Showing posts with label Corona Virus in Peshawar. Show all posts
Showing posts with label Corona Virus in Peshawar. Show all posts

Saturday, June 13, 2020

Covid19 and Public Transport

سچائی کا سفر
پبلک ٹرانسپورٹ مستقل مسئلہ (دردِ سر) ہے اُور اِس درد کا مستقل بنیادوں پر حل (علاج) ہونا چاہئے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد ’حسب توقع‘ نہ تو کرایوں میں عملاً کمی ہوئی اُور نہ ہی بسوں میں گنجائش سے زیادہ مسافروں کو سوار کرنے جیسے عمومی طرزعمل (قانون شکنی) سے رجوع کیا گیا جو کورونا وبا کے ممکنہ پھیلاو ¿ کم کرنے کے لئے (حتی الوسع) ’سماجی فاصلے (social distancing)‘ سے متعلق حکومتی قواعد و ضوابط (SOPs) کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھی لیکن رواں ہفتے پبلک ٹرانسپورٹ مالکان کی جانب سے 2 اعلانات سامنے آئے کہ ایک تو بین الاضلاعی راستوں (روٹس) پر مقررہ کرائے کی شرح میں مزید کمی کر دی گئی ہے اُور دوسرا ’ایس اُو پیز‘ پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ یہ دونوں باتیں ذرائع ابلاغ نے فوری خبر (Breaking News) اُور شہ سرخیوں (Headlines) کے ساتھ بالکل اُسی اہتمام کے ساتھ شائع کیں‘ جس طرح پیٹرولیم مصنوعات اُور آٹے کی قیمتیں کم ہونے کے بارے میں عوام کو روزانہ ’خوش خبریاں‘ دی جاتی ہیں لیکن اِن خبروں کا زمینی حقائق سے تعلق نہیں ہوتا اُور نہ ہی خبر دینے سے پہلے اُس کے مندرجات کے بارے خاطرخواہ تحقیق کے عمل کو خاطرخواہ اہمیت دی جا رہی ہے جو صحافت کا پہلا اُور بنیادی اصول ہے۔ اِس سلسلے میں اُردو اُور انگریزی صحافت دو الگ الگ سمتوں اُور دو الگ الگ بلندیوں پر بھی اِس لئے دکھائی دے رہی ہیں کیونکہ دونوں کے ہاں حقائق کی تصدیق و جانچ کے لئے محنت کا معیار ایک جیسا نہیں۔

بنیادی طور پر کسی بھی آمدہ اطلاع کو خبر اُور بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اُور ذمہ داری کی ساتھ اَدا (شائع) کرنے سے قبل‘ اُس کی آزاد ذرائع یا اپنے طور پر تصدیق ہونی چاہئے۔ اِس بات کو عملاً اُور باآسانی ممکن بنایا جا سکتا ہے کہ 1: کوئی بھی خبر تصدیقی مراحل سے گزرے بغیر شائع یا نشر نہ ہو۔ 2: خبر ضروری ہوتی ہے اُس کو پیش کرنے کا انداز ضمنی اہمیت رکھتا ہے۔ بالخصوص صفحے کی خوبصورتی کے لئے خبروں کو دو‘ تین یا چار کالموں میں مزین و سجاوٹ کے لئے منتخب اُور نمایاں کرنے کا بھی کوئی نہ کوئی تو اصول بھی ہونا چاہئے کیونکہ صرف خبر کا ہونا ہی اہم اُور کافی نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ اِس میں سچ جھوٹ یا جھوٹ سچ کی آمیزش کا تناسب جاننے کا بھی پیمانہ ہونا چاہئے کیونکہ خبر کے ساتھ صحافتی اِدارے کی ساکھ اُور کاروباری مستقبل بھی جڑا ہوتا ہے۔

’سچائی‘ کا وہ سفر جو اِنفردی حیثیت سے جتماعی قالب میں ڈھل کر اپنی انتہائی (ترقی یافتہ) شکل (وجاہت) میں ”صحافت“ کہلاتا ہے اُور یہ لفظ اصطلاحاً صحیفے سے بھی ماخوذ ہے یعنی ایک ایسی دستاویز (صحیفہ) جو خالق کائنات کے مقدس کلام کی ترسیل سے منسوب ہے تو اِس بات میں کوئی حرج نہیں کہ اگر کسی خبر کی فوری تصدیق ممکن نہ ہو تو اُسے (تا دم تصدیق) روک کر شائع کر لیا جائے۔ درحقیقت صحافت کسی بھی شکل میں ہو لیکن اگر یہ ذمہ داری اُور اِحساس ذمہ داری کے ساتھ اَدا نہیں ہوتی تو پھر یہ ایک ایسا معمول بن جائے گی جس سے معاشرے میں نہ تو خیر اُور بہتری کی صورتیں برآمد ہوں گی اُور نہ ہی حکومتی سطح پر فیصلہ ساز اپنی ترجیحات کے تعین میں درست رہنمائی حاصل کر پائیں گے بلکہ عوام اُور حکمران دونوں ہی گمراہ ہوں گے کیونکہ اگر کسی نے اُن کی آنکھوں کی دھول جھونکنے کی کوشش کی ہے تو اُس کوشش (جھوٹ) کو کامیاب بنانے میں ذرائع ابلاغ بھی شریک ہو گئے ہیں اُور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے‘ جس سے صحافتی ذمہ داریاں ترتیب و تشکیل پاتی ہیں۔

عام آدمی (ہم عوام) کے نکتہ نظر سے عندیہ (خوش خبری) اگر صرف سماعتوں اُور بصارتوں ہی کی آسودگی کے لئے شائع کی جاتی ہے‘ تب تو ٹھیک (قابل فہم) ہے لیکن اگر ذرائع ابلاغ ”اَزرائے طنز و مذاق“ قیمتوں اُور نرخناموں میں کمی سے متعلق ایسی خبریں شائع کرتے ہیں کہ جن میں عوام کے لئے کسی ریلیف کا ذکر ہوتا ہے اُور برسرزمین حقیقت یا حقائق یکسر مختلف (برعکس) ہوتے ہیں تو یہ طرزِعمل اَمانت و دیانت کے اَصولوں کے منافی ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ ایسی خبریں (بالخصوص پرنٹ میڈیا جب شہ سرخیوں کے ساتھ) شائع کرتے ہیں تو اِس سے عوام کی نظروں میں بطور اِدارہ اِن کی اہمیت‘ فرض شناسی‘ ذمہ داری‘ صحافتی اَخلاقیات و اَقدار اُور سماجی کردار قابل اِعتبار و بھروسہ نہیں رہتا یقینا کوئی بھی شخص (قاری‘ ناظر و سامع) نہیں چاہے گا کہ جن حقائق سے اُسے عملی زندگی میں ہر روز واسطہ پڑ رہا ہے اُن سے متعلق خبرنگاری مصدقہ نہیں۔ اِس پورے تناظر کا تیسرا پہلو اُور ضرورت یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ کی توجہ (جملہ وسائل‘ رائے اُور جھکاو ¿) عوام کی طرفداری جانب مائل ہونی چاہئے۔ وہ کاروباری گروہ اُور طبقات جو اَجناس کی فروخت یا خدمات کی فراہمی جیسے شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں اگر اُنہیں یقین ہو کہ حکومت اُور ذرائع ابلاغ عوام کے مفادات کی حفاظت کرتے ہیں تو یوں کھلم کھلا لاقانونیت دیکھنے میں نہ آئے کہ اجناس میں ملاوٹ سے لیکر کم وزن‘ گرانفروشی اُور ذخیرہ اندوزی قانونی و اخلاقی و سماجی طور پر جرائم ہی تصور نہ ہوں۔

عوامی مفاد کیا ہوتا ہے؟
اِس کی حفاظت کس کی ذمہ داری اُور کیسے کی جائے؟
اِن تینوں امور سے متعلق سوچ بچار اُور لائحہ عمل ’طرزحکمرانی‘ کہلاتا ہے۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ کرائے ناموں کی شرح میں کمی تو بہت دور کی بات لیکن اگر ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ کے کرایوں پر صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی مقررہ کردہ شرح کے مطابق عمل درآمد اُور کورونا وبا سے متعلق حکومتی ہدایات کا احترام ضروری سمجھا جا رہا ہوتا تو صرف پشاور میں گزشتہ چند دنوں کے دوران ’1200ٹرانسپورٹرز‘ کو جرمانے اُور 4 بس اڈے سربمہر نہ کئے گئے ہوتے! لائق توجہ یہ بھی ہے کہ اگر نجی شعبے کی اجارہ داری سے چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے امور صوبائی دارالحکومت ہی میں تسلی بخش نہیں تو صوبائی حکمرانوں اُور متعلقہ فیصلہ سازوں نے کس بنیاد (جواز) پر یقین کر لیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے دور دراز اضلاع اُور علاقوں پبلک ٹرانسپورٹرز مسافروں (صارفین) کو لوٹ نہیں رہی اُور سب سے بڑھ کر احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے کورونا وبا کے پھیلانے کا باعث بن رہی ہے۔ ’صوبائی ٹرانسپورٹ اٹھارٹی‘ اُور ’پبلک ٹرانسپورٹ اُونرز ایسوسی ایشن‘ گٹھ جوڑ سے پیدا ہونے والی صورتحال پر قابو پانے کے لئے ضلعی انتظامیہ (کمشنری نظام) کام آ رہا ہے‘ جنہیں جرمانہ اُور سزائیں دیتے ہوئے صرف خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے مرکزی اُور ضلعی دفاتر میں تنخواہیں اُور مراعات باقاعدگی سے وصول کرنے والوں کے خلاف بھی کاروائی کرنی چاہئے جو مسافروں کی جان و مال کے تحفظ‘ سہولیات کی فراہمی اُور مقررہ شرح سے زائد کرایوں کی وصولی سے متعلق قوانین اُور قواعد شکنی میں برابر (یکساں) شریک جرم (ملوث) ہیں۔
مرا نصیب ہوئیں تلخیاں زمانے کی
کسی نے خوب سزا دی ہے مسکرانے کی
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے ہر ٹھکانے کی (اَزہر درانی)
....
Clipping from Editorial Page of Daily Aaj - June 13, 2020 Saturday
Editorial Page of  Daily Aaj - June 13, 2020 Saturday


Wednesday, June 10, 2020

COLUMN: Wazifa (Benefice) as shield and stay safe from Corona Virus!

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
روحانی مشورہ
پشاور کے سرتاج سادات گھرانے کے روحانی‘ علمی‘ اَدبی اُور سیاسی کردار کو حالات حاضرہ کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے‘ نئی بلندیوں سے روشناس کرانے اُور تصوف (احسان و سلوک) کی تعلیمات عام کرنے میں مصروف عمل نورِچشمی سیّد نور السبطین قادری گیلانی المعروف تاج آغا نے طبی ماہرین کے مشوروں پر عمل کرنے اُور کورونا وبا کے بارے میں سنجیدگی و ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ زندگی کی قریب ستر بہاریں دیکھنے والے تاج آغا (پیدائش گیارہ نومبر اُنیس سو اکیاون) پیرطریقت سیّد محمد اَمیر شاہ قادری گیلانی المعروف مولوی جی رحمة اللہ علیہ کے فرزند ارجمند ہیں جنہوں نے کورونا وبا سے بچاو کے لئے خصوصی وظیفہ عنایت کرتے ہوئے اِسے ہر خاص و عام تک پہنچانے کی تلقین کی ہے۔ یہ وظیفہ قرآن کریم کی مختلف سورتوں اُور وظیفہ شروع کرنے سے اوّل و آخر خاص ترتیب و تعداد سے درود شریف پر مشتمل ہے۔

ایک ہی نشست میں باوضو‘ قبلہ رو بیٹھ کر سورہ فاتحہ (تین مرتبہ)۔ آیت الکرسی (تین مرتبہ)۔ سورہ یاسین (تین مرتبہ)۔ سورہ اخلاص (تین مرتبہ)۔ سورہ الم نشرح (پانچ مرتبہ) اُور سورہ کوثر (پانچ مرتبہ) تلاوت کرنی ہیں۔ اِس وظیفے کو شروع کرنے سے قبل گیارہ مرتبہ درود ابراہیمی (نماز کے دوران تشہد میں پڑھا جانے والا درود شریف) یا کوئی بھی دوسرا درود شریف پڑھا جس سکتا تاہم اوّل و آخر پڑھے جانے والے اِس درود شریف کا شمار طاق یعنی گیارہ گیارہ مرتبہ رکھا جائے گا۔ درود شریف پڑھتے ہوئے صاحب درود ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت‘ خلوص اُور توجہ کا اظہار کرنا ہے‘ جس کے لئے ٹھہر ٹھہر کر اُور الفاظ پر غور کرنا ضروری ہے۔ ہر سورت کے شروع میں ’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ پڑھنی ہے۔ بہتر ہے اِس وظیفے کو نماز فجر کی ادائیگی سے فارغ ہونے کے بعد اُسی مقام پر بیٹھ کر پڑھا جائے جہاں نماز فجر ادا کی گئی ہو لیکن اگر ایسا ممکن نہ ہو تو دن کے کسی بھی وقت اُور کسی بھی مقام پر اِسے حسب فرصت پڑھا جا سکتا ہے۔ ہدایت ہے کہ نمازِ فجر کے بعد کسی سے بات چیت کئے بغیر اُور اُسی مقام پر اشراق کی نماز تک بیٹھ کر یہ وظیفہ عبادات کے معمولات کا جز بنا لیا جائے تو سونے پر سہاگہ ہوگا۔ نماز فجر‘ مذکورہ وظیفہ اُور نماز چاشت کی ادائیگی کے بعد پانی پر دم کیا جائے اُور یہ پانی خود اُور گھر کے تمام افراد کو پلایا جائے تو یہ نہ صرف موجودہ وبائی اُور پریشان کن صورتحال کے لئے مفید رہے گا بلکہ عمومی حالات میں بھی اِس وظیفے کے خاص فوائد (اثرات) ہیں اُور انہیں دیگر عبادات کی طرح معمولات میں شامل کر لیا جائے تو حسب تلقین (اِن شا اللہ) ”دنیا و آخرت میں کامیابی ہوگی۔“

آستانہ عالیہ قادریہ حسنیہ (اَمیریہ) پشاور (اندرون یکہ توت گیٹ) کی روح رواں سیّد نورالحسنین قادری گیلانی المعروف سلطان آغا سجادہ نشین ابوالبرکات سیّد حسن بادشاہ نے کورونا وبا کے شروع دن سے مریدوں اُور عقیدت مندوں کو احتیاط کا مشورہ دیا اُور آستانہ عالیہ پر ہر قمری ماہ کی گیارہ تاریخ کو ہونے والے ختم غوثیہ اُور دیگر جملہ اجتماعی تقاریب و عبادات کو منسوخ کر دیا لیکن محافل ذکر و اَذکار اُور وظائف کا سلسلہ اِنفرادی حیثیت سے جاری رکھا گیا‘ جس میں مریدوں اُور عقیدت مندوں کی ایک بڑی تعداد آن لائن ذرائع (انٹرنیٹ) کی مدد سے شریک ہوتی ہے۔ سال ہا سال کا معمول تھا کہ ہجری ماہ و سال کی ترتیب کے اعتبار سے مولوی جیؒ کے عرس مبارک کے سلسلے تقاریب کا عموماً آغاز رمضان المبارک کے پہلے عشرے کے اختتام کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا‘ جو رمضان المبارک کے دوسرے عشرے کے اختتام تک یہاں وہاں جاری رہتا تاہم اِس مرتبہ (1441ہجری) عرس مبارک کی تقاریب کے سلسلے میں ختم قرآن‘ ختم غوثیہ‘ محافل حمد و نعت‘ منقبت اُور شبینہ کا انعقاد بھی انتہائی سادگی سے (محدود پیمانے پر) کیا گیا جس میں صرف اہل خانہ اُور قرابت داروں کے علاوہ مریدوں کی اِنتہائی قلیل تعداد شریک ہوئی۔ اہل تصوف کی جانب سے کورونا وبا کے حوالے سے طبی ماہرین کے مشوروں کو سنجیدگی سے لینا اپنی جگہ قابل ذکر ہے بالخصوص ایک ایسے ماحول میں جہاں اجتماعی عبادات ترک کرنے اُور حکومت کی جانب سے قواعد (SOPs) پر خاطرخواہ عمل درآمد دیکھنے میں نہیں آرہا اُور اگر صرف پشاور کی بات کی جائے تو خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع (علاقوں) کی نسبت یہاں کورونا وبا سے متاثرین اُور اموات کی شرح صرف صوبائی ہی نہیں بلکہ قومی سطح پر زیادہ ہونے کی وجہ بھی یہی ہے کہ مختلف صورتوں میں قیادت کے منصب پر فائز شخصیات اُور گھرانوں نے اپنی قائدانہ ذمہ داریاں اَدا نہیں کیں اُور یہی وجہ رہی کہ عوام کے ذہنوں میں شکوک و شبہات سرایت کر چکے ہیں۔ کورونا وبا سے محفوظ رہنے کے لئے مذہبی قائدین کو ’رہنما کردار‘ اَدا کرنے کی ضرورت ہے اُور اِس سلسلے میں دیگر کئی آستانوں اُور مدارس کی طرح پشاور شہر کے اہل تصوف نے جو عملی اُور روشن مثال قائم کی ہیں وہ پشاور سے محبت کی بھی آئینہ دار (عکاس) ہیں کہ اِس شہر اُور یہاں کے رہنے والوں کی نسل در نسل عقیدت و احترام کا جواب دیتے ہوئے ’اہل تصوف‘ نے بھی محبت ہی سے جواب دیا ہے۔

کورونا وبا سے ممکنہ بچاو  کے لئے جہاں طبی ماہرین اُور حکومت مشورے دے رہی ہے‘ وہیں اہل طریقت کی جانب سے بھی ’روحانی مشورہ‘ لائق توجہ ہے جو ’نسخہ ¿ شفا (قرآن کریم و مجید)‘ سے آیات کریمہ کے ورد پر مشتمل ہے اُور اِس کی متعلقہ عوامی حلقوں میں تشہیر کے لئے ذرائع ابلاغ بشمول سوشل میڈیا کے وسائل سے زیادہ سے زیادہ استفادہ ہونا چاہئے کیونکہ کسی مسلمان کے لئے آسانی ہو یا مشکل‘ دکھ ہو یا سکھ‘ خوشی ہو یا غم‘ ہر ساعت اپنی توجہات اللہ تعالیٰ کی طرف مائل کرنے اُور عبادات و نسخہ  کیمیا (قرآن مجید کی آیات) کے ذریعے نجات و رہائی طلب کرنی چاہئے ۔علاو ¿ہ ازیں تاج آغا کی جانب سے پانچ وقت کی فرض اُور تہجد کی نمازیں باقاعدگی سے ادا کرنے کی تلقین کرتے ہوئے توجہ دلائی گئی ہے کہ .... ”اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی آزمائش و امتحان کی موجودہ گھڑی میں اُٹھتے بیٹھتے اُور چلتے پھرتے (دل ہی دل میں) ’استغفر اللہ‘ کا ورد بھی کیا جائے کہ مصیبت کی یہ گھڑی اگر (کسی بھی صورت) ٹل سکتی ہے تو وہ صرف اُور صرف رب تعالیٰ کی مرضی ہی سے ہوگی کیونکہ بلاشک و شبہ زندگی‘ موت اُور شفا اُسی (خالق و مالک ِکائنات) کے ہاتھ میں ہے‘ جو رحمان‘ رحیم و کریم ہونے کے ساتھ اپنی حکمتوں کو زیادہ بہتر سمجھتا ہے۔
........

Page 1/3

Page 2/3
Page 3/3

Sunday, May 10, 2020

Corona Files: Failures in combating Covid-19

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
غربت
مسائل بڑے اُور وسائل چھوٹے ہیں۔ اِس عمومی تصور کی حقیقت دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وسائل موجود ہیں لیکن اُن سے خاطرخواہ استفادہ نہ ہونے کی وجہ سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ اِس تصور کی عملی شکل بیان کرنے کے لئے پشاور سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کی روداد پیش کی جا سکتی ہے‘ جن میں اندرون شہر کے 2 ایسے بھائی بھی شامل ہیں جنہیں پانچ مرلے کے گھر میں قرنطینہ کیا گیا اُور نتیجہ یہ رہا کہ مجموعی طور 17 افراد کے اِس کنبے میں 11 افراد بشمول خواتین اُور بچے کورونا سے متاثر ہو چکے ہے!

محکمہ صحت کی مصدقہ رپورٹ کے مطابق مشترکہ خاندانی نظام کے تحت زندگی بسر کرنے والے مذکورہ خاندان کے گیارہ افراد میں کورونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہو چکی ہے اُور یہ بات صرف کسی ایک خاندان اُور صحافیوں ہی کی نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کے طول و عرض میں اکثر غریب گھرانوں کی ملتی جلتی روداد یہی ہے کہ وہ مشترکہ خاندانی نظام کے تحت زیادہ افراد کم رقبے کے مکانات میں رہتے ہیں‘ جہاں ایک کمرہ اُور ایک بیت الخلا گھر کے کئی افراد کے زیراستعمال رہتا ہے۔ اِس صورتحال کی وجہ سے خاندان کے مرد خواتین اُور کم عمر بچے متاثر ہو رہے ہیں جبکہ غریب علاقوں کی ایک خاص بات یہ بھی ہوتی ہے کہ اِن کے اہل محلہ و علاقہ ایک دوسرے سے جڑ کر رہتے ہیں اِس لئے متاثرین کا شمار کسی ایک خاندان کے اَفراد سے کہیں زیادہ ہے۔ مئی کے پہلے ہفتے سے خیبرپختونخوا میں نئے کورونا متاثرین کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے زیادہ جبکہ 63 اموات اِس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ کم آمدنی اُور غریب طبقات کورونا وائرس کا باآسانی شکار بن رہے ہیں اُور اگر اِس جانب (اِس موقع پر بھی) خاطر خواہ (فوری) توجہ نہ دی گئی تو کورونا وائرس پھیلنے کا سلسلہ تیز تر ہوتا چلا جائے گا۔

کورونا وبا سے متاثرین کی کہانیاں اُور مسائل ایک جیسے  اہم ، تشویشناک  اُور لائق توجہ ہیں۔ 
اگر صحافی متاثر ہیں تو اُس کی وجہ یہ ہے کہ خطرے سے متعلق علم ہونے کے باوجود بھی اِنہوں نے بنا حفاظتی تدابیر متاثرہ علاقوں کے دورے کئے۔ دیگر طبقات اُور پیشوں سے تعلق رکھنے والے اِس لئے متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ وہ کورونا وائرس کو اپنے لئے یکساں طور پر خطرہ نہیں سمجھتے اُور اب بھی یہ تاثر عام ہے کہ اموات وبا سے نہیں بلکہ اِس وبا کے خوف سے ہو رہی ہیں اُور خوف پھیلانے میں ذرائع ابلاغ کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں!

آمدن کے لحاظ سے نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت کورونا وائرس سے متعلق غلط فہمیوں کا پہلے اُور وائرس سے بعد میں شکار ہو رہی ہیں۔ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کے لئے یہ حالات اُور صورت حالات ایک جیسی ہے کہ ایک طرف وبا کا طلاطم خیز طوفان اُور دوسری طرف عالمگیر وبا کی صورت کھائی ہے۔ ایک طرف بھوک افلاس ہے اُور دوسری طرف بیماری سے موت کا خطرہ جبکہ وہ سمجھتے ہیں کہ کسی مرض سے خطرہ اُور موت کا امکان قابل برداشت ہوتا ہے۔ فیصلہ سازوں کو سوچنا اُور برسرزمین حقائق دیکھنا ہوں گے کہ آبادی کا وہ بڑا حصہ جس کے لئے سر پر چھت کا ہونا ہی سب سے بڑی نعمت ہے اُور ایسے طبقے سے یہ توقع کرنا کہ اُن کے پاس رہائش کے لئے اتنی جگہ ہو گی جہاں وہ دیگر اہل خانہ سے الگ تھلگ (یا مناسب فاصلے پر) رہ سکیں گے دراصل غلط فہمی ہے۔ شہری علاقوں میں رہنے والے بالخصوص چھوٹے رقبے والے مکانات میں رہتے ہیں مگر ان کے اہل خانہ کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ اگر ہم پشاور کی بات کریں تو یہاں گھر چھوٹے لیکن مکینوں کے دل بڑے ہوتے ہیں اُور آج بھی مشترکہ خاندانی نظام اِس سماج کا سب سے مضبوط حوالہ ہے۔ حکومتی فیصلہ سازوں نے کورونا متاثرین کے لئے قواعد (SOPs) تشکیل دے رکھے ہیں تو کیا اِس کے بعد کسی اقدام کی ضرورت نہیں رہی؟ ایک سے بڑھ کر ایک مشکل کھڑی کرتے ہوئے برسرزمین حقائق‘ عام آدمی (ہم عوام) کی آمدنی و مالی حیثیت اُور اُس مشترکہ خاندانی نظام کے بارے میں زیادہ بات نہیں ہو رہی جو اپنی جگہ ایک حقیقت ہے اُور جس کی موجودگی میں کورونا متاثرین کا الگ تھلگ رہنا اُس وقت تک عملاً ناممکن رہے گا‘ جب تک کہ حکومت کی جانب سے خصوصی انتظامات‘ سہولیات بشمول مالی امداد نہیں دی جاتی۔

از خود علیحدگی (قرنطینہ) کے لئے قواعد و ضوابط وضع کرنا ضروری تھا لیکن کافی نہیں جب تک کہ عمل درآمد کی صورتحال اُور عمل درآمد نہ ہونے کی وجوہات بارے سوچ بچار نہ کیا جائے۔ جن نجی رہائشگاہوں کو اُن کے مکینوں کے لئے ’قرنطینہ مراکز‘ میں تبدیل کیا گیا ہے‘ اُن کے اعدادوشمار بشمول مکان کا خاکہ‘ وہاں دستیاب سہولیات اُور وہاں مقیم صحت مند افراد سمیت کل مکینوں کے بارے حکومت کے پاس اعدادوشمار نہیں۔ ضوابط بنانے کے ساتھ اگر اُن کے ضمنی و ذیلی پہلوو ¿ں پر بھی غور کیا جاتا اُور اب بھی کیا جائے تو کورونا وائرس کا پھیلاو  بڑی حد تک روکا جا سکتا ہے۔ 

صوبائی حکومت ہر سطح پر کوشش کر رہی ہے کہ ’طفل تسلیوں‘ سے وقت گزر جائے اُور کام چلتا رہے۔ ماضی کی طرح حکمرانوں کا طرزعمل یہی ہے کہ جہاں اِن کے پاس صحافیوں کے سوالات کے جوابات نہیں ہوتے‘ وہاں رابطے منقطع کر دیئے جاتے ہیں اُور جہاں حکومتی کارکردگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا مطلوب ہوتا ہے‘ وہاں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو سر آنکھوں پر بٹھا لیا جاتا ہے! یہ روش تشویشناک ہے کہ زبانی کلامی بیانات‘ وعدوں اُور یقین دہانیوں سے اب تک کی پراسرار اُور وباو ¿ں سے مقابلہ کرنے کی انسانی تاریخ میں منظرعام پر آنے والے خطرناک جرثومے کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کورونا کی طرح غربت بھی لاعلاج مرض بن چکا ہے۔

پشاور کے ایک متاثرہ صحافی سے ہوئی بات چیت میں جب یہ پوچھا کہ حکومت نے تو کورونا سے متاثرہ صحافیوں کے لئے خصوصی امداد کا اعلان بھی کر رکھا ہے‘ کیا آپ تک وہ امداد پہنچی ہے تو اُس نے بناءتوقف اُور طنزیہ قہقہہ لگاتے ہوئے فوراً کہا ”بھائی مذکورہ امدادی پیکج کے لئے کورونا وائرس سے فوت ہونا ضروری ہے!“
........


Friday, May 8, 2020

Obituary: Ahmed Ayaz alias Jani of Peshawar!

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
”جانی“ نقصان
وہ سخت جان تھا ایسا کہ چیخ بھی نہ سکا: فغاں فغاں تھی جہاں مرگ ناگہانی پر ....
اَحمد اَیاز اب اِس دنیا میں نہیں رہا (اناللہ و انا علیہ راجعون)۔
کم و بیش تین ہفتے کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے بعد سات مئی (تیرہویں رمضان المبارک کی) سحری کے اختتام سے چند منٹ قبل اُس کی شہادت سے متعلق مطلع کرتے ہوئے احمد ریاض (مرحوم کے بھائی) کی آواز پر افسوس کا غلبہ تھا۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال (پشاور) میں مصنوعی آلہ تنفس (وینٹیلیٹر) کے ذریعے علاج معالجے کی کوششیں ناکافی ثابت ہوئیں اُور اِس عمل میں گزشتہ چند دنوں سے اہل خانہ کو ملاقات یا اُسے دیکھنے تک کی اجازت نہیں تھی‘ جن کے لئے یہ صدمہ بھی اپنی جگہ کم نہیں۔ وہ ایک عرصے سے زیرعلاج اُور نظروں سے اُوجھل تھا لیکن اُمید تھی کہ خاموش طبع‘ صوم و صلوة کے پابند کا ہمیشہ کی طرح مطمئن چہرہ پھر سے دیکھنے کو ملے گا کیونکہ وہ خوراک کے معاملے میں اِس حد تک محتاط تھا کہ چائے اُور قہوہ جیسے مشروبات بھی ایک خاص حد سے زیادہ استعمال نہیں کرتا تھا۔ محبتیں نچھاوڑ کرنے والے (پچپن سالہ) احمد ایاز کو اہل خانہ اُور عزیزواقارب ’جانی‘ کہہ کر پکارتے تھے۔ یہ نام والدین کی طرف سے بچپن میں شاید اِس وجہ سے دیا گیا ہوگا کہ اُس کے چہرے سے ہمیشہ ایک ہی طرح کی معصومیت اُور اطمینان چھلکتا تھا۔ ذہن نیشن رہے کہ اہل پشاور کے رہن سہن اُور معاشرت سے متعلق ایک خوبصورت روایت یہ بھی ہے کہ یہ اپنے بچوں کے عرفی نام رکھتے ہیں اُور یہ نام اصل ناموں کی طرح ساری زندگی ایک خاص حلقہ ¿ احباب میں پکارے و مخاطب کئے جاتے ہیں۔ ”جانی“ بھی ایسا ہی خوبصورت اُور مرکب نام تھا جو اندرون پشاور کی یونین کونسل گنج کے محلہ دفتر بنداں میں رہنے والوں کے لئے مانوس اُور ایک ایسی خاموش طبع شخصیت کا حوالہ تھا‘ جسے فٹ بال کھیلنے کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ محلے اُور علاقے کے سارے بچے کرکٹ کے مرض میں مبتلا تھے لیکن جانی کے لئے سوائے فٹ بال کسی دوسرے کھیل میں کشش نہ تھی۔ حتیٰ کہ وہ لوڈو‘ تاش یا کیرم بورڈ جیسے ’اِن ڈور کھیلوں‘ میں بھی اُس وقت بمشکل‘ مختصر اُور بہ امر مجبوری حصہ لیتا‘ جب شادی سے قبل گھر آئے دوست احباب اُسے مجبور کرتے جبکہ شادی کے بعد اُور گنج سے گل بہار منتقل ہونے کے بعد تو اُس کی زندگی اپنے گھر اُور اپنی ذات تک محدود ہو گئی تھی‘ جس کے چکر سے وہ خوشی یا غم کے مواقعوں پر نکلتا۔ دراز قد‘ کھلاڑیوں کی طرح چست جسم اُور سادہ لیکن پروقار لباس کے ساتھ اُس کا چہرے ہمیشہ سپاٹ رہتا۔ جان پہچان والے شخص سے ملنے پر چند ثانیے مسکراہٹ کی آمدورفت میں زیادہ وقفہ نہ ہوتا۔ اُسے دلی جذبات اُور خیالات کے اظہار پر قابو رکھنے جیسی مہارت حاصل تھی۔ کسی معاملے میں اُس کی رائے معلوم کرنا ہوتی تو اُس کے چہرے سے پریشانی کرب کی صورت عیاں ہو جاتی۔

تحمل مزاجی اُس کی عادت‘ خاصہ و تعارف بن چکی تھی۔ وہ ہر معاملے کے تکنیکی پہلوو ¿ں کا باریک بینی سے جائزہ لینے اُور نفاست کا قائل تھا لیکن جس ”ایک غلطی“ نے اُسے چاہنے والوں سے بظاہر اُور جسمانی طور پر الگ کر دیا ہے وہ یہ ہے کہ اُس نے پشاور میں کورونا وائرس (وبا) کے پھیلنے (26 مارچ سے ماہ ¿ اپریل کے دوسرے ہفتے تک) سماجی دوری اختیار نہیں کی اُور آٹے و اجناس کی تھوک (ہول سیل) و پرچون منڈی‘ رام پورہ گیٹ میں اپنے آبائی کاروبار کی دیکھ بھال حسب معمول کرتا رہا۔ اگرچہ اُس نے شروع دن سے چہرے کو غلاف (ماسک) اُور ہاتھوں کو دستانوں سے ڈھانپ لیا تھا لیکن کاروباری مصروفیات میں (غیردانستہ طور پر) خاطرخواہ احتیاط نہیں کر پایا‘ جو ممکن بھی نہیں کہ اگر کوئی دکاندار ہر روز ایسے سینکڑوں گاہگوں سے روابط رکھتا ہے جو قرب و جوار کے علاو ¿ہ مختلف اضلاع سے پشاور آتے ہیں تو اِحتیاط کے باوجود بھی بچاو ¿ ممکن نہیں رہتا اُور یہی وہ نکتہ ہے جو پشاور کے دیگر کاروباری طبقات بالخصوص اُن تمام دکانداروں کو سمجھنا چاہئے جو جذباتی انداز میں ’لاک ڈاو ¿ن‘ ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں اُور سمجھتے ہیں کہ اگر تجارتی مراکز اُور بازار حسب معمول کھول دیئے جائیں گے اُور کچھ احتیاط برتی جائے گی تو کورونا وائرس پھیلنے یا لاحق ہونے کا خطرہ نہیں رہے گا! اَحمد ایاز اُور اِس جیسے دیگر مریضوں کی مثالیں لائق توجہ ہیں‘ جن کی صورت ہونے والا ”جانی نقصان“ اُس ”واجبی منافع“ سے کئی گنا زیادہ (ناقابل تلافی) ہے‘ جس کے بارے میں سوچیں تو افسوس اُور صدمہ مزید بڑھ جاتا ہے۔

احمد ایاز محنت کش تھا۔
رزق حلال کے لئے اُس کی زندگی کے معمولات میں صبح 9 بجے سے بوقت عصر یا اِس سے کچھ کم زیادہ وقت کے لئے دکان پر رہنا سالہا سال سے معمول رہا‘ جسے ترک کرنے کے بارے میں وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ سردی ہو یا گرمی‘ بارش ہو یا بہار و خزاں‘ اُس کی آمدروفت کے معمولات قریب ایک جیسے ہی رہتے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اہل پشاور کے تاجروں کی اکثریت ایسے ہی معمولات میں اپنی زندگیاں بسر کرتی ہے‘ جو اُوقات میں تو تقسیم ہے لیکن اُس میں بدلتے ہوئے وقت کے تقاضوں کا احساس و ادراک شامل نہیں ہوتا۔ احمد ایاز کے لئے کورونا وبا کی ابتدائی علامات (بخار کی شدت‘ خشک کھانسی‘ جسم کے مختلف حصوں میں بیٹھے بٹھائے (بنا تھکاوٹ) درد کا احساس اُور چکھنے کی قوت میں تبدیلی) تشویش کا باعث نہیں تھیں۔ اُس نے مختلف علاج آزمائے۔ گھریلو ٹوٹکوں سے ڈسپنسر اُور علاقے کے مختلف ڈاکٹروں سے بتدریج رجوع کیا لیکن کورونا وائرس کے علاو ¿ہ اُس کے دیگر تجزیئے (ٹیسٹ) کروائے گئے اُور آخری مرتبہ اُس نے ’بازارِ کلاں‘ کے جس انتہائی معروف و تجربہ کار ماہر معالج (اسپیشلسٹ) سے رجوع کیا تو اُس بھی نے نمونیہ کی تشخیص کرتے ہوئے ایسی ادویات (تیز اثر کرنے والی انٹی بائیوٹکس) تجویز کیں‘ جن کے استعمال سے اُس کی جسمانی قوت مدافعت ’کورونا وائرس‘ کے ممکنہ علاج والی ادویات کے مقابلے حائل ہوگئی۔ انتہائی نگہداشت میں علاج شروع ہوا تو ابتدائی مراحل میں اُس کی رگوں میں پہلے سے موجود ادویات کی صفائی کرنا تھی تاکہ ہلکی طاقت والی متعلقہ انٹی بائیوٹکس سے دی جا سکیں‘ جن کا استعمال کورونا وائرس کے خلاف کارگر ثابت ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر اپنی اِس کوشش میں کس حد تک کامیاب ہوئے اِس کی تفصیلات تو موجود نہیں لیکن نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ احمد ایاز اب اِس دنیا میں نہیں رہا۔ دیگر مریضوں کی طرح وبا سے متاثر ہونے اُور اِس کا شکار بننے جیسے مراحل جان لیوا نہ ہوتے اگر بروقت کورونا وائرس کی تشخیص ہو جاتی۔ اُسے بیماری کی اُس آخری حالت میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچایا گیا جبکہ وہ بیہوش تھا اُور اُس کے علاج معالجے کی تمام کوششیں اُور اہل خانہ و عزیزواقارب کی دعائیں کام نہ آسکیں۔ درحقیقت یہ کسی طریقہ علاج کی ناکامی اُور کسی وبا کی کامیابی نہیں بلکہ اِس حقیقت سے انکار اُور اِس متعلق شعور کی کمی ہے کہ کورونا وائرس جان لیوا ہو سکتا ہے اگر معمولات ترک کرکے سماجی دوری اختیار نہ کی جائے۔

احمد ایاز مستحق تھا کہ اُس کی آخری رسومات میں غم زدہ اہل خانہ کے ہمراہ عزیزواقارب اُور دوست احباب بڑی تعداد میں شریک ہوتے‘ اُس کی تدفین اُن خاص قواعد (SOPs) کے تحت کی گئی ہے جبکہ بڑے جنازے جیسے دعائیہ اجتماع اُور آخری دیدار جیسے اعمال بامعنی و بامقصد ہوتے ہیں۔ احمد ایاز کے لئے نمازِ وحشت قبر کی ادائیگی کرتے ہوئے چند آنسو اُس دائمی حسرت کے نام رہے کہ اُسے شایان شان طریقے الوداع نہیں کیا جا سکا۔ 
”جائے عبرت سرائے فانی ہے .... مورد مرگ ناگہانی ہے (مرزا شوق لکھنوی)۔“

Clipping from Daily Aaj - Editorial Page - May 08, 2020 Friday

Clipping from Daily Aaj Editorial Page May 08 2020 Friday