Showing posts with label General Elections 2018. Show all posts
Showing posts with label General Elections 2018. Show all posts

Thursday, July 19, 2018

July 2018: Mixture of Religion Politics of Peshawar - fine example!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
انتخابات: نوبہار عجبے!
تحریک (قیام) پاکستان اُور بعدازاں ملک کو فلاحی اِسلامی ریاست بنانے کے لئے پشاور کے سرتاج روحانی وعلمی ’’گیلانی خانوادے‘‘ کی کوششیں اُور قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اِس خانوادے کا سیاسی اُور غیرمشروط تعلق ’پاکستان کی خالق جماعت ’مسلم لیگ‘ سے اُس وقت تک استوار رہا جب تک کہ مسلم لیگ کئی شاخوں میں بٹ نہیں گئی اور یہی وہ صدمہ تھا‘ جس نے ’اندرون یکہ توت گیٹ‘ کے اِس ’سادات گھرانے‘ کو عملی سیاست سے آہستہ آہستہ الگ کر دیا۔ آج بھی اندرون پشاور میں اِن کی حمایت کے بغیر کسی کی انتخابی اُمیدوار کی یقینی کامیابی مشکل ہی نہیں ناممکن سمجھی جاتی ہے اُور بات اِس گھرانے کی صرف انتخابی حمایت کی حد تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ 

پشاور نے وہ درخشاں دور بھی دیکھا جب ’شاہ احمد نورانی‘ کی قیادت میں ملک بھر سے علماء و مشائخ نے فیصلہ کیا کہ ’’خانقاہوں سے نکل کر رسم شبیری‘ اَدا کی جائے۔ تب آستانہ عالیہ قادریہ حسنیہ‘ کوچہ آقا پیر جان پر ’گنبد خضریٰ‘ سے مزین سبز پرچم لہرانے لگا اور یوں 70ء کی دہائی (آئین پاکستان کی منظوری کے بعد ہوئے پہلے عام انتخابات) سے پیرطریقت سیّد محمد امیر شاہ قادری گیلانی المعروف مولوی جی رحمۃ اللہ علیہ ’جمعیت علمائےپاکستان (نورانی) کا حصہ رہے‘ جن کے وصال کے بعد بھی ’شمال مغربی سرحدی صوبے‘ کی صدارت و مرکزی فیصلہ سازی میں پشاور کو کلیدی مقام حاصل رہا لیکن پھر ’جمعیت علمائے پاکستان‘ پر ’جمعیت سادات‘ (خاندانی مفادات) حاوی ہوتے چلے گئے۔ تقسیم در تقسیم ہو گئی! جس کے بارے خاموشی ہی بہتر ہے!

پانچ دینی جماعتوں کا اِتحاد ’متحدہ مجلس عمل‘ نومبر 2017ء میں بحال ہوا‘ جس کے بعد اُمید تھی کہ دینی جماعتوں کا ’’ووٹ بینک‘‘ تقسیم ہونے سے بچ جائے گا‘ لیکن جمعیت علمائے اِسلام (فضل الرحمن)‘ جماعت اِسلامی‘ جمعیت علمائے پاکستان (اِمام نورانی)‘ جماعت اِلحدیث اُور تحریک اِسلامی پر مشتمل اِس اتحاد میں شامل قوتوں کی ’’انتخابی توقعات اُور اُمیدیں‘‘ شاید پوری نہ ہوں کیونکہ ’ہوم ورک‘ نہیں کیا گیا۔ دنیاوی اہداف رکھنے والی سیاسی جماعتوں کی طرح یہاں بھی داخلی اختلافات ختم کرنے کو خاطرخواہ اہمیت نہیں دی گئی۔ بہرحال سوال یہ نہیں کہ 2007ء سے 2017ء تک ’ایم ایم اے‘ کیوں غیرفعال رہی اور آخر عام انتخابات کے موقع پر ہی ہر طرف سے ’اتحاد اتحاد کی صدائیں‘ اٹھنا کیوں شروع ہو جاتی ہیں؟ بلکہ توجہ طلب امر یہ ہے کہ عام انتخابات میں سرمایہ کاری کرنے والے کاروباری گھرانے دینی جماعتوں کے اتحاد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں لیکن یہ بات دھڑے بندیوں پر فخر کرنے والوں کی سمجھ میں نہیں آ رہی کہ اُن کی قیمت بالخصوص عقیدت مند حلقوں (مریدوں) کی وفاداریاں پیش نظر رکھتے ہوئے لگائی جاتی ہیں۔ (قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند)۔ 

قابل فہم ہے کہ غریب اور متوسط آمدنی رکھنے والے طبقات مالی و معاشی مجبوریوں کی وجہ سے اپنا ووٹ بیچ دیں لیکن گدی نشین بھی ’بہ صد سامان رسوائی سر بازار می رقصم‘ ہو جائیں گے‘ آنکھوں دیکھی اِس حقیقت کا یقین نہیں ہو رہا۔ یادش بخیر 2002ء میں ’ایم ایم اے‘ تخلیق کی گئی تو پہلی ہی مرتبہ اِس انتخابی اتحاد نے قومی اسمبلی کی 58 نشستیں جیت کر سب کو حیران کر دیا تھا‘ اور یہاں بھی بات ’حیرانی کی حد تک ہی محدود رہی‘ جس کے بارے میں مزید کچھ کہنے سے خاموشی بہتر ہے!

پچیس جولائی کے (متوقع) عام انتخابات کے لئے ’ایم ایم اے‘ نے 12 نکاتی انتخابی منشور کا اعلان کیا‘ جس کے بنیادی نکات میں ’شریعت کا نفاذ‘ اور عالمی سطح پر مسلمان ممالک کا ایک ایسا اتحاد تشکیل دینا شامل ہے‘ جو مسلم اُمہ کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی آمادگی‘ بیداری اور تیاری کر سکے۔ یہ اہداف کیسے حاصل ہو سکیں گے جبکہ ’سنی مکتب فکر‘ کے پاس انقلاب اسلامی ایران جیسی ایک کامیابی عملی مثال بھی نہیں!؟ اگر بات پشاور کے تناظر اور ’گیلانی سادات گھرانے‘ کی عام انتخابات کے حوالے سے حکمت عملی کے حوالے سے کی جائے تو پشاور ’شاہ احمد نورانی مرحوم و مغفور‘ کے وارث گروپ ’اِمام نورانی‘ کی بجائے ’صاحبزادہ ابوالخیر‘ کے ساتھ کھڑا ہے‘ جنہوں نے 2014ء میں اپنا الگ دھڑا بنا لیا تھا۔ اب جمعیت علمائے پاکستان کے اِس گروہ کو ’نورانی‘ کے لقب سے پہچانا جاتا ہے جبکہ ’اِمام نورانی‘ گروپ ’ایم ایم اے‘ کا حصہ ہے۔ 

رواں ماہ ہونے والے عام انتخابات کے لئے ’’بریلوی مکتبۂ فکر‘ سے تعلق رکھنے والے ’’جمعیت علمائے پاکستان‘ نورانی گروپ‘‘ نے ’متحدہ نفاذ نظام مصطفی محاذ‘ کا حصہ بننے کو ترجیح دی‘ لیکن چونکہ اِس اتحاد کی الیکشن کمشن میں بطور سیاسی پارٹی باضابطہ رکنیت حاصل نہیں‘ اِس لئے اِن کے تمام نامزد اُمیدوار آزاد حیثیت سے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ جمعیت علمائے پاکستان ’امام نورانی‘ نے الیکشن کمشن کے ساتھ رجسٹریشن نہ ہونے کی کمی ’ایم ایم اے‘ کے انتخابی نشان کے ذریعے پوری کر لی جو زیادہ دانشمندانہ فیصلہ دکھائی دیتا ہے کیونکہ ’’موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں۔‘‘ پشاور کی سطح پر ’جمعیت علمائے پاکستان ’نورانی‘ اور ’اِمام نورانی‘ اقلیتی گروپوں کی سوچ اور پسند الگ الگ ہے۔ نورانی گروپ کے مرکزی نائب صدر سیّد محمد سبطین گیلانی (تاج آغا) نے اندرون پشاور سے پیپلزپارٹی کی صوبائی نشست کے لئے حمایت کا اعلان کردیا ہے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کی آئندہ چند روز میں حمایت کا اعلان متوقع ہے۔ یوں 2 مختلف النظریات جماعتوں کے ساتھ انتخابی اتحاد اُس گھرانے کا عکاس بن گیا ہے‘ جس کو اِس حد تک ناتواں کر دیا گیا ہے کہ اُس کا اثرورسوخ 2 انتخابی نشستوں کی حد تک محدود ہو گیا ہے! 

لمحۂ فکریہ بھی ہے کہ صرف پشاور ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں ہونے والے عام انتخابات پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ اگر عام انتخابات کا انعقاد ہو بھی جاتا ہے تو اِن کا قابل یقین حد تک شفاف ہونا بھی ضروری ہے جبکہ دہشت گردی کے باعث بڑی جماعتوں نے سیاسی سرگرمیاں پہلے ہی محدود کر دی ہیں تاہم ایک جماعت (تحریک انصاف) کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت کو دیگر اپنے لئے مشکلات قرار دے رہے ہیں! کسی ایک سیاسی جماعت کو چھوڑ کر دیگر سبھی سیاسی جماعتوں کی طرف سے ایک ہی نوعیت کی شکایت اور بیانات‘ محض حسن اتفاق اور گٹھ جوڑ یا سازش کا نتیجہ نہیں۔ جب ساری جماعتیں ایک ہی قسم کے حالات سے دوچار ہو جائیں تو پھر ذمہ داروں‘ بالخصوص الیکشن کمشن اور نگران حکومتوں کو سوچنا پڑے گا کہ ایک آدھ کے سوأ سبھی تحفظات کا اظہار کیوں کررہی ہیں اُور چاروں طرف سے ایک ہی آواز کیوں اُٹھ رہی ہے؟ کہیں یہ انتخابات (جمہوری عمل) کے خلاف سازش تو نہیں؟
۔۔۔۔


Tuesday, July 17, 2018

July 2018: What we need? Elections, Politics and [POLITICAL] Reconciliation!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
انتخابات: سیاست اُور مفاہمت!
پاکستان کی ’70 سالہ‘ سیاسی تاریخ میں جن ’مشکل اَدوار‘ کا ذکر ملتا ہے‘ اُن کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ’قومی اِداروں‘ کے درمیان ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ’اِختلاف رائے‘ پایا جاتا ہے اُور جب تک یہ ’’اِختلاف رائے‘ اِتفاق رائے‘‘ میں تبدیل نہیں ہوتا‘ اُس وقت تک قومی مسائل کے حل کے لئے ترجیحات کے تعین اور اِن ترجیحات کو عملی جامہ پہنانا ممکن نہیں ہوگا۔ سردست پاکستان کی ضروریات میں شامل ہے 1: عدالتی اِصلاحات (جوڈیشل ریفارمز) کے ذریعے کم سے کم وقت اُور خرچ میں اِنصاف تک رسائیاور بلاامتیاز احتساب کا عمل۔ 3: اِنتخابی اِصلاحات (اِلیکٹورل ریفارمز) جن کے ذریعے عملاً غیرمتنازعہ‘ شفاف اُور آزادانہ اِنتخابات کا اِنعقاد ممکن ہو۔ 3: مؤثر خارجہ اَمور (فارن پالیسی) جس کے ذریعے خطے اُور عالمی سطح پر پاکستان کے مفادات کو سفارتی طور پر اُجاگر کیا جائے۔ 4: دفاع (ڈیفنس)‘ دفاعی پیداوار و صلاحیت میں اِضافہ اُور داخلہ حفاظتی اَمور (ہوم لینڈ سیکورٹی) جن کے ذریعے اِنتہاء پسندی اُور دہشت گردی جیسے چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔5: سیاسی قیادت جو ایک دوسرے کے پاؤں کھینچنے کی بجائے عوام کی ’نبض آشنا‘ ہو اُور 6: اِحساس ذمہ داری کے ساتھ ذرائع ابلاغ (الیکٹرانک اُور پرنٹ میڈیا) کا مثبت کردار۔ ہمیں اُس ’مستقل اِنکاری کیفیت‘ سے بھی باہر آنا ہے‘ جس میں فوج‘ عدلیہ بشمول اِنسداد بدعنوانی اسٹیبلشمنٹ‘سیاست دانوں‘ افسرشاہی اور ذرائع ابلاغ کے وجودکو تسلیم نہیں کیا جاتا اور جب تک اِن 6 شعبوں کے فیصلہ سازوں کے درمیان ’’قومی مفاہمت‘‘ نہیں ہوتی‘ جس میں مل بیٹھ کر ہر طاقت اپنے اپنے کردار اُور ذمہ داریوں کا تعین نہیں کر لیتے اُس وقت تک وقفوں سے ’عام اِنتخابات‘ کا اِنعقاد کروانا کافی نہیں ہوگا۔

کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن پاکستان کے ’’سیاسی کلچر‘‘ میں فوج کی حکمرانی اب ایک ’زندہ روایت‘ جیسی حقیقت حاصل کر چکی ہے۔ دوسری طرف سیاسی جماعتیں باہم بر سرِ پیکار ہوتی ہیں‘ سیاست دان ایک دوسرے کے وجود کو برداشت کرنے سے انکاری ہیں‘ سول حکومتیں بدانتظامی‘ عدمِ استحکام اور اخلاقی انحطاط کا بدترین نمونہ پیش کر رہی ہیں۔ عوام الناس حکمرانوں کے آگے اپنے مسائل حل نہ ہونے کا رونا روتے ہیں۔ غیر مقبول مذہبی اور سیاسی گروہ فوج کو حکومت سنبھالنے کی پیشکش کرتے ہیں اور فوجی پوری آمادگیِ دل کے ساتھ اس صداے خوش نوا پر لبیک کہتے اور قوم کے مسیحا کا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ وہ آئین کو بالائے طاق رکھ کر مسندِ اقتدار پر نہ صرف فائز ہوتے ہیں بلکہ اقتدار کے زیادہ سے زیادہ مظاہر کو اپنی ذات میں مرتکز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ استحکام حاصل کر لینے کے بعد اپنے اقتدار کے آئینی جواز کے لئے سرگرمِ عمل ہو جاتے ہیں۔ اقتدار کو طول دینے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اور بالآخر عوام کی ناپسندیدگی کا داغ اپنے دامن پر سجا کر رخصت ہو جاتے ہیں۔

اس روایت کا آغاز ’27 اکتوبر 1958ء‘ میں جنرل ایوب خان صاحب کے مارشل لاء سے ہوا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سکندر مرزا نے سیاست دانوں کے پر زور ایماء پر ’مارچ 1959ء‘ میں عام انتخابات کے انعقاد کا وعدہ کر رکھا تھا۔ سیاسی سرگرمیاں زور پکڑ رہی تھیں۔ صاف نظر آ رہا تھا کہ اب سکندر مرزا کے لئے عام انتخابات سے گریز ممکن نہیں ہو گا اور عام انتخابات کے نتیجے میں اسے لازماً کرسیِ صدارت سے محروم ہونا پڑے گا۔ محرومی کے اس خدشے کے پیشِ نظر اُس نے جنرل ایوب خان کے ذریعے سے مارشل لاء نافذ کر دیا اور اقتدار میں آنے کے بعد سیاسی اعتبار سے تین بڑے اقدامات کئے۔ 1: انہوں نے سکندر مرزا کو منصبِ صدارت سے اتارا اور خوداس پر فائز ہو گئے۔2: 1956ء کے آئین کو منسوخ کیا۔3: ایک موقع پرسیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی اور سیاست دانوں ہی کو سیاست کے لئے نااہل قرار دے دیا۔ ایوب خان ’25 مارچ 1969ء‘ کے روز رخصت ہوئے تو اس دوران میں انہوں نے جمہوریت کا نعرہ بھی لگایا‘ عام انتخابات بھی کرائے اور آئین بھی تشکیل دیا مگرتاریخ میں وہ ایک آمراورمخالفِ جمہوریت ہی کی حیثیت سے جانے گئے۔ 

عوام کی زور دار احتجاجی تحریک کے نتیجے میں ایوب خان کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔اس موقع پر انہی کے وضع کردہ آئین کا تقاضا تھا کہ اقتدار قومی اسمبلی کے اسپیکر کو منتقل کیا جائے مگر انہوں نے حکومت چیف آف آرمی سٹاف جنرل یحییٰ خان کے سپرد کی۔ جنرل یحییٰ نے دو سال حکومت کی‘ اس دوران میں ان کے اہم سیاسی اقدامات یہ تھے:1: مارشل لاء نافذ کیا۔2: عوام سے رائے لئے بغیر ’ون یونٹ‘ کو توڑ دیا۔3: انتخابات کے بعد اقتدار میں اپنی شرکت کی تگ و دو‘ منتخب نمائندوں کو انتقالِ اقتدار میں اِلتوأ اور مشرقی حصے میں فوجی کاروائی جیسے بعض ایسے معاملات کئے کہ جنہوں نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی تحریک کوکامیاب بنانے میں حتمی کردار ادا کیا۔ یحییٰ خان کے بعد کچھ عرصہ تک جناب ذوالفقار علی بھٹو کی سول حکومت قائم رہی۔1977ء کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی بنیاد پر بھٹو حکومت کے خلاف ایک زوردار عوامی تحریک شروع ہوئی اور ملک سیاسی خلفشار کا شکار ہو گیا۔ اِس صورتحال کو بنیاد بنا کر’16 ستمبر 1978ء‘ کے روز جنرل ضیاء الحق نے عنانِ حکومت سنبھالی۔ اور اعلان کیا کہ وہ ’90 روز‘کے اندر انتخابات کرا کے رخصت ہو جائیں گے مگر وہ 10سال تک حکمرانی کے منصب پر فائز رہے اُور ’17 اگست 1988ء‘ فرشتۂ اجل ہی اُنہیں مسندِ اقتدار سے ہٹانے میں کامیاب ہوا۔ اس دوران میں وہ بتدریج اپنے فوجی تشخص کو کم کرتے چلے گئے اور آہستہ آہستہ جمہوری اداروں کو بھی کسی حد تک بحال کر دیا مگر اقتدار سے علیحدگی کو وہ کسی لمحے بھی گوارا کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔

ضیاء الحق کے سیاسی اقدامات میں 1: آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مارشل لاء کا نفاذ۔ 2: ریفرنڈم کے ذریعے سے اپنے اقتدار کو آئینی تحفظ دینے کی کوشش۔ 3: غیر جماعتی انتخابات کا انعقاد۔4: گروہی‘ انتہاء پسندانہ اور فرقہ ورانہ سیاست (کلاشنکوف کلچر) کا فروغ شامل تھا۔ اُس وقت کی عدالت عظمیٰ نے حسبِ سابق انہیں سندِ جواز فراہم کر دی ہے۔ لب لباب یہ ہے کہ جب کبھی اور جس کسی بھی ضرورت کے تحت فوج اقتدار پر قابض ہوتی ہے تو اِس سے پیدا ہونے والے چند مسائل میں سرفہرست ’دین کے مسلمات‘ کا مجروح ہونا شامل ہوتا ہے۔ اسلام نے اصول طے کردیا ہے کہ: ’وامرہم شوریٰ بینہم‘ یعنی ’’مسلمانوں کا نظام ان کے باہمی مشورے پر مبنی ہے۔‘‘ مسلمان جب بھی کوئی اجتماعی نظام قائم کریں گے‘ اس کا اصلِ اصول یہی قاعدہ ہو گا۔ اس کامطلب یہ ہے کہ ریاست کی سطح پر اجتماعی نوعیت کا کوئی فیصلہ مسلمانوں کی مشاورت کے بغیر نہیں ہوگا اور اس ضمن میں ان کی رائے کو حتمی حیثیت حاصل ہو گی۔ جب یہ اصول طے ہے کہ مسلمانوں کے اجتماعی نظام کی اساس ’امرہم شوریٰ بینھم‘ ہے‘ اس لئے ان کے امرا و حکام کا انتخاب اور حکومت و امارت کا انعقاد مشورے ہی سے ہو گا اور امارت کا منصب سنبھال لینے کے بعد بھی وہ یہ اختیار نہیں رکھتے کہ اجتماعی معاملات میں مسلمانوں کے اجماع یا اکثریت کی رائے کو رد کر دیں۔ فوج کے بلواسطہ یا بلاواسطہ حکمرانی سے دوسرا مسئلہ ایسے اقدامات کی صورت ظاہرہوتا ہے‘ جو آئین کی خلاف ورزی پر منتج ہوتے ہیں۔ 

ہمارا آئین درحقیقت وہ دستور العمل ہے جس کے بارے میں قوم نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ وہ اپنے اجتماعی امور کو اس کی روشنی میں انجام دے گی۔ اس میں ہم نے قومی سطح پر یہ طے کیا ہے کہ ہمارانظامِ حکومت کیا ہو گا؟ حکومت کس طریقے سے وجود میں آئے گی اور کس طریقے سے اسے تبدیل کیا جا سکے گا؟ سربراہانِ ریاست و حکومت کس طریقے سے منتخب ہوں گے‘ ان کے کیا ا ختیارات ہوں گے اور کس طرح ان کا مواخذہ کیا جا سکے گا؟ یہ اور اس نوعیت کے بے شمار امور جزئیات کی حد تک دستور میں طے ہیں صرف قومی مفاہمت کے ذریعے اُن کی حدود (دائرہ کار) وضع کرنا ہے۔ کسی بھی قوم کا سیاسی استحکام اس بات میں مضمر ہوتا ہے کہ وہاں کی تمام قوتیں (فوج‘ عدلیہ‘ انسداد بدعنوانی کے ادارے‘ سیاست دان‘ افسرشاہی اور ذرائع ابلاغ) آئین کے ہر ایک لفظ پر پوری دیانت داری سے عمل کریں‘ بصورت دیگر مسائل اور بحرانوں سے نکلنے کی کوئی دوسری صورت نہیں!

Thursday, June 28, 2018

Jun2018: Election Engineering for July 2018 polls!

مہمان کالم:شبیرحسین امام
الیکشن انجنیئرنگ
عام انتخابات کی بہار میں نجی و سرکاری ٹیلی ویژن چینلوں پر جاری بحث کا زاویہ اور زور (focus) جن موضوعات پر ہے اُن میں حیرت انگیز طور پر مماثلت پائی جاتی ہے تو کیا یہ حسن اِتفاق ہے؟ اِس مرتبہ الیکشن کمشن کی جانب سے انتخابی حلقہ بندیاں ازسرنو مرتب کرنے کا دعوی کیا گیا ہے لیکن نئی حلقہ بندیوں کی حدود اور ماضی کی حلقہ بندیوں میں بنیادی ردوبدل کے بارے میں معلومات جاری نہیں کی جا رہیں تو کیا یہ بھی حسن اتفاق ہے؟ 

الیکشن کمشن آف پاکستان کے پاس ’جیوگرافک انفارمیشن سسٹم (جی آئی ایس)‘ کے تحت مرتب شدہ جغرافیائی اعدادوشمار سے متعلق ڈیٹا‘‘ نہیں‘ کیا یہ حسن اتفاق ہی کا اعجاز ہے؟ طویل تاخیر کے بعد غیرضروری جلدبازی میں بناء ’GiS‘ مردم و خانہ شماری کرنا بھی حسن اتفاق ہے؟ بہت بڑے پیمانے پر ’اِنتخابی نتائج‘ پہلے ہی سے تیار کر لئے گئے ہیں‘ جنہیں عملی جامہ پہنانے کے لئے ’پچیس جولائی‘ کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ قارئین سے التماس ہے کہ اُس بااختیار ’درپردہ قوت‘ کے بارے میں نہ پوچھیں جو اِس پوری کہانی کی تخلیق کار ہے اور اگر کوئی اپنے ذہن سے‘ اپنے رسک پر‘ نتیجہ اخذ کرنا چاہے تو دیکھ لے کہ پاکستان میں وہ طاقت کونسی ہے جس کے بارے میں اظہار خیال کرنے کی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے!؟

الیکشن انجنیئرنگ کا سارا کمال ’انتخابی حلقہ بندیوں‘ میں چھپا ہوا ہے!

نئی اِنتخابی حلقہ بندیوں کے ’اَثرات بصورت نتائج‘ ظاہر ہونے کے بعد دو طرح کے ممکنہ ردعمل دیکھنے میں آئیں گے۔ عوام کی حیرانی و پریشانی ظاہر ہو سکتی ہے‘ کیونکہ بڑی تعداد میں غیرمقبول افراد منتخب ہو جائیں گے اور دوسرا ممکنہ ردعمل سیاسی جماعتوں اور نامور سیاسی کرداروں کی طرف سے ’احتجاجی تحریک‘ کی صورت دیکھنے میں آ سکتا ہے‘ جس کے بعد امن و امان کی صورتحال اِس حد تک خراب ہو جائے گی کہ (بہ امر مجبوری) چند برس یا برس ہا برس کے لئے جمہوریت معطل کر دی جائے۔ مئی 2013ء کے (دسویں) عام انتخابات اِس لحاظ سے منفرد تھے کہ صوبائی اسمبلیوں کے انتخابی نتائج کے بعد چاروں صوبوں میں مختلف سیاسی جماعتیں اکثریتی جماعتیں بن کر سامنے آئیں۔ خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف‘ پنجاب میں مسلم لیگ نواز‘ سندھ میں پیپلز پارٹی پارلیمینٹرینز جبکہ بلوچستان میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔ پاکستان میں براہِ راست انتخاب والے حلقوں کی کل تعداد 849 ہے۔ قومی اسمبلی کے 272حلقوں کی تعداد کو منہا کردیا جائے تو ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیوں کے لئے‘ براہِ راست انتخابی حلقوں کی تعداد 577ہے‘ جن میں پنجاب کے 297‘ سندھ کے 130‘ خیبر پختونخوا کے 99اور بلوچستان کے 51 انتخابی حلقے شامل ہیں۔

سائنسی تجزیہ یہ ہو سکتا ہے کہ نواز لیگ نے پنجاب اسمبلی کی 297نشستوں میں سے 212 حاصل کیں جو 71فیصد تھیں۔ پیپلز پارٹی نے سندھ اسمبلی کی 130نشستوں میں سے 70حاصل کیں جو 54فیصد تھیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف نے خیبر پختونخوا اسمبلی کی 99 میں سے 35 نشستیں حاصل کیں‘ جو 34فیصد تھا۔ پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے 51میں سے 10نشستیں حاصل کیں جو 20فیصد بنتی تھیں۔ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ پنجاب میں نواز لیگ کے مدمقابل سیاسی حریفوں کو صرف 29فیصد‘ سندھ میں پیپلز پارٹی کے مدِمقابل سیاسی حریفوں کو 46فیصد جبکہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے مدِمقابل سیاسی حریفوں کو 66فیصد ووٹ ملے تھے۔ یوں پاکستان کی تین بڑی سیاسی جماعتوں (نواز لیگ‘ پییپلزپارٹی اور تحریکِ انصاف) کو صوبائی اسمبلیوں میں ملنے والی نشستوں کی تعداد سے تھا کہ نواز لیگ اپنے انتخابی ’’بیس کیمپ پنجاب‘‘ میں تینوں سیاسی جماعتوں کی نسبت زیادہ مضبوط جبکہ تحریکِ انصاف اپنے انتخابی ’’بیس کیمپ خیبر پختونخوا‘‘ میں تینوں سیاسی جماعتوں کی نسبت سب سے کمزور تھی۔ لائق توجہ ہے کہ نواز لیگ نے پنجاب میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ‘ پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ میں سادہ اکثریت کے ساتھ جبکہ خیبرپختونخوا میں تحریکِ انصاف کو سادہ اکثریت کے ساتھ‘ جماعت اسلامی‘ قومی وطن پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی کے ساتھ ’غیرفطری اتحاد‘ کرنا پڑا۔ سوال یہ ہے کہ ’’عام انتخابات جولائی 2018ء‘‘ میں کیا ہونے جارہا ہے؟ 

مئی 2013ء کے مقابلے (متوقع) عام انتخابات میں سوائے تحریک انصاف ہر سیاسی جماعت خود کو مشکل میں تصور کر رہی ہے اور اِس سے زیادہ موافق (آسان) سیاسی و انتخابی حالات ’غنیمت‘ سے کم نہیں تو کیا اِسے ’حسن اتفاق‘ قرار دیا جائے!؟ نئے انتخابات میں آزاد حیثیت سے حصہ لینے والوں کے انتخابی کامیابی ناممکن حد تک دشوار بنا دی گئی ہے بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ آزاد اُمیدوار محدود مالی وسائل اور انتخابی تجربے کی بنیاد پر ٹھوکریں کھاتے ہوئے یہ تک معلوم نہیں کر سکیں گے کہ اُن کے حلقے کہاں سے شروع اور کہاں ختم ہو رہے ہیں! 

الیکشن کمشن اگر 28 جون کو حسب اعلان انتخابی حلقہ بندیوں کے اعدادوشمار اور پولنگ مراکز کے نام جاری کر دیتا ہے تو بھی تین ہفتوں میں پولنگ اسٹیشنوں کو ڈھونڈنا اور اِس بات کا موازنہ کرنا کہ متعلقہ ووٹرز کے لئے یہ پولنگ اسٹیشن کتنے قابل رسائی (نزدیک) ہیں اور کیا پولنگ مراکز پر درج کی گئی ووٹروں کی تعداد (شمار) منطقی ہے کہ وہ مقررہ پولنگ اوقات میں اپنا ووٹ سہولت سے ڈال سکیں گے۔ یاد رہے کہ الیکشن کمشن پولنگ کے وقت پر نظرثانی کرنے کی درخواست پہلے ہی مسترد کر چکا ہے تو کہیں موسم گرما کی شدت کو نظرانداز کرتے ہوئے ووٹروں کو انتخاب نہیں بلکہ امتحان میں مبتلا کر دیا گیا ہے؟ پولنگ مراکز پر سایہ دار جگہیں‘ پینے کے صاف اور ٹھنڈے پانی سمیت دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنانا ایک الگ ضرورت ہے۔ 

خیبر پختونخوا کے تناظر میں ’’تبدیلی‘‘ کا مطلب یہ بنتا ہے کہ عوام کی اکثریت ہر پانچ برس بعد ’سیاسی جماعت بدل‘ لیتی ہے اور پانچ برس بمشکل اتحادی حکومت چلانے والی ’تحریک انصاف‘ کو اگلے پانچ برس کے لئے مضبوط مینڈیٹ ملنے کی اُمید تو ہے لیکن وہ عوامی نیشنل پارٹی‘ قومی وطن پارٹی‘ جمیعت علمائے اسلام (فضل الرحمن) اور جماعت اسلامی کی قیادت میں ’’متحدہ مجلس عمل‘‘ جیسے چیلنجز کو خاطر میں نہیں لا رہی! تو اِس کی وجہ وہ ’’الیکشن انجنیئرنگ‘‘ ہے‘ جو بظاہر دکھائی نہیں دے رہی لیکن اِس کی موجودگی نہ تو ’خارج اَز امکان‘ ہے بلکہ ایک ایسی حقیقت‘ جس میں تہہ در تہہ سچائیاں چھپی ہوئی ہیں! ’’مخالف ہو گئے مرکز کے لیکن ۔۔۔ اگر ٹوٹا نہ ہم سے دائرہ تو؟ (وکاس شرما رازؔ )۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Saturday, June 23, 2018

Jun2018: Jaag Peshori Jaag

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
سماج بمقابلہ اِنتخاب!
سیاست کا اعجاز یہ ہے کہ اِس میں ظاہری بیان‘ مدعا اور مافی الضمیر بالکل مختلف اور الگ الگ (متضاد) بھی ہو سکتے ہیں۔ متوقع عام اِنتخابات (پچیس جولائی) کے لئے جہاں ’تجربہ کار‘ اُور ’مجرب‘ سیاسی جماعتیں مدمقابل ہیں‘ وہیں ناراض سیاسی کارکن ’آزاد حیثیت‘ سے شکار کرنے نکل پڑے ہیں‘ تاہم آئندہ انتخابات کے لئے نہایت ہی کم تعداد میں ایسے نئے چہرے (تصورات) بھی متعارف ہوئے ہیں‘ جنہیں پذیرائی کی صورت ملنے والی ’سماجی کامیابیاں‘ انتخابی کامیابیوں‘ سے کئی گنا زیادہ بڑھ کر ہیں اور اِس دعوے کی دلیل یہ ہے کہ ایک تو ’نئی سیاسی جماعتوں‘ اور بناء سہارے و انتخابی تجربے ووٹروں کی توجہ حاصل کرنا معمولی بات نہیں اور دوسرا‘ روائتی سیاسی جماعتوں کے مقابلے ’’مقامی مسائل کا مقامی حل تجویز‘‘ کرنے والوں کی دعوت و تبلیغ پر ’سوچ بچار اُور گفت و شنید‘ کا جاری عمل کیا رائیگاں جائے گا؟ ’حرکت میں برکت‘ کے سیدھے سادے اصول کی عملی تشریح کرنے والی جماعت ’ہندکووان پاکستان تحریک‘ نے ’جاگ پشاور جاگ‘ کی بجائے ’جاگ پشاوری جاگ‘ کے عنوان (نعرے) سے انتخابی جدوجہد کا آغاز کیا ہے‘ جو سنجیدہ غوروخوض کا متقاضی ہے لیکن بدقسمتی سے اِس تحریک کے اِردگرد اُور فیصلہ سازوں میں وہی ’نامی گرامی‘ کردار نظر آتے ہیں جو ماضی میں پشاور کو لوٹنے والوں کی تعریفوں کے عوض اپنی نوکریاں پکی کرنے اُور مراعات حاصل کرتے رہے اور آج بھی علمی ادبی اور نشری و نشریاتی اداروں (حلقوں) اور سرکاری محافل کی رونقوں میں اضافے کے لئے مدعو کئے جاتے ہیں‘ ملکی و غیرملکی سرکاری دوروں میں شامل ہو اہمیت پاتے ہیں اور اعزازات سے نوازے جاتے ہیں۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ ’جاگ پشاوری جاگ‘ انجمن ستائش باہمی جیسی تنظیم سازی سے زیادہ کچھ حاصل نہیں کر پائے گی کیونکہ تحریک میں ’زندگی کی رمق‘ تو موجود ہے لیکن وہ ’سپارک (spark)‘ نہیں جس سے انجن چل پڑے اور گاڑی رواں دواں ہو۔ کچھ عرصہ بعد سننے کو ملے گا کہ تحریک کے خالق اور روح رواں کا سرمایہ چند خوشامدیوں کی جیبوں میں منتقل ہو چکا ہے اور اُن سے حاصل ہونے والا ’بیش قیمت تجربہ‘ ایک ایسا حافظہ ہے‘ جس کے چھن جانے کے لئے خدا سے دعا کی جاتی ہے!

’جاگ پشوری جاگ‘ کو متعصبانہ قرار دینے والے اگر آنکھوں پر لگی ہوئی تعصب کی عینک اُتار کر زمینی حقائق کا جائزہ لیں تو اُن پر (روز روشن کی طرح) عیاں ہو جائے گا کہ ۔۔۔ کس طرح پشاور پر کیا گزر رہی ہے۔ پشاور اُور بالخصوص پشاور کی ایک قدیمی زبان ’ہندکو‘ بولنے والے مقامی باشندے (ہندکووان) خود کو کس قدر ’راندۂ درگاہ‘ محسوس کر رہے ہیں۔ کس طرح پشاور میں تعمیروترقی کا عمل اِس شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی اور اس کی ضروریات کے لئے کافی نہیں رہا۔ کس طرح سرکاری ملازمتوں میں ہندکووانوں کے حقوق غصب ہوئے ہیں اور یہ عمل آج بھی جاری ہے۔ سیاسی ترجیحات کی وجہ سے ضلع پشاور سے تعلق رکھنے والوں پر دیگر اضلاع کو فوقیت کیوں حاصل ہے؟ 

کیا وجہ ہے کہ سب سے زیادہ قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں ہونے کے باوجود بھی پشاور کو قانون ساز صوبائی اسمبلی کی قیادت (وزارت اعلیٰ) نہیں ملتی؟ 

عام انتخابات تو ایک بہانہ ہے درپردہ ’ہندکووان تحریک‘ کا (خالص و بنیادی) مقصد یہ ہے کہ پشاور اور بالخصوص سہل پسند‘ اپنے حال میں مست لیکن گردوپیش میں ہونے والی ’سیاسی سازشوں‘ سے بے خبر پشاوریوں (جنہیں عرف عام میں پشتو زبان کے لفظ (اصطلاح) ’خاریان‘ معنی ’شہری لوگ‘ کہا جاتا ہے) اُنہیں جھنجوڑ جھنجوڑ کر بیدار کیا جائے اور اُس تعصب کی موجودگی کا اِحساس دلایا جائے جس سے وہ مسلسل انکار کرتے کرتے اِس انتہاء کو پہنچ چکے ہیں کہ آج اُن کی نمائندگی‘ شناخت‘ ورثہ‘ ثقافت‘ تاریخ‘ ماضی و اثاثے حتی کہ سنجیدہ ’ہندکو زبان‘ تک کا وجود خطرے میں ہے بالخصوص جب ہندکو زبان کو ہنسی مذاق اور طنز و مزاح کے لئے مختص کیا جا رہا ہو۔ آج ہندکو زبان کا کوئی نجی ٹیلی ویژن چینل‘ ریڈیو اسٹیشن اور روزنامہ نہیں تو کیا یہ محض اتفاق ہے؟ 

کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن ’ہندکووان‘ کہیں ثقافتی‘ تو کہیں سماجی اُور سیاسی (انتخابی) طور پر متحد ہو رہے ہیں کیونکہ یہ اپنے تہذیبی ورثے اُور زبان و تاریخی اثاثے کی خاطرخواہ حفاظت نہیں کر پائے ہیں۔ ہندکووانوں نے ہمیشہ فراخ دلی کا مظاہرہ کیا اور اِسی ایک خوبی کو اُن کی سب سے بڑی کمزوری سمجھا گیا۔

حالات کی نزاکت کا تقاضا (احساس) اُور اِس بات کا اندیشہ اپنی جگہ موجود ہے کہ ۔۔۔ اگر اپنے حقوق اُور شناخت کے لئے ’ہندکووان‘ جلد متحد نہ ہوئے تو اِن کی بقاء کو لاحق خطرات (کی تعداد اُور شدت) میں اِضافہ ہوتا چلے گا لیکن کسی علاج کی کامیابی (تاثیر) کا پہلا اَصول یہ ہوتا ہے کہ ’بیماری کی وجہ بننے والے سبب سے پرہیز کیا جائے یعنی خود کو دھوکہ دینے کی بجائے اُن تمام داخلی و خارجی اثرات کی شناخت کر لی جائے جن کی موجودگی میں علاج کی کوئی بھی صورت کارگر ثابت نہیں ہوگی بلکہ عارضہ بڑھتا چلا جائے گا۔ جملہ معلوم (سیاسی) کردار جنہوں نے پشاور کی تعمیروترقی کے نام پر اپنے اَثاثوں میں اِضافہ کیا‘ جنہوں نے پشاور کے نام پر پشاوریوں کو دھوکہ دیا‘ اُن سے اِظہار و اعلان بیزاری کے لئے ایک ’نعرۂ مستانہ‘ وقت کی ضرورت ہے۔ 
’’ملتے جلتے‘ ہرے بھرے چہرے: تازہ تازہ دُھلے ہوئے چہرے
دھوکہ کھانے سے یاد آیا ہے: پھر الیکشن‘ نکل پڑے چہرے!؟‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔


Friday, June 22, 2018

Jun2018: Electioneering NA21 Mardan - PTI vs ANP with much to show as performance!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
اِنتخابی منظرنامہ: NA-21
خیبرپختونخوا کی سیاست میں ’عام انتخابات‘ کو ہمیشہ ہی سے خاص اہمیت حاصل رہی ہے جس کا انتظار کرنے والے دیگر صوبوں کے مقابلے مثالی (روائتی) صبروتحمل کا مظاہرہ کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ خیبرپختونخوا ملک کا ایسا واحد صوبہ ہے جس کے ہاں ’نئے سیاسی نظریات‘ کو نہ صرف غور سے سنا جاتا ہے بلکہ کارکردگی دکھانے کا موقع بھی دیا جاتا ہے‘ جیسا کہ ’مئی 2013ء‘ کے عام انتخابات میں دیکھنے کو ملا جب سیاسی تجربہ کاروں کے مقابلے ’تحریک اِنصاف‘ کے مقامی اُور اکثر غیرمقامی اُمیدواروں کو اس قدر بھاری اکثریت سے انتخابی کامیابی کہ وہ خود بھی حیران و پریشان تھے کہ آخر اُن کے ساتھ ہوا کیا ہے! لیکن پھر حیرانی و پریشانی میں ’تبدیلی تبدیلی کرتے‘ پانچ سال کا عرصہ (آئینی مدت) گزر گئی۔ وہی عام انتخابات اُور وہی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے راگ کہ جن میں اُن کی اپنی نہیں بلکہ دوسروں کی کارکردگی کو بطور نمونہ پیش کر کے ’ووٹروں کی توجہ (ہمدردیاں)‘ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کیا ماضی کی طرح خیبرپختونخوا کی سیاست کا یہ ڈھنگ برقرار رہے گا کہ یہاں ذات برادری‘ قوم پرستی اور تھانہ کچہری جیسی ترجیحات کی بجائے ’عملی کارکردگی‘ نہ دکھانے والے حکمرانوں کو ووٹ نہیں دیئے جاتے؟

آئندہ (متوقع) عام انتخابات (پچیس جولائی) میں متوقع کانٹے دار مقابلوں میں ’مردان‘ کا حلقہ ’این اے 21‘ بطور خاص دلچسپ نتائج کا حامل ہوگا جہاں خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ رہے امیر حیدر خان ہوتی (عوامی نیشنل پارٹی) اور سابق وزیرتعلیم محمد عاطف خان (پاکستان تحریک انصاف) ایک دوسرے مدمقابل ہیں۔ ماضی میں یہ انتخابی حلقہ ’این اے نائن‘ سے پہچانا جاتا تھا۔ دونوں اُمیدواروں کی انتخابی حکمت عملی میں ’قدر مشترک‘ یہ ہے کہ اِن دونوں ہی نے ایک ایک قومی اور ایک ایک صوبائی اسمبلی حلقوں کا انتخاب کیا ہے لیکن جہاں اِن کا مقابلہ قومی اسمبلی کی ایک ہی نشست پر ہے وہیں صوبائی اسمبلی کے لئے الگ الگ حلقوں سے مدمقابل ہیں۔ دونوں رہنماؤں کی سیاسی طاقت (حمایت) کے مراکز ایک دوسرے سے جڑے اور الگ الگ ہیں اور دونوں ہی کی کامیابی کا دارومدار (انحصار) صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں اُن کی حمایت پر ہے۔ 

امیر حیدر خان ہوتی نے متبادل کے طور پر صوبائی اسمبلی کا حلقہ ’پی کے 50 (مردان ٹو)‘ جبکہ عاطف خان نے صوبائی اسمبلی کے حلقہ ’پی کے 53 (مردان فائیو)‘ سے ’ساکھ آزمائی‘ کا فیصلہ کیا ہے۔ اِن دونوں حلقوں پر نواز لیگ کی جانب سے اُمیدواروں کے اعلان میں تاخیر کی وجہ سے ’نواز لیگ‘ انتخابات سے قبل ہی بنیادی مقابلہ سے آؤٹ دکھائی دے رہی ہے۔ عجب ہے کہ جب سبھی سیاسی جماعتیں عام انتخابات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اپنے اپنے اُمیدواروں کو اعلان کر بیٹھی ہیں تو ’نواز لیگ‘ کا کئی ایک حلقوں پر تاحال مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ خیبرپختونخوا کی 39 میں سے 25 اُور صوبائی اسمبلی کی 99 میں سے 53 نشستوں پر نواز لیگ کے نامزد اُمیدوار سامنے آ چکے ہیں لیکن صاف دکھائی دے رہا ہے کہ اِس مرتبہ دوہزارتیرہ کے عام انتخابات کے چمپئین ’تحریک انصاف‘ کا سخت مقابلہ صرف اور صرف ’عوامی نیشنل پارٹی‘ سے ہوگا جس کی قیادت حزب اختلاف کی جماعتوں سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ اپوزیشن کا ووٹ تقسیم نہ ہو اور ساتھ ہی تحریک انصاف کے ایسے ناراض کارکنوں کی پشت پناہی (حوصلہ افزائی) بھی جاری ہے جو تحریک کے ووٹ بینک کو تقسیم کر سکتے ہیں! 

خیبرپختونخوا کا انتخابی منظرنامہ یہ ہے کہ (متوقع) عام انتخابات میں تحریک انصاف کو کم و بیش ہر حلقے میں کسی بھی دوسری جماعت سے زیادہ خود اپنی ہی جماعت کے انتخابی اُمیدواروں سے زیادہ نقصان پہنچے گا‘ جس کے واضح امکان کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

دیگر انتخابی حلقوں کی طرح ’این اے 21‘ پر انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ تحریک اِنصاف اُور عوامی نیشنل پارٹی کے ایک دوسرے پر ’تابڑ توڑ‘ حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے‘ جس میں نہ صرف سیاسی و نظریاتی اختلاف رائے بیان کیا جاتا ہے بلکہ اُمیدوار ایک دوسرے کی ذات‘ خاندان‘ سیاسی ماضی‘ کردار اُور کمزوریوں کو کہیں مزاحیہ تو کہیں سنجیدہ پیرائے میں بیان کرتے ہیں۔ دوہزارتیرہ کے مقابلے ’عوامی نیشنل پارٹی‘ کے رہنما اِس مرتبہ انتخابی حلقوں میں آزادانہ گھومتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں اُور اِس کے لئے اِنہیں ’تحریک انصاف‘ کا شکریہ اَدا کرنا چاہئے‘ جنہوں نے پانچ سال کے اقتدار میں کم سے کم ’امن و امان‘ کی صورتحال کو اِس درجے تو بہتر کر دیا ہے کہ اب رابطہ عوام مہمات کرنے والوں کو خوف نہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ تحریک اِنصاف کے دور حکومت میں خیبرپختونخوا پولیس میں سب سے کم سیاسی مداخلت ہوئی تو غلط نہیں ہوگا لیکن اگر آپ کے ذہن میں یہ سوال اُٹھے کہ وہ کونسا دور تھا‘ جب خیبرپختونخوا پولیس میں سب سے زیادہ مداخلت ہوتی تھی تو جواب ’عوامی نیشنل پارٹی‘ ہو گا‘ جس کے ساتھ شریک ’پیپلزپارٹی‘ نے اپنے سمیت اِس جاندار قوم پرست جماعت کا بھی خانہ خراب کیا لیکن چونکہ سرمایہ دار‘ جاگیردار اور بڑے زمیندار عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی قیادت کو اپنے ہاتھوں میں لے چکے ہیں‘ اِس لئے اُن کا ’’حسب حال جواب‘‘ قدرے مختلف اَنداز سے دینے والی تحریک انصاف نے بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے اور یہی وجہ ہے کہ تاریخ کی سب سے مہنگی انتخابی مہم جاری ہے‘ جس میں قیمتی گاڑیوں اور سرمائے کا استعمال ’الیکشن کے قواعد و ضوابط‘ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے لیکن تعجب کیوں‘ قانون تو اندھا ہوتا ہے!؟ 

عوامی نیشنل پارٹی کے لئے تحریک انصاف سے زیادہ اپنی حمایت والے علاقوں بشمول ضلع مردان میں انتخابی پوزیشن ناقابل تسخیر بنانا اِس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ آنے والے دنوں میں ’کالا باغ ڈیم کی تعمیر‘ جیسا معاملہ اُٹھے گا‘ جس پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کے ساتھ سختی کا معاملہ کرنے کا فیصلہ بھی ہو سکتا ہے۔ ’اے این پی‘ کسی بھی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں اور نہ ہی اپنے مؤقف پر لچک دکھاتے ہوئے دستبردار ہونا چاہتی ہے۔ اگر تھوڑے لکھے کو بہت سمجھا جائے تو ’’کالا باغ ڈیم منصوبے کو بنانے کی حمایت کرنے والی طاقتیں بھی آئندہ عام انتخابات پر اثرانداز ہونے کی ’’پوری تیاری‘‘ کئے بیٹھی ہیں‘ جن کی نظریں اور دلچسپی ’این اے 21‘ میں بالخصوص دیکھی جا سکتی ہیں۔ 

عوام کا حافظہ چونکہ کمزور ہوتا ہے‘ اِس لئے اُنہیں دوہزارتیرہ سے قبل ’عوامی نیشنل پارٹی‘ کی کارکردگی یاد نہیں۔ ضلع مردان میں ہوئے ترقیاتی کام کہیں ضرورت سے بہت زیادہ اور کہیں بہت ہی کم دکھائی دیتے ہیں‘ جس کی بنیادی وجہ ترقیاتی و سیاسی ترجیحات کا واضح نہ ہونا ہے۔ یہی غلطی تحریک انصاف سے بھی سرزد ہوئی‘ جب اُنہوں نے اِنتخابی حلقوں کی سیاست کو کمزور بنیادوں پر آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ ’این اے 21‘ پر دو انتخابی اُمیدوار نہیں بلکہ دو سیاسی جماعتیں مدمقابل ہیں اور دونوں ہی خالی ہاتھ ’میلہ لوٹنا چاہتی ہیں۔‘ 

Tuesday, June 12, 2018

Jun2018: Change through Vote!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
ایک ووٹ کا سوال!
طرزِ حکمرانی کے ثمرات شمار کیجئے۔ دہشت گردی‘ انتہاء پسندی‘ لوڈشیڈنگ‘ توانائی بحران‘ امتیازی قوانین‘ لاقانونیت‘ منظم جرائم‘ خوف‘ استحصال‘ سفارش‘ تھانہ کچہری کلچر‘ رشوت‘ مالی و انتظامی بدعنوانیاں‘ منتخب نمائندوں کے لئے مراعات‘ حکمرانوں کے شاہانہ طور طریقے‘ وی وی آئی پی کلچر اور اِس پر ’عوام کی خدمت‘ کا وعدہ‘ جو ہمیشہ ہی سے جھوٹ ثابت ہوتا آ رہا ہے‘ لیکن جھوٹ بک بھی رہا ہے اور یہی جھوٹ کسی ’نایاب جنس‘ کی طرح ہاتھوں ہاتھ خریدا بھی جا رہا ہے ! پاکستان کی سیاست کا سب سے زیادہ قابل یقین پہلو یہی ہے کہ یہاں ناقابل اعتبار کردار قابل اعتبار ہونے کے باوجود راندۂ درگاہ نہیں۔ سیاسی جماعتوں میں چہرے بدل بدل کر حکمراں خاندانوں کے سپوت‘ گھسے پٹے اور بلند و بانگ دعوؤں کے ساتھ انتخابی نعرے لگانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے جنہیں ہر چند برس بعد عوام کو بے وقوف بنانے میں (سیاسی و انتخابی) مہارت حاصل ہے۔ سچ تو یہ بھی ہے کہ ۔۔۔ پاکستان کے طرزحکمرانی‘ عام انتخابات اُور سیاسی جماعتوں کی کارکردگی کا پول کھل چکا ہے لیکن ظلم کی انتہاء نہیں تو کیا ہے کہ قومی وسائل لوٹنے والوں کو اپنے احتساب کا خوف تک نہیں!

مفاد پرستوں کو ایک مرتبہ عوام کے ووٹ کی ضرورت پڑ گئی ہے! ’گدھے کے سر سے سینگ‘ کی طرح غائب رہنے والے اور معاشرے میں نفرتوں‘ طبقات اور محرومیوں کے بیچ بونے والے پھر سے نمودار ہوئے ہیں۔ جب حکومت میں تھے تو اپنے اور عوام کے درمیان سیکورٹی کے حصار رکھتے تھے۔ آگے پیچھے کتوں کی طرح بھونکنے والی گاڑیوں کی قطاریں رکھنے والے عوام سے گھل مل رہے ہیں۔ اب تو کسی کی جان کو خطرہ نہیں۔ یہ مرحلہ ووٹ دینے سے قبل خود سے چند سوالات پوچھنے کا ہے ’سیاسی مفاد پرستوں‘ کو آئینہ دکھانے سے پہلے عام آدمی (ہم عوام) کو اپنے قول و فعل کا جائزہ لینا چاہئے۔ 

وجۂ ناکامئ وفا کیا ہے
آپ سے آخری سوال ہے یہ (حباب ترمذی)۔

پہلا سوال: ماضی میں کسے ووٹ دیا اور جن وعدوں پر یقین کرکے ووٹ دیا گیا تھا‘ کیا وہ پورے ہوئے؟ اس حوالے سے اہم ترین بات یہ ہے کہ یکسو ہو کر سوچا جائے کہ جو نمائندے گزشتہ عام انتخابات میں قانون ساز ایوانوں تک پہنچے لیکن اُنہوں نے انتخابی وعدوں کو ایفاء کرنے کی ضرورت محسوس کی یا نہیں۔ عوام کے کمزور حافظے کا فائدہ کون کون اٹھا رہا ہے اور عوام کو ذات برادری‘ نسلی لسانی‘ گروہی‘ مذہبی اور اصول و فروع دین کی بنیاد پر ووٹ دینے سے کیا ملا ہے؟ انتخابی اُمیدواروں کے ماضی کو فراموش کرنے والوں کے لئے ’25 جولائی (متوقع عام انتخابات)‘ایک نادر موقع ہے کہ غلطیوں کا ازالہ (تلافی) کی جائے۔ ووٹ کا حقدار وہی ہونا چاہئے جس کا دُکھ سکھ‘ خوشی‘ غم اُور رہن سہن‘ عوام کے ساتھ (عام آدمی سے مطابقت نہ سہی کم سے کم مشابہت تو ضرور) رکھتا ہو۔ جن منتخب نمائندوں نے اقتدار و اختیارات نہ ہونے کے باوجود اپنی ہمت اُور اِستطاعت کے مطابق مسائل کے حل کے لئے کوششیں کیں‘ اُنہیں داد (بصورت ووٹ) ملنا چاہئے لیکن اگر ’وعدہ خلافی‘ کرنے والوں کو ہی ووٹ دیا گیا تو پھر عوام کو مظلومیت اور حق تلفی کی صدائیں لگانے کا حق نہیں رہے گا۔ معاملہ یہ ہے کہ پاکستان میں رہنماؤں‘ وزیروں اُور مشیروں نے عوام کو ہر پانچ سال بعد ووٹ ڈالنے کے لئے ’’پال‘‘ رکھا ہے اور عوام بھی ایسے سادہ ہیں کہ ’’پرانے لالی پاپ‘‘ کو نئی پیکنگ میں لے کر ووٹ ڈال دیتے ہیں جبکہ نئی سنہری پیکنگ میں لپٹا ’’لالی پاپ‘‘ کڑوے اور بدمزے پن کا احساس بھی دلا رہا ہوتا ہے لیکن احساس کرتے کرتے بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے اور ایک مرتبہ پھر ہاتھ ہو جاتا ہے‘ کیا پھر سے ہاتھ ہونے پر عوام ہاتھ ملتے رہ جائیں گے؟

دوسرا سوال: ووٹ کا حقدار کون اُور بطور حزب اقتدار یا حزب اختلاف ماضی میں عوامی نمائندوں کا کردار کیا رہا؟ مئی دوہزارتیرہ میں مسلم لیگ (نواز) نے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ تحریک انصاف بھی وعدے کرنے میں ثانی نہیں رکھتی جو ’خیبر پختونخوا کو بدل کر رکھنے کے وعدے سے منکر تو نہیں لیکن اِس کی کارکردگی قابل بیان بھی نہیں ہے۔ شہید بھٹو کے نام پر دہائیوں سے سندھ میں برسرِ اقتدار پیپلز پارٹی نے ’’روٹی کپڑے اُور مکان‘‘ کے ساتھ ملک کو معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن 70سال بعد بھی ملک اور عوام ’وہیں کے وہیں‘ (خالی ہاتھ) کھڑے ہیں‘ جہاں سے بذریعہ سیاست قومی مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے سفر کا آغاز کیا تھا!

تیسرا سوال: کیا ایک ووٹ عام آدمی (ہم عوام) اپنے آپ کو نہیں دے سکتے؟ ووٹ کسی بھی شخص کی ’بیعت‘ کرنا ہوتا ہے۔ کیا عام آدمی (ہم عوام) کسی ظالم اُور غاصب کے ہاتھ پر ایک مرتبہ پھر بیعت کرنا پسند کریں گے؟ کیا بذریعہ ووٹ اپنے نفس کا اختیار کسی ایسے شخص کو سونپا جائے گا‘ جو اجتماعی مفاد کے لئے فیصلہ سازی کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہو۔ اگر عام آدمی (ہم عوام) کو اِس بات پر ’یقین بلکہ کامل یقین‘ ہے کہ تبدیلی بذریعہ ووٹ ہی آسکتی ہے تو پھر ووٹ ہر کس و ناکس (ایرے غیرے نتھو خیرے) کی بجائے سوچ سمجھ کر دینے ہی میں دانشمندی ہے۔ بار بار عام انتخابات میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی بجائے اِس مرتبہ (پچیس جولائی دوہزار اٹھارہ) اپنا ووٹ کسی ایسے اُمیدوار کو دیجئے‘ جو ووٹ کی عزت و حرمت آشنا ہو۔ جو ووٹ کا وقار ثابت ہو۔ جو ووٹ کے تقدس کا پاسبان ثابت ہو۔ فیصلہ کرنے کے لئے آسان کسوٹی یہی ہے کہ ’دوہزارتیرہ‘ کے عام انتخابات میں‘ جس سیاسی جماعت یا اُمیدوار کو ووٹ دیا گیا‘ اُس کی پانچ سالہ کارکردگی کو دیکھیں۔

نواز لیگ ’’بھاشا ڈیم اُور کراچی کے لئے میٹرو بس پر مبنی ایک ایسا انتخابی منشور رکھتی ہے‘ جس کی عملاً تکمیل گذشتہ تین دہائیوں میں اُس سے نہیں ہو سکی! تحریک انصاف کے لئے وفاقی حکومت بنانے کا اِس سے زیادہ نادر اُور آسان موقع کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا جبکہ اُس کے مدمقابل بڑی جماعتیں (نواز لیگ اور پیپلزپارٹی) تاریخ کی کم ترین مقبولیت پر ہیں اور احتساب کے جاری عمل کی گرفت میں اپنے مستقبل کو لیکر خوفزدہ (بے یقینی کا شکار) ہیں! 

تحریک انصاف وفاق میں حکومت ملنے کے بعد پہلے ’’100 دن‘‘ میں ملک کی قسمت بدلنے کے لئے پرعزم ہے لیکن یہی کام اُس سے پختونخوا میں 5 سال تک برسراقتدار رہتے ہوئے نہیں ہو سکا۔کیا ایک ووٹ‘ صرف ایک ووٹ‘ ذات برادری‘ تھانہ کچہری اور ذاتی پسند و مفادات کو سامنے رکھنے کی بجائے پاکستان کے لئے نہیں دیا جاسکتا۔ زیادہ نہیں بلکہ ایک ووٹ یعنی صرف ایک ووٹ کا سوال ہے!

زندگی تشنۂ مجال جواب
لمحہ لمحہ سوال آمادہ! (حنیف کیفی)
۔۔۔