Showing posts with label VOA. Show all posts
Showing posts with label VOA. Show all posts

Saturday, August 6, 2016

Aug2016: Ghandhara by Khalid Khan Kheshgi

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تہذیبی سفر: پوشیدہ اَسباق!

’گندھارا تہذیب‘ پر پشتو زبان میں شائع ہونے والی ’پہلی کتاب‘ صحافی خالد خان خویشگی کی اُن مسلسل کاوشوں کا حصّہ ہے جو وہ انسانیت کے احترام‘ انسانی حقوق کی پاسداری اور بناء تفریق کسی بھی رنگ و نسل کی حق تلفی کے خلاف آواز اُٹھانے سے شروع ہوتی ہے‘ کسی صحافی کے لئے غیرجانبدار رہتے ہوئے صرف اور صرف سچائی اور حقائق کے لئے خود کو وقف کرنے کی اِس سے عمدہ عملی مثال ڈھونڈے نہیں مل سکتی کہ باوجود پیشہ ورانہ مصروفیات اُنہوں نے خیبرپختونخوا اُور ملحقہ خیبرایجنسی کے قبائلی علاقے سمیت خطے کی تاریخ‘ رہن سہن‘ رسم و رواج‘ بول چال اُور تعمیر و ترقی جیسے موضوعات کا احاطہ کرتے ہوئے سلیس بول چال کے انداز میں تحریر کردہ کتاب کی صورت محسوس کی جانے والی کمی پوری کر دی ہے۔ 

’غار سے گندھارا تہذیب کے مرکز‘ بننے تک کا سفر خوبصورتی سے پیش کرنے والے خالد خان ’ریڈیو فری یورپ‘ المعروف ’مشال ریڈیو‘ سے وابستہ ہیں اُور انہوں نے دیگر تاریخ دانوں کی طرح ماضی کے حقائق اُور واقعات کی ’صحافیانہ اَصولوں (غیرجانبداری کی کسوٹی)‘ پر کڑی جانچ پڑتال کرنے کے بعد اُنہیں اپنی تصنیف میں شامل کیا ہے۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ خالد خان نے اپنی رائے شامل کرنے کی بجائے حقائق کا حقائق سے منطقی موازنہ اور اُن کی رونما ہونے کی ترتیب کا لحاظ رکھا جس سے کتاب نہ صرف تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے لائق مطالعہ بن گئی بلکہ اِس سے مزید تحقیق کے دروازے بھی کھل گئے ہیں۔ تاریخ کو ایک نئے انداز سے پیش کرنے کی یہ کاوش ہرلحاظ سے کامیاب اُور پشتو زبان میں تحریر ہونے والے تاریخ و ادب میں خوبصورت اضافہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

صحافت کا کلی انحصار دوسروں سے بات چیت (انٹرویوز) پر ہوتا ہے اور اپنی اِسی مہارت و تجربے اور وسائل کا بخوبی اِستعمال کرتے ’گندھارا‘ تصنیف کے مرکزی خیال اُور موضوع پر تحقیق کے لئے خیبرپختونخوا کے مختلف لوگوں سے بات چیت کو کتابی صورت میں یکجا کر دیا گیا ہے۔ ’تاریخ دانی‘ کرتے ہوئے اپنی رائے اور تجزیئے کو موضوع پر حاوی نہ ہونے دینے کی یہ عمدہ مثال ہے جس کے اسباق سے نہ صرف محکمہ تعلیم بلکہ بالخصوص شعبۂ صحافت کے لئے نصاب مرتب کرنے والے بہت فائدہ اُٹھا سکتے ہیں‘ کیونکہ صحافت نہ صرف حقائق کے بیان اور اُن کی روشنی میں نامساعد حالات و خطرات سے نمٹنے یا پیشگی تیاری کی تحریک پیدا کرتی ہے بلکہ اِس کے ذریعے تاریخ کے اُن حقائق کا بیان بھی اگر ممکن ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ مستقبل میں ’صحافت ایک لازمی مضمون‘ کے طور پر سچائی کھوجنے کا ’مستقل اصول‘ قرار پائے۔ 

’گندھارا‘ اکیس ابواب پر مشتمل کتاب ہے جس میں تین ہزار سال پرانی اُن غاروں سے شروع ہونے والے ’تہذیب کے سفر‘ کا پیچھا کیا گیا ہے جس کے نشانات و آثار آج بھی مردان‘ تخت بھائی اور سوات کے علاقوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اٹک قلعہ سے لیکر درہ خیبر (خیبرایجنسی) تک پھیلے خطے کی خاک چھانتے ہوئے کتاب میں صرف الفاظ ہی نہیں بلکہ تصاویر کے ذریعے بھی بہت کچھ سمجھانے اور شناخت کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جس میں بالخصوص ’گندھارا تہذیب‘ کے اُن پہلوؤں کو موضوع بنایا گیا ہے جن کا تذکرہ اِس حوالے سے تحریر کی گئیں دیگر کتابوں یا ابواب میں یا تو نہیں ملتا‘ یا پھر سرسری طور پر اُن کا سطحی ذکر کیا جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مصنف خالد خان کو کتاب لکھنے کا ’بنیادی خیال‘ ہی خان عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کی اُس حالیہ اور جدید ترین تحقیق و کھدائی سے ملنے والے نتائج سے آیا‘ جو مردان کے گاؤں ’سانگاؤ‘ میں کی گئی۔ اگرچہ یہ حقیقت معلوم ہے کہ مردان اور باجوڑ کے علاقوں میں آج سے کم وبیش تین ہزار سال پہلے لوگ غاروں میں رہا کرتے تھے لیکن ’آثار قدیمہ‘ سے لوگوں کے رہن سہن اور اقدار و روایات تک پہنچنے کی ہر کوشش دلچسپ اور نئے حقائق سامنے لاتی ہے۔ گندھارا تہذیب صرف رہن سہن یا بودوباش کا مجموعہ نہیں بلکہ اس کے علمی و ادبی پہلو بھی لائق توجہ و مطالعہ ہیں۔ غاروں میں رہنے والے اگر غوروتفکر سے عاری ہوتے اور اگر وہ آج سے زیادہ اپنی اعمال کی اصلاح کرنے کا ذوق و شوق نہ رکھتے تو شہروں تک ترقی کا موجودہ سفر ممکن ہی نہ ہوتا کیونکہ انسانی تاریخ ’حادثاتی‘ نہیں کہ جس میں سب کچھ خودبخود رونما ہوا ہو بلکہ انسان نے دنیا کو سجانے اور سنوارنے کے لئے بھی اپنی بہترین صلاحیتوں اور علم ودانش کا استعمال کیا ہے‘ قربانیاں دی‘ جس پر یقین نہ کرنے والوں کو ’گندھارا‘ نامی پشتو زبان کی اِس کتاب کا کم سے کم ایک مرتبہ ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔ اُمید کی جا سکتی ہے کہ خالد خان اپنی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سے جڑی الگ الگ صحافیانہ مصروفیات سے کچھ وقت نکال کر دو سو صفحات پر مشتمل اپنی کتاب کو اُردو‘ اور انگریزی پڑھنے والوں کے لئے بھی پیش کریں گے‘ جن کا ’گندھارا تہذیب‘ کے بارے مطالعہ اب تک ایک خاص زوایئے پر مرکوز رہا ہے۔ اِس سلسلے میں ویب سائٹ کا وسائل زیادہ ماحول دوست اور تشہیری امکانات رکھے گا۔ 

خیبرپختونخوا میں ’تاریخ و آثار قدیمہ‘ کے وسیع و عریض خزانے پوشیدہ ہیں جیسا کہ رحمان ڈھیری میں کی گئی کھدائی سے ملنے والے ’وادئ گومل‘ کے آثار سے پتہ چلا ہے کہ یہ مقام پورے جنوب ایشیاء میں ایسا ’پہلا شہر‘ ہے جسے باقاعدہ منصوبہ بندی سے تعمیر کیا گیا۔ المیہ ہے کہ علوم‘ وسائل اور تعمیراتی شعبوں میں آلات و ہنرمند افرادی قوت ہونے کے باوجود بھی ہمارے شہر اور دیہات بے ہنگم انداز میں کچھ اس طرح پھیل رہے ہیں کہ انسان اپنے ہی ہاتھوں مسائل میں اُلجھ گیا ہے لیکن اگر ’گندھارا تہذیب‘ کا ’مطالعہ‘کیا جائے تو کہیں اُور کی نہیں بلکہ خود ہماری تاریخ گواہ ہے کہ انسانی معاشرے کو کس عمدگی و خوبصورتی سے ترتیب دیا جاتا تھا۔ اگرچہ ’گندھارا‘ میں جو تاریخ اُور واقعات بیان کئے گئے ہیں اُن میں کچھ بھی نیا نہیں اور اُن سب کا ذکر کہیں نہ کہیں دیگر کتب میں بھی ملتا ہے لیکن ’پشتو زبان‘ میں اِس موضوع پر پہلی اور صحافیانہ اصولوں پر مرتب ہونے والی اِس پہلی کتاب کو ضرور پذیرائی ملنی چاہئے۔ اُمید کی جاتی ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت یا جامعہ پشاور اُور بالخصوص ’گندھارا ہندکو اکیڈمی‘ جیسے ادارے اِس پشتو کتاب کو زیادہ بڑے پیمانے پر عام کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں گے۔ خالد خان نے صحافت کے ساتھ جس دوسرے کھٹن کام کا بیڑا اُٹھایا ہے اگر وہ اُس کے اگلے مرحلے میں تحقیق کے لئے متعلقہ ماہرین کو رضامند کر لیتے ہیں اور خیبرایجنسی (دوسری سے پانچویں صدی میں خوشاہان حکومت کا حصّہ رہے اِس علاقے) میں پھیلے گندھارا تہذیب کے آثار معلوم کرنے کے لئے کھدائی ممکن کی جاتی ہے تو ’گندھارا‘ کو ’نئی جان (جہت) مل جائے گی لیکن قبائلی سرزمین پر ’امن و امان کی بہتری شرط ہے۔‘ 

گندھارا تہذیب کے موضوع پر لکھا ہوا ہر لفظ ’پشاور شناسی کا ذوق‘ رکھنے والوں کے لئے بھی خاص دلچسپی کا منبہ ہوتا ہے کیونکہ یہاں کے سولہ دروازوں میں آباد رہن سہن کا شمار جنوب ایشیاء کے قدیم ترین زندہ تاریخی شہروں میں ہوتا ہے۔ کاش کہ پشاور کی چاردیواری کے اندر اُور اطراف میں پھیلے اُن آثار قدیمہ کی اہمیت کا خاطرخواہ احساس کر لیا جاتا‘ کاش یہاں کے قدیمی باغات اُور اُن سے جڑے تہذیبی و ترقی کے ایک طویل سفر کو سمجھا جاتا تو زبانوں یا تہذیبوں کے درمیان اجنبیت کا احساس نہ ہوتا اور انسانی ترقی کے لئے اقتصادی و سماجی مسائل سے نمٹنے والوں کو اِسقدر مشکلات درپیش نہ ہوتیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Aug2016: Ghandhara by Khalid Khan Kheshgi

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمامتہذیب کا سفر
’گندھارا تہذیب‘ پر پشتو زبان میں شائع ہونے والی پہلی کتاب صحافی خالد خان خویشگی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے خیبرپختونخوا اُور ملحقہ خیبرایجنسی کے قبائلی علاقے سمیت خطے کی تاریخ‘ رہن سہن‘ رسم و رواج‘ بول چال اُور تعمیر و ترقی جیسے موضوعات کا احاطہ کرتے ہوئے ’غار سے گندھارا تہذیب کے مرکز‘ بننے تک کا سفر خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ خالد خان ’ریڈیو فری یورپ‘ المعروف ’مشال ریڈیو‘ سے وابستہ ہیں اُور انہوں نے دیگر تاریخ دانوں کی طرح ماضی کے حقائق اُور واقعات کی ’صحافیانہ اصولوں (غیرجانبداری کی کسوٹی)‘ پر کڑی جانچ پڑتال کرنے کے بعد اُنہیں اپنی تصنیف میں شامل کیا ہے۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ خالد خان نے اپنی رائے شامل کرنے کی بجائے حقائق کا حقائق سے منطقی موازنہ اور اُن کی رونما ہونے کی ترتیب کا لحاظ رکھا جس سے کتاب نہ صرف تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے لائق مطالعہ بن گئی بلکہ اِس سے مزید تحقیق کے دروازے بھی کھل گئے ہیں۔ تاریخ کو ایک نئے انداز سے پیش کرنے کی یہ کاوش ہرلحاظ سے کامیاب اُور پشتو زبان میں تحریر ہونے والے تاریخ و ادب میں خوبصورت اضافہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

صحافت کا کلی انحصار دوسروں سے بات چیت (انٹرویوز) پر ہوتا ہے اور اپنی اِسی مہارت کا بخوبی استعمال کرتے ’گندھارا‘ تصنیف کے مرکزی خیال اُور موضوع پر تحقیق کے لئے خیبرپختونخوا کے مختلف لوگوں سے بات چیت کو یکجا کیا گیا ہے۔ ’تاریخ دانی‘ کرتے ہوئے اپنی رائے اور تجزیئے کو موضوع پر حاوی نہ ہونے دینے کی یہ عمدہ مثال ہے جسے شعبۂ صحافت کے نصاب میں شامل ہونا چاہئے کیونکہ صحافت نہ صرف حقائق کے بیان اور اُن کی روشنی میں نامساعد حالات و خطرات سے نمٹنے یا پیشگی تیاری کی تحریک پیدا کرتی ہے بلکہ اِس کے ذریعے تاریخ کے اُن حقائق کا بیان بھی اگر ممکن ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ مستقبل میں یہی سچائی کھوجنے کا مستقل اصول قرار پائے۔ ’گندھارا‘ اکیس ابواب پر مشتمل ہے جس میں تین ہزار سال پرانی اُن غاروں سے شروع ہونے والے ’تہذیب کے سفر‘ کا پیچھا کیا گیا ہے جس کے نشانات و آثار آج بھی مردان‘ تخت بھائی اور سوات کے علاقوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اٹک قلعہ سے لیکر درہ خیبر (خیبرایجنسی) تک پھیلے خطے کی خاک چھانتے ہوئے کتاب میں صرف الفاظ ہی نہیں بلکہ تصاویر کے ذریعے بھی بہت کچھ سمجھانے اور شناخت کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جس میں بالخصوص ’گندھارا تہذیب‘ کے اُن پہلوؤں کو موضوع بنایا گیا ہے جن کا تذکرہ اِس حوالے سے تحریر کی گئیں دیگر کتابوں میں یا تو نہیں ملتا‘ یا پھر سرسری طور پر اُن کا ذکر کیا جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مصنف خالد خان کو کتاب لکھنے کا ’بنیادی خیال‘ ہی خان عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کی اُس حالیہ اور جدید ترین تحقیق و کھدائی سے ملنے والے نتائج سے آیا‘ جو مردان کے گاؤں ’سانگاؤ‘ میں کی گئی۔ اگرچہ یہ حقیقت معلوم ہے کہ مردان اور باجوڑ کے علاقوں میں آج سے کم وبیش تین ہزار سال پہلے لوگ غاروں میں رہا کرتے تھے لیکن ’آثار قدیمہ‘ سے لوگوں کے رہن سہن اور اقدار و روایات تک پہنچنے کی ہر کوشش دلچسپ اور نئے حقائق سامنے لاتی ہے۔ گندھارا تہذیب صرف رہن سہن یا بودوباش ہی نہیں بلکہ اس کے علمی و ادبی پہلو بھی ہیں۔ 

غاروں میں رہنے والے اگر غوروتفکر سے عاری ہوتے اور اگر وہ آج سے زیادہ اپنی اعمال کی اصلاح کرنے کا ذوق و شوق نہ رکھتے تو شہروں تک ترقی کا سفر ممکن ہی نہ ہوتا کیونکہ انسانی تاریخ ’حادثاتی‘ نہیں کہ جس میں سب کچھ خودبخود رونما ہوا ہو بلکہ انسان نے دنیا کو سجانے اور سنوارنے کے لئے بھی اپنی بہترین صلاحیتوں اور علم ودانش کا استعمال کیا ہے‘ جس پر یقین نہ کرنے والوں کو ’گندھارا‘ نامی پشتو زبان کی اِس کتاب کا کم سے کم ایک مرتبہ ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔ اُمید کی جا سکتی ہے کہ خالد خان خویشگی اپنی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سے جڑی الگ الگ صحافیانہ مصروفیات سے کچھ وقت نکال کر دو سو صفحات پر مشتمل اپنی کتاب کو اُردو‘ اور انگریزی پڑھنے والوں کے لئے پیش کریں گے‘ جن کا ’گندھارا تہذیب‘ کے بارے مطالعہ اب تک ایک خاص زوایئے پر مرکوز رہا ہے۔ خیبرپختونخوا میں ’تاریخ و آثار قدیمہ‘ کے وسیع و عریض خزانے پوشیدہ ہیں جیسا کہ رحمان ڈھیری میں کی گئی کھدائی سے ملنے والے ’وادئ گومل‘ کے آثار سے پتہ چلا ہے کہ یہ مقام پورے جنوب ایشیاء میں ایسا ’پہلا شہر‘ ہے جسے باقاعدہ منصوبہ بندی سے تعمیر کیا گیا۔ 

المیہ ہے کہ علوم‘ وسائل اور تعمیراتی شعبوں میں آلات و ہنرمند افرادی قوت ہونے کے باوجود بھی ہمارے شہر اور دیہات بے ہنگم انداز میں کچھ اس طرح پھیل رہے ہیں کہ انسان اپنے ہی ہاتھوں مسائل میں الجھ گیا ہے لیکن اگر گندھارا تہذیب کا مطالعہ کیا جائے تو کہیں اُور کی نہیں بلکہ خود ہماری تاریخ گواہ ہے کہ انسانی معاشرے کو کس عمدگی و خوبصورتی سے ترتیب دیا جاتا تھا۔ اگرچہ ’گندھارا‘ میں جو تاریخ اُور واقعات بیان کئے گئے ہیں اُن میں کچھ بھی نیا نہیں اور اُن سب کا ذکر کہیں نہ کہیں دیگر کتب میں بھی ملتا ہے لیکن ’پشتو زبان‘ میں اِس موضوع پر پہلی اور صحافیانہ اصولوں پر مرتب ہونے والی اِس پہلی کتاب کو ضرور پذیرائی ملنی چاہئے۔ اُمید کی جاتی ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت یا جامعہ پشاور اُور بالخصوص ’گندھارا ہندکو اکیڈمی‘ جیسے ادارے اِس پشتو کتاب کو زیادہ بڑے پیمانے پر عام کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں گے۔ 

خالد خان نے صحافت کے ساتھ جس دوسرے کھٹن کام کا بیڑا اُٹھایا ہے اگر وہ اُس کے اگلے مرحلے میں تحقیق کے لئے متعلقہ ماہرین کو رضامند کر لیتے ہیں اور خیبرایجنسی (دوسری سے پانچویں صدی میں خوشاہان حکومت کا حصّہ رہے اِس علاقے) میں پھیلے گندھارا تہذیب کے آثار معلوم کرنے کے لئے کھدائی کی جاتی ہے تو ’گندھارا‘ کو ’نئی جان (جہت) مل جائے گی لیکن قبائلی سرزمین پر ’امن و امان کی بہتری شرط ہے۔‘ 

گندھارا تہذیب کے موضوع پر لکھا ہوا ہر لفظ ’پشاور شناسی کا ذوق‘ رکھنے والوں کے لئے بھی خاص دلچسپی کا منبہ ہوتا ہے کیونکہ یہاں کے سولہ دروازوں میں آباد رہن سہن کا شمار جنوب ایشیاء کے قدیم ترین زندہ تاریخی شہروں میں ہوتا ہے۔ کاش کہ پشاور کی چاردیواری کے اندر اُور اطراف میں پھیلے اُن آثار قدیمہ کی اہمیت کا خاطرخواہ احساس کر لیا جاتا‘ کاش یہاں کے قدیمی باغات اُور اُن سے جڑے تہذیبی و ترقی کے ایک طویل سفر کو سمجھا جاتا تو زبانوں یا تہذیبوں کے درمیان اجنبیت کا احساس نہ ہوتا اور انسانی ترقی کے لئے اقتصادی و سماجی مسائل سے نمٹنے والوں کو اِسقدر مشکلات درپیش نہ ہوتیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Friday, August 28, 2015

Aug2015: Trauma Centre for Journalists

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
صحافت: جذباتی و نفسیاتی صدمات
خیبرپختونخوا اور بالخصوص قبائلی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو ملک کے دیگر حصوں کی نسبت زیادہ ’پرخطر حالات‘ کا سامنا رہتا ہے‘ جس کے دو بنیادی محرکات ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں برداشت کا عنصر (مادہ) کم سے کم ترین حدوں (سطحوں)کو چھو رہا ہے۔ سیاسی جماعتیں جمہوریت میں اِختلاف رائے کا عملاً اَحترام نہیں کرتیں اور ذرائع ابلاغ کے اداروں یا انفرادی حیثیت میں صحافیوں کے بارے میں کارکنوں کی ایسی ذہنی تربیت کرتی ہیں (انہیں اکساتی ہیں) کہ وہ صحافتی اداروں یا صحافیوں کو جانی و مالی نقصان پہنچانا ایک جائز فعل سمجھنے لگتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں یہ حقیقت بھی فراموش کر دیتی ہیں کہ صحافی کسی اِدارے میں سیاہ و سفید کے مالک نہیں ہوتے بلکہ ملازم ہوتے ہیں اور ادارہ جاتی حکمت عملیاں (ایڈیٹوریل اِدارتی پالیسیاں) ترتیب دینے میں اُن کی رائے یا تو فیصلہ سازی میں سرے سے شامل ہی نہیں کی جاتی یا پھر آٹے میں نمک کے برابر اُن سے صرف رائے لے کر مطلع کر دیا جاتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ کراچی‘ لاہور اور اِسلام آباد میں بیٹھے ہوئے ’میڈیا منیجرز‘ کہ جنہوں نے خیبرپختونخوا یا قبائلی علاقوں کو خود کبھی قریب سے نہیں دیکھا ہوتا‘ جنہیں اِس خطے کے ناموں تک کی ادائیگی صحیح تلفظ کے ساتھ نہیں آتی‘ اُن سے کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ فیصلہ سازی میں صحافی کارکنوں کی جان و مال کے تحفظ یا علاقائی (قبائلی) اقداروروایات کو مدنظر (پیش نظر) رکھ پائیں گے! براہ راست نشریات میں جب کسی صحافی سے بات چیت (beeper) لیا جا رہا ہوتا ہے تو پہلے سے بتائے گئے سوالات کے علاؤہ اچانک ایسا سوال پوچھ لیا جاتا ہے جس کا درست جواب اُس صحافی کی جان ومال کو خطرے میں ڈالنے کا مؤجب بنتا ہے۔ اگرچہ یہ رجحان اب کچھ کم ہے تاہم ’نیوز رومز‘ کے دباؤ میں بڑی سے بڑی خبر کی تلاش کرتے ہوئے صحافی اپنی ملازمت بچانے کے لئے بسا اُوقات زندگی داؤ پر لگا دیتے ہیں اور ایسے کئی ایک واقعات کی مثالیں موجود ہیں‘ جن میں صحافیوں نے اپنے ہم عصروں کو نیچا دکھانے کے لئے صحافتی حدودوقیود (ضابطۂ اخلاق) سے تجاوز کیا!

القصہ مختصر (ریاستی وغیر ریاستی کرداروں کے مفادات کی وجہ سے) شورش زدہ علاقوں میں’غیرجانبدار صحافت‘کرنا بذات جان جوکھوں کا کام ہے اور دوسرا پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران صحافیوں کو اچانک رونما ہونے والے ایسے واقعات سے بھی واسطہ پڑتا ہے‘ جو اُن کے لئے شدید ذہنی و جذباتی صدمات اُور نفسیاتی دباؤ کا باعث بنتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کسی معاشرے میں رہنے والے صرف صحافی ہی کیوں نفسیاتی اُور ذہنی الجھنوں کا شکار ہوتے ہیں؟ ماہرین اِس کی کئی ایک وجوہات بیان کرتے ہیں جن میں سرفہرست سخت ملازمتی ذمہ داریاں ہیں‘ جو دیگر شعبہ ہائے زندگی کی طرح آٹھ یا بارہ گھنٹے پر مبنی نہیں ہوتیں بلکہ شورش زدہ علاقوں میں کام کرنے والا صحافی ایک ایسا کل وقتی ملازم ہوتا ہے‘ جسے جسمانی ضروریات پورا کرنے مثلاً اپنی نیند پوری کرنے کا بھی موقع نہیں ملتا۔ اِس سلسلے میں سب سے زیادہ دباؤ ’نجی نیوز ٹیلی ویژن چینلوں‘ کے لئے کام والوں پر رہتا ہے‘ جو روزمرہ کی مصروفیات میں اپنے آپ اُور اپنے اہل خانہ تک کو بھول جاتے ہیں۔ علاؤہ ازیں صحافیوں کی صرف جان ومال ہی کے نقصانات کا اندیشہ نہیں ہوتا بلکہ اُنہیں ’جاب سیکورٹی‘ بھی نہیں ہوتی۔ وہ اپنی آمدن کے وسائل بارے میں غیریقینی کی صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں اُور اگر کسی علاقے میں شورش یا دہشت گرد واقعات رونما نہیں بھی ہو رہے لیکن وہاں اگر صحافت کرنے والوں کو اُن کی خدمات کا خاطرخواہ معاوضہ نہیں مل رہا تو ایسے افراد کا ذہنی تناؤ یا دباؤ سے متاثر ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا (جملہ ذرائع ابلاغ) سے تعلق رکھنے والے جز وقتی اُور کل وقتی صحافیوں کے حالات کار‘ اُوقات کار بہتر بنانے کے لئے کئی عالمی تنظیمیں فعال ہیں‘ انسانی حقوق کا تحفظ کرنے والے غیرسرکاری ادارے بھی صحافیوں کے دکھ درد میں وقتاً فوقتاً برابر شریک رہتے ہیں لیکن یہ مسئلہ ’مستقل حل‘ چاہتا ہے جس میں پاکستان کی وفاقی و صوبائی حکومتوں کو کلیدی کردار اَدا کرنا ہوگا۔‘‘ اگر صوبائی‘ قومی اور سینیٹ کے معززاراکین کے ’ایڈہاک ریلیف الاؤنسیز‘ مقرر کئے جاسکتے ہیں تو صحافیوں کے لئے ایسے خصوصی الاؤنس کیوں مقرر نہیں کئے جا سکتے؟ صحافیوں کی زندگیوں کا بیمہ اُور انہیں علاج معالجے کے لئے الگ سے خصوصی انشورنس کے تحت تحفظ کیوں فراہم نہیں کیا جاسکتا؟ شورش زدہ علاقوں میں کام کرنے والوں کی حسب حال تنخواہیں اور اضافی مراعات کیوں سرکاری طور پر مقرر نہیں کی جاسکتیں؟

بھوک پیاس‘ خوشی غمی‘ گھریلو اور سماجی زندگی‘ تعلق داریاں‘ اہل و عیال اور عزیزواقارب سے کٹ کر خود کو بہترطرز حکمرانی (گڈگورننس) کے لئے وقف کرنے والوں کو صرف جانی ومالی نقصانات ہی کا اندیشہ نہیں رہتا بلکہ وہ نفسیاتی پیچیدگیوں کا شکار رہتے ہیں اور اِسی حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے جرمن حکومت کے تعاون سے جامعہ پشاور کے شعبہ نفسیات (سائیکالوجی) اُور شعبہ صحافت (جرنلزم اینڈ ماس کیمونیکیشن) نے صحافیوں کے لئے ’ٹراما سنٹر‘ قائم کیا ہے‘ جہاں انہیں درپیش نفسیاتی مسائل یا اُلجھنوں کو (اگر وہ ان کا اظہار و بیان کریں تو) سلجھایا جائے گا۔ یاد رہے کہ جرمن حکومت کا نشریاتی ادارہ ’ڈائچے ویلے (Deutsche Welle)‘ جسے عرف عام میں ’ڈی ڈبلیو‘ کہا جاتا ہے‘ جامعہ پشاور کے شعبۂ صحافت کی تکنیکی اِمداد میں سالہا سال سے پیش پیش ہے‘ اور اگر شعبۂ صحافت سے بطور معلم وابستہ ’معلمین‘ کے پاسپورٹ دیکھے جائیں تو اُن کے صفحات پر ’جرمنی‘ امریکہ اُور برطانیہ‘ کے اتنے ہی ویزے لگے ہوئے ملیں گے‘ کہ جتنے کل صفحات ہوں گے۔ المیہ ہے کہ صحافت کی درس و تدریس کے لئے ملازم رکھنے والے سال کا بیشتر وقت بیرون ملک اور باقی ماندہ پاکستان میں تھکاوٹ اُتارنے پر خرچ کرتے ہیں! جرمن حکومت سمیت دیگر فنی تعاون کے خواہشمند ممالک سے دست بستہ درخواست ہے کہ وہ آئندہ شعبۂ صحافت کے کسی معلم کو بیرون ملک معلوماتی یا تکنیکی دورے کے لئے سہولیات فراہم نہ کریں کیونکہ اِس سے شعبۂ صحافت میں تدریس کا عمل بُری طرح متاثر ہوتا ہے۔ تدریسی عملے کی سالہا سال غیرحاضری پر مبنی بے قاعدگی کا نوٹس لینے کی التجا جامعہ پشاور کے چانسلر اور وائس چانسلر صاحبان سے بھی ہے‘ جنہوں نے پورے معاملے سے چشم پوشی اختیار کر رکھی ہے۔

 3مئی 1953ء کو قائم ہونے والا ’ڈی ڈبلیو‘ کا موازنہ دنیا کے قدیم ترین اور ملازمین کی تعداد کے لحاظ سے دوسرے بڑے ’عالمی میڈیا ہاؤس‘ بی بی سی سے کرنا انصاف نہیں لیکن ’ڈی ڈبلیو‘ کا مقام 18اکتوبر 1922ء سے برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے تجربے اور مقبولیت سے کسی طرح کم نہیں اور یہ دونوں ادارے 1942ء سے 1945ء کے درمیان تشکیل پانے والے ’وائس آف امریکہ‘ کی طرح ’غیرجانبدار صحافت‘ کے فروغ اُور عالمی سطح پر اعلیٰ صحافتی اقدار متعارف و عملاً لاگو کرنے کے لئے ایک دوسرے سے بڑھ کر کوشاں ہیں۔ بہرحال جرمن حکومت کے نشریاتی ادارے ’ڈی ڈبلیو‘ اور تکنیکی امداد کے ادارے ’جی آئی زیڈ‘ کا جس قدر شکریہ اَدا کیا جائے کم ہوگا جنہوں نے اِبتدأ میں ایف ایم ریڈیو‘ بعدازاں الیکٹرانک میڈیا اور اب ’ٹراما سینٹر کے قیام‘ کے لئے (باردیگر) فراخدالانہ مدد کی ہے لیکن حسب توقع اس کوشش سے ’ورکنگ صحافیوں‘ سے زیادہ مختلف شعبوں سے وابستہ افراد کا زیادہ بھلا ہوگا!

جامعہ پشاور میں ’صحافیوں کے نفسیاتی و جذباتی مسائل اور صدمات‘ کا علاج اُس وقت تک کافی ثابت نہیں ہوگا جب تک اِس مرض کے زیادہ تر سطحی (اوّل الذکر تمہیدی) اسباب سے متعلق ٹھوس عملی اقدامات نہیں کئے جاتے۔ جرمن حکومت کے فیصلہ سازوں سے درخواست ہے کہ وہ شعبۂ صحافت کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ شدہ ملازمین کی فنی و علمی تعلیم و تربیت اُور مالی اِمداد کی بجائے ایسی ’کثیرالجہتی حکمت عملی‘ مرتب کرے‘ جس سے پاکستان میں صحافت اُور صحافیوں کی صرف اپنے شعبے سے متعلق محض معلومات و مہارت ہی نہیں بلکہ اُن کے معیار زندگی میں بھی بہتری لانا مقصود ہو۔ 1: صحافتی فرائض کی اَنجام دہی میں کی جانے والی غیرمعمولی کوششوں (تحقیق) کو سراہنے کے سہ ماہی‘ شش ماہی‘ سالانہ اور موضوعاتی مقابلوں کا انعقاد 2: ویب سائٹ‘ بلاگز‘ ریڈیو اُور ٹیلی ویژن کے وسائل (پلیٹ فارم) سے میڈیا رپورٹس کی تشہیر اُور 3: عالمی سطح پر نوجوان صحافیوں کو جدید ٹیکنالوجی سے متعارف کرانے کے لئے بیرون ملک دورے کے مواقعوں سے پاکستان میں صحافت اور صحافیوں کا مستقبل زیادہ محفوظ اور درخشاں بنایا جاسکتا ہے۔