Showing posts with label Ghandhar Hindko Academy. Show all posts
Showing posts with label Ghandhar Hindko Academy. Show all posts

Monday, December 4, 2017

Dec 2017: Sixth International Hindko Conference, unique opportunity!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تہذیب ’زبان‘ کی!

آٹھ دسمبر قریب ہے‘ جب ایک اُور سنگ میل عبور ہو جائے گا۔ پشاور میں ’عالمی ہندکو کانفرنس‘ کے مندوبین (خیر نال آئیو) کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جو ایک دوسرے سے مبارکبادوں کا تبادلہ اُور اپنے مقالات بعنوان ’’ہندآریائی تے پاکستانی زباناں دی ترقی دے ذریعے قومی یک جہتی دا حصول‘‘ کے ذریعے اِس عزم کے اظہار کی تیاریاں کئے بیٹھے ہیں کہ ’چھٹی مرتبہ‘ منعقد ہونے والا ’عالمی اِجتماع‘ تو اِک نکتۂ آغاز‘ اک جذبہ اور جذبے کا اظہار ہے کہ ۔۔۔ ’’بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے۔‘‘ 

خوش آمدید‘ اے عاشقان ہندکو‘ جنوب مشرق ایشیاء کا زندہ تاریخی شہر ’پشاور‘ آپ کی تشریف آوری سے مسرور اُور دعاگو ہے کہ ہندکو زبان کی طرح پشاور سے بھی آپ کا ’دلی تعلق‘ ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہوتا چلا جائے گا یقیناً(ایک تیر دو شکار) ’چھٹی عالمی ہندکو کانفرنس‘ کے ذریعے ’پشاور شناسی‘ کا ہدف بھی حاصل ہو جائے گا کہ ’اہل محبت پشاور سے اپنے عہد کی تجدید کر لیں۔‘ 

تین روزہ کانفرنس کا باقاعدہ آغاز (آٹھ دسمبر‘ پہلے روز کی پہلی نشست) کے لئے ’گورنر خیبرپختونخوا اِقبال ظفر جھگڑا‘ مدعو ہیں‘ جو ’گندھارا ہندکو بورڈ و اکیڈمی‘ کے صدر دفتر‘ یونیورسٹی ٹاؤن میں منعقد ہوگی اُور اِس کے لئے ’اَحمد علی سائیں ہال‘ سمیت پوری عمارت کو سجایا گیا ہے۔ ’آٹھ‘ اور ’نو دسمبر’ کی نشستیں چنار روڈ‘ آبدرہ‘ یونیورسٹی ٹاؤن پشاور جبکہ دس دسمبر کی اختتامی نشست کے لئے ’آرکائیوز لائبریری ہال‘ نزد عجائب گھر‘ پشاور کا انتخاب کیا گیا ہے‘ جس کے الیکٹرانک اور شائع شدہ دعوت ناموں کی تقسیم اور شرکاء کو فرداً فرداً یاد دہانی کا عمل وقت سے قبل مکمل کرنے سے عیاں ہے کہ ’ہندکو عالمی کانفرنس‘ گپ شپ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ موضوع کا احاطہ کرنے والی سنجیدہ کوشش ہے‘ جس سے نئی نسل نہ صرف ہندکو زبان و ادب بلکہ اِس پورے خطے کے بارے میں بھی بہت کچھ سیکھے گی۔ اُمید ہے پاکستان کا نجی الیکٹرانک میڈیا اِس اہم کانفرنس اور اِس کے غیرملکی‘ ملکی اور مقامی مندوبین کو خاطرخواہ توجہ دے گا۔ خلوص و لگن سے کانفرنس کی تیاریاں اور اِسے عملاً ممکن بنانے والے جملہ منتظمین مبارکباد کے مستحق ہیں‘ جنہیں دیکھ کر ’گندھارا تہذیب‘ بالخصوص ہندکو زبان اور پشاور شہر‘ کو صرف اِک نیا تعارف‘ ہی نہیں بلکہ مقصد بھی میسر ہے۔ قبلہ سیّد محمد اَمیرشاہ قادری گیلانی (مولوی جیؒ ) کی دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ ’چراغ سے چراغ جلنے کا سلسلہ باوجود مخالفت و رکاوٹوں کے بھی جاری و ساری ہے‘ رہے گا۔

اِنسانی معاشرے کے اِرتقاء کی کہانی کھلے آسمان تلے رات بسر کرنے سے ہوئی‘ تو گردوپیش میں ہر شے پر تعجب سے زیادہ تفکر سے کام لینا پڑا‘ اور مجھے کہنے دیجئے کہ یہی ضرورت قدرے مشکل (قدرے پیچیدہ) انداز میں آج بھی ’پیش و درپیش‘ ہے۔ موسم کی سختیوں سے بچنے کے لئے درختوں پر ٹھکانہ جب مسئلے کا پائیدار حل ثابت نہ ہوا‘ تو غار کی دریافت اور اِس میں رہنے کو ترجیح دی گئی جو زیادہ زیادہ آرام دہ اور پرسکون تجربہ ثابت ہوا۔ تجربات سے زندگی آگے بڑھتی رہی۔ غاروں سے شروع ہونے والی انسانی تہذیب کے اَن گنت نقوش آج بھی دیواروں پر ثبت ملتے ہیں‘ جن کے ذریعے واقعات اور کہانیاں بیان کی جاتی تھیں تاکہ دوسروں تک پیغام پہنچ سکے۔ الفاظ نہیں تھے لیکن آواز (صوت) موجود تھی اور اِسی صلاحیت کے سہارے بات چیت کا آغاز ہوا جو آواز کے اُتارچڑھاؤ پر مبنی تھی جنہیں ’الفاظ‘ کہا جا سکتا ہے کہ آج بھی ایسی آوازیں اپنا وجود اُور معنی رکھتی ہیں‘ جو درحقیقت انسان کے ساتھ اُس کے زمین پر پہلے دن سے ہمراہ ہیں۔ معروف آوازوں کے متواتر دُہرانے سے الفاظ وجود میں آئے جن کی آج کی طرح اُس وقت بھی ادائیگی ’’رابطہ کاری‘‘ کا بنیادی اور سب سے اہم ذریعہ تھی۔ اِسی کے ذریعے انسانوں نے اپنے ’ہم زمین‘ انسانوں کے محسوسات کو سمجھنا اُور انہیں دوسروں تک پہنچانا شروع کیا لیکن کیسی بدقسمتی ہے کہ آوازوں سے بننے والے الفاظ اور الفاظ سے تشکیل پانے والی زبانوں نے ہمیں ایک دوسرے سے قریب لانے کی بجائے ایک دوسرے سے دور دھکیل دیا ہے۔ ہمیں مانوس کرنے کی بجائے اجنبی بنا دیا ہے۔ 

اقوام کی ترقی کا راز اگر غوروفکر‘ تحریر و تحقیق اور قول و بیاں میں پنہاں ہے تو تدبر کرنے والوں کو سب کچھ مل جاتا ہے‘ جس کی بنیاد پر وہ ’ترقی یافتہ‘ کہلاتے ہیں لیکن زبانوں کی نقل اُور اُن میں سمانے کی کوشش کرنے والوں کے ہاتھ آنے والی ’ترقی پذیری‘ میں ناپائیداری نمایاں ہے۔ حضرت انسان کی ذات و صفات میں وسعت اور بالخصوص یہ وصف رکھا گیا ہے کہ یہ کسی ایک زبان میں نہیں بلکہ زبانیں اِس میں سما جائیں لیکن ایسا عملاً نہ ہوسکا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ’گندھارا ہندکو بورڈ‘ کے ذریعے مجھ جیسے بہت سے بھٹکے ہوؤں کو کم سے کم یہ تو معلوم ہو ہی چکا ہے کہ وہ بھٹک گئے ہیں۔ اُنہیں اپنی منزل کا نشان مل چکا ہے اور یقیناًایک اکثریت ایسی بھی ہوگی‘ جس نے اپنے شعوری اور معنوی وجود کو تلاش کر لیا ہو۔

روزمرہ تجربات سے اِنسانوں نے جو کچھ بھی سیکھا‘ اُس کا لب لباب زبانیں اور اُن کے لہجے ہیں۔ اِنہی سے محبتیں پھیلیں۔ تعلقات استوار ہوئے۔ ایک دوسرے پر بھروسہ ہونے لگا۔ آوازیں پہچان بنیں لیکن الفاظ‘ بولیاں‘ لہجے اور اِن کے معانی انسانی معاشرے کے درجات کی بلندی کا ذریعہ بنے۔ 

مقدس صحیفے اُور ہدایت کے لئے بھیجا جانے والا نور‘ ہمراہ ’سراج منیر‘ بھی الفاظ تھے‘ جنہوں نے انسانی معاشرے میں پائے جانے والے اُس فلسفے کی بھی تکمیل کر دی‘ جو منتشر تھا۔ اُن علوم و فنون کو بھی معراج بخشی جن سے متعلق ابہام و بے یقینی جیسے تاثرات عام تھے۔ انسانی حیات و بقاء کے منشور کو کتابی شکل میں مکمل پیش کرنے کے لئے بھی الفاظ اور زبان کا انتخاب اِس بات کا گواہی دے رہا ہے کہ انسانی زندگی کا ہر لمحہ اور اِس ہر لمحے میں ہر لفظ ایک بیش قیمت جنس ہے‘ جس کی حقیقت کی پہچان اور قدردانی کی جانب متوجہ کرتے ہوئے امیرالمومنین اِمام علی ابن ابیطالب کرم اللہ وجہہ الکریم کا ارشاد گرامی رہنما ہے کہ ’’میں الفاظ کے معانی نہیں جانتا تھا تو اُن کا بادشاہ تھا لیکن اِن کے بارے میں علم نے مجھے اِن کا غلام بنا دیا ہے!‘‘ یعنی انسانی معاشرے کی امتیاز خصوصیت ہی یہ ہے کہ اِس میں ہر لفظ اور سوچ کے ساتھ ایک ’احتیاط‘ جڑی ہے! زبان کی شناخت‘ درحقیقت اپنی ذات کی شناخت ہے جس کے درست استعمال سے زندگی کو شعور اور معنویت مل سکتی ہے۔ 

’گندھارا ہندکو بورڈ‘ نے نہ صرف مجھے ’جھنجوڑا‘ اور مجھے میری مادری زبان سے کی حقیقت و ضرورت سے آشنا کیا بلکہ اِس ’’تحریک‘‘ سے مجھ پر یہ حقیقت بھی آشکار ہوئی کہ ہر لفظ معلوم ہونے کا یہ قطعی مطلب نہیں ہوتا کہ اُس کا استعمال بھی کیا جائے بلکہ الفاظ سے استفادہ‘ اُور اُن کے انتخاب کا سلیقہ ہی سے انسانی معاشرے کا حسن‘ انسانی معاشرے کی تہذیب تخلیق پاتی ہے۔ 
’’سوچو تو بڑی چیز ہے تہذیب ’زبان‘ کی ۔۔۔ 
ورنہ تو ’زباں‘ آگ لگانے کے لئے ہے!‘‘
۔

Thursday, June 15, 2017

June2017: Zarf e Nigha Published by GHB Peshawar!

پشاور ۔۔۔ پریس ریلیز ۔۔۔15 جون 2017ء

زندہ قومیں اپنی تاریخ و ثقافت اُور اقدار کی محافظ ہوتی ہیں ’پشاور شناسی‘ نصاب کا حصہ قرار دیا جائے: محمد ضیاء الدین
رُوزنامہ آج ’پشاور کے مفادات‘ کا محافظ بن کر غیرجانبدارانہ صحافتی ذمہ داریوں اُور دِلی وابستگی کا حق اَدا کر رہا ہے
صحافی ’شبیر حسین اِمامؔ ‘ کے کالموں کا مجموعہ تغیرپذیر پشاور کے سیاسی‘ سماجی‘ تاریخی اور ثقافتی پہلوؤں سے متعلق ہیں

روزنامہ آج کے اِدارتی صفحات پر شائع ہونے والے پشاور سے متعلق کالموں کا مجموعہ ’گندھارا ہندکو بورڈ‘ نے کتابی شکل میں شائع کر دیا ہے۔ ’ژرف نگاہ‘ کے نام سے ’سال دوہزار بارہ‘ کے دوران تحریر کئے گئے کالموں میں پشاور کے تغیرپذیر سیاسی ‘ تاریخی‘ سماجی اور ثقافتی مسائل کو اُجاگر کیا گیا ہے۔ 

گندھارا ہندکو بورڈ کے جنرل سیکرٹری محمد ضیاء الدین نے ’حالات حاضرہ‘ پر مبنی اِن تحریروں کو ’پشاور شناسی‘ کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’زندہ قومیں اپنی تاریخ و ثقافت اُور اَقدار کی حفاظت اور اِس پر فخر کرتی ہیں۔‘‘ انہوں نے روزنامہ آج اور صحافی شبیر حسین اِمامؔ کی جانب سے ’پشاور‘ کی اہمیت اور یہاں کے برسرزمین حقائق کے بارے میں عوام الناس کو آگاہ کرنے کی کاوشوں کو فقیدالمثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’ضرورت اِس امر کی ہے کہ گندھارا تہذیب کے مرکز اور جنوب مشرق ایشیاء کے قدیم ترین‘ زندہ تاریخی شہر پشاور سے متعلق مضامین کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔‘‘چارسو تیس سے زائد صفحات پر مشتمل ’’ژرف نگاہ‘‘ میں مجموعی طور پر 165 موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے جو سال دوہزاربارہ کے دوران ادارتی صفحے پر شائع ہوئے۔ یاد رہے کہ ’’گندھارا ہندکو بورڈ‘‘ عرصہ 20برس سے خطے کی تاریخ و ثقافت اُجاگر کرنے کے لئے مختلف زبانوں میں علمی ادبی اور تحقیقی موضوعات پر کتابیں شائع کر رہا ہے‘ اور اِس سلسلے میں اب تک 150کتابیں شائع ہو چکی ہیں‘ جن میں قرآن مجید فرقان حمید کا ہندکو زبان میں ’منظوم ترجمہ‘ بھی شامل ہے‘ تاہم ’’ژرف نگاہ‘‘ صحافتی کالموں کا ایسا پہلا نثری مجموعہ ہے۔ 

گندھارا ہندکو بورڈ اس سے قبل اپنے بانی چیئرمین ڈاکٹر ظہور احمد اعوان کے کالموں کا منظوم ترجمہ بنام ’’منظوم فکر ظہور‘‘ شائع کر چکی ہے اور اُن کالموں کا انتخاب بھی ’روزنامہ آج‘ ہی کے ادارتی صفحات سے کیا گیا تھا۔ 

محمد ضیاء الدین نے ’گندھارا ہندکو بورڈ‘ کی خدمات کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’صوبائی حکومت نے ’ہندکو بورڈ‘ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اِسے ’گندھارا ہندکو اکیڈمی‘ جیسی اہم ذمہ داری سونپی ہے‘ جسے عرصہ 2 برس سے خوش اسلوبی کے ساتھ اَدا کیا جا رہا ہے۔‘‘ اُنہوں نے اِس اُمید کا اِظہار بھی کیا کہ ’’قلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے دیگر صاحبان علم و فن بھی پشاور سے اپنی دلی و جذباتی وابستگی کے اظہار کی جانب متوجہ ہوں گے اور اپنا قیمتی وقت‘ وسائل اور صلاحیتیں پشاور کے بارے میں سوچنے اور سمجھنے کی ترغیب کے لئے وقف کر دیں گے۔‘‘ انہوں نے اِس اُمید کا بھی اظہار کیا کہ ’’پشاور شناسی‘ عام کرنے کے لئے انفرادی و اجتماعی سطح پر کوششیں متعارف کرانے میں ’ژرف نگاہ‘ نکتۂ آغاز اُور تحریک ثابت ہوگی۔‘‘ گندھارا ہندکو بورڈ کی ویب سائٹ سے ’’ژرف نگاہ‘‘ ڈاؤن لوڈ کی جاسکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Title: Zarf e Nigha Published by Ghandhara Hindko Board (Academy) Peshawar

Collections of columns on Peshawar published.
Clipping of the Press Release from Daily Aaj Peshawar Page 2 of June 16, 2017 Friday

Page 2 of Daily Aaj Peshawar on June 16, 2017 Friday

Saturday, August 6, 2016

Aug2016: Ghandhara by Khalid Khan Kheshgi

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تہذیبی سفر: پوشیدہ اَسباق!

’گندھارا تہذیب‘ پر پشتو زبان میں شائع ہونے والی ’پہلی کتاب‘ صحافی خالد خان خویشگی کی اُن مسلسل کاوشوں کا حصّہ ہے جو وہ انسانیت کے احترام‘ انسانی حقوق کی پاسداری اور بناء تفریق کسی بھی رنگ و نسل کی حق تلفی کے خلاف آواز اُٹھانے سے شروع ہوتی ہے‘ کسی صحافی کے لئے غیرجانبدار رہتے ہوئے صرف اور صرف سچائی اور حقائق کے لئے خود کو وقف کرنے کی اِس سے عمدہ عملی مثال ڈھونڈے نہیں مل سکتی کہ باوجود پیشہ ورانہ مصروفیات اُنہوں نے خیبرپختونخوا اُور ملحقہ خیبرایجنسی کے قبائلی علاقے سمیت خطے کی تاریخ‘ رہن سہن‘ رسم و رواج‘ بول چال اُور تعمیر و ترقی جیسے موضوعات کا احاطہ کرتے ہوئے سلیس بول چال کے انداز میں تحریر کردہ کتاب کی صورت محسوس کی جانے والی کمی پوری کر دی ہے۔ 

’غار سے گندھارا تہذیب کے مرکز‘ بننے تک کا سفر خوبصورتی سے پیش کرنے والے خالد خان ’ریڈیو فری یورپ‘ المعروف ’مشال ریڈیو‘ سے وابستہ ہیں اُور انہوں نے دیگر تاریخ دانوں کی طرح ماضی کے حقائق اُور واقعات کی ’صحافیانہ اَصولوں (غیرجانبداری کی کسوٹی)‘ پر کڑی جانچ پڑتال کرنے کے بعد اُنہیں اپنی تصنیف میں شامل کیا ہے۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ خالد خان نے اپنی رائے شامل کرنے کی بجائے حقائق کا حقائق سے منطقی موازنہ اور اُن کی رونما ہونے کی ترتیب کا لحاظ رکھا جس سے کتاب نہ صرف تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے لائق مطالعہ بن گئی بلکہ اِس سے مزید تحقیق کے دروازے بھی کھل گئے ہیں۔ تاریخ کو ایک نئے انداز سے پیش کرنے کی یہ کاوش ہرلحاظ سے کامیاب اُور پشتو زبان میں تحریر ہونے والے تاریخ و ادب میں خوبصورت اضافہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

صحافت کا کلی انحصار دوسروں سے بات چیت (انٹرویوز) پر ہوتا ہے اور اپنی اِسی مہارت و تجربے اور وسائل کا بخوبی اِستعمال کرتے ’گندھارا‘ تصنیف کے مرکزی خیال اُور موضوع پر تحقیق کے لئے خیبرپختونخوا کے مختلف لوگوں سے بات چیت کو کتابی صورت میں یکجا کر دیا گیا ہے۔ ’تاریخ دانی‘ کرتے ہوئے اپنی رائے اور تجزیئے کو موضوع پر حاوی نہ ہونے دینے کی یہ عمدہ مثال ہے جس کے اسباق سے نہ صرف محکمہ تعلیم بلکہ بالخصوص شعبۂ صحافت کے لئے نصاب مرتب کرنے والے بہت فائدہ اُٹھا سکتے ہیں‘ کیونکہ صحافت نہ صرف حقائق کے بیان اور اُن کی روشنی میں نامساعد حالات و خطرات سے نمٹنے یا پیشگی تیاری کی تحریک پیدا کرتی ہے بلکہ اِس کے ذریعے تاریخ کے اُن حقائق کا بیان بھی اگر ممکن ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ مستقبل میں ’صحافت ایک لازمی مضمون‘ کے طور پر سچائی کھوجنے کا ’مستقل اصول‘ قرار پائے۔ 

’گندھارا‘ اکیس ابواب پر مشتمل کتاب ہے جس میں تین ہزار سال پرانی اُن غاروں سے شروع ہونے والے ’تہذیب کے سفر‘ کا پیچھا کیا گیا ہے جس کے نشانات و آثار آج بھی مردان‘ تخت بھائی اور سوات کے علاقوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اٹک قلعہ سے لیکر درہ خیبر (خیبرایجنسی) تک پھیلے خطے کی خاک چھانتے ہوئے کتاب میں صرف الفاظ ہی نہیں بلکہ تصاویر کے ذریعے بھی بہت کچھ سمجھانے اور شناخت کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جس میں بالخصوص ’گندھارا تہذیب‘ کے اُن پہلوؤں کو موضوع بنایا گیا ہے جن کا تذکرہ اِس حوالے سے تحریر کی گئیں دیگر کتابوں یا ابواب میں یا تو نہیں ملتا‘ یا پھر سرسری طور پر اُن کا سطحی ذکر کیا جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مصنف خالد خان کو کتاب لکھنے کا ’بنیادی خیال‘ ہی خان عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کی اُس حالیہ اور جدید ترین تحقیق و کھدائی سے ملنے والے نتائج سے آیا‘ جو مردان کے گاؤں ’سانگاؤ‘ میں کی گئی۔ اگرچہ یہ حقیقت معلوم ہے کہ مردان اور باجوڑ کے علاقوں میں آج سے کم وبیش تین ہزار سال پہلے لوگ غاروں میں رہا کرتے تھے لیکن ’آثار قدیمہ‘ سے لوگوں کے رہن سہن اور اقدار و روایات تک پہنچنے کی ہر کوشش دلچسپ اور نئے حقائق سامنے لاتی ہے۔ گندھارا تہذیب صرف رہن سہن یا بودوباش کا مجموعہ نہیں بلکہ اس کے علمی و ادبی پہلو بھی لائق توجہ و مطالعہ ہیں۔ غاروں میں رہنے والے اگر غوروتفکر سے عاری ہوتے اور اگر وہ آج سے زیادہ اپنی اعمال کی اصلاح کرنے کا ذوق و شوق نہ رکھتے تو شہروں تک ترقی کا موجودہ سفر ممکن ہی نہ ہوتا کیونکہ انسانی تاریخ ’حادثاتی‘ نہیں کہ جس میں سب کچھ خودبخود رونما ہوا ہو بلکہ انسان نے دنیا کو سجانے اور سنوارنے کے لئے بھی اپنی بہترین صلاحیتوں اور علم ودانش کا استعمال کیا ہے‘ قربانیاں دی‘ جس پر یقین نہ کرنے والوں کو ’گندھارا‘ نامی پشتو زبان کی اِس کتاب کا کم سے کم ایک مرتبہ ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔ اُمید کی جا سکتی ہے کہ خالد خان اپنی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سے جڑی الگ الگ صحافیانہ مصروفیات سے کچھ وقت نکال کر دو سو صفحات پر مشتمل اپنی کتاب کو اُردو‘ اور انگریزی پڑھنے والوں کے لئے بھی پیش کریں گے‘ جن کا ’گندھارا تہذیب‘ کے بارے مطالعہ اب تک ایک خاص زوایئے پر مرکوز رہا ہے۔ اِس سلسلے میں ویب سائٹ کا وسائل زیادہ ماحول دوست اور تشہیری امکانات رکھے گا۔ 

خیبرپختونخوا میں ’تاریخ و آثار قدیمہ‘ کے وسیع و عریض خزانے پوشیدہ ہیں جیسا کہ رحمان ڈھیری میں کی گئی کھدائی سے ملنے والے ’وادئ گومل‘ کے آثار سے پتہ چلا ہے کہ یہ مقام پورے جنوب ایشیاء میں ایسا ’پہلا شہر‘ ہے جسے باقاعدہ منصوبہ بندی سے تعمیر کیا گیا۔ المیہ ہے کہ علوم‘ وسائل اور تعمیراتی شعبوں میں آلات و ہنرمند افرادی قوت ہونے کے باوجود بھی ہمارے شہر اور دیہات بے ہنگم انداز میں کچھ اس طرح پھیل رہے ہیں کہ انسان اپنے ہی ہاتھوں مسائل میں اُلجھ گیا ہے لیکن اگر ’گندھارا تہذیب‘ کا ’مطالعہ‘کیا جائے تو کہیں اُور کی نہیں بلکہ خود ہماری تاریخ گواہ ہے کہ انسانی معاشرے کو کس عمدگی و خوبصورتی سے ترتیب دیا جاتا تھا۔ اگرچہ ’گندھارا‘ میں جو تاریخ اُور واقعات بیان کئے گئے ہیں اُن میں کچھ بھی نیا نہیں اور اُن سب کا ذکر کہیں نہ کہیں دیگر کتب میں بھی ملتا ہے لیکن ’پشتو زبان‘ میں اِس موضوع پر پہلی اور صحافیانہ اصولوں پر مرتب ہونے والی اِس پہلی کتاب کو ضرور پذیرائی ملنی چاہئے۔ اُمید کی جاتی ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت یا جامعہ پشاور اُور بالخصوص ’گندھارا ہندکو اکیڈمی‘ جیسے ادارے اِس پشتو کتاب کو زیادہ بڑے پیمانے پر عام کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں گے۔ خالد خان نے صحافت کے ساتھ جس دوسرے کھٹن کام کا بیڑا اُٹھایا ہے اگر وہ اُس کے اگلے مرحلے میں تحقیق کے لئے متعلقہ ماہرین کو رضامند کر لیتے ہیں اور خیبرایجنسی (دوسری سے پانچویں صدی میں خوشاہان حکومت کا حصّہ رہے اِس علاقے) میں پھیلے گندھارا تہذیب کے آثار معلوم کرنے کے لئے کھدائی ممکن کی جاتی ہے تو ’گندھارا‘ کو ’نئی جان (جہت) مل جائے گی لیکن قبائلی سرزمین پر ’امن و امان کی بہتری شرط ہے۔‘ 

گندھارا تہذیب کے موضوع پر لکھا ہوا ہر لفظ ’پشاور شناسی کا ذوق‘ رکھنے والوں کے لئے بھی خاص دلچسپی کا منبہ ہوتا ہے کیونکہ یہاں کے سولہ دروازوں میں آباد رہن سہن کا شمار جنوب ایشیاء کے قدیم ترین زندہ تاریخی شہروں میں ہوتا ہے۔ کاش کہ پشاور کی چاردیواری کے اندر اُور اطراف میں پھیلے اُن آثار قدیمہ کی اہمیت کا خاطرخواہ احساس کر لیا جاتا‘ کاش یہاں کے قدیمی باغات اُور اُن سے جڑے تہذیبی و ترقی کے ایک طویل سفر کو سمجھا جاتا تو زبانوں یا تہذیبوں کے درمیان اجنبیت کا احساس نہ ہوتا اور انسانی ترقی کے لئے اقتصادی و سماجی مسائل سے نمٹنے والوں کو اِسقدر مشکلات درپیش نہ ہوتیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Aug2016: Ghandhara by Khalid Khan Kheshgi

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمامتہذیب کا سفر
’گندھارا تہذیب‘ پر پشتو زبان میں شائع ہونے والی پہلی کتاب صحافی خالد خان خویشگی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے خیبرپختونخوا اُور ملحقہ خیبرایجنسی کے قبائلی علاقے سمیت خطے کی تاریخ‘ رہن سہن‘ رسم و رواج‘ بول چال اُور تعمیر و ترقی جیسے موضوعات کا احاطہ کرتے ہوئے ’غار سے گندھارا تہذیب کے مرکز‘ بننے تک کا سفر خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ خالد خان ’ریڈیو فری یورپ‘ المعروف ’مشال ریڈیو‘ سے وابستہ ہیں اُور انہوں نے دیگر تاریخ دانوں کی طرح ماضی کے حقائق اُور واقعات کی ’صحافیانہ اصولوں (غیرجانبداری کی کسوٹی)‘ پر کڑی جانچ پڑتال کرنے کے بعد اُنہیں اپنی تصنیف میں شامل کیا ہے۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ خالد خان نے اپنی رائے شامل کرنے کی بجائے حقائق کا حقائق سے منطقی موازنہ اور اُن کی رونما ہونے کی ترتیب کا لحاظ رکھا جس سے کتاب نہ صرف تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے لائق مطالعہ بن گئی بلکہ اِس سے مزید تحقیق کے دروازے بھی کھل گئے ہیں۔ تاریخ کو ایک نئے انداز سے پیش کرنے کی یہ کاوش ہرلحاظ سے کامیاب اُور پشتو زبان میں تحریر ہونے والے تاریخ و ادب میں خوبصورت اضافہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

صحافت کا کلی انحصار دوسروں سے بات چیت (انٹرویوز) پر ہوتا ہے اور اپنی اِسی مہارت کا بخوبی استعمال کرتے ’گندھارا‘ تصنیف کے مرکزی خیال اُور موضوع پر تحقیق کے لئے خیبرپختونخوا کے مختلف لوگوں سے بات چیت کو یکجا کیا گیا ہے۔ ’تاریخ دانی‘ کرتے ہوئے اپنی رائے اور تجزیئے کو موضوع پر حاوی نہ ہونے دینے کی یہ عمدہ مثال ہے جسے شعبۂ صحافت کے نصاب میں شامل ہونا چاہئے کیونکہ صحافت نہ صرف حقائق کے بیان اور اُن کی روشنی میں نامساعد حالات و خطرات سے نمٹنے یا پیشگی تیاری کی تحریک پیدا کرتی ہے بلکہ اِس کے ذریعے تاریخ کے اُن حقائق کا بیان بھی اگر ممکن ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ مستقبل میں یہی سچائی کھوجنے کا مستقل اصول قرار پائے۔ ’گندھارا‘ اکیس ابواب پر مشتمل ہے جس میں تین ہزار سال پرانی اُن غاروں سے شروع ہونے والے ’تہذیب کے سفر‘ کا پیچھا کیا گیا ہے جس کے نشانات و آثار آج بھی مردان‘ تخت بھائی اور سوات کے علاقوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اٹک قلعہ سے لیکر درہ خیبر (خیبرایجنسی) تک پھیلے خطے کی خاک چھانتے ہوئے کتاب میں صرف الفاظ ہی نہیں بلکہ تصاویر کے ذریعے بھی بہت کچھ سمجھانے اور شناخت کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جس میں بالخصوص ’گندھارا تہذیب‘ کے اُن پہلوؤں کو موضوع بنایا گیا ہے جن کا تذکرہ اِس حوالے سے تحریر کی گئیں دیگر کتابوں میں یا تو نہیں ملتا‘ یا پھر سرسری طور پر اُن کا ذکر کیا جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مصنف خالد خان کو کتاب لکھنے کا ’بنیادی خیال‘ ہی خان عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کی اُس حالیہ اور جدید ترین تحقیق و کھدائی سے ملنے والے نتائج سے آیا‘ جو مردان کے گاؤں ’سانگاؤ‘ میں کی گئی۔ اگرچہ یہ حقیقت معلوم ہے کہ مردان اور باجوڑ کے علاقوں میں آج سے کم وبیش تین ہزار سال پہلے لوگ غاروں میں رہا کرتے تھے لیکن ’آثار قدیمہ‘ سے لوگوں کے رہن سہن اور اقدار و روایات تک پہنچنے کی ہر کوشش دلچسپ اور نئے حقائق سامنے لاتی ہے۔ گندھارا تہذیب صرف رہن سہن یا بودوباش ہی نہیں بلکہ اس کے علمی و ادبی پہلو بھی ہیں۔ 

غاروں میں رہنے والے اگر غوروتفکر سے عاری ہوتے اور اگر وہ آج سے زیادہ اپنی اعمال کی اصلاح کرنے کا ذوق و شوق نہ رکھتے تو شہروں تک ترقی کا سفر ممکن ہی نہ ہوتا کیونکہ انسانی تاریخ ’حادثاتی‘ نہیں کہ جس میں سب کچھ خودبخود رونما ہوا ہو بلکہ انسان نے دنیا کو سجانے اور سنوارنے کے لئے بھی اپنی بہترین صلاحیتوں اور علم ودانش کا استعمال کیا ہے‘ جس پر یقین نہ کرنے والوں کو ’گندھارا‘ نامی پشتو زبان کی اِس کتاب کا کم سے کم ایک مرتبہ ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔ اُمید کی جا سکتی ہے کہ خالد خان خویشگی اپنی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سے جڑی الگ الگ صحافیانہ مصروفیات سے کچھ وقت نکال کر دو سو صفحات پر مشتمل اپنی کتاب کو اُردو‘ اور انگریزی پڑھنے والوں کے لئے پیش کریں گے‘ جن کا ’گندھارا تہذیب‘ کے بارے مطالعہ اب تک ایک خاص زوایئے پر مرکوز رہا ہے۔ خیبرپختونخوا میں ’تاریخ و آثار قدیمہ‘ کے وسیع و عریض خزانے پوشیدہ ہیں جیسا کہ رحمان ڈھیری میں کی گئی کھدائی سے ملنے والے ’وادئ گومل‘ کے آثار سے پتہ چلا ہے کہ یہ مقام پورے جنوب ایشیاء میں ایسا ’پہلا شہر‘ ہے جسے باقاعدہ منصوبہ بندی سے تعمیر کیا گیا۔ 

المیہ ہے کہ علوم‘ وسائل اور تعمیراتی شعبوں میں آلات و ہنرمند افرادی قوت ہونے کے باوجود بھی ہمارے شہر اور دیہات بے ہنگم انداز میں کچھ اس طرح پھیل رہے ہیں کہ انسان اپنے ہی ہاتھوں مسائل میں الجھ گیا ہے لیکن اگر گندھارا تہذیب کا مطالعہ کیا جائے تو کہیں اُور کی نہیں بلکہ خود ہماری تاریخ گواہ ہے کہ انسانی معاشرے کو کس عمدگی و خوبصورتی سے ترتیب دیا جاتا تھا۔ اگرچہ ’گندھارا‘ میں جو تاریخ اُور واقعات بیان کئے گئے ہیں اُن میں کچھ بھی نیا نہیں اور اُن سب کا ذکر کہیں نہ کہیں دیگر کتب میں بھی ملتا ہے لیکن ’پشتو زبان‘ میں اِس موضوع پر پہلی اور صحافیانہ اصولوں پر مرتب ہونے والی اِس پہلی کتاب کو ضرور پذیرائی ملنی چاہئے۔ اُمید کی جاتی ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت یا جامعہ پشاور اُور بالخصوص ’گندھارا ہندکو اکیڈمی‘ جیسے ادارے اِس پشتو کتاب کو زیادہ بڑے پیمانے پر عام کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں گے۔ 

خالد خان نے صحافت کے ساتھ جس دوسرے کھٹن کام کا بیڑا اُٹھایا ہے اگر وہ اُس کے اگلے مرحلے میں تحقیق کے لئے متعلقہ ماہرین کو رضامند کر لیتے ہیں اور خیبرایجنسی (دوسری سے پانچویں صدی میں خوشاہان حکومت کا حصّہ رہے اِس علاقے) میں پھیلے گندھارا تہذیب کے آثار معلوم کرنے کے لئے کھدائی کی جاتی ہے تو ’گندھارا‘ کو ’نئی جان (جہت) مل جائے گی لیکن قبائلی سرزمین پر ’امن و امان کی بہتری شرط ہے۔‘ 

گندھارا تہذیب کے موضوع پر لکھا ہوا ہر لفظ ’پشاور شناسی کا ذوق‘ رکھنے والوں کے لئے بھی خاص دلچسپی کا منبہ ہوتا ہے کیونکہ یہاں کے سولہ دروازوں میں آباد رہن سہن کا شمار جنوب ایشیاء کے قدیم ترین زندہ تاریخی شہروں میں ہوتا ہے۔ کاش کہ پشاور کی چاردیواری کے اندر اُور اطراف میں پھیلے اُن آثار قدیمہ کی اہمیت کا خاطرخواہ احساس کر لیا جاتا‘ کاش یہاں کے قدیمی باغات اُور اُن سے جڑے تہذیبی و ترقی کے ایک طویل سفر کو سمجھا جاتا تو زبانوں یا تہذیبوں کے درمیان اجنبیت کا احساس نہ ہوتا اور انسانی ترقی کے لئے اقتصادی و سماجی مسائل سے نمٹنے والوں کو اِسقدر مشکلات درپیش نہ ہوتیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔