Showing posts with label Burn Unit. Show all posts
Showing posts with label Burn Unit. Show all posts

Friday, January 12, 2018

Jan 2018: Health facilities in KP, discussed in court!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
برن یونٹ: آخر کب تک؟
خیبرپختونخوا میں طرزِحکمرانی کا خلاصہ (لب لباب) یہ ہے کہ علاج معالجے جیسی بنیادی ضروریات بھی اب ’عدالت (کورٹ) احکامات‘ کی تعمیل میں فراہم کی جائیں گی! چھ جنوری ’’برن یونٹ‘ ہنوز ندارد‘‘ کے عنوان سے خیبرپختونخوا میں آگ سے جلے ہوئے مریضوں کے لئے ناکافی سہولیات اور جس معیار و مقدار کا ذکر کیا گیا‘ وہ معاملہ ’پشاور ہائی کورٹ‘ تک جا پہنچا ہے! محرک یہ ہے کہ گھریلو تنازعہ سے دل برداشتہ ایک خاتون اندرون شہر ’تھانہ کوتوالی‘ میں داخل ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اُس نے مبینہ طور پر خود کو آگ لگا دی‘ اِس سے قبل کہ موقع پر موجود پولیس اہلکار اُسے روک پاتے مذکورہ خاتون کے جسم کا 98 فیصد جل چکا تھا‘ چونکہ پشاور میں ’آگ سے جلے ہوئے ایسے مریضوں کے علاج کا خاطرخواہ بندوبست نہیں‘ اِس لئے اُسے کئی گھٹنوں (کم و بیش 200 کلومیٹر) کی مسافت پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچایا گیا۔ تاہم لمحۂ فکریہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں صرف چالیس فیصد تک آگ سے جلے مریضوں کا علاج ممکن ہے۔ دہشت گردی سے متاثرہ خیبرپختونخوا میں ’جدید سہولیات پر مبنی برن یونٹ یا ہسپتال‘ کا نہ ہونا مجرمانہ غفلت اور سیاسی فیصلہ سازوں کی غلط ترجیحات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پشاور کی عدالت عالیہ نے اِس صورتحال پر برہمی کے لہجے میں تعجب کا اظہار بھی کیا ہے جس سے اُمید پیدا ہو گئی ہے کہ صوبائی حکمران فوری طور پر اپنی تمام تر توجہ اور مالی وسائل ’برن ہسپتال‘ کی تعمیر کے لئے مختص کر دیں گے!

پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ (جسٹس قیصر رشید اور جسٹس غضنفر خان) نے (دس جنوری کے روز) ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ’برن یونٹ کی عدم دستیابی‘ کے حوالے سے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ درحقیقت زیرسماعت مقدمہ (قضیہ) ’برن یونٹ‘ کا نہیں بلکہ خیبرٹیچنگ ہسپتال (المعروف شیرپاؤ ہسپتال) میں ’نیوروسرجری وارڈ‘ کی سست رفتار تعمیرات سے متعلق ہے‘ لیکن جب متعلقہ اعلیٰ حکام عدالت کے روبرو پیش ہوئے تو جسٹس قیصر نے ضمنی طور پر یہ بات بھی پوچھ لی کہ ’’پشاور میں ’برن ہسپتال‘ کب تک (آخر کب تک) مکمل ہو جائے گا؟‘‘ وہ ایک تلخ حقیقت جس سے سالانہ سینکڑوں مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اُور خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے آگ سے جلے اَفراد کی اَموات کا تناسب بھی اِسی وجہ سے زیادہ ہے کہ اِنہیں علاج معالجے کے لئے سہولیات فوری طور پر میسر نہیں آتیں۔ مقام تشکر ہے کہ عدالت عالیہ نے محسوس کیا ہے کہ ’’خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے مریضوں کو صوبہ پنجاب کے مختلف ہسپتالوں سے رجوع کرنا پڑتا ہے اور سفری و دیگر علاج معالجے کے اخراجات کے علاؤہ بہت سے مریض مسافت کے دورانیئے کو برداشت نہیں کر پاتے اور راستے ہی میں دم توڑ دیتے ہیں!‘‘ 

عدالت کے روبرو گریڈ بیس کے اہلکار ’’محمد عابد مجید‘‘ حاضر تھے‘ جو سولہ مارچ دوہزار سولہ (665 دنوں) سے بطور ’سیکرٹری ہیلتھ خیبرپختونخوا‘ تعینات ہیں اُور انہوں نے پورے اعتماد سے (بناء ہانپتے کانپتے یا شرمندگی و معذرت کے اظہار) عدالت کو بتایا کہ ’جون دوہزار اٹھارہ‘ تک پشاور میں ’برن ہسپتال‘ فعال ہو جائے گا‘ جس کی ’ائرکنڈیشنگ‘ میں تکنیکی مسئلے کی وجہ سے یہ منصوبہ ایک ماہ کی تاخیر سے مکمل ہونے جا رہا ہے۔

خیبرپختونخوا میں جدید سہولیات سے آراستہ ’برن یونٹ‘ کی عدم دستیابی کا معاملہ پہلی مرتبہ ’پشاور ہائی کورٹ‘ کے سامنے زیرغور نہیں آیا بلکہ اِس سے قبل جولائی 2017ء میں عدالت عالیہ نے سیکرٹری ہیلتھ سے استفسار کیا تھا کہ وہ حکومتی کوششوں سے عدالت کو آگاہ کریں۔ یاد رہے کہ اُس وقت عدالت نے ہر ضلعی ہیڈکواٹر کی سطح پر ایک ایک برن یونٹ قائم کرنے کا حکم دیا تھا جس پر سیکرٹری ہیلتھ نے عدالت کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے کہا تھا کہ اِس سلسلے میں کام کا آغاز پہلے ہی سے جاری ہے اور ضلعی ہیڈکواٹر ہسپتالوں سے بستروں کی تعداد اور دستیاب سہولیات طلب کر لی گئیں ہیں۔ تصور کیجئے کہ جولائی دوہزار سترہ سے جنوری دوہزار اٹھارہ تک پانچ ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بھی تاحال اعدادوشمار ہی اکٹھا نہیں ہوسکے ہیں حالانکہ ٹیلی فون اور دیگر برق رفتار مواصلاتی رابطوں کی موجودگی میں دو درجن ٹیلی فون کالز کے ذریعے بھی یہ کام باآسانی سرانجام پا سکتا تھا اور اگر سیکرٹری ہیلتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں مخلص ہوتے تو اب تک پچیس ہفتوں میں پچیس اضلاع کے خود بھی دورے کر کے معلومات اکٹھا کر چکے ہوتے۔ عجب ہے کہ جہاں کہیں سرکاری ملازمین کے اپنے مفادات‘ سہولیات اور مراعات حاصل کرنے کی بات ہوتی ہے تو یہ ’بابو‘ مہینوں کا کام منٹوں میں نمٹا دیتے ہیں لیکن جہاں عام آدمی (ہم عوام) کے مفاد کے لئے کام کرنا ہوتا ہے وہاں مصلحتیں اور تاخیری حربے آڑے آ جاتے ہیں۔

سیکرٹری صحت نے دس جنوری کے روز عدالت عالیہ میں ’آن دی ریکارڈ‘ جو بیان دیا‘ اُس کے مطابق سیدوشریف (سوات) میں چار بستروں پر مشتمل برن یونٹ موجود ہے۔ کوہاٹ میں مقامی رکن قومی اسمبلی کی جانب سے دوکروڑ ساٹھ لاکھ روپے دینے سے ’برن یونٹ‘ بنایا جا رہا ہے جس کا تعمیراتی کام آخری مراحل میں ہے۔ بنوں میں 18 بستروں کا ’برن یونٹ‘ فعال ہے جبکہ مردان میں ’برن یونٹ‘ کے قیام کے لئے غور ہو رہا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں ’برن یونٹ‘ نہیں۔ تیمرگرھ میں ’برن یونٹ‘ تو ہے لیکن عملہ نہیں۔ بقول سیکرٹری ہیلتھ چھوٹے پیمانے پر ایک ’برن یونٹ‘ کے قیام پر 20سے 30 کروڑ روپے لاگت آتی ہے۔ اگر رواں مالی سال کے دوران مالی وسائل دستیاب نہ ہوئے تو آئندہ مالی سال میں ہر ضلعی ہیڈکواٹر کی سطح پر ’برن یونٹ‘ قائم کرنے کے لئے لازمی طور پر مالی وسائل مختص کئے جائیں گے۔‘‘

سیکرٹری ہیلتھ نے جب اپنی فرض شناسی پر مبنی کہانی عدالت کے روبرو سنا رہے تھے تو ججوں کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں‘ اُنہیں ایک منٹ کے لئے یہ بھی بھول گیا کہ جس ’برن یونٹ‘ کے قیام میں جس قدر بھی تاخیر (مجرمانہ غفلت) ہوئی ہے‘ اُس کے لئے ذمہ داروں میں یہی موصوف سیکرٹری ہیلتھ بہ نفس نفیس شمل ہیں‘ جنہوں نے اپنے گھر اور دفاتر کی ضروریات پوری کرنے پر ’برن یونٹ‘ سے زیادہ مالی وسائل خرچ کئے ہیں لیکن عام آدمی (ہم عوام) کے دُکھ کا اِنہیں احساس نہیں۔ دیگر سرکاری اِداروں کی طرح محکمۂ صحت میں بھی ملازمین کی فوج ظفر موج ہے‘ جن کی ماہانہ تنخواہوں اور مراعات پر خیبرپختونخوا میں علاج فراہم کرنے سے زیادہ اخراجات اُٹھ رہے ہیں! عدالت عالیہ نے کمال سادگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیکرٹری ہیلتھ کو ’برن یونٹ‘ منصوبوں کا تاحیات نگران مقرر کردیا ہے اور حکم دیا ہے کہ اگر انہیں ’سیکرٹری ہیلتھ‘ کے عہدے سے ہٹا بھی دیا جائے تب بھی وہی اِن منصوبوں کے نگران بن کر کام کی رفتار کا جائزہ لیتے رہیں! ’’ترے عشق کی اِنتہا چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی
بڑا بے ادب ہوں‘ سزا چاہتا ہوں۔ (علامہ اِقبالؒ )

Saturday, January 6, 2018

Jan 2018: Lack of Burn Unit in KP, priorities exposed!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
جلے‘ اَن جلے: سکھ دُکھ!
خیبرپختونخوا میں طبی سہولیات کے معیار اُور دستیابی کا اَندازہ اِس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ دہشت گرد حملوں‘ آتشزدگی یا گھریلو و دیگر تنازعات کی وجہ سے آگ کے زخمی یا خودسوزی کرنے والوں کے علاج معالجے کے لئے صوبے میں ایک بھی خصوصی طبی سہولت (ہسپتال) موجود نہیں۔ زیادہ آسان یہی تھا کہ موجودہ ہسپتالوں میں ’برن یونٹ‘ قائم کئے جاتے اور ایسا کیا بھی گیا لیکن سب کچھ ’خانہ پری‘ کی حد تک محدود پیمانے پر ہے۔ 

صوبائی فیصلہ سازوں کی ترجیحات کا اندازہ لگانا بھی قطعی مشکل نہیں کہ جنہیں اِس بارے میں سوچنے اور حالات کی سنگینی کا اندازہ لگانے کی فرصت نہیں۔ عجب ہے کہ ہمیں ’موٹروے‘ میٹرو اور تیز رفتار (ریپیڈ بس) کی ضرورت تو ہے بھلے ہی پینے کے صاف پانی سے لیکر علاج معالجے کی سہولیات تک کچھ بھی نہ تو معیاری ہو اور نہ ہی عمومی ضروریات کے مطابق پورا اُترے۔ چار جنوری کے روز اَندرون پشاور کے ’تھانہ کوتوالی‘ میں انوکھا واقعہ پیش آیا جب ایک خاتون تیز قدموں سے چلتے ہوئے تھانے میں داخل ہوئی اور اُس نے آن کی آن خود کو آگ لگا لی۔ پولیس کے مطابق ’’اٹھائیس سالہ مسماۃ سلمیٰ کو اُس کے شوہر نے چار سال قبل طلاق دی تھی‘ جس کے بعد اُس نے دوسری شادی کر لی لیکن مسماۃ سلمیٰ اُسی گھر میں مقیم تھی اور جب اُس کے سابق شوہر نے کرائے کا مطالبہ کیا تو اِس پر آئے روز جھگڑوں کے بعد جرگہ میں فیصلہ ہوا کہ مسماۃ سلمیٰ سات ہزار روپے ماہانہ کرایہ ادا کرے گی اور جلد کسی دوسرے گھر منتقل ہو جائے گی۔ اِس حل کے بعد مسماۃ سلمیٰ جب ایک سے زائد مرتبہ اپنا سامان لینے سابق شوہر کے گھر گئی تو اُس کی بیوی نے جھگڑا کر کے واپس کر دیا اور کہا کہ وہ پولیس تھانے سے اپنا سامان وصول کرے۔ یہ بات پہلے ہی سے دل برداشتہ سلمیٰ کے لئے صدمے کا باعث بنی اور اُس نے خود پر آتش گیر محلول چھڑکنے کے بعد تھانے کے اندر پہنچ کر آگ لگا لی۔‘‘ 

پولیس یہ بقول یہ سب اِس قدر اچانک ہوا کہ موقع پر موجود ایک سے زیادہ پولیس اہلکار کچھ نہ کر سکے اور اُس کا جسم 98 فیصد دیکھتے ہی دیکھتے جل گیا۔ پولیس کی بیان کردہ اگر اِس کہانی کو ’سوفیصد‘ درست بھی تسلیم کر لیا جائے تب بھی کئی سوال اُٹھتے ہیں۔ چیخ و پکار کرتی خاتون پولیس تھانے کے اندر جل کر خاکستر ہو گئی‘ جہاں آگ بجھانے والے کیمیائی آلات موجود نہیں تھے۔ گھریلو تنازع میں باخبر پولیس (متعلقہ تھانے کے اہلکاروں) کا اِس پورے معاملے میں کردار کیا رہا‘ جس کی الگ سے تحقیقات ہونی چاہئے۔ مسماۃ سلمیٰ کو طبی امداد کے لئے اسلام آباد منتقل کرنا پڑا‘ تاہم ڈاکٹروں کے مطابق اُس کے صحت یاب ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں‘ جس کی کئی وجوہات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اُسے مخصوص طبی امداد کئی گھنٹوں کے بعد ملی۔ المیہ در المیہ یہ ہے کہ پشاور میں انتہائی جلے ہوئے مریضوں کے علاج معالجے کی سہولیات دستیاب نہیں اور مختلف ہسپتالوں میں کئے گئے عارضی بندوبست بھی اِس ناکافی ہیں جہاں فوری طور پر انتہائی نگہداشت کی ضرورت والے مریضوں کا علاج معالجہ ممکن نہیں ہے!

تصور کیجئے ایک ایسے پشاور کا جہاں صحت کے شعبے میں تبدیلی کے وعدوں کو اُن کی روح کے مطابق عملی جامہ نہیں پہنایا گیا۔ آگ سے جلے یا جھلسے ہوئے مریضوں کو جب قریبی یا مرکزی ہسپتالوں میں پہنچایا جاتا ہے تو اُنہیں خبر دی جاتی ہے کہ وہ بڑے بڑے ناموں والی اِن علاج گاہوں اور ایک سے بڑھ کر ایک ماہر ڈاکٹر کی تعلیمی اسناد اور تجربے سے مرعوب نہ ہوں او رنہ ہی کروڑوں روپے سالانہ حکومتی اِمداد رکھنے والے اِن ہسپتالوں سے توقع کریں کہ وہاں ’برن یونٹ‘ موجود ہیں بلکہ ’برن یونٹ‘ کے نام پر فراہم کی جانے والی سہولیات سطحی ہیں! حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں تعمیر ہونے والا ’برن یونٹ‘ کا تعمیراتی کام تین برس سے مکمل ہے لیکن اُس کے فعال نہ ہونے کی وجہ درکار مالی وسائل کی کمی ہے۔ اِس سلسلے میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ ایک دوسرے پر ڈال رہی ہیں تو ’’کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں!؟‘‘ 

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ہر سال پشاور کے مختلف ہسپتالوں میں آگ سے جلے یا جھلسے ’8 ہزار‘ سے زائد مریضوں کو لایا جاتا ہے لیکن ناکافی سہولیات کی وجہ سے اُن کی اکثریت کو وفاق یا پنجاب بھیج (ریفر کر) دیا جاتا ہے۔ خیبرپختونخوا کے چار (برن یونٹ ایوب ٹیچنگ ایبٹ آباد‘ برن یونٹ خلیفہ گل نواز بنوں‘ برن یونٹ خیبرٹیچنگ پشاور اور برن یونٹ حیات کمپلیکس پشاور) میں سے کوئی ایک بھی ’برن یونٹ‘ ایسا نہیں جہاں 40فیصد سے زائد جلے ہوئے مریضوں کا علاج ہو سکے۔ ایسے مریضوں کو ’سی ایم ایچ کھاریاں یا واہ کینٹ بھیج دیا جاتا ہے جہاں زیرعلاج کل مریضوں میں سے 80 فیصد کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہوتا ہے۔

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں ’برن یونٹ‘ 60 بستروں پر مشتمل ہے جس کی تعمیر پر ڈیرھ ارب روپے لاگت آئی لیکن آلات و دیگر سازوسامان کی خریداری کے لئے درکار مزید رقم فراہم نہیں کی جا رہی! یہ امر لائق توجہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں جدید سہولیات سے آراسہ ’برن یونٹ‘ کے نہ ہونے سے صرف اِس صوبے کے مریض ہی نہیں بلکہ قبائلی علاقہ جات سے آنے والوں مریضوں اور اُن کے تیمارداروں کو مشکلات کا سامنا ہے اور اکثر مریض دور دراز ہسپتالوں تک پہنچنے میں وہ ’’قیمتی عرصہ‘‘ گزار دیتے ہیں‘ جو نہایت ہی اہم ہوتا ہے اور اگر اُن کا فوری علاج معالجہ شروع ہو جائے تو مریض کے بچنے کی اُمید (چانس) زیادہ ہوتے ہیں۔ 

خیبرپختونخوا کے ہسپتالوں میں آگ سے جلے یا جھلسے ہوئے مریضوں کے علاج معالجے کی فراہم کردہ سہولیات ’مرہم پٹی‘ کی حد تک محدود کیوں ہیں‘ جہاں متاثرہ مریض کی نہیں بلکہ اُس کے تیمارداروں اور عزیزوں کی تسلی و تشفی سے زیادہ کچھ حاصل نہیں ہوتا‘ آخر کیوں!؟ 

دہشت گردی سے نمٹنے اور صف اوّل کا کردار ادا کرنے والے خیبرپختونخوا میں ’برن یونٹ‘ کی فوری ضرورت اور اِس ضرورت کی فراہمی میں غیرضروری تاخیر ’مجرمانہ غفلت‘ میں شمار ہوتی ہے۔ تصور کیجئے کہ چوبیس نومبر دوہزار سترہ کے روز ’حیات آباد میڈیکل کمپلیکس‘ کے قریب ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کے قافلے کو دہشت گرد حملے میں نشانہ بنایا گیا لیکن اِس بارودی دھماکہ کے نتیجے میں جلے ہوئے زخمیوں کو چند منٹ کے فاصلے پر قریبی ہسپتال کی بجائے گھنٹوں کی مسافت پر دوسرے صوبے کے ’برن یونٹ‘ لیجانا پڑا۔ اگر حساسیت ہو تو ہمارے سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ ساز اُس دکھ اور جلن کی شدت محسوس کر سکتے ہیں جن سے زخمیوں گزرتے ہوں گے اور جسے برداشت کرنے کی سکت نصف سے زائد ایسے مریضوں میں نہیں ہوتی اور وہ علاج گاہوں تک پہنچنے سے پہلے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں!
۔