Showing posts with label Peshawar High Court. Show all posts
Showing posts with label Peshawar High Court. Show all posts

Saturday, March 12, 2022

Dark side of the criminal justice system in Pakistan!

 ژرف ِنگاہ .... شبیرحسین اِمام

تاریک گھر

ستائیس جنوری دوہزار اٹھارہ: کوہاٹ میں عاصمہ رانی نامی لڑکی کو قتل کیا گیا۔ مقتولہ کے بھائی ثاقب اللہ نے پولیس کو بتایا کہ مجاہد اللہ آفریدی اُور اُس کے بھائی صادق اللہ آفریدی نے اُن کے گھر میں گھس کر فائرنگ کی جس سے اُس کی بہن کی موت ہوئی۔ قتل کا مبینہ محرک یہ بتایا گیا کہ مجاہد اللہ نے عاصمہ رانی کے لئے شادی کا پیغام (رشتہ) بھیجا لیکن چونکہ مجاہد اللہ پہلے سے شادی شدہ تھا اِس لئے اہل خانہ اُور لڑکی نے انکار کر دیا اُور رشتے سے اِس انکار کو اپنی بے عزتی سمجھنے والوں نے رانی کو قتل کر دیا۔ قتل کرنے کی شب ہی نامزد مرکزی ملزم مجاہد اللہ متحدہ عرب امارات فرار ہو گیا‘ جہاں سے اُسے ’انٹرپول (عالمی پولیس)‘ کے ذریعے گرفتار کر کے وطن واپس لایا گیا کیونکہ سماجی و سیاسی اُور ذرائع ابلاغ کے کی وجہ سے عاصمہ رانی کا قتل معاملہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے چینلج بن چکا تھا۔ بہرحال مجاہداللہ کو مارچ دوہزاراٹھارہ میں پاکستان واپس لایا گیا اُور اُس پر مقدمے کے دوران جرم ثابت ہونے پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج پشاور کی عدالت نے ”25 جون 2021ئ“ کے روز سزائے موت اُور تین لاکھ جرمانے کی سزا سنائی اِس کے علاو¿ہ اُسے 20 لاکھ روپے مقتولہ کے ورثا کو بھی دینے کا کہا گیا‘ جو سزا کا حصہ تھا۔ ذہن نشین رہے کہ ذہین و باصلاحیت عاصمہ رانی ایوب میڈیکل کالج (ایبٹ آباد) کے ’ایم بی بی ایس‘ سال سوئم (تھرڈ ائر) کی طالبہ تھی اُور اہل خانہ اُسے ”چاند“ کے لقب سے پکارتے تھے‘ جس کے قتل پر اُنہوں نے کہا تھا کہ ہمارا گھر تاریک ہو گیا ہے! پولیس نے قتل کے اِس مقدمے میں ’دہشت گردی‘ کی دفعات لاگو کی تھیں جن کو بعدازاں ’پشاور ہائی کورٹ‘ نے مجرم کی طرف سے دائر پٹیشن پر ختم کر دیا تھا۔ قتل کے اِس مقدمے کا ایک خاص پہلو یہ بھی تھا کہ اِس میں قاتلانہ حملے کے بعد عاصمہ رانی کے بیان جو کہ ایک ریکارڈ شدہ ویڈیو کی صورت میں تھا‘ عدالت میں گواہان سمیت پیش کیا گیا‘ جس میں عاصمہ رانی نے مجرم دیئے گئے مجاہد اللہ کی فائرنگ کا ذکر کیا تھا اُور قتل کا یہ مقدمہ اِس لئے بھی ملکی و بین الاقومی ذرائع ابلاغ میں کئی مہینوں تک زیربحث رہا کیونکہ مقتولہ عاصمہ رانی کی بہن برطانیہ میں مقیم تھیں اُور اُنہوں نے عالمی ذرائع ابلاغ اُور سوشل میڈیا پر کے ذریعے حقائق بیان کئے جس پر سوشل میڈیا صارفین اُور دیگر عوامی سطح پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جاتا رہا اُور عاصمہ رانی کے لئے انصاف کے قاتلوں کو قرار واقعی سزائیں دینے کا مطالبہ ہر دن زور پکڑنے لگا تھا۔ درخواستیں رانی کے قتل کے مقدمے میں تین ملزمان نامزد کئے گئے تھے جن میں مجاہد اللہ‘ اِس کا بھائی صادق اللہ اُور اِن کا دوست شاہ زیب شامل تھے تاہم عدالت نے دیگر دونوں ملزمان کو ناکافی ثبوتوں کی وجہ سے بری کر دیا اُور ’ستمبر دوہزاراکیس‘ میں یہ پیشرفت بھی ہوئی کہ مقتولہ رانی کے والد غلام دستگیر نے علاقائی روایات کے مطابق ایک جرگہ میں مجاہد اللہ کو معاف کر دیا۔ پاکستان کے قوانین (کوڈ آف کریمنل پروسیجر اُور پاکستان پینل کوڈ) کے تحت متاثرہ خاندان اپنے ساتھ ہوئے کسی بھی قسم کے جرم کو معاف کر سکتا ہے اُور ایسی صورت میں عدالت اُن کے آپسی تصفیے کو تسلیم کرتے ہوئے مقدمہ اُور سزا ختم کر دیتی ہے۔

دس مارچ دوہزاربائیس: جسٹس روح الامین خان اُور جسٹس شکیل پر مشتمل عدالت ِعالیہ (پشاور ہائی کورٹ) کے 2 رکنی بینچ کے سامنے خیبرپختونخوا حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکیل (ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نثار) نے موقف اختیار کیا کہ رانی کے قاتل کو صرف اِس وجہ سے معاف نہیں کیا جانا چاہئے کہ اُس کے اہل خانہ نے کسی بھی وجہ سے تصفیہ کر لیا ہے بلکہ اِس مقدمے کو اِس نکتہ نظر سے دیکھا جانا چاہئے کہ قتل کی مذکورہ واردات ’فساد فی الارض‘ ہے اُور اگر اِس قسم کے انصاف کی مثالیں قائم کی گئیں تو اِس سے جرائم کی حوصلہ شکنی نہیں ہوگی بلکہ اِس سے بااثر طبقات کو ایسے سنگین جرائم کرنے کی بھی ’کھلی چھوٹ‘ مل جائے گی جو اپنی امارت کے زعم میں اِس بات کو ضروری نہیں سمجھتے کہ انسانی جان کی حرمت ہر قانون اُور ضابطے سے بالاتر ہے۔ قابل ذکر ہے کہ حکومتی وکیل کی جانب سے یہ نکتہ¿ نظر سامنے آنے سے پہلے ہی عدالت عالیہ نے بیرسٹر امیر اللہ خان کو ’ایمیکس کیوری (غیرجانبدار مشیر)‘ مقرر کیا تھا تاکہ وہ اس قانونی نکتے پر عدالت کی معاونت و رہنمائی کریں کہ جب پاکستان کے قوانین (سی آر پی سی‘ پی پی سی اور آئین) کی متعدد دفعات میں اِس بات کی اجازت ہے کہ متاثرہ خاندان زیرسماعت مقدمات کا تصفیہ (فیصلہ) ازخود کر سکتا ہے اُور آئینی طور پر عدالت ایسے فیصلوں کو تسلیم کرنے کی پابند بھی ہے تو عاصمہ رانی قتل کیس میں ہوئے تصفیے کے بعد عدالت ِعالیہ کس طرح سزائے موت پر عمل درآمد بحال رکھ سکتی ہے اُور ایسی صورت میں عدالت کے پاس مداخلت کرنے کی کس قدر گنجائش رہ گئی ہے؟

مقتولہ عاصمہ رانی کی بہن صفیہ رانی برطانیہ کمپیوٹرز (انفارمیشن ٹیکنالوجی) کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے گئی تھی لیکن جب اُنہیں اپنی بہن کے قتل اُور پاکستان میں عدالت و انصاف کے بارے میں علم ہوا تو اُنہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے داخلہ لے لیا تاکہ ’بار ایٹ لا‘ کرنے کے بعد وہ پاکستان آئیں اُور اپنی بہن کا مقدمہ لڑیں لیکن قانون و انصاف کا عالمی اصول یہ ہے کہ اِس میں قانون و انصاف کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوتی ہے جبکہ پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں آنکھوں پر پٹی کے علاو¿ہ قانون و انصاف کے دیگر حواس ِخمسہ بھی شل (معذور) ہو چکے ہیں جبکہ معاشرے میں جرم اُور مجرموں سے خاطرخواہ نفرت نہیں پائی جاتی۔ اگر یہی صورت حال برقرار رہی کہ جس میں عدالتیں قانون اُور قانون عدالتوں کے سامنے بے بس رہا تو نجانے مزید کتنے چاند گرہن ہوں گے! مزید کتنی جانیں قتل ہوں گی اُور مزید کتنے قاتل معاف کر دیئے جائیں گے۔ صرف عاصمہ رانی ہی نہیں بلکہ پاکستان میں انصاف کو عدل اُور عدل کو انصاف سے قریب و متصل کرنے بھی ضرورت ہے۔ ”ظلم چکھایا بے حسی چکھی .... کیا کبھی تم نے بے بسی چکھی (ناہید اختر بلوچ)۔“

....

Clipping from Daily Aaj - March 12, 2022 Saturday


Friday, October 4, 2019

CENSORED: PHC verdict in School Case!

۔۔۔ ناقابل اشاعت قرار دے دیا گیا ۔۔
ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
خواب بیچ دے!

خیبرپختونخوا میں نجی تعلیمی اِداروں کی ’ٹیوشن فیسوں‘ میں اِضافہ زیربحث تھا کہ اِس موضوع میں ’سہ ماہی تعطیلات‘ کی فیس وصولی کا تنازعہ بھی شامل ہو گیا۔ تشویش کا شکار چند والدین نے عدالت عالیہ (پشاور ہائی کورٹ) سے رجوع کیا‘ جہاں مقدمہ قائم کرتے ہوئے اِسے ایک بنیادی سوال کی حد تک محدود کر دیا گیا کہ ”کیا نجی سکول تعطیلات کی فیس اُور اِن تعطیلات کے عرصے میں طلباءو طالبات سے آمدورفت کے اخراجات وصول کرنے کے مجاز ہیں یا نہیں؟“ حالانکہ معاملہ کثیرالجہتی تھا اُور اِس کا مختلف پہلوو ¿ں سے جائزہ لینے کی ضرورت تھی۔ بہرحال (دو اکتوبر دوہزار اُنیس کے روز) عدالت کی جانب سے بائیس صفحات کا مشتمل فیصلہ سامنے آیا‘ جسے تفصیلی کہا گیا اُور اگر اِس کا لب لباب پیش کیا جائے تو وہ یہ ہے کہ
1
والدین متعلقہ حکومتی محکمے سے رجوع کریں
2
 متعلقہ حکومتی محکمہ ’خیبرپختونخوا پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی (KPPSRA)‘ پابند ہو گا کہ وہ آئندہ (2 نومبر 2019ء) سے قبل یعنی 2 ماہ کے عرصے میں والدین کے ساتھ مشاورت کر کے اِس مسئلے کا حل تلاش کرے۔

3
 نجی تعلیمی ادارے والدین سے وہ تمام بقایا جات یکمشت وصول نہیں کریں گے بلکہ پچیس پچیس فیصد کے تناسب سے چار اقساط میں وصول کئے جائیں گے‘ جو عدالت سے ’حکم امتناعی (اِسٹے آرڈر) کی وجہ سے والدین اَدا نہیں کر رہے تھے۔

4
ریگولیٹری اتھارٹی والدین کے نمائندوں پر مشتمل ’فیس کمیٹی‘ بنائے گی جو نہ صرف تعلیم بلکہ نجی سکولوں کے اُن ضمنی اخراجات کا بھی تعین کرے گی‘ جو (بڑھا چڑھا کر) والدین کو منتقل کر دیئے جاتے ہیں اُور

5
مذکورہ فیس کمیٹی اُور نجی سکولوں کا نگران صوبائی محکمہ اَساتذہ کے لئے مراعات و سہولیات کا تعین بھی کرے گا۔

’پشاور ہائی کورٹ‘ کے جاری ہونے والا فیصلے پر تینوں فریقین (نجی سکول‘ حکومتی محکمہ اُور والدین) اپنی اپنی جگہ

 خوشیاں منا رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اِس سے نہ تو مسئلہ حل ہوا ہے اُور نہ ہی اِس کا پائیدار حل ہونے کی اُمید ہی پیدا ہوئی ہے۔ اگر صوبائی حکومت کا متعلقہ محکمہ خاطرخواہ کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہوتا اُور وہ نجی سکولوں کی بجائے صارفین یعنی والدین کے مفادات کا محافظ ہوتا (جو کہ اُسے ہونا چاہئے) تو والدین کو اپنا کام کاج چھوڑ کر اُور اپنے مالی وسائل خرچ کر کے عدالت عالیہ سے رجوع کرنے (یعنی کورٹ کچہری کے دھکے کھانے) کی ضرورت ہی کیوں پڑتی؟ اِس پورے منظرنامے میں سب سے زیادہ بے بس‘ متاثرہ اُور مظلوم فریق ’والدین‘ ہیں‘ جنہوں نے انصاف کے لئے صرف عدالت ہی نہیں بلکہ سیاسی فیصلہ سازوں کے دروازے بھی کھٹکھٹائے ہیں اُور ہر طرف سے سوائے دھتکار کچھ حاصل نہیں ہوا۔ البتہ فرق یہ تھا کہ کسی نے دھتکار مہذب انداز میں دی اُور کسی کا لب و لہجہ غیرشائستہ تھا!

والدین کے پاس اب لے دے کر .... یہی آپشن بچا ہے کہ وہ نجی سکولوں کی خواہش و مطالبہ (جائز و ناجائز) کے مطابق فیسیں و دیگر اخراجات اَدا کریں اُور اُس روز قیامت کا انتظار کریں جب عدالت قائم ہو گئی اُور پوچھا جائے گا کہ تعلیم کی فراہمی جیسی آئینی ذمہ داری سے حکمرانوں کو خود کو کیسے بری الذمہ قرار دیا تھا اُور تعلیم جیسی جنس کو کاروباری طبقات کے حوالے کرنے والے فیصلہ سازوں نے اپنے کاروباری و ذاتی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے والدین کا اِستحصال کیا۔ بااثر نجی تعلیمی اداروں کے مقابلے اگر والدین خود کو بے بس سمجھ رہے ہیں تو اِس کے لئے بھی ذمہ دار وہ خود ہی ہیں‘ جو عام انتخابات میں ووٹ دیتے وقت اُن مسائل و مشکلات کو موضوع نہیں بناتے‘ جس پر بعدازاں عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں!



عدالتیں آئین ساز اُور قواعد ساز نہیں ہوتیں۔ وہ تو فیصلوں کو آئینی دستاویزات اور فیصلوں کی روشنی میں لکھنے کی پابند ہے اُور زیادہ سے زیادہ یہی کر سکتی ہے‘ جو اِس نے کیا ہے!



والدین عجیب مشکل میں پھنس گئے ہیں۔ اب وہ یہ بھی نہیں کرسکتے کہ اپنے بچوں کو بطور احتجاج نجی سکولوں سے نکال کر سرکاری سکولوں میں داخل کروا دیں کیونکہ ایک تو سرکاری سکولوں میں لاکھوں کی تعداد میں بچوں کو داخل کرنے کی صلاحیت (گنجائش) موجود نہیں۔ دوسرا سرکاری سکولوں کی تعداد اُور وہاں حسب طلبہ تعینات اساتذہ کی تعداد پہلے ہی ضرورت سے کم ہے۔ تیسرا سرکاری سکولوں کا معیار تعلیم اُور ماحول ایسا نہیں کہ اچھے مستقبل کی اُمید میں سرمایہ کاری کرنے والے اپنی آنکھوں کے خواب بیچ ڈالیں۔ وہ اپنے آپ کو تو بیچ دیں گے لیکن شاید تعلیم چاہے وہ کتنی ہی مہنگی کیوں نہ ہو جائے‘ لیکن اِس میں سرمایہ کاری ضرور کریں گے کیونکہ یہ آج نہیں مستقبل کا معاملہ ہے!



نجی تعلیمی ادارے ہوں یا سرکاری دفاتر۔ کاروبار ہوں یا سہولیات و خدمات کی فراہمی کے مراکز‘ ہر سطح پر ذمہ داروں (ملازمین اُور معاونین) ’مافیا‘ کی صورت اپنے مفادات کے لئے اُس ایک صارف کے خلاف متحد ہیں‘ جسے عرف عام میں ’عوام‘ کہہ کر دیکھا اُور سمجھا جاتا ہے۔ یہ عوام نہ تو خواص (حکمرانوں‘ اسٹیبلشمنٹ اُور افسرشاہی) کا مقابلہ کرنے کی مالی و سیاسی سکت رکھتے ہیں اُور نہ ہی اِن کے آپسی روابط اُور اتحاد ہی ممکن ہو پایا ہے کہ یہ اپنے جائز (درست) موقف کو کسی بھی فورم پر بذریعہ احتجاج و طاقت منوا سکیں۔ جب بات تعلیم (درس و تدریس) کی آتی ہے تو حقیقت یہ ہے کہ ایک عام آدمی (ہم عوام) ماضی کے مقابلے آج خود کو زیادہ بے بس محسوس کر رہا ہے۔



اُمید تھی کہ ’پشاور ہائی کورٹ‘ اِن جیسے جملہ ضمنی پہلوو ¿ں کا اَزخود نوٹس لے گی‘ تعلیم میں سرمایہ کاری کرنے والوں نے معروف اُور مہنگے ترین وکلاء(قانونی ماہرین)‘ کی خدمات حاصل کرکے مقدمہ تو جیت لیا ہے‘ جس سے یہ تاثر بھی پیدا ہوا ہے کہ عدالت نے جن 9 مقدمات کو بیک وقت لپیٹ کر جس فریق سے اپنے تیئں انصاف کیا ہے اُس کی زبان نہیں بلکہ چہروں کے تاثرات بول رہے ہیں! والدین مجبور ہیں‘ جن کی مجبوری زیرغور نہیں۔ اِسی مجبوری کے بارے میں 57 کتابوں کے مصنف‘ رومانین نژاد اَمریکی مفکر‘ پروفیسر ایلی وایسل (Elie Wiesel) نے کہا تھا کہ ”غیرجانبداری فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اُور اِس کے ذریعے بسا اُوقات کسی متاثرہ شخص کی مدد بھی ممکن ہوتی ہے لیکن غیرجانبداری سے اُس ایک فریق کی مدد ممکن نہیں‘ جس پر ’ظلم‘ ہوا ہو۔ جانبدار (خاموش) رہنے سے ظالم کو حوصلہ ملتا ہے جبکہ اِس عمل سے مظلوم کی ہمت جواب دے جاتی ہے!“

............

Monday, February 26, 2018

Feb 2018: The changing Peshawar & issue of Bala Hisar Fort in the court

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
پشاور: کیا تھا؟ ۔۔۔ کیا ہے؟
ہرسمت تعمیر و ترقی کے خرچے اُور چرچے کا ’ہنگامہ خیز‘ دور جاری ہے‘ جس کے شاہد ’اہل پشاور‘ نے ’توجہ دلاؤ نوٹس‘ کے ذریعے درخواست کی ہے کہ صحت مند اور بامقصد تفریح کے ایسے مزید مواقع فراہم کئے جائیں‘ جس سے نئی نسل بالخصوص بچوں کو پشاور کے شاندار ماضی اُور یہاں کی ’’تاریخ‘ روایات اُور ثقافت آشنا‘‘ کیا جا سکے۔ 

یہی لمحۂ فکریہ پشاور کے باغات کی ’’واگزاری اُور بحالی‘‘ کا بھی ہے‘ جو سیاسی‘ ذاتی یا انتخابی مفادات رکھنے والے فیصلہ سازوں کی ’کمرشل اِزم سوچ‘ کی نذر ہو چکے ہیں! شاہی باغ‘ وزیر باغ‘ چاچا یونس پارک اُور جناح پارک‘ پشاور کا عکس اور عکاس ہیں جن کے موجود وسائل کو‘ تجاوزات اور کمرشل خرابات سے باآسانی واگزار کر کے ترقی دی جاسکتی ہے اُور اِنہیں ’عالمی معیار‘ کے مطابق ’سبزہ زاروں‘ میں ڈھالا جا سکتا تھا لیکن تحریک اِنصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت کو شاید یہ بھی یاد نہیں رہا کہ اُنہوں نے تو ’ہر یونین کونسل‘ کی سطح پر ’کھیل کا میدان (پلے گراؤنڈ)‘ بنانے کا وعدہ کر رکھا ہے اور یوں پانچ سال کی آئینی مدت کی تکمیل کے قریب پشاور کی ’92 یونین کونسلوں‘ میں کم سے کم ’’سات درجن‘‘ سبزہ زار تو موجود ہوتے لیکن ’تلخ حقیقت‘ تو یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کی کل 3 ہزار 493 یونین کونسلوں میں چند درجن ہی خوش نصیب ’بلدیاتی یونٹ‘ ایسے ہیں‘ جہاں ماضی کی امانت‘ سبزہ زاروں کی ظاہری شکل و صورت‘ بازاروں اور قبرستانوں سے زیادہ مختلف نہیں جہاں ہر طرف ’’تجاوزات‘‘ عام ہیں!

مقام افسوس تو یہ بھی ہے کہ پشاور کے جن بازاروں کو مزاحمت اور کوششوں کے بعد تجاوزات سے پاک کیا گیا وہاں پھر سے بالخصوص نئی و پرانی تعمیرات اپنی حدود سے تجاوز کر رہی ہیں۔ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کا وجود اور اِس وجود کا خوف نام کی کوئی شے ہوتی تو کسی تاجر‘ آجر و اجیر کی ہمت نہ ہوتی کہ وہ اپنی حد سے تجاوز کرتا‘ پشاور کے وسائل کی لوٹ مار کرے اور یہاں کے معاشرت و معیشت کو مسائل سے دوچار کرے۔ 

آج کے پشاور کی طرح‘ کبھی بھی یہ شہر‘ بناء نمائندگی (بے سروساماں) اور بے بس نہیں رہا اُور اِس کی وجہ یہ ہے کہ اندرون پشاور سے منتخب ہونے والے غیرمقامی سیاسی و بلدیاتی نمائندوں سے ’نمائندگی (ترجمانی) کا حق‘ اَدا کرنے کی توقعات عبث ہیں۔ آج کے پشاور کا دُکھ صرف وہی نفوس سمجھ سکتے ہیں‘ جو خود پشاور سے ہوں اور نکتۂ نظر (اصطلاحی طور پر) بھی صرف اُنہی ارواح کو سمجھ آ سکتا ہے کہ ’’پشاور کیا تھا اور آج کا پشاور کیا ہے!؟‘‘

بہت دنوں بعد پشاور کی گلیوں میں ’گم ہونے کا اتفاق‘ ہوا۔ وہ شہر جو ’خون کے ساتھ رگوں میں گردش کرے‘ وہاں اجنبی چہروں کی چہل پہل (شورشرابے) اُور تیزی سے فنا ہوتا ’فن تعمیر‘ کا مشاہدہ کبھی بھی خوشگوار نہیں رہا۔ ہر چند ماہ بعد پشاور پہلے سے زیادہ مختلف اور پرہجوم دکھائی دیتا ہے لیکن ایسا بھی نہیں کہ ’بیدار دل‘ اپنے ’اثاثوں کی نگہبانی‘ سے غافل ہوں۔ پشاور ہائی کورٹ میں دائر ایک مقدمے کی مثال کافی ہے جس میں 2 رکنی بینچ (جسٹس اکرام اللہ خان اور جسٹس محمد غضنفر خان) اِن دنوں ایک ایسے مقدمے کی سماعت کر رہے ہیں‘ جس کا عمومی موضوع ’پشاور شناسی (تاریخ و ثقافت سے جڑے اثاثوں کے انتظامی امور کی منتخب اداروں کو سپردگی) اور موجود وسائل تک عام آدمی (ہم عوام) کو استفادہ کرنے کی اجازت دینا ہے۔ بنیادی طور پر یہ مقدمہ اَٹھارہویں صدی میں تعمیر ہونے والے ’قلعہ بالا حصار‘ سے متعلق ہے‘ جسے اگر ’پشاور کی تاریخ کا مستند حوالہ‘ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ اِس کے مطالعے سے ’تاریخ پشاور‘ کو سمجھنا اور سمجھانا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔

قلعہ بالا حصار (اپنے نام کی طرح) کسی تاریخی عمارت کے وجود سے کئی گنا زیادہ بڑی (قدآور) عمارت ہے چونکہ اہل پشاور کے لئے تفریح کے مواقعوں کی کمی ہے اِس لئے ’خورشید خان ایڈوکیٹ‘ نے پشاور ہائی کورٹ کی توجہ اِس جانب مبذول کرائی ہے کہ ’بالاحصار‘ میں قائم ’فرنٹیئر کور (Frontier Corps)‘ (ایف سی) کے ’صدر دفتر (ہیڈکواٹر) کو ختم کرکے اِسے ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر دیا جائے جبکہ عدالت نے اِس سلسلے میں صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سے جواب طلب کر رکھا ہے اور اِن دونوں فریقین (صوبائی حکومت اُور ایف سی) کی خاموشی پر اِظہار افسوس کرتے ہوئے عدالت عالیہ نے لچک دکھائی ہے‘ کہ اگر پورے قلعہ کو عوام کے لئے نہیں کھولا جا سکتا تو اِس کے کسی ایک حصے تک جزوی طور پر ہی سہی عوام کو رسائی دی جائے۔ 

درخواست گزار کا مؤقف منطقی ہے۔ ایف سی نے حیات آباد میں قبائلی علاقے خیبرایجنسی سے متصل ’صدر دفتر‘ تعمیر کر لیا ہے‘ تو اصولی طور پر قلعہ بالا حصار خالی کر دینا چاہئے کیونکہ ایک تو ’جی ٹی روڈ‘ کے اِس مقام پر ٹریفک کا ہمیشہ ہی سے دباؤ رہتا ہے اور دوسرا قلعہ کی پارکنگ اور حفاظت کے لئے سڑک کے ایک بڑے حصے کو بند کرنا بھی ضروری ہے تو اگر ’ایف سی ہیڈ کوارٹر‘ کو حیات آباد نئے دفتر منتقل کر دیا جائے تو اِس سے نہ صرف اندرون شہر ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی بلکہ ہنگامی یا عام حالات میں متصل لیڈی ریڈنگ ہسپتال سے رجوع کرنے والوں کو سہولت میسر آئے گی جس کے لئے قلعہ کے اطراف میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال تک خصوصی راستے (کوریڈورز) بنائے جا سکتے ہیں۔

پشاور کو قلعہ بالاحصار پشاور کی کئی لحاظ سے ضرورت ہے اور چونکہ یہ حساس معاملہ عدالت عالیہ کے سامنے زیرغور ہے‘ جہاں اِس پورے قضیے (معاملے) کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے تو ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری بھی ہے کہ پشاور سے ہمدردی اور وابستگی کا ثبوت دیتے ہوئے عوامی رائے عامہ سے عدالت کو آگاہ کریں کہ پشاور کا خاص و عام آدمی‘ نئی نسل اور یہاں کے منتخب نمائندے اِس بارے میں کیا سوچ رکھتے ہیں۔ 

اُمید ہے کہ یہ قلعہ فوج کی بجائے سول انتظامیہ کے سپرد کر دیا جائے گا اور ضلعی انتظامیہ کے جو دفاتر شاہی باغ کی اراضی پر تعمیر ہیں‘ اُن تمام تجاوزات کو ہٹا کر ’شاہی باغ‘ کو اُس کا رقبہ واپس مل جائے گا‘ جس سے پشاور کی کم و بیش ’ستر لاکھ‘ سے زائد آبادی کے لئے سبزہ زاروں کی کمی تو پوری نہیں ہوگی‘ لیکن کیا عجب کہ پشاور کو وہ ’شاہانہ رونقیں‘ واپس مل جائیں جب شاہی باغ میں جھنڈوں کے میلے‘ سماجی ادبی محافل‘ مذاکرے چہل قدمی اور کھیل کود جیسی صحت مند سرگرمیوں کا باقاعدگی سے اِنعقاد ایک معمول ہوا کرتا تھا۔ لب لباب ’’بیداری کی لہر‘‘ ہے جس میں اہل پشاور کو ’اپنا پشاور‘ واپس چاہئے اُور بس! 
’’ابھی ہیں کچھ پرانی یادگاریں ۔۔۔ 
تم آنا شہر میرا دیکھنے کو (اظہر عنایتی)۔‘‘
۔
 .... http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2018-02-26
Reclaiming Peshawar

Friday, January 19, 2018

Jan 2018: Weapons and peace in society!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
جان کی اَمان!
حکومتِ پاکستان نے قانون نافذ کرنے والے اِداروں کے علاؤہ ممنوعہ بور کا ’خودکار‘ اسلحہ رکھنے کو ’’ممنوع‘‘ قرار دیا ہے اور اِس سلسلے میں ’چھبیس دسمبر دوہزار سترہ‘ کو جاری کئے گئے حکمنامے کے ذریعے پورے ملک میں ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسینس منسوخ کر دیئے گئے ہیں جبکہ اِن لائسینسوں کی تبدیلی کی حتمی تاریخ رواں ماہ کا اختتام مقرر کی گئی ہے۔ 

وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے اِس انتہائی اقدام کے سب سے زیادہ منفی اثرات خیبرپختونخوا اور ملحقہ قبائلی علاقوں پر مرتب ہوں گے کیونکہ یہاں امن و امان کی صورتحال ملک کے دیگر حصوں کی نسبت مثالی و یقینی نہیں لیکن کیا ممنوعہ بور کا اسلحہ رکھنا اِس بات کی ضمانت ہو سکتا ہے کہ منظم جرائم پیشہ عناصر یا عسکریت پسند اپنی وارداتیں ترک کر دیں گے؟ اگر معاشرے کے ہر شخص کو اپنا دفاع خود ہی کرنا ہے تو پھر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار کس مرض کی دوا ہیں؟ کیا معاشرے میں صرف اُنہی افراد کو محفوظ رہنے کا حق حاصل ہے جو لاکھوں روپے مالیت کا خودکار اسلحہ اور بھاری فیسوں کے عوض انہیں رکھنے کی مالی سکت رکھتے ہیں؟ وہ عام لوگ (ہم عوام) جن کے پاس اسلحہ خریدنے کی مالی سکت ہی نہیں‘ اُن کی جان و مال کا محافظ کون ہے؟ ایسے بہت سے سوالات سنجیدہ غوروخوض کے متقاضی ہیں!

ایک ایسے پاکستان کا تصور کیجئے جو ہر قسم کے اسلحے سے پاک ہو۔ آبادی کے مراکز امن و امان کی مثال ہو۔ شہر ’’مدینۃ الفاضلہ‘‘ ہوں لیکن اِس مشکل کام کی بجائے فیصلہ سازوں نے اِس بات کو زیادہ آسان سمجھ لیا کہ بااثر اور سرمایہ داروں کو ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسینس جاری کر دیئے جائیں اور یوں اسلحہ رکھنا کسی شخصیت کے معاشرے میں اہم (وی آئی پی) ہونے کی نشانی بھی بن گیا!

وفاقی حکومت نے تمام ممنوعہ بور اسلحہ لائسینس رکھنے والوں کو حکم دے دکھا ہے کہ وہ منظورشدہ اسلحہ ڈیلرز یا اسلحہ سازوں کے ذریعے اپنا خودکار اسلحہ تبدیل کروائیں۔ اِس سلسلے میں اسلحہ فروخت کرنے والوں اور اسلحہ سازوں کو بھی حکم دیا گیا تھا کہ وہ متعلقہ ضلعی پولیس آفیسر‘ ڈپٹی کمشنر‘ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر‘ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ یا پھر پولیٹیکل ایجنٹ سے اجازت لینے کے بعد اسلحہ تبدیلی کریں اور یہ عمل رواں ماہ کے اختتام (31 جنوری2018ء) تک بہرصورت مکمل ہو جانا چاہئے۔ 

حکومت کی جانب سے خودکار بندوق کی قیمت 50 ہزار جبکہ خودکار پستول یا ہینڈ گن کی قیمت 20ہزار روپے مقرر کی گئی۔ اگر خودکار اسلحہ کے مالک مذکورہ متعلقہ حکام میں سے کسی کے دفتر میں اپنا خودکار اسلحہ جمع کرواتے ہیں تو اُنہیں یہ قیمت ادا کی جائے گی۔ تعجب خیز ہے کہ خودکار درآمد شدہ بندوق کی قیمت پانچ سے دس لاکھ کے درمیان تک ہو سکتی ہے لیکن اُسے حکومت کو واپس کرنے کی صورت پچاس ہزار روپے ادا کئے جائیں گے۔ اِسی طرح کون پسند کرے گا کہ وہ ایک سے پانچ لاکھ روپے مالیت کا خودکار پستول بیس ہزار روپے کے عوض حکومت کے حوالے کر دے! 

اسلحہ لائسینسوں کی تبدیلی اور اُن کی ردوبدل کا اختیار ’نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)‘ کو دیا گیا ہے۔ یہ پورا قضیہ اِن دنوں ’پشاور ہائی کورٹ‘ کے دو رکنی بینچ (جسٹس قلندر علی خان اور جسٹس محمد ایوب خان) کے سامنے پیش نظر ہے جنہوں نے ’سترہ جنوری دوہزاٹھارہ‘ کے روز ’وفاقی وزارت داخلہ‘ سے ممنوعہ بور اسلحہ لائسینسوں کو ممنوع قرار ختم کرنے آئندہ دو ہفتوں میں وضاحت طلب کی ہے۔

پاکستان میں قریب 90 ہزار ممنوعہ بور کے خودکار ’اسلحہ لائسینس ہولڈز‘ ہیں لیکن چونکہ اِن لوگوں نے باضابطہ اور قانون کے مطابق اسلحے کی ملکیت رکھنے کے اجازت نامے حاصل کر رکھے ہیں‘ اِس لئے اِنہیں سماج دشمن قرار نہیں دیا جاسکتا۔ جان کی امان چاہتے ہوئے عرض ہے کہ معاشرے میں اسلحہ رکھنے کا رجحان اور طلب کی وجہ وہ افراد (عناصر) ہیں‘ جنہوں نے اسلحہ جرائم اور دہشت گردی کے لئے خرید رکھا ہے اور خیبرپختونخوا و ملحقہ قبائلی علاقوں میں آج بھی ممنوعہ سے انتہائی ممنوعہ اور بھاری ہتھیاروں کی خریداری ناممکن یا مشکل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قبائلی علاقوں کی امتیازی حیثیت تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے تاکہ اسلحے کی فروخت کی یہ منڈیاں اور امکانات ختم کئے جا سکیں۔ یقیناًایک مرحلے پر پہنچ کر پورے پاکستان میں ہر قسم کا اسلحہ ممنوع قرار دینے میں کوئی حرج (مضائقہ) نہیں لیکن اُس سے قبل وفاقی حکومت کو اپنی بنیادی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے ’اسلحے کی خریدوفروخت کے اُس غیرقانونی کاروبار پر پوری قوت سے ہاتھ ڈالنا ہوگا‘ جو اربوں روپے مالیت کا دھندا ہے اور اِس میں ملوث افراد سیاسی اثرورسوخ و غیرمعمولی مالی حیثیت کے مالک ہو چکے ہیں۔ قبائلی اور بندوبستی علاقوں میں انتظامی عہدوں پر فائز سرکاری اہلکاروں کی مالی حیثیت کا اگر احتساب کیا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ ذاتی مفادات کے لئے پاکستان کو غیرمحفوظ بنانے والوں میں کتنے اعلیٰ سرکاری اہلکار شامل ہیں۔ 

ممنوعہ بور کا اسلحہ رکھنے والے اگر رواں ماہ کے اختتام سے قبل اپنا اسلحہ لائسینس ممنوعہ بور سے تبدیل نہیں کراتے تو اُن کے لائسینس منسوخ کرنے جیسے انتہائی اقدام کا فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے جبکہ سانحۂ آرمی پبلک سکول (سولہ دسمبر دوہزار چودہ) کے بعد بڑے پیمانے پر صرف تعلیمی اِداروں کے محافظین ہی کو نہیں بلکہ مالکان اُور اساتذہ کرام کو بھی اسلحہ استعمال کرنے کی خصوصی تربیت اور لائسینس جاری کئے گئے تھے۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ وہ ایک جلدبازی میں کیا گیا فیصلہ تھا جبکہ سیاسی اثرورسوخ رکھنے والوں کو اِس قسم کے کسی موقع غنیمت کی ضرورت نہیں ہوتی اور وہ اراکین اسمبلی کے ذریعے ممنوعہ بور کے خودکار لائسینس حاصل کر لیتے ہیں۔ 

اُنیس سو اٹھاسی سے قومی سیاست میں حصہ لینے والے شاہد خاقان عباسی جب ’اگست دوہزار سترہ‘ میں وزیراعظم بنے تو اُنہوں نے جن اہم مسائل کے بارے میں قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کیا‘ اُن میں ممنوعہ و غیرممنوعہ بور کے اسلحہ لائسینس کا معاملہ بھی شامل تھا اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان ’آرمز فری‘ ملک ہو‘ جہاں اسلحہ صرف اور صرف قانون نافذ کرنے کے اِداروں کے اہلکاروں کے پاس ہونا چاہئے۔ یہ تعمیری اور خوش آئند تصور ہے کیونکہ پاکستان کے تناظر میں بات ہو رہی ہے اور حقیقت یہی ہے کہ اَسلحہ ساخت کے لحاظ سے چاہے ممنوعہ ہو یا غیرممنوعہ‘ بہرصورت اِس کی ملکیت و نمائش ’ممنوع‘ ہونی چاہئے اور یہی امر وسیع بنیادوں پر امن کی ضمانت بن سکتا ہے کہ ہم میں سے ہر خاص و عام‘ کی زبان اور اسلحے کی شرانگیزیوں سے دوسرے محفوظ و مامون رہیں۔
۔

Thursday, January 18, 2018

Jan 2018: Justice for APS

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
سفر در سفر: انصاف کی تلاش!
’سانحہ دَر سانحہ‘ یہ ہے کہ ’سولہ دسمبر دوہزار چودہ‘ سے ’سولہ جنوری دوہزار اَٹھارہ‘ (تین سال ایک ماہ یا ایک ہزار ایک سو ستائیس دن) کے سفر میں ’آرمی پبلک سکول ’اے پی ایس‘ (پشاور)‘ پر دہشت گرد حملے کے حقائق منظرعام پر نہیں آ سکے ہیں! متاثرہ والدین کے زخم تازہ اور غم زدہ خاندانوں کے آنسو خشک نہیں ہو رہے کیونکہ تفتیشی اِدارے ’پراسرار خاموشی‘ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اِس سکوت کو توڑنے کی کوشش میں ’پشاور ہائی کورٹ (عدالت عالیہ)‘ سے رجوع کیا گیا تو دو رکنی بینچ (جسٹس روح الامین اور جسٹس یونس تھیم) نے سولہ جنوری دوہزار اٹھارہ کے روز خیبرپختونخوا حکومت اور صوبائی پولیس کے ادارے کو حکم دیا ہے کہ وہ اکتیس جنوری تک ’سانحۂ اے پی ایس‘ کے حوالے سے ہوئی تحقیقاتی پیشرفت عدالت میں پیش کریں۔‘‘ جسٹس روح الامین نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ’’اے پی ایس حملے سے متعلق تفتیشی عمل کو یہ کہتے ہوئے ’معطل‘ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ یہ حساس معاملہ ہے۔‘ حقیقت تو یہ ہے کہ حساس معاملات زیادہ تفتیش اور تحقیقات کے متقاضی ہوتے ہیں لیکن جس ایک سانحے میں ایک سو سے زائد معصوم بچوں کو قتل کر دیا گیا ہو اور جس انداز میں خاص تعلیمی ادارے کونشانہ بنایا گیا ہو‘ اُس حملے کے جملہ کردار‘ منصوبہ بندی اور عملی جامہ پہنانے میں سہولت کار عوامل کے بارے میں تفصیلات جاننا نہ صرف متاثرہ والدین بلکہ ہر اُس پاکستانی کا حق ہے‘ جس نے بچوں کے اِس ’’قتل عام‘‘ کا دُکھ اپنے دل کے نہایت ہی قریب محسوس کیا اور آج بھی بچوں کی یاد میں اُس کی آنکھیں بھر آتی ہیں۔ ’سانحۂ اے پی ایس‘ کے بعد کئی ہفتے ذرائع ابلاغ اُس بدقسمت دن کی یاد میں شریک رہے۔ قومی سطح پر رونے دھونے کا عمل جاری رہا۔ تفریحی ٹیلی ویژن کے ’مارننگ شوز‘ سے لیکر صحافتی ٹیلی ویژن کے نشرئیوں تک‘ ہر پروگرام کا اختتام حقائق جاننے کے مطالبے پر ختم ہوتا تھا لیکن افسوس کہ ابھی معصوم قبروں پر پڑی ہوئی مٹی پوری طرح خشک بھی نہیں ہوئی کہ اُن قربانیوں کو بھلا دیا گیا‘ جو انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے لئے رہنما ثابت ہو سکتیں تھیں۔ اَصولی طور پر ’سانحۂ اے پی ایس‘ کی برسی کے موقع پر ہی تفصیلی تفتیشی رپورٹ جاری کر دینی چاہئے تھی لیکن شاید یہ سوچتے ہوئے وقت گزارنے کو ترجیح دی گئی کہ دیگر سانحات کی طرح قوم اِسے بھی (جلد یا بدیر) بھلا ہی دے گی!

جسٹس روح الامین کے یہ الفاظ حقائق کی پورے پاکستان کی ترجمانی کرتے ہیں کہ ’’اے پی ایس میں شہید ہونے والے ’قوم کے بچے‘ تھے جنہیں بھلایا نہیں جاسکتا اور قوم کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اب تک متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنے کے لئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں؟‘‘ عدالت عالیہ کے روبرو درخواست گزاروں (اجون خان اور فضل خان) کی جانب سے سینیئر وکیل عبدالطیف آفریدی نے مؤقف پیش کیا کہ ’’سانحۂ اے پی ایس کی بذریعہ ’جوڈیشل کمیشن‘ تفتیش چاہتے ہیں‘ اگر ایسا ممکن نہیں تو پھر نیا مقدمہ (ایف آئی آر) درج کیا جائے اور اگر یہ بھی ممکن نہیں تو پھر کم سے کم متاثرہ خاندانوں کے بیانات ہی قلمبند کئے جائیں۔‘‘ 

سچ تو یہ ہے کہ اب تک متاثرہ خاندان کے کسی ایک بھی فرد کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا اور اِس کوتاہی کی صرف صوبائی ہی نہیں بلکہ وفاقی حکومت بھی یکساں ذمہ دار ہے۔ بنیادی سوال اب بھی وہی ہے کہ اگر حملہ آوروں کی تعداد صرف سات تھی تو اُن پر قابو پانے میں اس قدر وقت کیوں لگا؟ حملہ آور سکول کے اندر گھنٹوں کس طرح دہشت گردی کرتے رہے اور وہ اتنے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات کا باعث کیسے بنے جبکہ قانون نافذ کرنے والے ایک سے زائد اِدارے مبینہ طور پر چند منٹ میں اُن کے سروں پر پہنچ چکے تھے؟ سوال یہ بھی ہے کہ اگر فوج کا اپنا تعلیمی ادارہ اِس قدر غیرمحفوظ تھا تو دیگر تعلیمی ادارے کس طرح سیکورٹی کے اُس کم سے کم معیار پر پورا اُترتے ہیں‘ جہاں ہم انہیں محفوظ قرار دیا جا سکے؟

’سانحۂ اے پی ایس‘ نے پشاور پولیس کی کارکردگی کا پول کھول دیا۔ دہشت گردوں کے سہولت کاروں نے ہدف کے انتخاب سے کئی ہفتوں تک منصوبہ بندی اور بعدازاں حملہ آوروں کو سکول تک پہنچنے کی رہنمائی اور معاونت کو عملی جامہ پہنایا لیکن ہمارے خفیہ ادارے اِس پوری منصوبہ بندی سے لاعلم رہے! اِس کا مطلب تو یہ ہوا کہ دہشت گرد ہمارے تربیت یافتہ اور ہر قسم کے وسائل‘ اختیارات و مراعات رکھنے والوں اہلکاروں سے ’زیادہ منظم‘ ہیں‘ جن کے ’نیٹ ورک (پنجے)‘ ہمارے شہری علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں! 

’سانحۂ اے پی ایس‘ کے بارے میں تفتیش نہ کرنے کا سبب یہ بھی ہے کہ اِس سے پولیس اور بالخصوص خفیہ اداروں کی نااہلی دستاویزی طور پر ظاہر ہو جائے گی۔ دہشت گردوں نے تو جو کچھ ثابت کرنا تھا وہ کرچکے ہیں‘ محل تھا کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اِدارے اپنی صلاحیت‘ اہلیت اور قابلیت ثابت کرتے اور اے کاش کہ ایسا ہوتا۔ متاثرہ والدین یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ عمومی پولیس کے علاؤہ ’انسداد دہشت گردی‘ کے لئے خصوصی تربیت یافتہ دستے اُس بدقسمت دن (سولہ دسمبر دوہزار چودہ) کہاں تھے؟ 

کہیں ایسا تو نہیں کہ پولیس کے چاق و چوبند اور انتہائی تربیت یافتہ اہلکاروں کو اہم شخصیات (وی وی آئی پیز)‘ اُن کے اہل خانہ اور رہائشگاہوں کی سیکورٹی کی حد تک محدود رکھا گیا ہے؟ سوالات کی جو گونج ’عدالت عالیہ‘ میں جا پہنچی ہے اُس میں سرکاری اِداروں کا شرمناک کردار بھی واضح ہے کہ متاثرہ والدین کو اَب تک یہ بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ ’سانحۂ اَے پی اَیس‘ کی تفتیش ’دراصل کس کی ذمہ داری ہے۔‘ صوبائی حکومت خود کو بری الذمہ سمجھتی ہے۔ وفاق معاملے کو صوبائی حکومت کی طرف اُچھال چکا ہے اور خصوصی فوجی عدالتیں جو کہ انسداد دہشت گردی کا فریضہ سرانجام دے رہی ہیں‘ عام آدمی کی دسترس میں نہیں کہ اُن سے کچھ بھی پوچھا جا سکے۔ کیا ’اے پی ایس‘ کے شہیدوں کی قربانیاں رائیگاں تصور کی جائیں؟ کیا متاثرہ خاندانوں کی تسلی و تشفی ہو پائے گی؟ اِنصاف کے منتظر صرف ’سانحہ اے پی ایس کے متاثرین نہیں بلکہ پورا پاکستان ہے!

’’خنجر بیداد کو کیا دیکھتے ہو دم بدم ۔۔۔ 
چشم سے انصاف کی سینے ہمارے دیکھیے۔ (میر تقی میرؔ )‘‘
۔
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2018-01-18

Friday, January 12, 2018

Jan 2018: Health facilities in KP, discussed in court!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
برن یونٹ: آخر کب تک؟
خیبرپختونخوا میں طرزِحکمرانی کا خلاصہ (لب لباب) یہ ہے کہ علاج معالجے جیسی بنیادی ضروریات بھی اب ’عدالت (کورٹ) احکامات‘ کی تعمیل میں فراہم کی جائیں گی! چھ جنوری ’’برن یونٹ‘ ہنوز ندارد‘‘ کے عنوان سے خیبرپختونخوا میں آگ سے جلے ہوئے مریضوں کے لئے ناکافی سہولیات اور جس معیار و مقدار کا ذکر کیا گیا‘ وہ معاملہ ’پشاور ہائی کورٹ‘ تک جا پہنچا ہے! محرک یہ ہے کہ گھریلو تنازعہ سے دل برداشتہ ایک خاتون اندرون شہر ’تھانہ کوتوالی‘ میں داخل ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اُس نے مبینہ طور پر خود کو آگ لگا دی‘ اِس سے قبل کہ موقع پر موجود پولیس اہلکار اُسے روک پاتے مذکورہ خاتون کے جسم کا 98 فیصد جل چکا تھا‘ چونکہ پشاور میں ’آگ سے جلے ہوئے ایسے مریضوں کے علاج کا خاطرخواہ بندوبست نہیں‘ اِس لئے اُسے کئی گھٹنوں (کم و بیش 200 کلومیٹر) کی مسافت پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچایا گیا۔ تاہم لمحۂ فکریہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں صرف چالیس فیصد تک آگ سے جلے مریضوں کا علاج ممکن ہے۔ دہشت گردی سے متاثرہ خیبرپختونخوا میں ’جدید سہولیات پر مبنی برن یونٹ یا ہسپتال‘ کا نہ ہونا مجرمانہ غفلت اور سیاسی فیصلہ سازوں کی غلط ترجیحات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پشاور کی عدالت عالیہ نے اِس صورتحال پر برہمی کے لہجے میں تعجب کا اظہار بھی کیا ہے جس سے اُمید پیدا ہو گئی ہے کہ صوبائی حکمران فوری طور پر اپنی تمام تر توجہ اور مالی وسائل ’برن ہسپتال‘ کی تعمیر کے لئے مختص کر دیں گے!

پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ (جسٹس قیصر رشید اور جسٹس غضنفر خان) نے (دس جنوری کے روز) ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ’برن یونٹ کی عدم دستیابی‘ کے حوالے سے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ درحقیقت زیرسماعت مقدمہ (قضیہ) ’برن یونٹ‘ کا نہیں بلکہ خیبرٹیچنگ ہسپتال (المعروف شیرپاؤ ہسپتال) میں ’نیوروسرجری وارڈ‘ کی سست رفتار تعمیرات سے متعلق ہے‘ لیکن جب متعلقہ اعلیٰ حکام عدالت کے روبرو پیش ہوئے تو جسٹس قیصر نے ضمنی طور پر یہ بات بھی پوچھ لی کہ ’’پشاور میں ’برن ہسپتال‘ کب تک (آخر کب تک) مکمل ہو جائے گا؟‘‘ وہ ایک تلخ حقیقت جس سے سالانہ سینکڑوں مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اُور خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے آگ سے جلے اَفراد کی اَموات کا تناسب بھی اِسی وجہ سے زیادہ ہے کہ اِنہیں علاج معالجے کے لئے سہولیات فوری طور پر میسر نہیں آتیں۔ مقام تشکر ہے کہ عدالت عالیہ نے محسوس کیا ہے کہ ’’خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے مریضوں کو صوبہ پنجاب کے مختلف ہسپتالوں سے رجوع کرنا پڑتا ہے اور سفری و دیگر علاج معالجے کے اخراجات کے علاؤہ بہت سے مریض مسافت کے دورانیئے کو برداشت نہیں کر پاتے اور راستے ہی میں دم توڑ دیتے ہیں!‘‘ 

عدالت کے روبرو گریڈ بیس کے اہلکار ’’محمد عابد مجید‘‘ حاضر تھے‘ جو سولہ مارچ دوہزار سولہ (665 دنوں) سے بطور ’سیکرٹری ہیلتھ خیبرپختونخوا‘ تعینات ہیں اُور انہوں نے پورے اعتماد سے (بناء ہانپتے کانپتے یا شرمندگی و معذرت کے اظہار) عدالت کو بتایا کہ ’جون دوہزار اٹھارہ‘ تک پشاور میں ’برن ہسپتال‘ فعال ہو جائے گا‘ جس کی ’ائرکنڈیشنگ‘ میں تکنیکی مسئلے کی وجہ سے یہ منصوبہ ایک ماہ کی تاخیر سے مکمل ہونے جا رہا ہے۔

خیبرپختونخوا میں جدید سہولیات سے آراستہ ’برن یونٹ‘ کی عدم دستیابی کا معاملہ پہلی مرتبہ ’پشاور ہائی کورٹ‘ کے سامنے زیرغور نہیں آیا بلکہ اِس سے قبل جولائی 2017ء میں عدالت عالیہ نے سیکرٹری ہیلتھ سے استفسار کیا تھا کہ وہ حکومتی کوششوں سے عدالت کو آگاہ کریں۔ یاد رہے کہ اُس وقت عدالت نے ہر ضلعی ہیڈکواٹر کی سطح پر ایک ایک برن یونٹ قائم کرنے کا حکم دیا تھا جس پر سیکرٹری ہیلتھ نے عدالت کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے کہا تھا کہ اِس سلسلے میں کام کا آغاز پہلے ہی سے جاری ہے اور ضلعی ہیڈکواٹر ہسپتالوں سے بستروں کی تعداد اور دستیاب سہولیات طلب کر لی گئیں ہیں۔ تصور کیجئے کہ جولائی دوہزار سترہ سے جنوری دوہزار اٹھارہ تک پانچ ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بھی تاحال اعدادوشمار ہی اکٹھا نہیں ہوسکے ہیں حالانکہ ٹیلی فون اور دیگر برق رفتار مواصلاتی رابطوں کی موجودگی میں دو درجن ٹیلی فون کالز کے ذریعے بھی یہ کام باآسانی سرانجام پا سکتا تھا اور اگر سیکرٹری ہیلتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں مخلص ہوتے تو اب تک پچیس ہفتوں میں پچیس اضلاع کے خود بھی دورے کر کے معلومات اکٹھا کر چکے ہوتے۔ عجب ہے کہ جہاں کہیں سرکاری ملازمین کے اپنے مفادات‘ سہولیات اور مراعات حاصل کرنے کی بات ہوتی ہے تو یہ ’بابو‘ مہینوں کا کام منٹوں میں نمٹا دیتے ہیں لیکن جہاں عام آدمی (ہم عوام) کے مفاد کے لئے کام کرنا ہوتا ہے وہاں مصلحتیں اور تاخیری حربے آڑے آ جاتے ہیں۔

سیکرٹری صحت نے دس جنوری کے روز عدالت عالیہ میں ’آن دی ریکارڈ‘ جو بیان دیا‘ اُس کے مطابق سیدوشریف (سوات) میں چار بستروں پر مشتمل برن یونٹ موجود ہے۔ کوہاٹ میں مقامی رکن قومی اسمبلی کی جانب سے دوکروڑ ساٹھ لاکھ روپے دینے سے ’برن یونٹ‘ بنایا جا رہا ہے جس کا تعمیراتی کام آخری مراحل میں ہے۔ بنوں میں 18 بستروں کا ’برن یونٹ‘ فعال ہے جبکہ مردان میں ’برن یونٹ‘ کے قیام کے لئے غور ہو رہا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں ’برن یونٹ‘ نہیں۔ تیمرگرھ میں ’برن یونٹ‘ تو ہے لیکن عملہ نہیں۔ بقول سیکرٹری ہیلتھ چھوٹے پیمانے پر ایک ’برن یونٹ‘ کے قیام پر 20سے 30 کروڑ روپے لاگت آتی ہے۔ اگر رواں مالی سال کے دوران مالی وسائل دستیاب نہ ہوئے تو آئندہ مالی سال میں ہر ضلعی ہیڈکواٹر کی سطح پر ’برن یونٹ‘ قائم کرنے کے لئے لازمی طور پر مالی وسائل مختص کئے جائیں گے۔‘‘

سیکرٹری ہیلتھ نے جب اپنی فرض شناسی پر مبنی کہانی عدالت کے روبرو سنا رہے تھے تو ججوں کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں‘ اُنہیں ایک منٹ کے لئے یہ بھی بھول گیا کہ جس ’برن یونٹ‘ کے قیام میں جس قدر بھی تاخیر (مجرمانہ غفلت) ہوئی ہے‘ اُس کے لئے ذمہ داروں میں یہی موصوف سیکرٹری ہیلتھ بہ نفس نفیس شمل ہیں‘ جنہوں نے اپنے گھر اور دفاتر کی ضروریات پوری کرنے پر ’برن یونٹ‘ سے زیادہ مالی وسائل خرچ کئے ہیں لیکن عام آدمی (ہم عوام) کے دُکھ کا اِنہیں احساس نہیں۔ دیگر سرکاری اِداروں کی طرح محکمۂ صحت میں بھی ملازمین کی فوج ظفر موج ہے‘ جن کی ماہانہ تنخواہوں اور مراعات پر خیبرپختونخوا میں علاج فراہم کرنے سے زیادہ اخراجات اُٹھ رہے ہیں! عدالت عالیہ نے کمال سادگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیکرٹری ہیلتھ کو ’برن یونٹ‘ منصوبوں کا تاحیات نگران مقرر کردیا ہے اور حکم دیا ہے کہ اگر انہیں ’سیکرٹری ہیلتھ‘ کے عہدے سے ہٹا بھی دیا جائے تب بھی وہی اِن منصوبوں کے نگران بن کر کام کی رفتار کا جائزہ لیتے رہیں! ’’ترے عشق کی اِنتہا چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی
بڑا بے ادب ہوں‘ سزا چاہتا ہوں۔ (علامہ اِقبالؒ )

Thursday, January 11, 2018

Jan 2018: Justice for APS!


ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام

پورا‘ اعزاز: پوری عزت !
سولہ دسمبر دوہزار چودہ کے بدقسمت دن‘ آرمی پبلک سکول (پشاور) پر ہوئے دہشت گرد حملے نے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ باضمیر دنیا کے ہر حساس شخص کو ہلا کر رکھ دیا۔ پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے اور یہ حقیقت آج بھی دنیا کے سامنے رکھنے میں ہمارے فیصلہ ساز ناکام و بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ سانحۂ آرمی پبلک سکول کے بعد ’انسداد دہشت گردی کی قومی حکمت عملی بنائی گئی تو اِس پر عمل درآمد بھی محدود دکھائی دیتا ہے اُور اِس مسئلے پر قومی و صوبائی فیصلہ سازوں کی جانب خاطرخواہ حساسیت کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آ رہا۔ یہی وہ محرک ہے جس کی وجہ سے ’سانحہ آرمی پبلک سکول‘ کے زخم ہنوز تازہ ہیں اور اُن کی آنکھوں سے گرتے بے ترتیب آنسو آج بھی التجا کر رہے ہیں کہ معصوم بچوں کی قربانیوں کو باوقار انداز میں خراج تحسین پیش کیا جائے!



دہشت گردی کا شکار ہونے والے بچوں کی نمائندگی کرنے والے والدین نے عدالت عالیہ (پشاور ہائی کورٹ) سے رجوع کر رکھا ہے تاکہ صوبائی حکومت مذکورہ سانحے کی یاد میں تعمیر کرنے والی یادگار کا افتتاح نہ کرے۔ اِس سلسلے میں عدالت نے ’حکم امتناعی‘ جاری کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو ایسی کسی بھی یادگار کی سرکاری سطح پر رونمائی اُور اِفتتاح سے روک دیا ہے کیونکہ متاثرہ والدین کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت نے جس انداز سے یادگار تعمیر کی ہے‘ وہ محض خانہ پُری ہے جس سے اُن کے بچوں کی قربانیوں کو خاطرخواہ ’خراج تحسین‘ نہیں مل پائے گا اُورعدالت اِس بات سے متفق ہے یا نہیں اِس کا فیصلہ آئندہ چند ہفتوں میں متوقع ہے۔ پشاور ہائی کورٹ کا دو رکنی بینچ جسٹس قیصر رشید خان اور جسٹس محمد غضنفر خان نے ’نو جنوری‘ کے روز ’فضل خان ایڈوکیٹ‘ کی دائر درخواست پر غور کیا‘ جن کا اپنا بیٹا شہزادہ عمر خان ’سولہ دسمبر دوہزارچودہ‘ کے روز شہید ہونے والے طالب علموں میں شامل تھا۔ صوبائی حکومت کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ عدالت کے روبرو پیش ہو کر وضاحت کرے کہ سانحہ اے پی ایس کی یادگار کے لئے جو ’ڈیڑھ کروڑ روپے‘ مختص کئے گئے۔ یہ پوری رقم مذکورہ صرف اور صرف یادگار کی تعمیر پر خرچ کیوں نہیں کی گئی؟ یہ بنیادی سوال اپنے اندر کئی سوالات بھی رکھتا ہے جس سے سرکاری تعمیراتی کاموں کی منظوری کے عمل‘ ترجیحات کی بعدازاں تبدیلی اور صوابدیدی اختیارات کی وجہ سے نظام میں در آنے والی خرابیوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔ مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات کے بعد توقع یہ تھی کہ خیبرپختونخوا میں تبدیلی کا جو سورج طلوع ہوا ہے اُس کے دم کرم سے روائتی بدعنوانی کا باب ختم ہو جائے گا اور بالخصوص ترقیاتی کاموں کے نگران اداروں کا قبلہ درست کر دیا جائے گا لیکن نہ تو حسب وعدہ بلاامتیاز اور احتساب کا کڑا عمل شروع ہو سکا اور نہ ہی انتظامی عہدوں پر سرکاری ملازمین کی مالی حیثیت کے بارے تحقیقات کا آغاز ہوسکا۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ خیبرپختونخوا میں صوبائی سطح پر احتساب سب سے کم ترین ترجیح رکھتا ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ 

صوبائی حکومت نے کئی نادر مواقع ضائع کئے جن سے باآسانی عوام کے نظروں میں بلند مقام حاصل کیا جاسکتا تھا۔ حالیہ کیس میں جسٹس قیصر رشید کے ریمارکس میں چھپا دکھ اور تشویش سے اختلاف ممکن نہیں جنہوں نے کہا کہ ’’آرمی پبلک سکول کے بچوں کی یاد اور ان کی قربانیوں پر پوری قوم شاہد ہے اور جنہیں پورا‘ اعزاز اور پوری عزت ملی چاہئے۔‘‘ اس میں کوئی دو رائے نہیں اور نہ ہی شک کی گنجائش ہے سانحۂ آرمی پبلک سکول کے بچوں کو خراج تحسین اُن کے والدین کی تسلی و تشفی اور پورے وقار سے ہونا چاہئے۔
صوبائی حکومت کی جانب سے بنائی جانے والی مذکورہ یادگار پلاسٹک اور فائبر گلاس مٹیریل سے بنائی گئی ہے‘ اور یہ دونوں میٹریل کم قیمت بھی ہیں اور اِن کی پائیداری بھی کم عرصے کے لئے ہوتی ہے۔ جس سے یہ عمومی تاثر اُبھرا ہے کہ اِس تعمیراتی کام کے لئے مختص ’ڈیڑھ کروڑ روپے‘ کی رقم کا بڑا حصہ خردبرد ہوا ہے۔ عدالت کے سامنے پیش کئے جانے والے حقائق سے معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ یادگار کی تعمیر کے لئے تخمینہ جات پر نظرثانی کرتے ہوئے اِسے ڈیڑھ کروڑ روپے سے چھیساسٹھ لاکھ اور بعدازاں لائبریری کے لئے کتابوں کی خرید کو بھی یادگار کے تعمیراتی منصوبے کا حصہ بنادیا گیا اور یوں صوابدیدی اختیار کا استعمال کرتے ہوئے یادگار سے زیادہ پیسے یعنی چوراسی لاکھ روپے کی کتب خریدنے کی منظوری دے دی گئی۔ وہ ترقیاتی کام جو اپنی اصل شکل میں کابینہ اور اسمبلی سے منصوبہ ہوا‘ اُس میں بعدازاں ردوبدل نہیں ہونا چاہئے تھا۔ افسوسناک امر یہ بھی ہے کہ متاثرہ بچوں کے والدین نے ’معلومات تک رسائی‘ کے قانون کے ذڑیعے اِس منصوبے کی تفصیلات طلب کیں تو متعلقہ ادارے نے اُن تفصیلات کا تبادلہ کرنے سے بھی انکار کیا‘ جس سے متعلقہ والدین میں تشویش (شکوک و شبہات) کا پیدا ہونا ایک فطری عمل تھا۔ شیرشاہ سوری روڈ پر ’آرکائیوز لائبریری‘ کے سامنے تعمیر اِس یادگار سے متعلق آئندہ سماعت ’بارہ جنوری‘ کو ہوگی۔



سانحۂ ’اے پی ایس‘ کی یادگار تعمیر نہ بھی ہوتی تو اُن پھول جیسے بچوں اور فرض شناس اساتذہ کی ’’یاد‘‘ پشاور اور پاکستان کے دل سے محو نہیں ہو سکتی تھی‘ چہ جائیکہ صوبائی حکومت اِس غم اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے اور اس میں برابر کی شریک ہونے کی بجائے ملزم بن گئی ہے اور بدقسمتی سے ایک ایسے معاملے کو بھی متنازعہ بنادیا گیا ہے جو خالصتاً انسانی ہمدردی اور پوری قوم کے جذبات سے متعلق ہے۔ اصولی طور پر متاثرہ والدین اور سکول انتظامیہ کو یادگار کی تعمیر کے عمل میں شریک ہونا چاہئے تھا۔ تہہ در تہہ مشاورت کا عمل ہوتا۔ سکول ہی کے بچوں کے ذریعے ڈیزائن اور اُس کے خدوخال طے ہوتے تو کسی کو بھی عدالت سے رجوع‘ حکم امتناعی حاصل کرنے اور اِس بارے میں غلط فہمی نہ ہوتی۔ 

سوشل میڈیا جیسے قیمتی اور مفت وسیلے کے استعمال کا امکان بھی اپنی جگہ موجود تھا‘ جس کے ذریعے پورے ملک سے ’تجاویز‘ حاصل کی جاسکتی تھیں لیکن شاید خود کو ’عقل کل‘ سمجھنے والوں کو اب احساس ہو چکا ہوگا کہ اُن کے ساڑھے چار سالہ اقتدار میں خیبرپختونخوا آج بھی ’اچھے اور مثالی طرز حکمرانی (گڈگورننس) سے اتنے ہی فاصلے پر ہے‘ جہاں مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات سے قبل کھڑا تھا!

Sunday, December 31, 2017

Dec 2017: The injustices & security in Khyber Pukhtunkhwa!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
سرِعام ظلم!
سردست صورتحال یہ ہے کہ ہر معاملے میں عدالت کو ملوث کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن سرکاری اِداروں نے اپنے قواعدوضوابط پر عمل درآمد کرنے کی بجائے زیادہ آسان حل یہ تلاش کر لیا ہے کہ مقدمات کی آڑ لیں اور یہ سارا معاملہ ’’خالص بدنیتی‘‘ کا ہے۔ جہاں کسی ادارے کو کاروائی کرنا ہوتی ہے تو وہاں اخبار میں شائع ہونے والی ایک ’سنگل کالم‘ کی خبر پر ایکشن لے لیا جاتا ہے لیکن جہاں معاملہ عام آدمی (ہم عوام) کے مفادات کا تحفظ ہو‘ وہاں معاملے کو حل کرنے کی بجائے طول دیا جاتا ہے بالکل اُس ہندکو محاورے کی طرح کہ ’’دل حرامی تے حُجتاں بہت۔‘‘

’الیکشن کمیشن آف پاکستان‘ کے قواعد کی رُو سے جس کسی ایک اِنتخابی حلقے میں اگر خواتین کی شرح پولنگ (ڈالے گئے ووٹوں کا تناسب) ’10فیصد‘ سے کم سامنے آئے گی‘ تو اُس حلقے میں ہونے والے عام انتخابات کالعدم تصور ہوں گے اور دوبارہ پولنگ (ووٹنگ) کرائی جائے گی۔ خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیمیں اُور سول سوسائٹی کے نمائندے 10فیصد کے اِس پیمانے پر بھی اعتراض کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ پچاس فیصد یا کم سے کم پچیس فیصد ہونا چاہئے کیونکہ خواتین کی سماجی و معاشرتی حصہ داری اُور آبادی پچاس فیصد سے زیادہ ہے تو اُن کی رائے کا احترام بھی اُسی تناسب سے ہونا چاہئے لیکن یہاں بات منطق اَصول یا حفظ مراتب کی نہیں ہو رہی بلکہ ایک ایسے معاشرے کی ہو رہی ہے‘ جس سے متعلق فیصلہ سازی خالصتاً ایک خاص طبقے اور سوچ کی غلام بن گئی ہے۔ 

اُنتیس دسمبر کے روز پشاور ہائی کورٹ کے یک رکنی بینچ نے خیبرپختونخوا کے ضلع لوئر دیر ’شاہی خیل‘ میں خواتین کے پولنگ میں حصہ نہ لینے سے متعلق دائر مقدمے کی سماعت میں جہاں الیکشن کمیشن ‘ متعلقہ ریٹرنگ آفیسر‘ صوبائی وزیر مظفر سید اور کامیاب اُمیدوار گل حکیم خان کو حکم دیا کہ وہ خواتین کے ووٹ نہ ڈالنے کے حوالے سے اپنا اپنا مؤقف تحریری طور پر عدالت میں جمع کروائیں وہیں عدالت عالیہ نے اِس بات پر حیرت کا اظہار بھی کیا کہ جب الیکشن کمیشن کے قواعد میں یہ بات واضح طور پر تحریر ہے کہ جس کسی بھی حلقے میں خواتین کی پولنگ ’10فیصد‘ سے کم ہوگی‘ وہاں عام اِنتخاب کے سلسلے میں پولنگ دوبارہ کروائی جائے گی تو ایسا کرنے میں کیا اَمر مانع ہے اور کیوں؟ عدالت عالیہ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ درخواست بھی مسترد کر دی کہ مذکورہ حلقے میں انتخاب اَزسرنو منعقد نہ کرنے کا حکم دیا جائے۔ باعث حیرت ہے کہ الیکشن کمیشن خود نہیں چاہتا اُور سمجھتا ہے کہ اگر دوبارہ بھی پولنگ ہوئی تو وہاں کی خواتین حصہ نہیں لیں گی۔ 

سرعام ظلم نہیں تو کیا ہے کہ خواتین کو اُن کے حق سے محروم رکھنے کے لئے سیاسی و غیرسیاسی جماعتیں حتیٰ کہ الیکشن کمیشن کی رائے بھی ایک جیسی ہے!

خیبرپختونخوا میں صرف وفاقی حکومت کے اِدارے ہی غلطیوں کا دانستہ ارتکاب نہیں کر رہے بلکہ ’تحریک انصاف‘ کی قیادت میں صوبائی حکومت بھی ’مجرمانہ غلفت‘ کی مرتکب ہو رہی ہے اُور ایک عرصے سے ’مالاکنڈ‘ میں پولیس کی عمل داری بحال کرنے جیسی اہم ضرورت اِلتوأ (سردخانے) کی نذر ہے۔ 

مالاکنڈ کی انتظامی حیثیت ’بی ڈسٹرکٹ‘ کی ہے‘ جہاں خیبرپختونخوا کے دیگر حصوں کی طرح ’پولیس ایکٹ‘ کا اطلاق نہیں ہوتا اور وہاں ’لیویز اہلکار‘ پولیس کے متبادل کے طور پر قانون کا اطلاق کر رہے ہیں لیکن اِس سے پیدا ہونے والی کئی ایسی آئینی‘ قانونی اور مالی بے قاعدگیاں‘ بے ضابطگیاں اور پیچیدگیاں ہیں جو فوری حل طلب ہیں۔ اگر ہم قبائلی علاقوں کی امتیازی حیثیت کا رونا روتے ہیں تو قبائلی علاقوں کی طرح ہم نے بندوبستی علاقوں کو بھی امتیازی حیثیت دے رکھی ہے‘ آخر کیوں؟ 

مالاکنڈ میں امن و امان کے حالات ماضی کے مقابلے معمول پر آ چکے ہیں تو وہاں پولیس کی عملداری بحال ہونی چاہئے۔ سب سے پہلی ضرورت تو یہ ہے کہ جب وہاں عدالتی نظام موجود ہے تو مالاکنڈ کو ’اے ڈویژن‘ کی حیثیت دی جانی چاہئے۔ دوسری ضرورت یہ ہے کہ ’لیویز‘ کو پولیس میں ضم کردیا جائے اور لیویز اہلکاروں کو پولیس تربیتی مراکز بھیجا جائے جہاں وہ پولیس کے نظام اور بالخصوص تفتیشی طریقۂ کار کو سیکھ سکیں۔ سردست صورتحال یہ ہے کہ جب لیویز کے اہلکار کسی ’ایف آئی آر‘ پر اَنگوٹھا لگا کر تفتیش مکمل کرتے ہیں تو عدالت میں ایسے مقدمات چند سماعتوں کے بعد ہی خارج ہو جاتے ہیں۔ مالاکنڈ میں سیشن جج‘ ایڈیشنل سیشن جج‘ سینئر سول جج اُور ڈپٹی و اسسٹنٹ کمشنر موجود ہیں لیکن پولیس فورس کی عدم موجودگی کے باعث گوناگوں مسائل موجود ہیں۔ 

ضرورت اِس امر کی ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن کے دیگر حصوں کی طرح مالاکنڈ میں پولیس فورس بحال کی جائے۔ فی الوقت کم و بیش ’تین ہزار لیویز اہلکار‘ ڈپٹی کمشنر کے زیرکنٹرول ہیں‘ جو سیاہ و سفید کا مالک بنا ہوا ہے۔ صوبائی حکومت کو سمجھنا چاہئے کہ ’’افسرشاہی (بیوروکریسی) اپنے اختیارات اُور شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ برقرار رکھنے کے لئے انتظامی اصلاحات کی راہ میں حائل سب سے بڑی (بنیادی) رکاوٹ ہے اور یہ رکاوٹ دور ہونی چاہئے۔ تجویز ہے کہ تین ہزار اِہلکاروں پر مشتمل ’مالاکنڈ لیویز‘ کو پولیس فورس میں ضم کیا جائے اور اِن کے لئے خصوصی تربیت کا انتظام کیا جائے۔ خیبرپختونخوا کے ہر ضلع میں ’لیویز اہلکاروں‘ کی ایک تعداد موجود ضرور ہوتی ہے لیکن اُن کی موجودگی تھانہ جات پر حاوی یا پولیس فورس کے نظام میں مداخلت نہیں ہوتی۔ عام آدمی (ہم عوام) کے مفادات بارے سوچا جائے کہ اُس پر کیا گزر رہی ہے۔ مالاکنڈ میں موجودہ لیویز کے بیس یا پچیس فیصد جوانوں کو ’ڈپٹی کمشنر‘ کے اختیار میں دیا جا سکتا ہے جس سے صاحب بہادر کی تسکین ہوتی رہے کیونکہ ’پولیس ایکٹ‘ لاگو نہ ہونے سے درپیش مشکلات عمومی نہیں۔ 

کیا صوبائی حکمران نہیں جانتے کہ مالاکنڈ میں منفرد انتظامی معاملات کی وجہ سے ملحقہ مالاکنڈ‘ مردان‘ چارسدہ اور پشاور ڈویژنوں پر کس قسم کا دباؤ ہے۔ جرائم پیشہ عناصر کس طرح اِس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مالاکنڈ میں پناہ لے لیتے ہیں جہاں پولیس کی عملداری نہیں۔ 

معاملہ بالکل پشاور سے ملحقہ ’درہ آدم خیل‘ جیسے علاقے کا ہے کہ جہاں کی ایک پٹی سے پولیس گزر تو سکتی ہے لیکن وہ وہاں امن وامان کے لئے خطرہ بننے والے عناصر کے خلاف کاروائی نہیں کرسکتی! ہمارے حکمرانوں کو اَمیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا یہ قول اَزبر ہے کہ ’’حکومتی نظام کفر سے تو چل سکتا ہے ظلم سے نہیں‘‘ لیکن وہ گردوپیش پر نگاہ نہیں کرتے جہاں ’ظلم سرعام ہے۔‘ اگرچہ مالاکنڈ میں پولیس فورس کی عملداری بحال کرنا اِس بات کی ضمانت نہیں ہوگی کہ راتوں رات انصاف ہونے لگے گا لیکن کم سے کم خیبرپختونخوا میں ’یکساں پولیسنگ‘ ممکن ہو جائے گی۔ 

صوبائی حکومت کو سخت مزاجی اور اپنے اختیارات کا سختی سے استعمال کرتے ہوئے دامن پر لگے اِس داغ کو دھونا ہوگا کیونکہ ضروری نہیں کہ سارے داغ اچھے ہی ہوں!
۔
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2017-12-31
http://epaper.dailyaaj.com.pk/epaper/pages/1514648118_201712308658.gif

Saturday, December 9, 2017

Dec 2017: Development vs the Rapid Bus Project & Peshawar!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
فتوحات و کارکردگی کا اِحتساب!
’پاکستان تحریک اِنصاف‘ کی قیادت میں ’خیبرپختونخوا حکومت‘ کو حال ہی میں حاصل ہونے والی ’’آئینی فتح‘‘ کے ساتھ چند اخلاقی ذمہ داریاں بھی جڑی ہیں‘ جن کے بارے میں حساس و دردمند مؤقف سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ 

پشاور ہائی کورٹ نے ’آٹھ دسمبر‘ کے روز ’ریپیڈ بس ٹرانزٹ (آر بی ٹی)‘ منصوبے کو ’’آئینی‘‘ قرار دیا لیکن اِس نتیجے پر پہنچنے میں عدالت عالیہ کو کم و بیش ایک ماہ کا عرصہ لگا۔ عدالت سے رجوع کرنے والے جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) کے رہنما ’مولانا امان اللہ حقانی‘ نے ’’خیبرپختونخوا‘ اربن ماس ٹرانزٹ ایکٹ 2016ء‘‘ کو غیرقانونی اُور مذکورہ قانون کے تحت بننے والے ’بس منصوبے‘ کو آئین پاکستان کی ’شق 140-A‘ سے متصادم قرار دینے کی ہر ممکن کوشش میں جو بھی دلائل دیئے اُن سے جہاں قانون ساز رکن اسمبلی کی آئین شناسی عیاں ہوئی ہے وہیں سیاسی تعصب کی وجہ سے ’’ضعفِ فہم‘‘ بھی ڈھکا چھپا نہیں رہا۔ اصولی طور پر خیبرپختونخوا قانون ساز اسمبلی کے اراکین بالخصوص جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) سے تعلق رکھنے والوں کو تحریک انصاف کا شکرگزار ہونا چاہئے کہ اُن کے دور حکومت میں جب وزیراعلیٰ اکرم خان درانی پشاور سمیت پورے صوبے کے ترقیاتی فنڈز اپنے آبائی علاقے و انتخابی حلقے بنوں کی طرف بہا لے گئے تو کیا صوابدیدی اختیارات کی نہایت ہی بدترین عملی مثال اخلاقی اور آئینی اقدام تھا؟ کیا یہ المیہ (وحقیقت) نہیں کہ بانوے یونین کونسلوں‘ صوبائی اسمبلی کے گیارہ حلقوں اور قومی اسمبلی کی چار نشستیں رکھنے والے پشاور کے لوگ پینے کے صاف پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں (لیکن ذمہ دار کون ہے)؟ موسم سرما کے آغاز سے شروع ہونے والی گیس کی قلت (پریشر کی کمی) کی وجہ سے اندرون و بیرون پشاور کے رہنے والوں کو جن پریشانیوں کا سامنا ہے‘ اُن کے لئے الگ خیال سے مضمون باندھا جائے گا لیکن برسرزمین حقیقت کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے کہ تحریک انصاف کو واضح اکثریت اور گیارہ میں سے دس صوبائی اسمبلی کی نشستیں دینے کے باوجود بھی پشاور کی محرومی اور مسائل میں کمی نہیں آئی۔ ’نمایاں تبدیلی‘ اگر آئی ہے تو تحریک انصاف کے نامزد اُمیدواروں کی زندگیوں اور مالی حیثیت میں آئی ہے جنہیں مئی دوہزار کے عام انتخابات سے قبل بھی کوئی نہیں جانتا تھا اور آج بھی اُن کا نام لینے یا کارکردگی کو سراہنے والوں کی تعداد تحریک انصاف کے داخلی حلقوں تک ہی محدود ہے!

سچ تو یہ ہے کہ مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں پشاور نے تعصب کا مظاہرہ نہیں کیا اُور یہی وجہ تھی کہ تبدیلی کے غیرمقامی اور مقامی گمنام علمبرداروں کو دل کھول کر ووٹ دیئے گئے۔ اندرون پشاور کے حلقہ این اے ون پر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ’’نوے ہزار پانچ سو‘‘ ریکارڈ ووٹ حاصل کئے جبکہ اُن کے مدمقابل متواتر کامیاب رہنے والے عوامی نیشنل پارٹی کے نامزد الحاج غلام احمد بلور نے چوبیس ہزار چارسواڑسٹھ ووٹ لئے تھے لیکن عمران خان نے مڑ کر پشاور کی طرف نہیں دیکھا اُور حقوق کی ادائیگی تو دور کی بات پشاور نے اُن سے جس دلی محبت کا اظہار کیا‘ اُس کی قدر کرنے کی انہیں توفیق نصیب نہ ہو سکی!

عدالت عالیہ کے روبرو ’پشاور بس منصوبے‘ پر اعتراضات کا دائرہ صرف آئینی نہیں تھا بلکہ اِس میں تکنیکی اعتبار سے بھی کئی ایسے سوالات اُٹھائے گئے جن کی قریب ایک ماہ تک ذرائع ابلاغ میں رپورٹنگ سے یہ تاثر عام ہوا کہ جیسے یہ منصوبہ (میگا پراجیکٹ) ’تکنیکی اعتبار سے بھی غلط فیصلہ‘ ہے۔ اعتراض کرنے والوں نے اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور بالخصوص اگر بنوں و مردان میں بیٹھ کر پشاور کی طرف نگاہ کرنے والوں کے ضمیر زندہ ہوتے تو کم سے کم خاموشی ہی اختیار کر لیتے لیکن جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) اور عوامی نیشنل پارٹی نے تحریک انصاف کی سیاسی مخالفت میں اُن حدود کو بھی عبور کیا جن سے اُن کی ’پشاور دشمنی‘ عیاں ہو گئی ہے۔ پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ جس کی سربراہی چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کر رہے تھے اور اُن کے ساتھ جسٹس یونس تھیم نے ’بس منصوبے‘ کے خلاف ’’دلائل‘ اعتراضات اُور تحفظات‘‘ سنے لیکن اَن سنے نہیں کئے بلکہ سماعت (اِس موقع) کو غنیمت جانتے ہوئے بہت سے ضمنی موضوعات کو بھی چھیڑا جیسا کہ پشاور کی ٹریفک کے معاملات‘ جو نہایت ہی پیچیدہ حالت میں بحران کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ 

عدالت عالیہ نے پشاور ٹریفک پولیس کے اعلیٰ اہلکاروں کو طلب کیا جنہوں نے تسلی بخش انداز میں وہ متبادل ٹریفک حکمت عملی بیان کی‘ جو مذکورہ بس منصوبے پر تعمیراتی کام شروع ہونے سے پہلے وضع کر لی گئی تھی لیکن اگر ’مین جی ٹی روڈ‘ کو کھودنے سے قبل ’رنگ روڈ‘ کی تعمیر و توسیع مکمل کر لی جاتی تو ٹریفک کا دباؤ بڑی حد تک کنٹرول کیا جاسکتا تھا۔ علاؤہ ازیں بس منصوبے کے لئے مرکزی شاہراہ کا انتخاب کرنے سے وسائل کا ضیاع ہوا ہے اور پہلے سے موجود ایک انتہائی اچھی حالت میں سڑک کو اکھاڑ دیا گیا ہے۔ نجانے ہمارے فیصلہ سازوں اتنی دانش و بصیرت اچانک کیسے کوٹ کوٹ کر بھر جاتی ہے کہ حکومت میں آنے سے قبل اُنہیں سرکاری وسائل کی لوٹ مار اور اُن کا اسراف دکھائی دیتا ہے لیکن برسراقتدار آنے کے بعد وہ بھی ماضی کے حکمرانوں کی طرح ’افسرشاہی‘ کے ہاتھوں گمراہ ہو جاتے ہیں! چغل پورہ سے حیات آباد تک متبادل راستہ بنانے کی بجائے پہلے سے موجود ایک ہی سڑک کا انتخاب کرنا کہاں کی دانشمندی ہے؟ بس منصوبے کی بجائے میٹرو ٹرین منصوبہ کیوں نہیں جو کہ ماحول دوست‘ برق رفتار‘ موسمی اثرات سے نسبتاً محفوظ اور کم لاگت میں زیادہ مسافروں کو ایک مقام سے زیادہ تک لیجانے کی صلاحیت (گنجائش) کا حامل ہو سکتا ہے؟ 

خطے کے ممالک (بھارت‘ چین اور ایران) کی مثالیں موجود ہیں جبکہ ترقی یافتہ دنیا کے سبھی بڑے شہروں میں میٹرو ٹرین پر انحصار کیا جا رہا ہے۔ خدا جانے جب ہمارے سیاستدان بیرون ملک دوروں پر جاتے ہیں تو اپنی سمجھ بوجھ پاکستان ہی میں کیوں چھوڑ جاتے ہیں کہ انہیں بظاہر ترقی کے درپردہ محرکات اور حکمت عملیاں دکھائی و سجھائی نہیں دیتیں! بات اتنی مشکل نہیں کہ سمجھ میں نہ آئے اور شہری سہولیات میں حسب حال و مستقبل کی ضروریات کے مطابق ترقی سے متعلق علوم بھی اتنے پیچیدہ (راکٹ سائنس) نہیں کہ اِنہیں تجرباتی طور مراحل سے گزارنے پر اربوں روپے خرچ کر دیئے جائیں!

بس منصوبے سے متعلق سماعتوں کے دوران ٹریفک پولیس کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی کہ ’ہیوی ٹریفک‘ کا دباؤ رنگ روڈ پر منتقل کر دیا جائے گا لیکن خود ٹریفک پولیس کی جانب سے اعتراف بھی کیا گیا کہ پشاور میں پچاس فیصد ماحولیاتی آلودگی کا سبب ’ہیوی ٹریفک‘ ہے تو کیا اِس کا مستقل و پائیدار حل نہیں ہونا چاہئے؟ 

پشاور بس منصوبے کے نگران (پراجیکٹ منیجر) امین الدین خان کو قومی احتساب بیورو (نیب) میں بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا ہے اور یہ بات پشاور ہائی کورٹ کے لئے بھی تشویش کا باعث تھی جبکہ ایک موقع پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے اُن سے پوچھا کہ کیا وہ ’پشاور بس منصوبے‘ سے جڑی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل ہوں گے جبکہ اُنہیں ’نیب‘ کا بھی سامنا ہے لیکن جب اُن کی جانب سے تسلی بخش نہ ملا تو عدالت نے حکم دیا کہ اِس میگاپراجیکٹ کے لئے نیا نگران مقرر کیا جائے اور جب تک نیا نگران مقرر نہیں ہوتا‘ اُس وقت تک ’پشاور کا ترقیاتی ادارہ (پی ڈی اے) کا سربراہ (ڈائریکٹر جنرل) اِس منصوبے کی نگرانی کرے گا۔ کسی سیاسی حکومت کے لئے مالی معاملات میں شفافیت نہایت ہی اہم اور کلیدی ضرورت ہوتی ہے‘ اُمید کی جا سکتی ہے کہ نہایت ہی تاخیر سے شروع ہونے والا ’پشاور بس (آر بی ٹی) منصوبہ‘ تحریک اِنصاف کی ساکھ اور پشاور میں مقبولیت کے لئے سہارا ثابت ہوگا۔
۔

Monday, June 19, 2017

June2017: Security of VVIPs challenged, costing us too much!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
خیر کی توقعات؟
خیبرپختونخوا میں اَمن و امان کی صورتحال میں غیرمعمولی بہتر (تبدیلی) کا دعویٰ کرنے والوں کا عمل ’’قول وفعل میں تضادات کا مجموعہ‘‘ ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو ’اہم شخصیات (وی آئی پیز اُور وی وی آئی پیز) کی ذاتی حفاظت کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد یوں تعینات نہ ہوتی۔ اِس بیک وقت تشویشناک‘ مضحکہ خیز اور خودغرضی پر مبنی طرز عمل کی جانب توجہ دلاتے ہوئے معروف وکیل ’محمد خورشید خان‘ نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے تاکہ صوبائی حکومت اور بالخصوص محکمۂ داخلہ‘ پولیس اُور قانون نافذ کرنے والے اِداروں کے دیگر فیصلہ سازوں سے جواب طلبی کی جاسکے کہ آخر کیا جواز (ضرورت) ہے کہ ’خیبرپختونخوا میں قریب ’پانچ ہزار پانچ سو‘ پولیس اہلکار صرف اور صرف گنتی کے اہم شخصیات کے حوالے کر دیئے گئے ہیں جو اُن کی سیکورٹی کے نام پر شخصی ملازم (غلام) بنے ہوئے ہیں جو اپنے آقاؤں کی جان و مال کے محافظ بناتے اجتماعی عوامی مفادات کی قربانی دے دی گئی ہے۔‘‘

منطقی مؤقف ہے کہ پولیس اہلکاروں کی بھرتیوں اُور تعیناتیوں کا ’اَصل (مرکزی و بنیادی) مقصد‘ عام آدمی کی جان و مال کی حفاظت اور قانون نافذ کرنا ہوتا ہے لیکن پولیس اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد سے غیرضروری اِستفادے سے نہ صرف اِس اہم فورس کے اہلکار ایک بے معنی کام (ایکسرسائز) میں مصروف (کا حصہ) ہیں اُور دوسرا سرکاری خزانے سے اَدا ہونے والی تنخواہوں اُور مراعات کے عوض بااثر سیاسی و غیرسیاسی شخصیات کو اہم قرار دیتے ہوئے اِس قدر بیجا مصرف کہاں کا انصاف ہے؟ اپنی نوعیت کے اِس انوکھے مقدمے کے پیش ہوتے ہی پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اُور جسٹس عبدالشکور پر مبنی عدالت نے متعلقہ فریقین (بوساطت چیف سیکرٹری صوبائی حکومت) کو طلب کرلیا کہ وہ ڈویژنل بینچ (عدالت) کے روبرو حاضر ہو کر اپنا مؤقف (جواز) پیش کریں۔

بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر ’اہم شخصیات‘ کو کسی بھی وجہ سے ’حفاظت (سیکورٹی)‘ کی ضرورت ہے تو چونکہ اِن اہم شخصیات کا تعلق معاشرے کے غریب غرباء سے نہیں اور عجیب حسن اتفاق ہے کہ ہمارے اردگرد کوئی ایک بھی ’اہم شخص (وی وی آئی پی)‘ ایسا نہیں جس کی (معلوم) مالی حیثیت مشکوک نہ ہو۔ عوام کے دکھ درد کا رونا رونے اور مگرمچھ کے آنسو (ٹسوے) بہانے والوں کی مہارت ملاحظہ کیجئے کہ کس طرح نہایت خاموشی و رازداری سے ایک دوسرے کو نوازتے ہیں! اِن صاحبان ثروت کے اردگرد درجنوں کی تعداد میں اُن کے ذاتی ملازمین منڈلاتے تابع فرمان رہتے ہیں تو ایسی صورت میں ’اضافی سیکورٹی‘ کی بھلا ضرورت ہی کیا ہے؟ اُور اگر ضرورت ہے تو پھر ’وی وی آئی پیز‘ کو اپنے ہی مالی وسائل سے اِس کا بندوبست کرنا چاہئے۔

لائق توجہ امر یہ بھی ہے کہ اگر فیصلہ سازی کے منصب پر فائز کرداروں نے ’وی وی آئی پیز‘ کا تشخص برقرار رکھنا ہی ہے تو پھر ایک الگ سیکورٹی فورس کیوں تشکیل نہیں دی جاتی جو صرف اُور صرف اِن ’نام نہاد (خودساختہ)‘ وی وی آئی پیز کے لئے مخصوص ہو۔

عوام کے نام پر بھرتی کئے جانے والے پولیس اہلکاروں اور قومی وسائل کی بندربانٹ کسی بھی صورت ’امانت و دیانت‘ کے اصولوں (کسوٹی) پر پورا نہیں اُترتی۔ اِسی مقدمے کی ذیل میں اگر ’پشاور ہائی کورٹ‘ یہ جواب بھی طلب کرے کہ صوبائی وسائل سے کن کن اور جن جن اراکین قومی اسمبلی کو ’سیکورٹی‘ فراہم کی جا رہی ہے اور شخصی سیکورٹی کے علاؤہ وہ کون کون سے ’وی وی آئی پیز‘ ہیں کہ جن کی رہائشگاہوں پر مستقل پولیس اہلکار تعینات ہیں تو مزید دلچسپ حقائق اور حیران کن اعدادوشمار سامنے آئیں گے۔ تحریک انصاف نے مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات سے قبل خیبرپختونخوا کے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ماضی کی روائتی سیاسی جماعتوں کی مالی و انتظامی بدعنوانیوں کا باب ہمیشہ کے لئے بند کر دے گی لیکن عرصہ چار سال (مئی دوہزار تیرہ سے جون دوہزار سترہ تک) ایسا کچھ بھی عملاً دیکھنے کو نہیں ملا!

کوئی یقین کرے یا نہ کرے لیکن تحریک انصاف کی قیادت کا دعویٰ ہے کہ چار سال میں جادوئی طور پر ’خیبرپختونخوا پولیس کو غیرسیاسی‘ کر دیا گیا ہے لیکن عام آدمی (ہم عوام) کے نکتۂ نظر سے تبدیلی صرف اور صرف بیانات کی حد تک محدود ہے وگرنہ تھانہ کلچر اور پولیس کے اعلیٰ و ادنیٰ اہلکاروں کا مزاج و کارکردگی ’جوں کی توں‘ برقرار ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ چار سال کا وقت ضائع کر دیا گیا جس دوران پولیس کی صفوں (بھیس) میں کالی بھیڑوں کا صفایا سزا و جزأ کے ذریعے ممکن تھا اور اگر اختیارات و خودمختاری کے ساتھ‘ محکمانہ سطح پر احتساب بھی متعارف کرا دیا جاتا کہ ہر پولیس اہلکار کی مجموعی تنخواہوں اور برسرزمین مالی حیثیت (اثاثوں) کے بارے چھان بین کا عمل شروع ہوتا تو کیا ہی بات ہوتی!

کھلی حقیقت ہے کہ اضلاع میں دہائیوں سے تعینات پولیس اہلکاروں نے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے کاروباری و ذاتی مفادات کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے اور یہ ’پیٹی بند‘ اتنے ’طاقتور و متحد‘ ہیں کہ عام آدمی اُن کے سامنے آج بھی بے بس و لاچار دکھائی دیتا ہے!

ترجیحات اور خیر اندیشی ملاحظہ کیجئے کہ صوبائی دارالحکومت کے لئے پولیس اہلکاروں کی کل تعداد 6 ہزار 200 ہے جن میں سے 1 ہزار 529 اہم شخصیات کے حوالے ہیں! عجیب منطق ہے کہ اِسی ضلع پشاور میں صرف 25 ’وی وی آئی پیز‘ کے ہمراہ 178 پولیس اہلکار ’شاہانہ مزاج‘ کی تسکین کا سامان ہیں جبکہ ایک ہزار پانچ اہلکار اہم شخصیات کی رہائشگاہوں یا حکومتی دفاتر پر الگ سے تعینات ہیں۔ لب لباب یہ ہے کہ پشاور کے لئے 6200 پولیس اہلکاروں میں سے صرف 3 ہزار ہی باقی بچتے ہیں جن کے کندھوں پر ذمہ داری ہے کہ قریب ستر لاکھ کی آبادی کے شہر کو ہرقسم کے داخلی و خارجی خطرات سے محفوظ رکھیں!

پشاور میں حسب آبادی تھانہ جات اور پولیس اہلکاروں کی افرادی تعداد کون بڑھائے گا؟ اعدادوشمار چیخ چیخ کر گواہی دے رہے ہیں کہ خیبرپختونخوا پولیس کے وسائل و افرادی قوت سے خاطرخواہ استفادہ نہیں ہو رہا۔ ملاکنڈ میں 271‘ مردان میں 172‘ ڈیرہ اسماعیل خان میں 52‘ ایبٹ آباد میں 59‘ کوہاٹ میں 38‘ ہنگو میں 10‘ لوئر دیر میں 101 اور کرک میں 9 پولیس اہلکاروں کا کام صرف اور صرف ’اہم شخصیات‘ کی حفاظت ہے! علاؤہ اَزیں ڈھیروں ڈھیر ’اہم شخصیات‘ کی حفاظت کرنے والے ہزاروں پولیس اہلکار اِس بات کو ’اِستحقاق‘ سمجھتے ہیں کہ وہ ’خانصاحب بہادروں‘ کی آمدورفت کے موقع پر سڑکیں بند کر دیں‘ جس سے عام آدمی (ہم عوام) کے لئے غیرمعمولی مشکلات پیدا ہوتی ہیں! کیا ’پشاور ہائی کورٹ‘ ایک ایسی گھتی سلجھا پائے گی‘ جس کا بنیادی تعلق ’احساس اور ضمیر‘ سے ہے اور اِن جیسے بہت سے لطیف محسوسات کی نجانے کب سے موت ہو چکی ہے!