Showing posts with label Democracy. Show all posts
Showing posts with label Democracy. Show all posts

Saturday, September 25, 2021

Kitab Kahani : The other [dark] side of politics!

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

کتاب کہانی: کئی سُولیاں سر راہ تھیں

سیاسی اختلاف کی پاداش میں فوجی عدالت سے سزائے موت پانے والے ایک قیدی کی روداد (آپ بیتی) بعنوان ’کئی سُولیاں سرِراہ تھیں‘ کا چوتھا ایڈیشن سانجھ پبلی کیشنز (لاہور) نے شائع کیا ہے جس میں خواجہ آصف جاوید بٹ ایڈوکیٹ نے جنرل ضیا الحق کے دور حکومت اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا تذکرہ محفوظ کیا ہے۔ جنرل ضیا الحق 16 ستمبر 1978ءسے 17 اگست 1988ءتک پاکستان کے چھٹے صدر مملکت رہے جبکہ اِس سے قبل بطور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اُن کا بلاشرکت غیرے دور حکومت (جسے آمریت بھی کہا جاتا ہے) 5 جولائی 1977ءسے 24 مارچ 1985ءتک جاری رہا۔ آپ یکم مارچ 1976ءسے 17 اگست 1988ءپاک فوج کے سربراہ رہے‘ جن سے قبل ٹکا خان اُور جن کے بعد مرزا اسلم بیگ نے پاک فوج کی بطور سربراہ قیادت کی تھی۔

 نئی نسل کے لئے پاکستان کی سیاسی تاریخ کو سمجھنے کے لئے جنرل ضیاالحق کی آمریت کا باب انتہائی اہم ہے اُور آصف بٹ کی مذکورہ کتاب اِس سلسلے میں بہت مددگار ثابت ہو سکتی ہے جس کے انتساب میں اُنہوں نے پوری کتاب کو سموتے ہوئے لکھا ہے کہ ”ضیا آمریت کے دوران مزاحمتی کردار ادا کرنے والے اُن ساد لوحوں کے نام جو تاریک راہوں میں لٹے اُور مارے گئے۔ اُن زندہ اُور درگور مصیبت زدوں کے نام جو اُس طویل آمرانہ دور میں مہم جو‘ مبتلائے سحر اُور خانہ بربادی پر تُلے اپنے پیاروں کے پیچھے (کی تلاش میں) جیل جیل کی خاک چھانتے رہے۔“ اگرچہ آصف بٹ نے آمریت کے صرف اُنہی پہلو ؤں پر زیادہ بات کی ہے جن کا اُن کی اپنی ذات و مشکلات سے تعلق تھا لیکن کتاب میں زیربحث لایا گیا موضوع بے پناہ وسعت رکھتا ہے اُور اِس میں اُن سبھی پہلوؤں (بے رحم روئیوں) کا کہیں سرسری‘ اجمالاً تو کہیں تفصیلاً و دستاویزی طور پر ذکر موجود ہے‘ جب ظلم وستم کی انتہا کی گئی۔ 471 صفحات پر مشتمل اِس کتاب کو پڑھ کر پاکستان میں جمہوری نظام‘ اقدار اُور آزادی کی نہ صرف سمجھ آتی ہے کہ کس طرح کھٹن راستوں سے گزر کر یہ نعمت میسر آئی ہے اُور اِس کی حفاظت کیوں ضروری ہے۔ حاصل ِکتاب یہ نتیجہ خیال اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر جمہوریت کی حفاظت اُور اِس کی قدر و اہمیت کا خاطرخواہ احساس نہ کیا جائے تو اِس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے اُور جب جمہوریت کی بساط لپیٹ دی جاتی ہے تب کس قدر گھٹن عام ہوتی ہے‘ یہ سبھی احساسات کتاب میں جابجا تحریر ملتے ہیں۔ 

قفس در قفس کے باب میں جاوید بٹ نے ’سنٹرل جیل پشاور‘ میں گزرے اپنے شب و روز کا بھی ذکر کیا ہے جب اُنہیں پنجاب کے قیدخانوں سے پشاور جیل منتقل کیا گیا اُور یہاں جب اُنہوں نے پختون مہمان نوازی اُور احترام کو قریب سے دیکھا۔ لکھتے ہیں ”جو حسن ِسلوک (قلعہ) بالاحصار (کے قیدخانے) میں میرے ساتھ روا رکھا گیا‘ اُس کی بنا پر ہر پختون مجھے فرشتہ نما لگ رہا تھا اُور میرے دل سے اِس نسل کے لئے دعائیں اُور محبتیں پھوٹ رہی تھیں۔“ ”پشاور جیل میں میلے کا سماں“ سے متعلق مشاہدات خاصے دلچسپ ہیں جن کی روشنی میں اُس وقت کی طلبہ یونین سیاست اُور تعلیمی اِداروں بشمول جامعات میں رونما ہونے والے پُرتشدد واقعات کو سمجھا جا سکتا ہے کہ کس طرح تعلیمی اِداروں میں سیاست متعارف کروائی گئی اُور کس طرح تعلیمی اِداروں میں سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لئے ریاست ’غنڈہ گردی‘ کی سرپرستی کرتی رہی ہے۔ کیا تعلیمی اداروں میں سیاست ہونی چاہئے؟ 

طلبہ سیاسی تنظیموں پر پابندی کے فائدے اُور نقصانات کیا ہیں؟ اِس حوالے سے وہ سبھی سیاسی کارکن زیادہ بہتر و جامع انداز میں روشنی ڈال سکتے ہیں جو اِس پورے عمل سے گزرے ہیں۔ جاوید بٹ کی پشاور سنٹرل جیل سے متعلق یاداشت میں تحریر ہے کہ ایک دن 20 کے قریب مختلف کالجوں کے طلبہ کا گروپ جیل میں وارد ہو کر میرے والی بیرک (کمرے) میں آ مقیم ہوا۔ یہ سب کے سب ’پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن (PSF)‘ سے وابستہ تھے اُور اسلامی جمعیت طلبہ کے ساتھ جھگڑے کی وجہ سے گرفتار کر کے جیل منتقل کئے گئے تھے۔ اِن میں ڈاکٹر اظہر جدون‘ ڈاکٹر کمال (مرحوم)‘ جہانزیب‘ قاسم جان اُور جاوید اختر (مرحوم) وغیرہ شامل تھے۔ اِن سب کے آ جانے سے (قیدخانے) میں عید کا سا ماحول پیدا ہو گیا۔ (یہ) سب (عمر میں) مجھ سے تو بہرحال جونیئر تھے جب کوئی 21 سال کا ہو اُور آپ 27 سال کے تو اُس وقت یہ فرق واضح محسوس ہوتا ہے۔ پہلے دو چار دن تو مجھے میری بزرگی کی قیمت ’صیغہ جمع‘ میں ادب کے ساتھ بُلا کر ادا کی گئی لیکن پھر مجھے بھی یہ لوگ گدگدی کرنے پر آگئے (اُور یوں) چھ سال (عمر میں) بڑا ہونے کا فرق جاتا رہا۔ نسوار کا استعمال آدھے سے زیادہ جوان باقاعدگی سے کرتے تھے اُور چرس سے دو تین چھوڑ کر سب ہی شغل فرماتے۔ مجھے گھیر گھار کر چرس بھرے سگریٹ کے کش لگانے پر آمادہ کر ہی لیا گیا۔ چرس بھرے سگریٹ کے دو چار کش لینے کے بعد میری کنپٹیوں (سر) کے ادندر جیسے مختلف قسم کی اونچی‘ کم‘ تیز‘ تیز تر‘ ٹی ٹوں ٹاں ٹیں .... ٹیں .... ٹاں.... ں ں ں .... کی عجیب و غریب کیفیت پیدا ہوئی۔ (چرس پینے کی وجہ سے بنا گھڑی دیکھے میری) وقت کو ماپنےکی صلاحیت (بھی) تقریباً جاتی رہی (اُور) معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ کتنا وقت گزر گیا ہے اُور عالم استغراق سے کتنی دیر بعد سر اُٹھایا ہے!“

نظریات کی سیاست اُور اصولوں کی رہنمائی میں سفر کی ہر منزل پہلے سے زیادہ کھٹن اُور دشوارگزار ہوتی ہے اُور یہی وجہ ہے کہ بہت کم لوگ سیاست میں استقامت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہی استقامت ہر شخص کی زندگی میں آنے والی ’کربلا‘ ہے‘ جہاں اُسے بھوک پیاس اُور ظلم برداشت کرنا پڑتے ہیں کیونکہ جب مقصد عظیم ہو تو حوصلہ‘ ہمت اُور برداشت جواب نہیں دیتی۔ سیاسی قیدیوں کو ’سر راہ‘ کتنی سُولیوں سے گزرنا پڑتا ہے اُور اِنہیں کس قدر جسمانی تکالیف و ذہنی اذیت اُور خاندانی و سماجی مسائل سے واسطہ رہتا ہے‘ ممکن نہیں کہ اُن کا احاطہ الفاظ یا کسی ایک آپ بیتی (کتاب کی صورت) میں ہو سکے۔ ایسے باضمیروں کا وقت پیچھا کرتا ہے اُور بامقصد زندگی بسر کرنے والے نفوس عالیہ (خواص) ہوں یا عوام‘ یہی وقت معلم بھی ہے‘ جو انسانی تجربات‘ مشاہدات اُور وارداتوں سے نتائج اخذ کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اُمید ہے جاوید بٹ اپنی آب بیتی کے آئندہ ایڈیشن میں اُن سیاسی کرداروں کا بھی ذکر کریں جنہوں نے اِن جیسے پرخلوص کارکنوں کی قربانیوں سے فائدہ اُٹھایا‘ جنہوں نے نظریاتی سیاست کو موروثی سیاست کا بدنما لبادہ پہنا رکھا ہے۔ سبق یہ ہے کہ جمہوریت کی حفاظت کی جائے۔ جمہوریت کی قدر ہونی چاہئے اُور ”وسیع تر قومی مفاد“ اگر کسی چیز کا نام ہے تو وہ جمہوریت کے بغیر کوئی دوسری شے (جنس) نہیں اُور اِسی ”قومی مفاد“ پر ذاتی مفادات قربان کرنے والوں میں شامل آصف بٹ اُس کارواں کا حصہ رہے ہیں‘ جو تاحال اپنی منزل کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ 

”کبھی سسکی‘ کبھی آوازہ‘ سفر جاری ہے .... کسی دیوانے کا دیوانہ سفر جاری ہے (شاعر:وقار خان)۔“





Thursday, October 29, 2020

Realities of CRIMES in Khyber Pukhtunkhwa

خوشنما دعوے ‘تلخ حقائق

پیشرفت لائق توجہ ہے۔ خیبر پختونخوا قانون ساز اسمبلی کے اَراکین کو محکمہ پولیس کی کارکردگی سے متعلق فراہم کردہ معلومات (بریفنگ) میں منفرد نوعیت کے 2 دعوے سامنے آئے‘ جو ناقابل یقین اُور زمینی حقائق سے متصادم ہیں۔ پولیس فورس کا پہلا دعویٰ یہ ہے کہ .... ”پورے صوبے میں (موثر پولیسنگ کے ذریعے) عوام کی خدمات تک رسائی (عملاً) ممکن بنا دی گئی ہے“ اُور دوسرا دعویٰ قانون کے غیرجانبدارانہ اطلاق کا ہے کہ ....”محکمہ پولیس نے ”بروقت اِنصاف کی فراہمی یقینی بنا دی ہے۔“ تعجب خیز ہے کہ جب اِن دونوں دعووں کی گونج اسمبلی کے ’ائر ٹائٹ‘ ایوان میں بیٹھے افراد کی سماعتوں سے ٹکرائی تو کسی رکن اسمبلی نے ’نکتہ اعتراض‘ نہیں اُٹھایا جو عمومی طرز عمل ہے اُور جب بھی کسی رکن اسمبلی کو ایوان میں کی جانے والی کوئی بات خلاف معمول اُور حقائق کے منافی لگتی ہے تو وہ فوری طور پر اپنا نکتہ نظرپیش کرنے کے لئے باری یا اجازت کا انتظار بھی نہیں کرتا لیکن کوئی ایک بھی آواز نہیں اُٹھی اُور نہ ہی ’شیم شیم‘ کے نعرے لگے کہ پولیس کی جانب سے مذکورہ دونوں دعووں کا حقیقت سے تعلق نہیں اُور پولیس کا ایک سینئر اہلکار کی جرات کیسے ہوئی کہ وہ قانون ساز ایوان کے سامنے زمینی حقائق کے مخالف تصویر پیش کرے۔ کوئی ایک نکتہ اعتراض اِس حوالے سے بھی نہیں اُٹھا کہ گمراہ کن اعدادوشمار اُور دروغ گوئی پر مبنی زمینی حقائق پیش کرنے والے آخر کس دنیا کی بات کر رہے ہیں!؟ سوال تو بنتا تھا کہ پاکستان اُور بالخصوص خیبرپختونخوا کا وہ کونسا ضلع یا گاوں یا علاقہ ہے جہاں کے رہنے والوں کی اکثریت کو یقین ہو کہ بوقت ضرورت (خدانخواستہ) پولیس مظلوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی؟ مظلوم کی داد رسی کی جائے گی اُور قانون کی حکمرانی سے انصاف کی فراہمی تک کے مراحل میں حکومتی ادارے اِمتیازی سلوک کا مظاہرہ نہیں کریں گے! 

قانون کا اِطلاق یکساں ہوگا اُور قانون کی حمایت مالی حیثیت یا سیاسی اثرورسوخ کو مدنظر رکھتے ہوئے نہیں کیا جائے گا۔ پولیس کا یہ کہنا کہ پینتیس ہزار سے زیادہ عوامی شکایات اُور نو لاکھ بائیس ہزار سے زیادہ درخواستوں پر عوام کو ریلیف پہنچایا گیا اپنی جگہ ’حیرت انگیز‘ ہے کہ اگر پولیس کی کارکردگی واقعی بہتر ہوتی تو قریب دس لاکھ شکایات کا انبار نہ لگتا اُور جس انداز میں قریب دس لاکھ شکایات نمٹائی گئیں ہیں اُور حقیقت میں ایسا ہی کیا گیا ہے تو پھر خیبرپختونخوا پولیس کا نام تو ’گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ‘ میں درج ہونا چاہئے۔ شاید ہی دنیا کی کسی بھی دوسری پولیس فورس نے اِس قدربڑی تعداد میں عوامی شکایات نمٹائی ہوں اُور وہ بھی اِس صفائی کے ساتھ کہ کوئی ایک بھی پولیس اہلکار نشان عبرت نہیں بنا اُور نہ ہی نظام میں دس نہیں تو پانچ لاکھ اصلاحات ہوئی ہیں۔ 

کیا آج کا تھانہ کلچر تبدیل ہے؟ 

کیا عام آدمی کے نکتہ نظر سے پولیس فورس‘ بوقت ضرورت‘ اُس کے کام آئے گی؟

خیبرپختونخوا پولیس نے دس ہزار سات سو سے زیادہ منشیات فروش پکڑے ہیں تو پھر جگہ جگہ منشیات کے اڈوں کو سپلائی کہاں سے ہو رہی ہے اُور لگتا یوں کہ ایک منشیات فروش کو پکڑتے ہی دوسرا اُس کی جگہ لے رہا ہے۔ درحقیقت خیبرپختونخوا میں منشیات فروشی کی صورتحال اِس حد تک خطرناک اُور بگڑی ہوئی ہے کہ صوبائی دارالحکومت پشاور شہر کی مرکزی شاہراہ جی ٹی روڈ پر ’گل بہار پولیس اسٹیشن‘ کے سامنے اُوور ہیڈ پل کے نیچے منشیات فروشوں اُور منشیات استعمال کرنے والوں کے جھنڈ دکھائی دیتے ہیں۔ زیادہ دور جانے کی بات نہیں لیکن اگر گل بہار پولیس اسٹیشن کے اہلکار کھڑی کھول کر ہی نظارہ کریں تو چند گھنٹے نگرانی کریں تو اُنہیں منشیات فروش اُور استعمال کرنے والوں کا علم ہو جائے گا لیکن یہ سب کچھ پولیس کی نہیں بلکہ عوام اُور عوام کے منتخب نمائندوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے پر مبنی طرزعمل ہے۔ لمحہ فکریہ ہے کہ 200دہشت گرد گرفتار کئے گئے اُور یہ عدد پیش کرتے ہوئے اِس کے ساتھ مشتبہ یا مبینہ کا صیغہ بھی نہیں لگایا گیا تو سمجھا یہی جائے کہ خیبرپختونخوا پولیس اہلکاروں نے جان پر کھیلتے ہوئے دو سو مطلوب دہشت گرد گرفتار کئے ہیں ایسا کس طرح عملاً ممکن ہو سکتا ہے لیکن یہ سوال بھی اراکین اسمبلی کی جانب سے نہیں اُٹھایا گیا! کیا اسمبلی اراکین پر اِس بات کا خوف طاری تھا کہ اگر وہ پولیس کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے یا سوالات (اعتراضات) اُٹھاتے تو جواب میں (مبادا) اُن سے اسمبلی کی کارکردگی پوچھ لی جاتی! 

پولیس اصلاحات کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس (داخلی احتساب ’انٹرنل اکاﺅنٹبلیٹی‘) سلمان چوہدری کی جانب سے خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی کے میدان (فلور) پر اراکین کو محکمہ پولیس میں متعارف شدہ اصلاحات‘ دہشت گردی اور دیگر جرائم کے خلاف اقدامات‘ درپیش چیلنجوں اُور اِن سے نمٹنے کی حکمت عملی نیز مستقبل کے لائحہ عمل سے متعلق جو معلومات (تفصیلات) فراہم کی گئیں اُن میں ایک مرحلے پر تمہیداً پولیس اصلاحات کے مقاصد بھی بیان کئے گئے جن میں شامل تھا کہ خدمت کے معیار پر پورا اُترنے کے لئے پولیس کو خودمختار اور جوابدہ بنایا گیا ہے حالانکہ نہ تو مکمل خودمختاری حاصل ہوئی ہے اُور نہ ہی پولیس جوابدہ ہے۔ تحریک انصاف حکومت میں اگر کوئی ایک تبدیلی بطور مثال و اصلاح پیش کی جا سکتی ہے تو وہ یہ ہے کہ پولیس فورس میں اہلیت (میرٹ) پر بھرتیاں ہوتی ہیں اُور اِس مقصد کے لئے ’ٹیسٹنگ اِیجنسی‘ کی خدمات سے استفادہ ہو رہا ہے تاہم بھرتی کے بعد پوسٹنگز اُور اہم عہدوں پر تعیناتیاں خاطرخواہ شفاف نہیں اُور بظاہر دکھائی نہ دینے والی سیاسی مداخلت کہیں نہ کہیں کارفرما ہے! 

پولیس کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق ’اراکین صوبائی اسمبلی‘ نے مذکورہ بریفنگ میں ”گہری دلچسپی“ لی (مطلب غور سے سنا) اور محکمہ پولیس میں اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت کئے گئے اقدامات کو ”زبردست الفاظ“ میں خراج تحسین پیش کیا (مطلب مزید کسی اصلاح کی ضرورت نہیں) اور محکمہ پولیس کو اپنی ہر ممکن تعاون کا یقین بھی دلایا (مطلب پولیس کا کام کاج جہاں اُور جیسا ہے جاری رہنا چاہئے۔) اراکین اسمبلی کی جانب سے ’کلین چٹ‘ ملنے سے یقینا پولیس کے صوبائی فیصلہ سازوں کے حوصلے بلند ہوئے ہوں گے لیکن بنیادی نکتہ تو عوام ہیں‘ جن کے اطمینان اُور اعتماد کی بحالی کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے۔ خیبرپختونخوا کے طول وعرض اُور بالخصوص پشاور ’غیرقانونی اسلحے‘ کا مرکز ہے۔ 

ستائیس اَکتوبر کو دیرکالونی میں ہوئے دہشت گرد حملے کے اگلے روز (اٹھائیس اَکتوبر) ملحقہ علاقوں میں چند گھروں کی تلاشی لی گئی جس دوران غیرقانونی اِسلحہ برآمد ہوا اُور اگر گھر گھر تلاشی کا دائرہ وسیع کیا جائے تو پشاور کو اسلحے کے پاک بنایا جا سکتا ہے‘ جس کا مطالبہ ’ہوائی فائرنگ‘ کا انسداد کرنے والے ایک عرصے سے کر رہے ہیں لیکن ہوائی فائرنگ کے واقعات (سانحات) سے ناقابل تلافی جانی نقصانات مسلسل ہو رہے ہیں‘ جس کی حوصلہ شکنی کرنے کی مہمات اگر ناکام (ناکافی) ثابت ہو رہی ہیں تو وقت ہے کہ خیبرپختونخوا اُور پشاور کو غیرقانونی اسلحے سے پاک کرنے کی مہم چلائی جائے۔

....


Wednesday, March 28, 2018

Mar 2018: The PTI vs PTI in District Abbottabad

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تحریک اِنصاف بمقابلہ تحریک اِنصاف
خیبرپختونخوا کی تاریخ میں سب سے زیادہ اُور دنیا کی بہترین قانون سازی کس کے دور حکومت میں ہوئی؟ سرکاری سرپرستی میں اِدارہ جاتی اِصلاحات‘ بے مثل و بے مثال ترقیاتی ترجیحات اُور صحت و تعلیم جیسے شعبوں کی بہتری کے لئے سب سے زیادہ سالانہ مالی وسائل کس سیاسی جماعت نے مختص کئے؟ لیکن قومی و صوبائی سطح پر مختلف محاذوں پر ڈٹ کر مالی و انتظامی ’بدعنوانیوں‘ کا مقابلہ کرنے والی ’پاکستان تحریک انصاف‘ کی قیادت سے ’تنظیمی ڈھانچے‘ کی مضبوطی جیسا اہم پہلو مسلسل نظرانداز رہا ہے جس کی وجہ سے خیبرپختونخوا کے کسی بھی ضلع میں تحریک کی صفوں میں ’مثالی نظم وضبط‘ دکھائی نہیں دیتا۔ یہی وجہ رہی ہے کہ تحریک انصاف کے ’اچھے (تعمیری) کاموں کا گلی گلی چرچا نہیں ہو سکا جبکہ سیاسی مخالفین تحریک انصاف کی صفوں میں پائے جانے والے اِختلافات کا فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ اِس سلسلے میں سب سے ’عمدہ مثال‘ ضلع ایبٹ آباد کی دی جاسکتی ہے جہاں ’جولائی دوہزارپندرہ‘ میں ہوئے بلدیاتی اِنتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے کے باوجود بھی تحریک انصاف اب تک ’ضلعی حکومت‘ بنانے میں ناکام رہی ہے اُور بنی گالہ سے نامزد ضلعی ناظم (علی خان جدون) کے خلاف تحریک کے اپنے ہی کارکنوں کی بغاوت کے سبب معاملہ الیکشن کمیشن سے ہوتے ہوئے عدالت اُور عدالت سے ہوتے ہوئے دوبارہ الیکشن کمیشن جا پہنچا‘ جہاں ’پارٹی ڈسپلن‘ کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ’ڈی سیٹ‘ کردیا گیا اُور اِس سارے قضیے میں قیمتی دو برس ضائع ہوگئے۔ 

منحرف اَراکین کی ضلعی اسمبلی رکنیت ختم ہونے کے بعد تین نشستوں پر رواں ماہ (مارچ دوہزاراٹھارہ) ضمنی انتخاب ہوا تو (ایبٹ آباد کے شہری علاقوں پر مشتمل دو نشستوں پر) تحریک انصاف کے نامزد اُمیدواروں نے کامیابی حاصل کرکے ثابت کردیا کہ ’باوجود اِختلافات اور داخلی سازشوں کے‘ اب بھی‘ ہزارہ ڈویژن کے صدر مقام اور طول و عرض میں تحریک انصاف ہی کا سکہ چلتا ہے۔‘ لیکن منظرنامہ تبدیل نہ ہوا۔ آج بھی ضلع ایبٹ آباد میں ’تحریک اِنصاف بمقابلہ تحریک اِنصاف‘ دکھائی دیتی ہے!

چھبیس مارچ کے روز عمران خان نے ’رکن سازی مہم‘ کے سلسلے میں ایبٹ آباد کا ایک روزہ مختصر دورہ کیا اُور اِس موقع پر دو الگ الگ مقامات پر‘ کارکنوں کے دو الگ دھڑوں کی جانب سے لگائے گئے ’رکن سازی کیمپوں‘ میں خطاب کرتے ہوئے ’نظم و ضبط‘ کی اہمیت پر زور دیا۔ ’’موقع‘ محل اُور وقت‘ باتوں اور تلقین کا نہیں رہا بلکہ فیصلہ کن کردار ادا کرنے کا ہے۔ عمران خان کے پاس ’اصلاح احوال‘ کے دو راستے (آپشنز) اب بھی موجودہ ہیں۔ پہلا آپشن یہ کہ وہ اپنے ’ایبٹ آباد‘ دورے کو اِس بات سے مشروط کر دیتے کہ جب تک پارٹی کے مقامی رہنما اور کارکن بناء ’پارٹی کی مرکزی یا صوبائی مداخلت‘ اپنے اختلافات (رنجشیں) آپس میں مل بیٹھ کر ختم نہیں کر لیتے اُس وقت تک وہ ایبٹ آباد کا دورہ نہیں کریں گے‘ تب تک رکن سازی مہم ملتوی کی جاسکتی تھی لیکن عمران خان نے دو الگ الگ مقامات پر الگ الگ کیمپوں میں شرکت اور ایک ہی شہر میں چند گز کے فاصلے پر اپنی ہی جماعت کے کارکنوں کے الگ الگ اجتماعات سے خطاب کرکے درحقیقت یہ تاثر دیا ہے کہ اُنہیں (بشمول تحریک کی مرکزی قیادت) کو ایبٹ آباد میں ’دھڑے بندیوں‘ سے کوئی فرق نہیں پڑتا حالانکہ ’فرق پڑتا ہے۔‘ 

آئندہ عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹوں (نامزدگیوں) کو بھی تنظیمی نظم و ضبط سے مشروط کیا جا سکتا ہے۔ عمران خان کے پاس دوسرا آپشن ہے کہ اگر مقامی رہنما اور کارکن اختلافات ختم کرنے میں ’باوجود کوشش‘ بھی (کسی ڈیڈ لائن تک) کامیاب نہیں ہوتے تو پھر بلحاظ پارٹی سربراہ ’ایگزیکٹو آرڈر‘ سے وہ دونوں دھڑوں کو ایک پلیٹ فارم پر آنے کا حکم دیں۔ جس دھڑے کے رہنما اور کارکن حکم عدولی کریں‘ اُن کی ’بنیادی پارٹی رکنیت‘ معطل کر دی جائے تاوقتیکہ وہ (توبہ تائب ہو کر) پارٹی کے نظم و ضبط پر سرتسلیم خم نہیں کر لیتے یوں مسئلہ چٹکی بجاتے حل ہو سکتا ہے لیکن عمران خان نے اِن دونوں اور دیگر ممکنہ طریقوں (آپشنز) کو درخوراعتناء (لائق توجہ یا قابل عمل) نہیں سمجھا! جس سے اُن بے لوث کارکنوں کی بڑی تعداد میں مایوسی پائی جاتی ہے‘ جو تحریک انصاف کو تبدیلی کا علمبردار سمجھتے ہیں اور تحریک انصاف ’نئے پاکستان کی تشکیل‘ کے لئے اُن کی اُمیدوں کا مرکز ہے۔ ضلع ایبٹ آباد کے شہری اور دیہی علاقوں میں یکساں طور پر دھڑے بندیوں میں تقسیم ’تحریک انصاف‘ کو اگر کوئی بچا سکتا ہے تو وہ خود تحریک انصاف ہی ہے جو موجودہ ’کمزور ترین تنظیمی ڈھانچے‘ کے ساتھ اگر عام انتخابات میں حصہ لیتی ہے تو اِس کا ووٹ بینک تقسیم ہو جائے گا اور اِس حقیقت کا دانستہ انکار کرنا خود فریبی کی انتہاء ہوگی۔

ٹوئیٹر (twitter) (سوشل میڈیا اکاؤنٹ @peshavar) کے ذریعے ’پانچ سوالات‘ پوچھے گئے تاکہ اِس نتیجے پر پہنچا جائے کہ ایبٹ آباد اور اندرون و بیرون ملک مقیم ’تحریک انصاف‘ کے کارکن‘ تجزیہ کار اور فیصلہ ساز اِس صورتحال (منظرنامے) کو کس نظر سے دیکھ رہے ہیں! 

پہلا سوال: مضبوط تنظیمی ڈھانچہ ہی کسی سیاسی جماعت کی انتخابی و سیاسی کامیابی کی ضمانت اُور اثاثہ ہوتا ہے؟ 92 فیصد نے کہا ’ہاں‘ جبکہ 8 فیصد نے ’نہیں‘ میں جواب دیا۔ 

دوسرا سوال: پاکستان تحریک انصاف ضلع ایبٹ آباد کے داخلی اختلافات اور تنظیمی کمزوریوں کا بنیادی محرک کیا ہے؟ 25فیصد نے نسل پرستی‘ 25 فیصد نے سرمایہ دارانہ آمرانہ سوچ‘ 38فیصد نے بنی گالہ کی عدم دلچپسی اور 12 فیصد نے کہا کہ اُنہیں ایبٹ آباد کے تنظیمی ڈھانچے میں اختلافات اور اِس کی شدت کے بارے میں حقائق معلوم نہیں۔ 

تیسرا سوال کارکنوں کے باہمی اختلافات سے سیاسی فائدہ اُٹھانے والی سیاسی جماعت سے متعلق تھا تو 75 فیصد کارکنوں نے کہا کہ ’مسلم لیگ نواز‘ اُور ’17 فیصد‘ نے کہا کہ پیپلزپارٹی تحریک انصاف کی تنظیمی کمزوریوں (خلاء) کا فائدہ اُٹھا رہی ہے جبکہ ’8 فیصد‘ نے کہا کہ اُنہیں برسرزمین حقائق کا علم نہیں۔ 

چوتھا سوال دھڑے بندیوں کے ’رُکن سازی مہم‘ پر منفی اَثرات سے متعلق پوچھا گیا جس کے جواب میں ’13فیصد‘ نے اِسے ’جاری رکن سازی مہم‘ کے لئے خطرہ قرار دیا۔ 60فیصد نے کہا اِس سے فرق نہیں پڑے گا جبکہ 27فیصد نے کسی بھی قسم کی رائے دینے سے معذرت کی۔ 

پانچواں اور آخری سوال آئندہ عام انتخابات سے متعلق تھا جس سے قبل ’تحریک انصاف‘ ضلع ایبٹ آباد کے کارکنوں کی دھڑے بندیاں بہرصورت ختم ہونی چاہیءں؟ اِس سوال کا جواب (حسب توقع) بالکل واضح سامنے آیا۔ ’92 فیصد‘ کارکنوں نے تائید کی کہ آئندہ عام انتخابات سے قبل ’دھڑے بندیاں ’بہرصورت‘ ختم ہونی چاہیئں۔‘ 

اِصلاحاتی منشور کو عملی جامہ پہنانے کی کوششوں میں اعدادوشمار بھلے ہی ’تحریک انصاف‘ کے حق میں ہوں لیکن اگر ایبٹ آباد سمیت خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کی تنظیموں میں در آئی خرابی اور غیردانشمند خیرخواہ اپنے قول و فعل کی حسب ضرورت اصلاح کرتے ہوئے اپنے اپنے مؤقف سے رجوع نہیں کرتے‘ اپنی ذات اُور اَنا کی قربانی نہیں دیتے تو اِس سے ’تحریک اِنصاف‘ کی صفوں میں پایا جانے والا انتشار‘ خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی (آئندہ انتخابی کامیابیوں) پر حاوی و طاری رہے گا۔
۔

http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2018-03-28

Wednesday, December 20, 2017

Dec 2017: Democracy without power & power without accountability!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
ڈُوبتا یقین!
پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایوان بالا (سینیٹ) اراکین کو پاکستان کی داخلی اور خطے (جنوب مشرق ایشیاء میں آنے والی تبدیلیوں سے متعلق) صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی ہے‘ جس سے اُمید ہے کہ ابہام دور اُور دونوں اہم ادارے (پارلیمان اور فوج) کے درمیان فاصلے کم ہوں گے۔ سردست اراکین اسمبلی میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ پاک فوج قومی فیصلے بلاشرکت غیرے (بناء مشاورت) کرتی ہے اور جب فوجی مداخلت سے داخلی و خارجی معاملات انتہاء تک خراب ہو جاتے ہیں تو اُسے سیاست دانوں کو سونپنا پڑتا ہے جو مشکل کی اُس گھڑی ’سودا بازی‘ کرتے ہیں اور اپنی بدعنوانیوں اور قوانین سے خود کو مستثنیٰ قرار دلواتے ہیں۔ سینیٹ میں ایسی کئی آوازیں اٹھ رہی ہیں جن میں سب سے توانا پاکستان پیپلزپارٹی (پارلیمینٹرین) کی جانب سے ہے کہ ’’پاکستان کے سیاسی اور انتظامی معاملات سے فوج کے ادارے کو الگ ہونا چاہئے اور قومی پالیسیوں سے متعلق اُس کا ’فیصلہ کن کردار‘ بھی محدود بلکہ پارلیمان کے تابع ہونا چاہئے۔‘‘ پاکستان میں قومی اداروں کے درمیان پائی جانے والی ’بداعتمادی‘ ماضی میں بھی رہی لیکن جس انداز میں اِس کا کھل کا اظہار فی الوقت دیکھنے میں آرہا ہے اُس کی مثال نہیں ملتی۔ 

قومی ادارے جب ایک دوسرے سے مربوط (ہم آہنگ) نہ ہوں تو اُن کی وضع کردہ پالیسیاں کس طرح قومی مفاد میں ’جامع (وسیع تر حجم) کی مالک ہو سکتی ہیں؟

پاکستان کی داخلی افراتفری پر مبنی صورتحال سے فائدہ اٹھانے والوں میں امریکہ سرفہرست ہے جس نے جنوب مشرق ایشیاء کے لئے اپنی حکمت عملی تبدیل کر دی ہے اور وہ اب نہ صرف بھارت کو خطے میں کلیدی کردار (اہمیت) دے رہا ہے بلکہ پاکستان کے خلاف ہونے والی سازشوں اور دہشت گردی کے بارے میں اُسے تشویش نہیں! بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے تو اِس کا ملبہ بھی پاکستان پر ڈال کر اُسے ’عالمی عدالت میں باعزت بری‘ کردیا جاتا ہے۔ مقام حیرت ہے کہ جب اَجمل قصاب نے بھارت میں دہشت گرد حملہ کیا تو اُس حملے یا سازش میں پاکستان کی ریاست شامل نہیں تھی اُور نہ ہی پاکستان کی ریاست یا کسی ریاستی ادارے نے اجمل قصاب یا اُس دہشت گرد حملے کی حمایت کی لیکن جب کلبھوشن یادیو نامی بھارتی جاسوس پاکستان سے گرفتار ہوا تو بھارت اِس معاملے کو عالمی عدالت اِنصاف تک لیجا چکا ہے‘ اُور اُسے رتی بھر بھی خفت نہیں کہ وہ پاکستان میں دہشت گرد کاروائیوں میں ملوث ہے اور اِس بات کے ناقابل تردید ثبوت و زندہ شواہد موجود ہیں! 

بھارت کی اِس جرأت (ہٹ دھرمی) کی پشت پناہی یقیناًامریکہ کر رہا ہے جس نے پاکستان پر اقتصادی جنگ مسلط کر رکھی ہے اور بات صرف ’سرد جنگ‘ کی حد تک محدود نہیں بلکہ امریکی قیادت کی جانب سے الفاظ اور کردار بدل بدل کر پاکستان کو ’ڈومور‘ کرنے کے ساتھ باقاعدہ دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ اِس پورے منظرنامے میں تین محرکات بالخصوص لائق توجہ ہیں: (1: پاکستان عالمی سطح پر اپنے خلاف بھارتی سازشوں کا دفاع (مقابلہ) کامیابی سے نہیں کر پا رہا۔ 2: پاکستان امریکہ اور عالمی برادری کو مطمئن نہیں کر پا رہا کہ وہ دہشت گرد نہیں بلکہ بذات خود دہشت گردی کا شکار (دوچار) ہے اُور 3: پاکستان کی مشرقی و مغربی سرحدیں پہلے سے زیادہ ’غیرمحفوظ‘ ہو چکی ہیں تو پاکستان عالمی برادری سے کس قسم یعنی دفاعی‘ سیاسی اور سفارتی تعاون کا طلبگار ہے؟ اِن سبھی امور کے بارے میں ’پاک فوج‘ کی سوچ‘ لائحہ عمل اور اب تک کا عمل درآمد کس مقام پر کھڑا ہے‘ اِس کا تعین بہرحال ضروری ہے‘ یقیناًہر ملک کے اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں لیکن امریکہ کی جانب سے ’ڈومور‘ کے مطالبے میں تیزی آ رہی ہے تو اِس کی وجہ ہماری سیاسی و سفارتی کمزوریاں کا علاج بھی ضروری ہے۔ 

پاکستان کو دباؤ میں لانے کے منجملہ مقاصد میں یہ بات بھی شامل ہے کہ فلسطین اور اسرائیل کے حوالے سے درمیانہ راستہ اختیار کیا جائے اور پاکستان امریکی پالیسیوں کی مخالفت میں اُس حد سے آگے نہ بڑھے جہاں اُس پر ایران کا گمان ہونے لگے کیونکہ امریکہ دنیا میں صرف ایک ہی ایران چاہتا ہے اور کسی دوسرے ملک (بالخصوص ترکی اور پاکستان) کی سیاسی قیادت کو اتنی ’چھوٹ‘ نہیں دے سکتا کہ وہ اُس کے لئے پہلے سے موجود‘ دردسر کی شدت میں اضافے کا باعث بنیں۔

اُنیس دسمبر کے روز پاک فوج کے سربراہ (چیف آف آرمی سٹاف) جنرل قمر جاوید باجوہ کی سینیٹ آمد اور یریفنگ سے غیرمتوقع طور پر ایوان بالا میں فوج کو کاروباری سرگرمیوں سے روکنے اور انہیں دفاعی معاملوں تک محدود کرنے کے لئے تحریک پیش کی گئی۔ ’’روح بے چین ہے اِک دل کی اذیت کیا ہے ۔۔۔ دل ہی شعلہ ہے تو یہ سوزِمحبت کیا ہے!‘‘ سینیٹ میں پیش کردہ مذکورہ تحریک پر بحث کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر محسن عزیز اور پاکستان پیپلز پارٹی (پارلیمینٹرین) کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے دوران اجلاس (آن دی ریکارڈ) کہا کہ ’’فوج سے کاروباری اور کمرشل سرگرمیوں کے منصوبے واپس لے کر انہیں نجی شعبوں کو دیا جانا چاہئے تاکہ نجی شعبوں کو زیادہ سے زیادہ کاروبار کرنے کے مواقع مل سکیں۔‘‘ انہوں نے سینیٹ میں فوج کے زیرنگرانی پچاس سے زائد ذیلی اِداروں کی تفصیلات پیش کیں‘ جن میں سیمنٹ‘ زرعی کھادیں (فرٹیلائزر)‘ چینی کی پیداوار‘ مالیاتی اِدارے (بینکنگ) اُور تجارتی و رہائشی جائیداد کی خریدوفروخت (رئیل اسٹیٹ) سمیت دیگر کئی اداروں کو فہرست کیا گیا ہے۔ تحریک میں کہا گیا ہے کہ ’’فوج کے زیرنگرانی اداروں میں شفافیت کا فقدان پایا جاتا ہے اور معاہدوں (کنٹریکٹس)کو بغیر بولی جاری کرنا اور فوجی اِداروں کا آپس میں ایک دوسرے کو قرض دینے سے متعلق سوالات کا جواب (جواز) چاہتا ہے۔‘‘ 

سینیٹ اجلاس میں حکومت کی جانب سے امریکہ کو پاکستان کی حدود میں سال دوہزار کے بعد سے ہونے والے ڈرون حملوں سے معصوم شہریوں کو ہونے والے نقصان کا معاوضہ ادا کرنے پر بھی قرارداد منظور کی گئی لیکن سوال یہ ہے کہ ایک ایسے موقع پر جبکہ پاک فوج کا سربراہ کی سینیٹ آمد ہونے والی تھی اور اُس سے صرف ایک دن پہلے اِس قسم کی بحث سے کیا یہ تاثر نہیں دیا گیا کہ پارلیمان فوج کے ادارے پر اعتماد نہیں کرتی اور اُس کے معاملات کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ پاکستان میں اِداروں کے درمیان پایا جانے والا یہ ’ڈوبتا یقین‘ کسی بھی طرح خوش آئند نہیں اور نہ ہی اِس کے اظہار سے کسی بھی قسم کی قومی خدمت ہو رہی ہے بلکہ پہلے سے سنجیدہ و پیچیدہ معاملات کو مزید اُلجھایا جا رہا ہے جس کا فائدہ دہشت گرد اُٹھا رہے ہیں۔ 

سترہ دسمبر کے روز کوئٹہ کے ’مرکزی گرجاگھر‘ پر حملہ اِس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشت گرد کی طاقت کے مراکز منتشر تو ہو چکے ہیں لیکن وہ آج بھی اپنی (ضمیرفروش) قیادت پر انتہاء درجے کا اِعتماد اُور ’غیرمتزلزل یقین‘ رکھتے ہیں‘ جس کا (بدقسمتی سے) قومی اِداروں میں فقدان پایا جاتا ہے!
۔

Tuesday, December 12, 2017

Dec 2017: Governance so easy yet difficult!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
کھلی کچہری: بند گلی!
جمہوریت کسی ایک عام اِنتخاب کے اِنعقاد سے دوسرے چناؤ جیسے ’انتخابی مرحلے‘ کا نام نہیں۔ انتخابات کا خوش اسلوبی (آزادانہ‘ منصفانہ‘ شفافیت) سے انعقاد اپنی جگہ اہم لیکن منتخب نمائندوں اُور عوام کے درمیان مستقل و مسلسل رابطوں سے ایک ایسا وسیع المعانی طرزحکمرانی ’جمہوریت کا وجود (حاصل)‘ ہوتا ہے‘ جس حکومتی سطح پر فیصلہ اور قانون سازی میں اجتماعی مفادات پیش نظر رکھے جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں سب سے زیادہ جس ایک تصور کو سمجھا نہیں جا سکا جو ’جمہوریت‘ ہے جس پر اِس نظام کی روح کے مطابق رائج نہیں ہوسکا اور اِسی وجہ سے مغربی جمہوری معاشروں کی طرح ہمارے ہاں نہ تو اِس کے خاطرخواہ ثمرات ظاہر ہوئے اور نہ ہی عام آدمی (ہم عوام) کی نظر میں اِس کی قدرومنزلت (عزت) دکھائی دیتی ہے۔ صرف اُور صرف جمہوریت سے مالی طور پر مستفید ہونے والے منتخب اراکین ہی اِس کی وکالت اُور اِس کی اہمیت بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں!

لمحۂ فکریہ ہے کہ جمہوری اِنتخابی عمل سے منتخب ہونے والی موجودہ خیبرپختونخوا حکومت کی آئینی مدت مکمل ہونے میں جب چھ ماہ سے بھی کم عرصہ رہ گیا ہے تو اِس باقی ماندہ عرصے (مہلت) سے فائدہ اُٹھانے کے لئے صوبائی حکومت نے عوام سے منقطع رابطے بحال کرنے کی ضرورت محسوس کی ہے اور اِس غرض سے صوبے کے طول وعرض میں عوامی نمائندے‘ افسرشاہی اور سرکاری اداروں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ عوام کے مسائل ’پوری توجہ سے‘ سنیں اور موقع پر ہی اِن مسائل کے حل کے احکامات بھی صادر کئے جائیں۔ ’کھلی کچہریاں‘ منعقد کرنے کا تصور نیا نہیں بلکہ اِن کا انعقاد بلدیاتی ادوار میں بالخصوص ہوتا رہا ہے لیکن بعدازاں امن و امان (سیکورٹی چیلنجز) کی وجہ سے انہیں معطل کردیا گیا تھا۔ 

سوالات بہت ہیں جیسا کہ کیا ہمارے منتخب نمائندوں کو معلوم نہیں کہ عوام کے مسائل و مشکلات کیا ہیں؟ 

ایسے قواعد و ضوابط کیوں تشکیل نہیں دیئے جاتے جن کی وجہ سے مسائل و مشکلات پیدا ہی نہ ہوں اور سرکاری اداروں کی کارکردگی ’سزأ و جزأ کے ذریعے بہتر ہو؟ 

آخر محکمانہ قواعد و ضوابط اور آئین پر نظرثانی کیوں نہیں کی جاتی کہ اِن میں موجود سقم دور ہوں؟

آج بھی خیبرپختونخوا میں ایسے قوانین رائج ہیں جنہیں قیام پاکستان سے قبل تشکیل دیا گیا تھا تو ایسے قدیمی قوانین کو جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت نہیں یا قانون سازوں کو فرصت نہیں؟ 

انٹرنیٹ پر بھروسہ کرتے ہوئے ایسے ’آن لائن وسائل‘ کیوں تخلیق نہیں کئے جاتے جن سے سرکاری اداروں سے عمومی و خصوصی رجوع کرنے والوں کو آسانی ہو؟ 

اگر محصولات (ٹیکس) وصولی کے لئے باسہولت ’ون ونڈو آپریشن‘ شروع ہوسکتا ہے تو عوام کے مسائل کے حل کے لئے ایسے ہی ’سہولیات مراکز‘ متعارف نہیں کرائے جا سکتے؟ 

خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ شکایات تھانے اور کچہری سے جڑی ہوتی ہیں‘ جنہیں حل کرنے کے لئے انفرادی شکایات کو اجتماعی کیوں نہیں سمجھا جاتا؟ 

ساڑھے چار سال گزر گئے لیکن ’لینڈریکارڈ‘ مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ کیوں نہیں ہو سکا؟ 

عوام کے لئے مشکل بننے والے سرکاری اہلکاروں کو چند روز کے لئے معطل کرنے کے بعد پھر سے بحال کرنے‘ اُن کا کسی ضلع سے دوسرے ضلع تبادلہ اور انتظامی عہدوں پر محکمانہ ترقیاں دینے سے ’عام آدمی (ہم عوام)‘ کی زندگیاں کسقدر اجیرن ہیں‘ کیا یہ بیان کرنے کی ضرورت ہے؟ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں اگر کسی کو انصاف نہیں مل رہا تو وہ صرف ’عام آدمی (ہم عوام)‘ ہے۔ باقی ماندہ سبھی طبقات اپنے اپنے حقوق کے تحفظ میں متحد ہیں۔ آپ ڈاکٹروں‘ اساتذہ اور کلرکوں کو دیکھیں کہ کس طرح آئے روز اپنے مطالبات منواتے ہیں اور پھر بھی سیر (مطمئن) نہیں ہوتے! توقع تھی کہ تحریک انصاف ’عام آدمی (ہم عوام)‘ کی توقعات پر پورا اُترے گی لیکن اِس نے بھی ’کھلی کچہری‘ جیسی ’سہل پسندی‘ کو اختیار کیا اُور من پسند افراد کو سہولیات دینے کی راہ اختیار کیا۔ آخر اُن محروم طبقات کی داد رسی کون کرے گا جو کسی ’کھلی کچہری‘ تک رسائی کے وسائل یا اطلاع نہیں رکھتے؟ کیا ہمارے سیاسی فیصلہ سازوں کو ایسا نظام تشکیل نہیں دینا چاہئے جس میں کسی کھلی کچہری کے انعقاد کی ضرورت (حاجت) ہی محسوس نہ ہو؟ سچ تو یہ ہے کہ کھلی کچہریوں کے انعقاد سے ’عام آدمی (ہم عوام)‘ کو بند گلی میں دھکیل دیا گیا ہے!

خیبرپختونخوا میں کھلی کچہریوں کے انعقاد کے لئے ’ٹاؤن ہالز (ضلعی حکومتوں کے دفاتر اور وسائل)‘ کا استعمال کیا جاتا ہے‘ جہاں جملہ سرکاری اداروں کے نمائندے ایک چھت تلے جمع ہوتے ہیں اور رجوع کرنے کے لئے آنے والے درخواست گزاروں (سائلوں) کی فریادیں سنی جاتی ہیں۔ (کہیں آپ کے ذہن میں بھی کسی مغل بادشاہ کے دربار کا منظر تو نہیں آ رہا؟) فیصلہ سازی کے منصب پر فائز اور مراعات یافتہ افسرشاہی کے نمائندوں سے اگر اُن کے دفاتر میں رجوع کیا جائے تو معمول کے دفتری کاموں کے لئے بھی ’داد رسی‘ تو دور کی بات صاحب بہادر کی ’منہ دکھائی‘ بھی نہیں ہوتی کیونکہ سرکاری ملازمین کی ’سزأ و جزأ‘ کا نظام سرے سے موجود ہی نہیں۔ سرکاری ملازمین خود کو عوام کا ملازم نہیں بلکہ حاکم سمجھتے ہیں! اگر کوئی سرکاری اہلکار کسی درخواست گزار کا مسئلہ حل نہیں کرتا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اُسے اپنے خلاف ہونے والی کسی ممکنہ محکمانہ کاروائی یا قانونی چارہ جوئی کا خوف نہیں۔ وہ جانتا ہے کہ عام آدمی کو جس قدر ذلیل کیا جائے اُتنا ہی کم ہے!

ستائیس اکتوبر کے روز خیبرپختونخوا حکومت نے ایک اعلامیہ (نوٹیفیکیشن) جاری کیا جس کے تحت صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سرکاری سطح پر ’کھلی کچہریوں‘ کے انعقاد کو قواعد و ضوابط (Standard Operating Procedures) کا پابند بنایا گیا اُور اِس اعلامیے کے ذریعے صوبائی محکموں کے سیکرٹریز‘ تمام ڈویژنز کے کمشنروں اُور صوبے کے تمام ڈپٹی کمشنروں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ہر ماہ کم سے کم دو مرتبہ ایسی کھلی کچہریوں کے انعقاد میں تعاون کریں اور اپنی موجودگی یقینی بنائیں! کوئی پوچھنے والا نہیں کہ صوبے‘ ڈویژن‘ ضلع اور تحصیل کی سطح پر حکمرانی کرنے والے ’ایک سے زیادہ حکمرانوں‘ کی بادشاہی میں جائز کام اس قدر مشکل و ناممکن کیوں ہو چکے ہیں؟ ایک وقت تھا کہ جب حکمران اخبار پڑھتے تھے اور خبروں‘ ادارتی مضامین اور تصاویر کا نوٹس لیتے تھے لیکن اب تو ٹیلی ویژن کا زمانہ ہے! عام آدمی (ہم عوام) کے پاس حکمرانوں تک مسائل (فریاد) پہنچانے کا بنیادی ذریعہ ’اخبارات‘ کو مسلسل نظرانداز کیا جاتا ہے لیکن ذرائع ابلاغ کے اِداروں کی بہتات اور سوشل میڈیا جیسے برق رفتار وسائل کی موجودگی میں بھی اگر حکمران یہ سمجھتے ہیں کہ اُنہیں کھلی کچہریوں کے انعقاد کی ضرورت ہے تو اِس ’’باوجود عمل‘‘ کو ٹیلی فون اور انٹرنیٹ رابطہ کاری‘ سے مہینے میں دو مرتبہ نہیں بلکہ پورا مہینہ‘ یومیہ کم سے کم آٹھ گھنٹے (دفتری اوقات کے دوران) ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ کیا عام آدمی (ہم عوام) پوچھنے کی جسارت کر سکتے ہیں کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے جس دھوم دھام سے ’سی ایم ہاؤس میں شکایات سیل‘ کا آغاز کیا تھا‘ وہ تجربہ کیوں ناکام ثابت ہوا؟ 

جس صوبے کے چیف ایگزیکٹو (وزیراعلیٰ) کو فرصت نہ ہو وہاں ماتحت سیکرٹریز‘ کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں سمیت مراعات یافتہ سرکاری ملازمین سے توقع کرنا کہ وہ عوام کے لئے مسیحا ثابت ہوں گے اور اِس عمل سے منتخب نمائندوں اور عوام کے درمیان منقطع ہونے والا سلسلہ پھر سے بحال ہو جائے گا تو درحقیقت یہ ایک غلطی (مغالطے) کی اِصلاح دوسری (زیادہ سنگین) غلطی سے کرنے کی کوشش ہے! 

اے کاش کہ غلطیوں سے اچھے نتائج برآمد ہونا شروع ہو جائیں تو خیبرپختونخوا میں رہنے والوں کی تقدیر راتوں رات بدل جائے گی۔ بصورت دیگر کوئی صورت (حربہ) اور کوئی حل کارگر (پائیدار و نتیجہ خیز) ثابت ہوتا دکھائی نہیں دے رہا! ’’ناکام عشق ہوں سو میرا دیکھنا بھی دیکھ ۔۔۔ کم دیکھتا ہوں اُور غضب دیکھتا ہوں میں!‘‘
۔

Sunday, November 26, 2017

TRANSLATION: Constitutional democracy by Dr. Farrukh Saleem

Constitutional democracy
آئینی جمہوریت
اسلامی مملکت پاکستان ایک ’آئینی جمہوریت‘ ہے جس کی تعریف ایک ایسا طرزحکمرانی کا نظام ہوتا ہے جس میں عوام کی رائے (ووٹوں) سے منتخب ہونے والوں کو بالادستی حاصل ہوتی ہے اور وہ مملکت کے جملہ فیصلوں اور وسائل سے متعلق حکمت عملی مرتب کرتے ہیں لیکن یہ طرزحکمرانی ایک قانون کا پابند ہوتا ہے اور اگرچہ منتخب ہونے والے اپنے فیصلوں میں آزاد ہوتے ہیں لیکن اُن کے فیصلے آئین کے پابند ہوتے ہیں اور اختیارات لامحدود ہونے کے باوجود بھی محدود ہوتے ہیں‘جن پر حاکم قانون ہوتا ہے۔

آئینی جمہوریت کا بنیادی جز آئین ہوتا ہے اور آئین کی پاسداری حکمرانی جیسی ذمہ داری ادا کرنے والوں کی پہلی ترجیح ہوتی ہے۔ اِسی سے حاصل ہونے والے اختیار کو سیاسی اختیار کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے جسے حکومت کی طاقت بھی کہا جا سکتا ہے اور اِس کا احتساب کرنے کے لئے آئین سے رہنمائی لی جاتی ہے۔ آئین کو سامنے رکھتے ہوئے ہی اختیارات کا تعین کیا جاتا ہے اور اِسی کے تحت 1: حکومت کی طاقت کو بیان کیا جاتا ہے اور اس کی حدود مقرر ہوتی ہیں۔ 2: اِسی کے ذریعے سیاسی اختیار کی تعریف اور تعین ہوتا ہے جو کہ حکومت کا بنیادی و اہم کام ہے۔ سیاسی سماجیات کا پہلا اصول یہ ہے کہ حکومت کی حدود اور اختیارات کو طے کیا جائے اور پھر طے شدہ اصولوں کے مطابق حکومت کے جملہ ادارے کام کریں گے۔
آئینی جمہوریت کا دوسرا بنیادی حصہ ’جمہوری جزئیات‘ ہوتے ہیں۔ جن میں سیاسی اختیار کا استعمال کیا جاتا ہے اور دوسرا اِن اختیارات کے تعین اور حصول کو طے اور یقینی بنایا جاتا ہے۔ اس کا اطلاق اُن کرداروں پر ہوتا ہے جنہیں سیاسی اختیار حاصل ہوتا ہے۔

اسلامی مملکت پاکستان ایک آئینی جمہوریہ ہے۔ قانون کے تحت پاکستان کے ووٹرز (رائے دہندگان) اپنے رہنماؤں کا چناؤ بذریعہ عام انتخابات کرتے ہیں۔ آئین کے تحت عدالتوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ عوام کے منتخب رہنماؤں کی کارکردگی اور کردار کا احتساب کریں اور اُنہیں نااہل قرار دے سکیں۔ وہ رہنما جنہیں عوام براہ راست منتخب کرتے ہیں اُنہیں عدالتیں نااہل قرار دے سکتی ہیں اور جن کو عدالتیں نااہل قرار دیں وہ بذریعہ ووٹ خود کو اہل قرار نہیں دلوا سکتے۔ آئینی جمہوریت میں رہنماؤں کا انتخاب بذریعہ ووٹ اور اِن منتخب رہنماؤں کا احتساب بذریعہ عدالت ہوتا ہے اور یہ دونوں نظام ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ آئینی جمہوریت میں جہاں ووٹ کے ذریعے منتخب ہونے کا عمل ضروری ہے اِسی طرح عدالت کے ذریعے منتخب رہنماؤں کو آئین کا پابند بنانا بھی ضروری ہوتا ہے۔

پاکستان کی جمہوری آئینی ریاست کے انتظامی ڈھانچے پر غور کریں۔ 193 رکن ممالک پر مشتمل اقوام متحدہ ایک عالمی ادارہ ہے اور اِس کے تمام رکن ممالک میں صرف ایک ملک ایسا ہے جس میں قانون ساز ایوانوں (پارلیمنٹ) نے ایک ایسا قانون منظور کیا ہے جس کے تحت عدالتوں سے نااہل قرار پانے والا شخص سیاسی جماعت کی صدارت کرنے کے لئے اہل قرار دیا گیا ہے۔ دنیا کے کسی ملک ماسوائے پاکستان کے قانون ساز ایوانوں کے اراکین نے ایسا کوئی بھی قانون منظور نہیں کیا جو عدالتوں سے متصادم ہو۔ پاکستان کے لئے یہ منفرد اعزاز کسی بھی طرح قابل فخر نہیں کہ ہمارے ہاں سیاسی جماعتیں خود کو آئین و عدالتوں سے ماوراء سمجھتی ہیں اور جمہوریت ایک ایسے نظام کو کہا جاتا ہے جس میں سیاستدان خود کو کسی کے سامنے جوابدہ نہ سمجھیں اُن پر قوانین اور آئین کا اطلاق نہ ہو اور جو کچھ اُن کے جی میں آئے وہ کرتے پھریں اور کوئی بھی اُن سے پوچھنے والا نہ ہو۔ جمہوریت کی تالی کو صرف ایک ہاتھ سے بجانے کی کوشش کرنے والے پاکستانی سیاست دان جگ ہنسائی کا باعث بنے ہیں!

کیا دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اِس بات کا تصور کیا جاسکتا ہے کہ اُس کا وزیرخزانہ (فنانس منسٹر) مفرور قرار دے دیا گیا ہو۔ ایک ایسا وزیرخزانہ جس پر مالی بدعنوانیوں اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے جیسے الزامات عائد ہیں اور جسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہئے اور جس کے اثاثے قومی تحویل میں لیکر ملک کا وہ قرض ادا کیا جائے‘ جو عوام کی بہبود پر خرچ نہیں ہوا۔ آئین ملکی امور کا اختیار وزیراعظم اور وفاقی وزراء کو دیتا ہے لیکن یہ عہدیدار اپنے حصے کی ذمہ داریاں کماحقہ ادا نہیں کر رہے اور اُس آئین کی پاسداری نہیں کی جا رہی‘ جو امور مملکت کے شفاف انداز میں چلنے کی ضمانت ہے۔ یہ کہنا بیجا نہیں ہوگا کہ پاکستان ایک آئینی جمہوریہ تو ہے لیکن یہاں آئین کے ساتھ ٹکراؤ جیسی صورتحال پیدا کر دی گئی ہے اور عدالت کے اختیار اور آئین کی بالادستی کو سیاسی و ذاتی مفادات کے سرنگوں کر دیا گیا ہے۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیرجسین اِمام)

Sunday, November 12, 2017

TRANSLATION: Drawing board by Dr. Farrukh Saleem

Drawing board
سفر ہے شرط!
پاکستان کو آج جن گوناگوں مسائل کا سامنا ہے‘ اُن کا خلاصہ تین وجوہات کی صورت کرنا پڑے تو ’’سیاسی کلچر‘ طرزحکمرانی اور ادارہ جاتی بدعنوانی‘‘ ذمہ دار قرار پائیں گے۔ ہمارا سیاسی کلچر موروثی اور شاہانہ ہے اور جہاں کہیں بھی اِس قسم کا سیاسی ماڈل ہوتا ہے وہاں پانچ نمایاں چیزیں ہوتی ہیں۔ انتہاء کی غربت‘ صحت و تعلیم میں کم سرمایہ کاری‘ پانی بجلی اور انصاف کی عدم فراہمی‘ سیاسی جماعتیں جن میں داخلی سطح پر جمہوریت نہیں ہوتی اور سیاست سے جڑے موروثی شاہانہ سیاستدان جو انتہاء کے مالی فوائد حاصل کرنا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔

پاکستان میں ایسی سیاست کی داغ بیل ڈالنے کی ضرورت ہے‘ جس میں بہترین اور موزوں افراد سیاسی عمل میں حصہ لیں۔ جو کچھ سردست ہمارے پاس ہے وہ سیاست دانوں سے ہرحال میں وفاداری کا اظہار کرنے والے گروہ ہیں جو اہلیت (میرٹ) کی بجائے شاہانہ مزاج رکھنے والی موروثی سیاست سے مستفید ہو رہے ہیں۔ ہمیں سیاست میں ’سوچ بچار کرنے والے ایسے اہل افراد‘ کی ضرورت ہے جو ملک و قوم کی ترقی کے تصورات کو عملی جامہ پہنا سکیں۔ فلپائن کی قانون ساز اسمبلی میں ایک مسودہ قانون (نمبر 3587) زیربحث ہے‘ تاکہ ملک سے موروثی سیاست کا خاتمہ کیا جا سکے۔ اِس سلسلے میں ’الیکشن کمیشن آف پاکستان‘ کے پاس قواعد و ضوابط کی صورت اختیارات ہیں جن کا استعمال کرتے ہوئے وہ ملک میں سیاسی کلچر تبدیل کرنے میں ’حسب ضرورت‘ کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔

پاکستان میں طرزحکمرانی بھی اصلاح چاہتا ہے۔ گذشتہ 47برس میں ہمارے ہاں 10مرتبہ عام انتخابات کا انعقاد ہو چکا ہے۔ حالیہ مردم شماری (2017ء) کے عبوری نتائج کے مطابق پاکستان میں تین کروڑ (30.2 ملین) خاندان ہیں جن میں سے صرف ایک ہزار ایک سو چوہتر (1,174) ایسے خاندان بھی شامل ہیں جن سے تعلق رکھنے والے افراد ہر عام انتخاب میں منتخب ہوتے آ رہے ہیں اور یہ اِن ’سیاست پر مسلط‘ اِن گیارسو چوہتر خاندانوں کی پاکستان کے قانون ساز ایوانوں قومی اسمبلی صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ پر حکمرانی ہے۔
یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ گذشتہ 47 برس میں منتخب ہونے والے ہمارے سیاست دان اقتصادی ماہر ثابت نہیں ہوئے اور اُن کے غلط فیصلوں کی وجہ سے پاکستان کی اقتصادی مشکلات کم ہونے کی بجائے ہر گزرتے دن بڑھتی ہی چلی گئیں۔ یاد رہے کہ 47 برس میں منتخب ہونے والے ہمارے قانون ساز خاطرخواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پائے۔ ہمیں ایسے پیشہ وروں اور بالخصوص متعلقہ شعبے کے ایسے ماہرین کی ضرورت ہے جو نظام اور اداروں کی اصلاح کرسکیں۔ اگرچہ سینتالیس برس میں ہم نے دس مرتبہ عام انتخابات کا تجربہ کیا لیکن اِس عرصے میں احتساب اور جمہوری حکومتوں کی عوام کے سامنے جوابدہی ممکن نہیں بنا سکے۔ عام انتخابات کے پے درپے تجربات سے ہم نے جو کچھ حاصل کیا وہ ایک تہائی جمہوریت ہے جبکہ ہماری ضرورت سوفیصد جمہوریت کی ہے کہ جس سے کچھ بھی کم ہمارے لئے کافی نہیں ہوسکتا۔

پاکستان میں احتساب کے اداروں کی کمی نہیں اور پاکستان دنیا کے اُن چند ممالک میں شامل ہے جہاں انسداد بدعنوانی کا ادارہ جاتی ڈھانچہ موجود ہے۔ جن میں نیشنل اکاونٹی بیلٹی بیورو (نیب)‘ فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اُور صوبائی سطح پر بھی انسداد بدعنوانی کے ادارے بھی شامل ہیں جن میں خیبرپختونخوا احتساب کمیشن‘ وفاقی محتسب‘ فیڈرل ٹیکس محتسب‘ محتسب اعلیٰ پنجاب‘ بلوچستان اور سندھ‘ بینکنگ محتسب‘ وفاقی انشورنس محتسب‘ خواتین کے خلاف ہراساں کرنے کے واقعات کے سدباب اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کے لئے وفاقی محتسب کا ادارہ موجود ہے۔ جب ہم ادارہ جاتی احتساب کی بات کرتے ہیں تو یہ عمل قانون سازی‘ قانون پر عمل درآمد کرنے والے اداروں (فزیکل انفراسٹکچر) اور ایک ایسی قیادت کا مجموعہ ہوتا ہے جو احتساب کو یقینی بناتے ہیں لیکن ہمارے ہاں احتساب کا عمل قانون سازی اور اداروں کی حد تک تو دکھائی دیتا ہے لیکن اِس کے عملی و بلاامتیاز اطلاق کو ممکن بنانے کے لئے قائدانہ سرپرستی (قوت ارادی) موجود نہیں۔ 

مؤثر سیاسی قیادت سے مقصود اجتماعی مفادات کا تحفظ اور سیاسی قوت ارادی ہوتی ہے۔

علوم و فنون کے ترقی یافتہ دور میں کسی بھی ملک کو عروج کی راہ پر گامزن کرنا قطعی مشکل نہیں رہا۔ ضرورت اِس امر کی ہوتی ہے کہ کسی ملک میں جمہوریت ہر سطح پر فعال ہو۔ سیاسی جماعتوں کے داخلی معاملات بھی جمہوری انداز میں طے پائیں۔ قانون سازی کرنے والوں کی ذات میں اختیارات محدود نہ ہوں۔ اقتدار صرف اور صرف اختیارات حاصل کرنے کا نام نہ رہے۔ اقتدار کرنے والے قانون و احتساب سے بالاتر نہ ہوں۔ ادارے اپنے وجود کا ثبوت عملی فعالیت سے دیں۔ 

پاکستان کے تناظر میں کیا یہ سب کچھ ممکن نہیں؟

کسی ملک کے عروج کے لئے سیاسی قوت ارادی‘ متعلقہ شعبوں کے ماہرین‘ ایک لائحہ عمل اور اُس کے اطلاق کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر پاکستان کے تناظر میں کسی ایک چیز کی کمی دکھائی دیتی ہے تو وہ ’سیاسی قوت ارادی‘ ہے۔ کیا آپ اِس سیدھے سادے نتیجۂ خیال سے اِتفاق کرتے ہیں؟ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Thursday, May 4, 2017

May2017: National Policy on Water!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سیاست اور مخالفت!
کیا کوئی کسی ایسے شعبے کا نام بتا سکتا ہے جس پر پاکستان میں سیاست نہ ہو رہی ہو؟ سیاست برائے تعمیر تو بہت دور کی بات‘ ریاستی حقوق کے لئے بھی سیاست اور مخالفت کے الگ الگ انداز ہیں! یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے دریاؤں کا قیمتی پانی سمندر میں گر کر ضائع ہونا تو سب کو قبول ہے اور سیلاب فصلیں مکانات مال مویشیوں اور انسانوں سمیت اربوں کھربوں کی ترقی بھی بہا لے جائے لیکن بڑے آبی ذخائر کی تعمیر اِس لئے نہیں ہو سکتی کیونکہ ’سیاسی اتفاق رائے‘ نہیں ہوسکتا اور جب کسی ملک کی قیادت داخلی محاذ پر ایسے قومی امور پر یک سو نہیں کہ جن کا تعلق اُس کی بقاء و مستقبل کی ضروریات سے ہے تو ہم کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ ہمسایہ یا دیگر ممالک ہمارے مفاد کو ترجیح دیں گے؟ حکومت پاکستان نے ’واٹرشیڈ مینیجمنٹ‘ اُور ’سرحد پار ایکیوفر‘ پر مل کر کام کرنے کے لئے بھارت اور افغانستان کے ساتھ مشترکہ میکانزم کی تیاری پر غور شروع کردیا تاکہ ہمسایہ ممالک کے ترقیاتی منصوبوں کے منفی اثرات کو کم سے کم کیا جاسکے۔ 

’واٹر شیڈ مینیجمنٹ‘ سے مراد آبی و زمینی دیکھ بھال کے وہ رائج طریقے ہیں جن کے ذریعے پانی کے معیار کے تحفظ اور بہتری کو یقینی بنایا جاسکتا ہے جبکہ ’ایکیوفر‘ سے مراد زیرزمین موجود پتھروں اور معدنیات کی وہ تہہ ہے جو پانی جمع کئے رکھتی ہے۔ یہ دونوں عمل قومی پالیسی برائے آب کا حصہ ہیں‘ جو اس بات کو بھی یقینی بناتی ہے کہ شہری علاقوں میں پانی (پینے کے پانی اور مختلف کاموں میں استعمال ہونے والے پانی) کے استعمال کی سو فیصد پیمائش ہوسکے۔

وفاق اور صوبوں کی جانب سے حتمی کی گئی یہ پالیسی ’مشترکہ مفادات کونسل‘ کے حالیہ اجلاس (دو مئی) کے ایجنڈے میں بھی شامل تھی تاہم وزیراعظم کی سیاسی مصروفیات کے سبب اس کو مؤخر کردیا گیا۔ کیا تصور ممکن ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت کو اُس کام کی فرصت ہی نہ ہو‘ جو آنے والے دنوں میں سب کو جھنجوڑ سکتا ہے!؟ مذکورہ پالیسی کے چیدہ چیدہ نکات کے مطابق ’سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے لئے بھارت کے ساتھ پانی کی تقسیم کا نظام پیش کیا گیا ہے لیکن اس معاہدے میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ ہائیڈرو پاور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے موجود دفعات‘ پانی کے کم بہاؤ والے دنوں میں پاکستان کو پانی کو فراہمی میں ایک خطرہ ثابت ہوسکتی ہیں۔ دوسری جانب سندھ طاس معاہدہ مشرقی دریاؤں سے پانی کے بہاؤ سے متعلق یہ وضاحت نہیں دیتا کہ بھارت میں موجود ان دریاؤں سے ہونے والا اخراج نیچے رہنے والی آبادی کے لئے سنگین خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس نئی پالیسی کے مطابق خطے میں ایسے میکانزم پر عملدرآمد جس کا حصہ دو سے زائد ہمسایہ ہوں‘ پاکستان کے لئے بڑھتے ہوئے ہائیڈرو میٹرولوجیکل مسائل کے حل میں مددگار ہوگا۔ اس حوالے سے یہ تحقیق بھی کی جائے گی کہ مشرقی دریاؤں پر شروع ہونے والے ترقیاتی منصوبے کن چیلنجز کا باعث بن رہے ہیں اور سندھ طاس معاہدے اور بین الاقوامی قوانین کے فریم ورک میں رہتے ہوئے ان کے اثرات کو کیسے کم کیا جاسکتا ہے۔ نئی پالیسی میں اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا کہ ’پانی کو کم قیمت شے‘ سمجھا گیا اور ’آبیانہ‘ کے ذریعے سے حاصل قیمت اس قدر نہیں کہ زرعی انفرااسٹرکچر کے اخراجات کو برداشت کیا جاسکے تو کیا حکومت آنے والے دنوں میں زرعی شعبے پر زیادہ ٹیکس عائد کرنے کا سوچ رہی ہے؟ 

زرعی ضروریات کی قیمتیں پہلے ہی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور حکومتی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے چھوٹے کاشتکار (زمیندار) کو اُن کی فصل کا وہ معاوضہ بھی نہیں ملتا‘ جس سے لاگت ہی پوری ہو سکے! 

زرعی شعبے کو ’ٹیکس فری‘ کرنے اور غذائی تحفظ کے لئے اُن کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ ضروری ہے‘ جن کی معیشت و معاشرت کا انحصار ہی محنت ومشقت سے ہے۔ زراعت کے نام پر ووٹ مانگنے اور مزدوروں کسانوں کی بات کرنے والوں کو اپنے قول اور فعل سے ابھی بہت کچھ ثابت کرنا ہے۔