Showing posts with label Social Issues. Show all posts
Showing posts with label Social Issues. Show all posts

Sunday, June 25, 2023

With each step at dawn, nature's secrets unfold

ژرف نگاہ        شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: چہل قدمی

تندرستی ہزار نعمت ہے۔ طب کے نکتہئ نظر سے ہفتے کے زیادہ تر دنوں میں یعنی ہر دن کم سے کم ’تیس منٹ‘ یا اِس سے زیادہ ’چہل قدمی‘ جسمانی اعضا کی فعالیت‘ خون کی گردش‘ جسم سے فاسد مادوں کے اخراج‘ بھوک پیاس کے احساس کو بڑھانے‘ نظام ہضم کی درستگی‘ ذہنی تناؤ اُور دباؤ (ڈپریشن) سے نجات الغرض مجموعی صحت کی بہتری یا اِسے برقرار رکھنے کا ایک بہترین طریقہ (ذریعہ) ہے‘ جسے ’تیر بہ ہدف نسخہ‘ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ مصروفیات کی صورت ہر دن کم سے کم نصف گھنٹہ ’واک‘ اگر کسی جانے انجانے شخص کے ہمراہ کی جائے تو یہ ’آسان کسرت (ورزش)‘ ایک خوشگوار اُور حیرت انگیز اثرات رکھنے والی سماجی سرگرمی میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے کیونکہ اِس (چلتے چلتے) مختلف موضوعات پر تبادلہئ خیال سے بہت کچھ سیکھا اُور گردوپیش میں مشاہدہ کے بارے میں ہم عصروں کی رائے معلوم کی جا سکتی ہے۔ 

پیدل چلنے کی کم سے کم حد ’4 سے 6 ہزار قدم‘ مقرر ہے جبکہ معالجین تجویز کرتے ہیں کہ تیز اُور ہلکے قدموں سے ہر روز ’10 ہزار‘ قدم چلنے والے نسبتاً زیادہ صحت مند زندگی بسر کرتے ہیں۔ 

پیدل چلنے کے لئے بہترین مقام سبزہ زار‘ باغ یا ایسی ہموار سطحیں ہوتی ہیں جو پُرپیچ اُور اُونچی نیچی ہوں‘ جہاں علی الصبح تازہ ہوا میں گہرے سانس لینے سے حاصل ہونے والے خوشگوار احساس کا نعم البدل ممکن نہیں۔

 ’اہل پشاور‘ کے لئے پیدل چلنے کے تلخ و شریں تجربات پر شہری زندگی کے کچھ اِس انداز سے مسائل حاوی ہو چکے ہیں کہ ہر قدم ایک الگ کوفت سے واسطہ پڑتا ہے اُور یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ صبح ہو یا شام‘ ماسوائے چند ایک علاقوں کے‘ خواتین کے لئے پیدل چلنے کے مواقع انتہائی محدود اُور پُرخطر ہیں۔ ایک ایسا شخص (مرد یا عورت) جو اپنے گھر اُور کام کاج کی جگہ (دفتر یا دکان) کے درمیان روزانہ تیس سے چالیس منٹ پیدل چلتا ہے اُسے تندرست رہنے کے لئے کسی اضافی مشقت کی ضرورت نہیں رہتی لیکن اِس دوران وہ جن حقائق کا براہ راست مشاہدہ کرتا ہے اُنہیں باآسانی خوشگوار بنایا جا سکتا ہے۔

 ’صبح کی سیر کا پہلا نظارہ‘ جا بجا ڈھیروں ڈھیر گندگی (کوڑا کرکٹ) نظرانداز کرنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ کوڑاکرکٹ سے اُٹھنے والا تعفن اُور مکھیاں مچھر ہر راہ گیر کا پیچھا کرتی ہیں! پشاور کی کل 92 یونین کونسلوں میں سے بمشکل نصف میں گندگی اُٹھانے کا باقاعدہ انتظام موجود ہے جس میں اندرون شہر کے گنجان آباد علاقے بھی شامل ہیں لیکن ہر صبح گلی کوچوں میں گھر گھر سے گندگی اکٹھا کرنے اُور جھاڑو لگانے کے چند گھنٹے بعد صفائی برقرار نہیں رہتی اُور مقررہ مقامات اُور مقررہ اوقات کے علاؤہ کوڑا کرکٹ پھینکنے کا سلسلہ دن کے آغاز سے رات گئے تک جاری رہتا ہے۔ ایک ایسی صورتحال جس میں گندگی پھینکنے‘ گندگی اُٹھانے اُور گندگی تلف کرنے جیسے تینوں طریق و فریق مربوط و منظم نہیں اُور یہی وجہ ہے کہ شہری زندگی کا نظارہ ”گندگی و تعفن“ کی وجہ سے ناخوشگوار تجربہ ثابت ہوتا ہے۔ صبح کا دوسرا نظارہ بے ہنگم ٹریفک کا نظام ہے جو شہر کے جاگنے کے ساتھ ہی گرد اُڑاتے فعال ہو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پشاور کی سڑکوں پر 1960 اُور 1970ء کی دہائیوں میں ساختہ بسیں فراٹے بھرتی نظر آتی ہیں‘ جن کے اِنجنوں سے اُگلتا ہوا کثیف دھواں مٹی اُور گردوغبار کے بادلوں کو یہاں سے وہاں اُور وہاں سے یہاں لئے پھرتا ہے اُور اِس آلودگی بھری ہوا میں سانس لینا‘ کسی بھی طرح صحت مند قرار نہیں دیا جا سکتا۔ توجہ طلب ہے کہ پیدل چلنے کا رجحان دن بہ دن کم ہو رہا ہے اُور اِس کی وجوہات میں تیسری بڑی وجہ ’سٹریٹ کرائمز‘ ہیں۔

پشاور کی صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ الصبح سے رات گئے تک کوئی ایک بھی وقت اُور کوئی ایک بھی علاقہ ایسا نہیں رہا جہاں کے رہنے والے گھروں سے باہر خود کو محفوظ سمجھتے ہوں! پشاور پولیس کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق سال 2023ء کے پہلے دو ماہ کے دوران پشاور میں 74 راہزنی کی وارداتیں ہوئیں جن میں 41 وارداتوں کے دوران راہزنوں نے فائرنگ بھی کی۔ اِس دوران 34 موٹرسائیکل چھینی گئیں اُور 25 موٹرسائیکل چوری ہوئے۔“ چہل قدمی کسی بھی طرح مفلسی کی علامت نہیں البتہ بچت کا ذریعہ ہے اُور اِس بامقصد سرگرمی کے فرد‘ افراد اور سماج کے لئے متعدد فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے اُن سبھی محرکات کی اِصلاح ضروری ہے جو پیدل چلنے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ چہل قدمی کے لئے مناسب ماحول فراہم کرنے کے لئے پشاور کے اُن سبھی باغات کو تجاوزات سے واگزار کرنا ضروری ہے جنہیں بنام ترقی غصب کیا گیا ہے اُور پشاور سے دشمنی رکھنے والی ’ایک خاص سوچ‘ اُور ’نظریئے‘ نے یہاں کے تاریخی و ثقافتی اَثاثوں اُور سماجی خوبیوں کے نقوش ایک ایک کر کے مٹانے شروع کر رکھے ہیں۔

چہل قدمی کے ذریعے ’پشاور شناسی‘ کو اِس صورت فروغ دیا جا سکتا ہے کہ اِس سے وہ خودغرضی اُور لاتعلقی پر مبنی رویئے عیاں ہو جائیں گے جن کی اِصلاح ضروری ہے۔ پشاور کے حقوق اَدا کرنے سے متعلق اِتفاق رائے اُور خوداِحتسابی ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہئ خیال میں بڑھتی چلی جائے گی‘ جو وقت کی ضرورت ہے۔ 

چہل قدمی کی وجہ سے ٹریفک کے دباؤ میں نمایاں کمی اضافی ثمر اُور باآسانی ممکن ہے جس سے پشاور کے ’کاربن فٹ پرنٹ (فضائی آلودگی)‘ میں خاطرخواہ کمی آ سکتی ہے اُور جس کا نتیجہ صاف آب و ہوا کی صورت برآمد ہو سکتا ہے۔ پشاور جو کبھی پھولوں کا شہر کہلاتا تھا لیکن اِس کے کچھ حصوں میں فضائی آلودگی کی شرح‘ اُس خطرناک سطح کو بھی عبور کر چکی ہے جو انسانی صحت کے لئے خطرناک و برداشت کی آخری حد ہے۔ ضروری ہے کہ کم فاصلے کے لئے گاڑی یا کسی سواری کا انتخاب کرنے کی بجائے پیدل چلنے کا انتخاب کیا جائے‘ اِسی میں صحت کی صورت انفرادی اُور پشاور کے مسائل پر غور کرنے جیسی اجتماعی بھلائی پوشیدہ ہے۔ 

  • With each step at dawn, nature's secrets unfold
  • Morning walk's embrace, a tranquil story untold



Saturday, July 18, 2020

COLLECTIVE SACRIFICE: An idea and need of the hour!

اجتماعی قربانی
معروف لسانی و سیاسی جماعت ”پاکستان ہندکووان تحریک (پشاور شاخ)“ کی جانب سے جاری ہونے والا غیرسیاسی پیغام توجہ طلب ہے جس میں عیدالاضحی کے موقع پر (اِس مرتبہ) زیادہ سے زیادہ ’اجتماعی قربانی‘ اُور اِس سلسلے میں تحریک کی زیرنگرانی کئے گئے خصوصی انتظامات سے استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ قبل ازیں کورونا وبا کے سبب معاشی مشکلات کا سامنا کرنے والے ’ہندکووانوں‘ کے لئے مالی امداد اُور رمضان المبارک کے دوران اشیائے خوردونوش کی مستحق ’ہندکووان خاندانوں‘ میں تقسیم نے مذکورہ تحریک کو نئی پہچان‘ جان اُور شان عطا کی ہے اُور اِس کا شمار پاکستان کی اُن صف اوّل میں شامل معروف فلاحی تنظیموں کے ساتھ ہونے لگا ہے جو مشکل کی ہر گھڑی میں پیش پیش رہتی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ’ہندکوان تحریک‘ کے اہداف و مقاصد صرف اُور صرف ہندکو زبان بولنے والوں کے سیاسی و سماجی حقوق کا تحفظ اُور اُن کی ہر ممکنہ امداد ہے جو نہایت ہی خوش اسلوبی‘ ذمہ داری اُور امانت و دیانت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جاری ہے۔
جولائی 2018ءکے عام انتخابات سے قبل قائم ہونے والی سیاسی جماعت ’پاکستان ہندکووان تحریک‘ کو اگرچہ ہندکوزبان بولنے والوں کی جانب سے انتخابی مرحلے میں زیادہ پذیرائی نہیں ملی لیکن جس سیاسی جماعت کا عام انتخاب سے اپنے سفر کے آغاز اُور روائتی انداز میں سیاسی بیان بازی کی بجائے کسی غیرسرکاری تنظیم (این جی اُو) اُور فلاحی ادارے کی طرح سماجی خدمت پر یقین ہو اُس کی سیاست کو زوال نہیں ہوسکتا اُور نہ ہی اُس کی مقبولیت کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل ہو سکتی ہے۔ پہلی نظر میں ’ہندکووان تحریک‘ کا پیغام تعصب اُور امتیازی لگتا ہے لیکن بغور دیکھا جائے تو قومی سیاست کرنے والی خیبرپختونخوا‘ پنجاب‘ بلوچستان اُور سندھ کی قوم پرست جماعتیں کم وبیش اِسی قسم کے اہداف و مقاصد رکھتی ہیں لیکن وہ اِن کا زیادہ پرچار اُور اظہار نہیں کرتیں۔ امتیاز لائق توجہ ہے کہ ہندکووان تحریک کے انتخابی و سیاسی منشور کا ہر لفظ اُور جملہ صرف اُور صرف ہندکو زبان اُور اِس زبان کے بولنے والوں کے حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے تحریر میں لایا گیا ہے اُور حسن ظن یہ ہے کہ یقینا فیصلہ سازی کا موقع ملنے پر اِسے فراموش نہیں کیا جائے گا اُور مادری زبان ہندکو بولنے والوں سے ہونے والے امتیازی سلوک اُور روئیوں کا خاتمہ کرنے کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں گے۔
متعدد سوشل میڈیا وسائل اُور بالخصوص واٹس ایپ گروپس کے ذریعے اُن ”سفید پوش ہندکو بولنے والوں“ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو اپنی ضروریات کے لئے ہاتھ پھیلا نہیں سکتے۔ جو اپنی محتاجی و لاچاری کا پرچار کرنے کے ماہر نہیں اُور جن کو سہارا دینے کے لئے سیاسی و سماجی سطح پر خاطرخواہ دردمندی کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آ رہا۔ پشاور کی ایک معروف کاروباری شخصیت سے بات چیت کے دوران ایک ایسی پریشان کن حقیقت معلوم ہوئی‘ کہ جس کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں اُور وہ یہ کہ کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ پشاور کے اِس سرمایہ دار گھرانے سے تعلق رکھنے والوں کے دروازوں پر زکوة اُور خیرات و صدقات کی صورت مالی مدد مانگنے والوں کی بھیڑ میں ہندکوزبان بولنے والے شامل ہوں لیکن اب اکثریت ہندکو بولنے والوں کی ہوتی ہے!“

آخر ایسا کیا ہوا کہ ہندکو بولنے والے مفلس اُور محتاج ہوتے چلے گئے؟ اِس سوال کا جواب تلاش کرنے والوں کو اُن سیاسی امتیازات اُور لسانی تعصبات (سلوک) کو بھی شمار و فہرست کرنا ہوگا‘ جو مادری طور پر ’ہندکو زبان‘ بولنے والوں سے روا رکھا گیا اُور یہ کسی ایک سیاسی دور کی بات نہیں لیکن گزشتہ بیس برس کے دوران بالخصوص خیبرپختونخوا کے ہندکووان گھرانوں کو سرکاری و نجی ملازمتوں‘ معیاری تعلیم و روزگار اُور کاروبار میں آگے بڑھنے کے بہت کم مواقع ملے ہیں۔

اُمید ہے کہ ’پاکستان ہندکووان تحریک‘ کی پشاور شاخ ہندکووان گھرانوں کے کوائف جمع کرنے اُور اُن کی مالی معاشی و دیگر مشکلات سے متعلق اعدادوشمار جمع کرے گی۔ اِس سلسلے میں تحریک کی ’موبائل فون ایپ‘ جوکہ پہلے ہی فعال ہے‘ کے ذریعے خانہ و مردم شماری کے ساتھ خاندانوں کی انفرادی معاشی و مالی حالت کے بارے میں بھی کوائف (ڈیٹا) جمع کیا جا سکتا ہے اُور چونکہ آئندہ عام انتخابات کی اُلٹی گنتی کا آغاز ہو چکا ہے اُور 2018ءکے انتخابات کے نتیجے میں بننے والی موجودہ حکومت اپنی نصف مدت مکمل کر چکی ہے اِس لئے ہندکووانوں کو اپنی قسمت کے فیصلے اپنے ہاتھ میں لینا ہوں گے۔ اغیار سے توقعات وابستہ رکھنا خود کو مزید دھوکہ دینے کے مترادف عمل ہے۔

وقت ہے کہ صاحب ثروت ہندکووان عیدالاضحی کے موقع پر نہ صرف اجتماعی قربانی بلکہ دیگر ایام میں اپنے ’ہم زبان‘ قرابت داروں اُور دکھ درد کے حقیقی شرکا کی استعانت کریں۔

وقت ہے کہ ہندکووان خواب غفلت سے بیدار ہو کر اپنے متعلق قومی و صوبائی فیصلہ سازی کا اختیار اُن نمائندوں کے حوالے کریں‘ جنہیں نمائندگی کرنے کا حق ہونا چاہئے اُور جو اُن کے دکھ درد‘ مشکلات‘ مصائب اُور پریشانیوں کا کماحقہ احساس کرتے ہوئے صرف پریشان نہیں بلکہ عملی جدوجہد کے ذریعے حالات کا مقابلہ کرنے کی ٹھکان چکے ہیں جو ہندکو زبان اُور ہندکو زبان بولنے والوں سے روا رکھے گئے تعصبات‘ امتیازات اُور اِن کی محرومیوں کا ازالہ کرنے کے لئے پُرعزم ہیں۔

یقینا یہ وقت اجتماعی قربانی کا ہے۔
ایک ایسی قربانی جو معنوی اعتبار سے زیادہ وسیع ہو۔ جو محض عیدالاضحی کے موقع پر مال مویشیوں کی حد تک محدود نہ رہے بلکہ اِس میں حقوق العباد کی ادائیگی اُور اِس کے لئے قرابت داروں کے انتخاب پر مبنی ترجیح بھی شامل حال ہونی چاہئے۔

”انسانیت کے درد کی آواز بن سکے ....
سوزِ نوا سے سینچئے زخم خیال کو (رفیق خاور جسکانی)۔“
........
Clipping from Daily Aaj - 18 July 2020 Saturday
Editorial Page of  Daily Aaj Peshawar / Abbottabad . Saturday 18 July 2020

Thursday, January 11, 2018

Jan 2018: Forgotten tales of our society!


مہمان کالم
mehmancolumn@gmail.com

مسائل: سبق آموز کہانیاں!

تاریخ کے سفر میں پیش آنے والے واقعات ہمارے اردگرد بکھرے پڑے ہیں اور ایسی کئی ایک کہانیاں ہیں‘ جو کتابوں میں تو درج نہیں لیکن سینہ بہ سینہ سرایت کر رہی ہیں۔ جیسا کہ دنیا کے چند ممالک ایسے بھی ہیں کہ جہاں کے رہنے والے توانائی بحران‘ غربت و مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ جیسے مسائل سے دوچار ہیں اور اِن مسائل سے جنم لینی والی کہانیاں نسل در نسل منتقل ہو رہی ہیں تاہم ’’سبق آموز کہانیوں‘‘ کی بدقسمتی یہ ہے کہ اِن سے بہت کم لوگ سبق حاصل کرتے ہیں لیکن پھر بھی ’’داستان گو‘‘ اِن کے بیان سے باز نہیں آ رہے!
مقبول کہانیوں میں ’’چالاک کوا‘‘ سرفہرست شمار کیا جا سکتا ہے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک کوا بہت پیاسا تھا۔ وہ پانی کی تلاش میں یہاں وہاں بھٹک رہا تھا کہ اس دوران اس کو کئی مٹکے نظر آئے مگر وہ گھڑے کا پانی پینے والا کوا نہیں تھا۔ وہ جدید دور کا کوا تھا‘ اُسے کسی ریفریجریٹر کی تلاش تھی۔ آخر اسے ایک فریج نظر آ گیا۔ وہ لپک کر اس کے پاس پہنچا مگر بجلی نہیں تھی اور ریفریجریٹر بند پڑا تھا۔ کوا بجلی گھرگیا اور بجلی ٹھیک کرنے کی درخواست دی۔ اس کی درخواست میز در میز رسوا ہوتی رہی لیکن کوے کی شنوائی نہ ہوئی۔ کوا بڑا چالاک تھا۔ وہ سارا دن منڈیروں پر بیٹھ کر انسانوں کے کرتوت دیکھتا تھا اور ان کی خصلتوں اور خباثتوں سے خوب واقف تھا لہٰذا وہ اڑ کر گیا اور لال‘ نیلے نوٹ لا لا کر لائن مین کی جیب میں ڈالنے لگا‘ یہاں تک کہ اس کی جیب بھر گئی۔ لائن مین فوراً گیا اور بجلی بحال کر دی۔ چالاک کوے نے فریج سے ٹھنڈا پانی پیا اور طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اُڑ گیا۔ سبق: نہ باپ کرے نہ بھیا‘ جو کام کرے روپیہ۔


تاریخ کے مطالعے سے بھی پتہ چلتا ہے کہ ہر دور کا سب سے مقبول مطالبہ انصاف رہا ہے‘ اِسی سے متعلق ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی ملک پر عادل بادشاہ کی حکومت قائم ہو گئی۔ بادشاہ عدل و انصاف کا دلدادہ تھا اور رعایا کو سستا اور فوری انصاف مہیا کرنے کا شوقین بھی۔ رعایا ان باتوں کی عادی نہ تھی لہٰذا اس کو اکثر بد ہضمی کی شکایت رہنے لگی لیکن بادشاہ وقت انصاف کرنے سے باز نہ آیا۔ اُس کے عدل کا ایک قصہ مشہور ہے کہ ایک دن بادشاہ کو پرانا دوست ملنے کے لئے آیا (جس کے ساتھ مل کر بادشاہ کبھی وارداتیں کیا کرتا تھا) اور اپنے میٹرک پاس بیٹے کے لئے نوکری کی درخواست کی۔ بادشاہ نے وزیرِ خاص (جس کی ڈگری بعد میں جعلی ثابت ہوئی ) کو حکم دیا کہ ’’بچے کو سول ہسپتال میں سرجن لگا دو۔‘‘ وزیرِ خاص ہکا بکا رہ گیا۔ ’’عالی جاہ! تو پھر پہلے سے موجود سرجن کا کیا کروں؟‘‘ حکم ہوا ’’اسے تھانیدارلگا دو۔‘‘ وزیر نے پھر دہائی دی‘ ’’تھانیدار کو کہاں بھیجوں؟‘‘ اُسے جیل میں ڈال دو بادشاہ نے زچ ہو کر کہا۔ درباری نورتن (جنہیں مخالفین کفن چور ٹولہ کہتے تھے) اس فیصلے پر عش عش کر اٹھے۔ بادشاہ اس مقولے کا قائل تھا کہ اختیارات سنبھال کر رکھنے کی چیز نہیں ہوتے بلکہ خوب استعمال کرنے کے لئے ہوتے ہیں چنانچہ وہ ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں اختیارات استعمال کرنے کا کوئی موقع ضائع نہ کرتا۔ وہی بادشاہ ایک دن دربار لگائے بیٹھا تھا کہ ایک خوش الحان مغنیہ دربار میں نغمہ سرا تھی کہ اس دوران انصاف کا وقت ہو گیا۔ وزیر انصاف (جو تازہ تازہ جیل سے رہا ہو کر آیا تھا) نے بادشاہ کی توجہ اس جانب مبذول کرائی۔ بادشاہ نے گانا عارضی طور پر روک دیا اور ملزمان کو پیش کرنے کا حکم دیا۔ ملزمان کا ریوڑ دربار میں پیش ہوا تو بادشاہ نے چھڑی کے اشارے سے انہیں دو حصوں میں بٹ جانے کا حکم دیا چنانچہ نصف ملزمان دائیں اور باقی بائیں طرف ہو کر کھڑے ہو گئے۔ بادشاہ نے تمام مقدمات کا مختصرمگر عقل شکن فیصلہ سنایا کہ ’’دائیں طرف والے سارے بری جبکہ بائیں طرف والے تمام ملزم سزائے موت۔‘‘ درباری بیربلوں اور ملا دو پیازوں نے اس سستے اور فوری انصاف پر داد کے ڈونگرے برسائے اور گانے کا سلسلہ وہیں سے شروع ہو گیا‘ جہاں سے ٹوٹا تھا۔ اِس کہانی سے سبق یہ ملا کہ ’’سستا اور فوری انصاف ہی قوموں کی ترقی کا ضامن ہوتا ہے۔‘‘


کہانیاں بچوں کی کردارسازی کرتی ہیں لیکن چونکہ اب کہانیاں سننے اور سنانے کی فرصت نہیں رہی اِس لئے معاشرتی اور سماجی مسائل پیدا ہو رہے ہیں جن میں جلدبازی بھی شامل ہے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں میں ایک چوہدری رہتا تھا۔ اس کے ساتھ حویلی میں ایک ملازم خاص (میراثی) بھی رہائش پذیر تھا۔ مالک اور نوکر ایک ایسی سست الوجود قوم سے تعلق رکھتے تھے جو ٹھہرے ہوئے‘ پر سکون مزاج کی مالک تھی اور آج کا کام کل پر چھوڑنے کی عادی تھی۔ ایک دن چوہدری پکوڑے کھانے کے بعد اخبار سے بنے لفافے کے مطالعہ میں مصروف تھا کہ اس نے خبر پڑھی کہ محکمہ زراعت نے جدید پیوند کاری کے ذریعے گندم کا ایسا بیج ایجاد کیا ہے جو دگنی فصل دیتا ہے۔ 

چوہدری نے ملازمین کو اکٹھا کر کے نئے بیج کے متعلق صلاح مشورہ شروع کیا۔ صلاح مشورے کی مختلف نشستیں جاری رہیں اورآخر ایک سال بعد گندم کا بیج مذکورہ بونے کا فیصلہ ہو گیا۔ فصل بونے کا موسم قریب آیا تو چوہدری نے ملازم خاص کو بیج لانے کے لئے شہر بھیجا۔ میراثی شہر پہنچا تو تھک چکا تھا۔ وہ شہر میں اپنے ایک عزیز کے گھر گیا تاکہ چند دن آرام کر کے سفر کی تھکاوٹ دور کرے اور بیج خرید کر واپسی کا قصد کرے۔ میراثی کو شہر میں مختلف عزیزوں اور دوستوں کے ہاں آرام کرتے اور ’’بتیاں شتیاں‘‘ دیکھتے ایک سال کا عرصہ گزر گیا۔ آخر جب دوبارہ فصل کاشت کرنے کا موسم آیا تو چوہدری کو میراثی کی یاد آئی۔ اس نے ایک اور نوکر کو شہر بھیجا تاکہ میراثی کو ڈھونڈ کر لائے۔ در اصل چوہدری کو روایت سے ہٹ کر فصل بونے کی جلدی پڑگئی تھی (جیسے کچھ لوگوں کوبجلی چوروں کے خلاف کاروائی کرنے کی جلدی ہوتی ہے)۔ نوکر نے بڑی مشکل سے میراثی کو شہر میں تلاش کیا اور چوہدری کا پیغام پہنچایا۔ میراثی جب بیج کی بوری کمر پر اٹھائے گاؤں پہنچا تو بارش کے باعث ہر طرف کیچڑ ہی کیچڑ تھا۔ وہ حویلی کے گیٹ سے داخل ہوا تو اس کا پاؤں پھسلا اور وہ دھڑام سے بوری سمیت گر گیا۔ 

بوری پھٹ گئی اور سارا بیج کیچڑ میں بکھر گیا۔ چوہدری نے آگے بڑھ کر میراثی کو اٹھانا چاہا تو وہ کیچڑ میں لیٹے لیٹے ہاتھ کھڑا کر کے بولا ’’بس رہنے دیں چوہدری صاحب! آپ کی جلد بازیوں نے ہمیں مارڈالا ہے‘‘۔ چوہدری پر گھڑوں پانی پڑ گیا اور اسے اپنی غیر حکیمانہ عجلت پر سخت ندامت ہوئی۔ اِس کہانی سبق یہ ملا کہ جلد بازی ’’شیطانی کام‘‘ ہے‘ چاہے وہ فصل بونے کی صورت ہو یا کالا باغ ڈیم جیسے بڑے آبی ذخائر بنانے میں۔ دہشت گردی ختم کرنے میں بھی جلدبازی ضروری نہیں اور نہ ہی بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ‘ مہنگائی‘ ملاوٹ‘ پر قابو پانے میں جلدبازی ہونی چاہئے!
۔
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2018-01-11