیں پشاور کی آبادی 1 لاکھ 52 ہزار 825 نفوس پر مشتمل تھی اُور اگر اِس آبادی کا موازنہ آبادی کے موجودہ اعدادوشمار سے کرتے ہوئے شرح نمو اخذ کی جائے تو وہ تین سے چار فیصد سالانہ بنتی ہے یعنی حکومت خود تسلیم کرتی ہے کہ پشاور کی آبادی میں ہر سال تین سے چار فیصد ہو رہا ہے۔ شاید ہمارے سیاسی فیصلہ سازوں کو معلوم نہیں کہ کسی شہر یا ملک کی آبادی سے متعلق اُن کے فراہم کردہ مردم شماری یا خانہ شماری کے اعدادوشمار کو من و عن دنیا تسلیم نہیں کرے گی بلکہ ایسے کئی آزاد ذرائع ہیں جو اپنے طور پر اُور خلائی سیاروں سے لی گئی تصاویر کی بنیاد پر خانہ شماری کرتے ہیں جبکہ وہاں صحت و تعلیم کے نظام اُور انتخابات کے لئے مرتب کی جانے والی ووٹر فہرستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مردم شماری کے کوائف میں اضافے کا سائنسی نتیجہ پیش کیا جاتا ہے۔ اِس سلسلے میں سب سے فعال اقوام متحدہ کا ایک ذیلی ادارہ ’ڈیپارٹمنٹ آف اکنامکس اینڈ سوشل افیئرز پاپولیشن ڈائنامکس (population.un.org/wup) ہے اُور اِس ویب سائٹ پر سال 2050ءتک ممالک اُور اُن کے بڑے شہروں کی آبادی سے متعلق سائنسی بنیادوں پر مرتب کردہ اعدادوشمار (تخمینہ جات) موجود ہیں جو کسی بھی وقت بلاقیمت (مفت) حاصل (ڈاون لوڈ) کئے جا سکتے ہیں۔

 لمحہ فکریہ ہے کہ پشاور کی آبادی میں ہر سال 50 سے 70 ہزار افراد کا اِضافہ ہو رہا ہے اُور یہ سلسلہ 2035 تک جاری رہے گا‘ جس کی شرح میں کمی آبادی کنٹرول کرنے یا پشاور نقل مکانی کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرنے سے ممکن ہے۔ گزشتہ دس برس کے دوران پیش آنے والے واقعات بالخصوص قبائلی علاقوں میں فوجی کاروائیوں کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والوں کی اکثریت کا رخ پشاور کی جانب رہا۔ اِسی طرح افغان مہاجرین کے لئے پہلا پڑا ؤ پشاور ہی ہوتا ہے جبکہ قبائلی علاقوں کو بندوبستی علاقوں میں ضم کرنے کے بعد بھی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے‘ جس کا ثبوت تین اطراف میں پھیلتا پشاور ہے کہ اِس کی آبادی میلوں پہلے شروع ہو جاتی ہے اُور جی ٹی روڈ و رنگ روڈ کے اطراف میں وہ علاقے جو کبھی زرخیز زمینوں اُور باغات کی سیر کرواتے نظاروں پر مشتمل ہوتے تھے اب رہائشی مراکز میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ خوبصورت ناموں سے بستیاں بن گئی ہیں‘ جن میں اکثریت ایسی رہائشی بستیوں کی ہے جن میں نکاسی آب‘ صفائی‘ گیس اُور پینے کے صاف پانی جیسے بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔ دیہی علاقوں کے کچے پکے راستے اُور کھیتوں کی پگڈنڈیاں خودرو جھاڑیوں کی طرح اُبھرنے والی رہائشی بستیوں کی راہداریوں میں تبدیل کر دی گئی ہیں لیکن صورتحال یہ ہے کہ ضلع پشاور کے شہری و دیہی علاقوں میں تمیز نہیں رہی۔

اندرون شہر کے علاقوں کی آب و ہوا آلودہ ترین جبکہ دیہی علاقوں کا قدرت سے قریب ترین رہن سہن جیسی خوبیاں دم توڑ گئی ہیں۔ الغرض پشاور کے آئینے میں آج جتنے عکس بھی دکھائی دے رہے ہیں وہ سب کے سب ایک دوسرے میں گم ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے ”آئینہ عکس میں عکس آئینہ بردار میں گم“ ہو چکا ہو بلکہ یہ صورتحال تو دما دم مست قلندر جیسی ہے کہ جس کا جتنا دل چاہتا ہے پشاور کے وسائل کو لوٹ رہا ہے اُور ”پشاور کے پرسان ِحال (یہاں سے منتخب ہونے والے سیاسی نمائندے)“ بھی خاموش ہیں۔ ”آئینہ عکس اُور پس آئینہ بھی مست .... پوشیدہ مست خواب ہویدا‘ بھی مست مست (جاوید صبا)۔“

.....





Sunday, September 12, 2021

Peshawar odds and evens!

 ژرف ِنگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: حد بَراری

صوبائی دارالحکومت کو تجاوزات سے پاک کرنے کا عزم پھر سے جاگ اُٹھا ہے اُور اِس سلسلے میں کئے گئے ”سخت فیصلے“ کی روشنی میں عملی اقدامات کا آغاز 11ستمبر سے کر دیا گیا ہے جس کی تفصیلات میں ضلعی انتظامیہ (کمشنر پشاور) کی ہدایات پر اندرون شہر کے 17 مرکزی بازاروں کا انتخاب کر کے اُن کی ”حد براری“ اَزسرنو کرنے کا حکم شامل ہے۔ ذہن نشین رہے کہ ”حد براری“ اراضی کی پیمائش کے اُس خاص عمل (طریقے) کو کہتے ہیں جس میں کسی مقام پر سرکاری و نجی اراضی میں تمیز کی جاتی ہے۔ دونوں کے رقبے الگ الگ وضع کئے جاتے ہیں اُور یوں اراضی کے دونوں فریق (سرکار اُور نجی مالکان) کی حدود کا تعین کر دیا جاتا ہے جس سے گزرگاہیں‘ راہداریاں‘ شاہرائیں‘ فٹ پاتھ اُور نالے نالیوں پر قائم تجاوزات عیاں (ظاہر) ہو جاتی ہیں۔ زیادہ پرانی بات نہیں‘ چند برس قبل بھی اِسی قسم کی ایک مشق کی گئی تھی جس کے ذریعے تجاوزات کی نشاندہی بھی ہوئی لیکن اِس کے بعد تجاوزات ختم کرنے کا سلسلہ خاطرخواہ عزم و استقامت سے جاری نہ رکھا جا سکا‘ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ’زمینی حقائق (حق براری)‘ کی روشنی میں جو تجاوزات مسمار کی گئی تھیں وہ بھی راتوں رات دوبارہ تعمیر کر دی گئیں بلکہ کئی مقامات پر پہلے سے زیادہ رقبے پر تجاوزات پھیل گئیں اُور یوں پشاور کی خدمت کا جذبہ ذاتی مفادات کے سامنے سرنگوں ہو گیا۔ وجہ یہ تھی کہ پشاور کا ایک مطلب انتخابی حلقہ بندیاں بھی ہیں جن سے سبھی سیاسی و غیرسیاسی‘ قوم پرست و مذہبی جماعتوں کے سیاسی مفادات پر مبنی اپنا اپنا نکتہ نظر ہے یعنی پشاور کو ہر کوئی اپنے زاویئے سے دیکھ رہا ہے۔ ”اپنی اپنی مصلحت ہے‘ اپنا اپنا ہے مفاد .... ورنہ اِس دنیا میں کب کوئی کسی کے ساتھ ہے (ریئس رامپوری)۔“

پشاور شہر کے 17 بازاروں میں فی الوقت ’حد براری‘ کا درپیش مرحلہ ’ٹاؤن ون‘ پر مشتمل انتظامی بندوبست سے متعلق ہے اُور اِس عمل کی تکمیل محکمہ مال (ریونیو سٹاف) کی زیرنگرانی ’ٹاؤن ون‘ کی انتظامیہ سرانجام دے رہی ہے جس کے لئے تشکیل کردہ ٹیم میں ٹاو¿ن ون کی آرکیٹیکٹ (نقشہ نویس) فاخرہ گل کو بھی بطور خاص شامل کیا گیا ہے تاکہ ”حدبَراری“ کے عمل میں پرانے نقشہ جات کی مدد سے نئے نقشہ جات تخلیق کئے جا سکیں۔ کسی بازار کی ”حد بَراری“ کرنے کا روائتی طریقہ بیک وقت ’اِنتہائی مشکل‘ اُور ’اِنتہائی آسان‘ ہو سکتا ہے۔ مشکل اِس صورت میں کہ اگر قدم قدم پر پیمائش کی جائے تو ظاہر سی بات ہے کہ تاجر تنظیمیں خاموش تماشائی نہیں رہیں گی بلکہ ہر ممکنہ مزاحمت کریں گی‘ کہیں تعاون نہیں کیا جائے گا یا تاخیری حربے اختیار کئے جائیں گے تاکہ ”حدبراری“ ناکام ہو اُور یہاں اندیشہ نقص امن کا بھی ہے۔ دوسری طرف ’حد براری‘ کا عمل اِس طرح سے آسان ہو سکتا ہے کہ کسی بازار کے آغاز و اختتام اُور اُس کے وسط کا تعین کرنے کے بعد سڑک کی پیمائش بموقع فٹ پاتھ اُور نکاسی آب کے نظام کر لی جائے اُور اِس پیمائش کے مطابق تاحد نظر ’سیدھی لکیر‘ کھینچی جائے تو تجاوزات کی نشاندہی ازخود ہوتی چلی جائے گی۔ 

”حد براری“ کے ذریعے تجاوزات کا تعین (نشاندہی) ہونے کے بعد اِن کے خلاف کاروائی کا مرحلہ قطعی آسان نہیں ہوگا اُور یہی سب سے زیادہ ضروری و مشکل مرحلہ ہے کیونکہ صرف تاجر ہی نہیں بلکہ بجلی اُور ٹیلی فون کے کھمبے راہ میں حائل ہوں گے چونکہ پشاور شہر کی حدود میں رہائشی و تجارتی مراکز کے درمیان تمیز نہیں رہی اُور گلی گلی‘ محلے محلے بازار بن گئے ہیں جن کے خلاف کاروائی کی صورت وہاں کے رہائشیوں کے معمولات ِزندگی متاثر ہوں گے اُور تاجر تنظیمیوں کے نمائندے ماضی کی طرح اِس مرتبہ بھی بازاروں سے ملحقہ رہائشیوں کو اشتعال دلائیں گے کہ وہ تجاوزات کے خلاف کاروائیوں پر احتجاج کریں کیونکہ اِس سے اُن کی بجلی و ٹیلی فون کی خدمات سمیت آمدورفت وقتی طور پر متاثر ہوئی ہوں گی۔ توجہ طلب ہے کہ اگر پشاور کو تجاوزات سے پاک کرنا ہے اُور پشاور تجاوزات کو تجاوزات سے پاک دیکھنا ہے تو اِس کے لئے ہر خاص و عام‘ ہر منتخب و غیرمنتخب نمائندے اُور ہر متعلقہ و غیرمتعلقہ سرکاری ادارے کو اپنی اپنی بساط کے مطابق برداشت و تعاون کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔ دوسری کوئی ایسی صورت نہیں کہ جادو کی چھڑی گھماتے ہی تجاوزات ختم ہو جائیں۔ ترجیح پشاور ہونا چاہئے۔ اہل پشاور کو ضلعی و بلدیاتی اہلکاروں سے ہر ممکنہ حد سے زیادہ تعاون کی ضرورت ہے کیونکہ تجاوزات ختم کرنا نہیں بلکہ اِن کی موجودگی مستقل مسئلہ ہے اُور انسداد ِتجاوزات کے دوران پیش آنے والی تھوڑی سی تکلیف اگر کھلے دل سے برداشت کر لی جائے تو یہ بہت بڑی مشکل و پریشانی کا خاتمہ ثابت ہوگی۔ 

مشتری ہوشیار باش۔ اہل پشاور کو تاجر تنظیموں یا کسی بھی سیاسی جماعت کے بہکاوے میں نہیں آنا چاہئے جو ”حدبراری“ اُور تجاوزات کی پس پردہ مخالفت کر رہی ہے اُور اِس مرتبہ بھی تجاوزات کو ختم کرنے کی اِس منظم کوشش (حد براری) کو ناکام بنانے کے لئے متحرک ہو چکی ہیں۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ ایک مرتبہ پھر کمشنر پشاور کو تبدیل کر دیا جائے جنہیں ماضی میں بھی تبدیل کرنے کی وجہ سے ’حدبراری‘ اُور ’تجاوزات کے خلاف کاروائیاں (آپریشن)‘ بھی جہاں تھا وہیں رک گئی تھیں۔ اندرون شہر رہنے والوں کی اکثریت کو اُمید ہے اِس صوبائی حکومت اِس مرتبہ مصلحت کا شکار نہیں ہوگی اُور تجاوزات کے خاتمے کی صورت اہل پشاور کی توقعات پر پورا اُترے گی۔

صوبائی حکومت اُور ضلعی و بلدیاتی انتظامیہ (کمشنر و ٹاؤن ون پشاور) جیسے بااختیار و مخلص فیصلہ سازوں کے لئے چند تجاویز بصورت معروضات عرض ہیں۔

 حدبراری کے دوران ’گلوبل پوزیشنگ سسٹم (GPS)‘ کا استعمال کیا جائے جو ایک خلائی سیاروں سے لئے گئے نقشہ جات پر منحصر ہوتا ہے اُور اگر کسی موقع پر (توقع ہے کہ) تاجر تنظیمیں ’حدبراری‘ کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گی تو ایسی صورت میں ’جی پی ایس‘ کے ذریعے خلائی سیاروں کی مدد سے لی گئی تصاویر اُور اُن کی مدد سے بنائے گئے نقشہ جات نہ صرف فی الوقت کسی ممکنہ قانونی کاروائی میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ اِن کا استعمال مستقبل کی شہری منصوبہ بندی (ٹاؤن پلاننگ) اُور پانی‘ بجلی‘ گیس و ٹیلی فون جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔ ’جی پی ایس‘ کی مدد سے ہر دکان‘ سڑک‘ فٹ پاتھ اُور نالے نالیوں کی درست پیمائش بھی کمپیوٹروں کے ذریعے ممکن ہے جس میں معمولی غلطی کو عملی (فزیکل) پیمایش سے درست کیا جا سکتا ہے۔

 حد براری کے ساتھ ٹاؤن ون اہلکاروں کو اِس بات کی ذمہ داری بھی سونپ دینی چاہئے کہ وہ پشاور کے ہر بازار میں دکانوں کے شمار‘ اِن کے کاروبار کی نوعیت (تھوک و پرچون)‘ اِن کے گودام‘ ذخیرہ شدہ مال کی نوعیت پر مبنی کوائف مرتب کریں اُور اِن کوائف کو بھی پشاور کے ’ڈیجیٹل نقشے (Digital Mapping)‘ پر ثبت کر دیا جائے۔ تکنیکی طور پر اِس عمل کو ’جیوگرافل انفارمیشن سسٹم (GIS)‘ کہا جاتا ہے اُور اگر کمشنر پشاور یا ٹاؤن ون کے پاس ’جی آئی ایس‘ جیسی تکنیکی سہولت یا تربیت یافتہ افرادی قوت موجود نہ ہو تو جامعہ پشاور سمیت خیبرپختونخوا کی دیگر کئی سرکاری و نجی جامعات میں ’جی آئی ایس‘ کے شعبے موجود ہیں جہاں کے اساتذہ اُور زیرتعلیم طلبا و طالبات کے لئے عملی تجربات کرنے (سیکھنے سکھانے) کا یہ نادر موقع ہو سکتا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے ’GPS‘ اُور ’GIS‘ جیسے امکانات سے استفادہ کرنے کی بدولت نہ صرف ”غیرمتنازعہ حدبراری“ ممکن ہو گی بلکہ پشاور کے بازاروں کو تجاوزات سے پاک کرنے کی کوشش پائیدار بھی ثابت ہو گی کیونکہ معاملہ گھمبیر ہے‘ کثیرالجہتی ہے کہ صرف بازار ہی نہیں بلکہ گلی کوچوں میں بھی تجاوزات قائم ہیں اُور یہی وجہ ہے کہ پھولوں کا شہر اَب خیبرپختونخوا میں تجاوزات کا مرکزی شہر کہلاتا ہے! مائل ضبط بھی آمادہ فریاد بھی ہے

دل گرفتار ِمحبت بھی ہے‘ آزاد بھی ہے! (عرش ملسیانی)۔

....

Sunday, March 11, 2018

Mar 2018: Save the graveyards of Peshawar, please!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
پشاور کی خبریں!
’روزنامہ آج‘ کی اشاعت میں شامل ’’پشاور کی خبریں‘‘ مستقل و مسلسل اُور مربوط سلسلہ ہے‘ جو نہ صرف ’اپنے شہر‘ سے آگاہی کا ’(مستند) وسیلہ ہے بلکہ مقامی اور غیرمقامی اہل پشاور یا ایک جیسی دلچسپی رکھنے والے قارئین آپس میں جڑے رہتے ہیں تاہم ’صفحہ 2‘ کے ذریعے ’پشاور شناسی‘ میں اضافہ ہونے کے امکان بارے ادارتی فیصلہ سازوں کو سوچنا چاہئے کہ صحافت ایک مشن بھی تو ہوسکتا ہے۔ 

نہایت ہی شدت سے کمی اِس بات کی بھی محسوس ہو رہی ہے کہ پشاور سے متعلق درپیش مسئلے مسائل کی بابت عام آدمی (ہم عوام) کی آراء خصوصیت اور تواتر سے شائع ہوں۔ فی الوقت پشاور کے لئے مختص جگہ (space) کا بڑا حصہ اعلامیوں (احکامات)‘ روائتی سیاسی و غیرسیاسی بیانات اور اُن واقعات کی خبروں نے لے رکھی ہے‘ جن کا اِرتکاب بصورت معمول یا جرائم ہوتا ہے۔ تین مارچ کی اشاعت میں چار کالم شہ سرخی چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ ’’(پشاور:) قبرستان پر قبضہ مافیا کے خلاف کاروائی‘ اُوقاف سے رابطہ۔‘‘ اِس خبر کو صفحے کے بالائی حصے میں نمایاں کرکے شائع کرنے کا مقصد یہی ہوگا کہ ’صوبائی اور ضلعی حکومتوں‘ کی جانب سے ’فوری توجہ (نوٹس)‘ لیا جائے لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ اب تو یہ بات پشاور سے شائع ہونے والے اور پشاور کی محبت کا دم بھرنے والے بہت سے اخباروں کے لئے خبر بھی نہیں رہی کہ ’’قبرستانوں کی اراضی قبضہ ہو رہی ہے اور صوبائی حکومت کی ناک کے نیچے قبضہ مافیا کی کاروائیاں جاری ہیں۔‘‘ عجب ہے کہ نہ تو خبر کا اثر ہو رہا ہے اور نہ ہی قانون کا خوف محسوس کرنے والوں کی کمی ہے! 

سیاسی پشت پناہی رکھنے والے اِیسے عناصر معلوم ہیں‘ جن کے لئے ’انٹرپول‘ یا ڈرون طیاروں کی ضرورت نہیں اور نہ ہی اِن ’دیدہ دلیر قانون شکنوں‘ نے کسی ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جس سے متعلق قانون کی کتابیں خاموش ہیں اور معلوم ہی نہیں ہو رہا کہ کن دفعات کا اطلاق کیا جائے! 

صد افسوس کہ ماضی کی طرح ’تبدیلی کی علمبردار‘ موجودہ صوبائی و ضلعی حکومتیں بھی مصلحتوں کا شکار ہیں‘ جن کے لئے ذرائع ابلاغ کی طرف سے ’’نشاندہی اور رہنمائی‘‘ کی خاطرخواہ اہمیت نہیں تو اِس (تجاہل عارفانہ پر مبنی) طرزِعمل سے ’صحافت یا اہل صحافت‘ کا نہیں بلکہ ’اہل سیاست‘ اپنا نقصان کر رہے ہیں۔ المیہ ہے کہ خبروں کی قدر و اِہمیت تو باقی ہے لیکن چونکہ متعقلہ حکام اِن کے بارے میں ’حساس‘ نہیں رہے تو خبریں خبروں کے بوجھ تلے دب کر دم توڑ رہی ہیں!

تین مارچ کو شائع ہوا کہ ’’(پشاور کے) زاہد آباد علاقے میں سرکاری قبرستان کی کھدائی جاری ہے۔ کچھ لوگ قبضہ کرنا چاہتے ہیں لیکن آغا میرجانی شاہ پولیس نے (بروقت کاروائی کرتے ہوئے) ملوث افراد کو غیرقانونی اقدام سے روک دیا۔‘‘ لمحۂ فکریہ ہے کہ پولیس نے ’غیرقانونی اقدام‘ میں ملوث افراد کو روکا لیکن اُن کے خلاف کاروائی نہیں کی اور یہی وجہ رہی کہ نہ صرف زاہد آباد بلکہ دیگر قبرستانوں کی اراضی پر قبضہ کرنے والوں کی حوصلہ شکنی نہیں ہوئی۔ حال تو یہ ہے کہ قبرستانوں کی اراضی ہڑپ کرنا نہ تو اخلاقی اور نہ ہی قانونی جرم تصور ہو رہا ہے اور اگرچہ یہ معاملہ پشاور ہائی کورٹ تک جا پہنچا ہے جہاں صوبائی حکومت نے دو ماہ کی مہلت لے رکھی ہے لیکن قبرستان محفوظ نہیں کئے جاسکے۔ یوں لگتا ہے کہ دو ماہ کی مہلت باقی ماندہ قبرستانوں کی اراضی مل بانٹ کر تقسیم کرنے کے لئے لی گئی ہے! 

9 مارچ کو (دو کالم) شائع ہونے والی اِس دوسری خبر کی سرخی تھی ۔۔۔ ’’اخون بابا قبرستان پر قبضہ مافیا کے خلاف احتجاج‘‘ رنگ روڈ بلاک (جبکہ) بیری باغ میں 80 مرلے اراضی پر دوبارہ قبضہ کر لیا گیا‘ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ’انتظامیہ نوٹس لے۔‘‘ منظرنامہ ملاحظہ کیجئے کہ ۔۔۔ ایک طرف قانون شکن ہیں جن کے سامنے پولیس بے بس ہے تو اُن کے مدمقابل مقامی افراد (اپنی مدد آپ کے تحت) قبرستانوں کی اراضی بچانے کے لئے احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔ اگر پولیس اپنی حقیقی موجودگی کو ثابت کرتی ہے تو صوبائی دارالحکومت کے علاقہ ہزار خوانی کے مکینوں کو احتجاج کی نوبت نہ آتی۔ ٹاؤن ون کی حدود ’اَخون بابا‘ اور ’بیڑی باغ‘ قبرستانوں پر قبضہ نہ تو راتوں رات ہوا‘ اُور نہ ہی یہ واردات جادوئی تھی کہ کسی کو کانوں کان اور نظروں نظر خبر ہی نہ ہو سکتی لیکن چونکہ پشاور دل و جاں کا حصہ نہیں اِس لئے عوام کے منتخب کردہ ’ضلعی نمائندے‘ صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ پولیس اسٹیشنوں کی پولیس کا رویہ عملاً ’پشاور دوست‘ بھی نہیں! 

تیسری خبر‘ تین کالم سائز میں ’10 مارچ‘ کے روز ’صحفہ دو‘ کی زینت بنی‘ جس کی ’شہ سرخی‘ میں ڈیزائن کی خوبیاں کے ساتھ ’عوام الناس‘ کو مطلع کیا گیا کہ ’’بیری باغ قبرستان میں قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن‘ کارِ سرکار میں مداخلت پر جھڑپیں۔‘‘ ماضی میں بھی ’بیڑی باغ‘ کے مقام پر ضلعی اِہلکاروں اُور اِحتجاج کرنے والے مقامی اَفراد کے درمیان اِسی قسم کی جھڑپیں ہو چکی ہیں لیکن قانون شکن عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی نہیں کی گئی! ضلعی حکومت پشاور کے طول و عرض میں تجاوزات کے خلاف ’گرینڈ آپریشن (بڑی کاروائیاں)‘ کرنے کی (زبانی) دعویدار تو ہے لیکن شہرخموشاں (قبرستانوں) سے لیکر ’عالم طلسم‘ تک برسرزمین صورتحال میں تبدیلی نہیں آ رہی۔ 

پشاور کے رہنے والوں کے لئے اِس سے زیادہ صدمہ اُور کیا ہو سکتا ہے کہ ہر چند ہفتوں بعد اُن کے آباؤ و اجداد کی قبریں مسمار کرنے والے ہاتھ کر جاتے ہیں جبکہ صاحبان اِختیار (حکومتیں) خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ یہی وہ مقام فکر و بیان ہے کہ جہاں ’پشاور کو لاوراث‘ قرار دیا جاتا ہے کہ اِس شہر کی فیصلہ سازی پر ایسے لوگ مسلط (حاوی) ہو گئے ہیں جن کی پشاور میں نہیں بلکہ اِس کے وسائل اور اراضی میں زیادہ دلچسپی ہے۔ آئندہ عام انتخابات (دوہزار اٹھارہ) کے موقع پر اگر اہل پشاور (ہندکووانوں) نے ایک مرتبہ پھر ماضی کی غلطیاں دُہرائیاں اُور اپنا ووٹ ’جانے پہچانے اَنجانوں‘ کے حق میں استعمال کیا تو پھر اُنہیں قبرستانوں اور بازاروں میں تجاوزات کے خلاف بولنے یا احتجاج کرنے کا بھی حق نہیں‘ پھر بنیادی سہولیات کی محرومی کا رونا بھی نہیں بنے گا۔ 

عام اِنتخابات کے موقع پر ۔۔۔ پشاور کے عام آدمی (ہم عوام) کو اپنی سوچ اُور عمل کی اصلاح کے ساتھ خوداحتسابی جیسے شعوری سفر کی منازل طے کرنی ہیں کیونکہ فیصلے کی گھڑی‘ ہر گھڑی قریب آ رہی ہے۔ 

’’عالم طلسم شہرخموشاں ہے سر بسر
یا میں غریب کشور گفت و شنود تھا (مرزا غالب)۔‘‘
۔
Three news items picked from Page 2 also known as City Page regarding encroachments in Graveyards of Peshawar

Layout of the editorial page of Daily Aaj - Mar 11, 2018 Sunday

Monday, April 18, 2016

APR2016: Anti Encroachments Drive & measures to treat the issue!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تجاوزات: مرض‘ سبب اُور علاج!
غلطیوں میں اِصلاح کے پہلو تلاش کرنے چاہیءں۔ کسی عمل کی ’مماثلت (نقل بمطابق اَصل)‘ بھی باعث خیروبرکت ہو سکتی ہے‘ اگر شامل کھوٹ (درپردہ مفادات) کی بجائے‘ نیت و عمل جیسے کلیدی اَجزأ میں ’اخلاص‘ کا اضافہ کر لیا جائے۔ یہی ضرورت پشاور میں رواں ماہ کے آغاز (9 اپریل) سے ’تجاوزات کے خلاف جاری مہم کے نئے مرحلے میں غیرمعمولی تیزی کو دیکھتے ہوئے بھی محسوس کی جا رہی ہے جس میں پہلی مرتبہ مساجد‘ اِمام بارگاہوں اور دیگر ایسے حساس مقامات کو حاصل استثنیٰ ختم کر دیا گیا ہے‘ جنہوں نے امن و امان کی خراب صورتحال کا فائدہ یا بلدیہ ملازمین کی مٹھیاں گرم کرکے پشاور کی کشادگی اور وسعت کو ہڑپ کر رکھا تھا۔

ماضی میں پشاور کے ضلعی حکمران ہی ’تجاوزات کے بادشاہ‘ تھے جن کے وزیروں اور مشیروں کے کارنامے انگلیوں پر شمار کرنا ممکن نہیں۔ یہ بات ’گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ‘ میں شامل ہونے لائق ہے کہ پشاور میں ایک ’سی این جی (گیس) اسٹیشن‘ ایسا بھی ہے جو سڑک کے کنارے نہیں بلکہ سڑک کے ایک حصے کو شامل کرتے ہوئے بنایا گیا! فصیل شہر کو مسمار کرکے پلازے بنانے والوں کی کرامات سٹی سرکلر روڈ کا طواف کر رہی ہیں اور حال ہی لاہوری گیٹ سے رہائشی کواٹر ختم کرنے کے بعد اُمید تھی کہ سٹی سرکلر روڈ کی نکاسئ آب کا منصوبہ تشکیل دینے میں آسانی ہوگی لیکن راتوں رات لاہوری گیٹ سے نشترآباد کی پٹی پر دکانیں اور کثیرالمنزلہ عمارتیں تعمیر ہوگئیں جن میں سے کئی ایک پر وکلأ کے ناموں کے بورڈز بھی آویزاں دیکھے جا سکتے ہیں یعنی ضلعی حکومت کو متنبہہ کیا گیا ہے کہ اگر اِس عمارت کو ہاتھ لگایا تو سخت قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

 تصور کیجئے کہ جو قانون سرکاری اِداروں کے لئے باعث تقویت ہونا چاہئے تھا اُس کا حوالہ دیتے ہوئے سرکاری اداروں کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے! یہی حال اَدویات فروخت کرنے والوں کا بھی ہے‘ جو اَسناد کی آڑ میں ’کاروبار کو شرعی و قانونی طور پر جائز‘ سمجھتے ہیں! ضلعی حکومت کو اپنی توجہ دیگر ایسی بے قاعدگیوں کی جانب بھی مبذول کرنا پڑے گی لیکن تجاوزات کے مرض‘ اِس کی بنیادی وجہ اُور علاج تجویز کرنے والوں کو ’توڑ پھوڑ‘ کے ساتھ ’بلڈنگ کنٹرول‘ کے شعبے کو فعال کرنا وقت کی ضرورت ہے تاکہ 1: نئی تعمیرات منظور شدہ نقشے کے مطابق کرنے کی پابندی کا اطلاق ہو سکے۔ مختلف علاقوں کی مٹی کے مطابق بلڈنگ کوڈز مرتب کئے جائیں۔ 2: نئی بستیوں اور بالخصوص اندرون پشاور کے رہائشی و تجارتی علاقوں کے درمیان پائی جانے والی تمیز برقرار رکھی جائے۔ 3: جن علاقوں سے تجاوزات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے وہاں اِنہیں پھر سے قائم نہ ہونے دیا جائے۔ 4: جہاں کہیں تاجروں دکانداروں (بازاروں کی سطح پر منتخب نمائندہ) تنظمیں موجود ہیں‘ اُنہیں تجاوزات کی نگرانی سونپی جائے اور کسی بے قاعدگی کی صورت اطلاع پر فوری کاروائی تعطیل کے ایام میں بھی ہونی چاہئے کیونکہ تجاوزات قائم کرنے والوں کا طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ عام تعطیلات کے ایام میں راتوں رات دکانیں تعمیر کر لیتے ہیں۔ 5: گوگل میپ (Google Map) کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے نہ صرف ضلع پشاور بلکہ شہری و دیہی علاقوں کے الگ الگ نقشہ جات ترتیب دیئے جائیں جو جدید ’’جیوگرافیکل انفارمیشن سسٹم (GiS)‘‘ کے اصولوں کے مطابق ہونے چاہیءں ایسے ’آن لائن نقشہ جات‘ مرتب کرنے کے بعد نہ صرف گلی کوچوں اور بازاروں کو تجاوزات سے پاک کرنے میں مدد مل سکے گی بلکہ ایک منظم و مربوط طریقے سے پشاور میں ترقی کا عمل بھی زیادہ پائیدار و معیاری بنایا جاسکے گا۔ مثال کے طور پر اگر ضلعی حکومت پشاور کے ہر رہنے والے کو پینے کا ’صاف پانی‘ فراہم کردے تو یہ ایک ایسا مثالی کام ہو گا جس سے پشاور ملک بھر میں ممتاز ہو سکتا ہے۔ اِسی طرح پشاور کے قبرستان تجاوزات کی زد میں ہیں‘ جن کی طرف بہت کم توجہ دی جاتی ہے اور قبرستانوں کی حدود کا خلائی سیارے سے حاصل کردہ تصویر اُور بعدازاں ’جی آئی ایس‘ کی مدد سے تعین کردیا جاتا ہے تو یہ ایک مستقل پریشانی کا مستقل حل ثابت ہوگا۔

پشاور سے تجاوزات کا خاتمہ محض ’ٹیکنالوجی‘ پر انحصار سے ممکن نہیں بلکہ ضلعی حکومتوں کے ہر ملازم اور بالخصوص عوام کے منتخب ضلعی نمائندوں کو انفرادی و اجتماعی حیثیت میں پشاور کو ’’اپنا شہر‘ اپنا گھر‘‘ جیسا سمجھنا ہوگا۔ تبدیلی لانی ہے تو اُس سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا‘ جس میں پشاور کسی دوسرے کا نہیں بلکہ ہم میں سے ہر ایک مسئلہ اور ترجیح ہونی چاہئے۔
Anti Encroachment drive in Peshawar need to be organize & extended up-to mapping the city from scratch