Showing posts with label Modernage Public School & College. Show all posts
Showing posts with label Modernage Public School & College. Show all posts

Tuesday, November 23, 2021

The sole-concept of life, is life!

 ژرف ِنگاہ .... شبیرحسین امام

حیات اُور مقصد ِحیات 

اُردو ادب میں ”علم ِبدیع“ پر عبور رکھنے والے لفظی معنیِ کلام سے نت نئے مطالب پیدا کرتے ہیں یعنی وہ ایسی اچھوتی بات کہتے ہیں جس سے عمومی جملے یا الفاظ کے نئے معنی اُور زاویئے پیدا ہوں۔ معلم ’واحد سراج میر‘ بھی ایسی ہی نابغہ روزگار شخصیت ہیں‘ جن کے ہاں الفاظ ہاتھ باندھے نظر آتے ہیں اُور اِن کا چناؤ کرتے ہوئے وہ عمومی (روائتی) اسلوب سے قطعی مختلف پہلوؤں کا احاطہ کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ ہنر معمولی نہیں اُور نہ ہی مشقت یا ریاضت سے سیکھا جا سکتا ہے۔ اُنیس نومبر (صبح آٹھ بجکر اٹھائیس منٹ) پر میر صاحب نے صبح بخیر کے اختتامیے کے ساتھ جو دعا ارسال کی وہ صرف معروف کلمہ نہیں بلکہ انسان کی تخلیق و ارتقا (کرہ ارض پر جدوجہد) سے متعلق ایک بہت بڑی بحث کا نچوڑ ہے۔ میر ِمحترم نے لکھا ”اللہ (تعالیٰ) آپ کی زندگی کو بامقصد بنائے۔“ آج کی تاریخ میں اگر کہیں مادہ پرستی ملتی ہے یا انسان پریشانیوں‘ مشکلات اُور مسائل میں مبتلا نظر آتے ہیں تو اِس کا مرکزی خیال یہی ہے کہ اِس نے یا تو اپنے لئے مقصد کا تعین کر رکھا ہے یا پھر دوسروں کی دیکھا دیکھی کسی مقصد کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ کیا زندگی اِس حالت و احساس کے ساتھ نہیں گزر سکتی کہ اِس کا زندگی کے بغیر کوئی دوسرا مقدس یا غیرمقدس (مادی یا نظری) مقصد نہ ہو؟ زندگی کو بس زندگی کے طور پر بسر کیا جائے۔ اِس سے لطف اُٹھاتے ہوئے دوسروں کی زندگی میں مداخلت کئے بغیر سکون کا باعث بنا جائے؟ خرابیوں کا مجموعہ وہ نظام ِتعلیم اُور دانشوروں کے وہ عمومی رویئے بھی ہیں جو زندگی کو عرفاً ”بامقصد“ دیکھنا چاہتے ہیں لیکن اِس کی مقصدیت سے ہونے والے نقصانات کو شمار نہیں کرتے۔ یہی وہ توجہ طلب منزل ہے کہ جہاں انسانی سوچ اُس درجے پر نظر آتی ہے کہ جہاں عبادات بھی مقصدیت کے سانچے میں قید (بے معنی) دکھائی دے رہی ہیں!

فلسفے سے شاہ نشین سے اُتر کر پائین ِباغ ِعوام میں بات کی جائے اُور انسانی عقل کے لئے کشش کا باعث مصدقہ سائنسی علوم (مثالوں) سے ’زندگی اُور اِس کے مقصد‘ کو سمجھنے کی کوشش میں سائنس اُور قبل اسلام انسان کے مقصد و ارتقا کے تصورات کو دیکھا جا سکتا ہے۔ معروف برطانوی ماہر حیاتیات چارلس ڈارون (پیدائش 12 فروری 1809ئ۔ وفات 19 اپریل 1882ئ) نے ’انسانی زندگی کے آغاز و اِرتقا‘ سے متعلق دلچسپ نظریہ (تصور) پیش کیا‘ جو ’قدرت کے انتخاب یعنی زندگی کے طبیعی انتخاب (نیچرل سیلیکشن)‘ کے اصول پر انسانی زندگی کے ارتقائی مراحل کا احاطہ کرتا ہے۔ عمومی تصور یہی ہے کہ ڈارون نے انسان کے وجود سے متعلق جو نظریہ پیش کیا‘ یہ اِس سلسلے (اپنی نوعیت) کا پہلا تصور تھا جو درست نہیں بلکہ اِس سے ہزاروں سال قبل انسان کی وجہ¿ تخلیق کے بارے نظریات پیش ہو چکے تھے۔ ڈارون کے بقول ”کسی ایک قسم (نوع) کے جانور اپنی خوراک‘ رہائش‘ اور افزائشِ نسل کے لئے ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں‘ یہ مقابلہ (تنازع البقا) ہمہ وقت جاری رہتا ہے جس میں ’بہترین‘ کی بقا یعنی اَفزائشِ نسل ہوتی ہے اُور صرف افزائش ِنسل ہی نہیں بلکہ اس طرح ان کی اچھی خصوصیات اگلی نسل میں منتقل ہوتی ہیں“ یہی مقام ہے جہاں ٹھہرنا ہے۔ ڈارون کہتا ہے کہ جانداروں کی خصوصیات آنے والوں نسلوں میں منتقل ہوتی ہیں لیکن یہ تصور ڈارون سے 15 ہزار سال ’ویدا (یوگی) نظریات‘ میں یہ تصور اِس اضافے کے ساتھ تحریر ملتا ہے کہ اِنسانوں میں ایک الگ قسم کی ’اِرتقائی یاداشت (حافظے کی خصوصیت)‘ بھی پائی جاتی ہے جو اپنے اندر محفوظ و موجود ’ارتقائی یاداشت‘ تک رسائی حاصل کرتا ہے تو اُس پر الگ دنیا اُور حقیقت آشکار ہوتی ہے۔ اِسی خود ”خودآگہی“ کی جانب علامہ اقبال رحمة اللہ علیہ کے ہاں بھی اشارہ ملتا ہے ”اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی .... تو اگر میرا نہیں بنتا‘ نہ بن‘ اپنا تو بن۔“

یوگی نظریات میں ”تنتر“ پائے جاتے ہیں اُور یہ اصطلاح وسیع معنوں کی حامل‘ مخصوص متون‘ نظریات‘ نظام اُور طریقہ¿ کار‘ تکنیک اُور آلات سب پر حاوی ہے۔ اِن اوتار کے مطابق جانداروں سے انسان بننے کے سفر میں انسان 9 حالتوں (مراحل) سے گزرا۔ یہ نو مراحل متشا‘ کورما‘ وراہا‘ نرسمہا‘ وامانا‘ پریشوراما‘ راما‘ کرشنا اُور بدھا ہیں۔ ہندو مذہب اُور بعدازاں بدھ مت میں اوتار کی صورت شخصیات کو نہیں بلکہ انسانوں کی خصوصیات سے بحث کی جاتی ہے اُور اِنہی خصوصیات سے مختلف ادوار کو جوڑ کر انسان کی تاریخ و ارتقا کی تصویر پیش کی جاتی ہے‘ جس کے مطابق پہلی زندگی کی قسم زیرآب تھی۔ دوسری آدھی زیرآب اُور آدھی برسرزمین حالت تھی۔ تیسری حالت میں جانداروں نے پوری طرح ہوا میں سانس لینا سیکھا جس میں قوی جسامت رکھنے والے سخت جان جاندار سامنے آئے کہ جن کی جان لینا انسانوں کی طرح آسان نہیں ہوتا۔ اِس قسم کے حالت ایک قسم کے جانوروں (سورو¿ں) میں دیکھی جا سکتی ہے۔ ویتاروں کے مطابق جانداروں کی اگلی حالت آدھے انسان اُور آدھے جانور کی تھی۔ اِس کے بعد پست قدر تھے۔ اِس کے بعد دراز قد جاندار بصورت انسان ہوا‘ جو اپنی فطرت میں انتہائی جذباتی تھا۔ اس کے بعد ’راما‘ کے نام سے امن پسند انسان سامنے آیا۔ جس کی ترقی یافتہ شکل ’کرشنا‘ سراپا محبت ہے اُور اِس کے بعد (اب تک کی آخری حالت) گردوپیش پر غوروفکر کرنے والا ’بدھا‘ ہے جو نفسانی خواہشات کو ترک کرتا ہے اُور دوسروں کے انجام (مسائل و مصائب) میں اپنا انجام دیکھتے ہوئے خالق کائنات اُور کائنات سے لیکر اپنے وجود کے اندر چھپے مقصد کو تلاش کرتا ہے۔ اُس کے لئے خالق کہیں دور نہیں بلکہ شہ رگ سے قریب ہے۔ اِس کے بعد انسان کی آخری حالت ’روحانی‘ عرفانی یا صوفیانہ (mystical)‘ شخص کی صورت ہوگی جس کی دنیا منتظر ہے (”اُور انتظار کرو‘ ہم بھی منتظر ہیں۔“ سورۂ ھود۔ آیت ایک سو بائیسں)۔ 

ہندو مذہب (ویدا) کے نظریات میں انسان کی جن 9 حالتوں کا ذکر ملتا ہے‘ پندرہ ہزار سال بعد حیاتیاتی سائنسدان ڈارون نے اُسی کے بارے میں نظریہ پیش کیا اُور نہ صرف داد وصول کی بلکہ اُن کے نظریئے کو آج بھی دریافت مانا جاتا ہے۔ بنیادی بات یہ ہے ارتقائی سفر جو بھی رہا‘ اُس مشقت سے گزرتے ہوئے انسان نے بالآخر وہ مقام حاصل کر لیا ہے جہاں اِس کی ساخت و ہیت میں اب تبدیلی نہیں ہو گی اُور یہ چاہے کچھ بھی کرے‘ کچھ بھی کھائے‘ پیئے لیکن یہ انسان ہی رہے گا تو وقت ہے کہ یہ اپنا مقصد یعنی زندگی کو کسی دوسرے مقصد کے ترازو میں نہ تولے اُور نہ ہی اِس کے مقصدیت کی تلاش کرتا پڑے بلکہ حقیقت کی تلاش میں اِسے اپنے ہی اندر موجود (پنہاں) حیات و بقا کو کریدنا ہے۔ یہی منزل ہے کہ کسی مقصد کی خواہش نہ کرتے ہوئے خودشناس بنے۔ یہی خودی ہے۔ یہی خوداحتسابی ہے۔ یہی ایمان تقویٰ اُور یقین کی منزلیں ہیں اُور یہی وہ اوجھل مقصد ہے جسے ظاہر کرنے کے عوامل خارجی نہیں اُور نہ ہی کوئی خارجی محرکات (تحریک) اِس کی کامیابی کی دلیل ہو سکتی ہے۔ انسان اُور اِس کے فلسفے پر زندگی حاوی ہے‘ جو بذات خود مقصد ہے جسے فنا نہیں اُور اِسی حالت میں اُس کا سفر جاری رہنا ہے۔ ”اے صاحب ِاطمینان‘ اپنے رب کی طرف لوٹ چل۔ یوں کہ وہ تجھ سے اُور تو اُس سے راضی ہو (اُور) شامل ہو جا اُن خاص بندوں کے حلقے میں جو مقام ِجنت میں ہیں۔ (سورۂ فجر۔ آیات ستائیس تا تیس۔)“

....



Clipping from Daily Aaj Peshawar / Abbottabad dated 23 Nov. 2021


Wednesday, October 12, 2016

Oct2016: The journey within!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
سری لنکا: سفر در سفر!


قومیں چھلانگیں لگا کر نہیں بلکہ قدم قدم سفر کرتے ہوئے ترقی کی راہ میں حائل لالچ و حرص پر مبنی بدعنوان و امن دشمن رکاوٹوں کو عبور کرتی چلی جاتی ہیں۔ سری لنکا ایسی ہی ایک عمدہ مثال ہے جس کے ہاں ’بدھ مت‘ کی تعلیمات پر عمل کرنے والوں میں ’احترام انسانیت‘ اور ’انسانی جان کی حرمت‘ پر مبنی بنیادی تصورات کا خاکہ ’مضبوط عمل‘ سے جڑا دکھائی دیتا ہے۔ یاد رہے کہ بدھ مت ایک مذہب اور فلسفہ ہے جس میں مختلف روایات‘ عقائد اور طرزعمل کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔ اِن تعلیمات میں زیادہ تر ’’سدھارتا گوتم‘‘ سے منسوب ہیں‘ جنہوں نے مشکلات سے نجات حاصل کرنا‘ نروانہ کو حاصل کرنا اور جسم کو تکلیف و عملی زندگی کی مشکلات سے الگ رکھنے کے بارے سکھایا۔ بدھ مت کی اکثریت رکھنے والے ’سری لنکا‘ کا امن و امان کے چیلنجز سے نمٹنے میں ’بدھ مت کی تعلیمات‘ کا مرکزی کردار تھا اُور آج بھی ہے۔ ہر سال دس اکتوبر کے روز ’سری لنکا فوج‘ کا دن منایا جاتا ہے‘ رواں برس 67ویں سالگرہ کے موقع پر حسب سابق سادگی اختیار کی گئی۔ بتایا گیا کہ ’سری لنکا‘ کی دفاعی صلاحیت کے بارے ’نمودونمائش‘ کرنے کی بجائے ماضی کی طرح اِس مرتبہ بھی مختلف مذاہب کے ماننے والوں کی مختلف عبادت گاہوں میں دعائیہ تقاریب کا اہتمام کیا گیا۔ 

سری لنکا کی مذہبی رواداری اور آزادی ایسے روشن ابواب ہیں‘ جن پر نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے اُن ممالک کی بھی نظریں جمی ہوئیں ہیں‘ جنہیں پاکستان کی طرح دہشت گردی سے نمٹنے میں خاطرخواہ کامیابی نہیں مل پا رہی۔ سری لنکا کی ’فوجی قوت‘ کا انتظامی ڈھانچہ سیاسی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکا‘ لیکن قومی معاملات میں اِس کی سیاسی مداخلت بلاجواز نہیں تھی‘ کیونکہ بناء قیام امن کسی بھی حکمت عملی کی کامیابی کی گنجائش نہیں رہتی۔ سری لنکا فوج نے اپنے حجم اُور صلاحیت سے زیادہ بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ اگر ہم سال دوہزار دس کے اَعدادوشمار پر بھروسہ کریں تو سری لنکا فوج کی افرادی قوت ’دو لاکھ حاضر سروس (کل وقتی)‘ اُور 20 سے 40 ہزار جز وقتی تربیت یافتہ ملازمین کے علاؤہ اٹھارہ ہزار ’نیشنل گارڈز‘ ہیں جنہوں نے مل کر 1983ء سے 2009ء تک ’خانہ جنگی‘ کا مقابلہ کیا۔ 25 سال‘ 9 ماہ‘ 3 ہفتے اور 4 دن کی خانہ جنگی کے بعد سری لنکا کی فوج نے ’تامل ٹائیگرز (لبریشن آف تامل ای لیم)‘ نامی مسلح دھڑے کو شکست دی جو اِس ’جزیرے‘ کے شمال اُور مغربی علاقوں میں مراکز بنائے ہوئے تھا اور غیرملکی مالی و تکنیکی اور حربی تعاون کے بل بوتے پر ملک گیر دہشت گرد کاروائیوں کے لئے ذمہ دار تھا۔ کم سے کم پچیس سال تک کی مسلسل لڑائی کے بعد اصلاحاتی دور (فیز) میں سری لنکا کے عوام‘ ماحول اور اِقتصادیات نے ’بڑی مشکلات‘ جھیلیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ سری لنکا کا ماضی جو بھی رہا ہو سردست سنہالیز (Sinhalese) اُور تامل (Tamil) کہلانے والے 2 سری لنکن اقوام نے عزم کر رکھا ہے کہ وہ ’’مل کر‘‘تعمیرنو اُور ’ایک نئے زیادہ خوشحال و ترقی یافتہ سری لنکا‘ کی تشکیل کریں گی۔


ایبٹ آباد اور مانسہرہ کے تین ’نجی تعلیمی اداروں (ماڈرن ایج پبلک سکول اینڈ کالج‘ ماڈرن سکول سسٹم اُور مانسہرہ پبلک سکول)‘ سے تعلق رکھنے 8 طلباء و طالبات (ورشہ علی‘ خدیجہ ماہ رخ اعوان‘ طیبہ خان‘ حیدر سلطان‘ حبیب اللہ‘ قاضی میر عالم ضیاء‘ وجاہت شفقت اُور نعیم حماد) سمیت 4 اساتذہ پر مبنی وفد نے ’چار سے گیارہ اکتوبر‘ سری لنکا حکومت کی میزبانی و رہنمائی میں تین صوبوں کا دورہ کیا اور اپنی اپنی یاداشتوں میں یہ بات بھی محفوظ کی کہ سری لنکا میں تین بنیادی کام ’قومی عادت‘ کا درجہ رکھتے ہیں۔ 1: ایک تو کسی شخص کی سیاسی وابستگی کے بارے سوال نہیں کیا جاتا۔ 2: کسی بھی شخص کے مذہبی عقائد کے بارے نہ تو تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے اور نہ ہی اُس سے مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ 

قومی سطح پر عوام و خواص میں یہ عادت (خوبی) کسی بھی طرح معمولی نہیں کہ ایک دوسرے کی رنگ نسل پیشے مالی یا مذہبی حیثیت کے تعلق سے نہیں بلکہ انسان ہونے کے تعلق سے احترام کرتے ہیں۔ 3: جسمانی کمزوری یا عیب کی وجہ سے کسی کا بھی مذاق نہ اُڑایا جائے۔ درحقیقت انسان کی توہین اُس کے خالق و مالک پر اُنگلی اُٹھانا ہوتا ہے۔ 

اُمید ہے کہ سری لنکا کا دورہ کرنے والے ’طلباء و طالبات‘ اِن اصولوں کا اطلاق اپنی عملی زندگیوں میں کریں گے۔ پاکستان حکومت کے ذمہ داروں سے درخواست ہے کہ وہ غیرملکی دورہ کرنے کی مالی طور پر سکت نہ رکھنے والے اور بالخصوص سرکاری تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم بچوں اور اساتذہ کو بھی ’یوتھ ایکسچینج پروگرامز‘ کا حصہ بنائیں۔ ’سری لنکا‘ سے بہت کچھ ایسا بھی بذریعہ براہ راست مشاہدہ بھی سیکھا جا سکتا ہے‘ جس سے ہمارے طلباء و طالبات شعور کی سیڑھی پر ایک منزل بلند ہوں۔ گیارہ اکتوبر کی شب ’بندرانائیکے انٹرنیشنل ائرپورٹ‘ کولمبو سے لاہور (پاکستان) کے لئے پرواز سے چند گھنٹے قبل ہمیشہ مسکرانے والے ’سری لنکا‘ کے لئے نیک تمناؤں کے ساتھ دُعا (ayubowan) ہے کہ پاکستان کا یہ دوست ملک ہمیشہ مسکراتا رہے‘ پھلتا پھولتا اُور ترقی کے سفر در سفر میں آگے بڑھتے رہے۔




Wednesday, October 5, 2016

Oct2016: Questioning the Sri Lanka Development!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سری لنکا: بولتے سوالات!

’دعا‘ اُور ’دوا کی تاثیر‘ سے متعلق جنوبی بھارت کے ایک جزیرہ پر بسنے والے ’سری لنکن‘ باشندوں کا ماننا ہے کہ ’’علاج کی صرف وہی تدبیر شفایابی کا باعث بنتی ہے‘ جس میں مریض کا اپنے ’طریقۂ علاج‘ اُور ’دوا‘ کے مؤثر ہونے پر یقین غیرمتزلزل ہو۔‘‘ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ’بے یقینی‘ میں ’دَوا‘ اور ’دُعا‘ دونوں اپنا اپنا اَثر کھو دیتے ہیں۔ ’سیلون‘ اور ’سراندیپ‘ کے ناموں سے معروف رہے ’سری لنکا‘ کی تہذیب دو ہزار سال پرانی ہے‘ جو بدھ مت‘ ہندو مت‘ اسلام اُور عیسائیوں کو ماننے والے چار بڑے مذہبی گروہوں کی سرزمین ہے لیکن یہاں کسی دین کا دوسرے سے تصادم دکھائی نہیں دیتا۔ ایک ہی سڑک کے دائیں ہاتھ گرجا گھر اور بائیں ہاتھ (بلمقابل) بدھ مت کا مندر دیکھا گیا اور دونوں ہی میں عبادت کرنے والوں کی آمدورفت جاری تھی۔
سری لنکا ائرپورٹ پر امیگریشن کا عمل سیاحت یا کسی دوسرے مقصد سے آنے والے غیرملکی مسافروں کو خود سرانجام دینا پڑتا ہے لیکن برق رفتار طریقۂ کار کی بدولت یہ مرحلہ جلد ہی طے ہو جاتا ہے جس کے بعد سری لنکا میں داخل ہونے کی قانونی اجازت پانے والوں کے پاس ائرپورٹ سے باہر جانے کے 2 راستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ پہلا راستہ کسٹم ڈیوٹی ادا کرنے کا ہے کہ اگر کسی مسافر کے پاس ایسی برقی مصنوعات یا اشیاء ہیں کہ جن پر سری لنکا قانون کے مطابق درآمدی ٹیکس (کسٹم وغیرہ) ادا کرنا ضروری ہے تو اُس کے لئے کسٹم حکام نے الگ سے ’ایگزٹ پوائنٹ‘ بنا رکھا ہے جبکہ گرین چینل کے ذریعے بناء سامان کی جانچ پڑتال کئے ائرپورٹ سے باہر نکلا جاسکتا ہے اور ڈیوٹی پر موجود اہلکار کسی ایسے مسافر کی جامہ یا سامان کی تلاشی اُس وقت تک نہیں لیتے جب تک کہ اُس پر شک یا مخبری نہ ہو۔ 

بہرکیف ’پاکستان سری لنکا یوتھ ایکسچینج پروگرام‘ کے تحت 12 افراد پر مشتمل ’چوتھا دستہ‘ لاہور (علامہ اقبال انٹرنیشنل ائرپورٹ) سے کولمبو (بندرانائیکے انٹرنیشنل ائرپورٹ) پہنچا تو مقامی وقت کے مطابق صبح کے پونے پانچ بجے تھے لیکن ائرپورٹ پر ایک کے بعد دوسری فلائٹ اُتر رہی تھی اور مسافروں کی آمدورفت کے ہجوم سے ثابت تھا کہ سری لنکا کی معیشت و اقتصادی جس بہتری کی جانب گامزن ہے اُس کے ثمرات صرف قیادت تک محدود نہیں بلکہ اِس سے عام آدمی کی زندگی میں بھی بہتری آئی ہے اور اِس تبدیلی کو ہزارہ ڈویژن کے 3 تعلیمی اِداروں (ماڈرن ایج پبلک سکول‘ ماڈرن سکول سسٹم اُور مانسہرہ پبلک سکول) کے چنیدہ طلباء و طالبات (ہاجرہ سلطان‘ حبیب اللہ‘ وریشہ علی‘ خدیجہ مہ رخ‘ قاضی میرعالم‘ نعیم حماد‘ وجاہت شفقت‘ طبیبہ خان) اور اُن کی رہنمائی و تعارف کے لئے ہمراہ 4 اساتذہ نے بھی محسوس کیا جو چار سے بارہ اکتوبر تک سری لنکا کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں اور دیہی علاقوں کے مطالعاتی دورے میں تعلیمی نظام کا قریب سے مشاہدہ کرنے کے علاؤہ نہ صرف سری لنکا کی ’یوتھ پالیسی‘ کے خدوخال کا جائزہ لیں گے بلکہ اپنے مشاہدے‘ مطالعے اور سوالات کے ذریعے سری لنکا کے ’ادارہ شماریات (statistics.gov.ik) کے اُس دعوے کی حقیقت کے بارے میں یقین کو پختہ کریں گے کہ سری لنکا میں شرح خواندگی بانوے (92.63) فیصد سے زیادہ ہے اور ستائیس فیصد سے زیادہ لوگ کمپیوٹر علوم کے بارے میں خواندگی رکھتے ہیں! کیا سری لنکا کی ’شرح خواندگی‘ میں اس قدر اضافہ اُس کے ہاں طرزحکمرانی (جمہوریت) کے مستحکم ہونے کا سبب بھی بنا ہے یا اعلیٰ سرکاری عہدوں سے لیکر سیاسی جماعتوں کے قائدین اور وزارتوں پر سرمایہ دار قابض ہیں؟
سری لنکا کی سڑکوں پر ٹریفک کا منظم نظام دیکھنے کو ملتا ہے۔ 

چھوٹی بڑی نجی یا سرکاری گاڑیاں ہوں یا موٹرسائیکل یا آٹو رکشہ‘ دارلحکومت کولمبو کی گنجان آباد سڑکوں پر ہر کوئی ٹریفک قواعد کی پابندی کرتا دکھائی دیتا ہے جسے ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کریں کہ اگر کسی موٹرسائیکل پر دو افراد سوار ہوں تو دونوں نے ہیلمٹ پہن رکھے ہوں گے حتیٰ کہ اگر اُن کے ساتھ اُن کا بچہ بھی سوار ہوتو اُس نے بھی ایک چھوٹا سا ہیلمٹ پہن رکھا ہوگا۔ زیبرا کراسنگ‘ حد رفتار کے اعلانات اور ٹریفک کے خودکار سنگلز کے علاؤہ اکا دکا ٹریفک پولیس کے مستعد اہلکاروں کی اپنے کام سے کام رکھنے کی روش سے کولمبو کی سڑکوں کی تنگی کا احساس نہیں ہوگا۔ 

دارالحکومت کی بلندوبانگ عمارتوں‘ کارپٹ کی طرح صاف ستھری چمکدار شاہراہیں اور اُن کے اطراف میں رہنے والوں غریبوں کی بستوں کو پردے لگا کر چھپانے کی کوشش کی گئی ہے! 

سری لنکا کی تاریخ کا یہ تاریک اور سب سے زیادہ تکلیف پہنچانے والا پہلو یہی ہے کہ یہاں ترقی کی دور میں کسی لحاظ سے کمزور و ناتواں معاشرے کی اکائیوں کو ساتھ لیکر چلنا ضروری نہیں سمجھا گیا۔ غیرملکی درآمد شدہ مہنگی گاڑیاں ایک طرف لیکن پبلک ٹرانسپورٹ سے لٹکے ہوئے انسان اور دھنسی ہوئی آنکھوں سے بولتے سوالات ہر ایک صاحب شعور کو جھنجوڑ کر پوچھتے دکھائی دیئے کہ ۔۔۔ ’’سرکاری وسائل کی تقسیم میں عدل کب قائم ہوگا؟‘‘ نتیجہ تو بس یہی سمجھ آیا ہے کہ چاہے کہ بدھ مت ہو‘ ہندو یا مسلمان اور عیسائی‘ بات صرف سری لنکا کے اِن چار ادیان کے ماننے والوں کی حد تک محدود نہیں بلکہ سرمایہ داروں کا جہاں کہیں بس چلتا ہے وہ غریبوں کو نچوڑنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ پاکستان سے سری لنکا اُور سری لنکا سے آن کی آن میں پاکستان کا سفر کرنے کے بعد مزید کچھ بھی لکھنے کو دل نہیں کر رہا!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔


GROUP PHOTO
 4th Youth Exchange Program participants visited the National YOUTH Service Council in Colombo on Oct 05, 2016

Saturday, August 27, 2016

Aug2016: Inspiration motivation and possibilities for success

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
آشنائے ناموس سخن!

جستجو اور تحقیق کا موضوع اگر ’انسان‘ کی ذات ہو تو اِس کا اصطلاحی تعارف ’’حیوانِ ناطق‘‘ کرنے والوں کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ ’’یہ جانور منطقی قوت ادراک رکھتا ہے۔‘‘ منطقی فکر کی صلاحیت رکھتا ہے اور منطقی فکر کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ معلوم سے غیرمعلوم (نامعلوم) کو معلوم بنا دیا ہے یعنی معلوم بات سے غیرمعلوم حقیقت کو دریافت کر لیتا ہے۔ چاہے بولے یا بہتر ہے کہ خاموش رہے امیرالمومنین حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کا ایک قول بھی اِسی جانب اشارہ ہے کہ ’’اُس وقت کلام کرو‘ جب تمہارا بولنا‘ تمہاری خاموشی سے زیادہ بہتر ہو۔‘‘ 

مثال کے طور پر ہمیں کوئی بات معلوم ہے جیسا کہ ’دو جمع دو‘ برابر ہے ایکس جمع تین۔ اِس کا جواب ’ون (ایک)‘ دینے والوں نے ایک معلوم سے دوسرے نامعلوم کو معلوم (دریافت) کر لیا۔ یہ بات ذہن نشین رکھتے ہوئے انسان ہونے کے امتیازات بھی پیش نظر رہنے چاہیئں کہ پہلا تقاضا (امتیاز) یہ ہے کہ انسان کو ’ناموسِ سخن‘ سے آشنا ہونا چاہئے اور دوسرا لازمی امتیاز کہ اُس کا ہر چھوٹا بڑا عمل ’منطق‘ کی کسوٹی پر پھونک پھونک کر قدم رکھنے (سوچ سمجھ) سے ہٹنے نہ پائے لیکن ہمیں روزمرہ کے مشاہدے میں ’حیوان ناطق‘ ہونے کے امتیازات کو سمجھنے والوں کی اکثریت سے واسطہ پڑتا ہے جنہوں نے خود کو اتنا ہی پابند (صاحب امتیاز) بنا رکھا ہے کہ ہر کام میں اِحتیاط اُور سوچ سمجھ کر بولنے‘ خاموش رہنے یا عمل میں جلدبازی سے کام نہیں لیتے؟ نتیجۂ فکر مرزا اسد اللہ خان غالبؔ تک لے جاتا ہے جنہوں ے کہا تھا ’’بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا۔۔۔آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا‘‘ (یعنی کمال اِنسانیت کے مرتبہ پر پہنچنا سہل نہیں)۔ 



زندگی کی مشکلات (دشواریوں) کو آسانیوں سے تبدیل کرنے کے ماہر‘ عبدالواحد میر العمروف ’واحد سراج‘ ایک ایسا ہی (ہمہ گیر) ’اِنسان‘ ہے‘ جس کی تجربہ گاہ میں شعوری تحریک کے سانچوں میں خاموشی کو زبان اور درس و تدریس کو (امتحانی ضرورت کے مطابق) نصاب کے تابع رکھتے ہوئے علم کی روح کو نصابی اسباق کی قید سے آزاد کردیا گیا ہے جہاں اُن کے زیرسایہ علم کی طلب رکھنے والے ذہن درختوں کی مانند سایہ اور ثمربار ہو رہے ہیں! یقیناًوہ نئی نسل جو لفظ کی حرمت‘ مطالب‘ معانی اُور حقیقت آشنا ہوگی تو وہی مستقبل میں فکری و شعوری انقلاب برپا کر سکے گی۔ واحد میر کو مختصر نویسی میں بھی ملکہ حاصل ہے جیسا کہ انہوں نے 20الفاظ کی کہانیاں لکھ کر ہم عصروں کو ’زیادہ سوچنے اور کم لکھنے‘ کی ترغیب دی ہے۔ ’’تمہارے چلے جانے سے میں بالکل مفلس ہو گیا ہوں‘ اب میرے پاس دولت اُور شہرت کے سوأ کچھ نہیں!‘‘ اُور اُکساتے ہیں کہ ’’بولتے رہو‘ چپ کیوں ہو گئے ہو؟ ایک سانپ کے لئے زہریلا نہ ہونا کوئی فخر کی بات تھوڑی ہے!‘‘ اُن کے ہاں (اَندھی) تقلید نہیں ملتی۔ یہی وجہ ہے کہ درس و تدریس کا نصابی اسلوب ہو یا روائتی ہم نصابی سرگرمیاں‘ کوئی ایک فعل بھی سوچا سمجھا‘ ارتقاء پذیری اور بناء تبدیلی دکھائی نہیں دیتا۔ 

مشرقی اقدار‘ روایات اُور سوج بوجھ کو برتر مانتے ہوئے بہرصورت اُور بہرحال ترجیح اُن کی فکر اور جدوجہد کی راہیں متعین کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ جاپان کی علمی‘ فنی‘ تکنیکی اور صنعتی شعبوں میں ترقی کا باریک بینی سے مطالعہ اُن کا محبوب مشغلہ ہے کیونکہ اپنے واضح اہداف کی وجہ سے وہ خوفزدہ نہیں اور بخوبی جانتے ہیں کہ کسی زمانے میں محض زندہ رہنا ہی کافی (کمال) نہیں ہوتا بلکہ علم کے محافظوں اور اِس کی نسل در نسل منتقلی کے ذمہ داروں کو کم سے کم اِتنا صاحب بصیرت تو ہونا ہی چاہئے کہ وہ ’زمانی حیات‘ (ذمہ داریوں) کو مستقبل کے تقاضوں کی روشنی میں دیکھ (پرکھ) سکیں۔ 

’ماڈرن ایج‘ نامی نجی سکولوں کے نیٹ ورک کی انتظامی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے واحد میر اُس ’پیغام اقبالؒ ‘ کی عمدہ تشریح بھی ہیں جس میں ’اَپنی ملت پر قیاس اَقوام مغرب سے نہ کر‘ بطورخاص تاکید کے ساتھ سمجھایا گیا ہے۔ واحد میر سے تعارف کے شرف سے دور افتادہ رشتوں کا لمس محسوس ہوا۔ وہ اُس پہلی نسل کا حصّہ ہیں جس نے ’الیکٹرانک (آن لائن) میسیجنگ‘ (انفارمیشن ٹیکنالوجی) کی برق رفتاری سے دلوں کے رنگ بدلتے دیکھے ہیں‘ لیکن اُنہیں اعصاب (فیصلوں) پر حاوی ہونے نہیں دیا۔ کم لکھنے اُور زیادہ سوچ کے داعی‘ نابیناؤں کے شہر میں خوابوں کا سوداگر ہے۔ وہ اَقوال زریں میں پوشیدہ اَسباق کو عملی زندگی (روزمرہ معمولات کی اصلاح و بیان) سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ثابت کر رہے ہیں کہ ’خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی!‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔