Showing posts with label Saeed Agha. Show all posts
Showing posts with label Saeed Agha. Show all posts

Monday, September 13, 2021

Dreamland Peshawar!

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: خواب در خواب

شاعر ”عتیق اللہ“ کا یہ شعر بیان ایک ایسی صورتحال کا عکاس ہے‘ جو پشاور کے مسائل کا جامع بیان قرار دیا جا سکتا ہے کہ ”آئینہ آئینہ تیرتا کوئی عکس .... اُور ہر خواب میں دوسرا خواب ہے!“ اہل پشاور کی آنکھوں میں ہر خواب کے بعد بسنے والا دوسرا خواب کب شرمندہ تعبیر ہوگا‘ یہ ایک ایسا سوال ہے کہ اِس کے بارے میں سوچتے ہوئے مزید کئی سوالات جنم لیتے ہیں اُور یوں خواب در خواب ہی نہیں بلکہ سوال در سوال کا سلسلہ بھی چل نکلتا ہے! اہل پشاور سادہ لوح سہی‘ سادہ دل سہی لیکن اتنے بھی بیوقوف نہیں کہ وہ سب کچھ سمجھ نہ رہے ہوں جس سے اُنہیں الگ رکھنے کے لئے ”کارکردگی کے سراب“ تخلیق کئے جا رہے ہیں۔ سب سے پہلا سوال بصورت اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ پشاور کی ترقی کے وعدوں اُور زمینی حقائق میں فاصلہ کیوں ہے؟ حکومتی ادارے اگر کچھ کرنا چاہتے ہیں تو وہ اِس کا ذرائع ابلاغ کے ذریعے اعلان کیوں کرتے ہیں؟ اہل پشاور کی اکثریت کے لئے یہ اَمر بھی سمجھ (منطق) سے بالاتر ہے کہ صوبائی دارالحکومت کے کسی ایک حصے کو تجاوزات سے پاک کرنے اُور تجاوزات کے مسئلے کا مستقل و پائیدار حل تلاش کرنے کے لئے ’نئی حد براری‘ کروائی جا رہی ہے جس کے ذریعے سرکاری اراضی کا تعین کیا جائے گا لیکن باقی ماندہ پشاور یعنی درجنوں تجارتی و رہائشی مراکز میں موجود تجاوزات کو نظرانداز کر دیا گیا ہے! اِس سلسلے میں اندرون یکہ توت گیٹ سے منڈا بیڑی چوک تک تجاوزات نے جن رہائشیوں کے ناک میں دم کر رکھا ہے اُن میں سیّد سعید الزمان گیلانی بھی شامل ہیں‘ جو حال ہی میں خودساختہ جلاوطنی ترک کر کے امریکہ سے واپس آئے ہیں اُور اُن کے بقول ”بے ہنگم آبادی بڑھنے سے پیدا ہونے والے مسائل کے علاؤہ شہری سہولیات کے معیار و مقدار میں کمی اُور ہر طرف تجاوزات کی کھلی چھوٹ اِس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ متعلقہ بلدیاتی ادارہ (ٹاؤن ون)‘ ضلعی حکام (ڈسٹرکٹ گورنمنٹ)‘ ضلعی انتظامیہ (کمشنر و ڈپٹی کمشنر پشاور) اُور صوبائی حکومت (سیاسی فیصلہ سازوں) نے پشاور کو اُن افراد اُور حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے‘ جن کے دل اُور جن کے عمل (قول و فعل میں) پشاور کے لئے محبت اُور رحم کے جذبات نہیں ہیں۔“ اِس سے زیادہ جامع تبصرہ کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا کہ آج ”پشاور پر رحم“ یا ”پشاور سے رحم کا برتاؤ“ کرنے والوں کا شمار اُنگلیوں پر بھی ممکن نہیں رہا جبکہ سیاسی و غیرسیاسی نمائندوں کی تعداد آسمان سے باتیں کر رہی ہے!

خیبرپختونخوا حکومت کی ویب سائٹ (kp.gov.pk) پر موجود اعدادوشمار کے مطابق ضلع پشاور کا کل رقبہ 1257 مربع کلومیٹر ہے اُور یہاں کی کل آبادی کا 48.49 فیصد شہری علاقوں میں جبکہ 51.51 فیصد دیہی علاقوں میں آباد ہے اُور ہر خاندان میں اوسطاً 8.6 افراد بستے ہیں۔ آبادی کے یہ اعدادوشمار درست نہیں اُور جہاں فیصلہ سازوں کے پاس آبادی جیسے بنیادی کلیے سے متعلق کوائف ہی درست نہ ہوں‘ وہاں منصوبہ بندی اُور ترقیاتی عمل سے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔ اِس بات کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق سال 1950ءمیں پشاور کی آبادی 1 لاکھ 52 ہزار 825 نفوس پر مشتمل تھی اُور اگر اِس آبادی کا موازنہ آبادی کے موجودہ اعدادوشمار سے کرتے ہوئے شرح نمو اخذ کی جائے تو وہ تین سے چار فیصد سالانہ بنتی ہے یعنی حکومت خود تسلیم کرتی ہے کہ پشاور کی آبادی میں ہر سال تین سے چار فیصد ہو رہا ہے۔ شاید ہمارے سیاسی فیصلہ سازوں کو معلوم نہیں کہ کسی شہر یا ملک کی آبادی سے متعلق اُن کے فراہم کردہ مردم شماری یا خانہ شماری کے اعدادوشمار کو من و عن دنیا تسلیم نہیں کرے گی بلکہ ایسے کئی آزاد ذرائع ہیں جو اپنے طور پر اُور خلائی سیاروں سے لی گئی تصاویر کی بنیاد پر خانہ شماری کرتے ہیں جبکہ وہاں صحت و تعلیم کے نظام اُور انتخابات کے لئے مرتب کی جانے والی ووٹر فہرستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مردم شماری کے کوائف میں اضافے کا سائنسی نتیجہ پیش کیا جاتا ہے۔ اِس سلسلے میں سب سے فعال اقوام متحدہ کا ایک ذیلی ادارہ ’ڈیپارٹمنٹ آف اکنامکس اینڈ سوشل افیئرز پاپولیشن ڈائنامکس (population.un.org/wup) ہے اُور اِس ویب سائٹ پر سال 2050ءتک ممالک اُور اُن کے بڑے شہروں کی آبادی سے متعلق سائنسی بنیادوں پر مرتب کردہ اعدادوشمار (تخمینہ جات) موجود ہیں جو کسی بھی وقت بلاقیمت (مفت) حاصل (ڈاون لوڈ) کئے جا سکتے ہیں۔

 لمحہ فکریہ ہے کہ پشاور کی آبادی میں ہر سال 50 سے 70 ہزار افراد کا اِضافہ ہو رہا ہے اُور یہ سلسلہ 2035 تک جاری رہے گا‘ جس کی شرح میں کمی آبادی کنٹرول کرنے یا پشاور نقل مکانی کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرنے سے ممکن ہے۔ گزشتہ دس برس کے دوران پیش آنے والے واقعات بالخصوص قبائلی علاقوں میں فوجی کاروائیوں کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والوں کی اکثریت کا رخ پشاور کی جانب رہا۔ اِسی طرح افغان مہاجرین کے لئے پہلا پڑا ؤ پشاور ہی ہوتا ہے جبکہ قبائلی علاقوں کو بندوبستی علاقوں میں ضم کرنے کے بعد بھی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے‘ جس کا ثبوت تین اطراف میں پھیلتا پشاور ہے کہ اِس کی آبادی میلوں پہلے شروع ہو جاتی ہے اُور جی ٹی روڈ و رنگ روڈ کے اطراف میں وہ علاقے جو کبھی زرخیز زمینوں اُور باغات کی سیر کرواتے نظاروں پر مشتمل ہوتے تھے اب رہائشی مراکز میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ خوبصورت ناموں سے بستیاں بن گئی ہیں‘ جن میں اکثریت ایسی رہائشی بستیوں کی ہے جن میں نکاسی آب‘ صفائی‘ گیس اُور پینے کے صاف پانی جیسے بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔ دیہی علاقوں کے کچے پکے راستے اُور کھیتوں کی پگڈنڈیاں خودرو جھاڑیوں کی طرح اُبھرنے والی رہائشی بستیوں کی راہداریوں میں تبدیل کر دی گئی ہیں لیکن صورتحال یہ ہے کہ ضلع پشاور کے شہری و دیہی علاقوں میں تمیز نہیں رہی۔

اندرون شہر کے علاقوں کی آب و ہوا آلودہ ترین جبکہ دیہی علاقوں کا قدرت سے قریب ترین رہن سہن جیسی خوبیاں دم توڑ گئی ہیں۔ الغرض پشاور کے آئینے میں آج جتنے عکس بھی دکھائی دے رہے ہیں وہ سب کے سب ایک دوسرے میں گم ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے ”آئینہ عکس میں عکس آئینہ بردار میں گم“ ہو چکا ہو بلکہ یہ صورتحال تو دما دم مست قلندر جیسی ہے کہ جس کا جتنا دل چاہتا ہے پشاور کے وسائل کو لوٹ رہا ہے اُور ”پشاور کے پرسان ِحال (یہاں سے منتخب ہونے والے سیاسی نمائندے)“ بھی خاموش ہیں۔ ”آئینہ عکس اُور پس آئینہ بھی مست .... پوشیدہ مست خواب ہویدا‘ بھی مست مست (جاوید صبا)۔“

.....





Tuesday, October 3, 2017

Oct 2017: Eye lose o'clock disappeared

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
ویسے کا ویسا!
غور کرنا شرط ہے۔ تخیل کی دنیا میں اَچھوتے خیالات کی کبھی بھی کمی نہیں رہی اور انہیں اچھوتے خیالات کی بدولت انسانی معاشروں نے ترقی کی ہے۔ نت نئی سائنسی ایجادات کے پیچھے بھی تخلیقی قوتوں ہی کا عمل دخل ہے یعنی معاشرے کے وہ لوگ جو دوسروں سے مختلف سوچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہی ایجادات یا ایجادات کی وجہ بننے والے تصورات اگلتے (پیش) کرتے ہیں۔ یہ ایک ارتقائی عمل ہے جو انسانی معاشروں کے ساتھ جاری ہے۔ 

برق رفتار ’انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی)‘ پر مبنی ہمارے موجودہ دور میں گردوپیش کے بارے مطالعے کے اسلوب تبدیل ہو گئے ہیں۔ بالخصوص ترقی یافتہ مغربی دنیا میں فلم (صرف تفریح طبع کا ذریعہ نہیں رہی) بلکہ اِسی فلم کے ذریعے ایک مسلسل کوشش یہ بھی ہو رہی ہے کہ ’علم و دانش‘ کو گھول گھول کر پلایا جا رہا ہے۔ فرانسیسی فلم ساز نے ’دعوت فکر‘ دی ہے کہ ’’اگر ہمارے فوت شدگان اور بالخصوص وہ لوگ کہ جنہوں نے ملک کو داخلی یا خارجی محاذوں پر جانی قربانیاں دے کر محفوظ بنایا اور وہ انہیں دوبارہ زندگی مل جائے تو وہ ہماری دنیا واپس آ جائیں تو پھر اِس دنیا کو کیسا پائیں گے! 

ایسے ہی لوگوں کے بارے میں فلم کی کہانی (ڈرامہ) میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک رات فرانسیسی شہر کے مردہ لوگ اپنی اپنی قبروں سے نکل آتے ہیں اور اپنے اپنے علاقوں اور گھروں کی طرف لوٹتے ہیں تو انہیں جو کچھ دیکھنے کو ملتا ہے وہ اُن کے لئے بہت تکلیف دہ ہوتا ہے کہ ہر جگہ معمولات زندگی جوں کے توں جاری ملتے ہیں۔ سب کچھ ’ویسے کا ویسا‘ ہی ہوتا ہے جیسا کہ وہ چھوڑ کر گئے تھے اور کچھ بھی نہیں بدلا ہوتا۔ انہیں یہ جان کر زیادہ حیرت ہوتی ہے کہ جن محرکات اور سماج دشمن عناصر کے خلاف انہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا وہ سب بھی اپنا اثرورسوخ بنائے (بحال رکھے) ہوئے تھے۔ یہ رواں دواں زندگی دیکھ کر اُنہیں بہت دُکھ ہوتا ہے کہ جن کے لئے‘ جن کی محبت میں اُنہوں نے قربانی دی وہ اہل و عیال اور دوست احباب ہنستی بستی دنیا میں مگن ہیں۔ کچھ کھانا کھاتے ہوئے خوش گپیوں میں مصروف ہیں۔ کچھ نجی محافل میں ناچ گانے سے محظوظ ہو رہے ہیں اور یوں ہر کوئی اپنے اپنے انداز میں بھرپور زندگی سے لطف اندوز ہو ہوتا ہے۔ تکلیف دہ حقیقت یہ بھی سامنے آئی کہ چند ایسے افراد بھی تھے جن کی بیویوں نے دوسری شادیاں کر لی تھیں اور اب وہ اپنے نئے شوہروں کے ساتھ معمول کی زندگی بسر کر رہی تھیں جن پر اُن کی رحلت (غیرحاضری) کا کوئی دکھ (اثر) نہیں تھا۔ ہر کوئی یوں خوش اور معمول کے مطابق زندگی بسر کر رہا تھا جیسا کہ اُس کا حافظہ جواب دے گیا ہو۔ اُن میں سے کسی کو بھی یاد نہیں رہا تھا کہ جو کبھی اُنہیں ’عزیزازجان‘ تھے وہ اب نہیں رہے ہیں۔ ملک و قوم کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ دینے والوں نے ایک دوسرے سے سوال کیا کہ ’’آخر ہمارا قصور کیا تھا؟ ہمیں کیوں اکسایا گیا؟ کیا دنیا ایک ایسی جگہ نہیں بن سکتی جہاں کسی کو اپنی موت سے پہلے موت نہ آئے؟ 

ملک و قوم کے ہماری قربانیاں دینے کا فائدہ اور نقصان کسے ہوا؟ اور یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟ لیکن مرنے والے ایک ایسی دنیا میں تھے جہاں اُن کی آوازیں اور وجود سنائی اور دکھائی نہیں دے رہی تھیں۔ اُن کے چھبتے ہوئے سوالات کا جواب صرف اُسی صورت مل سکتا تھا جبکہ وہ بہ نفس نفیس وہاں موجود ہوتے۔ مذکورہ فلم کا نام ’They Came Back‘ فرانسیسی نام ’Les Revenants‘ ہے اور یہ سال 2004ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ اِس فلم کا ایک جملہ شاید اِس کا حاصل قرار دیا جا سکتا ہے کہ ’’دنیا میں کچھ بھی عظیم نہیں ہوتا بس چند چیزیں اور معاملات دوسروں کے مقابلے کم یا زیادہ قابل قبول ہوتی ہیں!‘‘

مشاہدہ شرط ہے۔ فرانسیسی گاؤں سے متعلق فلم کی یاد اپنے ایک عزیز دوست ’’سیّد سعید الزمان گیلانی المعروف سعید آغا (بکی)‘‘ کی فیس بک پر حالیہ تصویر دیکھ کر آئی‘ جس میں اُس کی چہرے اور سر کے بالوں پر سفیدی حاوی دکھائی دی۔ وہ کبھی بھی اتنا بوڑھا نہیں دیکھا گیا اور وہ اپنی عمر سے کئی سال بڑا دکھائی دے رہا تھا جبکہ مسکراہٹ کی ایک ہلکی سی لکیر بھی چہرے پر سجی ہوئی نہیں تھی! اقتصادی وجوہات (محنت مزدوری کے لئے) سعید آغا کو پاکستان سے امریکہ (نیویارک) منتقل ہوئے بیس برس سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے اور یہی عمر عزیز کا وہ عرصہ ہے کہ جس کا ایک بھی دن خرید کر واپس نہیں لایا جا سکتا۔ اُس کے پاس بھلے ہی بہت دولت ہو۔ ایک سے زیادہ گھر ہوں لیکن رہنا تو ایک ہی گھر اور ایک ہی وقت کے کھانے پر ہے! آج ’سعید آغا‘ صرف اُنہی لوگوں کے لئے ’زندہ‘ ہے‘ جن کی زندگیوں میں اُس کی ارسال کردہ ’مالی معاونت‘ کا کچھ نہ کچھ عمل دخل ہے۔ باقی ماندہ پشاور (آبائی شہر) کے لئے اُس کا وجود ایک حوالہ تو ہے لیکن اِس سے زیادہ نہیں۔ اِس بیس برس میں اُس نے اپنے دو بچوں (منزہ اور سکندر) کو سپرد خاک کیا اُور جو کچھ سپردخاک ہونے سے رہ گیا وہ دن گن رہا ہے۔ اقتصادی ضرورت کب مجبوری بنی اور کب معاش کی طلب نے دوسروں کی آسائش و توقعات پر پورا اُترنے جیسی دلدل میں ’سعید آغا‘ کو دھکیلا‘ یہ کہانی صرف کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ ایسے کئی جوانوں کی ہے‘ جنہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ’دیار غیر‘ میں محنت مشقت کی نذر کر دیا ہے لیکن اگر وہ کبھی اچانک واپس لوٹ آئیں تو پائیں گے کہ اُن کی موجودگی سے زیادہ اُن کی عدم موجودگی سے بھی فرق نہیں پڑے گا ہاں اگر خسارہ ہو رہا ہے تو وہ صرف اُنہی کا اپنا ہے۔ ہر گزرتا دن‘ اُن کے خسارے میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ 

ضروری نہیں کہ کسی کے مرنے ہی سے اُس کا وجود ختم ہو جائے بلکہ ایسا بھی ہوسکتا ہے کوئی زندہ شخص بھی شمار میں نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ جنہیں ہم بھول جاتے ہیں اُنہیں ہم کھو دیتے ہیں اور کھوئی ہوئی چیزیں کبھی کبھار بیٹھے بٹھائے یاد آ جاتی ہے۔ سعید آغا کی یاد ’آئی فون‘ کے نئے ماڈل کے لانچ ہونے پر آئی لیکن کسی ایسے شخص سے فرمائش بھلا کیسے کی جاسکتی ہے جسے خود اپنے ہاتھوں دفن کردیا ہو!؟
۔
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2017-10-03