Showing posts with label Shahi Khatta. Show all posts
Showing posts with label Shahi Khatta. Show all posts

Sunday, August 1, 2021

Tale of Peshawar: Facing rain!

پشاور کہانی: خدا جانے یہ کیسی دشمنی ہے!؟

برسات کے جاری دورانیئے (جولائی تا ستمبر) کے دوران اب تک ہوئی بارشوں نے اہل پشاور کی پریشانی و مشکلات میں اضافہ کیا ہے اُور آنے والے دنوں کے بارے میں تشویش کا اظہار ہو رہا ہے۔ اِس منظرنامے کا موازنہ اگر ماضی سے کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ماضی میں اندرون شہر کے علاقوں (کوہاٹی گیٹ‘ قصہ خوانی‘ پیپل منڈی‘ بازازاں‘ سبزی منڈی‘ ریتی بازار اُور اشرف روڈ تا شاہی باغ) پانی کی نکاسی بذریعہ شاہی کھٹہ ہو جاتی تھی لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ شاہی کھٹے کے کھلے ہوئے چند حصوں جیسا کہ کوہاٹی گیٹ سے براستہ پشت قصہ خوانی تک اُور سبزی و منڈی سے ریتی بازار تک بارش کا پانی شاہی کٹھے سے اُبل آتا ہے کیونکہ پچاس برس سے تجاوزات‘ کوڑا کرکٹ کے ڈھیر اُور مٹی و ریت کے تہہ میں جمع ہونے کی وجہ سے شاہی کٹھے سے نکاس ہونے والے پانی کی گنجائش کم ہو گئی ہے اُور اگر معمولی بارش سے بھی پشاور شہر میں جھل تھل ایک ہو جاتے ہیں تو اِس بات پر تعجب کا اظہار نہیں ہونا چاہئے کیونکہ پشاور کے سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ سازوں نے شاہی کٹھے پر تجاوزات قائم کرنے کی اجازت دے کر اپنے پاو¿ں پر خود کلہاڑی ماری ہے! توجہ طلب ہے کہ تجاوزات عموماً نجی طور پر قائم کی جاتی ہیں لیکن شاہی کٹھے پر چند تجاوزات سرکاری خرچ سے بنائی گئی ہیں اُور اِن کی تعمیر میں نہ صرف پشاور شہر کے لئے بلدیاتی ترقیاتی مالی وسائل بلکہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں کے فنڈز بھی استعمال ہوئے ہیں لیکن جب شاہی کٹھے پر قائم تجاوزات کو ختم کرنے کی بات کی جاتی ہے تو ضلعی‘ بلدیاتی‘ صوبائی اُور وفاقی حکومتوں کے پاس 2 سے 3 ارب روپے نہیں‘ تاکہ پشاور سے نکاسی¿ آب کا مسئلہ کم سے کم آئندہ پچاس برس تک کے لئے حل کر لیا جائے۔

مون سون (جولائی تا ستمبر) یا دیگر مہینوں میں بارشوں سے غریب آباد‘ زریاب کالونی‘ زرگرآباد‘ نوتھیہ پھاٹک‘ گڑ منڈی اُور سبزی منڈی و ملحقہ علاقوں کا زیرآب آنا معمول بن چکا ہے لیکن اِس مسئلے کا حل جانتے ہوئے بھی مستقل بنیادوں پر نہیں کیا جا رہا۔ شاہی کٹھے کی کل لمبائی 10 کلومیٹر ہے جس کی مرکزی راہداری (حصے) اُور اِس میں آ کر گرنے والی نالیوں کی صفائی کے لئے نہ تو درکار خصوصی آلات (مشینری) دستیاب ہے اُور نہ ہی شاہی کٹھہ میں پانی کی روانی برقرار رکھنے کے ’صفائی عملہ‘ بھرتی کیا گیا ہے۔ تعجب خیز ہے کہ اِس دس کلومیٹر طویل نکاسی¿ آب کے انتہائی اہم وسیلے کا صرف ’5 فیصد‘ یا اِس سے کم حصہ کھلا ہے‘ جہاں سے اِس کی صفائی ممکن ہے۔ شاہی کٹھے کو بنائے 100 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اُور یہ مہاراجہ رنجیت سنگھ (پیدائش 1780ءوفات 1839ئ) کے دور پشاور میں بطور گورنر تعینات اطالوی فوجی جنرل پاو¿لو مارٹینو ایوٹیبل (پیدائش 1791ئ۔ وفات 1850ئ) نے نہ صرف ’شاہی کٹھہ (نکاسی¿ آب کا مرکزی نظام)‘ تعمیر کروایا تھا بلکہ اُنہوں نے پشاور کے گلی کوچوں میں راستے بھی تخلیق کئے‘ اُور یہ دونوں تعمیراتی شاہکار جہاں پشاور کا حسن و کشش ہیں وہیں پشاور کی آبادی کے بڑھتے ہوئے بوجھ کی ضروریات بھی پوری کر رہے ہیں۔ پشاور سے جنرل ایوٹیبل المعروف ابوطبیلہ کی دلی محبت کو اہل پشاور نے اُس وقت بھی خراج تحسین پیش کیا تھا اُور آج بھی اُن کا تذکرہ بطور فاتح حکمران نہیں بلکہ پشاور کے تعمیروترقی میں حصہ داری کے عنوان سے کیا جاتا ہے۔ پشاور سے متعلق موجودہ فیصلہ سازوں کو جنرل ایوٹیبل کے کم سے کم 2 کارہائے نمایاں کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ ایک تو شاہی کٹھے کی کشش ثقل کی بنیاد پر تعمیر ہے اُور دوسرا اُنہوں نے فصیل شہر کے اندر پشاور کو 2 حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے ایک نئی فصیل شہر بھی تعمیر کروائی تھی تاکہ پشاور کے دو الگ الگ حصوں میں رہنے والی آبادی کی مختلف ضروریات کو پورا کیا جا سکے اُور پشاور میں شہری سہولیات کا دائرہ کار بڑھانے میں بھی آسانی رہے۔ جنرل ایوٹیبل نے پشاور کی توسیع کی بنیاد بھی رکھی تھی اُور اُن کے بنائے ہوئے شہری نقشے (ٹاو¿ن پلاننگ) کو دیکھتے ہوئے اگر پشاور کی موجودہ توسیع و ترقی کا جامع خاکہ تیار کیا جائے تو اِس سے موجودہ مسائل جو بحران کی صورت اختیار کر چکے ہیں کے حال کرنے میں آسانی رہے گی۔ صوبائی حکومت نے ’احیائے پشاور‘ کے نام سے حکمت عملی وضع کی ہے جس کی ذیل میں ڈیڑھ برس کے دوران ہوئی پیشرفت خاصی اہم ہے اُور اِس میں سینکڑوں کی تعداد میں ترقیاتی امور کی نشاندہی ہو چکی ہے لیکن اصل ضرورت تو کاغذوں میں لکھی اُور اجلاسوں میں بیان کئے گئے تصورات اُور خیالات کو عملی جامہ پہنانے کی ہے۔ جنرل ایویٹیبل غیرمقامی تھا وہ چند برس پشاور میں مقیم رہا اُور وہ قرض بھی ادا کر گیا‘ جو اُس کے ذمے واجب بھی نہیں تھے لیکن ہمارے سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ سازوں کو اپنے حال اُور اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لئے پشاور کے بارے سنجیدگی سے سوچنا چاہئے کہ اگر پشاور سے نکاسی¿ آب کی مقدار و معیار میں اضافہ نہیں کیا جاتا تو اِس سے پشاور بار بار ڈوبتا رہے گا اُور دوسری ضرورت پشاور کی توسیع میں ’ٹاو¿ن پلاننگ‘ کی ہے کہ کوئی ایک بھی رہائشی بستی ایسی نہیں بنائی جا سکی جس میں پشاور کے روائتی فن تعمیر اُور گلی کوچوں کا رنگ نمایاں ہو۔ جہاں نکاسی¿ آب کا نظام شاہی کٹھے کی طرز پر اِس قدر وسیع ہو کہ سینکڑوں برس تک استعمال کے باوجود بھی فعال رہے اُور جہاں سہولیات کی فراہمی کا نظام اِس قدر سوچا سمجھا ہو کہ محلے کوچے اُور گلیاں معرض وجود میں آئیں جن سے سماج ایک دوسرے سے جڑ کر رہے۔ ایک دوسرے کے دکھ سکھ اُور خوشی غم میں اہل محلہ مل جل کر حصہ لیں جبکہ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ پشاور کے مضافات میں جس قدر بھی نئی آبادیاں بنائی گئی ہیں‘ وہاں کے رہنے والوں کو دیوار کے ساتھ جڑے گھر کی چاردیواری کی خبر نہیں ہوتی۔ پشاور سے تعلق کا رشتہ جو کبھی غیرمقامی بھی قائم کر لیا کرتے تھے‘ آج پشاور کے وسائل پر پلنے والے بھی ’محبت کی وہ حرارت‘ محسوس نہیں کر رہے جو پشاور کی پراسرار مقناطیسی کشش اُور خاصہ ہے۔ القصہ مختصر پشاور اجنبیوں سے بھر گیا ہے اُور اجنبیت کے اِس ماحول میں منصوبہ بندی کرنے والے بھی شامل ہیں جن کے ذہانت و توجہ سے مسائل میں کمی کی بجائے بحرانوں کی صورت ہر دن اُور ہر بارش در بارش اضافہ ہو رہا ہے! ”تعلق ہے نہ اب ترک تعلق .... خدا جانے یہ کیسی دشمنی ہے (کامل بہزاد)۔“

....


Wednesday, January 6, 2021

Tale of never ending encroachments & Peshawar!

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

تجاوزات: نیا عزم

کراچی اُور پشاور کی کہانی اُور قسمت ایک جیسی ہے۔ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے پہلے اُور دنیا کے ساتویں بڑے شہر ’کراچی‘ میں تجاوزات سے متعلق مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ (سپرئم کورٹ آف پاکستان) کے چیف جسٹس گلزار احمد نے گزشتہ ہفتے (29 دسمبر 2020ءکے روز) اِس بارے سندھ حکومت کو متوجہ کیا تھا کہ ”کراچی گاوں نما لگتا ہے کیونکہ یہاں کچھ بھی مثالی حالت میں موجود نہیں۔ سڑکیں‘ پانی اُور سبزہ زاروں (باغات) کی خستہ حالی پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت کو ہدایت کی گئی کہ وہ خاطرخواہ اقدامات کرے۔“ عدالت کے روبرو پیش ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے یقین دہانی کروائی کہ وہ تجاوزات کے خاتمے اُور نشاندہی کئے گئے مسائل کے حل پر توجہ دیں گے۔ اطلاعات کے مطابق تجاوزات کے خلاف کراچی میں یوں تو سارا سال ہی کاروائیاں جاری رہتی ہیں تاہم چار جنوری دوہزار اکیس کے روز ’نئے عزم‘ سے مذکورہ کاروائیوں کا آغاز ’محمود آباد نالے‘ کے اطراف میں سات کلومیٹر پٹی پر قائم 319 تجاوزات کی نشاندہی کے بعد اُن کے خاتمے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ 

4 جنوری 2021ء ہی کے روز پشاور میں بھی تجاوزات خاتمے سے متعلق غوروخوض کے جاری عمل میں نکاسی آب کے قدیمی نظام (شاہی کٹھے) کی صفائی اُور اِس پر قائم غیرقانونی عمارتیں ختم کرنے پر اتفاق رائے سامنے آیا۔ اُور ”واٹر اینڈ سینٹی ٹیشن سروسیز پشاور (ڈبلیو ایس ایس پی)“ نے پشاور میں نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے اُور آبادی کے لحاظ سے اِس نظام کی کشادگی پر ’ٹاون ون‘ اُور ’ضلعی حکومت (سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ) سے تجاویز طلب کی ہیں۔ شاہی کٹھہ 10 کلومیٹر طویل ہے جس کا صرف 5 فیصد حصہ ہی تجاوزات سے بچ پایا ہے۔ نکاسی آب کا یہ نغام مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور حکومت میں پشاور کے گورنر ’جنرل پاولو ایوٹیبل (Gen. Paolo Avitabile)‘نے تعمیر کروایا تھا اُور اِسی گورنر نے فصیل شہر کے کئی حصوں کو ازسرنو تعمیر کرتے ہوئے اِس میں نئے دروازوں اُور دیوار کی اونچائی میں اضافہ کروایا تھا۔ پشاور کے 2 بنیادی مسائل (امن و امان کے قیام اُور نکاسی آب کی بہتری) پر توجہ دینے سے پشاور اُور جنرل ایوٹیبل میں اجنبیت ختم ہوتی چلی گئی اُور اہل پشاور نے اُنہیں اپنائیت میں ’ابوطبیلہ‘ کے لقب سے پکارنا شروع کیا۔ معلوم ہوا کہ جب کوئی غیرمقامی شخص مقامی مسائل کے حل پر توجہ دیتا ہے تو اُسے پیار ملتا ہے لیکن جب مقامی فیصلہ ساز اپنے شہر کے مسائل کے حل کی بجائے اِس میں اضافے کا باعث بنتے ہیں تو ایسا طرزحکمرانی اُور حکمراں (بشمول اعلیٰ و ادنیٰ عہدوں پر فائز سرکاری ملازمین) کی حیثیت و تذکرہ ضمنی رہ جاتا ہے کیونکہ جو مسئلے کا حل نہیں ہوتا وہ بذات خود مسئلہ ہوتا ہے۔ ”ہم جو انسانوں کی تہذیب لئے پھرتے ہیں .... ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں!“

شاہی کٹھہ سمیت پشاور میں نکاسی آب کے نظام کی اصلاح و توسیع کے لئے ’جامع تحقیقی رپورٹ‘ امریکہ کے امدادی ادارے ’یو ایس ایڈ (USAID)‘ کے مالی و تکنیکی تعاون و نگرانی میں مرتب کی گئی جو ”پلاننگ اینڈ انجنیئرنگ سروسیز فار ماسٹر پلان اِن پشاور خیبرپختونخوا‘ نامی منصوبے کا حصہ ہے۔ اِس حکمت عملی کی خلاصہ (ایگزیکٹو سمری) 69 صفحات پر مبنی ہے جس میں کلیدی تکنیکی پہلوو¿ں کا اشارتاً ذکر کرتے ہوئے اپریل 2014ءمیں رپورٹ ہر خاص و عام کے مطالعے و معلومات کے لئے جاری کی گئی۔ عجب ہے کہ اِس جامع حکمت عملی کی موجودگی میں بھی ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے فیصلہ سازوں کو ’ٹاو¿ن ون‘ اُور ’ضلعی حکومت‘ کی مدد و مشاورت درکار ہے‘ جنہیں اگر معاملے کی سمجھ بوجھ ہوتی اُور جن کا پشاور سے ’گہرا دلی تعلق‘ ہوتا تو یہ بات ممکن ہی نہیں تھی کہ شاہی کٹھہ پر 280 سرکاری اُور 120 نجی تعمیرات ہوتیں۔ جب ہم 280 سرکاری اثاثوں (عمارتوں اُور دکانوں) کی بات کرتے ہیں تو اگرچہ اِن کی ملکیت سرکاری ہے لیکن یہ مختلف ادوار میں منظورنظر سیاسی کارکنوں کو کرائے اُور اجارے پر کچھ اِس رازداری سے دی گئیں کہ اہل پشاور کو کانوں کان خبر نہ ہو سکی اُور اب جبکہ شاہی کٹھے پر مذکورہ 400 تعمیرات کی فرداً فرداً جانچ پڑتال کی گئی ہے تو صرف پانچ دکانداروں کے پاس ایسے کاغذات ہیں جن کی بنیاد پر اُنہیں شاہی کٹھہ پر تعمیر کی اجازت حاصل ہوئی لیکن ٹاون اُور ضلعی حکومت کی جانب سے دی گئی یہ اجازت بھی اختیارات سے تجاوز (غیرقانونی) ہی ہے۔ ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے فیصلہ ساز اگر سنجیدہ ہیں اُور اپنے قیام کے بنیادی مقصد کی تکمیل و تعمیل چاہتے ہیں تو ’یو ایس ایڈ‘ کی زیرنگرانی مرتب ہوئی مذکورہ حکمت عملی کا مطالعہ کریں جس پر عمل درآمد کی تکمیل و اختتام سال 2022ءمیں ہونا ہے اُور اِسی (حکمت عملی) کے تحت ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا تاہم پشاور میں نہ تو نکاسی آب کا نظام حسب حکمت عملی (ٹائم لائن) درست ہو سکا اُور نہ ہی پشاور کی 92 یونین کونسلوں میں پینے کے پانی کی فراہمی ممکن بنائی جا سکی۔ ڈبلیو ایس ایس پی کے قیام سے قبل جس انداز میں صفائی اُور آبنوشی فراہم ہو رہا تھا آج بھی ترتیب وہی ہے صرف نام تبدیل ہوا ہے اُور خوشنما تشہیری مہمات اُور ملازمین کی ”فوج ظفر موج“ کی تنخواہوں اُور مراعات پر سالانہ کروڑوں روپے اضافی خرچ ہو رہے ہیں۔ 

پشاور کو درپیش مسائل کا حل تلاش کرنے والے مختلف ادارے ایک دوسرے سے مربوط نہیں۔ ایک دوسرے کے حال اُور کام کاج سے آگاہ بھی نہیں۔ اِن کے الگ الگ دفاتر اُور فاصلے آپسی رابطے میں حائل بڑی رکاوٹ ہیں۔ ایک ہی کام کے لئے ایک سے زیادہ محکمے‘ دفاتر اُور اہلکار خود کو مصروف رکھنے کے لئے ایک دوسرے سے خط و کتابت کرتے رہتے ہیں اُور یہ بات بھی نمائشی کارکردگی پر مبنی حکمت عملی کا حصہ ہے کہ مذکورہ خط و کتابت کی تشہیر صحافیوں (پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا) کے ذریعے کر دی جائے تاکہ اہل پشاورکو یقین ہو کہ کوئی نہ کوئی‘ کہیں نہ کہیں‘ اُن کے بارے میں سوچ رہا ہے! پشاور کی تجاوزات صرف شاہی کٹھہ تک محدود نہیں جو کوہاٹی گیٹ سے شروع ہو کر قصہ خوانی‘ جہانگیرپورہ‘ کوچی بازار‘ محلہ جنگی‘ محمد علی جوہر روڈ‘ پیپل منڈی‘ ریتی بازار سے بل کھاتا ہوا بڈھنی نہر (نالے) میں جا گرتا ہے۔ 10کلومیٹر طویل اُور 8 فٹ چوڑا شاہی کٹھہ مٹی ریت اُور گندگی سے بھر چکا ہے جس کی صفائی کئی دہائیوں سے نہیں ہو رہی کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں اُور نالے پر پُل ڈال کر دکانیں‘ مکانات‘ مساجد‘ سڑکیں اُور گلیاں راستے بنا دیئے گئے ہیں جن کی مالیت (مارکیٹ ویلیو) اربوں روپے ہے اُور اِن سے ماہانہ کروڑوں روپے کے مالی مفادات وابستہ ہیں‘ جن کا حصہ سرکاری اہلکاروں کی جیبوں میں بھی یقینا جاتا ہوگا بصورت دیگر صوبائی حکومت کی ناک کے نیچے اُور خیبرپختونخوا کے مرکزی شہر میں جہاں صوبائی اداروں کے صدر دفاتر موجود ہیں‘ اِس قدر لاقانونیت اُور وہ بھی کھلے عام رونما نہیں ہو سکتی! القصہ مختصر کراچی ہو یا پشاور‘ تجاوزات کسی ایک شہر کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ قومی مسئلہ اُور ایسا درد سر ہے‘ جس کا ’سپرئم کورٹ‘ ازخود نوٹس نہ بھی لے اُور سپرئم کورٹ کا خوف نہ بھی محسوس کیا جائے تب بھی اِس مسئلے کا پائیدار حل ہونا چاہئے۔

....




Tuesday, April 12, 2016

Apr2016: The Shahi Khatta of Peshawar expansion!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
پشاور: اپنا پاؤں‘ ہاتھ اُور کلہاڑی!
غیرمتوقع بارشوں کے جاری تسلسل نے شہری سہولیات کی فراہمی کا معیار اُور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کا بھانڈا تو پھوڑ ہی دیا ہے (جو خبر نہیں رہی) لیکن خیبرپختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور کے لئے نکاسئ آب کا کوئی ایسا ’وسیع و عریض‘ اُور ’خاطرخواہ کشادہ نظام‘ کی ضرورت شدت سے محسوس ہونے لگی ہے جو صرف موجودہ آبادی ہی کے لئے نہیں بلکہ چار اطراف پھیلتے ہوئے مرکزی شہر (و مضافاتی علاقوں) اُور مستقبل کی ضروریات کے لئے بھی کافی ہونا چاہئے۔ اِس سلسلے میں عوام کے منتخب ضلعی (بلدیاتی) نمائندوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ’’اپنی پہلی فرصت‘‘ میں ’شاہی کھٹہ‘ پر توجہ دیں جو سال 1839ء سے 1842ء کے درمیان (سکھ دور میں) ساٹھ ہزار آبادی کی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے تعمیر کیا گیا لیکن آج اِس شاہی کھٹے پر تیس لاکھ سے زائد افراد کا انحصار ہے! سکھ دور کی یادگار اُور انجنیئرنگ کے شہکار ’شاہی کھٹے‘ کی طرز پر اب تک کوئی ایک بھی نظام نہیں دیا جاسکا جو ہمارے سیاسی و غیرسیاسی حکمرانوں‘ خود کو اعلیٰ تعلیم یافتہ‘ نفاست و ذہانت کا مجموعہ سمجھنے والے فیصلہ سازوں‘ اربوں روپے کے چھوٹے بڑے ترقیاتی کاموں میں مشغول اور افرادی قوت و ہرقسم کے وسائل سے مالا مال شہری ترقی کے ایک سے زیادہ اداروں کی فہم و فراست‘ علم و دانش‘ تجربے اور پشاور شناسی و دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہیں! (اِس سلسلے میں گلبہار کالونی کے نکاسئ آب کے منصوبے کی سرسری مثال دی جاسکتی ہے‘ جو حال ہی میں تعمیر ہوا لیکن ۔۔۔!!!)

پشاور کی ضلعی حکومت اِس حقیقت سے بخوبی آشنا (آگاہ) ہے کہ شاہی کھٹے کے پچاس فیصد سے زائد حصے پر ’پختہ مستقل‘ تجاوزات قائم ہیں جن کے سبب اِس کی صفائی اُور گہرائی کے ذریعے توسیع جیسی تجویز کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکتا لیکن نجانے ایسی کیا ’مجبوری لاحق‘ ہے کہ تجاوزات کے خلاف متحرک اُور عزم و ہمت پر مبنی بیانات دینے والے ضلعی حکمران و بلدیاتی نمائندے ’شاہی کھٹے‘ کا ذکر آتے ہیں بغلیں جھانکنے لگتے ہیں اُور معلوم تجاوزات ختم کرنے کے لئے ’شاہی کھٹہ کلین اَپ آپریشن‘ شروع نہیں کرتے‘ جس کی شدت سے ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ ہر بارش میں پشاور کو ڈوبتے اور اُبھرتے دیکھنے (تماشا کرنے) والوں کے لئے کیا یہ ’نظارہ‘ واقعی اتنا خوش کن ہے کہ وہ اِس منظرنامے کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے؟

پشاور کا کم و بیش 200 سالہ نکاسئ آب کا نظام ’فرسودہ‘ قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ اِس کی جملہ خوبیوں میں سطح سمندر سے پشاور کی بلندی اور نکاسئ آب کے نظام کی سطح کو اُس قدرتی ڈھلوان کے متوازی رکھا گیا جس کی وجہ سے پانی کا بہاؤ خودکار اور تیزرفتاری سے ’فلش آؤٹ‘ ہونے لگا لیکن پھر جب پشاور سے یہاں کے باسیوں کا دلی تعلق ٹوٹا‘ رشتے کمزور ہوئے‘ اپنوں کی بجائے غیر فیصلہ سازی پر مسلط ہوئے تو پشاور کا ہر رنگ دھندلا ہونے لگا۔ اِبتدأ شاہی کھٹے میں ٹھوس گندگی (کوڑا کرکٹ) پھینکنے سے ہوئی‘ کسی نے نوٹس نہ لیا تو ایک قوم پرست جماعت نے اپنے ووٹ بینک جیسے مفاد کا تحفظ کرتے ہوئے قبرستانوں پر قبضے کے ذریعے مکانات (رہائش) اور شاہی کھٹے پر چھت ڈال کر دکانیں (کاروبار) ڈالنے کی ’چپ چپیتے (غیرتحریری)‘ اجازت دے دی۔ جب تعمیرات مکمل ہوئیں تو انہیں ’قانونی کور (تحفظ)‘ فراہم کرنے کے لئے واجبی فیس و جرمانے کے عوض اجازت نامے (لائسینس) جاری کردیئے گئے جن کا قطعی کوئی قانونی جواز و ضرورت نہیں تھی۔ موجودہ ضلعی حکومت چاہے تو شاہی کھٹے پر تجاوزات کے مالکان کو نوٹسیز (تنبیہہ) جاری کر سکتی ہے کہ وہ آئندہ چند ہفتوں (برسات سے قبل) شاہی کھٹے کو واگزار کر دیں۔ اِس نالے کے اُن حصوں کو مکمل طور پر کھلا ہونا چاہئے جنہیں تعمیر کرنے والوں نے ایسا رکھا تھا‘ تاکہ روزمرہ بنیادوں پر ساتھ ساتھ صفائی ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ شاہی کھٹے کی دو شاخیں ہیں۔کوہاٹی گیٹ‘ قصہ خوانی‘ شعبہ بازار‘ ریتی بازار‘ شبستان (فردوس) سینما (جی ٹی روڈ) اُور فقیر آباد کے راستے بڈھنی تک ایک جبکہ اندرون شہر کے علاقوں سے گزرتے ہوئے رنگ روڈ پر نہر سے ملنے والی دوسری شاخ پر تجاوزات کا شمار انگلیوں پر ممکن نہیں۔ البتہ رنگ روڈ کا مقام موزوں ہے کہ جہاں ضلعی حکومت پشاور شہر کے نکاسئ آب کی تطہیر کرکے اِس پانی کو آبپاشی کے لئے محفوظ قابل استعمال بنا سکتی ہے۔ سابق دور میں پشاور سے جمع ہونے والے یومیہ دس ٹن کچرے سے بجلی و کھاد پیدا کرنے کا ایک منصوبہ بنایا گیا تھا لیکن سیاسی وجوہات کی بناء پر مذکورہ منصوبہ سردخانے کی نذر کر دیا گیا‘ اُس منصوبے کی بحالی کے لئے غوروخوض بارے عوام کو آگاہ کرنا چاہئے۔ اگر ضلعی حکومت ہر چوہے کے سر کی قیمت مقرر کرکے موذی چوپائے ختم کر سکتی ہے تو فی کلوگرام گندگی جمع کرکے اُسے کسی مرکزی مقام تک لانے کی قیمت مقرر کرنے سے کوئی وجہ نہیں کہ گندگی اُور کوڑا کرکٹ کا پشاور سے نام و نشان ہی مٹ جائے! لیکن اَفسوس کہ ہم اپنے ہی ہاتھوں سے تھامی ہوئی کلہاڑی اپنے ہی پاؤں پر مار بھی رہے ہیں اور لہولہان ہونے‘ درد‘ تکلیف و پریشانی سہنے کے باوجود بھی نہ تو علاج چاہتے ہیں اور نہ ہی ماضی میں کی گئیں حماقتوں کی اصلاح کے لئے تیار ہیں!
The need of expanding the Shahi Khatta of Peshawar should be done urgently