Showing posts with label Elections. Show all posts
Showing posts with label Elections. Show all posts

Saturday, July 18, 2020

COLLECTIVE SACRIFICE: An idea and need of the hour!

اجتماعی قربانی
معروف لسانی و سیاسی جماعت ”پاکستان ہندکووان تحریک (پشاور شاخ)“ کی جانب سے جاری ہونے والا غیرسیاسی پیغام توجہ طلب ہے جس میں عیدالاضحی کے موقع پر (اِس مرتبہ) زیادہ سے زیادہ ’اجتماعی قربانی‘ اُور اِس سلسلے میں تحریک کی زیرنگرانی کئے گئے خصوصی انتظامات سے استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ قبل ازیں کورونا وبا کے سبب معاشی مشکلات کا سامنا کرنے والے ’ہندکووانوں‘ کے لئے مالی امداد اُور رمضان المبارک کے دوران اشیائے خوردونوش کی مستحق ’ہندکووان خاندانوں‘ میں تقسیم نے مذکورہ تحریک کو نئی پہچان‘ جان اُور شان عطا کی ہے اُور اِس کا شمار پاکستان کی اُن صف اوّل میں شامل معروف فلاحی تنظیموں کے ساتھ ہونے لگا ہے جو مشکل کی ہر گھڑی میں پیش پیش رہتی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ’ہندکوان تحریک‘ کے اہداف و مقاصد صرف اُور صرف ہندکو زبان بولنے والوں کے سیاسی و سماجی حقوق کا تحفظ اُور اُن کی ہر ممکنہ امداد ہے جو نہایت ہی خوش اسلوبی‘ ذمہ داری اُور امانت و دیانت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جاری ہے۔
جولائی 2018ءکے عام انتخابات سے قبل قائم ہونے والی سیاسی جماعت ’پاکستان ہندکووان تحریک‘ کو اگرچہ ہندکوزبان بولنے والوں کی جانب سے انتخابی مرحلے میں زیادہ پذیرائی نہیں ملی لیکن جس سیاسی جماعت کا عام انتخاب سے اپنے سفر کے آغاز اُور روائتی انداز میں سیاسی بیان بازی کی بجائے کسی غیرسرکاری تنظیم (این جی اُو) اُور فلاحی ادارے کی طرح سماجی خدمت پر یقین ہو اُس کی سیاست کو زوال نہیں ہوسکتا اُور نہ ہی اُس کی مقبولیت کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل ہو سکتی ہے۔ پہلی نظر میں ’ہندکووان تحریک‘ کا پیغام تعصب اُور امتیازی لگتا ہے لیکن بغور دیکھا جائے تو قومی سیاست کرنے والی خیبرپختونخوا‘ پنجاب‘ بلوچستان اُور سندھ کی قوم پرست جماعتیں کم وبیش اِسی قسم کے اہداف و مقاصد رکھتی ہیں لیکن وہ اِن کا زیادہ پرچار اُور اظہار نہیں کرتیں۔ امتیاز لائق توجہ ہے کہ ہندکووان تحریک کے انتخابی و سیاسی منشور کا ہر لفظ اُور جملہ صرف اُور صرف ہندکو زبان اُور اِس زبان کے بولنے والوں کے حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے تحریر میں لایا گیا ہے اُور حسن ظن یہ ہے کہ یقینا فیصلہ سازی کا موقع ملنے پر اِسے فراموش نہیں کیا جائے گا اُور مادری زبان ہندکو بولنے والوں سے ہونے والے امتیازی سلوک اُور روئیوں کا خاتمہ کرنے کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں گے۔
متعدد سوشل میڈیا وسائل اُور بالخصوص واٹس ایپ گروپس کے ذریعے اُن ”سفید پوش ہندکو بولنے والوں“ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو اپنی ضروریات کے لئے ہاتھ پھیلا نہیں سکتے۔ جو اپنی محتاجی و لاچاری کا پرچار کرنے کے ماہر نہیں اُور جن کو سہارا دینے کے لئے سیاسی و سماجی سطح پر خاطرخواہ دردمندی کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آ رہا۔ پشاور کی ایک معروف کاروباری شخصیت سے بات چیت کے دوران ایک ایسی پریشان کن حقیقت معلوم ہوئی‘ کہ جس کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں اُور وہ یہ کہ کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ پشاور کے اِس سرمایہ دار گھرانے سے تعلق رکھنے والوں کے دروازوں پر زکوة اُور خیرات و صدقات کی صورت مالی مدد مانگنے والوں کی بھیڑ میں ہندکوزبان بولنے والے شامل ہوں لیکن اب اکثریت ہندکو بولنے والوں کی ہوتی ہے!“

آخر ایسا کیا ہوا کہ ہندکو بولنے والے مفلس اُور محتاج ہوتے چلے گئے؟ اِس سوال کا جواب تلاش کرنے والوں کو اُن سیاسی امتیازات اُور لسانی تعصبات (سلوک) کو بھی شمار و فہرست کرنا ہوگا‘ جو مادری طور پر ’ہندکو زبان‘ بولنے والوں سے روا رکھا گیا اُور یہ کسی ایک سیاسی دور کی بات نہیں لیکن گزشتہ بیس برس کے دوران بالخصوص خیبرپختونخوا کے ہندکووان گھرانوں کو سرکاری و نجی ملازمتوں‘ معیاری تعلیم و روزگار اُور کاروبار میں آگے بڑھنے کے بہت کم مواقع ملے ہیں۔

اُمید ہے کہ ’پاکستان ہندکووان تحریک‘ کی پشاور شاخ ہندکووان گھرانوں کے کوائف جمع کرنے اُور اُن کی مالی معاشی و دیگر مشکلات سے متعلق اعدادوشمار جمع کرے گی۔ اِس سلسلے میں تحریک کی ’موبائل فون ایپ‘ جوکہ پہلے ہی فعال ہے‘ کے ذریعے خانہ و مردم شماری کے ساتھ خاندانوں کی انفرادی معاشی و مالی حالت کے بارے میں بھی کوائف (ڈیٹا) جمع کیا جا سکتا ہے اُور چونکہ آئندہ عام انتخابات کی اُلٹی گنتی کا آغاز ہو چکا ہے اُور 2018ءکے انتخابات کے نتیجے میں بننے والی موجودہ حکومت اپنی نصف مدت مکمل کر چکی ہے اِس لئے ہندکووانوں کو اپنی قسمت کے فیصلے اپنے ہاتھ میں لینا ہوں گے۔ اغیار سے توقعات وابستہ رکھنا خود کو مزید دھوکہ دینے کے مترادف عمل ہے۔

وقت ہے کہ صاحب ثروت ہندکووان عیدالاضحی کے موقع پر نہ صرف اجتماعی قربانی بلکہ دیگر ایام میں اپنے ’ہم زبان‘ قرابت داروں اُور دکھ درد کے حقیقی شرکا کی استعانت کریں۔

وقت ہے کہ ہندکووان خواب غفلت سے بیدار ہو کر اپنے متعلق قومی و صوبائی فیصلہ سازی کا اختیار اُن نمائندوں کے حوالے کریں‘ جنہیں نمائندگی کرنے کا حق ہونا چاہئے اُور جو اُن کے دکھ درد‘ مشکلات‘ مصائب اُور پریشانیوں کا کماحقہ احساس کرتے ہوئے صرف پریشان نہیں بلکہ عملی جدوجہد کے ذریعے حالات کا مقابلہ کرنے کی ٹھکان چکے ہیں جو ہندکو زبان اُور ہندکو زبان بولنے والوں سے روا رکھے گئے تعصبات‘ امتیازات اُور اِن کی محرومیوں کا ازالہ کرنے کے لئے پُرعزم ہیں۔

یقینا یہ وقت اجتماعی قربانی کا ہے۔
ایک ایسی قربانی جو معنوی اعتبار سے زیادہ وسیع ہو۔ جو محض عیدالاضحی کے موقع پر مال مویشیوں کی حد تک محدود نہ رہے بلکہ اِس میں حقوق العباد کی ادائیگی اُور اِس کے لئے قرابت داروں کے انتخاب پر مبنی ترجیح بھی شامل حال ہونی چاہئے۔

”انسانیت کے درد کی آواز بن سکے ....
سوزِ نوا سے سینچئے زخم خیال کو (رفیق خاور جسکانی)۔“
........
Clipping from Daily Aaj - 18 July 2020 Saturday
Editorial Page of  Daily Aaj Peshawar / Abbottabad . Saturday 18 July 2020

Sunday, March 10, 2019

TRANSLATION: The Indo-Israeli nexus by Dr. Farrukh Saleem

The Indo-Israeli nexus
بھارت اِسرائیل گٹھ جوڑ!
دفاعی تعاون کے شعبے میں بھارت اُور اسرائیل کے درمیان ’گٹھ جوڑ‘ اسلحے کی خریدوفروخت کے علاؤہ بھی کئی اہداف رکھتا ہے۔ ہر سال اسرائیل بھارت کو ’اربوں ڈالر‘ مالیت کا جدید ترین اسلحہ فروخت کر رہا ہے اور یہ بات راز نہیں رہی کہ اسرائیل سے جنگی سازوسامان خریدنے والوں میں بھارت دوسرا بڑا ذریعہ ہے۔ 26 فروری کے روز صبح 3 بج کر 30 منٹ پر بھارتی فضائیہ کے 12 ’میراج (Mirage) 2000‘ نامی طیارے جو ’پوپائے (Popeye)‘ نامی فضاء سے زمین پر مار کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ہتھیاروں (میزائلوں) سے لیس تھے‘ پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوئے۔ اسپائس (Spice) کہلانے والی میزائل ٹیکنالوجی مختلف قسم کے الیکٹرانک آلات پر مشتمل ہے‘ جس کے ذریعے کسی ہدف کو نہایت ہی صفائی سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور یہ ٹیکنالوجی فرانسیسی طیارہ ساز کمپنی جو کہ ’رافیل ایڈوانس ڈیفینس سسٹم‘ بھی بناتی ہے کی تخلیق ہے جس کا صدر دفتر (ہیڈکواٹر) ’حایفا (Haifa)‘ اسرائیل میں ہے۔ ’پوپائے‘ میزائل بھی اِسی کمپنی کا بنایا ہوا ہے۔

سال 1992ء تک بھارت کی شہریت (پاسپورٹ) رکھنے والوں کو اسرائیل سفر کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ 1997ء میں اسرائیل کے اُس وقت کے صدر ’وائزمین (Weizman)‘ نے بھارت کو ’باراک (Barak) ون‘ نامی میزائل فروخت کئے تاکہ بھارت پاکستان کے ’ہارپون (Harpoon)‘ بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے میزائلوں کا جواب دے سکے۔ 1998ء میں اسرائیل نے بھارت کی ’آپریشن شکتی(Operation Shakti)‘ نامی کاروائی کی مذمت نہیں کی‘ جس میں بھارت نے 5 جوہری بموں کا تجربہ کیا۔

سال 1999ء میں اسرائیل نے بھارتی کاروائی ’آپریشن وجے (Operation Vijay)‘ کی حمایت کرتے ہوئے اِس مشق میں استعمال کے لئے اپنے ڈرون طیاروں‘ خلائی سیاروں اور لیزر گائیڈیڈ بم دیئے۔ قبل ازیں بھارت فوج کی نشانہ بنانے کی صلاحیت نہایت ہی کمزور اور بوسیدہ آلات پر منحصر تھی۔

سال 2000ء میں اسرائیلی بحریہ (نیوی) نے بھارتی سمندر میں اُن کروز (Cruise) میزائلوں کا تجربہ کیا‘ جو ’آب دوز (submarine)‘ سے فائر کئے جا سکتے ہیں۔ سال 2003ء میں بھارت کے فضائی دستے میں ’فیلکن اواکس (AWACS)‘ شامل ہوئے‘ جو اسرائیلی ساختہ ہیں تاکہ بھارت کی خطے کی فضائی حدود میں بالادستی قائم ہو جائے۔ بھارت نے ’ہیرون (Heron)‘ نامی ڈرون طیارے بھی خرید رکھے ہیں جو اسرائیلی ائرواسپیس انڈسٹری کا تیار کردہ ہے اور ایک طیارے کی قیمت 2 کروڑ 20 لاکھ (220ملین) ڈالر ہے۔

سال 2007ء میں بھارتی نیوی اور ائرفورس نے اسرائیل ائرواسپیس سے ایک معاہدہ کیا‘ جس کے تحت جدید ’باراک آٹھ (Barak-8)‘ نامی میزائل خریدے گئے۔ یہ بھارت کی اسرائیل سے اسلحے کی سب سے بڑی خریداری تھی۔ سال 2008ء میں بھارت نے اسرائیل فوج کے لئے کام کرنے والا ایک خلائی سیارہ (military satellite) بھیجا۔ سال 2008ء میں اسرائیل کی دفاعی افواج کے سربراہ ’لیفٹیننٹ جنرل گابی اشکینازئی (Lt. Gen. Gabi Ashkenazi)‘ نے بھارت کا دورہ کیا۔ سال 2011ء میں ’بھارت ڈئنامکس لیمٹیڈ (Bharat Dynamics Limited)‘ نے ’رافیل ایڈوانس ڈیفینس سسٹمز (اسرائیل)‘ سے ایک ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ خریدنے کا معاہدہ کیا‘ جس میں ’اسپائک (Spike)‘ نامی ’ٹینک شکن (anti-tank) میزائل‘ 321 لانچر‘ 8356 میزائل اُور 15 تربیتی آلات (simulators) شامل تھے۔

سال 2017ء میں 3 بھارتی بحری جہازوں نے ’حایفا (Haifa)‘ کا دورہ کیا اُور اسرائل کے ساتھ 2.5 ارب ڈالر کا ایک معاہدہ کیا جس کے تحت 40 عدد ’باراک 8‘ میزائل خریدے گئے۔ بھارت کی نظریں اسرائیل کے ’ائرن ڈوم (iron dome)‘ اُور ’ڈیویڈ سلنگ (David Sling)‘ نامی میزائل خریدنے پر بھی لگی ہوئی ہیں۔ فروری 2019ء میں بھارت نے اسرائیل سے 50کروڑ ڈالر مالیت کے ’ہیرون (Heron)‘ نامی مسلح ڈرون طیارے خریدے۔

بھارت کا خفیہ ادارہ ’را (RAW)‘ اُور اسرائیل کا خفیہ ادارہ ’موساد (Mossad)‘ کے درمیان ایک عرصے سے خفیہ طور پر تعاون ہو رہا ہے۔ بھارت جدید جنگی ہتھیاروں کے علاؤہ اسرائیل سے وہ سبھی طریقے (چالیں) سیکھ رہا ہے‘ جن کا استعمال کرکے وہ کسی ملک کے خلاف غیرروائتی محاذوں پر حملہ آور ہو سکے۔ ’را‘ نے اسرائیل سے یہ بھی سیکھا ہے کہ انٹرنیٹ پر منحصر سوشل میڈیا اور دیگر وسائل کا استعمال کرتے ہوئے کس طرح جھوٹ پھیلایا جا سکتا ہے۔

اسرائیل دنیا میں غیرفوجی افراد کی نگرانی کرنے والے آلات کی فراہمی کرنے والا سب سے بڑا برآمدکنندہ ہے۔ ’را‘ اسرائیل سے ’سوشل میڈیا مانیٹرنگ سافٹ وئر‘ کے علاؤہ ٹیلی فون کالز سننے کے آلات‘ پوشیدہ پیغامات (decrypt messages) اور ایسے آلات خریدنا چاہتا ہے جس سے علاقوں پر مستقل نظر (surveillance) رکھی جا سکے۔

برازیل (Brazil) نے واٹس ایپ (Whats-App) کا استعمال کرتے ہوئے غلط معلومات پھیلائیں‘ جس کا اثر انتخابات کے نتائج پر ہوا۔ نائیجریا (Nigeria) کے ہاں بھی پہلی مرتبہ ’واٹس ایپ انتخابات‘ ہوئے جن کے ذریعے جھوٹی خبریں اور تصاویر پھیلائی گئیں‘ جن سے رائے عامہ پر اثرانداز ہوا گیا۔

سال 2019ء میں بھارت پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر ’واٹس ایپ انتخابات‘ کے دور (تجربے) سے گزرنے والا ہے‘ جس کے لئے ’بھارتیہ جنتہ پارٹی (BJP)‘ نے تیاری مکمل کر رکھی ہے جبکہ مدمقابل جماعت ’کانگریس (Congress)‘ نے نہیں۔ ڈیجیٹل آلات کا استعمال کرتے ہوئے جھوٹ اُور جعل سازی پر مبنی سیاسی خبریں اور معلومات تخلیق کرنے کے بعد اُنہیں اِس طرح پھیلایا جاتا ہے کہ عام آدمی نفسیاتی دباؤ کی وجہ سے اُن پر یقین کرتے ہوئے عام انتخابات میں ووٹ دینے سے متعلق اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
’بی جے پی‘ کا اپنا ’آئی ٹی سیل (IT Cell)‘ ہے جہاں 9 لاکھ ’واٹس ایپ‘ استعمال کرنے والے کارکنوں پر مشتمل فوج کا تیار کیا گیا ہے۔ یہ تعداد بھارت میں پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ بھارت میں عام انتخابات کے لئے کل ’’9 لاکھ 27 ہزار 533 پولنگ اسٹیشن‘‘ بنائے جاتے ہیں۔ بھارت میں 1.14 کھرب موبائل فون صارفین ہیں۔ 46کروڑ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین ہیں۔ 30 کروڑ لوگ ’سمارٹ فون‘ استعمال کرتے ہیں اُور 20 کروڑ ’واٹس ایپ‘ صارفین ہیں۔ 

معلوم حقیقت ہے کہ بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ دفاعی شعبے میں ہے لیکن یہ صرف دفاعی شعبے کی حد تک محدود نہیں بلکہ آنے والے بھارتی انتخابات کے نتائج پر اثرانداز ہونے کے لئے بھی پوری طرح فعال اور تیاری کئے بیٹھا ہے تاکہ موجودہ وزیراعظم نریندر مودی (Modi) کی انتخابی کامیابی یقینی بنائی جا سکے؟ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)

Thursday, June 28, 2018

Jun2018: Election Engineering for July 2018 polls!

مہمان کالم:شبیرحسین امام
الیکشن انجنیئرنگ
عام انتخابات کی بہار میں نجی و سرکاری ٹیلی ویژن چینلوں پر جاری بحث کا زاویہ اور زور (focus) جن موضوعات پر ہے اُن میں حیرت انگیز طور پر مماثلت پائی جاتی ہے تو کیا یہ حسن اِتفاق ہے؟ اِس مرتبہ الیکشن کمشن کی جانب سے انتخابی حلقہ بندیاں ازسرنو مرتب کرنے کا دعوی کیا گیا ہے لیکن نئی حلقہ بندیوں کی حدود اور ماضی کی حلقہ بندیوں میں بنیادی ردوبدل کے بارے میں معلومات جاری نہیں کی جا رہیں تو کیا یہ بھی حسن اتفاق ہے؟ 

الیکشن کمشن آف پاکستان کے پاس ’جیوگرافک انفارمیشن سسٹم (جی آئی ایس)‘ کے تحت مرتب شدہ جغرافیائی اعدادوشمار سے متعلق ڈیٹا‘‘ نہیں‘ کیا یہ حسن اتفاق ہی کا اعجاز ہے؟ طویل تاخیر کے بعد غیرضروری جلدبازی میں بناء ’GiS‘ مردم و خانہ شماری کرنا بھی حسن اتفاق ہے؟ بہت بڑے پیمانے پر ’اِنتخابی نتائج‘ پہلے ہی سے تیار کر لئے گئے ہیں‘ جنہیں عملی جامہ پہنانے کے لئے ’پچیس جولائی‘ کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ قارئین سے التماس ہے کہ اُس بااختیار ’درپردہ قوت‘ کے بارے میں نہ پوچھیں جو اِس پوری کہانی کی تخلیق کار ہے اور اگر کوئی اپنے ذہن سے‘ اپنے رسک پر‘ نتیجہ اخذ کرنا چاہے تو دیکھ لے کہ پاکستان میں وہ طاقت کونسی ہے جس کے بارے میں اظہار خیال کرنے کی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے!؟

الیکشن انجنیئرنگ کا سارا کمال ’انتخابی حلقہ بندیوں‘ میں چھپا ہوا ہے!

نئی اِنتخابی حلقہ بندیوں کے ’اَثرات بصورت نتائج‘ ظاہر ہونے کے بعد دو طرح کے ممکنہ ردعمل دیکھنے میں آئیں گے۔ عوام کی حیرانی و پریشانی ظاہر ہو سکتی ہے‘ کیونکہ بڑی تعداد میں غیرمقبول افراد منتخب ہو جائیں گے اور دوسرا ممکنہ ردعمل سیاسی جماعتوں اور نامور سیاسی کرداروں کی طرف سے ’احتجاجی تحریک‘ کی صورت دیکھنے میں آ سکتا ہے‘ جس کے بعد امن و امان کی صورتحال اِس حد تک خراب ہو جائے گی کہ (بہ امر مجبوری) چند برس یا برس ہا برس کے لئے جمہوریت معطل کر دی جائے۔ مئی 2013ء کے (دسویں) عام انتخابات اِس لحاظ سے منفرد تھے کہ صوبائی اسمبلیوں کے انتخابی نتائج کے بعد چاروں صوبوں میں مختلف سیاسی جماعتیں اکثریتی جماعتیں بن کر سامنے آئیں۔ خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف‘ پنجاب میں مسلم لیگ نواز‘ سندھ میں پیپلز پارٹی پارلیمینٹرینز جبکہ بلوچستان میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔ پاکستان میں براہِ راست انتخاب والے حلقوں کی کل تعداد 849 ہے۔ قومی اسمبلی کے 272حلقوں کی تعداد کو منہا کردیا جائے تو ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیوں کے لئے‘ براہِ راست انتخابی حلقوں کی تعداد 577ہے‘ جن میں پنجاب کے 297‘ سندھ کے 130‘ خیبر پختونخوا کے 99اور بلوچستان کے 51 انتخابی حلقے شامل ہیں۔

سائنسی تجزیہ یہ ہو سکتا ہے کہ نواز لیگ نے پنجاب اسمبلی کی 297نشستوں میں سے 212 حاصل کیں جو 71فیصد تھیں۔ پیپلز پارٹی نے سندھ اسمبلی کی 130نشستوں میں سے 70حاصل کیں جو 54فیصد تھیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف نے خیبر پختونخوا اسمبلی کی 99 میں سے 35 نشستیں حاصل کیں‘ جو 34فیصد تھا۔ پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے 51میں سے 10نشستیں حاصل کیں جو 20فیصد بنتی تھیں۔ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ پنجاب میں نواز لیگ کے مدمقابل سیاسی حریفوں کو صرف 29فیصد‘ سندھ میں پیپلز پارٹی کے مدِمقابل سیاسی حریفوں کو 46فیصد جبکہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے مدِمقابل سیاسی حریفوں کو 66فیصد ووٹ ملے تھے۔ یوں پاکستان کی تین بڑی سیاسی جماعتوں (نواز لیگ‘ پییپلزپارٹی اور تحریکِ انصاف) کو صوبائی اسمبلیوں میں ملنے والی نشستوں کی تعداد سے تھا کہ نواز لیگ اپنے انتخابی ’’بیس کیمپ پنجاب‘‘ میں تینوں سیاسی جماعتوں کی نسبت زیادہ مضبوط جبکہ تحریکِ انصاف اپنے انتخابی ’’بیس کیمپ خیبر پختونخوا‘‘ میں تینوں سیاسی جماعتوں کی نسبت سب سے کمزور تھی۔ لائق توجہ ہے کہ نواز لیگ نے پنجاب میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ‘ پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ میں سادہ اکثریت کے ساتھ جبکہ خیبرپختونخوا میں تحریکِ انصاف کو سادہ اکثریت کے ساتھ‘ جماعت اسلامی‘ قومی وطن پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی کے ساتھ ’غیرفطری اتحاد‘ کرنا پڑا۔ سوال یہ ہے کہ ’’عام انتخابات جولائی 2018ء‘‘ میں کیا ہونے جارہا ہے؟ 

مئی 2013ء کے مقابلے (متوقع) عام انتخابات میں سوائے تحریک انصاف ہر سیاسی جماعت خود کو مشکل میں تصور کر رہی ہے اور اِس سے زیادہ موافق (آسان) سیاسی و انتخابی حالات ’غنیمت‘ سے کم نہیں تو کیا اِسے ’حسن اتفاق‘ قرار دیا جائے!؟ نئے انتخابات میں آزاد حیثیت سے حصہ لینے والوں کے انتخابی کامیابی ناممکن حد تک دشوار بنا دی گئی ہے بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ آزاد اُمیدوار محدود مالی وسائل اور انتخابی تجربے کی بنیاد پر ٹھوکریں کھاتے ہوئے یہ تک معلوم نہیں کر سکیں گے کہ اُن کے حلقے کہاں سے شروع اور کہاں ختم ہو رہے ہیں! 

الیکشن کمشن اگر 28 جون کو حسب اعلان انتخابی حلقہ بندیوں کے اعدادوشمار اور پولنگ مراکز کے نام جاری کر دیتا ہے تو بھی تین ہفتوں میں پولنگ اسٹیشنوں کو ڈھونڈنا اور اِس بات کا موازنہ کرنا کہ متعلقہ ووٹرز کے لئے یہ پولنگ اسٹیشن کتنے قابل رسائی (نزدیک) ہیں اور کیا پولنگ مراکز پر درج کی گئی ووٹروں کی تعداد (شمار) منطقی ہے کہ وہ مقررہ پولنگ اوقات میں اپنا ووٹ سہولت سے ڈال سکیں گے۔ یاد رہے کہ الیکشن کمشن پولنگ کے وقت پر نظرثانی کرنے کی درخواست پہلے ہی مسترد کر چکا ہے تو کہیں موسم گرما کی شدت کو نظرانداز کرتے ہوئے ووٹروں کو انتخاب نہیں بلکہ امتحان میں مبتلا کر دیا گیا ہے؟ پولنگ مراکز پر سایہ دار جگہیں‘ پینے کے صاف اور ٹھنڈے پانی سمیت دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنانا ایک الگ ضرورت ہے۔ 

خیبر پختونخوا کے تناظر میں ’’تبدیلی‘‘ کا مطلب یہ بنتا ہے کہ عوام کی اکثریت ہر پانچ برس بعد ’سیاسی جماعت بدل‘ لیتی ہے اور پانچ برس بمشکل اتحادی حکومت چلانے والی ’تحریک انصاف‘ کو اگلے پانچ برس کے لئے مضبوط مینڈیٹ ملنے کی اُمید تو ہے لیکن وہ عوامی نیشنل پارٹی‘ قومی وطن پارٹی‘ جمیعت علمائے اسلام (فضل الرحمن) اور جماعت اسلامی کی قیادت میں ’’متحدہ مجلس عمل‘‘ جیسے چیلنجز کو خاطر میں نہیں لا رہی! تو اِس کی وجہ وہ ’’الیکشن انجنیئرنگ‘‘ ہے‘ جو بظاہر دکھائی نہیں دے رہی لیکن اِس کی موجودگی نہ تو ’خارج اَز امکان‘ ہے بلکہ ایک ایسی حقیقت‘ جس میں تہہ در تہہ سچائیاں چھپی ہوئی ہیں! ’’مخالف ہو گئے مرکز کے لیکن ۔۔۔ اگر ٹوٹا نہ ہم سے دائرہ تو؟ (وکاس شرما رازؔ )۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Friday, June 22, 2018

Jun2018: Electioneering NA21 Mardan - PTI vs ANP with much to show as performance!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
اِنتخابی منظرنامہ: NA-21
خیبرپختونخوا کی سیاست میں ’عام انتخابات‘ کو ہمیشہ ہی سے خاص اہمیت حاصل رہی ہے جس کا انتظار کرنے والے دیگر صوبوں کے مقابلے مثالی (روائتی) صبروتحمل کا مظاہرہ کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ خیبرپختونخوا ملک کا ایسا واحد صوبہ ہے جس کے ہاں ’نئے سیاسی نظریات‘ کو نہ صرف غور سے سنا جاتا ہے بلکہ کارکردگی دکھانے کا موقع بھی دیا جاتا ہے‘ جیسا کہ ’مئی 2013ء‘ کے عام انتخابات میں دیکھنے کو ملا جب سیاسی تجربہ کاروں کے مقابلے ’تحریک اِنصاف‘ کے مقامی اُور اکثر غیرمقامی اُمیدواروں کو اس قدر بھاری اکثریت سے انتخابی کامیابی کہ وہ خود بھی حیران و پریشان تھے کہ آخر اُن کے ساتھ ہوا کیا ہے! لیکن پھر حیرانی و پریشانی میں ’تبدیلی تبدیلی کرتے‘ پانچ سال کا عرصہ (آئینی مدت) گزر گئی۔ وہی عام انتخابات اُور وہی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے راگ کہ جن میں اُن کی اپنی نہیں بلکہ دوسروں کی کارکردگی کو بطور نمونہ پیش کر کے ’ووٹروں کی توجہ (ہمدردیاں)‘ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کیا ماضی کی طرح خیبرپختونخوا کی سیاست کا یہ ڈھنگ برقرار رہے گا کہ یہاں ذات برادری‘ قوم پرستی اور تھانہ کچہری جیسی ترجیحات کی بجائے ’عملی کارکردگی‘ نہ دکھانے والے حکمرانوں کو ووٹ نہیں دیئے جاتے؟

آئندہ (متوقع) عام انتخابات (پچیس جولائی) میں متوقع کانٹے دار مقابلوں میں ’مردان‘ کا حلقہ ’این اے 21‘ بطور خاص دلچسپ نتائج کا حامل ہوگا جہاں خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ رہے امیر حیدر خان ہوتی (عوامی نیشنل پارٹی) اور سابق وزیرتعلیم محمد عاطف خان (پاکستان تحریک انصاف) ایک دوسرے مدمقابل ہیں۔ ماضی میں یہ انتخابی حلقہ ’این اے نائن‘ سے پہچانا جاتا تھا۔ دونوں اُمیدواروں کی انتخابی حکمت عملی میں ’قدر مشترک‘ یہ ہے کہ اِن دونوں ہی نے ایک ایک قومی اور ایک ایک صوبائی اسمبلی حلقوں کا انتخاب کیا ہے لیکن جہاں اِن کا مقابلہ قومی اسمبلی کی ایک ہی نشست پر ہے وہیں صوبائی اسمبلی کے لئے الگ الگ حلقوں سے مدمقابل ہیں۔ دونوں رہنماؤں کی سیاسی طاقت (حمایت) کے مراکز ایک دوسرے سے جڑے اور الگ الگ ہیں اور دونوں ہی کی کامیابی کا دارومدار (انحصار) صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں اُن کی حمایت پر ہے۔ 

امیر حیدر خان ہوتی نے متبادل کے طور پر صوبائی اسمبلی کا حلقہ ’پی کے 50 (مردان ٹو)‘ جبکہ عاطف خان نے صوبائی اسمبلی کے حلقہ ’پی کے 53 (مردان فائیو)‘ سے ’ساکھ آزمائی‘ کا فیصلہ کیا ہے۔ اِن دونوں حلقوں پر نواز لیگ کی جانب سے اُمیدواروں کے اعلان میں تاخیر کی وجہ سے ’نواز لیگ‘ انتخابات سے قبل ہی بنیادی مقابلہ سے آؤٹ دکھائی دے رہی ہے۔ عجب ہے کہ جب سبھی سیاسی جماعتیں عام انتخابات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اپنے اپنے اُمیدواروں کو اعلان کر بیٹھی ہیں تو ’نواز لیگ‘ کا کئی ایک حلقوں پر تاحال مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ خیبرپختونخوا کی 39 میں سے 25 اُور صوبائی اسمبلی کی 99 میں سے 53 نشستوں پر نواز لیگ کے نامزد اُمیدوار سامنے آ چکے ہیں لیکن صاف دکھائی دے رہا ہے کہ اِس مرتبہ دوہزارتیرہ کے عام انتخابات کے چمپئین ’تحریک انصاف‘ کا سخت مقابلہ صرف اور صرف ’عوامی نیشنل پارٹی‘ سے ہوگا جس کی قیادت حزب اختلاف کی جماعتوں سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ اپوزیشن کا ووٹ تقسیم نہ ہو اور ساتھ ہی تحریک انصاف کے ایسے ناراض کارکنوں کی پشت پناہی (حوصلہ افزائی) بھی جاری ہے جو تحریک کے ووٹ بینک کو تقسیم کر سکتے ہیں! 

خیبرپختونخوا کا انتخابی منظرنامہ یہ ہے کہ (متوقع) عام انتخابات میں تحریک انصاف کو کم و بیش ہر حلقے میں کسی بھی دوسری جماعت سے زیادہ خود اپنی ہی جماعت کے انتخابی اُمیدواروں سے زیادہ نقصان پہنچے گا‘ جس کے واضح امکان کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

دیگر انتخابی حلقوں کی طرح ’این اے 21‘ پر انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ تحریک اِنصاف اُور عوامی نیشنل پارٹی کے ایک دوسرے پر ’تابڑ توڑ‘ حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے‘ جس میں نہ صرف سیاسی و نظریاتی اختلاف رائے بیان کیا جاتا ہے بلکہ اُمیدوار ایک دوسرے کی ذات‘ خاندان‘ سیاسی ماضی‘ کردار اُور کمزوریوں کو کہیں مزاحیہ تو کہیں سنجیدہ پیرائے میں بیان کرتے ہیں۔ دوہزارتیرہ کے مقابلے ’عوامی نیشنل پارٹی‘ کے رہنما اِس مرتبہ انتخابی حلقوں میں آزادانہ گھومتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں اُور اِس کے لئے اِنہیں ’تحریک انصاف‘ کا شکریہ اَدا کرنا چاہئے‘ جنہوں نے پانچ سال کے اقتدار میں کم سے کم ’امن و امان‘ کی صورتحال کو اِس درجے تو بہتر کر دیا ہے کہ اب رابطہ عوام مہمات کرنے والوں کو خوف نہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ تحریک اِنصاف کے دور حکومت میں خیبرپختونخوا پولیس میں سب سے کم سیاسی مداخلت ہوئی تو غلط نہیں ہوگا لیکن اگر آپ کے ذہن میں یہ سوال اُٹھے کہ وہ کونسا دور تھا‘ جب خیبرپختونخوا پولیس میں سب سے زیادہ مداخلت ہوتی تھی تو جواب ’عوامی نیشنل پارٹی‘ ہو گا‘ جس کے ساتھ شریک ’پیپلزپارٹی‘ نے اپنے سمیت اِس جاندار قوم پرست جماعت کا بھی خانہ خراب کیا لیکن چونکہ سرمایہ دار‘ جاگیردار اور بڑے زمیندار عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی قیادت کو اپنے ہاتھوں میں لے چکے ہیں‘ اِس لئے اُن کا ’’حسب حال جواب‘‘ قدرے مختلف اَنداز سے دینے والی تحریک انصاف نے بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے اور یہی وجہ ہے کہ تاریخ کی سب سے مہنگی انتخابی مہم جاری ہے‘ جس میں قیمتی گاڑیوں اور سرمائے کا استعمال ’الیکشن کے قواعد و ضوابط‘ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے لیکن تعجب کیوں‘ قانون تو اندھا ہوتا ہے!؟ 

عوامی نیشنل پارٹی کے لئے تحریک انصاف سے زیادہ اپنی حمایت والے علاقوں بشمول ضلع مردان میں انتخابی پوزیشن ناقابل تسخیر بنانا اِس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ آنے والے دنوں میں ’کالا باغ ڈیم کی تعمیر‘ جیسا معاملہ اُٹھے گا‘ جس پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کے ساتھ سختی کا معاملہ کرنے کا فیصلہ بھی ہو سکتا ہے۔ ’اے این پی‘ کسی بھی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں اور نہ ہی اپنے مؤقف پر لچک دکھاتے ہوئے دستبردار ہونا چاہتی ہے۔ اگر تھوڑے لکھے کو بہت سمجھا جائے تو ’’کالا باغ ڈیم منصوبے کو بنانے کی حمایت کرنے والی طاقتیں بھی آئندہ عام انتخابات پر اثرانداز ہونے کی ’’پوری تیاری‘‘ کئے بیٹھی ہیں‘ جن کی نظریں اور دلچسپی ’این اے 21‘ میں بالخصوص دیکھی جا سکتی ہیں۔ 

عوام کا حافظہ چونکہ کمزور ہوتا ہے‘ اِس لئے اُنہیں دوہزارتیرہ سے قبل ’عوامی نیشنل پارٹی‘ کی کارکردگی یاد نہیں۔ ضلع مردان میں ہوئے ترقیاتی کام کہیں ضرورت سے بہت زیادہ اور کہیں بہت ہی کم دکھائی دیتے ہیں‘ جس کی بنیادی وجہ ترقیاتی و سیاسی ترجیحات کا واضح نہ ہونا ہے۔ یہی غلطی تحریک انصاف سے بھی سرزد ہوئی‘ جب اُنہوں نے اِنتخابی حلقوں کی سیاست کو کمزور بنیادوں پر آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ ’این اے 21‘ پر دو انتخابی اُمیدوار نہیں بلکہ دو سیاسی جماعتیں مدمقابل ہیں اور دونوں ہی خالی ہاتھ ’میلہ لوٹنا چاہتی ہیں۔‘ 

Saturday, March 10, 2018

Mar 2018: Unity for Peshawar

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
اِتحاد برائے پشاور!
’الیکشن کمیشن آف پاکستان‘ کی جانب سے ’’نئی (مجوزہ) حلقہ بندیوں‘‘ سے خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کی نسبت پشاور سب سے کم متاثر ہوا ہے اور سوائے ’نمبروں‘ اور آبادی کی بنیاد پر چند سرکلز میں توڑ جوڑ کے سوأ زیادہ کچھ تبدیل نہیں ہوا۔ اصل ضرورت کسی ایسے ’’کثیرالمقاصد (سیاسی انتخابی اُور سماجی) اِتحاد‘‘ کی ہے جو نسلی اور لسانی بنیادوں پر پشاور کو مزید تقسیم (ٹکڑے) ہونے سے بچائے اور پشاور کے مسائل کو مخاطب کرے۔ ازحد ضروری ہے کہ اِسی اتحاد کی برکت سے پشاور کو وہ قیادت بھی میسر آ سکے جو اِس کی ’حقیقی ترجمان‘ قرار پائے کیونکہ اب تک کے سیاسی و انتخابی تجربات سے یہی ثابت ہوا ہے کہ ہر سیاسی جماعت نے دوسرے سے بڑھ کر ’پشاور کا فائدہ‘ اٹھایا اُور چلتے بنے۔

آئندہ عام انتخابات (دوہزاراٹھارہ) کی تیاریاں جاری ہیں اور اِسی ماحول میں جاری ’گرما گرم‘ بحث کا ایک عنوان ’’جاگ پشاوری جاگ‘‘ بھی ہے۔ اِس نعرے سے بظاہر تعصب اُور امتیاز کی بُو آتی ہے لیکن ’ہندکو زبان‘ بولنے والوں کا یہ نکتۂ نظر اپنی جگہ غورطلب ہے کہ جب پشاور کے وسائل کے بروئے کار لاتے ہوئے (مختلف لہجوں میں) پشتو بولنے والے اپنی زبان پر فخر کر سکتے ہیں اور پشتو زبان و ثقافت ایک طبقے کو متحد رکھ سکتی ہے تو ’ہندکووان‘ ایسا کیوں نہیں کرتے اور اپنی زبان ’ہندکو‘ پر کماحقہ فخر کیوں نہیں کیا جاتا؟ پشاور کے شہری علاقوں پر مشتمل (ماضی کے اَین اَے ون) سے اِنتخابی اُمیدوار‘ پی ایچ ڈی اسکالر‘ سقاف یاسر (ایڈوکیٹ) سال 1990ء سے سکائینز (skyians) نام کی غیرسرکاری تنظیم (این جی اُو) کے سربراہ (چیف ایگزیکٹو آفیسر) ہیں اُور چاہتے ہیں کہ ہندکو زبان بولنے والے آئندہ عام انتخاب میں اپنی زبان و ثقافت سے تعلق رکھنے والے انتخابی اُمیدواروں کو ترجیحاً ووٹ دیں۔ ’ہندکو زبان‘ سے جڑے محض طنزومزاح کے تاثر و تصور کو زائل کرنے سے متعلق شعور اجاگر کرنا بھی اُن کی انتخابی حکمت عملی کا حصہ ہے اور وہ ’’پشاور کو اُس کی کھوئی ہوئی سیاسی‘ سماجی اور ثقافتی شناخت واپس دلانے کے لئے پراُمید ہیں۔‘‘ انٹرنیٹ کے ذریعے ’سماجی رابطہ کاری‘ کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے سقاف یاسر کا پیغام ہے کہ ’’قومی سیاست کرنے والی مذہبی اور دیگر جماعتوں نے انفرادی یا اجتماعی طور پر ہمیشہ ’پشاور‘ کو دھوکہ دیا اور بار ہا یہاں سے منتخب ہونے کے باوجود بھی ’پشاور کے حقوق‘ کماحقہ اَدا نہیں کئے۔ وقت ہے کہ پشاور کے نوجوانوں کو قیادت کرنے کا موقع دیا جائے‘ جن کی ترجیحات‘ فکرونظر اور بول چال میں ’صرف اُور صرف پشاور‘ کا عکس دکھائی دے۔ جو اپنی زبان و ثقافت پر فخر کریں۔ سماجی سطح پر اتحاد کے لئے کوششیں کی جائیں۔ تیزی سے پھیلتے پشاور کے وسائل پر آبادی کے بوجھ اور پائیدار ترقی کی راہیں متعین کی جائیں۔ پشاور کے ماحولیاتی تنوع اور تحفظ کی اِہمیت اُجاگر کرنے کے ساتھ شہری زندگی کا حسن اور صحت و تعلیم‘ پینے کے صاف پانی کی فراہمی جیسی درکار بنیادی سہولیات جیسے موضوعات ہرسطح پر زیربحث لائے جائیں۔‘‘ شعور کی کسی بلند منزل پر ’جاگتے پشاور‘ کا خواب دیکھنے والوں کی ’انتخابی کامیابی‘ بصورت تحریک ممکن ہے لیکن اندیشہ ہے کہ سب سے زیادہ رکاوٹیں (مزاحمت) ’ہندکووان‘ ہی حائل کریں گے۔

بہت پرانی بات نہیں جب ۔۔۔ پشاور ’’پھولوں کا شہر‘‘ کہلاتا تھا کیا اب بھی ایسا ہی ہے؟ پشاور کے باغات وقف عام اُور پررونق ہوا کرتے تھے کیا باغات کو واگزار اور مفاد عامہ میں بحال ہونا چاہئے؟ پشاور میں صحت مند تفریح کے مواقعوں کی فراہمی کس کی ذمہ داری ہے؟ المیہ ہے کہ پشاور کی ’92 یونین کونسلوں‘ میں سے کوئی ایک بھی ایسی نہیں جہاں کے رہنے والوں کو بنیادی سہولیات‘ معیاری صحت و تعلیم اور پینے کا صاف پانی میسر ہو لیکن سارا زور (اصرار و نوحہ) اگر کسی بات پر ہے کہ تو وہ مجوزہ (نئی) حلقہ بندیوں پر ہے جس میں پشاور سے ’’این اَے ون ہونے کا اِعزاز چھن گیا ہے!‘‘

لغت میں ’سیاستدان‘ کی اِصطلاح اُس کردار کا صفاتی تعارف ہے‘ جو معاشرے میں اِختلافات پیدا ہی نہ ہونے دے یا اُن کے خاتمے کے لئے کوششیں کرے لیکن ہمارے ہاں سیاستدان اُس ’باکمال و باہنر شخصیت‘ کو کہا جاتا ہے جو اِختلافات کو ’ہمیشہ زندہ و تازہ دم‘ رکھنے کی مہارت رکھتا ہو۔ جس کے ہاں نت نئے شکوک و شبہات پیدا کرنے کی اہلیت پائی جائے۔ اگر ’الیکشن کمیشن‘ نے تنازعات سے بچنے کے لئے عالمی اَصولوں کے مطابق ’’جنوب سے شمال کی طرف اِنتخابی حلقہ بندیاں‘‘ کی ہیں‘ تو اِس کی تعریف ہونی چاہئے تھی۔ سیاست کو اجتماعیت کے اصولوں پر استوار (تابع فرمان) بنانے کے لئے ہمیں کسی نہ کسی ایسے مسلمہ اصول کو بطور کسوٹی (پیمانہ) بہرحال تسلیم کرنا پڑے گا جو اپنی فطرت میں اختلافی نہ ہو۔ یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ ’شمال سے جنوب‘ کی طرف انتخابی حلقہ بندیوں میں پشاور سے کیا چھن گیا ہے بلکہ یہ دیکھنا چاہئے کہ پشاور سمیت خیبرپختونخوا کو کیا کچھ مل گیا ہے۔کیا مثبت سوچ اُور اجتماعی بہبود کی عینک لگا کر اصلاح و تبدیلی نہیں لائی جا سکتی؟

بنیادی سوال ہے کہ جب پشاور کی شناخت ’این اے ون (انتخابی حلقہ)‘ ہوا کرتا تھا تو اِس سے کیا حاصل ہوا اُور اگر یہ عدد (نمبر) تبدیل ہو جاتا ہے تو اِس سے مستقبل میں پشاور اُور اہل پشاور کی شناخت‘ بالخصوص شہری زندگی کو درپیش مشکلات و خطرات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ 

عام آدمی (ہم عوام) کے نکتۂ نظر سے کسی ایک بھی ’اِنتخابی حلقے‘ کے نمبر کی تبدیلی سے زیادہ اُس کی حدود کا تعین زیربحث آنا چاہئے‘ جیسا کہ آخری عام انتخابات (گیارہ مئی دوہزار تیرہ) میں ’این اے ون‘ پر رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد۔۔۔ 3 لاکھ 20 ہزار 581 تھی جبکہ نئی حلقہ بندیوں کے تحت پشاور سے قومی اسمبلی کا ایک حلقہ چھ سے آٹھ افراد پر مشتمل آبادی کا احاطہ کرے گا اُور جہاں ماضی میں تین لاکھ سے زائد آبادی کی نمائندگی کرنے والے کے لئے ممکن نہیں ہوتا تھا کہ وہ ’اہل پشاور‘ کے واجب الادأ حقوق کی کماحقہ ادائیگی کرسکے تو اب ’’چھ سے آٹھ لاکھ افراد‘‘ کی ضروریات اُور مسئلے مسائل کے بارے میں کسی فرد واحد سے تن تنہا غوروخوض کیسے ممکن ہو پائے گا؟ 

یقیناًپشاور (زبان و ثقافت‘ سیاسی‘ سماجی اُور اَفرادی ترقی)کے بارے میں سوچنے‘ سمجھنے اُور بیان سے ’لبالب اِتحاد‘ کی ضرورت پہلے سے زیادہ شدت سے محسوس کی جا رہی ہے! 

’’اِتحاد عمل سے ہوں سب کام ۔۔۔ 
کوئی دانا رہے نہ بندۂ دام (اَحمق پھپھوندوی)۔‘‘
۔
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2018-03-10

Friday, March 9, 2018

Mar 2018: Delimitation: What's in the number?

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
این اے ون : اعزاز کی حقیقت !
تاثر عام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ’’مردم و خانہ شماری 2017ء‘‘ سے حاصل کردہ نتائج کی روشنی میں ’الیکشن کمیشن آف پاکستان‘ نے جو ’قومی و صوبائی اسمبلیوں‘ کی مجوزہ (نئی) حلقہ بندیوں پیش کی ہیں اُس ابتدائی خاکہ سے ’پشاور کو حاصل یہ منفرد اعزاز‘ چھن گیا ہے کہ یہاں سے کبھی قومی اسمبلی کے انتخابی حلقوں کا آغاز ہوا کرتا تھا یعنی پشاور کے شہری علاقوں پر مشتمل ’این اے ون: پشاور ون‘ کا ذکر ہمیشہ سرفہرست رہتا لیکن اب ایسا نہیں ہوگا کیونکہ پشاور کو دیئے جانے والے قومی اسمبلی کے حلقے ’27 سے 31‘ نمبروں پر مشتمل ہیں اور اگرچہ نئے قومی و صوبائی حلقوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا ہے لیکن نوشہرہ سے پشاور (مشرق سے مغرب) کی طرف شمار کے موجودہ طریقۂ کار سے پشاور کا احساس محرومی بڑھا ہے۔ 

تنقید برائے تنقید کرنے والے حلقہ بندیوں کے عمل کو ’جنوبی سمت‘ سے شروع کرنے کی بجائے اِسے وسطی علاقوں (پشاور) سے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ خیبرپختونخوا کی نئی (مجوزہ) انتخابی حلقہ بندیاں شمال (چترال) سے جنوب (ڈیرہ اسماعیل خان) کی جانب سفر کرتی ہیں۔ یوں ’این اے ون‘ چترال جبکہ خیبرپختونخوا سے قومی اسمبلی کا آخری انتخابی حلقہ ’’این اے 39 (ڈیرہ اسماعیل خان ٹو)‘‘ کہلائے گا۔ 

تعجب خیز امر ہے کہ سیاست میں پھونک پھونک کر قدم رکھنے والی ’پاکستان تحریک انصاف‘ کی سربراہی میں خیبرپختونخوا حکومت کا حصہ کئی سرکردہ رہنما اور قوم پرست سیاست کرنے والی حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں بھی جذبات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’این اے ون کا اعزاز‘ چھن جانے پر اظہار افسوس اور مذمت کر رہی ہیں اُور انہوں نے ’الیکشن کمیشن‘ سے رجوع کرنے کا اعلان بھی کیا ہے‘ جہاں پہلے ہی ’اعتراضات وصول کرنے کے لئے‘ پانچ مارچ سے پانچ اپریل تک (ایک ماہ) کی مدت مقرر کی گئی ہے۔ عوام کی رہنمائی کرنے کی بجائے اُنہیں جذبات کے حوالے کرنے والی سیاسی جماعتوں کی ’ذہنی حالت‘ کا اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں اور نہ ہی سیاسی جماعتوں میں سوچ بچار کے عمل اور سیاسی پختگی کے معیار سے متعلق رائے قائم کرنا دشوار رہا ہے!

پشاور جنوب مشرقی ایشیاء کا قدیم ترین اور زندہ تاریخی شہر ہے۔ اِس شہر کی ہم عصر تہذیبیں کھنڈر بن چکی ہیں لیکن پشاور میں آج بھی زندگی رواں دواں ہے اور چاہے اِسے ’این اے ون‘ کہا جائے یا کسی بھی انتخابی حلقے کے نمبر سے شناخت کیا جائے‘ پشاور تو اُس پھول کی پشاور ہی رہے گا‘ جس کے بارے میں برطانوی شاعر ولیم شیکسپیئر نے کہا تھا کہ ’’گلاب کا پھول تو گلاب کا پھول ہی رہتا ہے چاہے اُسے کسی بھی دوسرے نام سے مخاطب کیا جانے لگے۔‘‘ 

این اے ون کے شمار میں تبدیلی سے اِس حلقے کی نہ تو تاریخی اہمیت و افادیت کم ہو گی اور نہ ہی پشاور کے سیاسی قدکاٹھ میں کوئی ’منفی تبدیلی‘ آئے گی۔ یاد رہے کہ مجوزہ (نئی) انتخابی بندیاں اگر من و عن یا 10فیصد تبدیلی کی گنجائش کے بعد لاگو ہو جاتی ہیں تو مجموعی طور پر پشاور سے’’قومی اسمبلی کی پانچ‘‘ اور ’’خیبرپختونخوا (صوبائی) اسمبلی کی چودہ‘‘ نشستیں (پی کے 66 سے پی کے 79) تخلیق ہوں گی اور اِن میں ’این اے ون‘ سمیت اندرون پشاور کے علاقوں کی نئی انتخابی حدود مقرر ہو جائیں گی‘ جس کی تین ’ترجیحات‘ عالمی معیار کے مطابق مقرر کی گئیں ہیں‘ جو قانون گو حلقہ‘ پٹوار خانہ اُور آبادی (مردم شماری سرکلز) پر مبنی ہیں۔ اگر ’این اے ون‘ کے انتخابی حلقے کی کوئی خاص (جادوئی یا کرشماتی) اہمیت (خاصیت) ہوتی اور ’ون (ایک)‘ کا عدد پشاور کے لئے یا یہاں سے ماضی میں منتخب ہونے والے کے لئے ’خوش بختی‘ کی علامت ہوتا۔ 

مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں ’پاکستان تحریک انصاف‘ کے سربراہ عمران خان (این اے ون) پشاور سے ’’90 ہزار 434 ووٹ‘‘ جیسے غیرمعمولی ووٹ حاصل کئے لیکن انہوں نے پشاور سے ملنے والی محبت کی قدر نہیں کی اور دستبردار ہونے کے بعد ’بصد احترام ’این اے ون‘ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کو دے دی۔ تحریک انصاف کی قیادت ’این اے ون‘ کے ’’مبینہ اعزاز‘‘ کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے لیکن اگر وہ اپنی توانائیاں اور وسائل ’تحریک کے داخلی اختلافات‘ ختم کرنے پر خرچ کرے تو اِس سے مستقبل میں ’این اے ون‘ پر شکست جیسی شرمندگی نہیں دیکھنا پڑے گی۔ 

حقیقت یہ ہے کہ صوبائی حکومت کی آئینی مدت (پانچ سال) اختتام کے قریب ہے اور اِس تمام عرصے میں ضلع پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے کسی ایک بھی ضلع میں ’تحریک انصاف‘ کا تنظیمی ڈھانچہ مثالی صورت میں دکھائی نہیں دیتا۔ پارٹی سے دیرینہ‘ مخلص اور نظریاتی (سفیدپوش) کارکنوں نے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے اور انتخابی سیاست میں سرمایہ کاری والے (منظم جرائم پیشہ عناصر کی طرح) ہر انتخابی حلقے میں اپنے اپنے گروہوں کی سرپرستی کر رہے ہیں! یادش بخیر ایک وقت وہ بھی ہوتا تھا جب پشاور میں صرف چند لوگوں کے پاس موٹرگاڑی ہوتی تھیں لیکن قیام پاکستان کے بعد جس تیزی سے سرمایہ داروں میں اضافہ ہوا‘ اور جس طرح اُوقاف کی اراضی‘ قومی وسائل کی لوٹ مار اور آمروں کا ساتھ دینے والے ٹیکس چور‘ راتوں رات سرمایہ دار بنتے چلے گئے تو اُس کے بعد موٹرگاڑی کی ملکیت کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ تب چھوٹے نمبروں کی رجسٹریشن کا رواج چل نکلا اُور معاشرے کے سیاسی بااثر و سرمایہ داروں کی پہچان ابتدائی نمبروں (سنگل ڈیجیٹ) کی گاڑیاں ہونے لگیں۔ گاڑیوں کی کمپیوٹرائزڈ رجسٹریشن متعارف ہونے کے بعد یہ رجحان بھی رفتہ رفتہ کم ہوتا چلا گیا جس کی جگہ موبائل فونز کے ’گولڈن نمبروں‘ نے لے رکھی ہے۔ بہرحال وقت بدل گیا لیکن ممتاز دکھائی دینے کے لئے ’روائتی انداز (پرانی) سوچ‘ نہیں بدلی اور یہی وجہ ہے کہ ’این اے ون‘ جیسے ’خیر محض نمبر‘ کو پشاور کے لئے ’اعزاز‘ قرار دیا جا رہا ہے‘ جنہیں اِس بات پر زور دینا چاہئے کہ ’’نمبر‘‘ کوئی بھی ہو اِس سے کیا فرق پڑتا ہے بلکہ اصل چیز تو پشاور کے مسائل کی طرف توجہ ہونی چاہئے۔
۔
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2018-03-09

Thursday, November 16, 2017

Nov 2017: The count of negative impacts on (Free & Fair) Elections!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
عام اِنتخابات: قومی ذمہ داری!
پاکستانی سیاست کا یہ پہلو فہم سے بالاتر ہے کہ قومی امور پر ’اتفاق رائے‘ نہ ہونے کے باوجود بھی مختلف النظریات سیاسی جماعتیں ’’اچانک‘‘ ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے متحد ہو سکتی ہیں۔ اراکین اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا معاملہ ہو یا صداقت و امانت کے اصولوں پر پورا نہ اُترنے والوں کو سیاسی جماعتوں کی سربراہی کے لئے اہل قرار دینے سے لیکر ختم نبوت کے حلف نامے میں تبدیلی جیسا انتہائی سنگین‘ متنازعہ و حساس معاملہ‘ آئین سازی اور آئینی ترامیم کرتے ہوئے ’غیرمعمولی جلدبازی‘ سے کام لیا جاتا ہے جس میں قوم کے جذبات و احساسات اور رائے عامہ جاننے کی کوشش نہیں کی جاتی اور نہ ہی ذرائع ابلاغ کے ذریعے اُبھرنے والے کسی عمومی تاثر کو خاطر میں لایا جاتا ہے۔ 

عام آدمی (ہم عوام) کو ہر گھڑی ’’سرپرائز‘‘ دینے والے قانون سازوں کے کھانے اُور دکھانے کے ’دانت الگ الگ‘ ہیں اُور یہی وجہ ہے کہ ہر دن سیاست ’ناممکنات‘ میں ’اِمکانات‘ اُور اختلافات کی تہہ میں ’اتفاق‘ کے پہلو تلاش کر رہی ہے۔ 

آئندہ برس (دوہزار اٹھارہ) کے پہلے چھ ماہ موجودہ قانون ساز اسمبلیاں اپنی وہ آئینی مدت پورا کریں گی جس کے اختتام یا قبل از وقت عام انتخابات کے چرچے عام ہیں‘ اِس سلسلے میں کس حد تک تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں؟‘ اِس بارے میں جب قانونی موشگافیوں سے آگاہ‘ روزنامہ ڈان کے رپورٹر وسیم اَحمد خان نے بنیادی سوال ’الیکشن کمیشن آف پاکستان‘ کے ترجمان ’ہارون خان شینواری‘ سے پوچھا تو اِس کا جواب قومی مفاد میں طویل ہوسکتا تھا‘ جس میں قانون ساز ایوانوں کی کارکردگی پر تنقید سامنے آتی لیکن احتیاط سے کام لیتے ہوئے ترجمان نے بات سمیٹتے ہوئے کہا کہ ’’الیکشن کمیشن ایک قومی ادارہ ہے‘ جو اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔‘‘ پندرہ نومبر کو ’پرل کانٹیننٹل ہوٹل پشاور کے ’زیور ہال (Zaver Hall)‘ میں ایک روزہ ’میڈیا ورکشاپ‘ کا انعقاد خوش آئند تھا‘ جس میں عام انتخابات کے حوالے سے نئے قانون اور انتخابی تیاریوں (حکمت عملی) کے بارے میں تکنیکی امور سے متعلق پانچ مقررین (ایڈیشنل سیکرٹری ظفراقبال حسین‘ ڈائریکٹر جنرل الیکشنز محمد یوسف خٹک‘ ڈائریکٹر آئی ٹی بابر ملک‘ ڈائریکٹر ’آئی ایم ایس‘ حیدر علی اُور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل جینڈر محترمہ نگہت صادق) نے سیرحاصل معلومات کا ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے تبادلہ کیا تاہم اگر ڈیڑھ سو منٹ دورانیئے کی ایک ہی مسلسل نشست کو کم سے کم تین حصوں (سیشنز) میں تقسیم کرتے ہوئے ’’آئینی‘ تکنیکی و خصوصی امور‘‘ کے حوالے سے موضوعات کا الگ الگ احاطہ کیا جاتا تو یہ عمل (کوشش) زیادہ مفید ثابت ہو سکتی تھی۔ 

الیکشن کمیشن اِس قسم کی ’میڈیا ورکشاپوں‘ کا انعقاد چاروں صوبائی اور وفاقی دارالحکومت میں کر رہا ہے اور اِس سلسلے میں اب تک اسلام آباد و لاہور کے بعد تیسری ورکشاپ پشاور میں منعقد ہوئی جبکہ ’بائیس نومبر‘ کراچی اور ’چودہ دسمبر‘ کوئٹہ میں ’ذرائع ابلاغ‘ کے چنیدہ نمائندوں کو مدعو کیا جائے گا تو اِس تربیتی و معلوماتی کوشش (میڈیا ورکشاپ) کے لئے کتابی شکل میں ’مینول (manual)‘ ازبس ضروری (لازمی) تھا‘ جس میں متعلقہ شعبے کے ماہرین کی اپنی اپنی ’پریزینٹیشنز‘ سے متعلق (اُردو اور انگریزی زبانوں میں) مقالہ جات شامل ہوتے۔ اِسی طرح دو اکتوبر دوہزار سترہ سے رائج‘ الیکشن کے متعلقہ قانون (الیکشن ایکٹ 2017ء) کے 130 صفحات کے اُردو ترجمہ کا اہتمام بھی اگر کر دیا جاتا تو اِس سے قومی و علاقائی سطح پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی انتخابی قواعدوضوابط کے بارے سمجھ بوجھ میں زیادہ اضافہ ہوتا۔ بہرحال اِس تاخیر کا ازالہ ممکن ہے۔ کراچی اور کوئٹہ کی ’میڈیا ورکشاپوں‘ سے قبل یا بعدازاں اِن نشستوں سے متعلق جامع رپورٹ تیار کر کے انہیں ’ہارڈ یا سافٹ کاپیز‘ کی صورت ورکشاپ کے شرکاء میں تقسیم کیا جاسکتا ہے کیونکہ یکے بعد دیگرے الگ الگ موضوعات کا تیزی سے احاطہ اور سوال و جواب کو ظہرانے سے قبل جلدی جلدی سمیٹنے کی کوشش میں سب سے اہم حصے (تبادلۂ خیال اُور سوال و جواب) کو صرف ’تیس منٹ‘ تک محدود کرنے سے تشنگی کا احساس بہرحال برقرار رہا!

الیکشن کمیشن ’قانون سازی‘ کی حد تک تو ’بے بس (معذور)‘ ہے لیکن وہ اپنے طور (آئندہ) عام انتخابات کے آزادانہ اُور شفاف انعقاد کو ممکن بنانے کے لئے ایسی ’قواعد سازی‘ کرنے میں ’مکمل بااختیار‘ بنا دیا گیا ہے‘ جس سے انتخابی عمل زیادہ بامعنی (بامقصد) نتائج کا حامل ہو۔ 

نئے قانون (الیکشن ایکٹ دوہزار سترہ) کے تحت انتخابی فہرستوں میں ووٹرز بالخصوص خواتین کی تصاویر شامل کرنے اُور اِن کی محدود اشاعت کی بجائے ہر سیاسی جماعت‘ انتخابی اُمیدوار یا طلب کرنے والے کو فراہم کرنے کے یقیناًمنفی نتائج برآمد ہوں گے کیونکہ بات صرف قبائلی علاقہ جات‘ خیبرپختونخوا اُور بلوچستان کی حد تک محدود نہیں جہاں پہلے ہی مستورات کو گھروں تک محدود رکھا جاتا ہے اور جہاں کی اکثریت سماجی و ثقافتی یا قبائلی و خاندانی دباؤ کے تحت حق رائے دہی سے محروم ہے تو جب باپردہ خواتین کی ’’بے حجاب تصاویر‘‘ ووٹر لسٹوں میں گردش کریں گی تو عین ممکن ہے کہ ’روشن خیال و تعلیم یافتہ‘ سمجھے جانے والے معاشروں میں بھی اِس بات کو معیوب سمجھتے ہوئے بہت سے خاندان اپنے ناموں کو انتخابی فہرستوں سے منہا (delete) کروا دیں۔ عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی قومی شرح اگر اوسطاً چالیس فیصد سے کم ہے تو اِس میں اضافے کی بجائے غیرمعمولی کمی سے انتخابی عمل کی معنویت و مقصدیت پر حرف آئے گا اُور اِس سلسلے میں ’الیکشن کمیشن‘ کو برسرزمین حقائق ’سیاسی فیصلہ سازوں‘ کے سامنے نہ صرف پیش (گوش گزار) کرنے چاہیءں بلکہ سیاسی مخالفت برائے مخالفت کے تناؤ بھرے ماحول میں مختلف وسائل بالخصوص ذرائع ابلاغ کو بروئے کار لاتے ہوئے قانون سازوں کو اِس بات پر قائل کرنا چاہئے کہ وہ خواتین کی ووٹر فہرستوں میں تصاویر کی اشاعت اور ان کی فراہمی (عام تشہیر) کے اپنے مؤقف سے رجوع کرتے ہوئے کوئی درمیانی راستہ اختیار کریں۔ 

نئی قانون سازی کی رو سے جس کی کسی انتخابی حلقے میں خواتین کے ڈالے گئے ووٹوں کا شمار 10فیصد سے کم ہوگا‘ وہاں پولنگ کا عمل دوبارہ ہوگا لیکن کیا ’وی وی آئی پیز‘ قانون سازوں کے سامنے یہ زمینی حقائق بھی پیش کئے گئے کہ ملک کی ’ساٹھ فیصد‘ سے زائد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے جن کے لئے ’دو وقت کی روٹی‘ کا حصول ایک روزہ انتخابی عمل سے زیادہ بڑی ترجیح ہے اور جس معاشرے میں شرح خواندگی اِس لئے متاثر ہو رہی ہو کہ وہاں تعلیمی اداروں کا فاصلہ آبادی کے مراکز سے دور ہے تو وہاں کس طرح اُمید کی جا سکتی ہے کہ عام لوگ (ہم عوام) جوق در جوق‘ گھنٹوں پیدل سفر کے بعد (دور دراز) پولنگ اسٹیشنوں تک ہمراہ خواتین پہنچیں گے!؟ 

قانون کے تحت انتخابی اُمیدواروں کے لئے ٹرانسپورٹ کی فراہمی پر پابندی عائد ہے‘ انتخابی مہم پر زیادہ سے زیادہ اخراجات کی حد بھی مقرر کر دی گئی ہے اور جو خواتین اپنا چہرہ عیاں نہیں کرنا چاہتیں اُن کی تصاویر بھی مشتہر کر دی گئیں ہیں تو کیا اِس کا منفی ردعمل سامنے نہیں آئے گا؟ یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے (حصہ لینے والوں) کی کم ہوتی شرح (پولنگ) فیصلہ سازوں کے لئے پریشانی کا باعث ہی نہیں۔ ووٹ بذریعہ پرچی ہو یا بائیومیٹرک تصدیق کے بعد الیکٹرانک وسائل سے‘ بہرصورت ہر ووٹر کو انتخابی عمل میں شامل کرنا اوّلین ترجیح ہونی چاہئے اور معروضی حالات‘ سماج و روایات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ’انتخابی قوانین و قواعد‘ کے بارے میں قومی سطح پر اتفاق رائے پیدا کرنا بھی الیکشن کمیشن ہی کی ذمہ داری بنتی ہے۔ الیکشن کمیشن حکام خود کو ’بے بس‘ سمجھنے کی بجائے‘ قومی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے جرأت مندی سے‘ ڈٹ کر اور ’باآواز بلند‘ اُن قانونی و آئینی غلطیوں (سقم) کی نشاندہی کریں‘ جن کی وجہ سے آئندہ عام انتخابات پر منفی اثرات مرتب ہونے کے واضح آثار ہیں۔
۔

Sunday, November 12, 2017

TRANSLATION: Drawing board by Dr. Farrukh Saleem

Drawing board
سفر ہے شرط!
پاکستان کو آج جن گوناگوں مسائل کا سامنا ہے‘ اُن کا خلاصہ تین وجوہات کی صورت کرنا پڑے تو ’’سیاسی کلچر‘ طرزحکمرانی اور ادارہ جاتی بدعنوانی‘‘ ذمہ دار قرار پائیں گے۔ ہمارا سیاسی کلچر موروثی اور شاہانہ ہے اور جہاں کہیں بھی اِس قسم کا سیاسی ماڈل ہوتا ہے وہاں پانچ نمایاں چیزیں ہوتی ہیں۔ انتہاء کی غربت‘ صحت و تعلیم میں کم سرمایہ کاری‘ پانی بجلی اور انصاف کی عدم فراہمی‘ سیاسی جماعتیں جن میں داخلی سطح پر جمہوریت نہیں ہوتی اور سیاست سے جڑے موروثی شاہانہ سیاستدان جو انتہاء کے مالی فوائد حاصل کرنا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔

پاکستان میں ایسی سیاست کی داغ بیل ڈالنے کی ضرورت ہے‘ جس میں بہترین اور موزوں افراد سیاسی عمل میں حصہ لیں۔ جو کچھ سردست ہمارے پاس ہے وہ سیاست دانوں سے ہرحال میں وفاداری کا اظہار کرنے والے گروہ ہیں جو اہلیت (میرٹ) کی بجائے شاہانہ مزاج رکھنے والی موروثی سیاست سے مستفید ہو رہے ہیں۔ ہمیں سیاست میں ’سوچ بچار کرنے والے ایسے اہل افراد‘ کی ضرورت ہے جو ملک و قوم کی ترقی کے تصورات کو عملی جامہ پہنا سکیں۔ فلپائن کی قانون ساز اسمبلی میں ایک مسودہ قانون (نمبر 3587) زیربحث ہے‘ تاکہ ملک سے موروثی سیاست کا خاتمہ کیا جا سکے۔ اِس سلسلے میں ’الیکشن کمیشن آف پاکستان‘ کے پاس قواعد و ضوابط کی صورت اختیارات ہیں جن کا استعمال کرتے ہوئے وہ ملک میں سیاسی کلچر تبدیل کرنے میں ’حسب ضرورت‘ کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔

پاکستان میں طرزحکمرانی بھی اصلاح چاہتا ہے۔ گذشتہ 47برس میں ہمارے ہاں 10مرتبہ عام انتخابات کا انعقاد ہو چکا ہے۔ حالیہ مردم شماری (2017ء) کے عبوری نتائج کے مطابق پاکستان میں تین کروڑ (30.2 ملین) خاندان ہیں جن میں سے صرف ایک ہزار ایک سو چوہتر (1,174) ایسے خاندان بھی شامل ہیں جن سے تعلق رکھنے والے افراد ہر عام انتخاب میں منتخب ہوتے آ رہے ہیں اور یہ اِن ’سیاست پر مسلط‘ اِن گیارسو چوہتر خاندانوں کی پاکستان کے قانون ساز ایوانوں قومی اسمبلی صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ پر حکمرانی ہے۔
یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ گذشتہ 47 برس میں منتخب ہونے والے ہمارے سیاست دان اقتصادی ماہر ثابت نہیں ہوئے اور اُن کے غلط فیصلوں کی وجہ سے پاکستان کی اقتصادی مشکلات کم ہونے کی بجائے ہر گزرتے دن بڑھتی ہی چلی گئیں۔ یاد رہے کہ 47 برس میں منتخب ہونے والے ہمارے قانون ساز خاطرخواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پائے۔ ہمیں ایسے پیشہ وروں اور بالخصوص متعلقہ شعبے کے ایسے ماہرین کی ضرورت ہے جو نظام اور اداروں کی اصلاح کرسکیں۔ اگرچہ سینتالیس برس میں ہم نے دس مرتبہ عام انتخابات کا تجربہ کیا لیکن اِس عرصے میں احتساب اور جمہوری حکومتوں کی عوام کے سامنے جوابدہی ممکن نہیں بنا سکے۔ عام انتخابات کے پے درپے تجربات سے ہم نے جو کچھ حاصل کیا وہ ایک تہائی جمہوریت ہے جبکہ ہماری ضرورت سوفیصد جمہوریت کی ہے کہ جس سے کچھ بھی کم ہمارے لئے کافی نہیں ہوسکتا۔

پاکستان میں احتساب کے اداروں کی کمی نہیں اور پاکستان دنیا کے اُن چند ممالک میں شامل ہے جہاں انسداد بدعنوانی کا ادارہ جاتی ڈھانچہ موجود ہے۔ جن میں نیشنل اکاونٹی بیلٹی بیورو (نیب)‘ فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اُور صوبائی سطح پر بھی انسداد بدعنوانی کے ادارے بھی شامل ہیں جن میں خیبرپختونخوا احتساب کمیشن‘ وفاقی محتسب‘ فیڈرل ٹیکس محتسب‘ محتسب اعلیٰ پنجاب‘ بلوچستان اور سندھ‘ بینکنگ محتسب‘ وفاقی انشورنس محتسب‘ خواتین کے خلاف ہراساں کرنے کے واقعات کے سدباب اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کے لئے وفاقی محتسب کا ادارہ موجود ہے۔ جب ہم ادارہ جاتی احتساب کی بات کرتے ہیں تو یہ عمل قانون سازی‘ قانون پر عمل درآمد کرنے والے اداروں (فزیکل انفراسٹکچر) اور ایک ایسی قیادت کا مجموعہ ہوتا ہے جو احتساب کو یقینی بناتے ہیں لیکن ہمارے ہاں احتساب کا عمل قانون سازی اور اداروں کی حد تک تو دکھائی دیتا ہے لیکن اِس کے عملی و بلاامتیاز اطلاق کو ممکن بنانے کے لئے قائدانہ سرپرستی (قوت ارادی) موجود نہیں۔ 

مؤثر سیاسی قیادت سے مقصود اجتماعی مفادات کا تحفظ اور سیاسی قوت ارادی ہوتی ہے۔

علوم و فنون کے ترقی یافتہ دور میں کسی بھی ملک کو عروج کی راہ پر گامزن کرنا قطعی مشکل نہیں رہا۔ ضرورت اِس امر کی ہوتی ہے کہ کسی ملک میں جمہوریت ہر سطح پر فعال ہو۔ سیاسی جماعتوں کے داخلی معاملات بھی جمہوری انداز میں طے پائیں۔ قانون سازی کرنے والوں کی ذات میں اختیارات محدود نہ ہوں۔ اقتدار صرف اور صرف اختیارات حاصل کرنے کا نام نہ رہے۔ اقتدار کرنے والے قانون و احتساب سے بالاتر نہ ہوں۔ ادارے اپنے وجود کا ثبوت عملی فعالیت سے دیں۔ 

پاکستان کے تناظر میں کیا یہ سب کچھ ممکن نہیں؟

کسی ملک کے عروج کے لئے سیاسی قوت ارادی‘ متعلقہ شعبوں کے ماہرین‘ ایک لائحہ عمل اور اُس کے اطلاق کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر پاکستان کے تناظر میں کسی ایک چیز کی کمی دکھائی دیتی ہے تو وہ ’سیاسی قوت ارادی‘ ہے۔ کیا آپ اِس سیدھے سادے نتیجۂ خیال سے اِتفاق کرتے ہیں؟ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Monday, September 11, 2017

Sept 2017: Next General Elections delayed for obvious reasons!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
وقت کم: مقابلہ سخت!
دوہزار اَٹھارہ کے عام انتخابات کا ماحول بنتا ہوا دکھائی تو دے رہا ہے لیکن آئندہ عام انتخابات مقررہ وقت پر نہیں ہو سکتے جس کی کئی ایک وجوہات صاف دکھائی دے رہی ہیں۔ 

سب سے پہلے تو مردم شماری کے نتائج پر کم و بیش سبھی سیاسی جماعتوں کے کچھ نہ کچھ تحفظات سامنے آ چکے ہیں اور ایسی صورت میں ’خانہ و مردم شماری‘ کو کس طرح تمام سیاسی جماعتوں کے لئے قابل قبول بنانا ممکن نہیں ہے اور یہ عمل کس قدر جلد مکمل ہوتا ہے‘ اِس کی رفتار آئندہ عام انتخابات کے بروقت انعقاد پر انداز ہوگی۔ قابل ذکر ہے کہ سپرئم کورٹ آف پاکستان (عدالت عظمیٰ) کی جانب سے واضح احکامات ہیں کہ آئندہ عام انتخابات نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہونے چاہیءں یعنی آبادی کے تناسب سے نئی حلقہ بندیاں لیکن کیا ایسا ہو پائے گا جبکہ سیاسی جماعتیں اپنے اپنے تحفظات پر دلیل سے بات کرنے کو تیار ہی نہیں! دوسری بڑی رکاوٹ انتخابی اصلاحات کا قانون (بل) ہے جس پر سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے بڑھ کر اختلافی نکتۂ نظر رکھتی ہیں بلکہ پیپلزپارٹی کی تو کوشش ہے کہ وہ اِس قانون کی منظوری میں حصہ دار صرف اُسی صورت بنے جب کہ اُسے آئندہ سیاسی حکومت بنانے میں غیرمشروط تعاون کی یقین دہانی کرائی جائے اور مسلم لیگ نواز اِنہی انتخابی اصلاحات کے ذریعے صادق و امین پر مبنی آئین کی دو شقوں (تشریحات) باسٹھ و تریسٹھ میں تاحیات نااہلی کی شرط کا دورانیہ (سزا کی مدت) کم کرنے میں سب سے زیادہ دلچسپی رکھتی ہے تاکہ نوازشریف کو دوبارہ قانون ساز ایوان اور حکومت میں لایا جا سکے! 

عام اِنتخابات کو ہر سیاسی جماعت اپنے اپنے سیاسی مفادات کی عینک لگا کر دیکھ رہی ہیں اور تجربہ کار سیاسی جماعتیں رازداری سے درپردہ بھی ایسا بہت کچھ کر رہی ہیں‘ جن کی تفصیلات کے بارے میں عام آدمی (ہم عوام) کی معلومات یا تو بہت کم (سرسری ہیں) یا وہ اِسے ایک آئینی اور پیچیدہ تکنیکی مسئلہ سمجھ کر خود کو الگ رکھے ہوئے ہیں۔ چوبیس گھنٹے بول بول کر توانائی پانے والے نجی ذرائع ابلاغ بھی اگر کسی ایک موضوع پر سب سے کم روشنی ڈالتے ہیں تو وہ ہے ’انتخابی اصلاحات‘ جسے ’اندھیرے‘ میں رکھنے کے محرکات وہی ہیں‘ جو اَٹھارہویں آئینی ترمیم کی پیچھے چھپی ’’نیک نیتی‘‘ تھی اور جس میں ’الیکشن کمیشن‘ کے ادارے کو بھی نہیں بخشا گیا۔ مقام افسوس ہے کہ عام آدمی (ہم عوام) کو قانون ساز اداروں کی کارکردگی اور حقیقت کا اُس وقت پتہ چلتا ہے جب قوانین سے عملاً واسطہ پڑتا ہے۔ انتخابی عمل میں اصلاحات کا مطالبہ (تقاضا) ’تحریک انصاف‘ نے مئی دوہزارتیرہ کے عام انتخابات سے پہلے اور فوراً بعد عوام کی عدالت میں دائر کر رکھا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا موجودہ ’انتخابی اصلاحات کا قانون‘ تحریک انصاف کے اصولی مؤقف کا نتیجہ ہے تو غلط نہیں ہوگا لیکن اِس میں تحریک انصاف کی تمام تجاویز کو شامل کرکے ’سیاسی پوائنٹ سکورنگ‘ کی گئی ہے۔ قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد یہ مجوزہ مسودہ قانون (بل) اب ایوان بالا (سینیٹ) کے سامنے زیرغور ہے جہاں ایک پارلیمانی (ذیلی) کمیٹی برائے قانون و انصاف‘ اِس کا جائزہ لے رہی ہے اور اُمید ہے کہ مجوزہ اصلاحات میں موجود بہتری کی گنجائش کو ’ملک و قوم کا اجتماعی مفاد‘ مدنظر رکھتے ہوئے پورا کیا جائے گا لیکن ’وقت کی پابندی‘ اہم ہے کیونکہ ’الیکشن کمیشن‘ کی جانب سے پہلے ہی یہ عندیہ دے دیا گیا ہے کہ ’’اگر ایوان بالا (سینیٹ دن رات کام کرکے) انتخابی اصلاحات کی فوری منظوری نہیں دیتی تو مئی دوہزار تیرہ کے قواعد و ضوابط کے مطابق ہی آئندہ عام انتخابات کا انعقاد کرانے کے بغیر کوئی صورت نہیں رہے گی! انتخابی اصلاحات کا بل قومی اسمبلی سے سینیٹ تک تو جا پہنچا ہے لیکن اگر سینیٹ اِس کی کسی ایک بھی شق میں تبدیلی کرتی ہے اور اِسے من و عن منظور نہیں کرتی تو یہ قانون واپس ’قومی اسمبلی ایوان‘ میں منظوری کے لئے پیش ہوگا‘ جس کی بناء مطالعہ اور غوروخوض کوئی بھی سیاسی جماعت منظوری دینا پسند نہیں کرے گی اور ایسا ہونے میں مزید کتنا وقت لگے گا جبکہ وقت پہلے ہی کم اور مقابلہ سخت ہے!؟

اندرون ملک کی طرح بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سے انتخابی اصلاحات کی جامعیت میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ مجوزہ قانون پر تعلیمی اداروں سے لیکر علاقائی اور قومی ذرائع ابلاغ تک ہر سطح پر مباحثے (ڈائیلاگ)‘ دھاندلی کے امکانات ختم کرنے کے لئے بائیومیٹرک و انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال اور انتخابی عمل میں ماضی کی غلطیوں سے حاصل اسباق کو پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ آئندہ عام انتخابات وقت مقررہ پر نہیں ہوں گے‘ اِس کی دو بنیادی وجوہات میں شامل ہے کہ مردم شماری نتائج اور انتخابی اصلاحات پر تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان ’’بناء مزید تاخیر (وقت ضائع کئے بغیر)‘‘ اتفاق رائے پیدا ہو‘ جو موجودہ حالات میں نہایت ہی مشکل بلکہ ناممکن دکھائی دے رہا ہے اورپاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسی بہت ہی کم مثالیں ملتی ہیں جبکہ سیاسی جماعتوں نے قومی اہمیت کے کسی مسئلے پر اپنے مفادات کی قربانی دی ہو۔ بنیادی بات یہ بھی ہے کہ پاکستان کی کوئی ایک سیاسی جماعت بھی اِس موقع پر عام انتخابات کے لئے تیار نظر نہیں آتی۔ 

تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا میں کارکردگی کا ثمر ابھی تیار نہیں اور صاف گو چیئرمین تو اِس بات پر شکر کا اظہار تک کرچکے ہیں کہ اُنہیں دوہزارتیرہ کے عام انتخابات میں محدود پیمانے پر کامیابی ملی۔ دوسری طرف نواز لیگ چاہتی ہے کہ وہ پانامہ کیس فیصلے کی روشنی میں ’نیب مقدمات‘ سے نمٹنے کے بعد عام انتخابات میں حصہ لے اور اُس کی کوشش ہے کہ عدالتوں سے سرخرو قرار پائے۔ پیپلزپارٹی ڈاکٹرعاصم اُور ایان علی کے مستقبل بارے زیادہ فکرمند ہے جنہوں نے اِحتساب عدالت سے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی بریت کے فیصلے کو اپنی کامیابی تو قرار دیا ہے لیکن ہرکس و ناکس کو معلوم ہے کہ اِن دنوں عدالت عظمیٰ کا مزاج برہم ہے اُور اِنصاف اگر پیپلزپارٹی کی قیادت کے قریب سے بھی گزرا‘ تو نوازشریف کی طرح وہ تاحیات نااہلی جیسی ذلت آمیز سزا سے نہیں بچ پائیں گے۔ ملک کی سبھی بڑی اور ’’پریشان حال سیاسی جماعتیں‘‘ قطعی طور پر ایک ایسے وقت اور ایک ایسے ماحول میں انتخابی مہم جوئی کرنا پسند نہیں کریں گی اور نہ ہی کسی ایسے انتخابی تجربے (عمل) سے گزرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار (آمادہ) ہیں جبکہ عدالت عظمی کے ابرآلود تیور (مزاج) روز روشن کی طرح کھلی حقیقت ہے۔ 

’’منصب شیفتگی کے کوئی قابل نہ رہا: ہوئی معزولئ اَنداز و اَدا میرے بعد ۔۔۔ 
آئے ہے بیکسی عشق پہ رونا غالبؔ : کس کے گھر جائے گا‘ سیلاب بلا میرے بعد! (میرزا اَسداللہ خان غالبؔ )۔


Friday, July 28, 2017

July 2017: The surprising element in the politics of Pakistan!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
پراسرار سیاست!
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق تو نہیں دیا جارہا لیکن پاکستان کی سبھی سیاسی جماعتیں اور قومی خزانے کا انحصار ’غیرملکی پاکستانیوں‘ کی طرف سے ترسیل زر پر رہتا ہے جس سے پاکستانی کرنسی پر دباؤ کم ہوتا ہے‘ زرمبادلہ کے ذخائر معتدل رہتے ہیں اور ساتھ ہی پاکستان کی جملہ سیاسی جماعتیں اپنے تنظیمی اور بالخصوص عام انتخابات کے موقع پر جملہ اخراجات پورا کرنے کے لئے ’غیرملکی پاکستانیوں‘ ہی کے سامنے دست سوال دراز (انحصار) کرتی ہیں۔ 

رواں ہفتے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 688 صفحات پر مشتمل تفصیلات عدالت کے روبرو پیش کی گئیں ہیں جو ’بیرون ملک سے وصول ہونے والے عطیات‘ سے متعلق ہیں لیکن اِن میں پارٹی بینک اکاونٹ میں آنے والی جملہ رقوم کا میزانیہ (بینک اسٹیٹمنٹ) شامل نہیں جس سے معلوم ہو سکے کہ معلوم کے علاؤہ ’نامعلوم ذرائع‘ سے کس قدر اور کتنی بڑی مقدار میں سرمایہ تحریک انصاف کو حاصل ہوا۔ پاکستان کی سبھی سیاسی جماعتیں ’پراسرار‘ طور پر کام کرتی ہیں کہ اِن کی آمدنی و اخراجات کے بارے میں آج تک پورے یقین سے کوئی بات نہیں کہی جا سکتی نہ ہی آج سے قبل اِس بارے میں ذرائع ابلاغ اور سماجی حلقوں میں یہ بحث سننے کو ملی کہ کوئی سیاسی جماعت بھی آمدنی کا ذریعہ ہو سکتی ہے! تحریک انصاف اعتراف کرتی ہے کہ اُس نے بیرون ملک سے پارٹی سرگرمیوں کے لئے باقاعدہ عطیات وصول کئے۔ دیگر سیاسی جماعتیں ایسا نہیں کرتیں کیونکہ اِس سے ’پینڈورا باکس‘ کھل جاتا ہے اور پھر یہ بھی ثابت کرنا پڑتا ہے کہ جو لوگ عطیات دے رہے ہیں اُن کی شناخت اور پاکستان کی سیاست میں دلچسپی کیا ہے اور کیوں ہے۔ 

بہت سی سیاسی جماعتیں تو خود کو فارن فنڈنگ سے الگ رکھے ہوئے ہیں اور بالخصوص نواز لیگ تو بیرون ملک کیا اندرون ملک بھی کارکنوں سے پارٹی فنڈ اکٹھا کرنے کی مہمات نہیں چلاتی اور نہ ہی اِس قسم کی ’باقاعدہ فنڈ ریزنگ‘ کی ضرورت محسوس کرتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے مشکوک اور بالخصوص عام انتخابات میں سرمایہ کاری کرنے والے ’پیش پیش‘ رہتے ہیں اور رہنماؤں کے کچن اخراجات سے لیکر سیاسی سرگرمیوں کے اخراجات برداشت کرتے ہیں۔ ہمیں ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں جن میں سرمایہ دار درآمد شدہ بیش قیمت گاڑیاں اُور ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک آن کی آن آمدورفت کے لئے ہیلی کاپٹر جیسی آسائش فراہم کرتے ہیں‘ ظاہر سی بات ہے کہ کاروباری شخصیات ہر ایک پائی بمعہ سود واپس وصول کرنے کی منصوبہ بندی رکھتے ہوں گے! بصورت دیگر دنیا میں ایسا کوئی شخص شاید ہی ہو جو اپنی دولت سے تنگ ہو‘ اُور اُسے یہاں وہاں یوں بانٹتا پھرے!

پاکستان میں کل 345 سیاسی جماعتیں ’الیکشن کمیشن آف پاکستان‘ کے پاس رجسٹرڈ ہیں‘ جن کی فہرست 15 صفحات پر مشتمل ہے اور کسی عام تو کیا خاص الخاص پاکستانی کے بھی ممکن نہیں ہوگا کہ وہ سوائے انگلیوں پر شمار ہونے والی چند سیاسی جماعتوں کے علاؤہ کسی دوسری سیاسی جماعت کا نام یا اُس کے سربراہ کا نام یا اُس کے منشور سے آگاہ ہو۔ تو معلوم ہوا کہ سیاست کی طرح سیاسی جماعتیں بنانا اور اِن کے معاملات چلانا بھی منافع بخش کاروبار بن چکا ہے! الیکشن کمیشن جو کہ سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن اُور اُن مالی امور کا بھی نگران ادارہ ہے اور اپنے قواعد کا بطور لازمی اطلاق ممکن بناتا ہے کی جانب سے شرط ہے کہ ہر سیاسی جماعت اپنے سالانہ حسابات سے اُسے تحریری اور حلفاً آگاہ کرے لیکن الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کے حسابات کا ’پوسٹمارٹم (جانچ پڑتال)‘ بس اس قدر ہی کرتی ہے جس سے کام چلتا رہے! 

سردست تحریک انصاف کو ’روایت شکنی‘ مہنگی پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ اگر یہ دیگر سیاسی جماعتوں ہی کی طرح رازداری اور پراسراریت کو برقرار رکھتی تو اِس پر مشکوک ذرائع سے حاصل ہونے والی ’فارن فنڈنگ‘ کا الزام یوں عائد نہ ہوتا۔ تحریک کی آمدنی اور حسابات کو حتی الوسع شفاف رکھنے کی ضرورت و اہمیت کو سمجھتے ہوئے اِس معاملے میں ضرورت سے زیادہ حساس ہونے کی قیمت تو بہرحال ادا کرنا ہی پڑے گی لیکن اِس سے ایک اچھی عملی مثال قائم ہوگی۔ 

عدالت میں تحریک انصاف کو بیرون ملک سے حاصل ہونے والے آمدنی کا حساب دینا پڑ رہا ہے اور ممکن ہے کہ کسی مرحلے پر عدالت یہ بھی پوچھ لے کہ جو سیاسی جماعتیں اگر اندرون یا بیرون ملک سے ’آن دی ریکارڈ‘ مالی وسائل اکٹھا نہیں کر رہیں تو اُن کی آمدنی کے وسائل کیا ہیں؟ کیا بیرون ملک سے کسی سیاسی جماعت کی فنڈنگ کے بھی کچھ اصول ہیں یا اِس سلسلے میں قوانین و قواعد موجود ہیں؟ کیا صرف پاکستانی شہریت رکھنے والا کوئی شخص ہی کسی سیاسی جماعت کو چندہ یا عطیہ دے سکتا ہے؟ 

بیرون ملک سے پارٹی فنڈنگ لیتے ہوئے کیا اِس کے استعمال (مصرف) سے متعلق بھی چندہ دینے والوں کو بتایا جاتا ہے یا یہ چندہ اپنی مرضی سے خرچ کرنے کا اختیار صوابدید پر ہوتا ہے!؟ تحریک انصاف کو ’فارن فنڈنگ کیس‘ کا سامنا ہے لیکن اِس کے علاؤہ نواز لیگ بھی مشکل میں پھنسی ہوئی ہے‘ جسے ’پانامہ‘ اور ’اقامہ‘ کیسیز جیسی زیادہ سنگین الزامات کے جواب میں عدالت کو مطمئن کرنا ہے جس میں تاحال وہ کامیاب نہیں ہو سکے ہیں اور ایک ایسا فیصلہ محفوظ ہے‘ جس کا پوری قوم کو انتظار ہے۔ 27 جولائی کے روز سپرئم کورٹ نے اپنی ہفتہ وار مصروفیات کا شیڈول جاری کیا تو اُس میں پانامہ کیس کے فیصلے کا کہیں ذکر نہیں جس کا مطلب ہے کہ اگر آج 28 جولائی (بروز جمعہ) پانامہ کیس کا فیصلہ نہیں آتا اور عدالتی مصروفیات معمول کے مطابق جاری رہتی ہیں تو پھر فیصلہ 11 اگست کے بعد آئے گا۔

پانامہ کیس کی سماعت کے دوران ایک مرحلے پر یہ بات بھی زیرغور آئی کہ نواز لیگ کے سربراہ نے اپنی ہی جماعت کے اکاونٹ میں کروڑوں روپے جمع کروائے اور پھر اپنی صوابدید پر اُنہیں واپس وصول کیا۔ آمدن کا ذریعہ تحفہ تھا لیکن اِسے خرچ کرنے کی وجوہات و تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں! صاف عیاں ہے کہ پاکستان کی کسی ایک بھی سیاسی جماعت کے مالی معاملات ’حسب آئین و ضرورت‘ شفاف نہیں۔ سیاسی جماعتوں کے سربراہ ’خصوصی اِختیارات‘ رکھتے ہیں کہ وہ پارٹی فنڈنگ کا اپنی صوابدید پر جس طرح اور جس قدر چاہیں استعمال کریں اور مالی یا انتظامی امور سے متعلق کوئی بھی اُن کے فیصلوں کو چیلنج نہ کرے اور نہ ہی اس متعلق سوال کیا جائے لیکن ’پوسٹ پانامہ لیکس‘ پاکستان مختلف ہے بالخصوص عدالت عظمیٰ کی جانب سے چھ رُکنی تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) کے بعد‘ مختلف حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ دہرایا جا رہا ہے کہ ’جے آئی ٹی‘ کو ایک ایسے ’مستقل اِدارے‘ کی شکل دی جائے‘ جو عدالت کے ماتحت وسائل لوٹنے اور اندرون و بیرون ملک ظاہری و پوشیدہ اثاثوں کے بارے میں تحقیقات کا عمل جاری رکھے تاکہ ’قومی احتساب بیورو (نیب)‘ کے لئے بھی آسانی رہے کیونکہ جب تک سیاسی فیصلہ سازوں کے ’ذاتی مالی امور‘ شفاف نہیں ہوں گے اور جب تک قوانین و قواعد میں موجود سقم (خامیوں) کا فائدہ اُٹھایا جاتا رہے گا‘ اُس وقت تک سیاسی جماعتوں کے پراسرار داخلی معاملات‘ ملک سے غربت کا خاتمہ اُور قومی وسائل کا امانت ودیانت کے اصولوں پر استعمال عملاً ممکن نہیں ہو گا۔

Monday, May 22, 2017

May2017: The input without output!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
اختیارات کی جنگ!
خیبرپختونخوا میں بلدیاتی حکومتوں کے اِنتخاب و قیام کو دو سال جبکہ تین سطحی نظام کی تشکیل کے تین برس مکمل ہونے پر ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہر مرحلے پر درپیش مشکلات اور بالخصوص بدنیتی پر مبنی اُن اقدامات کا جائزہ لیا جائے‘ جن کی وجہ سے (بہ امر مجبوری) ’مقامی حکومتیں باوجود اپنے قیام‘ بھی خاطرخواہ فعالیت (آزادی) سے کام نہیں کر پا رہیں اور اِس حقیقت کو بھی سمجھا اور زیرغور لایا جائے کہ صرف دنیا کی بہترین اور تیزرفتار قانون سازی کرلینا ہی کافی نہیں بلکہ قوانین اور قواعد پر عمل درآمد بھی یکساں اہم و ضروری ہوتا ہے۔

عملی مثالیں موجود ہیں کہ جہاں کہیں بھی جمہوری نظام حکومت سے جڑی عوام کی توقعات پوری ہو رہی ہیں تو وہ صرف جامع قانون سازی کی وجہ سے نہیں بلکہ ’’تبدیلی‘‘ کا ایک تعلق قوانین کے اطلاق اور اُس عمومی ماحول سے بھی ہے جس میں قانون ساز ایوانوں کی دانش کے سامنے خود فیصلہ سازوں نے سرتسلیم خم کیا۔ اکیس مئی کو ’شریک اقتدار‘ کے عنوان سے چند ایسی باریکیاں (رکاوٹیں) بیان کی گئیں‘ جن کے باعث ضلعی حکومتوں کے نمائندے ’شریک اقتدار‘ تو ہیں لیکن اُن کی فعالیت اِس حد تک محدود کر دی گئی ہے کہ اُن کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم اپنی مثال آپ ہیں کہ ہمارے ہاں حکمرانوں کی کبھی بھی کمی نہیں رہی اور اگر اُن کی تعداد میں مزید اضافہ کر بھی دیا جائے تو اِس سے مسائل حل نہیں ہوں گے (جیسا کہ نہیں ہوئے) بلکہ عام آدمی (ہم عوام) کو درپیش بحران کی صورت مسائل کے حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی جیسی ضروریات کی قیمت بڑھتی چلی گئیں۔ سالانہ آمدن و اخراجات کا میزانیہ (بجٹ) مرتب کرتے ہوئے جو مالی وسائل مختص ہوں گے اُن کا بڑا حصّہ تنخواہوں‘ مراعات اُور انتظامی امور (غیرترقیاتی اَخراجات) کی نذر ہو جائیں گے اور یہی خیبرپختونخوا سمیت پاکستان کی کہانی ہے‘ کہ حکومتیں سیاسی ہوں یا غیرسیاسی‘ سادگی(اپنے وسائل پر بھروسہ کرنے) کی بجائے شاہانہ طور طریقوں سے ’اَمور مملکت‘ چلانے کے لئے قومی خزانے بشمول قرض مانگ مانگ کر نمودونمائش پر غیرضروری اخراجات اَدا کئے جاتے ہیں۔

ضرورت اِس طرزفکروعمل کے تبدیل کرنے کی ہے‘ جس میں ایک غریب ملک کے حکمران اور غریبوں کے بارے میں سوچنے والوں کا رہن سہن‘ بودوباش اور طورطریقے سادگی کی عملی تصویر ہوں۔ بصورت دیگر اربوں روپے ترقی اور ترقیاتی عمل کے نام پر خرچ کے باوجود بھی جو کچھ حاصل ہوگا‘ وہ ہمیشہ ناکافی اور نامکمل ہی رہے گا۔

سال دوہزار تیرہ میں جب خیبرپختونخوا حکومت نے ’لوکل گورنمنٹ ایکٹ (قانون)‘ منظور کیا تو ہر طرف سے ’واہ واہ‘ کی صدائیں آئیں۔ اقوام متحدہ بھی تعریف کئے بناء نہ رہ سکا‘ جس کے ایک ذیلی ادارے یونائٹیڈ نیشنز ڈویلپمنٹ پروگرام (یو این ڈی پی) نے اِسے ترقی کا ایک جامع لائحہ عمل قرار دیا اور اِس اُمید کا اظہار بھی کیا کہ اقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی سے نہ صرف ’’ترقی کا معیار‘‘ بہتر ہوگا بلکہ ’فیصلہ سازی میں عوام کی شرکت کے ثمرات سے جمہوریت مضبوط ہوگی لیکن اقتدار برائے نام نچلی سطح پر منتقل ہوا اُور اختیارات جزوی طور پر بلدیاتی نمائندوں کے حصے میں آئے! صوبائی اسمبلی سے منظوری کے کے بعد سے آج تک کے عرصے میں بلدیاتی نظام کی ’نوک پلک سنوارنے‘ کے نام پر اِس کی ’فعالیت‘ کم سے کم اُس درجے تک پہنچانا ہی مقصود و مطلوب دکھائی دیتا ہے جہاں یہ نظام مفلوج (اپاہج) ہو کر اپنی موت آپ مر جائے! یعنی عوام کی دلچسپی ’مقامی حکومتوں کے نظام سے ختم ہو جائے۔‘ آئین پاکستان کے آرٹیکل ’چالیس اے‘ کے تحت وفاق پاکستان کی ہر ایک اکائی (صوبے) کے لئے لازمی قرار ہے کہ وہ اپنے ہاں نہ صرف مقامی حکومتوں کا نظام قائم کرے بلکہ عوام کے اِن براہ راست منتخب نمائندوں کو سیاسی و انتظامی اور اقتصادی اختیارات بھی منتقل کئے جائیں‘‘ لیکن کیا مقامی حکومتوں کی قانون سازی (خوبصورت الفاظ) سے زیادہ اِس سلسلے میں کوئی پیشرفت ہو پائی ہے؟

صوبائی حکومت کے ترجمان اور خیبرپختونخوا کابینہ کے اراکین ’اقوام متحدہ‘ کے ذیلی ادارے ’یو این ڈی پی‘ کی جانب سے تعریف و توصیف کا حوالہ تو دیتے ہیں لیکن اُن تفصیلات کے بیان سے گریز کرتے ہیں جس میں ’یو این ڈی پی‘ نے نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ ملک کے دیگر صوبوں میں بھی مقامی حکومتوں کو اختیارات منتقل نہ کرنے کا ذکر کیا ہے۔ اگر ہم خیبرپختونخوا کی حد تک بات کریں تو صوبائی حکومت نے حال ہی میں ایسی ترامیم کی ہیں جن کے ذریعے کیمونیکشن اینڈ ورکس (سی اینڈ ڈبلیو)‘ ضلعی سڑکوں‘ عمارتیں اور پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ کا محکمہ صوبائی حکومت کو واپس مل گئے ہیں! اِس ’کھینچا تانی‘ کے سبب نہ صرف اِن محکموں کی کارکردگی بلکہ وقت اُور مالی وسائل بھی خرچ ہوئے ہیں۔ ضلعی سطح پر سڑکیں اور دیگر تعمیرات سمیت اگر سرکاری عمارتوں کی دیکھ بھال کی نگرانی اگر مقامی حکومتوں کے پاس رہتی تو اِس میں مضائقہ ہی کیا تھا؟ ’صوبائی خزانے‘ سے مقامی حکومتوں کو نمائندوں کو تنخواہیں اور مراعات دی جاتی ہیں اُن کے لئے عملہ اور دفاتر کی ضروریات بھی حکومت ہی ادا کرتی ہے لیکن جب اُن سے کام لینے کا مرحلہ آیا تو اختیارات محدود کر دیئے گئے! تعجب خیز امر یہ ہے کہ جب صوبائی قانون ساز اسمبلی مقامی حکومتوں کے اختیارات کم کر رہی تھی تو اِس ’ترمیمی قانون سازی‘ کے عمل میں صرف حکومتی ہی نہیں بلکہ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے اراکین کی اکثریت بھی پیش پیش رہی‘ گویا اِس سے زیادہ ضروری اور ثواب کا کوئی دوسرا کام باقی ہی نہ رہا ہو! المیہ نہیں تو کیا ہے کہ صوبائی قانون سازوں کو تعمیراتی ٹھیکیداروں کے مفادات تو عزیز اور اُن کی مشکلات کا احساس ہے لیکن اِن تعمیرات کے معیار‘ پائیداری اور سرکاری خزانے سے خرچ ہونے والی ہر ایک پائی کے درست مصرف اور نگرانی کے تہہ دار نظام پر اعتماد (یقین) نہیں۔ درحقیقت فیصلہ ساز نہیں چاہتے کہ اُن کے اختیارات کم ہوتے چلے جائیں اور وہ اپنے بنیادی کام یعنی قانون سازی کے عمل یا قوانین میں موجود سقم دور کرنے اور سرکاری محکموں کے معاملات کی اصلاح جیسے امور پر غور کرنے تک محدود ہو جائیں!

انتخابی حلقوں کی سیاست کرنے والوں کی ذاتی و سیاسی ترجیحات مقامی حکومتوں کی فعالیت و اختیارات کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور اصولی طور پر ایک غیرسیاسی نظام اگر سیاست سے الگ ہی رہتا تو اِس کے زیادہ مفید نتائج حاصل ہو سکتے تھے لیکن ابھی بھی دیر نہیں ہوئی‘ اگر ہمارے شاہانہ مزاج رکھنے والے سیاسی فیصلہ ساز اپنی غلطیوں کا اِحساس اُور برسرزمین حقائق (مالی و اِنتظامی بدعنوانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے) ضروریات کا ادراک کرلیں!

Wednesday, May 17, 2017

May2017: The divided vote bank!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
رائیگاں رائیگاں!
پاکستان کو عظیم سے عظیم تر بنانے کی ترغیب اور اِس مملکت خداداد کو قابل فخر بنانے کی سوچ ابوالاثر حفیظ جالندھری کے قلم سے بصورت ’قومی ترانہ‘ سامنے آئی‘ جس کے بعد سے ہر اعلیٰ و ادنی انتظامی ذمہ داریوں (عہدوں) کا حلف اٹھانے والے درحقیقت ’پاک سرزمین کو شاد باد‘ کرنے کا عہد کر رہے ہوتے ہیں لیکن اِس ہدف کے حصول کے لئے ہر شعبۂ ہائے زندگی میں درکار اتحادواتفاق کی شدت سے کمی محسوس ہو رہی ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو عام انتخابات میں رجسٹرڈ ووٹرز کی بڑی تعداد گھروں میں بیٹھ کر اپنی ہی تباہی و بربادی کا ’تماشا‘ دیکھنے پر اکتفا نہ کرتی۔ جس ملک میں تیس سے چالیس فیصد رجسٹرڈ ووٹرز ہی زحمت گوارہ کرتے ہوں‘ وہاں کسی نئی سیاسی جماعت کے قیام کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے اور ایسا کیوں نہیں ہوسکتا کہ قومی مفادات سے متعلق ترجیحات کا تعین کرنے کے بعد ’تبدیلی‘ کی خواہاں سبھی قوتوں (کرداروں) کی سیاسی جدوجہد کا پلیٹ فارم ایک ہو؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ کوئی درپردہ قوت ایسی بھی گھات لگائے بیٹھی ہو جو ملک میں تبدیلی کی راہ ہموار کرنے کی صلاحیت رکھنے والوں کی توانائیاں اور وسائل ’یکجا‘ ہونے نہ دے رہی ہو! اُور اُن تمام افراد کو اپنی الگ شناخت ظاہر کرنے پر اکسایا جا رہا ہو‘ جو قومی ترقی‘ سلامتی اور خوشحالی کا ایک جیسا تصور تو رکھنے کے باوجود سیاسی تگ و دو اُور منزل تک پہنچنے کے لئے سفر کی سمتیں الگ الگ متعین کر بیٹھے ہیں! پاکستان سے بڑھ کر کوئی دوسری شناخت بھلا کیا ہو سکتی ہے‘ اور اگر کسی ایک نکتے سے آغاز ہی کرنا ہے تو وہ ’انصاف‘ کے سوأ بھلا اُور کیا ہو سکتا ہے؟

الیکشن کمیشن آف پاکستان سے حالیہ دنوں میں رجوع کرنے والوں میں معروف گلوکار جواد احمد بھی شامل ہیں جنہوں نے باقاعدہ طورپر انتخابی سیاست میں حصہ لینے کے لئے کسی بھی سیاسی جماعت سے وابستہ ہونے کی بجائے اِس بات کو ضروری سمجھا ہے کہ وہ اپنی الگ سیاسی جماعت تشکیل دیں‘ جس کی منظوری کے لئے درخواست دیتے ہوئے اُنہوں نے جملہ کاغذی کاروائی پوری کر لی ہے۔ یوں تو پاکستان کی سبھی سیاسی جماعتیں شخصیات کے گرد گھومتی ہیں اور ہر سیاسی جماعت کے پیچھے ایک ’قدآور‘ شخصیت کا سحر دکھائی دیتا ہے لیکن آئندہ عام انتخابات سے قبل ایک ایسی نئی سیاسی جماعت کا اضافہ جس کے غیرمتنازعہ خالق نوجوان نسل میں مقبول بھی ہوں تو اِس سے ’تبدیلی‘ کا ووٹ بینک تقسیم ہوگا۔ روائتی سیاست کرنے والوں کا شروع دن سے ’طریقۂ واردات‘ یہی ہے کہ وہ کسی خاص انتخابی حلقے میں‘ کسی نومولود سیاسی جماعت یا سیاسی کارکنوں میں پھوٹ ڈال کر ’ووٹ بینک‘ تقسیم کر دیتے ہیں اور یوں انہیں انتخابی معرکے میں باآسانی جیت مل جاتی ہے۔ خیبرپختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد کے میدانی شہری اور پہاڑی بالائی علاقوں کی عمدہ مثال اِس سلسلے میں پیش کی جاسکتی ہے کہ جہاں گذشتہ نو عام انتخابات 1985‘ 1988‘ 1990‘ 1993‘ 1996‘ 1997‘ 1999‘ 2002 اور 2008 میں مسلم لیگ نواز قومی اسمبلی کی نشست پر صرف اِس وجہ سے کامیاب ہوتی رہی کیونکہ مخالف سیاسی جماعتیں نہ تو انتخابی اتحاد بنانے میں کامیاب ہو رہی تھیں اور نہ ہی سیاسی جماعتوں کے قائدین اپنے کارکنوں کے تحفظات (داخلی اختلافات) ختم کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ 2013ء کے عام انتخابات میں ایبٹ آباد سے قومی اسمبلی کی نشست جب اٹھائیس سال بعد کسی دوسری سیاسی جماعت کے حصے میں آئی تو معلوم ہوا کہ ترقیاتی منصوبوں سے لیکر انتظامی عہدوں پر تعیناتیوں تک معاملات ناقابل یقین حد تک خراب ہو چکے ہیں۔ تبدیلی اور اصلاح کا مطالبہ کرنے والوں کا ’ووٹ بینک‘ تقسیم ہونے سے بچانا سب سے بڑی ضرورت ہے اور اگر سیاسی جماعتیں بالخصوص ’پاکستان تحریک انصاف‘ کی مرکزی و صوبائی قیادت اِس بات کا احساس کر لے تو کوئی وجہ نہیں کہ آئندہ (وقت مقررہ یا ممکنہ قبل ازیں) عام انتخابات کی صورت وہ خاطرخواہ (مطلوبہ) کامیابی مل سکتی ہے جو وفاق میں اُسے حکومت سازی کے قابل بنا سکے۔

’گوری کرت سنگھار‘ جیسے کئی مقبول نغموں سے شہرت پانے والے چھیالیس سالہ گلوکار جواد (پیدائش 29 ستمبر 1970ء) یونیورسٹی آف انجینرینگ لاہور سے تحصیل یافتہ ہیں اور خود بھی معلم ہیں جو شاید سیاست میں آنے کے بعد درس و تدریس کو جاری نہ رکھ سکیں۔ بہرکیف انہوں نے اپنی سیاسی جماعت کا نام ’پولیٹکل فرنٹ‘ رکھتے ہوئے اِس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اُن کی سیاسی جدوجہد ’’عوام کو ان کے حقوق دلانے کی کوشش‘‘ ہوگی۔ سیاست میں معروف لوگ انتخابی طور پر کامیاب ہوں یا نہ ہوں لیکن اُن کی وجہ سے سیاسی جماعتیں عوام کی توجہ حاصل کرنے میں ضرور کامیاب بھی رہتی ہیں اور انہیں دلی مرادیں بھی حاصل ہوتی ہیں۔ دوہزار تیرہ کے عام انتخابات کے موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے حصہ لینے والے محترم جواد کے ہم عصر گلوکار ابرارالحق اور عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جن کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جواد بھی پاکستانی سیاست میں داخل ہونے کی منصوبہ بندی کرتے رہے اور انہوں نے اپنی اِس خواہش کا باضابطہ اظہار بھی کیا لیکن بالآخر وہ گھڑی آ گئی ہے جب انہوں نے سوچ سمجھ کر کسی سیاسی جماعت میں شمولیت کی بجائے اپنی پارٹی کی رجسٹریشن کے لئے باقاعدہ درخواست دی ہے! چند برس فلاحی کام کرنے اور بالخصوص شعبۂ تعلیم میں بہتری لانے کے لئے سرگرم جواد کے منہ میں بھی ’عام آدمی‘ اور ’غریب‘ جیسے الفاظ سن کر قطعی حیرت نہیں ہو رہی کیونکہ اب کوئی یہ تو کہنے سے رہا کہ وہ ملک میں ایک ایسی سیاسی جماعت بنانے جا رہا ہے جو سرمایہ داروں کے مفادات کا تحفظ کرے گی!

اندیشہ نہیں بلکہ یقین ہے کہ محترم جواد کی نئی سیاسی جماعت بھی گنتی کے چند انتخابی حلقوں تک ہی محدود رہے گی کیونکہ اُن کے پاس پورے پاکستان میں اپنا پیغام گھر گھر پہنچانے کے لئے درکار وقت اور وسائل یا تجربہ نہیں اور جن شہری علاقوں میں اُن کی جماعت کو اُمیدوار میسر آ بھی جائیں گے تو وہ اُن پیشہ ور سیاست دانوں اور عام انتخابات میں سرمایہ کاری کرنے والے ماہرین کا مقابلہ ڈٹ کر نہیں کر پائیں گے جو انتخابی سیاست اور ضروریات سے آگاہ ہیں۔ یوں پاکستان میں تبدیلی لانے کی یہ انفرادی کوشش ’رائیگاں نہیں بلکہ رائیگاں رائیگاں جائے گی اور نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک مرتبہ پھر وہ ’ووٹ بینک‘ تقسیم ہو جائے گا‘ جس کا متحد رہنا ضروری ہے‘ بصورت دیگر روائتی سیاست کرنے والوں کی فتح ہوگی اور پاکستان کے اُس عام آدمی (ہم عوام) کی آنکھوں سے شکست کے آنسو گریں گے جہاں خوابوں کے قبرستان آباد ہیں!

Thursday, May 11, 2017

May2017: Lessons embedded into the General Elections in UK & use of Social Media

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
عام انتخابات: سوشل میڈیا کا کردار!

برطانیہ میں عام انتخابات کا انعقاد ’’8 جون 2017ء‘‘ کو ہونے جا رہا ہے جس میں 650 انتخابی حلقوں کے تین سطحی جمہوری ایوانوں (ممبر آف پارلیمنٹ‘ ہاؤس آف کامنز اُور لوئر ہاؤس) کے لئے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ دوہزار گیارہ میں منظور کی جانے والی ایک آئینی ترمیم کی رو سے برطانیہ میں آئندہ عام انتخابات کا انعقاد سات مئی دوہزار بیس کو ہونا چاہئے لیکن اٹھارہ اپریل دوہزار سترہ کو غیرمعمولی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم ’تھریسا مئی (Theresa May) نے قبل ازوقت عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا جسے 19 اپریل 2017ء کو اراکین اسمبلی نے دوتہائی کی لازمی حمایت سے منظور کر لیا۔ 

برطانیہ کے سیاسی منظرنامے پر موجودہ حکمراں جماعت ’کنزرویٹو پارٹی‘ مقبول ترین اور مضبوط سمجھی جاتی ہے جو سال دوہزار پندرہ سے برسراقتدار ہے۔ دوسرے نمبر پر حزب اختلاف کی باضابطہ جماعت لیبر پارٹی‘ تیسرے نمبر پر ’اسکاٹش نیشنل پارٹی‘ چوتھے نمبر پر ’لبرل ڈیموکریٹس اور پانچویں نمبر پر ’ناردن آئرش ڈیموکریٹک نیشنلسٹ پارٹی‘ کم ترین عوامی مقبولیت رکھتی ہے لیکن برطانیہ کی جمہوریت میں ہر سیاسی جماعت کی یکساں اہمیت اور مقام ہے۔ قبل ازوقت عام انتخابات کے انعقاد کا سبب بننے والے غیرمعمولی حالات درحقیقت برطانیہ کو درپیش وہ معاشی و اقتصادی مسائل ہیں‘ جو مارچ دوہزار سے ظہور پذیر ہوئے ہیں جن کے مطابق برطانیہ کی اکثریت اور اُن کی نمائندگی کرنے والے چاہتے ہیں کہ وہ یورپی یونین سے علیحدہ ہو جائیں۔ برطانیہ یورپی یونین سے علیحدہ ہو جائے یا نہ ہو‘ یہی معاملہ ’آٹھ جون‘ کو ہونے والے عام انتخابات پر حاوی رہے گا۔ جب سے عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان ہوا ہے‘ تب سے عوامی جائزہ رپورٹوں کے مطابق موجودہ وزیراعظم تھریسا مئی کو حزب اختلاف کی لیبرپارٹی پر سبقت حاصل ہے۔ اَمریکہ کی طرح عالمی طاقت برطانیہ کے عام انتخابات بھی پوری دنیا کی توجہ کا مرکز ہوتے ہیں‘ جنہیں برطانوی الیکشن کمیشن آزاد‘ شفاف اور باوقار انداز میں منعقد کرانے کا تجربہ رکھتا ہے لیکن چونکہ اِس مرتبہ سماجی رابطہ کاری کے وسائل (سوشل میڈیا) ابلاغ کے دیگر ذرائع کی نسبت زیادہ استعمال ہو رہے ہیں‘ اِس لئے شفاف انتخابات کے انعقاد کے لئے ’سوشل میڈیا کے منفی اثرات‘ کم سے کم کرنے کے لئے سوچ بچار (بحث و مباحثے) کا عمل ہر سطح پر جاری ہے۔ برطانیہ کے معروف اشاعتی اور نشریات ادارے نہ صرف عوام کی رہنمائی کر رہے ہیں کہ وہ کس طرح ’سوشل میڈیا کے فریب‘ سے خود کو اور دوسروں کو محفوظ رکھ سکتے ہیں بلکہ سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کے حوالے سے بھی کم و بیش 7 کروڑ برطانوی باشندوں کے لئے رہنما اصول جاری کئے جا رہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ برطانیہ میں انگریزی بولنے اور سمجھنے والوں کی تعداد قریب سو فیصد ہے لیکن وہاں خواندگی کی شرح سو فیصد نہیں! 

اگر انگریزی زبان ’خونداگی و قابلیت‘ کا کوئی معیار ہوتی تو آج برطانیہ یورپی یونین ممالک کی فہرست میں کم ترین درجے پر فائز نہ ہوتا۔ اسپیکٹیٹر نامی جریدے کی اسسٹنٹ ایڈیٹر ایسابل ہارڈمین (Isabel Hardman) کی ایک تحقیق کے مطابق ’’سولہ سے اُنیس سال کے برطانوی نوجوانوں کی بیس فیصد تعداد ناخواندہ جبکہ چالیس فیصد سے زیادہ ایسے ہیں جو حساب کتاب (numeracy) سے آگاہ نہیں۔‘‘ لیکن برطانیہ کی کم وبیش سات کروڑ کی آبادی میں 92 فیصد لوگ انٹرنیٹ وسائل کا استعمال کرتے ہیں۔ اِس قدر بڑی تعداد میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے معاشرے کو پاکستان سے ایک تقابلی جائزے کے ذریعے سمجھا جاسکتا ہے کہ ہمارے ہاں بمشکل 18 فیصد آبادی ہی انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے تو جس معاشرے میں یہ تناسب بانوے فیصد ہوگا‘ وہاں ’سوشل میڈیا‘ کے اثرات بھی اتنے ہی زیادہ اور فوری ہوں گے۔

سرسری طور پر برطانیہ کی سیاسی صورتحال‘ شرح خواندگی اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد کے بارے جاننے کے بعد آزاد و شفاف عام انتخابات کے انعقاد سے متعلق اُن جاری کوششوں کا احوال بھی جان لیجئے جن میں امریکی سوشل میڈیا کا ایک معروف ادارہ ’فیس بک(facebook)‘ برطانیہ سے تعاون کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ برطانیہ میں ’فیس بک‘ کے تین کروڑ دس لاکھ سے زیادہ اکاونٹ ہولڈرز ہیں یعنی برطانیہ کی نصف آبادی ’فیس بک‘ استعمال کرتی ہے۔ عام انتخابات سے قبل ہی ’فیس بک‘ نے ایسے سینکڑوں ہزاروں اکاونٹس (کھاتے) ختم (ڈیلیٹ) کر دیئے ہیں جو فرضی ناموں یا مشکوک شناخت کے ساتھ بنائے گئے تھے اور صرف اِسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ نو مئی سے برطانوی اخبارات میں ’دس ایسے رہنما اصولوں‘ کی تشہیر بھی شروع کردی ہے جن کی بنیاد پر ’اصلی اور جعلی خبروں‘ کے درمیان تمیز کی جا سکے گی۔ 

کسی امریکی ادارے کی برطانیہ سے اِس قدر دلی محبت کا اظہار اپنی جگہ اہم بھی ہے اور ایک الگ موضوع بھی لیکن اگر پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو آئندہ برس ہمارے ہاں بھی عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور ’فیس بک‘ نے جو دس اصول برطانیہ میں ’اصلی اور جھوٹی خبر‘ کی پہچان کے لئے وضع کئے ہیں اگر اُنہیں فیس بک کے پاکستانی صارفین بھی سمجھ لیں تو وہ صرف عام انتخابات ہی کے موقع پر کارآمد ثابت نہیں ہوں گے بلکہ ’فیس بک‘ صارفین قومی اہمیت کے حامل دیگر معاملات کے بارے میں ’پراپگنڈے‘ کی نذر نہیں ہوں گے اور ’عوامی رائے‘ کی آڑ میں منشتر گمراہ کن خیالات (وار) سے باآسانی محفوظ رہ سکیں گے۔
’فیس بک‘ انتظامیہ کے تین بنیادی اہداف ہیں سب سے پہلے تو وہ یہ چاہتے ہیں کہ اُن کی خدمات کا غلط استعمال کرنے کا اِمکانات کم سے کم ہوں۔ فیس بک کسی ملک کے داخلی معاملات‘ عام انتخابات یا سیاست پر منفی طور پر اثرانداز ہونے کے لئے استعمال نہ ہو اُور تیسرا یہ کہ فیس بک صارفین فرضی اُور جعلی خبروں (اطلاعات) کی اَزخود تصدیق کرنے کے قابل ہو جائیں لیکن یہ تینوں بنیادی اہداف اُس وقت تک حاصل نہیں ہوں گے جب تک فیس بک صارفین اپنی ’آن لائن‘ موجودگی کے ’ہر ایک پل‘ کا سوچ سمجھ کر استعمال نہیں کرتے۔ 

کیا پاکستان میں انٹرنیٹ خواندگی اور احساس ذمہ داری شعور کی اُن بلندیوں کو چھو رہا ہے‘ جس کا ’فیس بک انتظامیہ‘ تصور کئے بیٹھی ہے اور چاہتی ہے ۔۔۔ 1: کسی بھی خبر کی ’ہیڈلائن‘ سے فوری متاثر نہ ہوں کیونکہ جعلی خبروں کو مشتہر کرنے کے عموماً دلچسپ عنوانات کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ 2: صرف خبریت پر مبنی مواد ہی کو نہ پڑھا جائے بلکہ جس ذریعے (ویب سائٹ) سے خبر آ رہی ہے اُس کا ’ایڈریس‘ بھی نوٹ کیا جائے۔ لہٰذا ایسی کسی خبر یا اطلاع کا اعتبار نہ کیا جائے جو غیرمعروف یا مشکوک ویب سائٹ سے آ رہی ہو۔ 3: اِس بات کی تسلی کرلیں کہ جس کسی نے بھی خبر یا تجزیہ تحریر کیا ہے وہ قابل اعتماد اور قابل بھروسہ ہونے کے ساتھ معلوم لکھاری ہے۔ فیس بک کے کسی صارف (اکاونٹ) کے بارے جاننے کے لئے ’اُس سے متعلق (about)‘ کی ذیل میں معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ 4: جعلی یا فرضی ناموں سے بنائی جانے والی ’نیوز ویب سائٹس‘ کی ساخت پیشہ ورانہ نیوز سائٹس کے مقابلے کم جاذب نظر ہوتی ہے۔ کسی خبر کی املا (الفاظ و بیان) میں اگر غلطیاں پائی جائیں تو سمجھ لیں کہ اِس کا مآخذ پیشہ ورانہ اور مبنی بر صداقت نہیں۔ 6: جعلی یا فرضی خبروں کے ساتھ استعمال ہونے والی تصاویر سے بھی اُن کی شناخت ممکن ہے۔ عموماً ایسی خبروں کے ہمراہ تصاویر کو ایک دوسرے سے ملا کر استعمال کیا گیا ہوتا ہے یا پھر درست تصاویر کا غلط موضوعات کے بیان کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ تصاویر کے اصل مآخذ (سورس) کے بارے میں تحقیق کرنے سے بھی خبر کی اصلیت معلوم ہو سکتی ہے۔ 6: کسی خبر میں واقعات کے رونما ہونے کی تاریخیں یا ماضی کے حوالہ جات بھی اُس کی تصدیق یا اصلیت کا ثبوت ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا خبروں میں دی گئی تاریخیں اور اُن کی مناسبت سے رونما ہونے والے واقعات کے بارے تھوڑی سی تحقیق سے اُن کی اصلیت باآسانی معلوم کی جا سکتی ہے۔ 7: خبر کی تخلیق میں جن ذرائع کا استعمال بطور حوالہ دیا گیا ہوتا ہے اُن کی جانچ کرنے سے بھی سچائی کی تہہ تک پہنچا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی خبر مستند ذرائع سے نہیں دی جا رہی تو صحافتی دنیا میں کوئی بھی ایسی خبر لائق بھروسہ نہیں ہوتی۔8: کسی ایک خبر کے بارے میں ابلاغ کے دیگر ذرائع کیا کہہ رہے ہیں۔ اگر کوئی خبر صرف ایک ہی ذریعے سے آ رہی ہو اُور اُس کے بارے میں دیگر ذرائع ابلاغ خاموش ہوں تو ایسی خبر کے حقائق مشکوک اور یک طرفہ ہوتے ہیں۔ 9: بسا اوقات فرضی یا جعلی خبریں مزاح کے قریب ہوتی ہیں اور مزاحیہ یا مضحکہ خیز تاثر سے بھرپور ہوتی ہیں۔ کسی خبر کا لب و لہجہ اور سنجیدگی سے الفاظ کا استعمال بھی اِسے قابل بھروسہ بنانے کے اجزأ میں شامل ہوتا ہے۔ 10: آن لائن ہوتے ہوئے (انٹرنیٹ پر) جلد بازی کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔ کسی خبر کا مطالعہ کرتے ہوئے اُس کے مختلف پہلوؤں کا ’تنقیدی‘ طور پر جائزہ لیں اور دوسروں کی دیکھا دیکھی (ٹرینڈ کو فالو کرتے ہوئے) بناء تحقیق‘ تصدیق اور ذاتی طور پر اطمینان کے بغیر کسی بھی صورت میں کسی صارف تک پہنچنے والی خبر (پوسٹ‘ اطلاع‘ تصویر یا ویڈیو) سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس بالخصوص ’فیس بک‘ پر مزید پھیلانے (share) یا اُس کی مزید تشہیر نہ کی جائے!

Monday, January 4, 2016

TRANSLATION: Checks and balances

Checks & balances
نگرانی کا عمل
دنیا میں قریب 12 درجن اقسام کی جمہوریتیں پائی جاتی ہیں جن میں سے 8 صدراتی نظام حکومت جبکہ چار درجن پارلیمانی نظام حکومت کے مطابق فیصلے کرتی ہیں جن میں کسی فرد واحد کی بجائے حکمراں قانون ساز اسمبلی کے سامنے جواب دے ہوتے ہیں۔ اِسی طرح طرز حکمرانی کا ایک طریقہ ’آمریت (ڈکٹیٹرشپ)‘ کہلاتا ہے جس میں ملک پر فرد واحد کی حکومت ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک طرز حکمرانی ایسا بھی ہوتا ہے جس میں اختیار کم تعداد میں افراد کے پاس ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیا ہوتا ہے جو جمہوریت کو آمریت بننے سے روکتا ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیا ہوتا ہے جس میں جمہوریت جیسا وسیع فیصلہ سازی کا اختیار چند افراد کی حد تک محدود ہو جاتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ جمہوریت کو اُس کی اصل اور روح کے مطابق چلانے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ ادارے مضبوط کئے جائیں‘ اُن پر نگرانی رکھی جائے اور انتظامی و مالی بدعنوانیوں کو روکنے کے لئے کارکردگی کا احتساب مسلسل عمل کی صورت جاری و ساری رہے۔

سال1985ء میں پاکستان کے آئین کی 58ویں شق میں ترمیم کرتے ہوئے اضافہ کیا گیا کہ ’’ایسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جس میں وفاق پر مشتمل حکومت کو آئین کے مطابق چلانا ممکن نہیں رہا اُور اس صورتحال میں ووٹ دینے والوں سے رجوع کرنا ضروری ہو گیا ہے۔‘‘ سال 1988ء میں ہوئے عام انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی نے قریباً 75لاکھ ووٹ حاصل کئے اور 114 قومی اسمبلی کی نشستوں پر پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی۔ 9 جماعتوں کے ’’اسلامی جمہوری اتحاد‘‘ اور پاکستان مسلم لیگ (نواز) نے مشترکہ طور پر قومی اسمبلی کی 60 نشستیں حاصل کیں۔ جب بینظیر بھٹو نے بطور وزیراعظم عہدے کا حلف لیا تو اُس وقت اُن کی کارکردگی پر نظر رکھنے والے دو اسباب موجود تھے۔ ایک تو آئین میں ’اٹھاون ٹو بی‘ کی شق اور دوسرا پارلیمنٹ کے اندر ایک مضبوط حزب اختلاف کا وجود تھا۔

سال 1990ء میں ہوئے عام انتخابات میں ’اسلامی جمہوری اتحاد‘ نے قومی اسمبلی کی 111 نشستیں جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی نے 44نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ میاں محمد نواز شریف نے وزارت عظمیٰ کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ اُس وقت پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی حکومت کی کارکردگی پر نظر رکھنے کے لئے دو قسم کے مؤثر ’چیکس اینڈ بیلنسیز‘ موجود تھے یعنی آئین میں ’اٹھاون ٹو بی‘ کی شق موجود تھی جس کے تحت حکومت کو اُس کی مدت سے قبل ختم کیا جاسکتا تھا اور دوسرا پارلیمنٹ میں مضبوط حزب اختلاف کا وجود تھا۔

سال 1993ء کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی نے قریباً 76لاکھ ووٹ حاصل کئے اور قومی اسمبلی کی 89نشستوں پر پیپلزپارٹی کے نامزد اُمیدوار کامیاب ٹھہرے۔ پاکستان مسلم لیگ (نواز) کو قریباً 80لاکھ ووٹ اور قومی اسمبلی کی 73نشستیں ملیں۔ جب محترمہ بینظیر بھٹو نے بطور وزیراعظم حلف اٹھایا تو حکومت کی کارکردگی پر نظر رکھنے کے لئے دو قسم کے مؤثر ’چیکس اینڈ بیلنسیز‘ موجود تھے یعنی آئین میں ’اٹھاون ٹو بی‘ کی شق موجود تھی جس کے تحت حکومت کو اُس کی مدت سے قبل ختم کیا جاسکتا تھا اور دوسرا پارلیمنٹ میں مضبوط حزب اختلاف کا وجود تھا۔

سال 1997ء میں ہوئے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نواز نے قومی اسمبلی کی 137 نشستیں حاصل کیں جبکہ پیپلزپارٹی نے 18۔ چار اپریل 1997ء کے روز آئین میں 13ویں ترمیم منظور کی گئی جس کے تحت ’اٹھاون ٹو بی‘ کا خاتمہ کر دیا گیا اور اسی طرح صدر کی جانب سے وزیراعظم کی کارکردگی پر نگرانی کے آئینی طریقۂ کار کو بھی ختم کر دیا گیا۔

14مئی 2006ء کے روز بینظیر بھٹو اور نواز شریف نے ’قراردار جمہوریت (چارٹر آف ڈیموکریسی)‘ پر دستخط کئے جس کے تحت پارلیمینٹ میں حزب اختلاف کے مؤثر کردار کو ختم کردیا گیا۔ سال2008ء کے عام انتخابات میں پیپلزپارٹی نے قومی اسمبلی کی 119 جبکہ نواز لیگ نے 89 نشستیں حاسل کی۔ جب سیّد یوسف رضا گیلانی نے وزارت عظمیٰ کے عہدے کا حلف اُٹھایا تو اُن کی کارکردگی پر نگرانی کا کوئی بھی مؤثر نظام موجود نہیں تھا۔

سال 2013ء کے عام انتخابات میں جب پاکستان مسلم لیگ نواز نے قومی اسمبلی کی 166 اور پیپلزپارٹی نے قومی اسمبلی کی 45 نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور نواز شریف نے بطور وزیراعظم حلف اٹھایا تو بھی منتخب جمہوری حکومت کی کارکردگی پر نگاہ رکھنے والا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں تھا۔ سوچئے کہ وہ کیا انتظامات و اقدامات ہو سکتے ہیں جو کسی منتخب جمہوری حکومت کو آمریت یا شخصی اقتدار کا مجموعہ بنا سکتے ہیں؟

 (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ:شبیر حسین اِمام)