Showing posts with label Taj Agha. Show all posts
Showing posts with label Taj Agha. Show all posts

Wednesday, June 10, 2020

COLUMN: Wazifa (Benefice) as shield and stay safe from Corona Virus!

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
روحانی مشورہ
پشاور کے سرتاج سادات گھرانے کے روحانی‘ علمی‘ اَدبی اُور سیاسی کردار کو حالات حاضرہ کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے‘ نئی بلندیوں سے روشناس کرانے اُور تصوف (احسان و سلوک) کی تعلیمات عام کرنے میں مصروف عمل نورِچشمی سیّد نور السبطین قادری گیلانی المعروف تاج آغا نے طبی ماہرین کے مشوروں پر عمل کرنے اُور کورونا وبا کے بارے میں سنجیدگی و ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ زندگی کی قریب ستر بہاریں دیکھنے والے تاج آغا (پیدائش گیارہ نومبر اُنیس سو اکیاون) پیرطریقت سیّد محمد اَمیر شاہ قادری گیلانی المعروف مولوی جی رحمة اللہ علیہ کے فرزند ارجمند ہیں جنہوں نے کورونا وبا سے بچاو کے لئے خصوصی وظیفہ عنایت کرتے ہوئے اِسے ہر خاص و عام تک پہنچانے کی تلقین کی ہے۔ یہ وظیفہ قرآن کریم کی مختلف سورتوں اُور وظیفہ شروع کرنے سے اوّل و آخر خاص ترتیب و تعداد سے درود شریف پر مشتمل ہے۔

ایک ہی نشست میں باوضو‘ قبلہ رو بیٹھ کر سورہ فاتحہ (تین مرتبہ)۔ آیت الکرسی (تین مرتبہ)۔ سورہ یاسین (تین مرتبہ)۔ سورہ اخلاص (تین مرتبہ)۔ سورہ الم نشرح (پانچ مرتبہ) اُور سورہ کوثر (پانچ مرتبہ) تلاوت کرنی ہیں۔ اِس وظیفے کو شروع کرنے سے قبل گیارہ مرتبہ درود ابراہیمی (نماز کے دوران تشہد میں پڑھا جانے والا درود شریف) یا کوئی بھی دوسرا درود شریف پڑھا جس سکتا تاہم اوّل و آخر پڑھے جانے والے اِس درود شریف کا شمار طاق یعنی گیارہ گیارہ مرتبہ رکھا جائے گا۔ درود شریف پڑھتے ہوئے صاحب درود ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت‘ خلوص اُور توجہ کا اظہار کرنا ہے‘ جس کے لئے ٹھہر ٹھہر کر اُور الفاظ پر غور کرنا ضروری ہے۔ ہر سورت کے شروع میں ’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ پڑھنی ہے۔ بہتر ہے اِس وظیفے کو نماز فجر کی ادائیگی سے فارغ ہونے کے بعد اُسی مقام پر بیٹھ کر پڑھا جائے جہاں نماز فجر ادا کی گئی ہو لیکن اگر ایسا ممکن نہ ہو تو دن کے کسی بھی وقت اُور کسی بھی مقام پر اِسے حسب فرصت پڑھا جا سکتا ہے۔ ہدایت ہے کہ نمازِ فجر کے بعد کسی سے بات چیت کئے بغیر اُور اُسی مقام پر اشراق کی نماز تک بیٹھ کر یہ وظیفہ عبادات کے معمولات کا جز بنا لیا جائے تو سونے پر سہاگہ ہوگا۔ نماز فجر‘ مذکورہ وظیفہ اُور نماز چاشت کی ادائیگی کے بعد پانی پر دم کیا جائے اُور یہ پانی خود اُور گھر کے تمام افراد کو پلایا جائے تو یہ نہ صرف موجودہ وبائی اُور پریشان کن صورتحال کے لئے مفید رہے گا بلکہ عمومی حالات میں بھی اِس وظیفے کے خاص فوائد (اثرات) ہیں اُور انہیں دیگر عبادات کی طرح معمولات میں شامل کر لیا جائے تو حسب تلقین (اِن شا اللہ) ”دنیا و آخرت میں کامیابی ہوگی۔“

آستانہ عالیہ قادریہ حسنیہ (اَمیریہ) پشاور (اندرون یکہ توت گیٹ) کی روح رواں سیّد نورالحسنین قادری گیلانی المعروف سلطان آغا سجادہ نشین ابوالبرکات سیّد حسن بادشاہ نے کورونا وبا کے شروع دن سے مریدوں اُور عقیدت مندوں کو احتیاط کا مشورہ دیا اُور آستانہ عالیہ پر ہر قمری ماہ کی گیارہ تاریخ کو ہونے والے ختم غوثیہ اُور دیگر جملہ اجتماعی تقاریب و عبادات کو منسوخ کر دیا لیکن محافل ذکر و اَذکار اُور وظائف کا سلسلہ اِنفرادی حیثیت سے جاری رکھا گیا‘ جس میں مریدوں اُور عقیدت مندوں کی ایک بڑی تعداد آن لائن ذرائع (انٹرنیٹ) کی مدد سے شریک ہوتی ہے۔ سال ہا سال کا معمول تھا کہ ہجری ماہ و سال کی ترتیب کے اعتبار سے مولوی جیؒ کے عرس مبارک کے سلسلے تقاریب کا عموماً آغاز رمضان المبارک کے پہلے عشرے کے اختتام کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا‘ جو رمضان المبارک کے دوسرے عشرے کے اختتام تک یہاں وہاں جاری رہتا تاہم اِس مرتبہ (1441ہجری) عرس مبارک کی تقاریب کے سلسلے میں ختم قرآن‘ ختم غوثیہ‘ محافل حمد و نعت‘ منقبت اُور شبینہ کا انعقاد بھی انتہائی سادگی سے (محدود پیمانے پر) کیا گیا جس میں صرف اہل خانہ اُور قرابت داروں کے علاوہ مریدوں کی اِنتہائی قلیل تعداد شریک ہوئی۔ اہل تصوف کی جانب سے کورونا وبا کے حوالے سے طبی ماہرین کے مشوروں کو سنجیدگی سے لینا اپنی جگہ قابل ذکر ہے بالخصوص ایک ایسے ماحول میں جہاں اجتماعی عبادات ترک کرنے اُور حکومت کی جانب سے قواعد (SOPs) پر خاطرخواہ عمل درآمد دیکھنے میں نہیں آرہا اُور اگر صرف پشاور کی بات کی جائے تو خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع (علاقوں) کی نسبت یہاں کورونا وبا سے متاثرین اُور اموات کی شرح صرف صوبائی ہی نہیں بلکہ قومی سطح پر زیادہ ہونے کی وجہ بھی یہی ہے کہ مختلف صورتوں میں قیادت کے منصب پر فائز شخصیات اُور گھرانوں نے اپنی قائدانہ ذمہ داریاں اَدا نہیں کیں اُور یہی وجہ رہی کہ عوام کے ذہنوں میں شکوک و شبہات سرایت کر چکے ہیں۔ کورونا وبا سے محفوظ رہنے کے لئے مذہبی قائدین کو ’رہنما کردار‘ اَدا کرنے کی ضرورت ہے اُور اِس سلسلے میں دیگر کئی آستانوں اُور مدارس کی طرح پشاور شہر کے اہل تصوف نے جو عملی اُور روشن مثال قائم کی ہیں وہ پشاور سے محبت کی بھی آئینہ دار (عکاس) ہیں کہ اِس شہر اُور یہاں کے رہنے والوں کی نسل در نسل عقیدت و احترام کا جواب دیتے ہوئے ’اہل تصوف‘ نے بھی محبت ہی سے جواب دیا ہے۔

کورونا وبا سے ممکنہ بچاو  کے لئے جہاں طبی ماہرین اُور حکومت مشورے دے رہی ہے‘ وہیں اہل طریقت کی جانب سے بھی ’روحانی مشورہ‘ لائق توجہ ہے جو ’نسخہ ¿ شفا (قرآن کریم و مجید)‘ سے آیات کریمہ کے ورد پر مشتمل ہے اُور اِس کی متعلقہ عوامی حلقوں میں تشہیر کے لئے ذرائع ابلاغ بشمول سوشل میڈیا کے وسائل سے زیادہ سے زیادہ استفادہ ہونا چاہئے کیونکہ کسی مسلمان کے لئے آسانی ہو یا مشکل‘ دکھ ہو یا سکھ‘ خوشی ہو یا غم‘ ہر ساعت اپنی توجہات اللہ تعالیٰ کی طرف مائل کرنے اُور عبادات و نسخہ  کیمیا (قرآن مجید کی آیات) کے ذریعے نجات و رہائی طلب کرنی چاہئے ۔علاو ¿ہ ازیں تاج آغا کی جانب سے پانچ وقت کی فرض اُور تہجد کی نمازیں باقاعدگی سے ادا کرنے کی تلقین کرتے ہوئے توجہ دلائی گئی ہے کہ .... ”اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی آزمائش و امتحان کی موجودہ گھڑی میں اُٹھتے بیٹھتے اُور چلتے پھرتے (دل ہی دل میں) ’استغفر اللہ‘ کا ورد بھی کیا جائے کہ مصیبت کی یہ گھڑی اگر (کسی بھی صورت) ٹل سکتی ہے تو وہ صرف اُور صرف رب تعالیٰ کی مرضی ہی سے ہوگی کیونکہ بلاشک و شبہ زندگی‘ موت اُور شفا اُسی (خالق و مالک ِکائنات) کے ہاتھ میں ہے‘ جو رحمان‘ رحیم و کریم ہونے کے ساتھ اپنی حکمتوں کو زیادہ بہتر سمجھتا ہے۔
........

Page 1/3

Page 2/3
Page 3/3

Friday, May 20, 2016

May2016 Leading role of leaders!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
کنارہ کشی‘ آخر کیوں ؟
خودکشی ’حرام‘ فعل ہے بالکل اِسی طرح سیاست کے تطہیری عمل سے ایک ایسے فیصلہ کن موڑ پر اظہار لاتعلقی کرنا بھی ’اجتماعی مفاد‘ کے نکتۂ نظر سے ’حرام‘ ہی تصور ہوگا جبکہ معاشرے کو تعمیری و مثبت سوچ رکھنے والے ’اصلاح کاروں (سیاست دانوں) کی اَشد ضرورت ہے۔ پشاور کے معروف سادات و سرتاج ’گیلانی‘ گھرانے سے تعلق رکھنے والے ’سلسلۂ قادریہ حسنیہ‘ کے چشم و چراغ ’سیّد محمد سبطین گیلانی‘ اَلمعروف ’تاج آغا‘ نے سیاست سے ’کنارۂ کشی‘ کا اعلان کیا ہے۔ آپ کا سیاسی تعلق طویل عرصے تک ’جمعیت علمائے پاکستان‘ کے اُس دھڑے سے رہا‘ جو اگرچہ پارلیمانی سیاست میں عددی اعتبار سے ’انتخابی کامیابیاں‘ حاصل نہیں کرتا (کیونکہ وہ انتخابی دھاندلی اور جوڑ توڑ کی سیاست پر یقین نہ رکھنے والوں میں شامل ہے) لیکن یہ بھی ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اندرون شہر کے اِس گیلانی خاندان کے حمایت یافتہ کسی بھی اُمیدوار کی بالخصوص پشاور کے سیاسی منظرنامے میں کامیابی لازمی تصور کی جاتی ہے۔ بلاتھکان ہر خاص و عام کو گرجدار آواز میں دعائیں دیتے‘ غمزدہ افراد کو گلے لگانے اور داد و عنایات بانٹنے والے سخاوت کا حوالہ رکھنے والے دُرویش بہ لقب ’تاج آغا‘ پشاور کی علمی ادبی‘ سیاسی و ثقافتی اور ہندکو زبان کے سرپرست گھرانے کے چشم و چراغ ہیں جن کی قیام پاکستان کی جدوجہد میں خدمات کا مستند حوالہ مملکت خداداد کی تاریخ کا باب ہے اور ایک دنیا اُن کے فیوض و برکات سے آشنا و بہرہ مند ہے۔

پیر طریقت سیّد محمد امیر شاہ گیلانی رحمۃ اللہ علیہ المعروف مولوی جی نے ورثے میں جو نیک نامی‘ ساکھ اُور روحانی اُولاد چھوڑی ہے اُس کی سرپرستی و تربیت کا فریضہ آپؒ کے جانشین خنداں پیشاں‘ سیّد محمد نور الحسنین گیلانی المعروف سلطان آغا بخوبی سرانجام دے رہے ہیں جنہوں نے روحانی محاذ پر ڈٹ کر تصوف و روحانیت کے چراغوں کی لو میں اضافہ کیا ہے۔ دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اِس گھرانے کو تاقیامت سلامت وآباد رکھے جو پشاور کا ایک مستند حوالہ اور ایک ایسی عظیم خانقاہ کا تسلسل ہے جس کے دروازے علم و دین اور خیر کے طلبگار کے لئے ہمیشہ اور ہمہ وقت کھلے رہتے ہیں۔ تصور کیجئے کہ امن و امان کے بدترین حالات میں بھی اندرون یکہ توت‘ کوچہ آقا پیر جان میں واقع ’آستانہ عالیہ حسنیہ‘ کے در دولت پر دستک دینے والوں کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں تھا‘ جو جب چاہے حاضر ہو کر اپنا مدعا خانوادۂ اہل بیت کے حضور بیان کرسکتا ہے اور آج بھی ہر ماہ کی گیارہ تاریخ‘ بعد نماز فجر ’ختم غوثیہ‘ کا اہتمام جبکہ ہر شام ہی کسی نہ کسی مناسبت سے نعتیہ اور محافل مقاصدیہ کا انعقاد باقاعدگی سے ہونا ایک معمول ہے جبکہ اس کے علاؤہ پشاور سے کراچی تک محافل غوثیہ کے انعقاد میں بھی اِسی گھرانے کی سرپرستی سے ہوتا ہے‘ جس کی برکات ہیں کہ پاکستان باوجود اپنوں کی لوٹ مار اُور غیروں کی سازشوں کے باوجود قائم ودائم اور مشہور و مشہود ہے۔

گرامی قدر ’تاج آغا‘ کی جانب سے صرف ’جمعیت علمائے پاکستان‘ ہی سے نہیں بلکہ عملی سیاست سے علیحدگی کے ایک اعلان کا سبب یقیناًاُن کے روحانی درجات و کمالات اور مرتبے میں اضافے کی وجہ سے بھی ہے جس نے اُنہیں کم گو اور گوشہ نشین کر دیا ہے اور اب اُن کا زیادہ تر وقت مکۃ المکرمہ و مدینہ منورہ کی پرنور و باشعور فضاؤں میں گزرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس کسی کا تعلق متواتر اور مسلسل ’سلسلۂ نور‘ سے ہو جائے اُس کے لئے دیگر دنیاوی چیزیں‘ رتبے مراتب اور اسباب دنیا بے معنی و بے وقعت ہو جاتے ہیں لیکن شاید ’تاج آغا‘ یہ بات بھول گئے ہیں کہ اُن کے کندھوں پر ’اُمت کی اصلاح کی ذمہ داری‘ بھی عائد ہے۔ وہ منبر کے وارث ہیں۔ سیّد گھرانے کے چشم و چراغ ہونے کے ناطے اُنہیں روحانی و علمی اور عملی رہنمائی کے لئے اپنے آپ کو وقف کرنا پڑے گا۔

 مکر و فریب‘ جھوٹ‘ ریاکاری اور دغابازی پر مبنی کھیل تماشوں کے شائقین سے کھچا کھچ بھرے ہوئے سیاست کے میدان کی تمثیل عصر حاضر کے ’کربلا‘ سے دی جاسکتی ہے جس میں حق و صداقت کو ایک مرتبہ پھر ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ یہ وقت غاصبوں کی بیعت سے انکار کرنے کا ہے۔ انتخابی دھاندلی‘ مالی و انتظامی بدعنوانی اور تعصب پر مبنی سیاست پر یقین رکھنے والوں کی اکثریت کا مقابلہ کرتے ہوئے بھوک و پیاس جیسی چند ایک نہیں بلکہ کئی مخالف و شیطانی قوتوں کا ’’مردانہ وار مقابلہ‘‘ کرنے کی اِس ’امتحانی گھڑی‘ اگر کوئی سادات گھرانے کا ’صاحب وقار معالج‘ اپنی ذات اُور اپنے آپ میں ڈوب کر زندگی بسر کرنا چاہتا ہے اُور گردوپیش پھیلی غربت و افلاس‘ مسائل و مشکلات اور گمراہی کا علاج کرنے کے لئے خود کو وقف نہیں کرتا‘ اُور اپنے عزیز ترین مقاصد و آسائشوں کی قربانی نہیں دیتا تو یہ ’مجرمانہ غفلت (حرام)‘ اُور سادات کرام کے رتبے و مقام کے شایان شان نہیں‘ جو دنیا میں عدل و احترام اِنسانیت عام کرنے کے لئے نازل ہوا۔

قیام پاکستان کے وقت قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی ’مسلم لیگ‘ سے وابستہ رہے پشاور کا یہ سرتاج سادات گھرانہ بعدازاں ’جمعیت علمائے پاکستان‘ کے پلیٹ فارم سے ’مجاہد ملت علامہ شاہ اَحمد نورانی رحمۃ اللہ علیہ‘ کے شانہ بشانہ کھڑا دکھائی دیا‘ جنہوں نے ’ختم نبوت‘ کی تحریک کو کمال شان سے آگے بڑھایا اُور پاکستان کے موجودہ آئین کے تشکیلی مراحل سے لے کر ’توہین رسالت‘ سے متعلق قوانین کے تحفظ‘ رویت ہلال‘ روحانی و تصوف کے موضوعات پر وعظ و تلقین‘ دروس قرآن اور علمی و ادبی محافل کے انعقاد میں بھی یہی گھرانہ پیش پیش رہا تو کیا موجودہ اَبتر سیاسی و غیریقینی و گھٹن کے سیاسی ماحول میں خود کو ’مسجد و منبر تک‘ محدود کرلینا کسی ’صاحب شان‘ کے ’حسب شان‘ ہو سکتا ہے؟ (گستاخی کی معافی چاہتے ہوئے) موجودہ حالات میں جبکہ ’خانقاہوں سے نکل کر رسم شبیریؓ‘ اَدا کرنے کی ضرورت ہے تو ’تاج آغا‘ سمیت جملہ اہل مراتب و مقام اور نظریاتی سیاست پر یقین و عہد رکھنے والے حب الوطن سیاست (اصلاح کاروں) سے دست بستہ درخواست ہے کہ وہ ’انصاف و عدل‘ کی منزل تک رسائی سے قبل ہی عملی سیاسی جدوجہد سے خود کو الگ نہ کریں بلکہ اگر کسی ایک سیاسی جماعت سے اُنہیں حسب حال تیزرفتار بہتری کی اُمید نہیں رہی تو ایسی تحریک (صورت) موجود ہے جو انقلاب و جنون کے ذریعے تبدیلی اور ایک نئے پاکستان کی تشکیل کا عزم رکھتی ہے۔

 موروثی سیاست کی دلدل میں دھنسنے سے اچھا ہے کہ ’تبدیلی کے سرسبز و شاداب‘ چمن زار میں قدم رکھا جائے۔ اُس پرچم (علم) کو تھام لیا جائے‘ جس پر سرخ رنگ ’شہادت و جدوجہد کی دائمی تحریک کے قائد اِمام عالی مقام حضرت اِمام حسین رضی اللہ عنہ‘ سے منسوب کیا جاسکتا ہے تو دوسرے رنگ کو دیکھ کر نواسۂ رسول سبزقبا حضرت اِمام حسن رضی اللہ عنہ کی یاد آتی ہے‘ جن کی سیاست‘ فہم و فراست اُمت مسلمہ کے مفاد کے لئے اپنے مفادات کی قربانی دینے پر مبنی اسلامی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔