Showing posts with label CoronaVirus. Show all posts
Showing posts with label CoronaVirus. Show all posts

Saturday, June 13, 2020

Covid19 and Public Transport

سچائی کا سفر
پبلک ٹرانسپورٹ مستقل مسئلہ (دردِ سر) ہے اُور اِس درد کا مستقل بنیادوں پر حل (علاج) ہونا چاہئے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد ’حسب توقع‘ نہ تو کرایوں میں عملاً کمی ہوئی اُور نہ ہی بسوں میں گنجائش سے زیادہ مسافروں کو سوار کرنے جیسے عمومی طرزعمل (قانون شکنی) سے رجوع کیا گیا جو کورونا وبا کے ممکنہ پھیلاو ¿ کم کرنے کے لئے (حتی الوسع) ’سماجی فاصلے (social distancing)‘ سے متعلق حکومتی قواعد و ضوابط (SOPs) کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھی لیکن رواں ہفتے پبلک ٹرانسپورٹ مالکان کی جانب سے 2 اعلانات سامنے آئے کہ ایک تو بین الاضلاعی راستوں (روٹس) پر مقررہ کرائے کی شرح میں مزید کمی کر دی گئی ہے اُور دوسرا ’ایس اُو پیز‘ پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ یہ دونوں باتیں ذرائع ابلاغ نے فوری خبر (Breaking News) اُور شہ سرخیوں (Headlines) کے ساتھ بالکل اُسی اہتمام کے ساتھ شائع کیں‘ جس طرح پیٹرولیم مصنوعات اُور آٹے کی قیمتیں کم ہونے کے بارے میں عوام کو روزانہ ’خوش خبریاں‘ دی جاتی ہیں لیکن اِن خبروں کا زمینی حقائق سے تعلق نہیں ہوتا اُور نہ ہی خبر دینے سے پہلے اُس کے مندرجات کے بارے خاطرخواہ تحقیق کے عمل کو خاطرخواہ اہمیت دی جا رہی ہے جو صحافت کا پہلا اُور بنیادی اصول ہے۔ اِس سلسلے میں اُردو اُور انگریزی صحافت دو الگ الگ سمتوں اُور دو الگ الگ بلندیوں پر بھی اِس لئے دکھائی دے رہی ہیں کیونکہ دونوں کے ہاں حقائق کی تصدیق و جانچ کے لئے محنت کا معیار ایک جیسا نہیں۔

بنیادی طور پر کسی بھی آمدہ اطلاع کو خبر اُور بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اُور ذمہ داری کی ساتھ اَدا (شائع) کرنے سے قبل‘ اُس کی آزاد ذرائع یا اپنے طور پر تصدیق ہونی چاہئے۔ اِس بات کو عملاً اُور باآسانی ممکن بنایا جا سکتا ہے کہ 1: کوئی بھی خبر تصدیقی مراحل سے گزرے بغیر شائع یا نشر نہ ہو۔ 2: خبر ضروری ہوتی ہے اُس کو پیش کرنے کا انداز ضمنی اہمیت رکھتا ہے۔ بالخصوص صفحے کی خوبصورتی کے لئے خبروں کو دو‘ تین یا چار کالموں میں مزین و سجاوٹ کے لئے منتخب اُور نمایاں کرنے کا بھی کوئی نہ کوئی تو اصول بھی ہونا چاہئے کیونکہ صرف خبر کا ہونا ہی اہم اُور کافی نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ اِس میں سچ جھوٹ یا جھوٹ سچ کی آمیزش کا تناسب جاننے کا بھی پیمانہ ہونا چاہئے کیونکہ خبر کے ساتھ صحافتی اِدارے کی ساکھ اُور کاروباری مستقبل بھی جڑا ہوتا ہے۔

’سچائی‘ کا وہ سفر جو اِنفردی حیثیت سے جتماعی قالب میں ڈھل کر اپنی انتہائی (ترقی یافتہ) شکل (وجاہت) میں ”صحافت“ کہلاتا ہے اُور یہ لفظ اصطلاحاً صحیفے سے بھی ماخوذ ہے یعنی ایک ایسی دستاویز (صحیفہ) جو خالق کائنات کے مقدس کلام کی ترسیل سے منسوب ہے تو اِس بات میں کوئی حرج نہیں کہ اگر کسی خبر کی فوری تصدیق ممکن نہ ہو تو اُسے (تا دم تصدیق) روک کر شائع کر لیا جائے۔ درحقیقت صحافت کسی بھی شکل میں ہو لیکن اگر یہ ذمہ داری اُور اِحساس ذمہ داری کے ساتھ اَدا نہیں ہوتی تو پھر یہ ایک ایسا معمول بن جائے گی جس سے معاشرے میں نہ تو خیر اُور بہتری کی صورتیں برآمد ہوں گی اُور نہ ہی حکومتی سطح پر فیصلہ ساز اپنی ترجیحات کے تعین میں درست رہنمائی حاصل کر پائیں گے بلکہ عوام اُور حکمران دونوں ہی گمراہ ہوں گے کیونکہ اگر کسی نے اُن کی آنکھوں کی دھول جھونکنے کی کوشش کی ہے تو اُس کوشش (جھوٹ) کو کامیاب بنانے میں ذرائع ابلاغ بھی شریک ہو گئے ہیں اُور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے‘ جس سے صحافتی ذمہ داریاں ترتیب و تشکیل پاتی ہیں۔

عام آدمی (ہم عوام) کے نکتہ نظر سے عندیہ (خوش خبری) اگر صرف سماعتوں اُور بصارتوں ہی کی آسودگی کے لئے شائع کی جاتی ہے‘ تب تو ٹھیک (قابل فہم) ہے لیکن اگر ذرائع ابلاغ ”اَزرائے طنز و مذاق“ قیمتوں اُور نرخناموں میں کمی سے متعلق ایسی خبریں شائع کرتے ہیں کہ جن میں عوام کے لئے کسی ریلیف کا ذکر ہوتا ہے اُور برسرزمین حقیقت یا حقائق یکسر مختلف (برعکس) ہوتے ہیں تو یہ طرزِعمل اَمانت و دیانت کے اَصولوں کے منافی ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ ایسی خبریں (بالخصوص پرنٹ میڈیا جب شہ سرخیوں کے ساتھ) شائع کرتے ہیں تو اِس سے عوام کی نظروں میں بطور اِدارہ اِن کی اہمیت‘ فرض شناسی‘ ذمہ داری‘ صحافتی اَخلاقیات و اَقدار اُور سماجی کردار قابل اِعتبار و بھروسہ نہیں رہتا یقینا کوئی بھی شخص (قاری‘ ناظر و سامع) نہیں چاہے گا کہ جن حقائق سے اُسے عملی زندگی میں ہر روز واسطہ پڑ رہا ہے اُن سے متعلق خبرنگاری مصدقہ نہیں۔ اِس پورے تناظر کا تیسرا پہلو اُور ضرورت یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ کی توجہ (جملہ وسائل‘ رائے اُور جھکاو ¿) عوام کی طرفداری جانب مائل ہونی چاہئے۔ وہ کاروباری گروہ اُور طبقات جو اَجناس کی فروخت یا خدمات کی فراہمی جیسے شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں اگر اُنہیں یقین ہو کہ حکومت اُور ذرائع ابلاغ عوام کے مفادات کی حفاظت کرتے ہیں تو یوں کھلم کھلا لاقانونیت دیکھنے میں نہ آئے کہ اجناس میں ملاوٹ سے لیکر کم وزن‘ گرانفروشی اُور ذخیرہ اندوزی قانونی و اخلاقی و سماجی طور پر جرائم ہی تصور نہ ہوں۔

عوامی مفاد کیا ہوتا ہے؟
اِس کی حفاظت کس کی ذمہ داری اُور کیسے کی جائے؟
اِن تینوں امور سے متعلق سوچ بچار اُور لائحہ عمل ’طرزحکمرانی‘ کہلاتا ہے۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ کرائے ناموں کی شرح میں کمی تو بہت دور کی بات لیکن اگر ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ کے کرایوں پر صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی مقررہ کردہ شرح کے مطابق عمل درآمد اُور کورونا وبا سے متعلق حکومتی ہدایات کا احترام ضروری سمجھا جا رہا ہوتا تو صرف پشاور میں گزشتہ چند دنوں کے دوران ’1200ٹرانسپورٹرز‘ کو جرمانے اُور 4 بس اڈے سربمہر نہ کئے گئے ہوتے! لائق توجہ یہ بھی ہے کہ اگر نجی شعبے کی اجارہ داری سے چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے امور صوبائی دارالحکومت ہی میں تسلی بخش نہیں تو صوبائی حکمرانوں اُور متعلقہ فیصلہ سازوں نے کس بنیاد (جواز) پر یقین کر لیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے دور دراز اضلاع اُور علاقوں پبلک ٹرانسپورٹرز مسافروں (صارفین) کو لوٹ نہیں رہی اُور سب سے بڑھ کر احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے کورونا وبا کے پھیلانے کا باعث بن رہی ہے۔ ’صوبائی ٹرانسپورٹ اٹھارٹی‘ اُور ’پبلک ٹرانسپورٹ اُونرز ایسوسی ایشن‘ گٹھ جوڑ سے پیدا ہونے والی صورتحال پر قابو پانے کے لئے ضلعی انتظامیہ (کمشنری نظام) کام آ رہا ہے‘ جنہیں جرمانہ اُور سزائیں دیتے ہوئے صرف خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے مرکزی اُور ضلعی دفاتر میں تنخواہیں اُور مراعات باقاعدگی سے وصول کرنے والوں کے خلاف بھی کاروائی کرنی چاہئے جو مسافروں کی جان و مال کے تحفظ‘ سہولیات کی فراہمی اُور مقررہ شرح سے زائد کرایوں کی وصولی سے متعلق قوانین اُور قواعد شکنی میں برابر (یکساں) شریک جرم (ملوث) ہیں۔
مرا نصیب ہوئیں تلخیاں زمانے کی
کسی نے خوب سزا دی ہے مسکرانے کی
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے ہر ٹھکانے کی (اَزہر درانی)
....
Clipping from Editorial Page of Daily Aaj - June 13, 2020 Saturday
Editorial Page of  Daily Aaj - June 13, 2020 Saturday


Wednesday, June 10, 2020

COLUMN: Wazifa (Benefice) as shield and stay safe from Corona Virus!

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
روحانی مشورہ
پشاور کے سرتاج سادات گھرانے کے روحانی‘ علمی‘ اَدبی اُور سیاسی کردار کو حالات حاضرہ کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے‘ نئی بلندیوں سے روشناس کرانے اُور تصوف (احسان و سلوک) کی تعلیمات عام کرنے میں مصروف عمل نورِچشمی سیّد نور السبطین قادری گیلانی المعروف تاج آغا نے طبی ماہرین کے مشوروں پر عمل کرنے اُور کورونا وبا کے بارے میں سنجیدگی و ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ زندگی کی قریب ستر بہاریں دیکھنے والے تاج آغا (پیدائش گیارہ نومبر اُنیس سو اکیاون) پیرطریقت سیّد محمد اَمیر شاہ قادری گیلانی المعروف مولوی جی رحمة اللہ علیہ کے فرزند ارجمند ہیں جنہوں نے کورونا وبا سے بچاو کے لئے خصوصی وظیفہ عنایت کرتے ہوئے اِسے ہر خاص و عام تک پہنچانے کی تلقین کی ہے۔ یہ وظیفہ قرآن کریم کی مختلف سورتوں اُور وظیفہ شروع کرنے سے اوّل و آخر خاص ترتیب و تعداد سے درود شریف پر مشتمل ہے۔

ایک ہی نشست میں باوضو‘ قبلہ رو بیٹھ کر سورہ فاتحہ (تین مرتبہ)۔ آیت الکرسی (تین مرتبہ)۔ سورہ یاسین (تین مرتبہ)۔ سورہ اخلاص (تین مرتبہ)۔ سورہ الم نشرح (پانچ مرتبہ) اُور سورہ کوثر (پانچ مرتبہ) تلاوت کرنی ہیں۔ اِس وظیفے کو شروع کرنے سے قبل گیارہ مرتبہ درود ابراہیمی (نماز کے دوران تشہد میں پڑھا جانے والا درود شریف) یا کوئی بھی دوسرا درود شریف پڑھا جس سکتا تاہم اوّل و آخر پڑھے جانے والے اِس درود شریف کا شمار طاق یعنی گیارہ گیارہ مرتبہ رکھا جائے گا۔ درود شریف پڑھتے ہوئے صاحب درود ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت‘ خلوص اُور توجہ کا اظہار کرنا ہے‘ جس کے لئے ٹھہر ٹھہر کر اُور الفاظ پر غور کرنا ضروری ہے۔ ہر سورت کے شروع میں ’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ پڑھنی ہے۔ بہتر ہے اِس وظیفے کو نماز فجر کی ادائیگی سے فارغ ہونے کے بعد اُسی مقام پر بیٹھ کر پڑھا جائے جہاں نماز فجر ادا کی گئی ہو لیکن اگر ایسا ممکن نہ ہو تو دن کے کسی بھی وقت اُور کسی بھی مقام پر اِسے حسب فرصت پڑھا جا سکتا ہے۔ ہدایت ہے کہ نمازِ فجر کے بعد کسی سے بات چیت کئے بغیر اُور اُسی مقام پر اشراق کی نماز تک بیٹھ کر یہ وظیفہ عبادات کے معمولات کا جز بنا لیا جائے تو سونے پر سہاگہ ہوگا۔ نماز فجر‘ مذکورہ وظیفہ اُور نماز چاشت کی ادائیگی کے بعد پانی پر دم کیا جائے اُور یہ پانی خود اُور گھر کے تمام افراد کو پلایا جائے تو یہ نہ صرف موجودہ وبائی اُور پریشان کن صورتحال کے لئے مفید رہے گا بلکہ عمومی حالات میں بھی اِس وظیفے کے خاص فوائد (اثرات) ہیں اُور انہیں دیگر عبادات کی طرح معمولات میں شامل کر لیا جائے تو حسب تلقین (اِن شا اللہ) ”دنیا و آخرت میں کامیابی ہوگی۔“

آستانہ عالیہ قادریہ حسنیہ (اَمیریہ) پشاور (اندرون یکہ توت گیٹ) کی روح رواں سیّد نورالحسنین قادری گیلانی المعروف سلطان آغا سجادہ نشین ابوالبرکات سیّد حسن بادشاہ نے کورونا وبا کے شروع دن سے مریدوں اُور عقیدت مندوں کو احتیاط کا مشورہ دیا اُور آستانہ عالیہ پر ہر قمری ماہ کی گیارہ تاریخ کو ہونے والے ختم غوثیہ اُور دیگر جملہ اجتماعی تقاریب و عبادات کو منسوخ کر دیا لیکن محافل ذکر و اَذکار اُور وظائف کا سلسلہ اِنفرادی حیثیت سے جاری رکھا گیا‘ جس میں مریدوں اُور عقیدت مندوں کی ایک بڑی تعداد آن لائن ذرائع (انٹرنیٹ) کی مدد سے شریک ہوتی ہے۔ سال ہا سال کا معمول تھا کہ ہجری ماہ و سال کی ترتیب کے اعتبار سے مولوی جیؒ کے عرس مبارک کے سلسلے تقاریب کا عموماً آغاز رمضان المبارک کے پہلے عشرے کے اختتام کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا‘ جو رمضان المبارک کے دوسرے عشرے کے اختتام تک یہاں وہاں جاری رہتا تاہم اِس مرتبہ (1441ہجری) عرس مبارک کی تقاریب کے سلسلے میں ختم قرآن‘ ختم غوثیہ‘ محافل حمد و نعت‘ منقبت اُور شبینہ کا انعقاد بھی انتہائی سادگی سے (محدود پیمانے پر) کیا گیا جس میں صرف اہل خانہ اُور قرابت داروں کے علاوہ مریدوں کی اِنتہائی قلیل تعداد شریک ہوئی۔ اہل تصوف کی جانب سے کورونا وبا کے حوالے سے طبی ماہرین کے مشوروں کو سنجیدگی سے لینا اپنی جگہ قابل ذکر ہے بالخصوص ایک ایسے ماحول میں جہاں اجتماعی عبادات ترک کرنے اُور حکومت کی جانب سے قواعد (SOPs) پر خاطرخواہ عمل درآمد دیکھنے میں نہیں آرہا اُور اگر صرف پشاور کی بات کی جائے تو خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع (علاقوں) کی نسبت یہاں کورونا وبا سے متاثرین اُور اموات کی شرح صرف صوبائی ہی نہیں بلکہ قومی سطح پر زیادہ ہونے کی وجہ بھی یہی ہے کہ مختلف صورتوں میں قیادت کے منصب پر فائز شخصیات اُور گھرانوں نے اپنی قائدانہ ذمہ داریاں اَدا نہیں کیں اُور یہی وجہ رہی کہ عوام کے ذہنوں میں شکوک و شبہات سرایت کر چکے ہیں۔ کورونا وبا سے محفوظ رہنے کے لئے مذہبی قائدین کو ’رہنما کردار‘ اَدا کرنے کی ضرورت ہے اُور اِس سلسلے میں دیگر کئی آستانوں اُور مدارس کی طرح پشاور شہر کے اہل تصوف نے جو عملی اُور روشن مثال قائم کی ہیں وہ پشاور سے محبت کی بھی آئینہ دار (عکاس) ہیں کہ اِس شہر اُور یہاں کے رہنے والوں کی نسل در نسل عقیدت و احترام کا جواب دیتے ہوئے ’اہل تصوف‘ نے بھی محبت ہی سے جواب دیا ہے۔

کورونا وبا سے ممکنہ بچاو  کے لئے جہاں طبی ماہرین اُور حکومت مشورے دے رہی ہے‘ وہیں اہل طریقت کی جانب سے بھی ’روحانی مشورہ‘ لائق توجہ ہے جو ’نسخہ ¿ شفا (قرآن کریم و مجید)‘ سے آیات کریمہ کے ورد پر مشتمل ہے اُور اِس کی متعلقہ عوامی حلقوں میں تشہیر کے لئے ذرائع ابلاغ بشمول سوشل میڈیا کے وسائل سے زیادہ سے زیادہ استفادہ ہونا چاہئے کیونکہ کسی مسلمان کے لئے آسانی ہو یا مشکل‘ دکھ ہو یا سکھ‘ خوشی ہو یا غم‘ ہر ساعت اپنی توجہات اللہ تعالیٰ کی طرف مائل کرنے اُور عبادات و نسخہ  کیمیا (قرآن مجید کی آیات) کے ذریعے نجات و رہائی طلب کرنی چاہئے ۔علاو ¿ہ ازیں تاج آغا کی جانب سے پانچ وقت کی فرض اُور تہجد کی نمازیں باقاعدگی سے ادا کرنے کی تلقین کرتے ہوئے توجہ دلائی گئی ہے کہ .... ”اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی آزمائش و امتحان کی موجودہ گھڑی میں اُٹھتے بیٹھتے اُور چلتے پھرتے (دل ہی دل میں) ’استغفر اللہ‘ کا ورد بھی کیا جائے کہ مصیبت کی یہ گھڑی اگر (کسی بھی صورت) ٹل سکتی ہے تو وہ صرف اُور صرف رب تعالیٰ کی مرضی ہی سے ہوگی کیونکہ بلاشک و شبہ زندگی‘ موت اُور شفا اُسی (خالق و مالک ِکائنات) کے ہاتھ میں ہے‘ جو رحمان‘ رحیم و کریم ہونے کے ساتھ اپنی حکمتوں کو زیادہ بہتر سمجھتا ہے۔
........

Page 1/3

Page 2/3
Page 3/3

Thursday, February 27, 2020

KP Response to Corona Virus!

ستائیس فروری دوہزار بیس

....کورونا وائرس: حفظ ماتقدم....
محکمہ صحت خیبرپختونخوا کی جانب سے ’کورونا وائرس‘ سے بچاو کے لئے 8 نکاتی ’ہدایات نامہ‘ (چھبیس فروری کی شب‘ سیکرٹری صحت کے دستخطوں سے) جاری ہوا‘ جس کا عنوان ’کورونا وائرس: حفظ ماتقدم (Precaustions - Corona Virus)‘ رکھا گیا ہے اُور اِس کے ذریعے صوبائی سطح پر علاج معالجے کے تمام مراکز اُور ماتحت اداروں کے منتظمین کو آگاہ (خبردار) کر دیا گیا ہے لیکن ایک ضرورت یہ بھی ہے کہ طب سے تعلیم سے جڑے نجی تعلیمی اِداروں کو بھی مخاطب کیا جائے اُور اِس سلسلے میں الگ سے غوروخوض کیا جائے۔ حکومت ذرائع ابلاغ کا استعمال کب کرے گی جبکہ ’کورونا وائرس‘ کے اکا دکا کیسیز ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ توجہات مرکوز رہیں کہ ایسے تدریسی مراکز جہاں طلباءو طالبات مقیم (ہاسٹل) رہتے ہیں اُور چاہے اُن کا تعلق طب یا کسی بھی دوسرے اعلیٰ و ادنیٰ تعلیمی نظم وضبط سے ہے‘ ضروری ہو گیا ہے کہ وہاں کورونا وائرس سے بچاو اُور اِس کے ممکنہ ظہور کی صورت الگ الگ حکمت عملیاں وضع اُور لاگو کی جائیں۔

کورونا وائرس کے پاکستان میں ظاہر ہونے کے بعد سے صورتحال عوامی تشویش کی حد تک تو سنگین دکھائی دیتی ہے لیکن اِس سلسلے میں وفاقی اُور صوبائی حکومتوں کی جانب سے تاحال ’یومیہ حالات نامہ (daily-briefing)‘ کا اہتمام نہیں کیا گیا ہے۔ تصور محال نہیں کہ ایک ایسی حکومت کہ جو آٹے‘ چینی اُور دیگر خوردنی اجناس جیسی نظر آنے والی چیزوں کی قیمت‘ غیرقانونی ذخیرہ اندوزی‘ گراں فروشی (ناجائز منافع خوری اُور اِن کی غیرقانونی نقل و حمل کنٹرول کرنے میں اپنی ناکامی کا اعتراف کر چکی ہو‘ اُس سے یہ توقع رکھی جائے کہ وہ ’کورونا وائرس‘ جیسے نہ نظر آنے والے خطرے کے خدانخواستہ وبا کی صورت پھیلانے (پھوٹ پڑنے) کی صورت خاطرخواہ بڑے پیمانے پر اقدامات کرے گی یقینا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ بہرحال سوائے عام آدمی (ہم عوام) کے پاس اِس کے علاو ¿ہ کوئی دوسری صورت (آپشن) نہیں رہا لیکن ’حفظ ماتقدم‘ کے طور پر سامنے آنے والی خیبرپختونخوا حکومت کے محکمہ ¿ صحت کی ہدایات (نصیحتوں) پر عمل کیا جائے جو کہتا ہے کہ
1: دفاتر اُور سماجی سطح پر ایک دوسرے بغل گیر ہونے اُور ہاتھ ملانے (معانقہ و مصافحہ) جیسے روایتی روزمرہ اقدامات (معمولات) سے اجتناب برتا جائے۔
2: تمام دفاتر میں ’بائیو میٹرک شناخت (انگوٹھے کی مدد سے) حاضری لگانے کا طریقہ کار (تاحکم ثانی) معطل رکھا جائے۔
3: سیڑھیوں اُور در و دیوار پر لگے ہوئے آلات‘ ریلنگز‘ کھڑکیوں کے دستوں (ہینڈلز) کو بلاضرورت نہ چھو جائے اُور ضرورت پڑنے پر اِنہیں ننگے ہاتھوں سے نہ چھوا جائے۔ دفاتر کے اوقات میں دروازے کھلے رکھے جائیں تاکہ دفتری ملازمین اُور رجوع کرنے والے سائلین کو بار بار اِنہیں کھولنے یا بند کرنے (چھونے) کی ضرورت نہ پڑے۔
4: اِسی طرح کے حفاظتی اقدامات و انتظامات اُن آلات کے لئے بھی اختیار کئے جائیں جن کا استعمال انتہائی ضروری ہے جیسا کہ کمپیوٹرز‘ فیکس مشین‘ ٹیلی فون وغیرہ لیکن اِنہیں چھونے سے اوّل الذکر احتیاطی تدابیر کو مدنظر رکھا جائے۔ وہ سبھی ملازمین جن کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے الیکٹرانک آلات کا استعمال کرتے ہیں‘ اُنہیں چاہئے کہ وہ کپڑے یا ربڑ کے ایسے دستانے (gloves) کا استعمال کریں جنہیں ایک بار استعمال کے بعد پھینکنا ممکن ہو۔ ایسے ڈسپوزبل دستانے (disposible-gloves) مارکیٹ میں باآسانی اُور ارزاں دستیاب ہوتے ہیں (جن کی قیمت یقینا انسانی جان سے زیادہ نہیں ہے)۔
5: اپنے گردوپیش پر نظر رکھی جائے۔ اگر کسی شخص کا جسمانی درجہ ¿ حرارت اچانک بڑھ جائے۔ اُسے متواتر کھانسی ہو۔ اُسے سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہو رہا ہو یا ہونے لگے اُور یہ علامات اچانک ظاہر ہو کر بڑھ رہی ہوں تو ایسے فرد (مرد یا عورت یا بچے) کو فوری طور پر طبی امداد کی ضرورت ہو گی‘ تاہم کسی بھی قسم کی ابتدائی طبی امداد سے پہلے ضرورت ہوگی کہ مشتبہ علیل شخص (مرد یا عورت) کو صحت مند افراد سے الگ رکھا جائے۔ گردوپیش میں زکام یا کھانسی کی علامات رکھنے والے افراد کو تمام وقت چہرے پر ماسک (Mask) پہننے کا مشورہ دیا جائے اُور اِس پابندی کو لازماً و عملا ممکن بنایا جائے کہ وہ ہر وقت اپنے چہرے کو ڈھانپے رہے۔ ایک ماسک زیادہ سے زیادہ ایک ہی دن استعمال ہونا چاہئے۔
6: کپڑے سے بنے ہوئے تولیے (towel) جہاں کہیں بھی زیراستعمال ہیں‘ اُن کی جگہ کاغذ کے ٹشو رکھے جائیں (جنہیں ایک مرتبہ استعمال کرنے کے بعد پھینک دیا جاتا ہے۔)
7: جہاں کہیں نزلہ‘ زکام‘ کھانسی اُور بخار جیسی علامات ظاہر ہوں یا معلوم ہوں تو ایسے شخص کو فوری طور پر اپنے معالج سے مشورہ کرنا چاہئے یا ایسے شخص کو لازماً طبی معاینے کے لئے قریبی ہسپتال لیجایا جائے۔
8: ہاتھ دھونے کی عادت اپنائی جائے۔ ہاتھ دھوتے وقت صابن کا استعمال کیا جائے۔ ہر تین سے چار گھنٹے کے بعد ایک مرتبہ صابن سے ہاتھ دھوئے جائیں۔ ہاتھ دھونے کا دورانیہ کم سے کم20 سیکنڈ ہونا چاہئے۔ (عموماً دیکھنے میں آتا ہے کہ ہاتھوں کو پانی سے بھگونے کے فوراً بعد خشک کر لیا جاتا ہے لیکن بہتے ہوئے پانی کے نیچے یا ہاتھوں کو تر کر کے اُور صابن لگا کر چند منٹ اُنگلیوں کا خلال کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے جبکہ یہی وضو کرنے کا شرعی طریقہ بھی ہے‘ جس کی تعلیم و ترغیب مسجد و منبر اُور حجرے کے علاوہ سماجی رابطہ کاری کی وسائل (سوشل میڈیا) پر مشتہر ہونی چاہئے۔)

محکمہ صحت خیبرپختونخوا کی جانب سے مذکورہ ’8 ہدایات‘ جاری کرتے ہوئے سیکرٹری عابد مجید کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر ضروری ہوا‘ تو اِس سلسلے میں مزید ہدایات جاری کی جائیں گی۔

تعجب خیز ہے کہ
خیبرپختونخوا کے محکمہ صحت نے 8 نکاتی ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے اُن تفصیلات و انتظامات (حکمت عملی) کا کہیں ذکر نہیں کیا جو ’کورونا وائرس‘ کے پھیلنے یا خیبرپختونخوا کے بڑے شہروں بشمول صوبائی دارالحکومت پشاور کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔ اِس قسم کی عمومی ہدایات عالمی ادارہ صحت پہلے ہی جاری کر چکا ہے اُور سوشل میڈیا کے ذریعے اِس سے کہیں زیادہ اُور بہتر حفاظتی تدابیر سے متعلق عمومی خواندگی کی سطح کو ایک درجہ بلند کیا گیا ہے۔ وفاقی اُور صوبائی حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ عوام کو حفظ ماتقدم کے طور پر خبردار کرنے کی بجائے اپنی اُن ذمہ داریوں (فرائض) کا کماحقہ احساس کریں جن کے ذریعے وہ بیماری کے پھیلاو اُور اِس سے متاثرہ افراد کی تسلی و تشفی اُور خوف سے رہائی کے لئے کر سکتے ہیں!

دنیا کے 38 ممالک ’کورونا وائرس‘ (ایک لاعلاج مرض) سے نمٹ رہے ہیں اُور پاکستان اکیلا ایسا ملک نہیں کہ جہاں کورونا نامی جرثومے سے متاثرہ پہلے چند افراد (کیسیز) سامنے آ چکے ہیں لیکن دیگر سبھی ممالک اُور پاکستان میں فرق یہ ہے کہ وہاں وفاقی اُور صوبائی متعلقہ محکمے علاج معالجے کی سہولیات میں اضافے اُور ہنگامی بنیادوں پر الگ سے انتظامات کر رہے ہیں۔ ادارے متحرک ہیں۔ حکمرانوں کی نیند اُڑی ہوئی ہے۔ راتوں رات نئے ہسپتال بنا دیئے گئے ہیں۔ آبادیوں سے دور خیمہ بستیوں میں ہسپتال بنا کر متاثرہ مریضوں کو شہروں سے دور لیجایا جا رہا ہے۔ طبی عملے کی تعداد اُور علاج معالجے کے وسائل میں ہنگامی بنیادوں پر اضافہ کیا گیا ہے جبکہ پاکستان میں زبانی کلامی باتوں اُور گھریلو ٹوٹکوں سے ایک ایسے ’وائرس‘ کو شکست دینے کی سوچ پائی جاتی ہے‘ جو شاید بطور قومی یا صوبائی حکمت عملی کافی نہیں!

لمحہ فکریہ ہے کہ پاکستان اپنی زمینی سرحدیں بند کرنے میں ناکام رہا ہے۔ پاکستان اُن ممالک سے آنے والی پروازوں کو بھی تاحال بند کر سکا ہے جہاں کورونا وائرس کی موجودگی اُور بڑے پیمانے پر پھیلنے کا عمل جاری ہے اُور پاکستان نے بحری راستے سے ہونے والی اُس نقل و حمل اُور نقل و حرکت کو روکنا تاحال ضروری نہیں سمجھا ہے‘ جو ملک میں کورونا کے پہنچنے کا باعث بن سکتی ہے۔ کیا یہ مناسب وقت نہیں کہ چھوٹے بڑے عوامی (و عمومی) اجتماعات‘ حتیٰ کہ شادی بیاہ کی تقاریب کی صورت بہت سے لوگوں کے ایک جگہ جمع ہونے سے پیدا ہونے والے خطرات کے بارے عوام کو مطلع کیا جائے۔ سعودی عرب نے کورونا سے متاثرہ ممالک سے عمرہ زائرین پر پابندی عائد کر دی ہے اُور وہاں کے علماءاِس مطالبے کا بھی جائزہ لے رہے کہ کورونا وائرس جیسے ہنگامی حالات میں کیا حج کی سالانہ اِس سال عبادت منسوخ کر دینی چاہئے!



....