Showing posts with label Political Management. Show all posts
Showing posts with label Political Management. Show all posts

Sunday, July 29, 2018

July 2018: Who will be the next CM? Why not this time from Peshawar?

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
محفوظ فیصلہ: وزیراعلیٰ کون؟

’عام انتخابات 2018ء‘ کی گرد بڑی حد تک بیٹھ چکی ہے۔ چند ایک حلقوں میں دوبارہ گنتی اور انتخابی تنازعات کے معاملات حل ہوتے چلے جائیں گے لیکن قومی اسمبلی اور خیبرپختونخوا کی حد تک ’تحریک انصاف‘ کی فیصلہ کن برتری واضح ہوچکی ہے۔ 

تحریک انصاف میں وزارت عظمیٰ کے لئے ’عمران خان‘ سے زیادہ موزوں کوئی دوسرا شخص نہیں لیکن خیبرپختونخوا کے لئے وزیراعلیٰ کے انتخابی اُمیدواروں کے درمیان ’تحریک‘ کے اندر ’تحاریک‘ (جوڑ توڑ) کا سلسلہ جاری ہے اور فیصلہ سازی کے اِن مراحل سے باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایک رائے یہ بھی زیربحث ہے کہ پرویز خٹک کو ’تین وجوہات‘ کی بناء پر دوبارہ وزیراعلیٰ بنایا جائے۔ 1: صوبائی حکومت کی ترقیاتی حکمت عملیوں اور ترجیحات کا تسلسل رہے گا۔ 2: پرویز خٹک کی کوششوں سے جو الیکٹیبلز ’پچیس جولائی‘ کے عام انتخابات سے قبل تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں‘ اُنہیں نظم وضبط کا پابند بنائے رکھنے کے لئے پرویز خٹک کا ہونا ضروری ہے تاہم (3:) اقلیتی دھڑے کی رائے ہے کہ اِس مرتبہ پرویز خٹک کی بجائے کسی ایسے شخص کو وزیراعلیٰ بنایا جائے جو سیاست سے زیادہ سماجی و انسانی ترقی کے بارے میں علم و تجربہ رکھتا ہو۔ اِس ضرورت کو بھی محسوص کیا جا رہا ہے کہ آئندہ ’توجہ سے محروم‘ شعبے بالخصوص ’زراعت اور لائیوسٹاک‘ خیبرپختونخوا حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہونی چاہیءں‘ چونکہ پرویز خٹک سیاسی جوڑتوڑ اُور ترقیاتی کاموں کے معیار و تکنیکی باریکیوں سے واقف ہیں‘ اِس لئے ان کی خدمات سے بطور ’سینیئر وزیر خزانہ‘ مواصلات یا بطور وزیراعظم کے مشیر‘ بھی یکساں استفادہ کیا جا سکتا ہے لیکن جہاں تک خیبرپختونخوا کی زرعی معیشت و معاشرت کا تعلق ہے تو اِس مقصد کے لئے الگ سوچ اور مہارت رکھنے والے شخص کا انتخاب نسبتاً بہتر (مفید) رہے گا۔ تحریک انصاف کے قائدین اِس رائے سے متفق ہیں کہ خیبرپختونخوا میں دوسری مرتبہ اقتدار ملنا زیادہ کھٹن (challenging) ہے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ تاریخی فتح کسی شرمناک شکست میں تبدیل ہو جائے۔ اِس لئے ماضی میں ’سوفیصد‘ نظرانداز رہے ’زرعی شعبے‘ کو بطورخاص توجہ دی جائے جو خیبرپختونخوا میں 70فیصد سے زائد آبادی کے لئے بالواسطہ یا بلاواسطہ روزگار کا ذریعہ ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے لئے ’’زیرغور‘‘ کئی ناموں میں سرفہرست سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک جبکہ اِن کے علاؤہ عاطف خان (سابق صوبائی وزیر تعلیم)‘ اسد قیصر (سابق اسپیکر صوبائی اسمبلی)‘ شہرام تراکئی (سابق وزیر صحت) اُور تحریک انصاف کے کلیدی فیصلہ ساز (تھنک ٹینک) رہنما میں ’تیمور سلیم خان (جھگڑا)‘ شامل ہیں جنہوں نے پچیس جولائی کے اِنتخاب میں ’PK-73‘ سے ’15 ہزار 449 ووٹ‘ لیکر کامیابی حاصل کی جبکہ اُن کے مدمقابل تمام بڑی سیاسی جماعتوں نواز لیگ‘ عوامی نیشنل پارٹی‘ متحدہ مجلس عمل پاکستان اور پیپلزپارٹی پارلیمینٹرین اور آزاد حیثیت سے 14 اُمیدوار انفرادی حیثیت میں 4 چار ووٹ بھی حاصل نہیں کر سکے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ اُور عالمی مشاورتی ادارے ’میکنسے اینڈ کمپنی (Mckinsey & Company)‘ سے وابستہ ’تیمور سیلم خان جھگڑا‘ ایک ایسے وقت میں تحریک انصاف کی جانب سے موزوں ترین اُمیدوار ثابت ہو سکتے ہیں‘ جبکہ چیئرمین عمران خان عالمی سطح اور بالخصوص خطے اور ہمسایہ ممالک کے تجربے‘ تجارتی روابط اور اثرورسوخ سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان کو اقتصادی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔ تیمور جھگڑا (ٹوئیٹر اکاونٹ @jhagra) کا تعلق دیہی پشاور سے ہے جو صوبائی اسمبلی کے ’8ویں انتخابی حلقے‘ کا حصہ ہے اور اگر انہیں بطور وزیراعلیٰ چن لیا جاتا ہے تو اِس سے ’’پشاور‘‘ کی اِس محرومی کا ازالہ بھی ہو جائے گا کہ آخری مرتبہ ارباب جہانگیر خان (7 اپریل 1985ء سے 31مئی 1988ء) تین سال ایک ماہ چوبیس دن وزیراعلیٰ رہے تھے جس کے بعد تیس برس سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی پشاور کو وزارت اعلیٰ کا منصب نہیں ملا۔ یاد رہے کہ پرویز خٹک 22ویں وزیراعلیٰ تھے جبکہ وہ تین ایسے وزرائے اعلیٰ کی فہرست میں بھی شامل ہیں جنہوں نے خیبرپختونخوا کی تاریخ میں اپنے عہدے کی آئینی مدت (پانچ سال) مکمل کی۔ اُن سے قبل امیر حیدر خان ہوتی (مردان) اُور اکرم خان درانی (بنوں) اپنے عہدوں کی مدت مکمل کر چکے ہیں۔

’’سب تقاضے ویسے پورے ہو گئے انصاف کے۔۔۔
بس فقط محفوظ میرا فیصلہ رکھا گیا!(حیدر قریشی)۔‘‘

نئے وزیراعلیٰ کے ساتھ خیبرپختونخوا کی ترجیحات بھی نئی ہونی چاہیءں۔ یادش بخیر تحریک اِنصاف حکومت نے اپنی آئینی مدت کی تکمیل سے قبل ’مالی سال 2017-18ء‘ کے بجٹ میں ’208 ارب روپے‘ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے مختص کئے تھے‘ جو گذشتہ مالی سال کے بجٹ سے 29فیصد زیادہ لیکن اِن سے ایک بھی شعبے کی ترقی سے متعلق منصوبوں کی تکمیل نہ ہو سکی۔ ترجیحات ملاحظہ کریں کہ ’208 ارب روپے‘ میں سے شعبۂ زراعت کے لئے ’3.99 ارب روپے‘ مختص ہوئے اور اِس رقم کا بڑا حصہ بھی پہلے سے جاری 17 منصوبوں کی نذر ہوگیا جبکہ زراعت سے متعلق جن 21 نئے منصوبوں کی منظوری دی گئی تھی‘ اُن کی تکمیل کے لئے مالی وسائل کافی نہ تھے۔ اِسی طرح کل ترقیاتی رقم (208 ارب روپے) میں سے ’پینے کے صاف پانی کی فراہمی‘ کے منصوبوں کے لئے ’5.16 ارب روپے‘ میں سے ’84 ترقیاتی منصوبوں‘ کی تکمیل ہونا تھی۔ اِن میں 68 جاری جبکہ 16نئے منصوبوں کو حکمت عملی میں شامل کیا گیا۔ وعدہ کیا گیا کہ مالی وسال 2017-18ء میں (3 شہروں) اِیبٹ آباد‘ مانسہرہ اُور ہری پور کو ’پینے کا صاف پانی‘ فراہم کیا جائے گا لیکن صاف پانی تو کیا‘ گندے پانی کی فراہمی کا ترسیلی نظام (نیٹ ورک) بھی وسیع نہیں کیا جا سکا اُور 2013ء سے قبل مذکورہ ’3 شہری علاقوں‘ میں سے جہاں جہاں پانی کی فراہمی ہو رہی تھی‘ 2018ء میں دوبارہ انتخابات کے بعد بھی اُنہی چند یونین کونسلوں میں آج بھی ناقص المعیار پانی‘ ناکافی مقدار میں فراہم ہو رہا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے خیبرپختونخوا میں ماہ و سال رک گئے ہیں؟ اگر ایسا نہ ہوتا تو صورتحال مختلف ہوتی۔ صرف 2 ایسے شعبوں (زراعت اور پینے کے پانی کی فراہمی) کا تذکرہ کیا گیا ہے‘ جس سے شہری و دیہی علاقوں کی 100فیصد کی روزمرہ زندگی کا براہ راست تعلق ہے لیکن افسوس کہ یہ کلیدی اہمیت کے حامل شعبے خاطرخواہ توجہ سے محروم ہیں۔

خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے پہلے دور (2013ء سے 2018ء) کے دوران پانچ شعبوں (صحت‘ تعلیم‘ تحفظ ماحولیات‘ سیاحت کے فروغ اُور پولیس اصلاحات) پر توجہ دی گئی لیکن اگر آئندہ چار یا پانچ مالی سالوں کے دوران سائنسی بنیادوں پر کھیتی باڑی بشمول پھل سبزی کی فصلیں جن کی زراعت اگر سائنسی بنیادوں پر کی جائے تو کم پانی سے فی ایکڑ زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔ مال مویشیوں کی افزائش و صحت اُور حاصل ہونے والے دودھ‘ گوشت‘ کھال اور جانوروں کے بالوں (اُون) سے بننے والی مصنوعات کو صنعت کا درجہ دے کر ترقی اور دیہی و شہری علاقوں میں رہنے والوں کو پینے کے صاف پانی جیسی نعمت فراہم کر دی جائے تو 2023ء کے عام انتخابات بھی تحریک انصاف کے نام رہیں گے جن کے نتائج سیاسی مخالفین کے لئے زیادہ پریشان کن بنائے جا سکتے ہیں۔ 

لمحۂ فکریہ ہے کہ آئندہ عام انتخابات (2023ء) اِس لحاظ سے دلچسپ ہوں گے کہ اِس میں حصہ لینے والی تینوں بڑی جماعتیں (تحریک انصاف‘ نواز لیگ اور پیپلزپارٹی) وفاق اور صوبوں میں حکومت کر چکے ہوں گے اُور یوں ہر ایک پاس اپنی اپنی کارکردگی اور عوام کے پاس رائے دینے کے لئے زیادہ بہتر موازنہ موجود ہوگا۔

Wednesday, May 17, 2017

May2017: The divided vote bank!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
رائیگاں رائیگاں!
پاکستان کو عظیم سے عظیم تر بنانے کی ترغیب اور اِس مملکت خداداد کو قابل فخر بنانے کی سوچ ابوالاثر حفیظ جالندھری کے قلم سے بصورت ’قومی ترانہ‘ سامنے آئی‘ جس کے بعد سے ہر اعلیٰ و ادنی انتظامی ذمہ داریوں (عہدوں) کا حلف اٹھانے والے درحقیقت ’پاک سرزمین کو شاد باد‘ کرنے کا عہد کر رہے ہوتے ہیں لیکن اِس ہدف کے حصول کے لئے ہر شعبۂ ہائے زندگی میں درکار اتحادواتفاق کی شدت سے کمی محسوس ہو رہی ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو عام انتخابات میں رجسٹرڈ ووٹرز کی بڑی تعداد گھروں میں بیٹھ کر اپنی ہی تباہی و بربادی کا ’تماشا‘ دیکھنے پر اکتفا نہ کرتی۔ جس ملک میں تیس سے چالیس فیصد رجسٹرڈ ووٹرز ہی زحمت گوارہ کرتے ہوں‘ وہاں کسی نئی سیاسی جماعت کے قیام کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے اور ایسا کیوں نہیں ہوسکتا کہ قومی مفادات سے متعلق ترجیحات کا تعین کرنے کے بعد ’تبدیلی‘ کی خواہاں سبھی قوتوں (کرداروں) کی سیاسی جدوجہد کا پلیٹ فارم ایک ہو؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ کوئی درپردہ قوت ایسی بھی گھات لگائے بیٹھی ہو جو ملک میں تبدیلی کی راہ ہموار کرنے کی صلاحیت رکھنے والوں کی توانائیاں اور وسائل ’یکجا‘ ہونے نہ دے رہی ہو! اُور اُن تمام افراد کو اپنی الگ شناخت ظاہر کرنے پر اکسایا جا رہا ہو‘ جو قومی ترقی‘ سلامتی اور خوشحالی کا ایک جیسا تصور تو رکھنے کے باوجود سیاسی تگ و دو اُور منزل تک پہنچنے کے لئے سفر کی سمتیں الگ الگ متعین کر بیٹھے ہیں! پاکستان سے بڑھ کر کوئی دوسری شناخت بھلا کیا ہو سکتی ہے‘ اور اگر کسی ایک نکتے سے آغاز ہی کرنا ہے تو وہ ’انصاف‘ کے سوأ بھلا اُور کیا ہو سکتا ہے؟

الیکشن کمیشن آف پاکستان سے حالیہ دنوں میں رجوع کرنے والوں میں معروف گلوکار جواد احمد بھی شامل ہیں جنہوں نے باقاعدہ طورپر انتخابی سیاست میں حصہ لینے کے لئے کسی بھی سیاسی جماعت سے وابستہ ہونے کی بجائے اِس بات کو ضروری سمجھا ہے کہ وہ اپنی الگ سیاسی جماعت تشکیل دیں‘ جس کی منظوری کے لئے درخواست دیتے ہوئے اُنہوں نے جملہ کاغذی کاروائی پوری کر لی ہے۔ یوں تو پاکستان کی سبھی سیاسی جماعتیں شخصیات کے گرد گھومتی ہیں اور ہر سیاسی جماعت کے پیچھے ایک ’قدآور‘ شخصیت کا سحر دکھائی دیتا ہے لیکن آئندہ عام انتخابات سے قبل ایک ایسی نئی سیاسی جماعت کا اضافہ جس کے غیرمتنازعہ خالق نوجوان نسل میں مقبول بھی ہوں تو اِس سے ’تبدیلی‘ کا ووٹ بینک تقسیم ہوگا۔ روائتی سیاست کرنے والوں کا شروع دن سے ’طریقۂ واردات‘ یہی ہے کہ وہ کسی خاص انتخابی حلقے میں‘ کسی نومولود سیاسی جماعت یا سیاسی کارکنوں میں پھوٹ ڈال کر ’ووٹ بینک‘ تقسیم کر دیتے ہیں اور یوں انہیں انتخابی معرکے میں باآسانی جیت مل جاتی ہے۔ خیبرپختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد کے میدانی شہری اور پہاڑی بالائی علاقوں کی عمدہ مثال اِس سلسلے میں پیش کی جاسکتی ہے کہ جہاں گذشتہ نو عام انتخابات 1985‘ 1988‘ 1990‘ 1993‘ 1996‘ 1997‘ 1999‘ 2002 اور 2008 میں مسلم لیگ نواز قومی اسمبلی کی نشست پر صرف اِس وجہ سے کامیاب ہوتی رہی کیونکہ مخالف سیاسی جماعتیں نہ تو انتخابی اتحاد بنانے میں کامیاب ہو رہی تھیں اور نہ ہی سیاسی جماعتوں کے قائدین اپنے کارکنوں کے تحفظات (داخلی اختلافات) ختم کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ 2013ء کے عام انتخابات میں ایبٹ آباد سے قومی اسمبلی کی نشست جب اٹھائیس سال بعد کسی دوسری سیاسی جماعت کے حصے میں آئی تو معلوم ہوا کہ ترقیاتی منصوبوں سے لیکر انتظامی عہدوں پر تعیناتیوں تک معاملات ناقابل یقین حد تک خراب ہو چکے ہیں۔ تبدیلی اور اصلاح کا مطالبہ کرنے والوں کا ’ووٹ بینک‘ تقسیم ہونے سے بچانا سب سے بڑی ضرورت ہے اور اگر سیاسی جماعتیں بالخصوص ’پاکستان تحریک انصاف‘ کی مرکزی و صوبائی قیادت اِس بات کا احساس کر لے تو کوئی وجہ نہیں کہ آئندہ (وقت مقررہ یا ممکنہ قبل ازیں) عام انتخابات کی صورت وہ خاطرخواہ (مطلوبہ) کامیابی مل سکتی ہے جو وفاق میں اُسے حکومت سازی کے قابل بنا سکے۔

’گوری کرت سنگھار‘ جیسے کئی مقبول نغموں سے شہرت پانے والے چھیالیس سالہ گلوکار جواد (پیدائش 29 ستمبر 1970ء) یونیورسٹی آف انجینرینگ لاہور سے تحصیل یافتہ ہیں اور خود بھی معلم ہیں جو شاید سیاست میں آنے کے بعد درس و تدریس کو جاری نہ رکھ سکیں۔ بہرکیف انہوں نے اپنی سیاسی جماعت کا نام ’پولیٹکل فرنٹ‘ رکھتے ہوئے اِس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اُن کی سیاسی جدوجہد ’’عوام کو ان کے حقوق دلانے کی کوشش‘‘ ہوگی۔ سیاست میں معروف لوگ انتخابی طور پر کامیاب ہوں یا نہ ہوں لیکن اُن کی وجہ سے سیاسی جماعتیں عوام کی توجہ حاصل کرنے میں ضرور کامیاب بھی رہتی ہیں اور انہیں دلی مرادیں بھی حاصل ہوتی ہیں۔ دوہزار تیرہ کے عام انتخابات کے موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے حصہ لینے والے محترم جواد کے ہم عصر گلوکار ابرارالحق اور عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جن کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جواد بھی پاکستانی سیاست میں داخل ہونے کی منصوبہ بندی کرتے رہے اور انہوں نے اپنی اِس خواہش کا باضابطہ اظہار بھی کیا لیکن بالآخر وہ گھڑی آ گئی ہے جب انہوں نے سوچ سمجھ کر کسی سیاسی جماعت میں شمولیت کی بجائے اپنی پارٹی کی رجسٹریشن کے لئے باقاعدہ درخواست دی ہے! چند برس فلاحی کام کرنے اور بالخصوص شعبۂ تعلیم میں بہتری لانے کے لئے سرگرم جواد کے منہ میں بھی ’عام آدمی‘ اور ’غریب‘ جیسے الفاظ سن کر قطعی حیرت نہیں ہو رہی کیونکہ اب کوئی یہ تو کہنے سے رہا کہ وہ ملک میں ایک ایسی سیاسی جماعت بنانے جا رہا ہے جو سرمایہ داروں کے مفادات کا تحفظ کرے گی!

اندیشہ نہیں بلکہ یقین ہے کہ محترم جواد کی نئی سیاسی جماعت بھی گنتی کے چند انتخابی حلقوں تک ہی محدود رہے گی کیونکہ اُن کے پاس پورے پاکستان میں اپنا پیغام گھر گھر پہنچانے کے لئے درکار وقت اور وسائل یا تجربہ نہیں اور جن شہری علاقوں میں اُن کی جماعت کو اُمیدوار میسر آ بھی جائیں گے تو وہ اُن پیشہ ور سیاست دانوں اور عام انتخابات میں سرمایہ کاری کرنے والے ماہرین کا مقابلہ ڈٹ کر نہیں کر پائیں گے جو انتخابی سیاست اور ضروریات سے آگاہ ہیں۔ یوں پاکستان میں تبدیلی لانے کی یہ انفرادی کوشش ’رائیگاں نہیں بلکہ رائیگاں رائیگاں جائے گی اور نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک مرتبہ پھر وہ ’ووٹ بینک‘ تقسیم ہو جائے گا‘ جس کا متحد رہنا ضروری ہے‘ بصورت دیگر روائتی سیاست کرنے والوں کی فتح ہوگی اور پاکستان کے اُس عام آدمی (ہم عوام) کی آنکھوں سے شکست کے آنسو گریں گے جہاں خوابوں کے قبرستان آباد ہیں!