Showing posts with label Lahore. Show all posts
Showing posts with label Lahore. Show all posts

Saturday, September 25, 2021

Kitab Kahani : The other [dark] side of politics!

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

کتاب کہانی: کئی سُولیاں سر راہ تھیں

سیاسی اختلاف کی پاداش میں فوجی عدالت سے سزائے موت پانے والے ایک قیدی کی روداد (آپ بیتی) بعنوان ’کئی سُولیاں سرِراہ تھیں‘ کا چوتھا ایڈیشن سانجھ پبلی کیشنز (لاہور) نے شائع کیا ہے جس میں خواجہ آصف جاوید بٹ ایڈوکیٹ نے جنرل ضیا الحق کے دور حکومت اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا تذکرہ محفوظ کیا ہے۔ جنرل ضیا الحق 16 ستمبر 1978ءسے 17 اگست 1988ءتک پاکستان کے چھٹے صدر مملکت رہے جبکہ اِس سے قبل بطور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اُن کا بلاشرکت غیرے دور حکومت (جسے آمریت بھی کہا جاتا ہے) 5 جولائی 1977ءسے 24 مارچ 1985ءتک جاری رہا۔ آپ یکم مارچ 1976ءسے 17 اگست 1988ءپاک فوج کے سربراہ رہے‘ جن سے قبل ٹکا خان اُور جن کے بعد مرزا اسلم بیگ نے پاک فوج کی بطور سربراہ قیادت کی تھی۔

 نئی نسل کے لئے پاکستان کی سیاسی تاریخ کو سمجھنے کے لئے جنرل ضیاالحق کی آمریت کا باب انتہائی اہم ہے اُور آصف بٹ کی مذکورہ کتاب اِس سلسلے میں بہت مددگار ثابت ہو سکتی ہے جس کے انتساب میں اُنہوں نے پوری کتاب کو سموتے ہوئے لکھا ہے کہ ”ضیا آمریت کے دوران مزاحمتی کردار ادا کرنے والے اُن ساد لوحوں کے نام جو تاریک راہوں میں لٹے اُور مارے گئے۔ اُن زندہ اُور درگور مصیبت زدوں کے نام جو اُس طویل آمرانہ دور میں مہم جو‘ مبتلائے سحر اُور خانہ بربادی پر تُلے اپنے پیاروں کے پیچھے (کی تلاش میں) جیل جیل کی خاک چھانتے رہے۔“ اگرچہ آصف بٹ نے آمریت کے صرف اُنہی پہلو ؤں پر زیادہ بات کی ہے جن کا اُن کی اپنی ذات و مشکلات سے تعلق تھا لیکن کتاب میں زیربحث لایا گیا موضوع بے پناہ وسعت رکھتا ہے اُور اِس میں اُن سبھی پہلوؤں (بے رحم روئیوں) کا کہیں سرسری‘ اجمالاً تو کہیں تفصیلاً و دستاویزی طور پر ذکر موجود ہے‘ جب ظلم وستم کی انتہا کی گئی۔ 471 صفحات پر مشتمل اِس کتاب کو پڑھ کر پاکستان میں جمہوری نظام‘ اقدار اُور آزادی کی نہ صرف سمجھ آتی ہے کہ کس طرح کھٹن راستوں سے گزر کر یہ نعمت میسر آئی ہے اُور اِس کی حفاظت کیوں ضروری ہے۔ حاصل ِکتاب یہ نتیجہ خیال اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر جمہوریت کی حفاظت اُور اِس کی قدر و اہمیت کا خاطرخواہ احساس نہ کیا جائے تو اِس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے اُور جب جمہوریت کی بساط لپیٹ دی جاتی ہے تب کس قدر گھٹن عام ہوتی ہے‘ یہ سبھی احساسات کتاب میں جابجا تحریر ملتے ہیں۔ 

قفس در قفس کے باب میں جاوید بٹ نے ’سنٹرل جیل پشاور‘ میں گزرے اپنے شب و روز کا بھی ذکر کیا ہے جب اُنہیں پنجاب کے قیدخانوں سے پشاور جیل منتقل کیا گیا اُور یہاں جب اُنہوں نے پختون مہمان نوازی اُور احترام کو قریب سے دیکھا۔ لکھتے ہیں ”جو حسن ِسلوک (قلعہ) بالاحصار (کے قیدخانے) میں میرے ساتھ روا رکھا گیا‘ اُس کی بنا پر ہر پختون مجھے فرشتہ نما لگ رہا تھا اُور میرے دل سے اِس نسل کے لئے دعائیں اُور محبتیں پھوٹ رہی تھیں۔“ ”پشاور جیل میں میلے کا سماں“ سے متعلق مشاہدات خاصے دلچسپ ہیں جن کی روشنی میں اُس وقت کی طلبہ یونین سیاست اُور تعلیمی اِداروں بشمول جامعات میں رونما ہونے والے پُرتشدد واقعات کو سمجھا جا سکتا ہے کہ کس طرح تعلیمی اِداروں میں سیاست متعارف کروائی گئی اُور کس طرح تعلیمی اِداروں میں سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لئے ریاست ’غنڈہ گردی‘ کی سرپرستی کرتی رہی ہے۔ کیا تعلیمی اداروں میں سیاست ہونی چاہئے؟ 

طلبہ سیاسی تنظیموں پر پابندی کے فائدے اُور نقصانات کیا ہیں؟ اِس حوالے سے وہ سبھی سیاسی کارکن زیادہ بہتر و جامع انداز میں روشنی ڈال سکتے ہیں جو اِس پورے عمل سے گزرے ہیں۔ جاوید بٹ کی پشاور سنٹرل جیل سے متعلق یاداشت میں تحریر ہے کہ ایک دن 20 کے قریب مختلف کالجوں کے طلبہ کا گروپ جیل میں وارد ہو کر میرے والی بیرک (کمرے) میں آ مقیم ہوا۔ یہ سب کے سب ’پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن (PSF)‘ سے وابستہ تھے اُور اسلامی جمعیت طلبہ کے ساتھ جھگڑے کی وجہ سے گرفتار کر کے جیل منتقل کئے گئے تھے۔ اِن میں ڈاکٹر اظہر جدون‘ ڈاکٹر کمال (مرحوم)‘ جہانزیب‘ قاسم جان اُور جاوید اختر (مرحوم) وغیرہ شامل تھے۔ اِن سب کے آ جانے سے (قیدخانے) میں عید کا سا ماحول پیدا ہو گیا۔ (یہ) سب (عمر میں) مجھ سے تو بہرحال جونیئر تھے جب کوئی 21 سال کا ہو اُور آپ 27 سال کے تو اُس وقت یہ فرق واضح محسوس ہوتا ہے۔ پہلے دو چار دن تو مجھے میری بزرگی کی قیمت ’صیغہ جمع‘ میں ادب کے ساتھ بُلا کر ادا کی گئی لیکن پھر مجھے بھی یہ لوگ گدگدی کرنے پر آگئے (اُور یوں) چھ سال (عمر میں) بڑا ہونے کا فرق جاتا رہا۔ نسوار کا استعمال آدھے سے زیادہ جوان باقاعدگی سے کرتے تھے اُور چرس سے دو تین چھوڑ کر سب ہی شغل فرماتے۔ مجھے گھیر گھار کر چرس بھرے سگریٹ کے کش لگانے پر آمادہ کر ہی لیا گیا۔ چرس بھرے سگریٹ کے دو چار کش لینے کے بعد میری کنپٹیوں (سر) کے ادندر جیسے مختلف قسم کی اونچی‘ کم‘ تیز‘ تیز تر‘ ٹی ٹوں ٹاں ٹیں .... ٹیں .... ٹاں.... ں ں ں .... کی عجیب و غریب کیفیت پیدا ہوئی۔ (چرس پینے کی وجہ سے بنا گھڑی دیکھے میری) وقت کو ماپنےکی صلاحیت (بھی) تقریباً جاتی رہی (اُور) معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ کتنا وقت گزر گیا ہے اُور عالم استغراق سے کتنی دیر بعد سر اُٹھایا ہے!“

نظریات کی سیاست اُور اصولوں کی رہنمائی میں سفر کی ہر منزل پہلے سے زیادہ کھٹن اُور دشوارگزار ہوتی ہے اُور یہی وجہ ہے کہ بہت کم لوگ سیاست میں استقامت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہی استقامت ہر شخص کی زندگی میں آنے والی ’کربلا‘ ہے‘ جہاں اُسے بھوک پیاس اُور ظلم برداشت کرنا پڑتے ہیں کیونکہ جب مقصد عظیم ہو تو حوصلہ‘ ہمت اُور برداشت جواب نہیں دیتی۔ سیاسی قیدیوں کو ’سر راہ‘ کتنی سُولیوں سے گزرنا پڑتا ہے اُور اِنہیں کس قدر جسمانی تکالیف و ذہنی اذیت اُور خاندانی و سماجی مسائل سے واسطہ رہتا ہے‘ ممکن نہیں کہ اُن کا احاطہ الفاظ یا کسی ایک آپ بیتی (کتاب کی صورت) میں ہو سکے۔ ایسے باضمیروں کا وقت پیچھا کرتا ہے اُور بامقصد زندگی بسر کرنے والے نفوس عالیہ (خواص) ہوں یا عوام‘ یہی وقت معلم بھی ہے‘ جو انسانی تجربات‘ مشاہدات اُور وارداتوں سے نتائج اخذ کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اُمید ہے جاوید بٹ اپنی آب بیتی کے آئندہ ایڈیشن میں اُن سیاسی کرداروں کا بھی ذکر کریں جنہوں نے اِن جیسے پرخلوص کارکنوں کی قربانیوں سے فائدہ اُٹھایا‘ جنہوں نے نظریاتی سیاست کو موروثی سیاست کا بدنما لبادہ پہنا رکھا ہے۔ سبق یہ ہے کہ جمہوریت کی حفاظت کی جائے۔ جمہوریت کی قدر ہونی چاہئے اُور ”وسیع تر قومی مفاد“ اگر کسی چیز کا نام ہے تو وہ جمہوریت کے بغیر کوئی دوسری شے (جنس) نہیں اُور اِسی ”قومی مفاد“ پر ذاتی مفادات قربان کرنے والوں میں شامل آصف بٹ اُس کارواں کا حصہ رہے ہیں‘ جو تاحال اپنی منزل کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ 

”کبھی سسکی‘ کبھی آوازہ‘ سفر جاری ہے .... کسی دیوانے کا دیوانہ سفر جاری ہے (شاعر:وقار خان)۔“





Saturday, December 16, 2017

Dec 2017: The big verdict - justice for model town Lahore

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
بڑے فیصلے!
پندرہ دسمبر پہلا فیصلہ: قومی اِحتساب بیورو (نیب) کی جانب سے شریف خاندان کے خلاف دائر ’’حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس‘‘ کو دوبارہ کھولنے سے متعلق دائر اپیل مسترد کر دی گئی۔ جس سے وقتی طور پر شریف خاندان بالخصوص شہباز شریف اور سلطانی گواہ ’اسحاق ڈار‘ کو کتنا ریلیف ملا ہے‘ اِس بارے میں حتمی رائے تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد ہی دی جا سکے گی کہ کیا یہ مقدمہ بعدازاں آگے بڑھانے کی گنجائش موجود ہے یا یہ باب ہمیشہ کے لئے بند کر دیا گیا ہے۔پندرہ دسمبر دوسرا فیصلہ: ایک سال کے عرصے میں پچاس سے زائد سماعتوں کے بعد ’سپرئم کورٹ نے پاکستان‘ اِس نتیجے پر پہنچی ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نااہل نہیں ہوئے اور غیر ملکی فنڈنگ کیس الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا گیا ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اِن دونوں عدالتی فیصلوں نے پاکستانی سیاست کی ہیت تبدیل کر کے رکھ دی ہے۔ شریف خاندان بالخصوص شہباز شریف اور حمزہ شریف ’حدیبیہ کیس‘ سے متعلق فیصلے پر اظہار اطمینان کر رہے ہیں لیکن اُنہیں نہیں بھولنا چاہئے کہ ’’سانحہ ماڈل ٹاؤن (لاہور)‘‘ کی ننگی تلوار لیگی قیادت کے سروں پر لٹک رہی ہے۔

’حدیبیہ کیس‘ پیپلزپارٹی کے دور میں شروع ہوا۔ پانچ سال بعد پرویز مشرف نے اسے عدالت تک پہنچایا اور پھر سعودی بادشاہ کی مداخلت سے نواز شریف ملک سے باہر چلے گئے اور کیس سردخانے کی نذر ہو گیا۔ بعدازاں پیپلزپارٹی اور نواز لیگ میں ’میثاق جمہوریت (معاہدہ)‘ ہوا کہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف عدالتی مقدمات نہیں کھولیں گی اور یوں وعدہ معاف گواہ بننے اور تمام جرائم بیان کرنے کے باوجود بھی اسحاق ڈار سمیت تمام ملزمان صاف بچ گئے ہیں! تو کیا کیس بند ہونے سے معاملہ حلال (حل) ہو گیا؟ سپرئم کورٹ کا فیصلہ جو بھی ہو لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ اور آئینی تاریخ سے ’حدیبیہ کیس‘ کا باب ختم نہیں کیا جاسکے گا۔ یہ پاکستان کے عوام کا پیسہ ہے جسے لوٹنے والوں کو یوں معاف کرنا کسی بھی طرح مبنی بر انصاف نہیں۔ یہ معاملہ صرف اور صرف نیب کے رحم وکرم پر چھوڑنا کافی نہیں ہوگا یقیناًحدیبیہ کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ نیب نے نہایت ہی غیرذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور حکمراں جماعت اور نواز خاندان کے ریلیف دیا گیا ہے۔ مرکزی ملزم اسحاق ڈار وعدہ معاف گواہ بنے اور اب انہوں نے اپنا بیان بدل لیا ہے تو وہ بھی ملزم بن گئے ہیں اِس بنیاد پر تو نیا ریفرنس بننا چاہئے تھا۔ پرانا کیس کھولنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی بلکہ ایک نیا ریفرنس (مقدمہ) دائر ہونا چاہئے تھا۔

حدیبیہ کیس میں ’نیب‘ کا کردار مایوس کن رہا‘ جس نے ایسا کیس نہیں بنایا کہ جس سے اسحاق ڈار پر فرد جرم عائد کی جا سکتی بلکہ نیب یہ کیس لے کر گئی کہ حدیبیہ کا کیس دوبارہ کھولا جائے۔ اگر نیب اپنا کیس عدالت کے روبرو ’’مضبوط ثبوتوں‘‘ کے ساتھ پیش نہیں کر سکا تو اس میں عدالت کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ مسلم لیگ (نواز) کو شادیانے بجانے کی ضرورت نہیں کیونکہ ثابت ہوا ہے کہ عدالت اہلیت کی بنیاد پر فیصلے کر رہی ہے۔ عدالت پر کسی ایک فیصلے پر اعتراض اور دوسرے فیصلے پر خوشی منانا کہاں کی دانشمندی ہے؟ فی الوقت صورتحال یہ ہے کہ جس شخص نے چار سال تک پاکستان کی معیشت کو تباہ کیا اُس اسحاق ڈار کو لندن میں رکھا گیا ہے اور دوسری غلطی یہ ہے کہ شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم کے طور پر کام کرنے نہیں دیا جا رہا۔ تاریخ دیکھنی چاہئے کہ زرداری کے خلاف بھی کیسیز بھی اِسی بنیاد پر یکے بعد دیگرے عدالتوں سے (تکنیکی بنیادوں پر) خارج ہوتے چلے گئے کیونکہ نیب کے تفیشی ادارے نے اپنے حصے کا کام ہی نہیں کیا تھا اور اُن کی گلوخلاصی ہوگئی۔ حدیبیہ کا کیس عدالت میں گیا تو تفتیشی اہلکاروں کو سپرئم کورٹ کے سامنے ایسے شواہد اور دستاویزات بھی پیش کرنے چاہیءں تھے‘ جو ناقابل تردید ہوتے۔ نیب کے وکلاء اور نیب کے تفتیش کاروں سے بار بار پوچھا گیا کہ حدیبیہ کیس کیوں کھولا جائے؟ اور ہر مرتبہ خاموشی چھا جاتی!

اِس منظرنامے میں نیب کے ادارے کو کمزور رکھنے کی کوششیں بھی پیش نظر رہیں۔ چیئرمین نیب نے وفاقی حکومت کو ’پانچ نام‘ ارسال کئے ہیں جن میں سے کسی ایک کو بطور ’پراسیکوٹر جنرل‘ تعینات کیا جائے لیکن حکومت اِن میں سے ایک کو بھی منتخب نہیں کر رہی بلکہ آزاد و خودمختار ’پراسیکوٹر جنرل‘ کی تعیناتی نہیں چاہتی۔ عجب نہیں ہوگا کہ حدیبیہ کیس فیصلے کے بعد اِسے بھی اپنے خلاف سازش قرار دیں کہ میرے چھوٹے بھائی کو تو عدالت نے کلین چٹ دی ہے لیکن مجھے نااہل قرار دیا گیا ہے! نیب کے پاس آپشن ہے کہ وہ آئندہ تیس دن کے اندر ’نظرثانی اپیل‘ دائر کریں اور اس کے علاؤہ کوئی دوسرا چارہ نہیں۔ نیب کے اب تک کردار کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ آخری فیصلہ آ چکا ہے اور حدیبیہ کیس کا ’باب بند ہو گیا ہے!‘
پندرہ دسمبر کے سپرئم کورٹ فیصلے سے متعلق نواز شریف کا جو بھی ردعمل آئے وہ بڑی حد تک منطقی ہوگا کیونکہ وہ اِس وقت جس ذہنی کیفیت سے گزر رہے ہیں اُن سے کسی مثبت ردعمل کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ختم نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مسئلے پر جس طرح نواز لیگ اور پارلیمینٹ کی ساکھ متاثر ہوئی ہے اُس کی بحالی کے لئے خاطرخواہ اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے اور مزید ایسے اقدامات سے گریز بھی نہیں کیا جارہا۔ تصور کیجئے کہ سینیٹر حمد اللہ نے چیئرمین سینیٹ کے نام خط میں لکھا ہے کہ ’’توہین رسالت سے متعلق قوانین سے چھیڑچھاڑ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے اگر ایسا ہی ہے تو آنے والے دنوں یہ بات زیادہ طوفان خیز ثابت ہوئی کیونکہ اقوام متحدہ کی طرف سے مطالبہ سامنے آیا ہے کہ پاکستانی قوانین پر نظرثانی کی جائے اور بالخصوص آئین کی شق 295-C ختم کی جائے!

سوال یہ ہے پانامہ ریفرنس کے پانچ رکنی بینچ کے فیصلے میں بھی ’حدیبیبہ کیس‘ کا ذکر کیا گیا تھا‘ تو اِس معاملے کی کچھ نہ کچھ آئینی اہمیت ضرور تھی۔ پہلے تو نیب کے چیئرمین نے حدیبیہ کیس تاخیر سے داخل کیا اور پھر ایسے شواہد پیش نہیں کئے کہ جن کی بنیاد پر عدالت کسی نتیجے پر پہنچ سکتی۔ نکتہ تو ہے کہ جس عدالت عظمی نے ’حدیبیہ کیس‘ کو قابل سماعت سمجھا تھا تو پھر اچانک اُس کے مؤقف میں تبدیلی کیسے آ گئی لیکن عدالتی فیصلوں سے زیادہ اُن کے نتائج اہم ہوتے ہیں۔ اگر عدالت عظمی موجودہ تمام سیاستدانوں کو بھی نااہل قرار دے دیتی ہیں تو یہ گھاٹے کا سودا نہیں ہوگا۔ پاکستان کو بدعنوانی سے پاک ہونا چاہئے۔ چاہے اِس کے لئے جہانگیر ترین یا کسی کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے! بالخصوص ’حدیبیہ کیس‘ سے ہمارے عدالتی نظام پر بھی سنجیدہ سوالات اُٹھے ہیں جن کے جوابات آج کے لئے نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کے لئے تلاش کرنا ضروری ہیں۔
۔

Wednesday, March 1, 2017

Mar2017: Cricket; Madness vs the Craziness!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
کرکٹ دیوانگی!
پنجاب حکومت نے یہ ذمہ داری اپنے سر لی ہے کہ ’’پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2017ء (سیزن ٹو)‘‘ کرکٹ مقابلوں کا آخری میچ (فائنل) قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کے اجلاس میں کابینہ کمیٹی اور سیکیورٹی اداروں کی مبینہ مشاورت سے کئے گئے اِس فیصلے پر سیاسی رہنماؤں سمیت سیکورٹی ماہرین تنقید کر رہے ہیں جن کا مؤقف ہے کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے ’پی ایس ایل فائنل‘ کے لئے جس فول پروف سیکیورٹی کو سو فیصد یقینی بنانے کا حکم دیا ہے لیکن یہ ’غیرضروری رسک‘ مہنگا بھی پڑ سکتا ہے کیونکہ سیکورٹی حالات خود اُن کے یا ملک کے سیکورٹی اداروں کے مکمل بس میں نہیں۔ یاد رہے کہ ’پی ایس ایل‘ مقابلوں کا آغاز 2016ء سے ہوا تھا‘ جس سے قبل ’دسمبر دوہزارپندرہ‘ میں 985 کروڑ روپے کے عوض کرکٹ کی پانچ ٹیموں (اسلام آباد یونائٹیڈ‘ کراچی کنگز‘ لاہور قلندرز‘ پشاور زلمی اُور کوئٹہ گلیڈیئٹرز نامی ٹیموں) کے کمرشل حقوق نجی اِداروں کو ’دس برس‘ کے لئے فروخت کئے گئے تھے اور اب تک ہوئے ’پی ایس ایل‘ کے ’سیزن ون (پہلے دور)‘ اور ’جاری سیزن ٹو (دوسرے دور) کے تمام مقابلے متحدہ عرب امارات کے مختلف شہروں میں منعقد ہوئے ہیں۔
کیا پاکستان کوئی بڑی اور دانستہ غلطی کرنے جا رہا ہے؟ 

اگر ’پانچ مارچ‘ کے روز لاہور میں ’فول پروف‘ سیکورٹی فراہم کی جا سکتی ہے تو پھر ایسا پورے سال کیوں نہیں کیا جاسکتا؟ اِسی تناظر میں سوال یہ بھی ہے کہ اگر قذافی سٹیڈیم میں داخل ہونے والے ہر تماشائی کے کوائف کی بذریعہ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) کھڑے کھڑے ’فوری تصدیق‘ (آن لائن نادرا ریکارڈ) سے ممکن ہے تو پھر ایسا ’الیکٹرانک ووٹنگ‘ کے ذریعے شفاف عام انتخابات کے انعقاد کے لئے ہر پولنگ اسٹیشن کی اکائی پر کیوں نہیں کیا جاسکتا؟ کرکٹ کے علاؤہ الیکٹرانک شناختی طریقۂ کار (بائیومیٹرک تصدیق) قابل عمل کیوں نہیں؟ علاؤہ ازیں مجموعی طور پر چالیس اُوورز (کم سے کم 240 گیند پھینکنے) کے ایک ایسے کرکٹ مقابلے کی حفاظت پر ’اربوں روپے‘ خرچ کرنا کہاں کی منطق ہے‘ جبکہ خطرات بھی ہیں اور کیا پانچ مارچ کو ایک میچ کے بعد دنیا پاکستان کو محفوظ سمجھنے لگے گی اور پاکستان میں عالمی (انٹرنیشنل) کرکٹ مقابلوں کے انعقاد کا سلسلہ پھر سے شروع ہو جائے گا؟ پاکستان میں کرکٹ کا آخری عالمی مقابلہ ’مارچ دوہزارنو‘ میں لاہور ہی کے قذافی سٹیڈیم میں منعقد ہوا تھا‘ جس میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملے کے بعد سے (باوجود کوشش بھی) کوئی انٹرنیشنل کرکٹ میچ‘ پاکستان کی سرزمین پر نہیں کھیلا جا سکا۔

دہشت گردی کے پے درپے واقعات اور بائیس فروری سے ’ردالفساد‘ نامی انسداد دہشت گردی کی نئی ملک گیر فوجی مہم کے آغاز کو دیکھتے ہوئے ’پی ایس ایل‘ فائنل لاہور میں کروانے کا خیال محتاط سوچ رکھنے لوگوں کے نزدیک ’بے مقصد‘ ہے اور شاید اُن کے پاس ایسا سوچنے کے لئے ٹھوس وجوہات بھی ہیں جیسا کہ ایک کرکٹ میچ پر تمام تر توانائیاں (وسائل) کیوں صرف کئے جائیں جبکہ ملک کا ہر کونہ لہو لہو ہے! کچھ کے خیال میں یہ درست ہے کہ امن براستہ کرکٹ جیسے جذبات کی روشنی میں حکومتی فیصلے کا کئی طرح سے دفاع کیا جا سکتا ہے مگر فائنل میچ لاہور میں کروانے کا سوال جلتے سلگتے شہر میں بانسری بجانے سے کہیں زیادہ اور وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔ سوال یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مناسب اور مؤثر ردِعمل کیا ہے‘ کیوں ہے اُور آخر کیا وہ یہ ہے؟ 

صاحبانِ اقتدار کے نزدیک فائنل کا کامیاب انعقاد عسکریت پسندوں کو منہ توڑ جواب ہوگا۔ عسکریت پسند چاہتے ہیں کہ خوف و ہراس کی فضاء پھیلا کر پاکستان کو مفلوج کر دیا جائے۔ کئی لوگوں کی رائے میں (بشمول صاحبانِ اقتدار)‘ پی ایس ایل کا مقابلہ لاہور میں منعقد نہ کروایا گیا تو عسکریت پسند اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں گے۔ دوسری جانب بحفاظت منعقد کیا گیا مقابلہ مشکلات کا بہادری سے مقابلہ کرنے کے برابر ہوگا! پہلی بات تو یہ ہے کہ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ ریاستی سیکیورٹی انتظامات ’’فول پروف (مؤثر یا حکومت کے کنٹرول میں)‘‘ رہیں گے۔ توقع ہے کہ قذافی سٹیڈیم کی گنجائش کے مطابق مذکورہ کرکٹ میچ دیکھنے کے لئے ’بیس ہزار‘ سے زائد تماشائیوں کی اکثریت پیدل آئے گی اُور اِس دوران تمام دن اسٹیڈیم کے اطراف غیرمعمولی رش رہے گا۔ کیا میچ دیکھنے کے لئے آنے والے ہر شخص کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے گی؟ جذبات اپنی جگہ‘ کرکٹ سے لگاؤ اور خلوص اپنی جگہ لیکن ہر کھلاڑی اور تماشائی کی حفاظت کا ذمہ لینے والوں کا ماضی (طرز حکمرانی) دیکھا جائے تو اتنے بڑے تو کیا چھوٹے پیمانے پر بھی سیکورٹی فراہم کرنا اُن کے بس کی بات نہیں لگتی اور تنقید کی وجہ بھی یہی ہے!

خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے لیکن نظر نہیں آ رہا۔ ’’قلعہ بند‘‘ میچ کرانے کی صورت میں بھی صرف کھلاڑی ہی محفوظ ہوں گے تماشائی نہیں! پی ایس ایل کا حصہ کئی غیرملکی کھلاڑی پہلے ہی لاہور آنے سے معذرت کر چکے ہیں اور انہیں اِس بات کے لئے قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا‘ کیونکہ ہر ’ذی شعور‘ کو اپنی جان پیاری ہوتی ہے۔ پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں ہونے سے پاکستان میں کرکٹ کو کوئی خاص فائدہ تو نہیں البتہ نقصان کا اندیشہ نسبتاً زیادہ بڑا ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے بقول ’’اگر فائنل مقابلے کے موقع پر دہشت گردی ہوئی تو پاکستان میں عالمی کرکٹ مزید دس برس پیچھے چلی جائے گی‘‘ اُنہوں نے ’پی ایس ایل فائنل‘ لاہور میں منعقد کرانے کو ’دیوانگی بھی قرار دیا ہے! دانشمندی یہ ہے کہ غیرضروری طور پر خطرہ مول لینے سے گریز اور خطرہ برداشت کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے؟ 

جذبات (کمرشل ازم) سے مغلوب عام آدمی (ہم عوام) کی جانیں کیا کرکٹ کے کھیل سے زیادہ قیمتی ہیں؟ پی ایس ایل فائنل کے لاہور میں کامیاب انعقاد کے بعد کیا ہوگا؟ کیا ہم خوشی کے اِس احساس کے واقعی متحمل ہو سکتے ہیں اور کیا یہ پائیدار بھی ثابت ہوگا؟ ایک دن کے سیکیورٹی دکھاوے یا عزم و جرأت کے مصنوعی اظہار سے آگے بڑھ کر ’پاکستان‘ اور ’پاکستانیوں‘ کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے! حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے مشاغل کو مشاغل اُور کھیل کو کھیل ہی رہنے دیں۔ 

عسکریت پسندی‘ انتہاء پسندی اُور دہشت گردی کے وجود سے انکار یا اُسے چیلنج کرتے ہوئے پاکستان پر وار کرنے کا کوئی بھی موقع ضائع نہ کرنے والے دشمن کو کسی بھی صورت کمزور نہیں سمجھنا چاہئے۔ جناب مرزا غالبؔ سے معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ ’’کر رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ ۔۔۔ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی!‘‘