Showing posts with label Saquaf Yasir. Show all posts
Showing posts with label Saquaf Yasir. Show all posts

Saturday, July 18, 2020

COLLECTIVE SACRIFICE: An idea and need of the hour!

اجتماعی قربانی
معروف لسانی و سیاسی جماعت ”پاکستان ہندکووان تحریک (پشاور شاخ)“ کی جانب سے جاری ہونے والا غیرسیاسی پیغام توجہ طلب ہے جس میں عیدالاضحی کے موقع پر (اِس مرتبہ) زیادہ سے زیادہ ’اجتماعی قربانی‘ اُور اِس سلسلے میں تحریک کی زیرنگرانی کئے گئے خصوصی انتظامات سے استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ قبل ازیں کورونا وبا کے سبب معاشی مشکلات کا سامنا کرنے والے ’ہندکووانوں‘ کے لئے مالی امداد اُور رمضان المبارک کے دوران اشیائے خوردونوش کی مستحق ’ہندکووان خاندانوں‘ میں تقسیم نے مذکورہ تحریک کو نئی پہچان‘ جان اُور شان عطا کی ہے اُور اِس کا شمار پاکستان کی اُن صف اوّل میں شامل معروف فلاحی تنظیموں کے ساتھ ہونے لگا ہے جو مشکل کی ہر گھڑی میں پیش پیش رہتی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ’ہندکوان تحریک‘ کے اہداف و مقاصد صرف اُور صرف ہندکو زبان بولنے والوں کے سیاسی و سماجی حقوق کا تحفظ اُور اُن کی ہر ممکنہ امداد ہے جو نہایت ہی خوش اسلوبی‘ ذمہ داری اُور امانت و دیانت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جاری ہے۔
جولائی 2018ءکے عام انتخابات سے قبل قائم ہونے والی سیاسی جماعت ’پاکستان ہندکووان تحریک‘ کو اگرچہ ہندکوزبان بولنے والوں کی جانب سے انتخابی مرحلے میں زیادہ پذیرائی نہیں ملی لیکن جس سیاسی جماعت کا عام انتخاب سے اپنے سفر کے آغاز اُور روائتی انداز میں سیاسی بیان بازی کی بجائے کسی غیرسرکاری تنظیم (این جی اُو) اُور فلاحی ادارے کی طرح سماجی خدمت پر یقین ہو اُس کی سیاست کو زوال نہیں ہوسکتا اُور نہ ہی اُس کی مقبولیت کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل ہو سکتی ہے۔ پہلی نظر میں ’ہندکووان تحریک‘ کا پیغام تعصب اُور امتیازی لگتا ہے لیکن بغور دیکھا جائے تو قومی سیاست کرنے والی خیبرپختونخوا‘ پنجاب‘ بلوچستان اُور سندھ کی قوم پرست جماعتیں کم وبیش اِسی قسم کے اہداف و مقاصد رکھتی ہیں لیکن وہ اِن کا زیادہ پرچار اُور اظہار نہیں کرتیں۔ امتیاز لائق توجہ ہے کہ ہندکووان تحریک کے انتخابی و سیاسی منشور کا ہر لفظ اُور جملہ صرف اُور صرف ہندکو زبان اُور اِس زبان کے بولنے والوں کے حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے تحریر میں لایا گیا ہے اُور حسن ظن یہ ہے کہ یقینا فیصلہ سازی کا موقع ملنے پر اِسے فراموش نہیں کیا جائے گا اُور مادری زبان ہندکو بولنے والوں سے ہونے والے امتیازی سلوک اُور روئیوں کا خاتمہ کرنے کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں گے۔
متعدد سوشل میڈیا وسائل اُور بالخصوص واٹس ایپ گروپس کے ذریعے اُن ”سفید پوش ہندکو بولنے والوں“ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو اپنی ضروریات کے لئے ہاتھ پھیلا نہیں سکتے۔ جو اپنی محتاجی و لاچاری کا پرچار کرنے کے ماہر نہیں اُور جن کو سہارا دینے کے لئے سیاسی و سماجی سطح پر خاطرخواہ دردمندی کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آ رہا۔ پشاور کی ایک معروف کاروباری شخصیت سے بات چیت کے دوران ایک ایسی پریشان کن حقیقت معلوم ہوئی‘ کہ جس کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں اُور وہ یہ کہ کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ پشاور کے اِس سرمایہ دار گھرانے سے تعلق رکھنے والوں کے دروازوں پر زکوة اُور خیرات و صدقات کی صورت مالی مدد مانگنے والوں کی بھیڑ میں ہندکوزبان بولنے والے شامل ہوں لیکن اب اکثریت ہندکو بولنے والوں کی ہوتی ہے!“

آخر ایسا کیا ہوا کہ ہندکو بولنے والے مفلس اُور محتاج ہوتے چلے گئے؟ اِس سوال کا جواب تلاش کرنے والوں کو اُن سیاسی امتیازات اُور لسانی تعصبات (سلوک) کو بھی شمار و فہرست کرنا ہوگا‘ جو مادری طور پر ’ہندکو زبان‘ بولنے والوں سے روا رکھا گیا اُور یہ کسی ایک سیاسی دور کی بات نہیں لیکن گزشتہ بیس برس کے دوران بالخصوص خیبرپختونخوا کے ہندکووان گھرانوں کو سرکاری و نجی ملازمتوں‘ معیاری تعلیم و روزگار اُور کاروبار میں آگے بڑھنے کے بہت کم مواقع ملے ہیں۔

اُمید ہے کہ ’پاکستان ہندکووان تحریک‘ کی پشاور شاخ ہندکووان گھرانوں کے کوائف جمع کرنے اُور اُن کی مالی معاشی و دیگر مشکلات سے متعلق اعدادوشمار جمع کرے گی۔ اِس سلسلے میں تحریک کی ’موبائل فون ایپ‘ جوکہ پہلے ہی فعال ہے‘ کے ذریعے خانہ و مردم شماری کے ساتھ خاندانوں کی انفرادی معاشی و مالی حالت کے بارے میں بھی کوائف (ڈیٹا) جمع کیا جا سکتا ہے اُور چونکہ آئندہ عام انتخابات کی اُلٹی گنتی کا آغاز ہو چکا ہے اُور 2018ءکے انتخابات کے نتیجے میں بننے والی موجودہ حکومت اپنی نصف مدت مکمل کر چکی ہے اِس لئے ہندکووانوں کو اپنی قسمت کے فیصلے اپنے ہاتھ میں لینا ہوں گے۔ اغیار سے توقعات وابستہ رکھنا خود کو مزید دھوکہ دینے کے مترادف عمل ہے۔

وقت ہے کہ صاحب ثروت ہندکووان عیدالاضحی کے موقع پر نہ صرف اجتماعی قربانی بلکہ دیگر ایام میں اپنے ’ہم زبان‘ قرابت داروں اُور دکھ درد کے حقیقی شرکا کی استعانت کریں۔

وقت ہے کہ ہندکووان خواب غفلت سے بیدار ہو کر اپنے متعلق قومی و صوبائی فیصلہ سازی کا اختیار اُن نمائندوں کے حوالے کریں‘ جنہیں نمائندگی کرنے کا حق ہونا چاہئے اُور جو اُن کے دکھ درد‘ مشکلات‘ مصائب اُور پریشانیوں کا کماحقہ احساس کرتے ہوئے صرف پریشان نہیں بلکہ عملی جدوجہد کے ذریعے حالات کا مقابلہ کرنے کی ٹھکان چکے ہیں جو ہندکو زبان اُور ہندکو زبان بولنے والوں سے روا رکھے گئے تعصبات‘ امتیازات اُور اِن کی محرومیوں کا ازالہ کرنے کے لئے پُرعزم ہیں۔

یقینا یہ وقت اجتماعی قربانی کا ہے۔
ایک ایسی قربانی جو معنوی اعتبار سے زیادہ وسیع ہو۔ جو محض عیدالاضحی کے موقع پر مال مویشیوں کی حد تک محدود نہ رہے بلکہ اِس میں حقوق العباد کی ادائیگی اُور اِس کے لئے قرابت داروں کے انتخاب پر مبنی ترجیح بھی شامل حال ہونی چاہئے۔

”انسانیت کے درد کی آواز بن سکے ....
سوزِ نوا سے سینچئے زخم خیال کو (رفیق خاور جسکانی)۔“
........
Clipping from Daily Aaj - 18 July 2020 Saturday
Editorial Page of  Daily Aaj Peshawar / Abbottabad . Saturday 18 July 2020

Saturday, June 23, 2018

Jun2018: Jaag Peshori Jaag

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
سماج بمقابلہ اِنتخاب!
سیاست کا اعجاز یہ ہے کہ اِس میں ظاہری بیان‘ مدعا اور مافی الضمیر بالکل مختلف اور الگ الگ (متضاد) بھی ہو سکتے ہیں۔ متوقع عام اِنتخابات (پچیس جولائی) کے لئے جہاں ’تجربہ کار‘ اُور ’مجرب‘ سیاسی جماعتیں مدمقابل ہیں‘ وہیں ناراض سیاسی کارکن ’آزاد حیثیت‘ سے شکار کرنے نکل پڑے ہیں‘ تاہم آئندہ انتخابات کے لئے نہایت ہی کم تعداد میں ایسے نئے چہرے (تصورات) بھی متعارف ہوئے ہیں‘ جنہیں پذیرائی کی صورت ملنے والی ’سماجی کامیابیاں‘ انتخابی کامیابیوں‘ سے کئی گنا زیادہ بڑھ کر ہیں اور اِس دعوے کی دلیل یہ ہے کہ ایک تو ’نئی سیاسی جماعتوں‘ اور بناء سہارے و انتخابی تجربے ووٹروں کی توجہ حاصل کرنا معمولی بات نہیں اور دوسرا‘ روائتی سیاسی جماعتوں کے مقابلے ’’مقامی مسائل کا مقامی حل تجویز‘‘ کرنے والوں کی دعوت و تبلیغ پر ’سوچ بچار اُور گفت و شنید‘ کا جاری عمل کیا رائیگاں جائے گا؟ ’حرکت میں برکت‘ کے سیدھے سادے اصول کی عملی تشریح کرنے والی جماعت ’ہندکووان پاکستان تحریک‘ نے ’جاگ پشاور جاگ‘ کی بجائے ’جاگ پشاوری جاگ‘ کے عنوان (نعرے) سے انتخابی جدوجہد کا آغاز کیا ہے‘ جو سنجیدہ غوروخوض کا متقاضی ہے لیکن بدقسمتی سے اِس تحریک کے اِردگرد اُور فیصلہ سازوں میں وہی ’نامی گرامی‘ کردار نظر آتے ہیں جو ماضی میں پشاور کو لوٹنے والوں کی تعریفوں کے عوض اپنی نوکریاں پکی کرنے اُور مراعات حاصل کرتے رہے اور آج بھی علمی ادبی اور نشری و نشریاتی اداروں (حلقوں) اور سرکاری محافل کی رونقوں میں اضافے کے لئے مدعو کئے جاتے ہیں‘ ملکی و غیرملکی سرکاری دوروں میں شامل ہو اہمیت پاتے ہیں اور اعزازات سے نوازے جاتے ہیں۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ ’جاگ پشاوری جاگ‘ انجمن ستائش باہمی جیسی تنظیم سازی سے زیادہ کچھ حاصل نہیں کر پائے گی کیونکہ تحریک میں ’زندگی کی رمق‘ تو موجود ہے لیکن وہ ’سپارک (spark)‘ نہیں جس سے انجن چل پڑے اور گاڑی رواں دواں ہو۔ کچھ عرصہ بعد سننے کو ملے گا کہ تحریک کے خالق اور روح رواں کا سرمایہ چند خوشامدیوں کی جیبوں میں منتقل ہو چکا ہے اور اُن سے حاصل ہونے والا ’بیش قیمت تجربہ‘ ایک ایسا حافظہ ہے‘ جس کے چھن جانے کے لئے خدا سے دعا کی جاتی ہے!

’جاگ پشوری جاگ‘ کو متعصبانہ قرار دینے والے اگر آنکھوں پر لگی ہوئی تعصب کی عینک اُتار کر زمینی حقائق کا جائزہ لیں تو اُن پر (روز روشن کی طرح) عیاں ہو جائے گا کہ ۔۔۔ کس طرح پشاور پر کیا گزر رہی ہے۔ پشاور اُور بالخصوص پشاور کی ایک قدیمی زبان ’ہندکو‘ بولنے والے مقامی باشندے (ہندکووان) خود کو کس قدر ’راندۂ درگاہ‘ محسوس کر رہے ہیں۔ کس طرح پشاور میں تعمیروترقی کا عمل اِس شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی اور اس کی ضروریات کے لئے کافی نہیں رہا۔ کس طرح سرکاری ملازمتوں میں ہندکووانوں کے حقوق غصب ہوئے ہیں اور یہ عمل آج بھی جاری ہے۔ سیاسی ترجیحات کی وجہ سے ضلع پشاور سے تعلق رکھنے والوں پر دیگر اضلاع کو فوقیت کیوں حاصل ہے؟ 

کیا وجہ ہے کہ سب سے زیادہ قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں ہونے کے باوجود بھی پشاور کو قانون ساز صوبائی اسمبلی کی قیادت (وزارت اعلیٰ) نہیں ملتی؟ 

عام انتخابات تو ایک بہانہ ہے درپردہ ’ہندکووان تحریک‘ کا (خالص و بنیادی) مقصد یہ ہے کہ پشاور اور بالخصوص سہل پسند‘ اپنے حال میں مست لیکن گردوپیش میں ہونے والی ’سیاسی سازشوں‘ سے بے خبر پشاوریوں (جنہیں عرف عام میں پشتو زبان کے لفظ (اصطلاح) ’خاریان‘ معنی ’شہری لوگ‘ کہا جاتا ہے) اُنہیں جھنجوڑ جھنجوڑ کر بیدار کیا جائے اور اُس تعصب کی موجودگی کا اِحساس دلایا جائے جس سے وہ مسلسل انکار کرتے کرتے اِس انتہاء کو پہنچ چکے ہیں کہ آج اُن کی نمائندگی‘ شناخت‘ ورثہ‘ ثقافت‘ تاریخ‘ ماضی و اثاثے حتی کہ سنجیدہ ’ہندکو زبان‘ تک کا وجود خطرے میں ہے بالخصوص جب ہندکو زبان کو ہنسی مذاق اور طنز و مزاح کے لئے مختص کیا جا رہا ہو۔ آج ہندکو زبان کا کوئی نجی ٹیلی ویژن چینل‘ ریڈیو اسٹیشن اور روزنامہ نہیں تو کیا یہ محض اتفاق ہے؟ 

کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن ’ہندکووان‘ کہیں ثقافتی‘ تو کہیں سماجی اُور سیاسی (انتخابی) طور پر متحد ہو رہے ہیں کیونکہ یہ اپنے تہذیبی ورثے اُور زبان و تاریخی اثاثے کی خاطرخواہ حفاظت نہیں کر پائے ہیں۔ ہندکووانوں نے ہمیشہ فراخ دلی کا مظاہرہ کیا اور اِسی ایک خوبی کو اُن کی سب سے بڑی کمزوری سمجھا گیا۔

حالات کی نزاکت کا تقاضا (احساس) اُور اِس بات کا اندیشہ اپنی جگہ موجود ہے کہ ۔۔۔ اگر اپنے حقوق اُور شناخت کے لئے ’ہندکووان‘ جلد متحد نہ ہوئے تو اِن کی بقاء کو لاحق خطرات (کی تعداد اُور شدت) میں اِضافہ ہوتا چلے گا لیکن کسی علاج کی کامیابی (تاثیر) کا پہلا اَصول یہ ہوتا ہے کہ ’بیماری کی وجہ بننے والے سبب سے پرہیز کیا جائے یعنی خود کو دھوکہ دینے کی بجائے اُن تمام داخلی و خارجی اثرات کی شناخت کر لی جائے جن کی موجودگی میں علاج کی کوئی بھی صورت کارگر ثابت نہیں ہوگی بلکہ عارضہ بڑھتا چلا جائے گا۔ جملہ معلوم (سیاسی) کردار جنہوں نے پشاور کی تعمیروترقی کے نام پر اپنے اَثاثوں میں اِضافہ کیا‘ جنہوں نے پشاور کے نام پر پشاوریوں کو دھوکہ دیا‘ اُن سے اِظہار و اعلان بیزاری کے لئے ایک ’نعرۂ مستانہ‘ وقت کی ضرورت ہے۔ 
’’ملتے جلتے‘ ہرے بھرے چہرے: تازہ تازہ دُھلے ہوئے چہرے
دھوکہ کھانے سے یاد آیا ہے: پھر الیکشن‘ نکل پڑے چہرے!؟‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔