Showing posts with label Mardan. Show all posts
Showing posts with label Mardan. Show all posts

Friday, June 22, 2018

Jun2018: Electioneering NA21 Mardan - PTI vs ANP with much to show as performance!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
اِنتخابی منظرنامہ: NA-21
خیبرپختونخوا کی سیاست میں ’عام انتخابات‘ کو ہمیشہ ہی سے خاص اہمیت حاصل رہی ہے جس کا انتظار کرنے والے دیگر صوبوں کے مقابلے مثالی (روائتی) صبروتحمل کا مظاہرہ کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ خیبرپختونخوا ملک کا ایسا واحد صوبہ ہے جس کے ہاں ’نئے سیاسی نظریات‘ کو نہ صرف غور سے سنا جاتا ہے بلکہ کارکردگی دکھانے کا موقع بھی دیا جاتا ہے‘ جیسا کہ ’مئی 2013ء‘ کے عام انتخابات میں دیکھنے کو ملا جب سیاسی تجربہ کاروں کے مقابلے ’تحریک اِنصاف‘ کے مقامی اُور اکثر غیرمقامی اُمیدواروں کو اس قدر بھاری اکثریت سے انتخابی کامیابی کہ وہ خود بھی حیران و پریشان تھے کہ آخر اُن کے ساتھ ہوا کیا ہے! لیکن پھر حیرانی و پریشانی میں ’تبدیلی تبدیلی کرتے‘ پانچ سال کا عرصہ (آئینی مدت) گزر گئی۔ وہی عام انتخابات اُور وہی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے راگ کہ جن میں اُن کی اپنی نہیں بلکہ دوسروں کی کارکردگی کو بطور نمونہ پیش کر کے ’ووٹروں کی توجہ (ہمدردیاں)‘ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کیا ماضی کی طرح خیبرپختونخوا کی سیاست کا یہ ڈھنگ برقرار رہے گا کہ یہاں ذات برادری‘ قوم پرستی اور تھانہ کچہری جیسی ترجیحات کی بجائے ’عملی کارکردگی‘ نہ دکھانے والے حکمرانوں کو ووٹ نہیں دیئے جاتے؟

آئندہ (متوقع) عام انتخابات (پچیس جولائی) میں متوقع کانٹے دار مقابلوں میں ’مردان‘ کا حلقہ ’این اے 21‘ بطور خاص دلچسپ نتائج کا حامل ہوگا جہاں خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ رہے امیر حیدر خان ہوتی (عوامی نیشنل پارٹی) اور سابق وزیرتعلیم محمد عاطف خان (پاکستان تحریک انصاف) ایک دوسرے مدمقابل ہیں۔ ماضی میں یہ انتخابی حلقہ ’این اے نائن‘ سے پہچانا جاتا تھا۔ دونوں اُمیدواروں کی انتخابی حکمت عملی میں ’قدر مشترک‘ یہ ہے کہ اِن دونوں ہی نے ایک ایک قومی اور ایک ایک صوبائی اسمبلی حلقوں کا انتخاب کیا ہے لیکن جہاں اِن کا مقابلہ قومی اسمبلی کی ایک ہی نشست پر ہے وہیں صوبائی اسمبلی کے لئے الگ الگ حلقوں سے مدمقابل ہیں۔ دونوں رہنماؤں کی سیاسی طاقت (حمایت) کے مراکز ایک دوسرے سے جڑے اور الگ الگ ہیں اور دونوں ہی کی کامیابی کا دارومدار (انحصار) صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں اُن کی حمایت پر ہے۔ 

امیر حیدر خان ہوتی نے متبادل کے طور پر صوبائی اسمبلی کا حلقہ ’پی کے 50 (مردان ٹو)‘ جبکہ عاطف خان نے صوبائی اسمبلی کے حلقہ ’پی کے 53 (مردان فائیو)‘ سے ’ساکھ آزمائی‘ کا فیصلہ کیا ہے۔ اِن دونوں حلقوں پر نواز لیگ کی جانب سے اُمیدواروں کے اعلان میں تاخیر کی وجہ سے ’نواز لیگ‘ انتخابات سے قبل ہی بنیادی مقابلہ سے آؤٹ دکھائی دے رہی ہے۔ عجب ہے کہ جب سبھی سیاسی جماعتیں عام انتخابات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اپنے اپنے اُمیدواروں کو اعلان کر بیٹھی ہیں تو ’نواز لیگ‘ کا کئی ایک حلقوں پر تاحال مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ خیبرپختونخوا کی 39 میں سے 25 اُور صوبائی اسمبلی کی 99 میں سے 53 نشستوں پر نواز لیگ کے نامزد اُمیدوار سامنے آ چکے ہیں لیکن صاف دکھائی دے رہا ہے کہ اِس مرتبہ دوہزارتیرہ کے عام انتخابات کے چمپئین ’تحریک انصاف‘ کا سخت مقابلہ صرف اور صرف ’عوامی نیشنل پارٹی‘ سے ہوگا جس کی قیادت حزب اختلاف کی جماعتوں سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ اپوزیشن کا ووٹ تقسیم نہ ہو اور ساتھ ہی تحریک انصاف کے ایسے ناراض کارکنوں کی پشت پناہی (حوصلہ افزائی) بھی جاری ہے جو تحریک کے ووٹ بینک کو تقسیم کر سکتے ہیں! 

خیبرپختونخوا کا انتخابی منظرنامہ یہ ہے کہ (متوقع) عام انتخابات میں تحریک انصاف کو کم و بیش ہر حلقے میں کسی بھی دوسری جماعت سے زیادہ خود اپنی ہی جماعت کے انتخابی اُمیدواروں سے زیادہ نقصان پہنچے گا‘ جس کے واضح امکان کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

دیگر انتخابی حلقوں کی طرح ’این اے 21‘ پر انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ تحریک اِنصاف اُور عوامی نیشنل پارٹی کے ایک دوسرے پر ’تابڑ توڑ‘ حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے‘ جس میں نہ صرف سیاسی و نظریاتی اختلاف رائے بیان کیا جاتا ہے بلکہ اُمیدوار ایک دوسرے کی ذات‘ خاندان‘ سیاسی ماضی‘ کردار اُور کمزوریوں کو کہیں مزاحیہ تو کہیں سنجیدہ پیرائے میں بیان کرتے ہیں۔ دوہزارتیرہ کے مقابلے ’عوامی نیشنل پارٹی‘ کے رہنما اِس مرتبہ انتخابی حلقوں میں آزادانہ گھومتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں اُور اِس کے لئے اِنہیں ’تحریک انصاف‘ کا شکریہ اَدا کرنا چاہئے‘ جنہوں نے پانچ سال کے اقتدار میں کم سے کم ’امن و امان‘ کی صورتحال کو اِس درجے تو بہتر کر دیا ہے کہ اب رابطہ عوام مہمات کرنے والوں کو خوف نہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ تحریک اِنصاف کے دور حکومت میں خیبرپختونخوا پولیس میں سب سے کم سیاسی مداخلت ہوئی تو غلط نہیں ہوگا لیکن اگر آپ کے ذہن میں یہ سوال اُٹھے کہ وہ کونسا دور تھا‘ جب خیبرپختونخوا پولیس میں سب سے زیادہ مداخلت ہوتی تھی تو جواب ’عوامی نیشنل پارٹی‘ ہو گا‘ جس کے ساتھ شریک ’پیپلزپارٹی‘ نے اپنے سمیت اِس جاندار قوم پرست جماعت کا بھی خانہ خراب کیا لیکن چونکہ سرمایہ دار‘ جاگیردار اور بڑے زمیندار عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی قیادت کو اپنے ہاتھوں میں لے چکے ہیں‘ اِس لئے اُن کا ’’حسب حال جواب‘‘ قدرے مختلف اَنداز سے دینے والی تحریک انصاف نے بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے اور یہی وجہ ہے کہ تاریخ کی سب سے مہنگی انتخابی مہم جاری ہے‘ جس میں قیمتی گاڑیوں اور سرمائے کا استعمال ’الیکشن کے قواعد و ضوابط‘ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے لیکن تعجب کیوں‘ قانون تو اندھا ہوتا ہے!؟ 

عوامی نیشنل پارٹی کے لئے تحریک انصاف سے زیادہ اپنی حمایت والے علاقوں بشمول ضلع مردان میں انتخابی پوزیشن ناقابل تسخیر بنانا اِس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ آنے والے دنوں میں ’کالا باغ ڈیم کی تعمیر‘ جیسا معاملہ اُٹھے گا‘ جس پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کے ساتھ سختی کا معاملہ کرنے کا فیصلہ بھی ہو سکتا ہے۔ ’اے این پی‘ کسی بھی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں اور نہ ہی اپنے مؤقف پر لچک دکھاتے ہوئے دستبردار ہونا چاہتی ہے۔ اگر تھوڑے لکھے کو بہت سمجھا جائے تو ’’کالا باغ ڈیم منصوبے کو بنانے کی حمایت کرنے والی طاقتیں بھی آئندہ عام انتخابات پر اثرانداز ہونے کی ’’پوری تیاری‘‘ کئے بیٹھی ہیں‘ جن کی نظریں اور دلچسپی ’این اے 21‘ میں بالخصوص دیکھی جا سکتی ہیں۔ 

عوام کا حافظہ چونکہ کمزور ہوتا ہے‘ اِس لئے اُنہیں دوہزارتیرہ سے قبل ’عوامی نیشنل پارٹی‘ کی کارکردگی یاد نہیں۔ ضلع مردان میں ہوئے ترقیاتی کام کہیں ضرورت سے بہت زیادہ اور کہیں بہت ہی کم دکھائی دیتے ہیں‘ جس کی بنیادی وجہ ترقیاتی و سیاسی ترجیحات کا واضح نہ ہونا ہے۔ یہی غلطی تحریک انصاف سے بھی سرزد ہوئی‘ جب اُنہوں نے اِنتخابی حلقوں کی سیاست کو کمزور بنیادوں پر آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ ’این اے 21‘ پر دو انتخابی اُمیدوار نہیں بلکہ دو سیاسی جماعتیں مدمقابل ہیں اور دونوں ہی خالی ہاتھ ’میلہ لوٹنا چاہتی ہیں۔‘ 

Saturday, August 6, 2016

Aug2016: Ghandhara by Khalid Khan Kheshgi

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تہذیبی سفر: پوشیدہ اَسباق!

’گندھارا تہذیب‘ پر پشتو زبان میں شائع ہونے والی ’پہلی کتاب‘ صحافی خالد خان خویشگی کی اُن مسلسل کاوشوں کا حصّہ ہے جو وہ انسانیت کے احترام‘ انسانی حقوق کی پاسداری اور بناء تفریق کسی بھی رنگ و نسل کی حق تلفی کے خلاف آواز اُٹھانے سے شروع ہوتی ہے‘ کسی صحافی کے لئے غیرجانبدار رہتے ہوئے صرف اور صرف سچائی اور حقائق کے لئے خود کو وقف کرنے کی اِس سے عمدہ عملی مثال ڈھونڈے نہیں مل سکتی کہ باوجود پیشہ ورانہ مصروفیات اُنہوں نے خیبرپختونخوا اُور ملحقہ خیبرایجنسی کے قبائلی علاقے سمیت خطے کی تاریخ‘ رہن سہن‘ رسم و رواج‘ بول چال اُور تعمیر و ترقی جیسے موضوعات کا احاطہ کرتے ہوئے سلیس بول چال کے انداز میں تحریر کردہ کتاب کی صورت محسوس کی جانے والی کمی پوری کر دی ہے۔ 

’غار سے گندھارا تہذیب کے مرکز‘ بننے تک کا سفر خوبصورتی سے پیش کرنے والے خالد خان ’ریڈیو فری یورپ‘ المعروف ’مشال ریڈیو‘ سے وابستہ ہیں اُور انہوں نے دیگر تاریخ دانوں کی طرح ماضی کے حقائق اُور واقعات کی ’صحافیانہ اَصولوں (غیرجانبداری کی کسوٹی)‘ پر کڑی جانچ پڑتال کرنے کے بعد اُنہیں اپنی تصنیف میں شامل کیا ہے۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ خالد خان نے اپنی رائے شامل کرنے کی بجائے حقائق کا حقائق سے منطقی موازنہ اور اُن کی رونما ہونے کی ترتیب کا لحاظ رکھا جس سے کتاب نہ صرف تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے لائق مطالعہ بن گئی بلکہ اِس سے مزید تحقیق کے دروازے بھی کھل گئے ہیں۔ تاریخ کو ایک نئے انداز سے پیش کرنے کی یہ کاوش ہرلحاظ سے کامیاب اُور پشتو زبان میں تحریر ہونے والے تاریخ و ادب میں خوبصورت اضافہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

صحافت کا کلی انحصار دوسروں سے بات چیت (انٹرویوز) پر ہوتا ہے اور اپنی اِسی مہارت و تجربے اور وسائل کا بخوبی اِستعمال کرتے ’گندھارا‘ تصنیف کے مرکزی خیال اُور موضوع پر تحقیق کے لئے خیبرپختونخوا کے مختلف لوگوں سے بات چیت کو کتابی صورت میں یکجا کر دیا گیا ہے۔ ’تاریخ دانی‘ کرتے ہوئے اپنی رائے اور تجزیئے کو موضوع پر حاوی نہ ہونے دینے کی یہ عمدہ مثال ہے جس کے اسباق سے نہ صرف محکمہ تعلیم بلکہ بالخصوص شعبۂ صحافت کے لئے نصاب مرتب کرنے والے بہت فائدہ اُٹھا سکتے ہیں‘ کیونکہ صحافت نہ صرف حقائق کے بیان اور اُن کی روشنی میں نامساعد حالات و خطرات سے نمٹنے یا پیشگی تیاری کی تحریک پیدا کرتی ہے بلکہ اِس کے ذریعے تاریخ کے اُن حقائق کا بیان بھی اگر ممکن ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ مستقبل میں ’صحافت ایک لازمی مضمون‘ کے طور پر سچائی کھوجنے کا ’مستقل اصول‘ قرار پائے۔ 

’گندھارا‘ اکیس ابواب پر مشتمل کتاب ہے جس میں تین ہزار سال پرانی اُن غاروں سے شروع ہونے والے ’تہذیب کے سفر‘ کا پیچھا کیا گیا ہے جس کے نشانات و آثار آج بھی مردان‘ تخت بھائی اور سوات کے علاقوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اٹک قلعہ سے لیکر درہ خیبر (خیبرایجنسی) تک پھیلے خطے کی خاک چھانتے ہوئے کتاب میں صرف الفاظ ہی نہیں بلکہ تصاویر کے ذریعے بھی بہت کچھ سمجھانے اور شناخت کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جس میں بالخصوص ’گندھارا تہذیب‘ کے اُن پہلوؤں کو موضوع بنایا گیا ہے جن کا تذکرہ اِس حوالے سے تحریر کی گئیں دیگر کتابوں یا ابواب میں یا تو نہیں ملتا‘ یا پھر سرسری طور پر اُن کا سطحی ذکر کیا جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مصنف خالد خان کو کتاب لکھنے کا ’بنیادی خیال‘ ہی خان عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کی اُس حالیہ اور جدید ترین تحقیق و کھدائی سے ملنے والے نتائج سے آیا‘ جو مردان کے گاؤں ’سانگاؤ‘ میں کی گئی۔ اگرچہ یہ حقیقت معلوم ہے کہ مردان اور باجوڑ کے علاقوں میں آج سے کم وبیش تین ہزار سال پہلے لوگ غاروں میں رہا کرتے تھے لیکن ’آثار قدیمہ‘ سے لوگوں کے رہن سہن اور اقدار و روایات تک پہنچنے کی ہر کوشش دلچسپ اور نئے حقائق سامنے لاتی ہے۔ گندھارا تہذیب صرف رہن سہن یا بودوباش کا مجموعہ نہیں بلکہ اس کے علمی و ادبی پہلو بھی لائق توجہ و مطالعہ ہیں۔ غاروں میں رہنے والے اگر غوروتفکر سے عاری ہوتے اور اگر وہ آج سے زیادہ اپنی اعمال کی اصلاح کرنے کا ذوق و شوق نہ رکھتے تو شہروں تک ترقی کا موجودہ سفر ممکن ہی نہ ہوتا کیونکہ انسانی تاریخ ’حادثاتی‘ نہیں کہ جس میں سب کچھ خودبخود رونما ہوا ہو بلکہ انسان نے دنیا کو سجانے اور سنوارنے کے لئے بھی اپنی بہترین صلاحیتوں اور علم ودانش کا استعمال کیا ہے‘ قربانیاں دی‘ جس پر یقین نہ کرنے والوں کو ’گندھارا‘ نامی پشتو زبان کی اِس کتاب کا کم سے کم ایک مرتبہ ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔ اُمید کی جا سکتی ہے کہ خالد خان اپنی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سے جڑی الگ الگ صحافیانہ مصروفیات سے کچھ وقت نکال کر دو سو صفحات پر مشتمل اپنی کتاب کو اُردو‘ اور انگریزی پڑھنے والوں کے لئے بھی پیش کریں گے‘ جن کا ’گندھارا تہذیب‘ کے بارے مطالعہ اب تک ایک خاص زوایئے پر مرکوز رہا ہے۔ اِس سلسلے میں ویب سائٹ کا وسائل زیادہ ماحول دوست اور تشہیری امکانات رکھے گا۔ 

خیبرپختونخوا میں ’تاریخ و آثار قدیمہ‘ کے وسیع و عریض خزانے پوشیدہ ہیں جیسا کہ رحمان ڈھیری میں کی گئی کھدائی سے ملنے والے ’وادئ گومل‘ کے آثار سے پتہ چلا ہے کہ یہ مقام پورے جنوب ایشیاء میں ایسا ’پہلا شہر‘ ہے جسے باقاعدہ منصوبہ بندی سے تعمیر کیا گیا۔ المیہ ہے کہ علوم‘ وسائل اور تعمیراتی شعبوں میں آلات و ہنرمند افرادی قوت ہونے کے باوجود بھی ہمارے شہر اور دیہات بے ہنگم انداز میں کچھ اس طرح پھیل رہے ہیں کہ انسان اپنے ہی ہاتھوں مسائل میں اُلجھ گیا ہے لیکن اگر ’گندھارا تہذیب‘ کا ’مطالعہ‘کیا جائے تو کہیں اُور کی نہیں بلکہ خود ہماری تاریخ گواہ ہے کہ انسانی معاشرے کو کس عمدگی و خوبصورتی سے ترتیب دیا جاتا تھا۔ اگرچہ ’گندھارا‘ میں جو تاریخ اُور واقعات بیان کئے گئے ہیں اُن میں کچھ بھی نیا نہیں اور اُن سب کا ذکر کہیں نہ کہیں دیگر کتب میں بھی ملتا ہے لیکن ’پشتو زبان‘ میں اِس موضوع پر پہلی اور صحافیانہ اصولوں پر مرتب ہونے والی اِس پہلی کتاب کو ضرور پذیرائی ملنی چاہئے۔ اُمید کی جاتی ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت یا جامعہ پشاور اُور بالخصوص ’گندھارا ہندکو اکیڈمی‘ جیسے ادارے اِس پشتو کتاب کو زیادہ بڑے پیمانے پر عام کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں گے۔ خالد خان نے صحافت کے ساتھ جس دوسرے کھٹن کام کا بیڑا اُٹھایا ہے اگر وہ اُس کے اگلے مرحلے میں تحقیق کے لئے متعلقہ ماہرین کو رضامند کر لیتے ہیں اور خیبرایجنسی (دوسری سے پانچویں صدی میں خوشاہان حکومت کا حصّہ رہے اِس علاقے) میں پھیلے گندھارا تہذیب کے آثار معلوم کرنے کے لئے کھدائی ممکن کی جاتی ہے تو ’گندھارا‘ کو ’نئی جان (جہت) مل جائے گی لیکن قبائلی سرزمین پر ’امن و امان کی بہتری شرط ہے۔‘ 

گندھارا تہذیب کے موضوع پر لکھا ہوا ہر لفظ ’پشاور شناسی کا ذوق‘ رکھنے والوں کے لئے بھی خاص دلچسپی کا منبہ ہوتا ہے کیونکہ یہاں کے سولہ دروازوں میں آباد رہن سہن کا شمار جنوب ایشیاء کے قدیم ترین زندہ تاریخی شہروں میں ہوتا ہے۔ کاش کہ پشاور کی چاردیواری کے اندر اُور اطراف میں پھیلے اُن آثار قدیمہ کی اہمیت کا خاطرخواہ احساس کر لیا جاتا‘ کاش یہاں کے قدیمی باغات اُور اُن سے جڑے تہذیبی و ترقی کے ایک طویل سفر کو سمجھا جاتا تو زبانوں یا تہذیبوں کے درمیان اجنبیت کا احساس نہ ہوتا اور انسانی ترقی کے لئے اقتصادی و سماجی مسائل سے نمٹنے والوں کو اِسقدر مشکلات درپیش نہ ہوتیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Aug2016: Ghandhara by Khalid Khan Kheshgi

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمامتہذیب کا سفر
’گندھارا تہذیب‘ پر پشتو زبان میں شائع ہونے والی پہلی کتاب صحافی خالد خان خویشگی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے خیبرپختونخوا اُور ملحقہ خیبرایجنسی کے قبائلی علاقے سمیت خطے کی تاریخ‘ رہن سہن‘ رسم و رواج‘ بول چال اُور تعمیر و ترقی جیسے موضوعات کا احاطہ کرتے ہوئے ’غار سے گندھارا تہذیب کے مرکز‘ بننے تک کا سفر خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ خالد خان ’ریڈیو فری یورپ‘ المعروف ’مشال ریڈیو‘ سے وابستہ ہیں اُور انہوں نے دیگر تاریخ دانوں کی طرح ماضی کے حقائق اُور واقعات کی ’صحافیانہ اصولوں (غیرجانبداری کی کسوٹی)‘ پر کڑی جانچ پڑتال کرنے کے بعد اُنہیں اپنی تصنیف میں شامل کیا ہے۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ خالد خان نے اپنی رائے شامل کرنے کی بجائے حقائق کا حقائق سے منطقی موازنہ اور اُن کی رونما ہونے کی ترتیب کا لحاظ رکھا جس سے کتاب نہ صرف تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے لائق مطالعہ بن گئی بلکہ اِس سے مزید تحقیق کے دروازے بھی کھل گئے ہیں۔ تاریخ کو ایک نئے انداز سے پیش کرنے کی یہ کاوش ہرلحاظ سے کامیاب اُور پشتو زبان میں تحریر ہونے والے تاریخ و ادب میں خوبصورت اضافہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

صحافت کا کلی انحصار دوسروں سے بات چیت (انٹرویوز) پر ہوتا ہے اور اپنی اِسی مہارت کا بخوبی استعمال کرتے ’گندھارا‘ تصنیف کے مرکزی خیال اُور موضوع پر تحقیق کے لئے خیبرپختونخوا کے مختلف لوگوں سے بات چیت کو یکجا کیا گیا ہے۔ ’تاریخ دانی‘ کرتے ہوئے اپنی رائے اور تجزیئے کو موضوع پر حاوی نہ ہونے دینے کی یہ عمدہ مثال ہے جسے شعبۂ صحافت کے نصاب میں شامل ہونا چاہئے کیونکہ صحافت نہ صرف حقائق کے بیان اور اُن کی روشنی میں نامساعد حالات و خطرات سے نمٹنے یا پیشگی تیاری کی تحریک پیدا کرتی ہے بلکہ اِس کے ذریعے تاریخ کے اُن حقائق کا بیان بھی اگر ممکن ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ مستقبل میں یہی سچائی کھوجنے کا مستقل اصول قرار پائے۔ ’گندھارا‘ اکیس ابواب پر مشتمل ہے جس میں تین ہزار سال پرانی اُن غاروں سے شروع ہونے والے ’تہذیب کے سفر‘ کا پیچھا کیا گیا ہے جس کے نشانات و آثار آج بھی مردان‘ تخت بھائی اور سوات کے علاقوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اٹک قلعہ سے لیکر درہ خیبر (خیبرایجنسی) تک پھیلے خطے کی خاک چھانتے ہوئے کتاب میں صرف الفاظ ہی نہیں بلکہ تصاویر کے ذریعے بھی بہت کچھ سمجھانے اور شناخت کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جس میں بالخصوص ’گندھارا تہذیب‘ کے اُن پہلوؤں کو موضوع بنایا گیا ہے جن کا تذکرہ اِس حوالے سے تحریر کی گئیں دیگر کتابوں میں یا تو نہیں ملتا‘ یا پھر سرسری طور پر اُن کا ذکر کیا جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مصنف خالد خان کو کتاب لکھنے کا ’بنیادی خیال‘ ہی خان عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کی اُس حالیہ اور جدید ترین تحقیق و کھدائی سے ملنے والے نتائج سے آیا‘ جو مردان کے گاؤں ’سانگاؤ‘ میں کی گئی۔ اگرچہ یہ حقیقت معلوم ہے کہ مردان اور باجوڑ کے علاقوں میں آج سے کم وبیش تین ہزار سال پہلے لوگ غاروں میں رہا کرتے تھے لیکن ’آثار قدیمہ‘ سے لوگوں کے رہن سہن اور اقدار و روایات تک پہنچنے کی ہر کوشش دلچسپ اور نئے حقائق سامنے لاتی ہے۔ گندھارا تہذیب صرف رہن سہن یا بودوباش ہی نہیں بلکہ اس کے علمی و ادبی پہلو بھی ہیں۔ 

غاروں میں رہنے والے اگر غوروتفکر سے عاری ہوتے اور اگر وہ آج سے زیادہ اپنی اعمال کی اصلاح کرنے کا ذوق و شوق نہ رکھتے تو شہروں تک ترقی کا سفر ممکن ہی نہ ہوتا کیونکہ انسانی تاریخ ’حادثاتی‘ نہیں کہ جس میں سب کچھ خودبخود رونما ہوا ہو بلکہ انسان نے دنیا کو سجانے اور سنوارنے کے لئے بھی اپنی بہترین صلاحیتوں اور علم ودانش کا استعمال کیا ہے‘ جس پر یقین نہ کرنے والوں کو ’گندھارا‘ نامی پشتو زبان کی اِس کتاب کا کم سے کم ایک مرتبہ ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔ اُمید کی جا سکتی ہے کہ خالد خان خویشگی اپنی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سے جڑی الگ الگ صحافیانہ مصروفیات سے کچھ وقت نکال کر دو سو صفحات پر مشتمل اپنی کتاب کو اُردو‘ اور انگریزی پڑھنے والوں کے لئے پیش کریں گے‘ جن کا ’گندھارا تہذیب‘ کے بارے مطالعہ اب تک ایک خاص زوایئے پر مرکوز رہا ہے۔ خیبرپختونخوا میں ’تاریخ و آثار قدیمہ‘ کے وسیع و عریض خزانے پوشیدہ ہیں جیسا کہ رحمان ڈھیری میں کی گئی کھدائی سے ملنے والے ’وادئ گومل‘ کے آثار سے پتہ چلا ہے کہ یہ مقام پورے جنوب ایشیاء میں ایسا ’پہلا شہر‘ ہے جسے باقاعدہ منصوبہ بندی سے تعمیر کیا گیا۔ 

المیہ ہے کہ علوم‘ وسائل اور تعمیراتی شعبوں میں آلات و ہنرمند افرادی قوت ہونے کے باوجود بھی ہمارے شہر اور دیہات بے ہنگم انداز میں کچھ اس طرح پھیل رہے ہیں کہ انسان اپنے ہی ہاتھوں مسائل میں الجھ گیا ہے لیکن اگر گندھارا تہذیب کا مطالعہ کیا جائے تو کہیں اُور کی نہیں بلکہ خود ہماری تاریخ گواہ ہے کہ انسانی معاشرے کو کس عمدگی و خوبصورتی سے ترتیب دیا جاتا تھا۔ اگرچہ ’گندھارا‘ میں جو تاریخ اُور واقعات بیان کئے گئے ہیں اُن میں کچھ بھی نیا نہیں اور اُن سب کا ذکر کہیں نہ کہیں دیگر کتب میں بھی ملتا ہے لیکن ’پشتو زبان‘ میں اِس موضوع پر پہلی اور صحافیانہ اصولوں پر مرتب ہونے والی اِس پہلی کتاب کو ضرور پذیرائی ملنی چاہئے۔ اُمید کی جاتی ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت یا جامعہ پشاور اُور بالخصوص ’گندھارا ہندکو اکیڈمی‘ جیسے ادارے اِس پشتو کتاب کو زیادہ بڑے پیمانے پر عام کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں گے۔ 

خالد خان نے صحافت کے ساتھ جس دوسرے کھٹن کام کا بیڑا اُٹھایا ہے اگر وہ اُس کے اگلے مرحلے میں تحقیق کے لئے متعلقہ ماہرین کو رضامند کر لیتے ہیں اور خیبرایجنسی (دوسری سے پانچویں صدی میں خوشاہان حکومت کا حصّہ رہے اِس علاقے) میں پھیلے گندھارا تہذیب کے آثار معلوم کرنے کے لئے کھدائی کی جاتی ہے تو ’گندھارا‘ کو ’نئی جان (جہت) مل جائے گی لیکن قبائلی سرزمین پر ’امن و امان کی بہتری شرط ہے۔‘ 

گندھارا تہذیب کے موضوع پر لکھا ہوا ہر لفظ ’پشاور شناسی کا ذوق‘ رکھنے والوں کے لئے بھی خاص دلچسپی کا منبہ ہوتا ہے کیونکہ یہاں کے سولہ دروازوں میں آباد رہن سہن کا شمار جنوب ایشیاء کے قدیم ترین زندہ تاریخی شہروں میں ہوتا ہے۔ کاش کہ پشاور کی چاردیواری کے اندر اُور اطراف میں پھیلے اُن آثار قدیمہ کی اہمیت کا خاطرخواہ احساس کر لیا جاتا‘ کاش یہاں کے قدیمی باغات اُور اُن سے جڑے تہذیبی و ترقی کے ایک طویل سفر کو سمجھا جاتا تو زبانوں یا تہذیبوں کے درمیان اجنبیت کا احساس نہ ہوتا اور انسانی ترقی کے لئے اقتصادی و سماجی مسائل سے نمٹنے والوں کو اِسقدر مشکلات درپیش نہ ہوتیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tuesday, June 23, 2015

Jun2015: Prisons in KP

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
جیل خانہ جات: تعمیروترقی کی ضرورت
خیبرپختونخوا کے مالی بجٹ برائے سال 2015-16ء میں 3.5 ارب روپے محکمۂ داخلہ کے لئے مختص کئے گئے ہیں اُور ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ رقم تین حصوں میں تقسیم کی جائے گی۔ ایک حصہ محکمہ داخلہ و قبائلی اَمور کی نگرانی پر خرچ کیا جائے گا۔ دُوسرا حصہ پولیس کے لئے اُور تیسرا حصہ جیل خانہ جات کی توسیع و نئی تعمیرات کے لئے ہے لیکن یہ رقم اِن تینوں شعبوں کی بنیادی ضروریات کے لئے بھی کافی نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کامیابی کے لئے ضروری ہے قانون نافذ کرنے والے اِداروں کی اَفراد قوت اور انہیں جدید ہتھیاروں و گشتی وسائل سے لیس کرنے کے علاؤہ نئے جیل خانہ جات بھی تعمیر کئے جائیں کیونکہ خیبرپختونخوا کے چار بڑے جیل خانوں میں گنجائش سے کئی سو گنا زیادہ قیدیوں کو رکھا گیا ہے اور اِس ہجوم کی وجہ سے نہ صرف تفیشی مراحل میں مشکلات پیش آتی ہیں بلکہ جرائم پیشہ عناصر کے لئے یہ ماحول خوش آئند ہے کیونکہ ہماری جیلیں اِصلاح کا مرکز نہیں رہیں اُور یہ بات تو طے ہے کہ جیل جانے والا چاہے مجرم ثابت ہو یا نہ ہو لیکن اُس کا تعلق کسی نہ کسی جرائم پیشہ گروہ سے ہو جاتا ہے‘ جو مستقبل کی تازہ دم اور بناء جرائم کا ریکارڈ رکھنے والے سہولت کاروں کی صورت ظاہر ہوتا ہے۔ ت

فیشی عوامل کے ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک حسب ضرورت جیل خانہ جات کی توسیع و تعمیرات نہیں کی جاتیں اُس وقت تک معمولی و انتہائی جرائم کے ساتھ عسکریت پسندی کو ختم نہیں کیا جاسکتا کیونکہ گنجائش کم ہونے کی وجہ سے خطرناک و انتہائی خطرناک قیدی اور دیگر قیدیوں کے درمیان رابطہ رہتا ہے جو پیغام رسانی کا کام بھی کرتے ہیں اور یہ بات تعجب خیز نہیں ہونی چاہئے کہ بہت سے جرائم پیشہ جیل میں ہونے کے باوجود بھی ’بے تاج بادشاہوں‘ کی طرح اپنے اپنے علاقوں کو کنٹرول کئے ہوئے ہیں!‘‘ قابل ذکر ہے کہ نئے مالی سال میں آمدن واخراجات کے میزانیئے میں پولیس کو ملنے والے وسائل تعمیرات‘ بحالی و توسیع کے منصوبوں‘ تھانہ جات کو شمسی توانائی فراہم کرنے‘ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے ’فلٹریشن پلانٹس‘ کی تنصیب اُور جیل خانہ جات کے حفاظتی اِنتظامات میں اِضافہ کرنے پر خرچ کئے جائیں گے۔

سردست مسئلہ مالی وسائل کی کمی کا ہے جس کی وجہ سے ایک برس قبل اعلان کی گئی ’مردان جیل‘ کی تعمیر کا منصوبہ سرد خانے کی نذر ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت کے آخری دنوں مردان میں سنٹرل جیل کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا لیکن 2013ء میں حکومت کی تبدیلی کے ساتھ یہ منصوبہ تبدیل کر دیا گیا اور ایک نئی مرکزی جیل کی تعمیر کی بجائے پہلے سے موجود سہولت کو توسیع دی گئی۔ سوال یہ ہے کہ آخر مردان میں ایک بڑے سنٹرل جیل کی تعمیر کیوں ضروری تھی؟ اصولی طورپر ہر ضلع میں سنٹرل جیل ہونی چاہئے اور اگر مردان میں ازسر نو ایک سنٹرل جیل بنائی جاتی تو اس کی وجہ سے پشاور کے سنٹرل جیل پر دباؤ کم ہو جاتا‘ جہاں قیدیوں کی تعداد اُس حد سے بھی تجاوز کر چکی ہے‘ کہ قیدیوں کو اکثر قسط وار نیند کرنا پڑتی ہے۔ ایک گروپ سوتا ہے تو دوسرا دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑا رہتا ہے اور اپنے نمبر کے آنے کا انتظار کرتا ہے! گنجان آباد جیل میں رہنا اپنی جگہ کسی سزا سے کم نہیں۔ جیل کی انتظامیہ توسیع کا کام مرحلہ وار انداز میں کرتی ہے کیونکہ پشاور جیل میں قیدی معمولی سے لیکر انتہائی خطرناک جرائم میں ملوث ہیں اور سیکورٹی پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔

جاری تعمیراتی منصوبہ آئندہ کم اَزکم دو برس میں مکمل ہونے کی اُمید ہے۔ مردان جیل کی ضرورت اِس وجہ سے بھی ہے کہ پشاور سے تمام قیدیوں کو مردان منتقل کرکے یہاں کی جیل میں خاطرخواہ توسیع کا کام زیادہ تیز رفتاری اور بناء کسی خطرے مکمل کیا سکے۔ بنوں (چودہ اپریل دوہزار بارہ) اور ڈیرہ اسماعیل خان (اُنتیس جولائی دو ہزار تیرہ) میں جیل توڑنے کے واقعات کے بعد مردان جیل کی توسیع کے دوران ایسے انتظامات کئے گئے ہیں کہ اِسے توڑا نہ جاسکے۔ اِس سلسلے میں داخلی دروازے اور دیواروں کی تعمیر میں خاص تکنیک کا استعمال کیا گیا ہے‘ جس سے حفاظتی انتظامات زیادہ بہتر اور محفوظ بنا دیئے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ پشاور جیل کی توسیع کے لئے تعمیراتی کام مرحلہ وار انداز میں جاری ہے جس پر کل 1.408 ارب روپے لاگت آئے گی۔

ہری پور کے بعد پشاور کی سنٹرل جیل خیبرپختونخوا کی دوسری بڑی جیل ہے جو برطانوی راج کے دوران تعمیر کی گئی تھی اور اس میں 450 قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش کے مطابق سہولیات کا بندوبست کیا گیا تھا۔ سردست پشاور سنٹرل جیل میں سترہ سو سے زیادہ قیدی ہیں جن میں بارہ سو سے زیادہ زیرسماعت مقدمات جبکہ چارسو سے زیادہ سزا یافتہ ہیں علاؤہ ازیں پھانسی کی سزا پانے والے قیدی بھی یہیں مقیم ہیں۔ جرائم کے خاتمے اور جیل کے ایک کردار کو اصلاحی بنانے کے لئے زیرسماعت مقدمات کے ملزمان اور سزایافتہ مجرموں کو الگ الگ جیل میں رکھا جانا چاہئے۔ پشاور جیل میں دو سو سے زائد عسکریت پسند اور کم و بیش پچاس انتہائی خطرناک قیدی موجود ہیں جو دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں۔ خیبرایجنسی میں جاری فوجی کاروائی کے دوران اور اس سے قبل گرفتار ہونے والے عسکریت پسندوں کی ایک بڑی تعداد میں پشاور کی سنٹرل جیل کی آبادی کا حصہ ہے جبکہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد سے گرفتاری میں امریکہ کی معاونت کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی موجودگی کی وجہ سے پشاور کی سنٹرل جیل زیادہ سخت حفاظتی انتظامات کی متقاضی ہے۔

 خطرناک اور انتہائی خطرناک مجرموں کو کسی دوسری زیادہ محفوظ اور کشادہ جیل میں الگ الگ رکھنے سے متعلق غور ہونا چاہئے۔ عسکریت پسندی میں ملوث افراد کا دیگر جرائم والے ملزموں یا مجرموں کے ساتھ قیام بھی اپنی جگہ خاص توجہ چاہتا ہے۔