Showing posts with label Public Health. Show all posts
Showing posts with label Public Health. Show all posts

Thursday, February 27, 2020

KP Response to Corona Virus!

ستائیس فروری دوہزار بیس

....کورونا وائرس: حفظ ماتقدم....
محکمہ صحت خیبرپختونخوا کی جانب سے ’کورونا وائرس‘ سے بچاو کے لئے 8 نکاتی ’ہدایات نامہ‘ (چھبیس فروری کی شب‘ سیکرٹری صحت کے دستخطوں سے) جاری ہوا‘ جس کا عنوان ’کورونا وائرس: حفظ ماتقدم (Precaustions - Corona Virus)‘ رکھا گیا ہے اُور اِس کے ذریعے صوبائی سطح پر علاج معالجے کے تمام مراکز اُور ماتحت اداروں کے منتظمین کو آگاہ (خبردار) کر دیا گیا ہے لیکن ایک ضرورت یہ بھی ہے کہ طب سے تعلیم سے جڑے نجی تعلیمی اِداروں کو بھی مخاطب کیا جائے اُور اِس سلسلے میں الگ سے غوروخوض کیا جائے۔ حکومت ذرائع ابلاغ کا استعمال کب کرے گی جبکہ ’کورونا وائرس‘ کے اکا دکا کیسیز ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ توجہات مرکوز رہیں کہ ایسے تدریسی مراکز جہاں طلباءو طالبات مقیم (ہاسٹل) رہتے ہیں اُور چاہے اُن کا تعلق طب یا کسی بھی دوسرے اعلیٰ و ادنیٰ تعلیمی نظم وضبط سے ہے‘ ضروری ہو گیا ہے کہ وہاں کورونا وائرس سے بچاو اُور اِس کے ممکنہ ظہور کی صورت الگ الگ حکمت عملیاں وضع اُور لاگو کی جائیں۔

کورونا وائرس کے پاکستان میں ظاہر ہونے کے بعد سے صورتحال عوامی تشویش کی حد تک تو سنگین دکھائی دیتی ہے لیکن اِس سلسلے میں وفاقی اُور صوبائی حکومتوں کی جانب سے تاحال ’یومیہ حالات نامہ (daily-briefing)‘ کا اہتمام نہیں کیا گیا ہے۔ تصور محال نہیں کہ ایک ایسی حکومت کہ جو آٹے‘ چینی اُور دیگر خوردنی اجناس جیسی نظر آنے والی چیزوں کی قیمت‘ غیرقانونی ذخیرہ اندوزی‘ گراں فروشی (ناجائز منافع خوری اُور اِن کی غیرقانونی نقل و حمل کنٹرول کرنے میں اپنی ناکامی کا اعتراف کر چکی ہو‘ اُس سے یہ توقع رکھی جائے کہ وہ ’کورونا وائرس‘ جیسے نہ نظر آنے والے خطرے کے خدانخواستہ وبا کی صورت پھیلانے (پھوٹ پڑنے) کی صورت خاطرخواہ بڑے پیمانے پر اقدامات کرے گی یقینا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ بہرحال سوائے عام آدمی (ہم عوام) کے پاس اِس کے علاو ¿ہ کوئی دوسری صورت (آپشن) نہیں رہا لیکن ’حفظ ماتقدم‘ کے طور پر سامنے آنے والی خیبرپختونخوا حکومت کے محکمہ ¿ صحت کی ہدایات (نصیحتوں) پر عمل کیا جائے جو کہتا ہے کہ
1: دفاتر اُور سماجی سطح پر ایک دوسرے بغل گیر ہونے اُور ہاتھ ملانے (معانقہ و مصافحہ) جیسے روایتی روزمرہ اقدامات (معمولات) سے اجتناب برتا جائے۔
2: تمام دفاتر میں ’بائیو میٹرک شناخت (انگوٹھے کی مدد سے) حاضری لگانے کا طریقہ کار (تاحکم ثانی) معطل رکھا جائے۔
3: سیڑھیوں اُور در و دیوار پر لگے ہوئے آلات‘ ریلنگز‘ کھڑکیوں کے دستوں (ہینڈلز) کو بلاضرورت نہ چھو جائے اُور ضرورت پڑنے پر اِنہیں ننگے ہاتھوں سے نہ چھوا جائے۔ دفاتر کے اوقات میں دروازے کھلے رکھے جائیں تاکہ دفتری ملازمین اُور رجوع کرنے والے سائلین کو بار بار اِنہیں کھولنے یا بند کرنے (چھونے) کی ضرورت نہ پڑے۔
4: اِسی طرح کے حفاظتی اقدامات و انتظامات اُن آلات کے لئے بھی اختیار کئے جائیں جن کا استعمال انتہائی ضروری ہے جیسا کہ کمپیوٹرز‘ فیکس مشین‘ ٹیلی فون وغیرہ لیکن اِنہیں چھونے سے اوّل الذکر احتیاطی تدابیر کو مدنظر رکھا جائے۔ وہ سبھی ملازمین جن کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے الیکٹرانک آلات کا استعمال کرتے ہیں‘ اُنہیں چاہئے کہ وہ کپڑے یا ربڑ کے ایسے دستانے (gloves) کا استعمال کریں جنہیں ایک بار استعمال کے بعد پھینکنا ممکن ہو۔ ایسے ڈسپوزبل دستانے (disposible-gloves) مارکیٹ میں باآسانی اُور ارزاں دستیاب ہوتے ہیں (جن کی قیمت یقینا انسانی جان سے زیادہ نہیں ہے)۔
5: اپنے گردوپیش پر نظر رکھی جائے۔ اگر کسی شخص کا جسمانی درجہ ¿ حرارت اچانک بڑھ جائے۔ اُسے متواتر کھانسی ہو۔ اُسے سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہو رہا ہو یا ہونے لگے اُور یہ علامات اچانک ظاہر ہو کر بڑھ رہی ہوں تو ایسے فرد (مرد یا عورت یا بچے) کو فوری طور پر طبی امداد کی ضرورت ہو گی‘ تاہم کسی بھی قسم کی ابتدائی طبی امداد سے پہلے ضرورت ہوگی کہ مشتبہ علیل شخص (مرد یا عورت) کو صحت مند افراد سے الگ رکھا جائے۔ گردوپیش میں زکام یا کھانسی کی علامات رکھنے والے افراد کو تمام وقت چہرے پر ماسک (Mask) پہننے کا مشورہ دیا جائے اُور اِس پابندی کو لازماً و عملا ممکن بنایا جائے کہ وہ ہر وقت اپنے چہرے کو ڈھانپے رہے۔ ایک ماسک زیادہ سے زیادہ ایک ہی دن استعمال ہونا چاہئے۔
6: کپڑے سے بنے ہوئے تولیے (towel) جہاں کہیں بھی زیراستعمال ہیں‘ اُن کی جگہ کاغذ کے ٹشو رکھے جائیں (جنہیں ایک مرتبہ استعمال کرنے کے بعد پھینک دیا جاتا ہے۔)
7: جہاں کہیں نزلہ‘ زکام‘ کھانسی اُور بخار جیسی علامات ظاہر ہوں یا معلوم ہوں تو ایسے شخص کو فوری طور پر اپنے معالج سے مشورہ کرنا چاہئے یا ایسے شخص کو لازماً طبی معاینے کے لئے قریبی ہسپتال لیجایا جائے۔
8: ہاتھ دھونے کی عادت اپنائی جائے۔ ہاتھ دھوتے وقت صابن کا استعمال کیا جائے۔ ہر تین سے چار گھنٹے کے بعد ایک مرتبہ صابن سے ہاتھ دھوئے جائیں۔ ہاتھ دھونے کا دورانیہ کم سے کم20 سیکنڈ ہونا چاہئے۔ (عموماً دیکھنے میں آتا ہے کہ ہاتھوں کو پانی سے بھگونے کے فوراً بعد خشک کر لیا جاتا ہے لیکن بہتے ہوئے پانی کے نیچے یا ہاتھوں کو تر کر کے اُور صابن لگا کر چند منٹ اُنگلیوں کا خلال کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے جبکہ یہی وضو کرنے کا شرعی طریقہ بھی ہے‘ جس کی تعلیم و ترغیب مسجد و منبر اُور حجرے کے علاوہ سماجی رابطہ کاری کی وسائل (سوشل میڈیا) پر مشتہر ہونی چاہئے۔)

محکمہ صحت خیبرپختونخوا کی جانب سے مذکورہ ’8 ہدایات‘ جاری کرتے ہوئے سیکرٹری عابد مجید کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر ضروری ہوا‘ تو اِس سلسلے میں مزید ہدایات جاری کی جائیں گی۔

تعجب خیز ہے کہ
خیبرپختونخوا کے محکمہ صحت نے 8 نکاتی ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے اُن تفصیلات و انتظامات (حکمت عملی) کا کہیں ذکر نہیں کیا جو ’کورونا وائرس‘ کے پھیلنے یا خیبرپختونخوا کے بڑے شہروں بشمول صوبائی دارالحکومت پشاور کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔ اِس قسم کی عمومی ہدایات عالمی ادارہ صحت پہلے ہی جاری کر چکا ہے اُور سوشل میڈیا کے ذریعے اِس سے کہیں زیادہ اُور بہتر حفاظتی تدابیر سے متعلق عمومی خواندگی کی سطح کو ایک درجہ بلند کیا گیا ہے۔ وفاقی اُور صوبائی حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ عوام کو حفظ ماتقدم کے طور پر خبردار کرنے کی بجائے اپنی اُن ذمہ داریوں (فرائض) کا کماحقہ احساس کریں جن کے ذریعے وہ بیماری کے پھیلاو اُور اِس سے متاثرہ افراد کی تسلی و تشفی اُور خوف سے رہائی کے لئے کر سکتے ہیں!

دنیا کے 38 ممالک ’کورونا وائرس‘ (ایک لاعلاج مرض) سے نمٹ رہے ہیں اُور پاکستان اکیلا ایسا ملک نہیں کہ جہاں کورونا نامی جرثومے سے متاثرہ پہلے چند افراد (کیسیز) سامنے آ چکے ہیں لیکن دیگر سبھی ممالک اُور پاکستان میں فرق یہ ہے کہ وہاں وفاقی اُور صوبائی متعلقہ محکمے علاج معالجے کی سہولیات میں اضافے اُور ہنگامی بنیادوں پر الگ سے انتظامات کر رہے ہیں۔ ادارے متحرک ہیں۔ حکمرانوں کی نیند اُڑی ہوئی ہے۔ راتوں رات نئے ہسپتال بنا دیئے گئے ہیں۔ آبادیوں سے دور خیمہ بستیوں میں ہسپتال بنا کر متاثرہ مریضوں کو شہروں سے دور لیجایا جا رہا ہے۔ طبی عملے کی تعداد اُور علاج معالجے کے وسائل میں ہنگامی بنیادوں پر اضافہ کیا گیا ہے جبکہ پاکستان میں زبانی کلامی باتوں اُور گھریلو ٹوٹکوں سے ایک ایسے ’وائرس‘ کو شکست دینے کی سوچ پائی جاتی ہے‘ جو شاید بطور قومی یا صوبائی حکمت عملی کافی نہیں!

لمحہ فکریہ ہے کہ پاکستان اپنی زمینی سرحدیں بند کرنے میں ناکام رہا ہے۔ پاکستان اُن ممالک سے آنے والی پروازوں کو بھی تاحال بند کر سکا ہے جہاں کورونا وائرس کی موجودگی اُور بڑے پیمانے پر پھیلنے کا عمل جاری ہے اُور پاکستان نے بحری راستے سے ہونے والی اُس نقل و حمل اُور نقل و حرکت کو روکنا تاحال ضروری نہیں سمجھا ہے‘ جو ملک میں کورونا کے پہنچنے کا باعث بن سکتی ہے۔ کیا یہ مناسب وقت نہیں کہ چھوٹے بڑے عوامی (و عمومی) اجتماعات‘ حتیٰ کہ شادی بیاہ کی تقاریب کی صورت بہت سے لوگوں کے ایک جگہ جمع ہونے سے پیدا ہونے والے خطرات کے بارے عوام کو مطلع کیا جائے۔ سعودی عرب نے کورونا سے متاثرہ ممالک سے عمرہ زائرین پر پابندی عائد کر دی ہے اُور وہاں کے علماءاِس مطالبے کا بھی جائزہ لے رہے کہ کورونا وائرس جیسے ہنگامی حالات میں کیا حج کی سالانہ اِس سال عبادت منسوخ کر دینی چاہئے!



....

Saturday, January 6, 2018

Jan 2018: Lack of Burn Unit in KP, priorities exposed!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
جلے‘ اَن جلے: سکھ دُکھ!
خیبرپختونخوا میں طبی سہولیات کے معیار اُور دستیابی کا اَندازہ اِس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ دہشت گرد حملوں‘ آتشزدگی یا گھریلو و دیگر تنازعات کی وجہ سے آگ کے زخمی یا خودسوزی کرنے والوں کے علاج معالجے کے لئے صوبے میں ایک بھی خصوصی طبی سہولت (ہسپتال) موجود نہیں۔ زیادہ آسان یہی تھا کہ موجودہ ہسپتالوں میں ’برن یونٹ‘ قائم کئے جاتے اور ایسا کیا بھی گیا لیکن سب کچھ ’خانہ پری‘ کی حد تک محدود پیمانے پر ہے۔ 

صوبائی فیصلہ سازوں کی ترجیحات کا اندازہ لگانا بھی قطعی مشکل نہیں کہ جنہیں اِس بارے میں سوچنے اور حالات کی سنگینی کا اندازہ لگانے کی فرصت نہیں۔ عجب ہے کہ ہمیں ’موٹروے‘ میٹرو اور تیز رفتار (ریپیڈ بس) کی ضرورت تو ہے بھلے ہی پینے کے صاف پانی سے لیکر علاج معالجے کی سہولیات تک کچھ بھی نہ تو معیاری ہو اور نہ ہی عمومی ضروریات کے مطابق پورا اُترے۔ چار جنوری کے روز اَندرون پشاور کے ’تھانہ کوتوالی‘ میں انوکھا واقعہ پیش آیا جب ایک خاتون تیز قدموں سے چلتے ہوئے تھانے میں داخل ہوئی اور اُس نے آن کی آن خود کو آگ لگا لی۔ پولیس کے مطابق ’’اٹھائیس سالہ مسماۃ سلمیٰ کو اُس کے شوہر نے چار سال قبل طلاق دی تھی‘ جس کے بعد اُس نے دوسری شادی کر لی لیکن مسماۃ سلمیٰ اُسی گھر میں مقیم تھی اور جب اُس کے سابق شوہر نے کرائے کا مطالبہ کیا تو اِس پر آئے روز جھگڑوں کے بعد جرگہ میں فیصلہ ہوا کہ مسماۃ سلمیٰ سات ہزار روپے ماہانہ کرایہ ادا کرے گی اور جلد کسی دوسرے گھر منتقل ہو جائے گی۔ اِس حل کے بعد مسماۃ سلمیٰ جب ایک سے زائد مرتبہ اپنا سامان لینے سابق شوہر کے گھر گئی تو اُس کی بیوی نے جھگڑا کر کے واپس کر دیا اور کہا کہ وہ پولیس تھانے سے اپنا سامان وصول کرے۔ یہ بات پہلے ہی سے دل برداشتہ سلمیٰ کے لئے صدمے کا باعث بنی اور اُس نے خود پر آتش گیر محلول چھڑکنے کے بعد تھانے کے اندر پہنچ کر آگ لگا لی۔‘‘ 

پولیس یہ بقول یہ سب اِس قدر اچانک ہوا کہ موقع پر موجود ایک سے زیادہ پولیس اہلکار کچھ نہ کر سکے اور اُس کا جسم 98 فیصد دیکھتے ہی دیکھتے جل گیا۔ پولیس کی بیان کردہ اگر اِس کہانی کو ’سوفیصد‘ درست بھی تسلیم کر لیا جائے تب بھی کئی سوال اُٹھتے ہیں۔ چیخ و پکار کرتی خاتون پولیس تھانے کے اندر جل کر خاکستر ہو گئی‘ جہاں آگ بجھانے والے کیمیائی آلات موجود نہیں تھے۔ گھریلو تنازع میں باخبر پولیس (متعلقہ تھانے کے اہلکاروں) کا اِس پورے معاملے میں کردار کیا رہا‘ جس کی الگ سے تحقیقات ہونی چاہئے۔ مسماۃ سلمیٰ کو طبی امداد کے لئے اسلام آباد منتقل کرنا پڑا‘ تاہم ڈاکٹروں کے مطابق اُس کے صحت یاب ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں‘ جس کی کئی وجوہات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اُسے مخصوص طبی امداد کئی گھنٹوں کے بعد ملی۔ المیہ در المیہ یہ ہے کہ پشاور میں انتہائی جلے ہوئے مریضوں کے علاج معالجے کی سہولیات دستیاب نہیں اور مختلف ہسپتالوں میں کئے گئے عارضی بندوبست بھی اِس ناکافی ہیں جہاں فوری طور پر انتہائی نگہداشت کی ضرورت والے مریضوں کا علاج معالجہ ممکن نہیں ہے!

تصور کیجئے ایک ایسے پشاور کا جہاں صحت کے شعبے میں تبدیلی کے وعدوں کو اُن کی روح کے مطابق عملی جامہ نہیں پہنایا گیا۔ آگ سے جلے یا جھلسے ہوئے مریضوں کو جب قریبی یا مرکزی ہسپتالوں میں پہنچایا جاتا ہے تو اُنہیں خبر دی جاتی ہے کہ وہ بڑے بڑے ناموں والی اِن علاج گاہوں اور ایک سے بڑھ کر ایک ماہر ڈاکٹر کی تعلیمی اسناد اور تجربے سے مرعوب نہ ہوں او رنہ ہی کروڑوں روپے سالانہ حکومتی اِمداد رکھنے والے اِن ہسپتالوں سے توقع کریں کہ وہاں ’برن یونٹ‘ موجود ہیں بلکہ ’برن یونٹ‘ کے نام پر فراہم کی جانے والی سہولیات سطحی ہیں! حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں تعمیر ہونے والا ’برن یونٹ‘ کا تعمیراتی کام تین برس سے مکمل ہے لیکن اُس کے فعال نہ ہونے کی وجہ درکار مالی وسائل کی کمی ہے۔ اِس سلسلے میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ ایک دوسرے پر ڈال رہی ہیں تو ’’کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں!؟‘‘ 

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ہر سال پشاور کے مختلف ہسپتالوں میں آگ سے جلے یا جھلسے ’8 ہزار‘ سے زائد مریضوں کو لایا جاتا ہے لیکن ناکافی سہولیات کی وجہ سے اُن کی اکثریت کو وفاق یا پنجاب بھیج (ریفر کر) دیا جاتا ہے۔ خیبرپختونخوا کے چار (برن یونٹ ایوب ٹیچنگ ایبٹ آباد‘ برن یونٹ خلیفہ گل نواز بنوں‘ برن یونٹ خیبرٹیچنگ پشاور اور برن یونٹ حیات کمپلیکس پشاور) میں سے کوئی ایک بھی ’برن یونٹ‘ ایسا نہیں جہاں 40فیصد سے زائد جلے ہوئے مریضوں کا علاج ہو سکے۔ ایسے مریضوں کو ’سی ایم ایچ کھاریاں یا واہ کینٹ بھیج دیا جاتا ہے جہاں زیرعلاج کل مریضوں میں سے 80 فیصد کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہوتا ہے۔

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں ’برن یونٹ‘ 60 بستروں پر مشتمل ہے جس کی تعمیر پر ڈیرھ ارب روپے لاگت آئی لیکن آلات و دیگر سازوسامان کی خریداری کے لئے درکار مزید رقم فراہم نہیں کی جا رہی! یہ امر لائق توجہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں جدید سہولیات سے آراسہ ’برن یونٹ‘ کے نہ ہونے سے صرف اِس صوبے کے مریض ہی نہیں بلکہ قبائلی علاقہ جات سے آنے والوں مریضوں اور اُن کے تیمارداروں کو مشکلات کا سامنا ہے اور اکثر مریض دور دراز ہسپتالوں تک پہنچنے میں وہ ’’قیمتی عرصہ‘‘ گزار دیتے ہیں‘ جو نہایت ہی اہم ہوتا ہے اور اگر اُن کا فوری علاج معالجہ شروع ہو جائے تو مریض کے بچنے کی اُمید (چانس) زیادہ ہوتے ہیں۔ 

خیبرپختونخوا کے ہسپتالوں میں آگ سے جلے یا جھلسے ہوئے مریضوں کے علاج معالجے کی فراہم کردہ سہولیات ’مرہم پٹی‘ کی حد تک محدود کیوں ہیں‘ جہاں متاثرہ مریض کی نہیں بلکہ اُس کے تیمارداروں اور عزیزوں کی تسلی و تشفی سے زیادہ کچھ حاصل نہیں ہوتا‘ آخر کیوں!؟ 

دہشت گردی سے نمٹنے اور صف اوّل کا کردار ادا کرنے والے خیبرپختونخوا میں ’برن یونٹ‘ کی فوری ضرورت اور اِس ضرورت کی فراہمی میں غیرضروری تاخیر ’مجرمانہ غفلت‘ میں شمار ہوتی ہے۔ تصور کیجئے کہ چوبیس نومبر دوہزار سترہ کے روز ’حیات آباد میڈیکل کمپلیکس‘ کے قریب ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کے قافلے کو دہشت گرد حملے میں نشانہ بنایا گیا لیکن اِس بارودی دھماکہ کے نتیجے میں جلے ہوئے زخمیوں کو چند منٹ کے فاصلے پر قریبی ہسپتال کی بجائے گھنٹوں کی مسافت پر دوسرے صوبے کے ’برن یونٹ‘ لیجانا پڑا۔ اگر حساسیت ہو تو ہمارے سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ ساز اُس دکھ اور جلن کی شدت محسوس کر سکتے ہیں جن سے زخمیوں گزرتے ہوں گے اور جسے برداشت کرنے کی سکت نصف سے زائد ایسے مریضوں میں نہیں ہوتی اور وہ علاج گاہوں تک پہنچنے سے پہلے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں!
۔

Sunday, August 20, 2017

Aug 2017: Dengue fever surfaced in Peshawar & KP again exposing the health system & priorities!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
آفات: پیشگی تیاریاں اور سیاسی حل!
سیاست کہاں نہیں۔ بیماریاں پھوٹ پڑیں یا قدرتی آفات کا نزول ہو‘ ہمارے سیاستدانوں کو مہارت حاصل ہے کہ وہ ’پوائنٹ سکورنگ‘ کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ پشاور میں ڈینگی بخار کی وباء صوبائی کابینہ میں زیرغور لائی گئی۔ وزیراعلیٰ نے حسب سابق اِس مرتبہ بھی ’’فوری‘‘ اُور ’’خصوصی‘‘ اقدامات کا حکم دیا لیکن ظاہر ہے کہ جب آفات سے نمٹنے کے لئے پیشگی تیاری نہیں کی گئی ہوتی تو پھر چھوٹے پیمانے پر رونما ہونے والے ہنگامی حالات سے پیدا ہونے والی بڑے افراتفری سے نمٹنا آسان نہیں ہوتا۔ تحریک انصاف کی پشاور میں مقبولیت کبھی بھی کسی بلند سطح پر مستقل نہیں رہی اور اِس میں مسلسل کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ ڈینگی کی وباء سے نمٹنے میں تاخیر اُور صوبائی حکومت کے اقدامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے احتجاجی مظاہرے اِس بات کا ثبوت ہیں کہ طرزحکمرانی اور انتخابی حلقوں کی سیاست میں توازن برقرار نہیں رکھا گیا۔ محکمۂ صحت سے عوام کی توقعات پوری نہیں ہو رہیں تو اِس حقیقت کا انکار کرنے کی بجائے اِسے تسلیم کرنا چاہئے۔ سرکاری ہسپتالوں کے معاملات مالی و انتظامی خودمختاری دینے کے بعد بہتر ہونے کی بجائے مزید بگڑ گئے ہیں تو اِس حقیقت کا بھی انکار کرنے کی بجائے حقائق تسلیم کرنے چاہیئں۔ 

’اَیوب میڈیکل کمپلیکس‘ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ جس روز وزیراعلیٰ نے ڈینگی کی وباء سے نمٹنے کا اعلان کیا اُسی روز ’ایوب میڈیکل کمپلیکس‘ کے ’بورڈ آف گورنرز‘ کی اَزسرنو تشکیل کا حکم دیا اور کہا کہ ’’مذکورہ ہسپتال میں ہوئی بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کے بارے میں ’صوبائی انسپکشن ٹیم‘ کی سفارشات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔‘‘ امر واقعہ یہ ہے کہ ایوب میڈیکل کالج میں کروڑوں روپے کی بدعنوانی کے خلاف ڈاکٹروں ایک سال تک احتجاج کرتے رہے جس کا نوٹس لیتے ہوئے پشاور سے ایک خصوصی ٹیم ایبٹ آباد بھیجی گئی۔ ٹیم نے تحقیقات کے بعد بدعنوانی کے مرتکب کرداروں کی نشاندہی کی لیکن جب عمل درآمد کے لئے ہسپتال کے (خودمختار اِنتظامی نگرانوں) ’بورڈ آف گورنرز (بی اُو جی)‘ کو رپورٹ اِرسال کی گئی تو اُنہوں نے بجائے سزا دینے کے اپنے طور پر محکمانہ تحقیقات کروائیں اور ’صوبائی انسپکشن ٹیم‘ کے نامزد ملزمان کو معاف کردیا۔ کئی ماہ بعد یہ بات ایبٹ آباد سے پشاور پہنچی اور پھر کئی ماہ بعد وزیراعلیٰ کی زیرصدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں اِس بے قاعدگی کا نوٹس لیا گیا لیکن فوری طور پر ’بنی گالہ‘ سے مداخلت پر معاملہ ایک مرتبہ پھر سردخانے کی نذر ہوتا دکھائی دے رہا ہے! سرکاری اِداروں کی کارکردگی اُس وقت تک بہتر نہیں بنائی جا سکتی جب تک ’سزأ و جزأ کی کسوٹی‘ پر عمل درآمد کرتے ہوئے ’’بلااِمتیاز اُور بے رحم اِحتساب‘‘ نہیں کیا جاتا۔ سیاسی جماعتوں کو عوام ووٹ سرکاری اداروں کا قبلہ درست کرنے کے لئے دیتے ہیں‘ اُنہیں ’عدم مداخلت‘ کے لئے ووٹ نہیں دیا جاتا بلکہ عوام کے مفاد میں مداخلت کے لئے ووٹ دیا جاتا ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت اِس اِمکان سے تو انکار نہیں کرتی کہ ’’بدعنوان عناصر ہر دفتر میں موجود ہیں‘‘ لیکن ایسے بدعنوانوں (کالی بھیڑوں) سے معاملہ کیا عوام کو خود (قانون ہاتھ میں لیتے ہوئے) کرنا چاہئے؟‘

عیدالاضحی سے قبل مال مویشیوں سے اِنسانوں کو منتقل ہونے والی بیماریاں عموماً پھیل جاتی ہیں۔ اِس مرتبہ بھی ایسا ہی دیکھنے کو مل رہا ہے بلکہ اِضافی مصیبت مرغیوں کو لاحق ایک بیماری کی صورت میں بھی ظاہر ہوئی ہے اور صوبائی حکومت اِن دونوں سے نمٹنے کے لئے پیشگی تیار نہیں جبکہ ذمہ داری ضلعی حکومت پر اور ضلعی حکومت صوبائی حکومت پر ڈال رہی ہے۔ کوتاہی کا اِرتکاب دونوں ہی سے ہوا ہے کیونکہ دونوں کا تعلق ایک ہی سیاسی جماعت سے ہے اور اگر کسی ایک سیاسی جماعت کے ضلعی ناظم کی اپنے ہم جماعتوں سے رابطے نہیں تو اِس کی اصلاح ہونی چاہئے۔ خیبرپختونخوا میں انتظامی افراتفری سے آگاہ پنجاب حکومت نے اِس صورتحال کا ’سیاسی فائدہ‘ اُٹھانے کی کوشش کی ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے پہلے ٹوئٹر (twitter) پیغام اُور بعدازاں پنجاب حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا کو تحریری طور پر پیشکش کی کہ ’’ڈینگی اور دیگر وبائی امراض سے نمٹنے کے لئے پنجاب کی استعداد (مہارت) اور وسائل حاضر ہیں۔‘‘ نیت پر شک نہیں کرنا چاہئے۔ 

حسن ظن سے کام لیتے ہوئے صوبائی حکومت وزیراعلیٰ پنجاب کی پیشکش سے فائدہ اٹھانے کا ذہن رکھتی ہے کیونکہ اگر اِس طرح انسانی جانیں بچائی جا سکتی ہیں تو کوئی حرج نہیں۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں اب تک ڈینگی بخار سے 10 اموات ہو چکی ہیں جبکہ صوبائی حکومت پشاور میں 831 افراد مچھر کے کاٹنے سے لاحق ہونے والی اِس بیماری سے متاثر ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پشاور کی ضلعی حکومت اِس ہنگامی صورتحال میں کیا کر رہی ہے؟ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے بعد کسی بھی ضلع میں صحت کی ترجیحات کے لئے مالی وسائل بلدیاتی نمائندوں کو دیئے جاتے ہیں۔ 

’دس افراد‘ کی اموات کے بعد ڈینگی کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ضلعی حکومت نے اب تک 60 لاکھ روپے جاری کئے ہیں جن میں سے 50لاکھ اٹھارہ اگست کو جاری ہوئے اور ظاہر ہے چند روز میں اِن ناکافی مالی وسائل سے ڈینگی پر سوفیصد قابو نہیں پایا جا سکے گا۔ پشاور کی 92 میں سے تین یونین کونسلیں ’اَڑتیس (تختہ آباد)‘ اُنتالیس (خزانہ) اُور چالیس (ہریانہ پایان)‘ میں ڈینگی کی وباء پھیلی ہوئی ہے جبکہ مضافاتی یونین کونسل پشتہ خرہ کے رہنے والے بھی اِس بیماری کی زد میں ہیں۔ اگر صوبائی کابینہ کی ناک کے نیچے پشاور میں ہنگامی حالات میں عمومی و خصوصی بیماریوں سے متعلق حکمت عملی ’ناکافی‘ ہے تو دور دراز اَضلاع کے رہنے والوں کا اللہ حافظ ہے۔

Sunday, September 18, 2016

Sept2016: Health facilities & Protocols

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
شعبۂ صحت: علاج اُور پروٹوکولز! 
سرکاری ہسپتالوں میں علاج ’پرٹوکول‘ کے مطابق کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے معائنہ کرنے والا طبی عملہ اپنے علم و تجربے کی بنیاد پر مریض یا مریضہ کی شفایابی کے لئے کوشش کرتا ہے۔ اگر بات نہ بنے تو دوسرے مرحلے میں معاملہ ’اسسٹنٹ رجسٹرار‘ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے‘ جہاں سے مرض برقرار رہنے کی صورت تیسرے مرحلے میں ’رجسٹرار‘ کو مدعو کیا جاتا ہے اور چوتھے مرحلے میں ’سینیئر رجسٹرار‘ زحمت کرتے ہیں! اِس کے بعد پانچویں اور چھٹے مرحلے میں ’اسسٹنٹ پروفیسر‘ اور ’ایسوسی ایٹ پروفیسر طبع آزمائی کرتے ہیں۔ ساتویں مرحلے میں ’پردھان منتری‘ یعنی پروفیسر کو طلب کیا جاتا ہے جو سرکاری ہسپتالوں میں رائج اِن 7مراحل کے طریقۂ علاج کی آخری کڑی ہے۔ تصور کیجئے کہ ایک طرف ’زندگی اور موت کی کشمکش‘ ہے اور دوسری طرف ’پروٹوکولز (حفظ مراتب) ہیں! ایک طرف معاون طبی عملے سے لیکر اسسٹنٹ رجسٹرار‘ رجسٹرار‘ سینیئر رجسٹرار‘ اسسٹنٹ پروفیسر‘ ایسوسی ایٹ پروفیسر اُور پروفیسر ہیں اور دوسری طرف مالی وسائل نہ رکھنے کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں سے ’بہ امر مجبوری‘ رجوع کرنے والی عام آدمی (ہم عوام) بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی میں گھٹن بھری زندگی سے تڑپتے تڑپتے ’موت‘ دائمی حقیقت سے جا ملتا ہے۔ اگر ہمارے فیصلہ ساز علاج معالجے کے نام پر صحت کی ’’بنیادی و معیاری سہولیات‘‘ کی فراہمی ممکن نہیں بنا سکتے تو کیا قانون سازی کے ذریعے یہ اختیار دے سکتے ہیں کہ ہسپتال کے بستروں پر اذیت کا شکار جب چاہیں اپنے لئے موت کا انتخاب کر لیں اور انہیں انجکشن لگا کر تکلیف سے نجات دلا دی جائے؟ 

عجب ہے کہ مالی وسائل رکھنے والے فیس ادا کر کے کسی بھی پروفیسر کے نجی کلینک پر بناء ’حفظ مراتب (پرٹوکولز)‘ اپنا معائنہ (تشخیص) اور علاج کروا سکتے ہیں لیکن اربوں روپے سالانہ صحت پر خرچ ہونے کے باوجود بھی پروفیسر ’شودروں (نچلے طبقات)‘ کو ’سرکاری علاج گاہوں میں‘ ہاتھ لگانا تو دور کی بات اُس وقت تک چھونا بھی پسند نہیں کرتے جب تک ایسا ’بہ امر مجبوری ضروری‘ نہیں ہوجاتا! طب کے شعبے سے جڑے ماہرین کی اکثریت کے ہاں ’انسانیت کا احترام‘ کا تصور جس قدر دھندلا اور کم ترین ترجیح پر ہے‘ اُس کی بنیادی وجہ ہمارا ’نظام تعلیم و تربیت‘ ہے‘ جس کی وجہ سے انسانیت‘ انسانی حقوق‘ رحم‘ اخلاقی اقدار اور عمومی و خصوصی فرائض کے ساتھ جڑی ذمہ داریوں کی بجائے ’مادیت پسندی‘ نے ’عام آدمی‘ کی زندگی مصائب و مشکلات سے بھر دی ہے!


شعبۂ صحت میں صرف علاج معالجہ ہی ’پروٹوکولز‘ کی زد میں نہیں بلکہ انتظامی معاملات بھی فیصلہ سازوں کی ذات (اَنا) اُور خودپسندی کی بھینٹ چڑھے ہوئے ہیں۔ ’نیچے سے اُوپر‘ اُور ’اُوپر سے نیچے‘ اختیارات کی ’تہہ داریوں‘ کے سبب ایسے فیصلوں کی مثالیں عام ہیں‘ جس سے سرکاری وسائل کا استعمال نہایت ہی بیدردی سے کیا جا رہا ہے اور ماضی کی طرح ’سرکاری وسائل‘ کی لوٹ مار (وائٹ کالر کرائم) کا سورج سوا نیزے پر دھک رہا ہے۔ ’’پھولوں کا ڈھیر صحن میں رکھنے کے باوجود۔۔۔ خوشبو کا قحط ویسے کا ویسا پڑا رہا!‘‘ سرکاری علاج گاہوں میں کروڑوں روپے کے آلات اَربوں میں خریدے جاتے تھے آج بھی خریدے جا رہے ہیں اُور باوجود مہنگے داموں اور بناء ضرورت خریداری اِن سہولیات کی ’طبعی عمر‘ نجی علاج گاہوں کے مقابلے ماضی میں بھی کم ہوتی تھی‘ آج بھی کم ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں کسی ڈاکٹر کے چہرے پر مسکراہٹ‘ خوش اخلاقی‘ اُور خندہ پیشانی کے آثار بمشکل ہی نظر آتے تھے‘ آج بھی تناؤ بھرا ناک نقشہ (خدوخال) وہی کے وہی ہیں لیکن اگر موازنہ نجی علاج گاہوں سے کیا جائے تو یکایک یہی ڈاکٹر من مانی فیسوں کے عوض ’انسانیت کی معراج‘ پر فائز دکھائی دیں گے۔ مسیحاؤں کا وہ رویہ جو عمومی ہونا چاہئے‘ خصوصی ہے آخر کیوں؟ 

سرکاری ہسپتالوں کی پہچان (شناختی علامت) خاص بدبو بن چکی ہے آخر کیوں؟ سرکاری علاج گاہوں میں صفائی کی ابتر صورتحال اور درودیوار سے ٹپکنے والی وحشت مریض کو یقین دلانے کے لئے کافی ہوتی ہے کہ اب اُن کا سفر اختتام کے قریب ہے لیکن نجی علاج گاہوں میں تعمیراتی خوبیوں کی وجہ سے کشادگی کا احساس‘ صفائی اور خوشگوار ماحول میں طبی اور معاون طبی عملہ صاف ستھرے کپڑے پہنے رہنمائی و سہولت کاری کرتا دکھائی دے گا تو ’نجی علاج گاہوں‘ جیسا ماحول سرکاری ہسپتالوں میں کیوں رائج نہیں کیا جاسکتا؟ ایک طرف حکومت ہر سال اربوں کی سرمایہ کاری کرکے بھی صحت کے اِنتظامی و عملی شعبے میں ’حسب ضرورت (خاطرخواہ)‘ بہتری نہیں لاسکی اُور دوسری طرف نجی علاج گاہیں چند کروڑ کی سرمایہ کاری سے اربوں روپے کما رہے ہیں! تو ایک جیسا ہی کردار ادا کرنے والوں کے دو الگ الگ روپ کیسے ہو سکتے ہیں جبکہ وہ حکومت سے بھاری تنخواہیں اور مراعات کا طلبگار و حقدار بھی ہو لیکن اُس کی بہترین صلاحیتوں کا عملی استعمال (ظاہری نتائج) نجی علاج گاہوں میں دکھائی دیں؟ 

یہ صورتحال‘ یہ تجاہل عارفانہ‘ یہ خیانت بھرے رویئے ناقابل معافی ہیں اُور انہیں کسی بھی جواز کے تحت نظراَنداز نہیں کیا جاسکتا۔ عام آدمی عملی بہتری و نتائج کا منتظر ہے۔ تین برس سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ’تبدیلی کے نام‘ پر ’جنون‘ کی صورت خاموش انقلاب کی راہ دیکھ رہا ہے!‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, September 13, 2015

Sep2015: Health is wealth, actually!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
جان ہے تو جہان!
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ہوٹلوں (میریٹ و اسلام آباد اِن) اُور نت نئے ذائقوں کے لئے مشہور بیکری (تہذیب) کے فن تعمیر‘ رکھ رکھاؤ‘ ظاہری خوبصورتی و صفائی سے مرعوب ہوئے بناء جب اِنتظامیہ نے اِن معروف دکانوں میں خوراک ذخیرہ رکھنے کے مقامات اُور بالخصوص کچن (کھانے پکانے کی جگہوں) کا معائنہ کیا تو ’اونچی دکان پھیکا پکوان‘ سے زیادہ ایسی حیران کن بے قاعدگیاں سامنے آئیں‘ جن کی کم از کم اِس قدر نامور کمرشل اِداروں سے توقع نہیں تھی اُور یہی سبب تھا کہ صرف واجبی جرمانہ کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ کچن کو ’سربمہر (سیل)‘ کرتے ہوئے تنبیہ (وارننگ) جاری کر دی گئی لیکن اِنتظامیہ کے لئے یہ بات ’زیادہ حیرت کا باعث‘ ہے کہ ناقص المعیار اشیائے خوردونوش بنا سنوار‘ سجا سجا کر اُور نزاکت و مہارت سے پیش کرنے والوں کے گاہگوں میں کمی نہیں آئی بلکہ مذکورہ ہوٹلوں کی رونقیں جوں کی توں برقرار ہیں! کیا ہم اپنی اور دوسروں کی صحت سے اتنے لاتعلق ہوچکے ہیں کہ حقائق سامنے آنے کے باوجود بھی اپنی عادات ترک یا تبدیل کرنے کو تیار نہیں؟ لمحۂ فکریہ ہے کہ بڑے بڑے ہوٹلوں سے محض تفریح طبع کے لئے رجوع کرنے والوں میں ایک بڑی تعداد خواتین (اُن بیگمات) کی بھی ہے‘ جن کے لئے ایسی آؤٹنگ اُن کے بلند معاشرتی مقام (اسٹیٹس سیمبل) کا عکاس ہے! دوسروں کی دیکھا دیکھی مصنوعی زندگی اور فیشن زدہ اَندھی تقلید میں اُلجھ کر وقت‘ پیسہ اُور صحت برباد کرنے والوں کو دانشمندی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔

اِسلام آباد میں متوسط طبقے بالخصوص ملازمت پیشہ یا سیروسیاحت کے لئے آنے والوں کی اوّلین ترجیح ’بلیو اِیریا‘ میں ’سیور فوڈز‘ کی دکان ہوتی ہے۔ پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف کے احتجاجی دھرنوں اُور اسلام آباد میں آئے روز ہونے والی اکثر سیاسی تقاریب میں اِسی ہوٹل کے چاول‘ شامی کباب اور چکن سے تواضع کی جاتی ہے لیکن جب اِنتظامیہ نے ’سیور فوڈز‘ کے تہہ خانے اور بالا خانے میں رکھے ہوئے یخ دانوں (فریزرز) کے ڈھکن کھولے تو پھپھوندی لگا گوشت‘ کباب اور ذبح کی گئی مرغیوں کے ٹکڑے (پیسیز) جنہیں دہی‘ بیسن اور مصالحے لگا کر سٹور کیا گیا تھا تاکہ زیادہ گاہگ آنے کی صورت میں انہیں جلداَزجلد تیار کرکے پیش کیا جاسکے! اُور یہ بات صرف ’سیور اِسلام آباد‘ کی حد تک ہی محدود نہیں بلکہ دیگر معروف و غیرمعروف ہوٹلوں یا ریسٹورنٹس کا حال بھی زیادہ مختلف نہیں۔
قبل ازیں عمومی تصور یہی تھا کہ ملک کے غریب و متوسط طبقات کی آبادیوں میں اشیائے خوردونوش فروخت کرنے والے ہی حفظان صحت کے اَصولوں کا خیال نہیں رکھتے اُور صرف ’عام آدمی (ہم عوام)‘ ہی کی صحت خطرات سے دوچار ہے لیکن اسلام آباد میں کھانے پینے کے انتہائی مہنگے اور فیشن ایبل مقامات پر فروخت ہونے والی اشیاء کا جو معیار سامنے آیا ہے‘ اُس سے کم اَز کم اَیک بات واضح ہو چکی ہے کہ ’پشاور سے کراچی تک‘ کی صورتحال زیادہ مختلف نہیں۔

 ’ناجائز‘ منافع خوری اپنی جگہ لیکن صحت و صفائی کے مقررہ معیار اُور اِن سے متعلق قواعد و ضوابط پر عمل درآمد ممکن بنانے والے حکومتی اِداروں کی کارکردگی کھل کر سامنے آ گئی ہے اُور کوئی وجہ نہیں وسیع تر عوامی مفاد اور پاکستان کی ساکھ بہتر بنانے کے لئے ملاوٹ شدہ‘ غیر معیاری اُور خراب اشیائے خوردونوش بنانے والوں کے خلاف ملک گیر سطح پر کاروائی کی جائے۔ اِس سلسلے میں صوبائی حکومتوں کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اُور بھاری جرمانے عائد کرنے کے علاؤہ نگرانی کے عمل کو مغربی ممالک کی طرح ایک سے زیادہ اداروں کے حوالے کرنا ہوگا تاکہ ملی بھگت اور بدعنوانی کے امکانات کم کئے جا سکیں۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مغربی معاشرے میں اشیائے خوردونوش فروخت کرنے والوں کی مسلسل نگرانی کا عمل ہمارے ہاں کی طرح ’موسمی‘ وقتی یا جذباتی‘ نہیں ہوتا اور دوسرا وہاں کے ’کمرشل کچن ایریاز‘ میں کلوزسرکٹ ٹیلی ویژن کیمرے نصب کرنا ایک لازمی ضرورت ہوتی ہے‘ جن کی لمحہ بہ لمحہ ریکارڈنگز محفوظ (سیو) ہو رہی ہوتی ہیں اُور اِنتظامیہ اچانک دوروں کے دوران اُن محفوظ شدہ ریکارڈنگز کا مشاہدہ کرنے کے علاؤہ کسی بے قاعدگی کی صورت اُن کا ریکارڈ بھی اپنے پاس بطور ثبوت رکھتی ہے۔ علاؤہ ازیں ہر ہوٹل یا دکان میں کھانے پکانے اور اشیاء کو ذخیرہ رکھنے کا ایک تربیت یافتہ نگران ملازم رکھنا ضروری ہوتا ہے‘ جس کی جملہ ذمہ داریوں میں یہ بات شامل ہوتی ہے وہ کچن ایریا میں کام کرنے والے عملے کی صحت کا معائنہ باقاعدگی سے کروائے اور کسی بھی ایسے ملازم کو کچن میں کام کرنے کی اجازت نہ دے‘ جو نزلہ‘ زکام‘ کھانسی یا کسی سبب بخار میں مبتلا ہو۔ مغربی ممالک میں ہوٹل‘ ریسٹورنٹ‘ چائے (کافی) خانہ یا سڑک کنارے برگر آئس کریم یا دیگر اشیاء فروخت کرنے کے خواہشمندوں کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ متعلقہ میونسپل اداروں سے اجازت نامہ (لائسینس) حاصل کریں‘ جس کے ساتھ صفائی کی صورتحال سے متعلق مرتب کی گئیں ہدایات کو حلفاً تسلیم کرنا ضروری ہوتا ہے اُور بناء اجازت نامہ حاصل کئے اشیائے خوردونوش فروخت کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا!

پشاور کی مثال لیں‘ جہاں ضلعی انتظامیہ کی کوششوں کے باوجود بھی اشیائے خوردونوش کا معیار و صفائی کا کم سے کم معیار حاصل ہوتا ممکن دکھائی نہیں دے رہا۔ فٹ پاتھ تو کیا نکاسی آب کے نالے اور نالیوں کے کنارے‘ پاؤں کے بل بیٹھ کر کھانے پینے والوں کو نہ تو تعفن پریشان کرتا ہے اور نہ ہی گندگی و غلاظت کے مناظر نظر آتے ہیں! اگر ہر گلی کوچے اور ہر نکڑ پر کھانے پینے کے مراکز ہونا ضروری ہیں تو اُن کے لئے درجات مقرر کرکے صفائی و حفظان صحت کے کم سے کم معیار بھی مقرر ہونے چاہیءں؟ آخر کیا وجہ ہے کہ پشاور میں ’فوڈ سٹریٹ‘ بنا کر جابجا سرراہے کھانے پینے کی دکانیں ایک ہی مقام پر جمع نہیں کی جاسکتیں؟

ضلعی انتظامیہ اِس سلسلے میں نئے اجازت ناموں (لائسینسوں) کا اجرأ کر سکتی ہے‘ جن کے ساتھ نرخنامہ‘ طے شدہ قواعد اور ہدایات پر عمل درآمد کا حلفیہ تحریری اقرار نامہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ صوبائی حکومت ملاوٹ و ناقص المعیار اشیاء فروخت کرنے والوں کے لئے زیادہ سخت سزائیں متعارف کرا سکتی ہے اور اس سلسلے میں نئی قانون سازی ضروری ہے کیونکہ موجودہ قانون کے تحت اگر کسی کو جرمانہ ہو بھی جائے تو وہ دن کی سزا یا چند لاکھ روپے خرچ کرنے کے عوض پھر سے دکان سجا بلکہ بڑھا دیتا ہے! اصولی طور پر اس بات پر بھی عملدرآمد ہوناچاہئے کہ کسی ہوٹل میں استعمال ہونے والے گھی یا کوکنگ آئل کا نام کیا ہے اور نرخنامے کے ساتھ وہاں اشیائے خوردونوش میں استعمال ہونے والے اجزأ کی تفصیلات بھی آویزاں ہونی چاہیئں۔

خیبرپختونخوا کی سطح پر ہر ضلعی انتظامیہ کا ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ’پبلک ہیلتھ‘ یا مقررہ نرخنوں سے زائد قیمتیں وصول کرنے والوں سے متعلق شکایات درج کرانے کا نظام وضع کرے کیونکہ یہ معاملہ انسانی صحت سے متعلق ہے اور ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ ’’جان ہے تو جہان ہے!‘‘
Unhygienic food and beverages are big concern for those prefer to hangouts

Monday, August 10, 2015

Aug2015: SoPs by Distrist Administration

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
مفاد عامہ: ذمہ داریاں اُور کردار
پشاور کی ضلعی انتظامیہ کی دیکھا دیکھی دیگر اضلاع میں بھی ڈپٹی کمشنر دفاتر کے اہلکاروں نے کمر کس رکھی ہے۔ ناجائز منافع خوری اُور تجاوزات کے خلاف مثالی کاروائیوں کے بعد اب شامت ناقص المعیار اشیائے خوردونوش فروخت کرنے والوں کی آئی ہے‘ جن میں کئی ایک ایسے نام بھی شامل ہیں جو اپنے ہاں فروخت ہونے والی اشیائے خوردونوش کو ’عالمی معیار کے مطابق‘ قرار دیتے ہوئے کئی گنا زیادہ قیمتیں وصول کرتے رہے ہیں لیکن جب اُن کی چمکتی دمکتی دکانوں کے پس پردہ کارخانوں کو دیکھا گیا تو گندگی و غلاظت سے اٹے ہوئے تھے! بڑے بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹورز میں زائدالمعیاد اشیاء فروخت کی جا رہی تھیں جن کا استعمال جانوروں کے لئے بھی غیرمحفوظ قرار دیا گیا!

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ’پے در پے‘ جاری کاروائیوں میں واحد خامی یہ تھی کہ اس کے آغاز سے قبل صفائی اور دیگر امور سے متعلق ہدایات (ایس اُو پیز) جاری نہیں کئے گئے۔ مفاد عامہ میں صحت و حفاظت جیسی بنیادی ضروریات کی فراہمی ممکن بنانے کے لئے ضلعی انتظامیہ نے ’کم سے کم معیار کے حوالے سے ہدایات‘ مرتب کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے اور جس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ تمام عملہ جو کھانے پینے کی تیاری کے مقامات پر خدمات سرانجام دے گا‘ اُس کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ دستانے استعامل کرے‘ اُن کے سروں پر ٹوپیاں ہوں تاکہ اُن کے بال یا خشکی کھانے کا حصہ نہ بنے اور باروچی خانے صاف ستھرے ہوں۔

ضلعی انتظامیہ صفائی کے جس کم سے کم معیار کو لاگو کرنا چاہتی ہے اگر اس کا نصف بھی حاصل کر لیا جاتا ہے تو یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ ہمیں نہیں معلوم کہ موجودہ ضلعی انتظامیہ کے بعد آنے والے مفاد عامہ کے کاموں میں کس قدر یک سوئی اور توجہ سے دلچسپی لیں گے لیکن سردست حاصل ہونے والی کامیابیوں پر جس قدر اظہار اطمینان و مسرت کیا جائے کم ہوگا۔ اس لمحۂ فکر پر ذرائع ابلاغ کو بھی اپنا کردار ادا کرتے ہوئے مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کی آرأ‘ سروے‘ سیمینار اُور گول میز کانفرنسوں کا انعقاد کیا جائے۔ پشاور سے منتخب ہونے والی شخصیات کو آپس میں مل بیٹھنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ صوبائی و قومی اسمبلیوں اور ایوان بالا (سینیٹ) میں پشاور کی موجودگی کا بھرپور فائدہ اٹھانے کے لئے اخبارات و ٹیلی ویژن چینل اَہم کردار اَدا کرسکتے ہیں۔ پشاور کی ایک بدقسمتی یہ بھی ہے کہ اگر اسے ایک عرصے سے وزیراعلیٰ نہیں ملا تو یہاں کا اپنا کوئی ایک ٹیلی ویژن چینل تادم تحریر ’آن ائر‘ نہیں۔ سبھی نجی و سرکاری نشریاتی ادارے دیگر شہروں میں صدر دفاتر رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کراچی یا لاہور یا اسلام آباد میں بیٹھ کر پشاور کی طرف دیکھنا اور پشاور میں بیٹھ کر یہاں کے مسائل اور خیبرپختونخوا کی صورتحال کا منظرنامہ پیش کرنا دو الگ الگ بلکہ متضاد حقیقتیں ہیں۔ المیہ ہے کہ جب خیبرپختونخوا یا پشاور کے کسی حصے میں کوئی سانحہ یا واقعہ پیش آتا ہے تو ٹیلی ویژن پر اینکر مردوخواتین علاقوں کے نام بھی درست تلفظ کے ساتھ نہیں لیتے تو وہ ذرائع ابلاغ جسے ہمارے صوبے کے نام تک درست تلفظ کے ساتھ یاد نہیں اُن سے بھلا کیسے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ یہاں کے مسائل سے گہری یا دلی وابستگی کا مظاہرہ کریں گے۔ نجی ٹیلی ویژن چینلوں کی مجبوری ’ریٹنگ (عوامی مقبولیت) کا معیار‘ بھی ہے جس کے نقشے پر پشاور اُور خیبرپختونخوا کا وجود ہی نہیں۔ خیبرپختونخوا اگر دوسروں کی ترجیح نہیں تو کیا یہ یہاں کے رہنے والوں کی ترجیح بھی ہے؟ دوسروں کی سنگ دلی یا مروت کا گلہ کرنے کی بجائے ہمیں اپنے آپ میں متحد ہو کر سوچنا پڑے گا۔ جنہیں قیادت کے منصب پر فائز کیا ہے‘ اُنہیں دعوت فکر و عمل دینا ہوگی اور یہ کام (موجودہ صورتحال میں) ذرائع ابلاغ کے علاؤہ کسی دوسرے محاذ (فورم) سے عملاً ممکن نہیں۔

پس تحریر: مستقبل پر نظر رکھنے والے بیدار ذہنوں کی نظر سے دیکھا جائے تو ماضی کے واقعات یکساں اہمیت کے حامل ہوتے ہیں‘ جنہیں سامنے رکھتے ہوئے کسی خطے کے کی تاریخ و ثقافت اور وہاں رہنے والوں کی ضروریات کا زیادہ پائیدار و مربوط حل متعارف کرایا جاسکتا ہے۔ تاریخ کے بارے میں لکھے ہوئے ہر ایک لفظ‘ جملے‘ مضمون یا کتاب کا کچھ نہ کچھ حاصل ضرور ہوتا ہے۔ جس سے سوچ کو نئے زاویئے اور جستجو کی تحریک کو توانائی ملتی ہے۔ ’’تاریخ صوابی‘‘ کے نام سے ضیاء اللہ خان جدون کی تصنیفایک ایسا کارہائے نمایاں ہے‘ جس سے نہ صرف تحقیق کاروں کو ماضی و حال اُور بالخصوص ’گندھارا تہذیب‘ کے اِس اہم علاقے کو سمجھنے میں مدد ملی ہے بلکہ اِس کوشش کی روشنی میں پشاور و دیگر علاقوں کی اہمیت کو بھی سمجھا جاسکتا ہے‘ جو ایک الگ لیکن پیوستہ موضوع ہے۔ ’دیار خان فاؤنڈیشن یعقوبی صوابی‘ اُور ’افغان ریسرچ سنٹر‘ کے شعبۂ نشرواشاعت کی یہ کاوش ہر نجی و سرکاری لائبریری کا حصہ ہونے کے علاؤہ دیگر علاقائی و انگریزی زبانوں میں ترجمہ بھی ہونی چاہئے۔ اگرچہ ’تاریخ صوابی‘ جامع یا مکمل قرار نہیں دی جاسکتی لیکن یہ ایک ایسی عمدہ کوشش ضرور ہے جس نے اِس موضوع پر مزید غوروفکر (تحقیق و تحریر)کے دروازے کھول دیئے ہیں۔