Showing posts with label PHC. Show all posts
Showing posts with label PHC. Show all posts

Saturday, March 12, 2022

Dark side of the criminal justice system in Pakistan!

 ژرف ِنگاہ .... شبیرحسین اِمام

تاریک گھر

ستائیس جنوری دوہزار اٹھارہ: کوہاٹ میں عاصمہ رانی نامی لڑکی کو قتل کیا گیا۔ مقتولہ کے بھائی ثاقب اللہ نے پولیس کو بتایا کہ مجاہد اللہ آفریدی اُور اُس کے بھائی صادق اللہ آفریدی نے اُن کے گھر میں گھس کر فائرنگ کی جس سے اُس کی بہن کی موت ہوئی۔ قتل کا مبینہ محرک یہ بتایا گیا کہ مجاہد اللہ نے عاصمہ رانی کے لئے شادی کا پیغام (رشتہ) بھیجا لیکن چونکہ مجاہد اللہ پہلے سے شادی شدہ تھا اِس لئے اہل خانہ اُور لڑکی نے انکار کر دیا اُور رشتے سے اِس انکار کو اپنی بے عزتی سمجھنے والوں نے رانی کو قتل کر دیا۔ قتل کرنے کی شب ہی نامزد مرکزی ملزم مجاہد اللہ متحدہ عرب امارات فرار ہو گیا‘ جہاں سے اُسے ’انٹرپول (عالمی پولیس)‘ کے ذریعے گرفتار کر کے وطن واپس لایا گیا کیونکہ سماجی و سیاسی اُور ذرائع ابلاغ کے کی وجہ سے عاصمہ رانی کا قتل معاملہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے چینلج بن چکا تھا۔ بہرحال مجاہداللہ کو مارچ دوہزاراٹھارہ میں پاکستان واپس لایا گیا اُور اُس پر مقدمے کے دوران جرم ثابت ہونے پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج پشاور کی عدالت نے ”25 جون 2021ئ“ کے روز سزائے موت اُور تین لاکھ جرمانے کی سزا سنائی اِس کے علاو¿ہ اُسے 20 لاکھ روپے مقتولہ کے ورثا کو بھی دینے کا کہا گیا‘ جو سزا کا حصہ تھا۔ ذہن نشین رہے کہ ذہین و باصلاحیت عاصمہ رانی ایوب میڈیکل کالج (ایبٹ آباد) کے ’ایم بی بی ایس‘ سال سوئم (تھرڈ ائر) کی طالبہ تھی اُور اہل خانہ اُسے ”چاند“ کے لقب سے پکارتے تھے‘ جس کے قتل پر اُنہوں نے کہا تھا کہ ہمارا گھر تاریک ہو گیا ہے! پولیس نے قتل کے اِس مقدمے میں ’دہشت گردی‘ کی دفعات لاگو کی تھیں جن کو بعدازاں ’پشاور ہائی کورٹ‘ نے مجرم کی طرف سے دائر پٹیشن پر ختم کر دیا تھا۔ قتل کے اِس مقدمے کا ایک خاص پہلو یہ بھی تھا کہ اِس میں قاتلانہ حملے کے بعد عاصمہ رانی کے بیان جو کہ ایک ریکارڈ شدہ ویڈیو کی صورت میں تھا‘ عدالت میں گواہان سمیت پیش کیا گیا‘ جس میں عاصمہ رانی نے مجرم دیئے گئے مجاہد اللہ کی فائرنگ کا ذکر کیا تھا اُور قتل کا یہ مقدمہ اِس لئے بھی ملکی و بین الاقومی ذرائع ابلاغ میں کئی مہینوں تک زیربحث رہا کیونکہ مقتولہ عاصمہ رانی کی بہن برطانیہ میں مقیم تھیں اُور اُنہوں نے عالمی ذرائع ابلاغ اُور سوشل میڈیا پر کے ذریعے حقائق بیان کئے جس پر سوشل میڈیا صارفین اُور دیگر عوامی سطح پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جاتا رہا اُور عاصمہ رانی کے لئے انصاف کے قاتلوں کو قرار واقعی سزائیں دینے کا مطالبہ ہر دن زور پکڑنے لگا تھا۔ درخواستیں رانی کے قتل کے مقدمے میں تین ملزمان نامزد کئے گئے تھے جن میں مجاہد اللہ‘ اِس کا بھائی صادق اللہ اُور اِن کا دوست شاہ زیب شامل تھے تاہم عدالت نے دیگر دونوں ملزمان کو ناکافی ثبوتوں کی وجہ سے بری کر دیا اُور ’ستمبر دوہزاراکیس‘ میں یہ پیشرفت بھی ہوئی کہ مقتولہ رانی کے والد غلام دستگیر نے علاقائی روایات کے مطابق ایک جرگہ میں مجاہد اللہ کو معاف کر دیا۔ پاکستان کے قوانین (کوڈ آف کریمنل پروسیجر اُور پاکستان پینل کوڈ) کے تحت متاثرہ خاندان اپنے ساتھ ہوئے کسی بھی قسم کے جرم کو معاف کر سکتا ہے اُور ایسی صورت میں عدالت اُن کے آپسی تصفیے کو تسلیم کرتے ہوئے مقدمہ اُور سزا ختم کر دیتی ہے۔

دس مارچ دوہزاربائیس: جسٹس روح الامین خان اُور جسٹس شکیل پر مشتمل عدالت ِعالیہ (پشاور ہائی کورٹ) کے 2 رکنی بینچ کے سامنے خیبرپختونخوا حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکیل (ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نثار) نے موقف اختیار کیا کہ رانی کے قاتل کو صرف اِس وجہ سے معاف نہیں کیا جانا چاہئے کہ اُس کے اہل خانہ نے کسی بھی وجہ سے تصفیہ کر لیا ہے بلکہ اِس مقدمے کو اِس نکتہ نظر سے دیکھا جانا چاہئے کہ قتل کی مذکورہ واردات ’فساد فی الارض‘ ہے اُور اگر اِس قسم کے انصاف کی مثالیں قائم کی گئیں تو اِس سے جرائم کی حوصلہ شکنی نہیں ہوگی بلکہ اِس سے بااثر طبقات کو ایسے سنگین جرائم کرنے کی بھی ’کھلی چھوٹ‘ مل جائے گی جو اپنی امارت کے زعم میں اِس بات کو ضروری نہیں سمجھتے کہ انسانی جان کی حرمت ہر قانون اُور ضابطے سے بالاتر ہے۔ قابل ذکر ہے کہ حکومتی وکیل کی جانب سے یہ نکتہ¿ نظر سامنے آنے سے پہلے ہی عدالت عالیہ نے بیرسٹر امیر اللہ خان کو ’ایمیکس کیوری (غیرجانبدار مشیر)‘ مقرر کیا تھا تاکہ وہ اس قانونی نکتے پر عدالت کی معاونت و رہنمائی کریں کہ جب پاکستان کے قوانین (سی آر پی سی‘ پی پی سی اور آئین) کی متعدد دفعات میں اِس بات کی اجازت ہے کہ متاثرہ خاندان زیرسماعت مقدمات کا تصفیہ (فیصلہ) ازخود کر سکتا ہے اُور آئینی طور پر عدالت ایسے فیصلوں کو تسلیم کرنے کی پابند بھی ہے تو عاصمہ رانی قتل کیس میں ہوئے تصفیے کے بعد عدالت ِعالیہ کس طرح سزائے موت پر عمل درآمد بحال رکھ سکتی ہے اُور ایسی صورت میں عدالت کے پاس مداخلت کرنے کی کس قدر گنجائش رہ گئی ہے؟

مقتولہ عاصمہ رانی کی بہن صفیہ رانی برطانیہ کمپیوٹرز (انفارمیشن ٹیکنالوجی) کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے گئی تھی لیکن جب اُنہیں اپنی بہن کے قتل اُور پاکستان میں عدالت و انصاف کے بارے میں علم ہوا تو اُنہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے داخلہ لے لیا تاکہ ’بار ایٹ لا‘ کرنے کے بعد وہ پاکستان آئیں اُور اپنی بہن کا مقدمہ لڑیں لیکن قانون و انصاف کا عالمی اصول یہ ہے کہ اِس میں قانون و انصاف کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوتی ہے جبکہ پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں آنکھوں پر پٹی کے علاو¿ہ قانون و انصاف کے دیگر حواس ِخمسہ بھی شل (معذور) ہو چکے ہیں جبکہ معاشرے میں جرم اُور مجرموں سے خاطرخواہ نفرت نہیں پائی جاتی۔ اگر یہی صورت حال برقرار رہی کہ جس میں عدالتیں قانون اُور قانون عدالتوں کے سامنے بے بس رہا تو نجانے مزید کتنے چاند گرہن ہوں گے! مزید کتنی جانیں قتل ہوں گی اُور مزید کتنے قاتل معاف کر دیئے جائیں گے۔ صرف عاصمہ رانی ہی نہیں بلکہ پاکستان میں انصاف کو عدل اُور عدل کو انصاف سے قریب و متصل کرنے بھی ضرورت ہے۔ ”ظلم چکھایا بے حسی چکھی .... کیا کبھی تم نے بے بسی چکھی (ناہید اختر بلوچ)۔“

....

Clipping from Daily Aaj - March 12, 2022 Saturday


Friday, October 4, 2019

CENSORED: PHC verdict in School Case!

۔۔۔ ناقابل اشاعت قرار دے دیا گیا ۔۔
ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
خواب بیچ دے!

خیبرپختونخوا میں نجی تعلیمی اِداروں کی ’ٹیوشن فیسوں‘ میں اِضافہ زیربحث تھا کہ اِس موضوع میں ’سہ ماہی تعطیلات‘ کی فیس وصولی کا تنازعہ بھی شامل ہو گیا۔ تشویش کا شکار چند والدین نے عدالت عالیہ (پشاور ہائی کورٹ) سے رجوع کیا‘ جہاں مقدمہ قائم کرتے ہوئے اِسے ایک بنیادی سوال کی حد تک محدود کر دیا گیا کہ ”کیا نجی سکول تعطیلات کی فیس اُور اِن تعطیلات کے عرصے میں طلباءو طالبات سے آمدورفت کے اخراجات وصول کرنے کے مجاز ہیں یا نہیں؟“ حالانکہ معاملہ کثیرالجہتی تھا اُور اِس کا مختلف پہلوو ¿ں سے جائزہ لینے کی ضرورت تھی۔ بہرحال (دو اکتوبر دوہزار اُنیس کے روز) عدالت کی جانب سے بائیس صفحات کا مشتمل فیصلہ سامنے آیا‘ جسے تفصیلی کہا گیا اُور اگر اِس کا لب لباب پیش کیا جائے تو وہ یہ ہے کہ
1
والدین متعلقہ حکومتی محکمے سے رجوع کریں
2
 متعلقہ حکومتی محکمہ ’خیبرپختونخوا پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی (KPPSRA)‘ پابند ہو گا کہ وہ آئندہ (2 نومبر 2019ء) سے قبل یعنی 2 ماہ کے عرصے میں والدین کے ساتھ مشاورت کر کے اِس مسئلے کا حل تلاش کرے۔

3
 نجی تعلیمی ادارے والدین سے وہ تمام بقایا جات یکمشت وصول نہیں کریں گے بلکہ پچیس پچیس فیصد کے تناسب سے چار اقساط میں وصول کئے جائیں گے‘ جو عدالت سے ’حکم امتناعی (اِسٹے آرڈر) کی وجہ سے والدین اَدا نہیں کر رہے تھے۔

4
ریگولیٹری اتھارٹی والدین کے نمائندوں پر مشتمل ’فیس کمیٹی‘ بنائے گی جو نہ صرف تعلیم بلکہ نجی سکولوں کے اُن ضمنی اخراجات کا بھی تعین کرے گی‘ جو (بڑھا چڑھا کر) والدین کو منتقل کر دیئے جاتے ہیں اُور

5
مذکورہ فیس کمیٹی اُور نجی سکولوں کا نگران صوبائی محکمہ اَساتذہ کے لئے مراعات و سہولیات کا تعین بھی کرے گا۔

’پشاور ہائی کورٹ‘ کے جاری ہونے والا فیصلے پر تینوں فریقین (نجی سکول‘ حکومتی محکمہ اُور والدین) اپنی اپنی جگہ

 خوشیاں منا رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اِس سے نہ تو مسئلہ حل ہوا ہے اُور نہ ہی اِس کا پائیدار حل ہونے کی اُمید ہی پیدا ہوئی ہے۔ اگر صوبائی حکومت کا متعلقہ محکمہ خاطرخواہ کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہوتا اُور وہ نجی سکولوں کی بجائے صارفین یعنی والدین کے مفادات کا محافظ ہوتا (جو کہ اُسے ہونا چاہئے) تو والدین کو اپنا کام کاج چھوڑ کر اُور اپنے مالی وسائل خرچ کر کے عدالت عالیہ سے رجوع کرنے (یعنی کورٹ کچہری کے دھکے کھانے) کی ضرورت ہی کیوں پڑتی؟ اِس پورے منظرنامے میں سب سے زیادہ بے بس‘ متاثرہ اُور مظلوم فریق ’والدین‘ ہیں‘ جنہوں نے انصاف کے لئے صرف عدالت ہی نہیں بلکہ سیاسی فیصلہ سازوں کے دروازے بھی کھٹکھٹائے ہیں اُور ہر طرف سے سوائے دھتکار کچھ حاصل نہیں ہوا۔ البتہ فرق یہ تھا کہ کسی نے دھتکار مہذب انداز میں دی اُور کسی کا لب و لہجہ غیرشائستہ تھا!

والدین کے پاس اب لے دے کر .... یہی آپشن بچا ہے کہ وہ نجی سکولوں کی خواہش و مطالبہ (جائز و ناجائز) کے مطابق فیسیں و دیگر اخراجات اَدا کریں اُور اُس روز قیامت کا انتظار کریں جب عدالت قائم ہو گئی اُور پوچھا جائے گا کہ تعلیم کی فراہمی جیسی آئینی ذمہ داری سے حکمرانوں کو خود کو کیسے بری الذمہ قرار دیا تھا اُور تعلیم جیسی جنس کو کاروباری طبقات کے حوالے کرنے والے فیصلہ سازوں نے اپنے کاروباری و ذاتی مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے والدین کا اِستحصال کیا۔ بااثر نجی تعلیمی اداروں کے مقابلے اگر والدین خود کو بے بس سمجھ رہے ہیں تو اِس کے لئے بھی ذمہ دار وہ خود ہی ہیں‘ جو عام انتخابات میں ووٹ دیتے وقت اُن مسائل و مشکلات کو موضوع نہیں بناتے‘ جس پر بعدازاں عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں!



عدالتیں آئین ساز اُور قواعد ساز نہیں ہوتیں۔ وہ تو فیصلوں کو آئینی دستاویزات اور فیصلوں کی روشنی میں لکھنے کی پابند ہے اُور زیادہ سے زیادہ یہی کر سکتی ہے‘ جو اِس نے کیا ہے!



والدین عجیب مشکل میں پھنس گئے ہیں۔ اب وہ یہ بھی نہیں کرسکتے کہ اپنے بچوں کو بطور احتجاج نجی سکولوں سے نکال کر سرکاری سکولوں میں داخل کروا دیں کیونکہ ایک تو سرکاری سکولوں میں لاکھوں کی تعداد میں بچوں کو داخل کرنے کی صلاحیت (گنجائش) موجود نہیں۔ دوسرا سرکاری سکولوں کی تعداد اُور وہاں حسب طلبہ تعینات اساتذہ کی تعداد پہلے ہی ضرورت سے کم ہے۔ تیسرا سرکاری سکولوں کا معیار تعلیم اُور ماحول ایسا نہیں کہ اچھے مستقبل کی اُمید میں سرمایہ کاری کرنے والے اپنی آنکھوں کے خواب بیچ ڈالیں۔ وہ اپنے آپ کو تو بیچ دیں گے لیکن شاید تعلیم چاہے وہ کتنی ہی مہنگی کیوں نہ ہو جائے‘ لیکن اِس میں سرمایہ کاری ضرور کریں گے کیونکہ یہ آج نہیں مستقبل کا معاملہ ہے!



نجی تعلیمی ادارے ہوں یا سرکاری دفاتر۔ کاروبار ہوں یا سہولیات و خدمات کی فراہمی کے مراکز‘ ہر سطح پر ذمہ داروں (ملازمین اُور معاونین) ’مافیا‘ کی صورت اپنے مفادات کے لئے اُس ایک صارف کے خلاف متحد ہیں‘ جسے عرف عام میں ’عوام‘ کہہ کر دیکھا اُور سمجھا جاتا ہے۔ یہ عوام نہ تو خواص (حکمرانوں‘ اسٹیبلشمنٹ اُور افسرشاہی) کا مقابلہ کرنے کی مالی و سیاسی سکت رکھتے ہیں اُور نہ ہی اِن کے آپسی روابط اُور اتحاد ہی ممکن ہو پایا ہے کہ یہ اپنے جائز (درست) موقف کو کسی بھی فورم پر بذریعہ احتجاج و طاقت منوا سکیں۔ جب بات تعلیم (درس و تدریس) کی آتی ہے تو حقیقت یہ ہے کہ ایک عام آدمی (ہم عوام) ماضی کے مقابلے آج خود کو زیادہ بے بس محسوس کر رہا ہے۔



اُمید تھی کہ ’پشاور ہائی کورٹ‘ اِن جیسے جملہ ضمنی پہلوو ¿ں کا اَزخود نوٹس لے گی‘ تعلیم میں سرمایہ کاری کرنے والوں نے معروف اُور مہنگے ترین وکلاء(قانونی ماہرین)‘ کی خدمات حاصل کرکے مقدمہ تو جیت لیا ہے‘ جس سے یہ تاثر بھی پیدا ہوا ہے کہ عدالت نے جن 9 مقدمات کو بیک وقت لپیٹ کر جس فریق سے اپنے تیئں انصاف کیا ہے اُس کی زبان نہیں بلکہ چہروں کے تاثرات بول رہے ہیں! والدین مجبور ہیں‘ جن کی مجبوری زیرغور نہیں۔ اِسی مجبوری کے بارے میں 57 کتابوں کے مصنف‘ رومانین نژاد اَمریکی مفکر‘ پروفیسر ایلی وایسل (Elie Wiesel) نے کہا تھا کہ ”غیرجانبداری فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اُور اِس کے ذریعے بسا اُوقات کسی متاثرہ شخص کی مدد بھی ممکن ہوتی ہے لیکن غیرجانبداری سے اُس ایک فریق کی مدد ممکن نہیں‘ جس پر ’ظلم‘ ہوا ہو۔ جانبدار (خاموش) رہنے سے ظالم کو حوصلہ ملتا ہے جبکہ اِس عمل سے مظلوم کی ہمت جواب دے جاتی ہے!“

............

Friday, July 19, 2019

2 Articles (Back to Back) The issue of Roti

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام....اٹھارہ جولائی دوہزار اُنیس
روٹی کا مقدمہ!
پشاور کس سے فریاد کرے؟ اہل پشاور کو اِس بات (محرومی) کا شدت احساس سے ہورہا ہے کہ (اجتماعی) عوامی مفادات کا تحفظ کرنے میں صوبائی حکومت‘ ضلعی و بلدیاتی نمائندے اُور کمشنری نظام ”عملاً ناکام“ ثابت ہوئے ہیں۔ عام آدمی (ہم عوام) کی وابستہ توقعات اگر جمہوری طرز حکمرانی سے پوری نہیں ہو رہیں‘ تو اِس بارے میں خود کو عوام کا نمائندہ کہنے والوں کو بھی اپنے طرزفکروعمل اپنے بارے میں عوامی رائے پر غور کرنا چاہئے کیونکہ ”ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی!“

فیصلہ سازوں (صاحبان اقتدار) اُور عوام کے درمیان فاصلہ اُور خلاءنہیں ہونا چاہئے کیونکہ جہاں کہیں ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے وہاں دیگر حکومتی ادارے بھی مشکل میں پڑ جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر رواں ہفتے پشاور ہائی کورٹ نے فی روٹی کی قیمت ’15 روپے‘ مقرر کئے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر پشاور کو بمعہ متعلقہ دستاویزات (ریکارڈ) آئندہ پیشی (24 جولائی) پر طلب کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ .... ”اگر مقررہ تاریخ پر روٹی کی قیمت میں اضافے سے متعلق عدالت کی تسلی تشفی نہ کرائی گئی اُور ڈپٹی کمشنر حاضر نہ ہوئے تو (سنگل) روٹی کی پرانی قیمت ’5 روپے‘ بحال کر دی جائے گی۔“ عدالت عالیہ کے سامنے ’روٹی کا مقدمہ‘ آفاق حسین نامی درخواست گزار نے پیش کیا ہے‘ جن کی جانب سے خورشید خان ایڈوکیٹ نے اپنے موکل کے لئے ’فوری ریلیف‘ حاصل کرنے کی استدعا کی اُور اپنے موقف پر زور دیا تو ’2 رکنی‘ بینچ (جسٹس ہلالی اُور جسٹس ابراہیم) نے ’مرکزی کردار (ڈپٹی کمشنر پشاور) کو طلب کرنے اُور تمام ریکارڈ دیکھنے کا فیصلہ کیا کیونکہ بصورت دیگر مقدمے کا فیصلہ ’یک طرفہ‘ کہلاتا۔ اگرچہ روٹی کے وزن اور قیمت سے متعلق اب تک ہوئی سماعت میں ’ڈپٹی کمشنر پشاور‘ کے کردار کا احتساب شامل نہیں لیکن اُمید ہے کہ آئندہ سماعت پر افسرشاہی کا محاسبہ بھی ہوگا جن کے لئے روٹی کی قیمت 10 سے 15 روپے کرنا کوئی بڑی بات نہیں اُور اِس بارے بھی یقینا استفسار ہوگا کہ جب ضلع ناظم (ارباب عاصم) نے مہنگائی کی شرح میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے روٹی کی فی قیمت میں 2 روپے اضافے کا فیصلہ کر دیا تھا تو اِس فیصلے پر فیصلہ کرنے کا اختیار ’ڈپٹی کمشنر‘ کو کیسے منتقل ہوا؟

نانبائیوں کے جن نمائندوں نے ضلع ناظم اُور ڈپٹی کمشنر پشاور سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اُن کی اصلیت کے بارے میں بھی غور ہونا چاہئے کہ بیک وقت اگر ایک سے زیادہ نانبائیوں کی تنظیمیں موجود ہیں تو اُن میں سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لئے اختیار و تائید کس کے پاس ہونی چاہئے!

رواں ماہ پشاور سمیت خیبرپختونخوا میں روٹی کی قیمت دس سے پندرہ روپے اضافے کی خبر ’جنگل کی آگ‘ کی طرح پھیلی۔ اگر روٹی کی قیمت پانچ روپے کم کی گئی ہوتی تو اکثر دکاندار کہتے اُنہیں ابھی تک حکومت کا اعلامیہ (نوٹیفیکشن) یا اپنی تنظیم کی طرف سے نرخنامہ موصول نہیں ہوا لیکن چونکہ یہاں بات اضافے کی تھی‘ اِس لئے بناءغور کئے اُور بناءتفصیلات میں گئے نانبائیوں نے روٹی کی قیمت بڑھانے پر فوری عمل درآمد کر لیا لیکن روٹی کی قیمت میں حالیہ اِضافے کی کہانی اُور مقدمہ اپنی جگہ دلچسپ پہلو رکھتے ہیں کہ عدالت کے روبرو پیش ہونے سے قبل یہ مقدمہ ’وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا‘ محمود خان کی عدالت میں پیش ہو چکا ہے البتہ فرق یہ ہے کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے روٹی کے ”مقررہ وزن“ میں کمی کا نوٹس لیا گیا قیمت کا نہیں۔ ذہن نشین رہے کہ نانبائیوں نے ڈپٹی کمشنر کے ساتھ مذاکرات میں یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ 15روپے کے عوض ’190گرام‘ روٹی فروخت کریں گے۔

روٹی کا وزن اُس کی پختہ حالت میں کیا جاتا ہے لیکن نانبائی ایسوسی ایشن نے کمال مہارت سے روٹی کی قیمت میں اضافے کا نوٹیفیکشن تو جاری کروا دیا لیکن پختہ روٹی کا وزن نہیں بڑھایا۔ اِس ناانصافی پر عوامی حلقوں بالخصوص حزب اختلاف سے سیاسی جماعتوں نے شدید احتجاج کیا۔ جس کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلی نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ خوراک کا اجلاس طلب کیا اُور کم وزن روٹی بیچنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی ہدایت جاری کی۔ سیاسی فیصلہ سازوں کی جانب سے اِس قسم کے ’زبانی کلامی ہدایت ناموں‘ کی تاریخ رہی ہے کہ اِنہیں تاجر ہوں یا نانبائی‘ دکاندار ہوں یا صنعتکار‘ قصاب ہوں یا چائے فروش کبھی بھی خاطر میں نہیں لاتے۔ وزیراعلیٰ نے لگے ہاتھوں روٹی کے وزن سے متعلق شکایات سے ’ڈپٹی کمشنر پشاور‘ کو آگاہ کرنے کا مشورہ بھی دیا‘ جو عام آدمی (ہم عوام) کی سمجھ میں نہیں آ سکا کہ آخر ڈپٹی کمشنر پشاور‘ کون سے پشاور میں رہتے ہیں کہ اُنہیں پشاور میں اپنے ہی مقررکردہ روٹی کے وزن سے متعلق علم نہیں اُور ایک عام آدمی کس طرح ڈپٹی کمشنر کے دربار میں اپنی شکایت درج کروانے جائے؟ یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا ڈپٹی کمشنر پشاور (صاحب بہادر) کا کام صرف یہی تھا کہ جناب روٹی کا وزن اُور قیمت مقرر کرتے لیکن اِس پر عمل درآمد کسی دوسرے حکومتی محکمے کی ذمہ داری ہے؟ کیا ضلع ناظم (ارباب عاصم) اُور عوام کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کی موجودگی میں کمشنری حکمران (کمشنر‘ ڈپٹی کمشنرز اُور اسسٹنٹ کمشنر وغیرہ) ہونے چاہئیں؟ وزیراعلیٰ محمود خان کا یہ بیان آن دی ریکارڈ موجود ہے کہ ”ناجائز منافع خوری کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جائے گی“ لیکن ناجائز منافع خوری تجاوزات کی طرح ہر حکومت کی طرح موجودہ صوبائی حکومت کے لئے بھی کھلا چیلنج ہے!

پشاور شہر میں منافع خوروں اور کم وزن روٹی بیچنے والے نانبائیوں کے خلاف کریک ڈاو ¿ن سے متعلق ضلعی انتظامیہ نے وزیراعلیٰ کو بریفنگ دے رکھی ہے اُور صوبائی حکومت کا عزم ہے کہ وہ ’عوامی مشکلات‘ رفع کرنے کے لئے ہر ممکن حد تک جائے گی لیکن یہ ساری ”خوبصورت باتیں“ اپنی جگہ اُس ایک ”بدصورت حقیقت“ کو عوام کے حق میں مفید نہیں بنا سکی ہیں‘ جو روٹی کے وزن اُور اِس کی قیمت سے متعلق ہے! یہی وجہ رہی کہ ایک شہری کو انصاف کے لئے عدالت عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا‘ جہاں پہلے ہی زیرالتوا ¿ مقدمات کی تعداد ہزاروں میں ہے اُور اگر روٹی کا وزن اُور اِس کی قیمت کا تعین بھی عدالت ہی نے کرنا ہے تو پھر عوام کے منتخب بلدیاتی و سیاسی نمائندوں اُور شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ کے ساتھ حکمرانی کرنے والے ’صاحب بہادر‘ ڈپٹی کمشنر کس مرض کی دوا ہیں!؟

”ہر سہارا بے عمل کے واسطے بیکار ہے ....
آنکھ ہی کھولے نہ جب کوئی‘ اُجالا کیا کرے (حفیظ میرٹھی)“
............

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام....اُنیس جولائی دوہزار اُنیس
پشاوری تندور پراجیکٹ

’روٹی کا مقدمہ‘ (اُنیس جولائی) کے ذریعے پشاور کے سیاسی‘ ضلعی اُور انتظامی حکمرانوں کی کارکردگی کا ابتدائیہ پیش کیا گیا‘ جن کی اجتماعی دانش و کارکردگی سے ایک مرتبہ پھر یہ عنوان زیربحث ہے کہ بطور صارفین ’اہل پشاور کے مفادات کا تحفظ نہیں ہو رہا‘ اُور یہی وجہ رہی کہ ایک شہری کو بذریعہ وکیل ’پشاور ہائی کورٹ‘ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا‘ جہاں متوقع طور پر ’2 رکنی بینچ‘ نے مقدمے کی آئندہ سماعت (24 جولائی) پر روٹی کا وزن اُور قیمت طے کرنے کے علاو ¿ہ (متوقع طور پر) فیصلہ سازوں کا احتساب بھی کرے گا جنہوں نے ’اچانک‘ اُور ایک ایسی صورتحال میں روٹی کے نرخ میں ’50فیصد اضافہ‘ کرنے کو ضروری سمجھا‘ جبکہ اُن کا مارکیٹ پر کنٹرول نہیں۔ گراں فروشوں اور کم وزن روٹی بیچنے والوں کو حکومت‘ انتظامیہ کا قانون کا خوف نہیں اُور سب سے بڑھ کر یہ تاثر الگ سے تحقیق چاہتا ہے کہ مبینہ طور پر نانبائیوں سے ’رشوت‘ لیکر اُور نئے نرخنامے کی فروخت سے آمدن کے لئے روٹی کی قیمت بڑھائی گئی ہے!

یہ امر بھی عدالت کے سامنے زیرغور آنا چاہئے کہ صارفین کی تنظیم اُور پرائس ریویو کمیٹی سے مشاورت کو کیوں ضروری نہیں سمجھا گیا؟ منطقی اَمر تھا کہ حالیہ مہنگائی کی لہر‘ جس میں روپے کی قدر میں کمی اُور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے‘ بجلی و گیس کے یوٹیلیٹی بلز بڑھے ہیں تو روٹی کی قیمت میں بھی اضافہ متوقع تھا لیکن یہ اضافہ ’بیک جنبش قلم پچاس فیصد‘ ہو جائے گا‘ اِس شرح غیرمنطقی تھی اُور یہی وجہ ہے کہ 10سے 15روپے روٹی ہونے پر عوامی حلقوں کی جانب سے مذمت و پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی حکمرانوں کی بھی کارکردگی پر سوالات اُور انگلیاں اُٹھنے لگیں!

”انجمن پختونخوا نانبائی ایسوسی ایشن“ کی جانب سے پشاور سمیت خیبرپختونخوا میں ’غیرمعینہ مدت‘ تک تندور رکھنے کے لئے ہڑتال کے پہلے دن (گیارہ جولائی دوہزار اُنیس) کے روز پشاور میں ’ہو کا عالم‘ دیکھا گیا۔ شہری سرگرداں تھے۔ ہر طرف سے روٹی روٹی کی صدائیں سنائی دے رہی تھیں! سوشل میڈیا اُور بالخصوص واٹس ایپ گروپس میں تمام دن روٹی (جوئے شیر) کا حصول کرنے کے بارے معلومات کا تبادلہ ہوتا رہا! عیاں ہوا کہ حکومت نام کی شے تو ہے لیکن منصوبہ بندی نہیں اُور نانبائیوں نے پشاور کو یرغمال بنا کر رکھا ہے! صرف ایک دن کی ہڑتال سے پشاور میں معمولات زندگی بُری طرح متاثر ہوئے کیونکہ پشاوریوں کے گھروں میں روٹی پکانے کا اب رواج نہیں رہا۔ ہڑتال کرنے والے نانبائیوں کا مطالبہ تھا کہ .... ”ضلعی انتظامیہ (ناظم ضلع پشاور ارباب عاصم) کی جانب سے 140گرام روٹی کی قیمت 12 روپے مقرر کی گئی لیکن اِس سلسلے میں اعلامیہ (نیا نرخنامہ) کیوں جاری نہیں کیا گیا جبکہ آٹے کی فی کلوگرام قیمت میں 10روپے اُور بجلی و گیس کی مدوں میں بیس سے تیس فیصد اضافے کی وجہ سے نانبائیوں کا نقصان ہو رہا ہے۔“ مذکورہ (گیارہ جولائی) کی ’کامیاب ہڑتال اُور احتجاجی مظاہرے‘ اُور ’عوامی کی پریشانی و دباو‘ سے نمٹنے کے لئے وزیراعلیٰ نے مسئلے کا ’قابل عمل حل‘ نکالنے کی ہدایت کرتے ہوئے ’تاجر مسائل کمیٹی‘ تشکیل دی لیکن دریں اثناءڈپٹی کمشنر پشاور (محمد علی اصغر) اُور اسسٹنٹ کمشنر پشاور (محترمہ سارہ رحمان) نے نانبائیوں کے ایک نمائندہ وفد سے ملاقات میں 140 گرام کی بجائے روٹی کا وزن 190گرام کرتے ہوئے قیمت 15 روپے مقرر کرنے کا ہاتھوں ہاتھ اعلامیہ جاری کر دیا! یہ سب کچھ اِس قدر تیزی سے ہوا کہ خود ضلع ناظم (ارباب عاصم) بھی بے خبر و حیران پائے گئے! اُور اِسی نے گویا ’جلتی پر تیل‘ ڈالنے کا کام کیا۔ وہ عام آدمی (ہم عوام) جو پہلے ہی نانبائیوں کی ہڑتال کے باعث ’روٹی کے نوالے نوالے‘ کو ترسے بیٹھے تھے‘ صوبائی و ضلعی حکومت و انتظامیہ کے اِس حل (solution) پر سراپا احتجاج بن گئے‘ جس کی دو بنیادی وجوہات سامنے آئیں۔ 1: پشاور کے طول و عرض میں بمشکل ایسا نانبائی ملے گا‘ جو مقررہ 140 گرام کی روٹی فروخت کر رہا ہو۔ ضلعی حکومت (بلدیاتی نمائندے) اُور ضلعی انتظامیہ (کمشنر‘ ڈپٹی کمشنر اُور اسسٹنٹ کمشنروں پر مبنی فوج ظفر موج) مقررہ وزن کے مطابق روٹی کی فروخت ممکن بنانے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ 2: یہ سوال بھی اُٹھایا گیا کہ جو حکمران روٹی کے وزن پر عمل درآمد یقینی نہیں بنا سکے وہ ’ایک سو چالیس گرام‘ سے ’ایک سو نوے گرام‘ وزن کو کیسے لاگو کریں گے!؟ اُور 3: آخر ایسا کیوں ہے کہ پشاور کے اندرونی (شہری) اُور مضافاتی (دیہی) علاقوں میں روٹی الگ الگ وزن اُور الگ الگ معیار کی فروخت ہو رہی ہے؟

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا (محمود خان) نے ’تاجر مسائل کمیٹی‘ کے ذریعے ’روٹی کے مسئلے‘ کا حل تلاش کرنے کی تجویز دی ہے لیکن اہل پشاور کی کیا بات کہ جو اِس سے بھی ایک قدم آگے کی سوچ رکھتے ہیں! 

پشاور ہائی کورٹ میں دائر ’روٹی کے مقدمے‘ میں اپنے موکل آفاق حسین کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل محمد خورشید صرف عدالتی کاروائی پر ہی اکتفا نہیں کئے بیٹھے بلکہ وہ اِن دنوں ’پشاوری تندور پراجیکٹ‘ نامی اچھوتے تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کوشاں ہیں تاکہ نانبائی گیارہ جولائی کی طرح اہل پشاور کو دوبارہ یرغمال (اُور بیوقوف) نہ بنا سکیں۔ منصوبے کا ابتدائی خاکہ (سوچ) یہ ہے کہ صنعتی (بڑے) پیمانے پر‘ صاف ستھری اُور وزن کے مطابق معیاری روٹی بنا کر اِسے پشاور کے مختلف حصوں میں گشتی یا مستقل سیل پوائنٹس پر فروخت کیا جائے۔ یہ ایک قابل عمل منصوبہ ہے اُور کاروباری نکتہ نظر سے بھی ممکن ہے کیونکہ اگر پہلے مرحلے میں پشاور کی تمام 92 یونین کونسلوں کا احاطہ نہ بھی کیا جائے اُور صرف اندرون شہر کی 15سے 20 یونین کونسلوں میں کم سے کم 100 مقامات پر ’پکی پکائی روٹیاں‘ فروخت کے لئے پیش کی جائیں‘ تو گشتی یا مستقل سیل پوائنٹس پر یومیہ ایک سے دو لاکھ روٹیاں باآسانی فروخت کی جا سکتی ہیں۔

علاوہ ازیں حیات آباد‘ یونیورسٹی ٹاون‘ شامی روڈ‘ ورسک روڈ‘ صدر اُور چغل پورہ سے آگے بننے والی نئی ٹاون شپ اسکیموں میں رہنے والے صارفین ’پشاوری تندور پراجیکٹ‘ کے مستقل رکن (گاہگ) بن کر گھر بیٹھے روٹی حاصل کر سکیں گے۔ ’پشاوری تندور پراجیکٹ‘ کی رکنیت بذریعہ ویب سائٹ‘ موبائل ایپ‘ ٹیلی فون یا سوشل میڈیا سے متعارف کروائی جا سکتی ہے‘ جس کے لئے کوئی بھی صارف ’آن لائن‘ ادائیگی (پے منٹ) کر سکے گا۔ ”شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر ہے .... اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے (اَحمد فراز)۔“ کم وزن اُور غیرمعیاری روٹی فروخت کرنے والے نانبائیوں کی اکثریت کے ہاتھوں ’بلیک میل‘ ہونے‘ سیاسی‘ ضلعی اُور انتظامی حکمرانوں کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنانے سے تو بہتر ہے کہ اہل پشاور کا دُکھ اُور ’پشاوری تندور پراجیکٹ‘ جیسے کاروباری موقع سے فائدہ اُٹھانے کے لئے ’سرمایہ کار‘ آگے آئیں کیونکہ ”خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی .... نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا (مولانا ظفر علی خان)۔“

Monday, February 26, 2018

Feb 2018: The changing Peshawar & issue of Bala Hisar Fort in the court

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
پشاور: کیا تھا؟ ۔۔۔ کیا ہے؟
ہرسمت تعمیر و ترقی کے خرچے اُور چرچے کا ’ہنگامہ خیز‘ دور جاری ہے‘ جس کے شاہد ’اہل پشاور‘ نے ’توجہ دلاؤ نوٹس‘ کے ذریعے درخواست کی ہے کہ صحت مند اور بامقصد تفریح کے ایسے مزید مواقع فراہم کئے جائیں‘ جس سے نئی نسل بالخصوص بچوں کو پشاور کے شاندار ماضی اُور یہاں کی ’’تاریخ‘ روایات اُور ثقافت آشنا‘‘ کیا جا سکے۔ 

یہی لمحۂ فکریہ پشاور کے باغات کی ’’واگزاری اُور بحالی‘‘ کا بھی ہے‘ جو سیاسی‘ ذاتی یا انتخابی مفادات رکھنے والے فیصلہ سازوں کی ’کمرشل اِزم سوچ‘ کی نذر ہو چکے ہیں! شاہی باغ‘ وزیر باغ‘ چاچا یونس پارک اُور جناح پارک‘ پشاور کا عکس اور عکاس ہیں جن کے موجود وسائل کو‘ تجاوزات اور کمرشل خرابات سے باآسانی واگزار کر کے ترقی دی جاسکتی ہے اُور اِنہیں ’عالمی معیار‘ کے مطابق ’سبزہ زاروں‘ میں ڈھالا جا سکتا تھا لیکن تحریک اِنصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت کو شاید یہ بھی یاد نہیں رہا کہ اُنہوں نے تو ’ہر یونین کونسل‘ کی سطح پر ’کھیل کا میدان (پلے گراؤنڈ)‘ بنانے کا وعدہ کر رکھا ہے اور یوں پانچ سال کی آئینی مدت کی تکمیل کے قریب پشاور کی ’92 یونین کونسلوں‘ میں کم سے کم ’’سات درجن‘‘ سبزہ زار تو موجود ہوتے لیکن ’تلخ حقیقت‘ تو یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کی کل 3 ہزار 493 یونین کونسلوں میں چند درجن ہی خوش نصیب ’بلدیاتی یونٹ‘ ایسے ہیں‘ جہاں ماضی کی امانت‘ سبزہ زاروں کی ظاہری شکل و صورت‘ بازاروں اور قبرستانوں سے زیادہ مختلف نہیں جہاں ہر طرف ’’تجاوزات‘‘ عام ہیں!

مقام افسوس تو یہ بھی ہے کہ پشاور کے جن بازاروں کو مزاحمت اور کوششوں کے بعد تجاوزات سے پاک کیا گیا وہاں پھر سے بالخصوص نئی و پرانی تعمیرات اپنی حدود سے تجاوز کر رہی ہیں۔ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کا وجود اور اِس وجود کا خوف نام کی کوئی شے ہوتی تو کسی تاجر‘ آجر و اجیر کی ہمت نہ ہوتی کہ وہ اپنی حد سے تجاوز کرتا‘ پشاور کے وسائل کی لوٹ مار کرے اور یہاں کے معاشرت و معیشت کو مسائل سے دوچار کرے۔ 

آج کے پشاور کی طرح‘ کبھی بھی یہ شہر‘ بناء نمائندگی (بے سروساماں) اور بے بس نہیں رہا اُور اِس کی وجہ یہ ہے کہ اندرون پشاور سے منتخب ہونے والے غیرمقامی سیاسی و بلدیاتی نمائندوں سے ’نمائندگی (ترجمانی) کا حق‘ اَدا کرنے کی توقعات عبث ہیں۔ آج کے پشاور کا دُکھ صرف وہی نفوس سمجھ سکتے ہیں‘ جو خود پشاور سے ہوں اور نکتۂ نظر (اصطلاحی طور پر) بھی صرف اُنہی ارواح کو سمجھ آ سکتا ہے کہ ’’پشاور کیا تھا اور آج کا پشاور کیا ہے!؟‘‘

بہت دنوں بعد پشاور کی گلیوں میں ’گم ہونے کا اتفاق‘ ہوا۔ وہ شہر جو ’خون کے ساتھ رگوں میں گردش کرے‘ وہاں اجنبی چہروں کی چہل پہل (شورشرابے) اُور تیزی سے فنا ہوتا ’فن تعمیر‘ کا مشاہدہ کبھی بھی خوشگوار نہیں رہا۔ ہر چند ماہ بعد پشاور پہلے سے زیادہ مختلف اور پرہجوم دکھائی دیتا ہے لیکن ایسا بھی نہیں کہ ’بیدار دل‘ اپنے ’اثاثوں کی نگہبانی‘ سے غافل ہوں۔ پشاور ہائی کورٹ میں دائر ایک مقدمے کی مثال کافی ہے جس میں 2 رکنی بینچ (جسٹس اکرام اللہ خان اور جسٹس محمد غضنفر خان) اِن دنوں ایک ایسے مقدمے کی سماعت کر رہے ہیں‘ جس کا عمومی موضوع ’پشاور شناسی (تاریخ و ثقافت سے جڑے اثاثوں کے انتظامی امور کی منتخب اداروں کو سپردگی) اور موجود وسائل تک عام آدمی (ہم عوام) کو استفادہ کرنے کی اجازت دینا ہے۔ بنیادی طور پر یہ مقدمہ اَٹھارہویں صدی میں تعمیر ہونے والے ’قلعہ بالا حصار‘ سے متعلق ہے‘ جسے اگر ’پشاور کی تاریخ کا مستند حوالہ‘ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ اِس کے مطالعے سے ’تاریخ پشاور‘ کو سمجھنا اور سمجھانا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔

قلعہ بالا حصار (اپنے نام کی طرح) کسی تاریخی عمارت کے وجود سے کئی گنا زیادہ بڑی (قدآور) عمارت ہے چونکہ اہل پشاور کے لئے تفریح کے مواقعوں کی کمی ہے اِس لئے ’خورشید خان ایڈوکیٹ‘ نے پشاور ہائی کورٹ کی توجہ اِس جانب مبذول کرائی ہے کہ ’بالاحصار‘ میں قائم ’فرنٹیئر کور (Frontier Corps)‘ (ایف سی) کے ’صدر دفتر (ہیڈکواٹر) کو ختم کرکے اِسے ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر دیا جائے جبکہ عدالت نے اِس سلسلے میں صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سے جواب طلب کر رکھا ہے اور اِن دونوں فریقین (صوبائی حکومت اُور ایف سی) کی خاموشی پر اِظہار افسوس کرتے ہوئے عدالت عالیہ نے لچک دکھائی ہے‘ کہ اگر پورے قلعہ کو عوام کے لئے نہیں کھولا جا سکتا تو اِس کے کسی ایک حصے تک جزوی طور پر ہی سہی عوام کو رسائی دی جائے۔ 

درخواست گزار کا مؤقف منطقی ہے۔ ایف سی نے حیات آباد میں قبائلی علاقے خیبرایجنسی سے متصل ’صدر دفتر‘ تعمیر کر لیا ہے‘ تو اصولی طور پر قلعہ بالا حصار خالی کر دینا چاہئے کیونکہ ایک تو ’جی ٹی روڈ‘ کے اِس مقام پر ٹریفک کا ہمیشہ ہی سے دباؤ رہتا ہے اور دوسرا قلعہ کی پارکنگ اور حفاظت کے لئے سڑک کے ایک بڑے حصے کو بند کرنا بھی ضروری ہے تو اگر ’ایف سی ہیڈ کوارٹر‘ کو حیات آباد نئے دفتر منتقل کر دیا جائے تو اِس سے نہ صرف اندرون شہر ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی بلکہ ہنگامی یا عام حالات میں متصل لیڈی ریڈنگ ہسپتال سے رجوع کرنے والوں کو سہولت میسر آئے گی جس کے لئے قلعہ کے اطراف میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال تک خصوصی راستے (کوریڈورز) بنائے جا سکتے ہیں۔

پشاور کو قلعہ بالاحصار پشاور کی کئی لحاظ سے ضرورت ہے اور چونکہ یہ حساس معاملہ عدالت عالیہ کے سامنے زیرغور ہے‘ جہاں اِس پورے قضیے (معاملے) کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے تو ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری بھی ہے کہ پشاور سے ہمدردی اور وابستگی کا ثبوت دیتے ہوئے عوامی رائے عامہ سے عدالت کو آگاہ کریں کہ پشاور کا خاص و عام آدمی‘ نئی نسل اور یہاں کے منتخب نمائندے اِس بارے میں کیا سوچ رکھتے ہیں۔ 

اُمید ہے کہ یہ قلعہ فوج کی بجائے سول انتظامیہ کے سپرد کر دیا جائے گا اور ضلعی انتظامیہ کے جو دفاتر شاہی باغ کی اراضی پر تعمیر ہیں‘ اُن تمام تجاوزات کو ہٹا کر ’شاہی باغ‘ کو اُس کا رقبہ واپس مل جائے گا‘ جس سے پشاور کی کم و بیش ’ستر لاکھ‘ سے زائد آبادی کے لئے سبزہ زاروں کی کمی تو پوری نہیں ہوگی‘ لیکن کیا عجب کہ پشاور کو وہ ’شاہانہ رونقیں‘ واپس مل جائیں جب شاہی باغ میں جھنڈوں کے میلے‘ سماجی ادبی محافل‘ مذاکرے چہل قدمی اور کھیل کود جیسی صحت مند سرگرمیوں کا باقاعدگی سے اِنعقاد ایک معمول ہوا کرتا تھا۔ لب لباب ’’بیداری کی لہر‘‘ ہے جس میں اہل پشاور کو ’اپنا پشاور‘ واپس چاہئے اُور بس! 
’’ابھی ہیں کچھ پرانی یادگاریں ۔۔۔ 
تم آنا شہر میرا دیکھنے کو (اظہر عنایتی)۔‘‘
۔
 .... http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2018-02-26
Reclaiming Peshawar

Friday, January 19, 2018

Jan 2018: Weapons and peace in society!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
جان کی اَمان!
حکومتِ پاکستان نے قانون نافذ کرنے والے اِداروں کے علاؤہ ممنوعہ بور کا ’خودکار‘ اسلحہ رکھنے کو ’’ممنوع‘‘ قرار دیا ہے اور اِس سلسلے میں ’چھبیس دسمبر دوہزار سترہ‘ کو جاری کئے گئے حکمنامے کے ذریعے پورے ملک میں ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسینس منسوخ کر دیئے گئے ہیں جبکہ اِن لائسینسوں کی تبدیلی کی حتمی تاریخ رواں ماہ کا اختتام مقرر کی گئی ہے۔ 

وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے اِس انتہائی اقدام کے سب سے زیادہ منفی اثرات خیبرپختونخوا اور ملحقہ قبائلی علاقوں پر مرتب ہوں گے کیونکہ یہاں امن و امان کی صورتحال ملک کے دیگر حصوں کی نسبت مثالی و یقینی نہیں لیکن کیا ممنوعہ بور کا اسلحہ رکھنا اِس بات کی ضمانت ہو سکتا ہے کہ منظم جرائم پیشہ عناصر یا عسکریت پسند اپنی وارداتیں ترک کر دیں گے؟ اگر معاشرے کے ہر شخص کو اپنا دفاع خود ہی کرنا ہے تو پھر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار کس مرض کی دوا ہیں؟ کیا معاشرے میں صرف اُنہی افراد کو محفوظ رہنے کا حق حاصل ہے جو لاکھوں روپے مالیت کا خودکار اسلحہ اور بھاری فیسوں کے عوض انہیں رکھنے کی مالی سکت رکھتے ہیں؟ وہ عام لوگ (ہم عوام) جن کے پاس اسلحہ خریدنے کی مالی سکت ہی نہیں‘ اُن کی جان و مال کا محافظ کون ہے؟ ایسے بہت سے سوالات سنجیدہ غوروخوض کے متقاضی ہیں!

ایک ایسے پاکستان کا تصور کیجئے جو ہر قسم کے اسلحے سے پاک ہو۔ آبادی کے مراکز امن و امان کی مثال ہو۔ شہر ’’مدینۃ الفاضلہ‘‘ ہوں لیکن اِس مشکل کام کی بجائے فیصلہ سازوں نے اِس بات کو زیادہ آسان سمجھ لیا کہ بااثر اور سرمایہ داروں کو ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسینس جاری کر دیئے جائیں اور یوں اسلحہ رکھنا کسی شخصیت کے معاشرے میں اہم (وی آئی پی) ہونے کی نشانی بھی بن گیا!

وفاقی حکومت نے تمام ممنوعہ بور اسلحہ لائسینس رکھنے والوں کو حکم دے دکھا ہے کہ وہ منظورشدہ اسلحہ ڈیلرز یا اسلحہ سازوں کے ذریعے اپنا خودکار اسلحہ تبدیل کروائیں۔ اِس سلسلے میں اسلحہ فروخت کرنے والوں اور اسلحہ سازوں کو بھی حکم دیا گیا تھا کہ وہ متعلقہ ضلعی پولیس آفیسر‘ ڈپٹی کمشنر‘ ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر‘ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ یا پھر پولیٹیکل ایجنٹ سے اجازت لینے کے بعد اسلحہ تبدیلی کریں اور یہ عمل رواں ماہ کے اختتام (31 جنوری2018ء) تک بہرصورت مکمل ہو جانا چاہئے۔ 

حکومت کی جانب سے خودکار بندوق کی قیمت 50 ہزار جبکہ خودکار پستول یا ہینڈ گن کی قیمت 20ہزار روپے مقرر کی گئی۔ اگر خودکار اسلحہ کے مالک مذکورہ متعلقہ حکام میں سے کسی کے دفتر میں اپنا خودکار اسلحہ جمع کرواتے ہیں تو اُنہیں یہ قیمت ادا کی جائے گی۔ تعجب خیز ہے کہ خودکار درآمد شدہ بندوق کی قیمت پانچ سے دس لاکھ کے درمیان تک ہو سکتی ہے لیکن اُسے حکومت کو واپس کرنے کی صورت پچاس ہزار روپے ادا کئے جائیں گے۔ اِسی طرح کون پسند کرے گا کہ وہ ایک سے پانچ لاکھ روپے مالیت کا خودکار پستول بیس ہزار روپے کے عوض حکومت کے حوالے کر دے! 

اسلحہ لائسینسوں کی تبدیلی اور اُن کی ردوبدل کا اختیار ’نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)‘ کو دیا گیا ہے۔ یہ پورا قضیہ اِن دنوں ’پشاور ہائی کورٹ‘ کے دو رکنی بینچ (جسٹس قلندر علی خان اور جسٹس محمد ایوب خان) کے سامنے پیش نظر ہے جنہوں نے ’سترہ جنوری دوہزاٹھارہ‘ کے روز ’وفاقی وزارت داخلہ‘ سے ممنوعہ بور اسلحہ لائسینسوں کو ممنوع قرار ختم کرنے آئندہ دو ہفتوں میں وضاحت طلب کی ہے۔

پاکستان میں قریب 90 ہزار ممنوعہ بور کے خودکار ’اسلحہ لائسینس ہولڈز‘ ہیں لیکن چونکہ اِن لوگوں نے باضابطہ اور قانون کے مطابق اسلحے کی ملکیت رکھنے کے اجازت نامے حاصل کر رکھے ہیں‘ اِس لئے اِنہیں سماج دشمن قرار نہیں دیا جاسکتا۔ جان کی امان چاہتے ہوئے عرض ہے کہ معاشرے میں اسلحہ رکھنے کا رجحان اور طلب کی وجہ وہ افراد (عناصر) ہیں‘ جنہوں نے اسلحہ جرائم اور دہشت گردی کے لئے خرید رکھا ہے اور خیبرپختونخوا و ملحقہ قبائلی علاقوں میں آج بھی ممنوعہ سے انتہائی ممنوعہ اور بھاری ہتھیاروں کی خریداری ناممکن یا مشکل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قبائلی علاقوں کی امتیازی حیثیت تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے تاکہ اسلحے کی فروخت کی یہ منڈیاں اور امکانات ختم کئے جا سکیں۔ یقیناًایک مرحلے پر پہنچ کر پورے پاکستان میں ہر قسم کا اسلحہ ممنوع قرار دینے میں کوئی حرج (مضائقہ) نہیں لیکن اُس سے قبل وفاقی حکومت کو اپنی بنیادی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے ’اسلحے کی خریدوفروخت کے اُس غیرقانونی کاروبار پر پوری قوت سے ہاتھ ڈالنا ہوگا‘ جو اربوں روپے مالیت کا دھندا ہے اور اِس میں ملوث افراد سیاسی اثرورسوخ و غیرمعمولی مالی حیثیت کے مالک ہو چکے ہیں۔ قبائلی اور بندوبستی علاقوں میں انتظامی عہدوں پر فائز سرکاری اہلکاروں کی مالی حیثیت کا اگر احتساب کیا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ ذاتی مفادات کے لئے پاکستان کو غیرمحفوظ بنانے والوں میں کتنے اعلیٰ سرکاری اہلکار شامل ہیں۔ 

ممنوعہ بور کا اسلحہ رکھنے والے اگر رواں ماہ کے اختتام سے قبل اپنا اسلحہ لائسینس ممنوعہ بور سے تبدیل نہیں کراتے تو اُن کے لائسینس منسوخ کرنے جیسے انتہائی اقدام کا فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے جبکہ سانحۂ آرمی پبلک سکول (سولہ دسمبر دوہزار چودہ) کے بعد بڑے پیمانے پر صرف تعلیمی اِداروں کے محافظین ہی کو نہیں بلکہ مالکان اُور اساتذہ کرام کو بھی اسلحہ استعمال کرنے کی خصوصی تربیت اور لائسینس جاری کئے گئے تھے۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ وہ ایک جلدبازی میں کیا گیا فیصلہ تھا جبکہ سیاسی اثرورسوخ رکھنے والوں کو اِس قسم کے کسی موقع غنیمت کی ضرورت نہیں ہوتی اور وہ اراکین اسمبلی کے ذریعے ممنوعہ بور کے خودکار لائسینس حاصل کر لیتے ہیں۔ 

اُنیس سو اٹھاسی سے قومی سیاست میں حصہ لینے والے شاہد خاقان عباسی جب ’اگست دوہزار سترہ‘ میں وزیراعظم بنے تو اُنہوں نے جن اہم مسائل کے بارے میں قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کیا‘ اُن میں ممنوعہ و غیرممنوعہ بور کے اسلحہ لائسینس کا معاملہ بھی شامل تھا اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان ’آرمز فری‘ ملک ہو‘ جہاں اسلحہ صرف اور صرف قانون نافذ کرنے کے اِداروں کے اہلکاروں کے پاس ہونا چاہئے۔ یہ تعمیری اور خوش آئند تصور ہے کیونکہ پاکستان کے تناظر میں بات ہو رہی ہے اور حقیقت یہی ہے کہ اَسلحہ ساخت کے لحاظ سے چاہے ممنوعہ ہو یا غیرممنوعہ‘ بہرصورت اِس کی ملکیت و نمائش ’ممنوع‘ ہونی چاہئے اور یہی امر وسیع بنیادوں پر امن کی ضمانت بن سکتا ہے کہ ہم میں سے ہر خاص و عام‘ کی زبان اور اسلحے کی شرانگیزیوں سے دوسرے محفوظ و مامون رہیں۔
۔

Thursday, January 18, 2018

Jan 2018: Justice for APS

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
سفر در سفر: انصاف کی تلاش!
’سانحہ دَر سانحہ‘ یہ ہے کہ ’سولہ دسمبر دوہزار چودہ‘ سے ’سولہ جنوری دوہزار اَٹھارہ‘ (تین سال ایک ماہ یا ایک ہزار ایک سو ستائیس دن) کے سفر میں ’آرمی پبلک سکول ’اے پی ایس‘ (پشاور)‘ پر دہشت گرد حملے کے حقائق منظرعام پر نہیں آ سکے ہیں! متاثرہ والدین کے زخم تازہ اور غم زدہ خاندانوں کے آنسو خشک نہیں ہو رہے کیونکہ تفتیشی اِدارے ’پراسرار خاموشی‘ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اِس سکوت کو توڑنے کی کوشش میں ’پشاور ہائی کورٹ (عدالت عالیہ)‘ سے رجوع کیا گیا تو دو رکنی بینچ (جسٹس روح الامین اور جسٹس یونس تھیم) نے سولہ جنوری دوہزار اٹھارہ کے روز خیبرپختونخوا حکومت اور صوبائی پولیس کے ادارے کو حکم دیا ہے کہ وہ اکتیس جنوری تک ’سانحۂ اے پی ایس‘ کے حوالے سے ہوئی تحقیقاتی پیشرفت عدالت میں پیش کریں۔‘‘ جسٹس روح الامین نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ’’اے پی ایس حملے سے متعلق تفتیشی عمل کو یہ کہتے ہوئے ’معطل‘ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ یہ حساس معاملہ ہے۔‘ حقیقت تو یہ ہے کہ حساس معاملات زیادہ تفتیش اور تحقیقات کے متقاضی ہوتے ہیں لیکن جس ایک سانحے میں ایک سو سے زائد معصوم بچوں کو قتل کر دیا گیا ہو اور جس انداز میں خاص تعلیمی ادارے کونشانہ بنایا گیا ہو‘ اُس حملے کے جملہ کردار‘ منصوبہ بندی اور عملی جامہ پہنانے میں سہولت کار عوامل کے بارے میں تفصیلات جاننا نہ صرف متاثرہ والدین بلکہ ہر اُس پاکستانی کا حق ہے‘ جس نے بچوں کے اِس ’’قتل عام‘‘ کا دُکھ اپنے دل کے نہایت ہی قریب محسوس کیا اور آج بھی بچوں کی یاد میں اُس کی آنکھیں بھر آتی ہیں۔ ’سانحۂ اے پی ایس‘ کے بعد کئی ہفتے ذرائع ابلاغ اُس بدقسمت دن کی یاد میں شریک رہے۔ قومی سطح پر رونے دھونے کا عمل جاری رہا۔ تفریحی ٹیلی ویژن کے ’مارننگ شوز‘ سے لیکر صحافتی ٹیلی ویژن کے نشرئیوں تک‘ ہر پروگرام کا اختتام حقائق جاننے کے مطالبے پر ختم ہوتا تھا لیکن افسوس کہ ابھی معصوم قبروں پر پڑی ہوئی مٹی پوری طرح خشک بھی نہیں ہوئی کہ اُن قربانیوں کو بھلا دیا گیا‘ جو انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے لئے رہنما ثابت ہو سکتیں تھیں۔ اَصولی طور پر ’سانحۂ اے پی ایس‘ کی برسی کے موقع پر ہی تفصیلی تفتیشی رپورٹ جاری کر دینی چاہئے تھی لیکن شاید یہ سوچتے ہوئے وقت گزارنے کو ترجیح دی گئی کہ دیگر سانحات کی طرح قوم اِسے بھی (جلد یا بدیر) بھلا ہی دے گی!

جسٹس روح الامین کے یہ الفاظ حقائق کی پورے پاکستان کی ترجمانی کرتے ہیں کہ ’’اے پی ایس میں شہید ہونے والے ’قوم کے بچے‘ تھے جنہیں بھلایا نہیں جاسکتا اور قوم کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اب تک متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنے کے لئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں؟‘‘ عدالت عالیہ کے روبرو درخواست گزاروں (اجون خان اور فضل خان) کی جانب سے سینیئر وکیل عبدالطیف آفریدی نے مؤقف پیش کیا کہ ’’سانحۂ اے پی ایس کی بذریعہ ’جوڈیشل کمیشن‘ تفتیش چاہتے ہیں‘ اگر ایسا ممکن نہیں تو پھر نیا مقدمہ (ایف آئی آر) درج کیا جائے اور اگر یہ بھی ممکن نہیں تو پھر کم سے کم متاثرہ خاندانوں کے بیانات ہی قلمبند کئے جائیں۔‘‘ 

سچ تو یہ ہے کہ اب تک متاثرہ خاندان کے کسی ایک بھی فرد کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا اور اِس کوتاہی کی صرف صوبائی ہی نہیں بلکہ وفاقی حکومت بھی یکساں ذمہ دار ہے۔ بنیادی سوال اب بھی وہی ہے کہ اگر حملہ آوروں کی تعداد صرف سات تھی تو اُن پر قابو پانے میں اس قدر وقت کیوں لگا؟ حملہ آور سکول کے اندر گھنٹوں کس طرح دہشت گردی کرتے رہے اور وہ اتنے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات کا باعث کیسے بنے جبکہ قانون نافذ کرنے والے ایک سے زائد اِدارے مبینہ طور پر چند منٹ میں اُن کے سروں پر پہنچ چکے تھے؟ سوال یہ بھی ہے کہ اگر فوج کا اپنا تعلیمی ادارہ اِس قدر غیرمحفوظ تھا تو دیگر تعلیمی ادارے کس طرح سیکورٹی کے اُس کم سے کم معیار پر پورا اُترتے ہیں‘ جہاں ہم انہیں محفوظ قرار دیا جا سکے؟

’سانحۂ اے پی ایس‘ نے پشاور پولیس کی کارکردگی کا پول کھول دیا۔ دہشت گردوں کے سہولت کاروں نے ہدف کے انتخاب سے کئی ہفتوں تک منصوبہ بندی اور بعدازاں حملہ آوروں کو سکول تک پہنچنے کی رہنمائی اور معاونت کو عملی جامہ پہنایا لیکن ہمارے خفیہ ادارے اِس پوری منصوبہ بندی سے لاعلم رہے! اِس کا مطلب تو یہ ہوا کہ دہشت گرد ہمارے تربیت یافتہ اور ہر قسم کے وسائل‘ اختیارات و مراعات رکھنے والوں اہلکاروں سے ’زیادہ منظم‘ ہیں‘ جن کے ’نیٹ ورک (پنجے)‘ ہمارے شہری علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں! 

’سانحۂ اے پی ایس‘ کے بارے میں تفتیش نہ کرنے کا سبب یہ بھی ہے کہ اِس سے پولیس اور بالخصوص خفیہ اداروں کی نااہلی دستاویزی طور پر ظاہر ہو جائے گی۔ دہشت گردوں نے تو جو کچھ ثابت کرنا تھا وہ کرچکے ہیں‘ محل تھا کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اِدارے اپنی صلاحیت‘ اہلیت اور قابلیت ثابت کرتے اور اے کاش کہ ایسا ہوتا۔ متاثرہ والدین یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ عمومی پولیس کے علاؤہ ’انسداد دہشت گردی‘ کے لئے خصوصی تربیت یافتہ دستے اُس بدقسمت دن (سولہ دسمبر دوہزار چودہ) کہاں تھے؟ 

کہیں ایسا تو نہیں کہ پولیس کے چاق و چوبند اور انتہائی تربیت یافتہ اہلکاروں کو اہم شخصیات (وی وی آئی پیز)‘ اُن کے اہل خانہ اور رہائشگاہوں کی سیکورٹی کی حد تک محدود رکھا گیا ہے؟ سوالات کی جو گونج ’عدالت عالیہ‘ میں جا پہنچی ہے اُس میں سرکاری اِداروں کا شرمناک کردار بھی واضح ہے کہ متاثرہ والدین کو اَب تک یہ بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ ’سانحۂ اَے پی اَیس‘ کی تفتیش ’دراصل کس کی ذمہ داری ہے۔‘ صوبائی حکومت خود کو بری الذمہ سمجھتی ہے۔ وفاق معاملے کو صوبائی حکومت کی طرف اُچھال چکا ہے اور خصوصی فوجی عدالتیں جو کہ انسداد دہشت گردی کا فریضہ سرانجام دے رہی ہیں‘ عام آدمی کی دسترس میں نہیں کہ اُن سے کچھ بھی پوچھا جا سکے۔ کیا ’اے پی ایس‘ کے شہیدوں کی قربانیاں رائیگاں تصور کی جائیں؟ کیا متاثرہ خاندانوں کی تسلی و تشفی ہو پائے گی؟ اِنصاف کے منتظر صرف ’سانحہ اے پی ایس کے متاثرین نہیں بلکہ پورا پاکستان ہے!

’’خنجر بیداد کو کیا دیکھتے ہو دم بدم ۔۔۔ 
چشم سے انصاف کی سینے ہمارے دیکھیے۔ (میر تقی میرؔ )‘‘
۔
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2018-01-18

Friday, January 12, 2018

Jan 2018: Health facilities in KP, discussed in court!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
برن یونٹ: آخر کب تک؟
خیبرپختونخوا میں طرزِحکمرانی کا خلاصہ (لب لباب) یہ ہے کہ علاج معالجے جیسی بنیادی ضروریات بھی اب ’عدالت (کورٹ) احکامات‘ کی تعمیل میں فراہم کی جائیں گی! چھ جنوری ’’برن یونٹ‘ ہنوز ندارد‘‘ کے عنوان سے خیبرپختونخوا میں آگ سے جلے ہوئے مریضوں کے لئے ناکافی سہولیات اور جس معیار و مقدار کا ذکر کیا گیا‘ وہ معاملہ ’پشاور ہائی کورٹ‘ تک جا پہنچا ہے! محرک یہ ہے کہ گھریلو تنازعہ سے دل برداشتہ ایک خاتون اندرون شہر ’تھانہ کوتوالی‘ میں داخل ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اُس نے مبینہ طور پر خود کو آگ لگا دی‘ اِس سے قبل کہ موقع پر موجود پولیس اہلکار اُسے روک پاتے مذکورہ خاتون کے جسم کا 98 فیصد جل چکا تھا‘ چونکہ پشاور میں ’آگ سے جلے ہوئے ایسے مریضوں کے علاج کا خاطرخواہ بندوبست نہیں‘ اِس لئے اُسے کئی گھٹنوں (کم و بیش 200 کلومیٹر) کی مسافت پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچایا گیا۔ تاہم لمحۂ فکریہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں صرف چالیس فیصد تک آگ سے جلے مریضوں کا علاج ممکن ہے۔ دہشت گردی سے متاثرہ خیبرپختونخوا میں ’جدید سہولیات پر مبنی برن یونٹ یا ہسپتال‘ کا نہ ہونا مجرمانہ غفلت اور سیاسی فیصلہ سازوں کی غلط ترجیحات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پشاور کی عدالت عالیہ نے اِس صورتحال پر برہمی کے لہجے میں تعجب کا اظہار بھی کیا ہے جس سے اُمید پیدا ہو گئی ہے کہ صوبائی حکمران فوری طور پر اپنی تمام تر توجہ اور مالی وسائل ’برن ہسپتال‘ کی تعمیر کے لئے مختص کر دیں گے!

پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ (جسٹس قیصر رشید اور جسٹس غضنفر خان) نے (دس جنوری کے روز) ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ’برن یونٹ کی عدم دستیابی‘ کے حوالے سے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ درحقیقت زیرسماعت مقدمہ (قضیہ) ’برن یونٹ‘ کا نہیں بلکہ خیبرٹیچنگ ہسپتال (المعروف شیرپاؤ ہسپتال) میں ’نیوروسرجری وارڈ‘ کی سست رفتار تعمیرات سے متعلق ہے‘ لیکن جب متعلقہ اعلیٰ حکام عدالت کے روبرو پیش ہوئے تو جسٹس قیصر نے ضمنی طور پر یہ بات بھی پوچھ لی کہ ’’پشاور میں ’برن ہسپتال‘ کب تک (آخر کب تک) مکمل ہو جائے گا؟‘‘ وہ ایک تلخ حقیقت جس سے سالانہ سینکڑوں مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اُور خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے آگ سے جلے اَفراد کی اَموات کا تناسب بھی اِسی وجہ سے زیادہ ہے کہ اِنہیں علاج معالجے کے لئے سہولیات فوری طور پر میسر نہیں آتیں۔ مقام تشکر ہے کہ عدالت عالیہ نے محسوس کیا ہے کہ ’’خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے مریضوں کو صوبہ پنجاب کے مختلف ہسپتالوں سے رجوع کرنا پڑتا ہے اور سفری و دیگر علاج معالجے کے اخراجات کے علاؤہ بہت سے مریض مسافت کے دورانیئے کو برداشت نہیں کر پاتے اور راستے ہی میں دم توڑ دیتے ہیں!‘‘ 

عدالت کے روبرو گریڈ بیس کے اہلکار ’’محمد عابد مجید‘‘ حاضر تھے‘ جو سولہ مارچ دوہزار سولہ (665 دنوں) سے بطور ’سیکرٹری ہیلتھ خیبرپختونخوا‘ تعینات ہیں اُور انہوں نے پورے اعتماد سے (بناء ہانپتے کانپتے یا شرمندگی و معذرت کے اظہار) عدالت کو بتایا کہ ’جون دوہزار اٹھارہ‘ تک پشاور میں ’برن ہسپتال‘ فعال ہو جائے گا‘ جس کی ’ائرکنڈیشنگ‘ میں تکنیکی مسئلے کی وجہ سے یہ منصوبہ ایک ماہ کی تاخیر سے مکمل ہونے جا رہا ہے۔

خیبرپختونخوا میں جدید سہولیات سے آراستہ ’برن یونٹ‘ کی عدم دستیابی کا معاملہ پہلی مرتبہ ’پشاور ہائی کورٹ‘ کے سامنے زیرغور نہیں آیا بلکہ اِس سے قبل جولائی 2017ء میں عدالت عالیہ نے سیکرٹری ہیلتھ سے استفسار کیا تھا کہ وہ حکومتی کوششوں سے عدالت کو آگاہ کریں۔ یاد رہے کہ اُس وقت عدالت نے ہر ضلعی ہیڈکواٹر کی سطح پر ایک ایک برن یونٹ قائم کرنے کا حکم دیا تھا جس پر سیکرٹری ہیلتھ نے عدالت کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے کہا تھا کہ اِس سلسلے میں کام کا آغاز پہلے ہی سے جاری ہے اور ضلعی ہیڈکواٹر ہسپتالوں سے بستروں کی تعداد اور دستیاب سہولیات طلب کر لی گئیں ہیں۔ تصور کیجئے کہ جولائی دوہزار سترہ سے جنوری دوہزار اٹھارہ تک پانچ ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بھی تاحال اعدادوشمار ہی اکٹھا نہیں ہوسکے ہیں حالانکہ ٹیلی فون اور دیگر برق رفتار مواصلاتی رابطوں کی موجودگی میں دو درجن ٹیلی فون کالز کے ذریعے بھی یہ کام باآسانی سرانجام پا سکتا تھا اور اگر سیکرٹری ہیلتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں مخلص ہوتے تو اب تک پچیس ہفتوں میں پچیس اضلاع کے خود بھی دورے کر کے معلومات اکٹھا کر چکے ہوتے۔ عجب ہے کہ جہاں کہیں سرکاری ملازمین کے اپنے مفادات‘ سہولیات اور مراعات حاصل کرنے کی بات ہوتی ہے تو یہ ’بابو‘ مہینوں کا کام منٹوں میں نمٹا دیتے ہیں لیکن جہاں عام آدمی (ہم عوام) کے مفاد کے لئے کام کرنا ہوتا ہے وہاں مصلحتیں اور تاخیری حربے آڑے آ جاتے ہیں۔

سیکرٹری صحت نے دس جنوری کے روز عدالت عالیہ میں ’آن دی ریکارڈ‘ جو بیان دیا‘ اُس کے مطابق سیدوشریف (سوات) میں چار بستروں پر مشتمل برن یونٹ موجود ہے۔ کوہاٹ میں مقامی رکن قومی اسمبلی کی جانب سے دوکروڑ ساٹھ لاکھ روپے دینے سے ’برن یونٹ‘ بنایا جا رہا ہے جس کا تعمیراتی کام آخری مراحل میں ہے۔ بنوں میں 18 بستروں کا ’برن یونٹ‘ فعال ہے جبکہ مردان میں ’برن یونٹ‘ کے قیام کے لئے غور ہو رہا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں ’برن یونٹ‘ نہیں۔ تیمرگرھ میں ’برن یونٹ‘ تو ہے لیکن عملہ نہیں۔ بقول سیکرٹری ہیلتھ چھوٹے پیمانے پر ایک ’برن یونٹ‘ کے قیام پر 20سے 30 کروڑ روپے لاگت آتی ہے۔ اگر رواں مالی سال کے دوران مالی وسائل دستیاب نہ ہوئے تو آئندہ مالی سال میں ہر ضلعی ہیڈکواٹر کی سطح پر ’برن یونٹ‘ قائم کرنے کے لئے لازمی طور پر مالی وسائل مختص کئے جائیں گے۔‘‘

سیکرٹری ہیلتھ نے جب اپنی فرض شناسی پر مبنی کہانی عدالت کے روبرو سنا رہے تھے تو ججوں کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں‘ اُنہیں ایک منٹ کے لئے یہ بھی بھول گیا کہ جس ’برن یونٹ‘ کے قیام میں جس قدر بھی تاخیر (مجرمانہ غفلت) ہوئی ہے‘ اُس کے لئے ذمہ داروں میں یہی موصوف سیکرٹری ہیلتھ بہ نفس نفیس شمل ہیں‘ جنہوں نے اپنے گھر اور دفاتر کی ضروریات پوری کرنے پر ’برن یونٹ‘ سے زیادہ مالی وسائل خرچ کئے ہیں لیکن عام آدمی (ہم عوام) کے دُکھ کا اِنہیں احساس نہیں۔ دیگر سرکاری اِداروں کی طرح محکمۂ صحت میں بھی ملازمین کی فوج ظفر موج ہے‘ جن کی ماہانہ تنخواہوں اور مراعات پر خیبرپختونخوا میں علاج فراہم کرنے سے زیادہ اخراجات اُٹھ رہے ہیں! عدالت عالیہ نے کمال سادگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیکرٹری ہیلتھ کو ’برن یونٹ‘ منصوبوں کا تاحیات نگران مقرر کردیا ہے اور حکم دیا ہے کہ اگر انہیں ’سیکرٹری ہیلتھ‘ کے عہدے سے ہٹا بھی دیا جائے تب بھی وہی اِن منصوبوں کے نگران بن کر کام کی رفتار کا جائزہ لیتے رہیں! ’’ترے عشق کی اِنتہا چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی
بڑا بے ادب ہوں‘ سزا چاہتا ہوں۔ (علامہ اِقبالؒ )

Thursday, January 11, 2018

Jan 2018: Justice for APS!


ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام

پورا‘ اعزاز: پوری عزت !
سولہ دسمبر دوہزار چودہ کے بدقسمت دن‘ آرمی پبلک سکول (پشاور) پر ہوئے دہشت گرد حملے نے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ باضمیر دنیا کے ہر حساس شخص کو ہلا کر رکھ دیا۔ پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے اور یہ حقیقت آج بھی دنیا کے سامنے رکھنے میں ہمارے فیصلہ ساز ناکام و بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ سانحۂ آرمی پبلک سکول کے بعد ’انسداد دہشت گردی کی قومی حکمت عملی بنائی گئی تو اِس پر عمل درآمد بھی محدود دکھائی دیتا ہے اُور اِس مسئلے پر قومی و صوبائی فیصلہ سازوں کی جانب خاطرخواہ حساسیت کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آ رہا۔ یہی وہ محرک ہے جس کی وجہ سے ’سانحہ آرمی پبلک سکول‘ کے زخم ہنوز تازہ ہیں اور اُن کی آنکھوں سے گرتے بے ترتیب آنسو آج بھی التجا کر رہے ہیں کہ معصوم بچوں کی قربانیوں کو باوقار انداز میں خراج تحسین پیش کیا جائے!



دہشت گردی کا شکار ہونے والے بچوں کی نمائندگی کرنے والے والدین نے عدالت عالیہ (پشاور ہائی کورٹ) سے رجوع کر رکھا ہے تاکہ صوبائی حکومت مذکورہ سانحے کی یاد میں تعمیر کرنے والی یادگار کا افتتاح نہ کرے۔ اِس سلسلے میں عدالت نے ’حکم امتناعی‘ جاری کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو ایسی کسی بھی یادگار کی سرکاری سطح پر رونمائی اُور اِفتتاح سے روک دیا ہے کیونکہ متاثرہ والدین کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت نے جس انداز سے یادگار تعمیر کی ہے‘ وہ محض خانہ پُری ہے جس سے اُن کے بچوں کی قربانیوں کو خاطرخواہ ’خراج تحسین‘ نہیں مل پائے گا اُورعدالت اِس بات سے متفق ہے یا نہیں اِس کا فیصلہ آئندہ چند ہفتوں میں متوقع ہے۔ پشاور ہائی کورٹ کا دو رکنی بینچ جسٹس قیصر رشید خان اور جسٹس محمد غضنفر خان نے ’نو جنوری‘ کے روز ’فضل خان ایڈوکیٹ‘ کی دائر درخواست پر غور کیا‘ جن کا اپنا بیٹا شہزادہ عمر خان ’سولہ دسمبر دوہزارچودہ‘ کے روز شہید ہونے والے طالب علموں میں شامل تھا۔ صوبائی حکومت کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ عدالت کے روبرو پیش ہو کر وضاحت کرے کہ سانحہ اے پی ایس کی یادگار کے لئے جو ’ڈیڑھ کروڑ روپے‘ مختص کئے گئے۔ یہ پوری رقم مذکورہ صرف اور صرف یادگار کی تعمیر پر خرچ کیوں نہیں کی گئی؟ یہ بنیادی سوال اپنے اندر کئی سوالات بھی رکھتا ہے جس سے سرکاری تعمیراتی کاموں کی منظوری کے عمل‘ ترجیحات کی بعدازاں تبدیلی اور صوابدیدی اختیارات کی وجہ سے نظام میں در آنے والی خرابیوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔ مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات کے بعد توقع یہ تھی کہ خیبرپختونخوا میں تبدیلی کا جو سورج طلوع ہوا ہے اُس کے دم کرم سے روائتی بدعنوانی کا باب ختم ہو جائے گا اور بالخصوص ترقیاتی کاموں کے نگران اداروں کا قبلہ درست کر دیا جائے گا لیکن نہ تو حسب وعدہ بلاامتیاز اور احتساب کا کڑا عمل شروع ہو سکا اور نہ ہی انتظامی عہدوں پر سرکاری ملازمین کی مالی حیثیت کے بارے تحقیقات کا آغاز ہوسکا۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ خیبرپختونخوا میں صوبائی سطح پر احتساب سب سے کم ترین ترجیح رکھتا ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ 

صوبائی حکومت نے کئی نادر مواقع ضائع کئے جن سے باآسانی عوام کے نظروں میں بلند مقام حاصل کیا جاسکتا تھا۔ حالیہ کیس میں جسٹس قیصر رشید کے ریمارکس میں چھپا دکھ اور تشویش سے اختلاف ممکن نہیں جنہوں نے کہا کہ ’’آرمی پبلک سکول کے بچوں کی یاد اور ان کی قربانیوں پر پوری قوم شاہد ہے اور جنہیں پورا‘ اعزاز اور پوری عزت ملی چاہئے۔‘‘ اس میں کوئی دو رائے نہیں اور نہ ہی شک کی گنجائش ہے سانحۂ آرمی پبلک سکول کے بچوں کو خراج تحسین اُن کے والدین کی تسلی و تشفی اور پورے وقار سے ہونا چاہئے۔
صوبائی حکومت کی جانب سے بنائی جانے والی مذکورہ یادگار پلاسٹک اور فائبر گلاس مٹیریل سے بنائی گئی ہے‘ اور یہ دونوں میٹریل کم قیمت بھی ہیں اور اِن کی پائیداری بھی کم عرصے کے لئے ہوتی ہے۔ جس سے یہ عمومی تاثر اُبھرا ہے کہ اِس تعمیراتی کام کے لئے مختص ’ڈیڑھ کروڑ روپے‘ کی رقم کا بڑا حصہ خردبرد ہوا ہے۔ عدالت کے سامنے پیش کئے جانے والے حقائق سے معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ یادگار کی تعمیر کے لئے تخمینہ جات پر نظرثانی کرتے ہوئے اِسے ڈیڑھ کروڑ روپے سے چھیساسٹھ لاکھ اور بعدازاں لائبریری کے لئے کتابوں کی خرید کو بھی یادگار کے تعمیراتی منصوبے کا حصہ بنادیا گیا اور یوں صوابدیدی اختیار کا استعمال کرتے ہوئے یادگار سے زیادہ پیسے یعنی چوراسی لاکھ روپے کی کتب خریدنے کی منظوری دے دی گئی۔ وہ ترقیاتی کام جو اپنی اصل شکل میں کابینہ اور اسمبلی سے منصوبہ ہوا‘ اُس میں بعدازاں ردوبدل نہیں ہونا چاہئے تھا۔ افسوسناک امر یہ بھی ہے کہ متاثرہ بچوں کے والدین نے ’معلومات تک رسائی‘ کے قانون کے ذڑیعے اِس منصوبے کی تفصیلات طلب کیں تو متعلقہ ادارے نے اُن تفصیلات کا تبادلہ کرنے سے بھی انکار کیا‘ جس سے متعلقہ والدین میں تشویش (شکوک و شبہات) کا پیدا ہونا ایک فطری عمل تھا۔ شیرشاہ سوری روڈ پر ’آرکائیوز لائبریری‘ کے سامنے تعمیر اِس یادگار سے متعلق آئندہ سماعت ’بارہ جنوری‘ کو ہوگی۔



سانحۂ ’اے پی ایس‘ کی یادگار تعمیر نہ بھی ہوتی تو اُن پھول جیسے بچوں اور فرض شناس اساتذہ کی ’’یاد‘‘ پشاور اور پاکستان کے دل سے محو نہیں ہو سکتی تھی‘ چہ جائیکہ صوبائی حکومت اِس غم اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے اور اس میں برابر کی شریک ہونے کی بجائے ملزم بن گئی ہے اور بدقسمتی سے ایک ایسے معاملے کو بھی متنازعہ بنادیا گیا ہے جو خالصتاً انسانی ہمدردی اور پوری قوم کے جذبات سے متعلق ہے۔ اصولی طور پر متاثرہ والدین اور سکول انتظامیہ کو یادگار کی تعمیر کے عمل میں شریک ہونا چاہئے تھا۔ تہہ در تہہ مشاورت کا عمل ہوتا۔ سکول ہی کے بچوں کے ذریعے ڈیزائن اور اُس کے خدوخال طے ہوتے تو کسی کو بھی عدالت سے رجوع‘ حکم امتناعی حاصل کرنے اور اِس بارے میں غلط فہمی نہ ہوتی۔ 

سوشل میڈیا جیسے قیمتی اور مفت وسیلے کے استعمال کا امکان بھی اپنی جگہ موجود تھا‘ جس کے ذریعے پورے ملک سے ’تجاویز‘ حاصل کی جاسکتی تھیں لیکن شاید خود کو ’عقل کل‘ سمجھنے والوں کو اب احساس ہو چکا ہوگا کہ اُن کے ساڑھے چار سالہ اقتدار میں خیبرپختونخوا آج بھی ’اچھے اور مثالی طرز حکمرانی (گڈگورننس) سے اتنے ہی فاصلے پر ہے‘ جہاں مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات سے قبل کھڑا تھا!

Saturday, December 9, 2017

Dec 2017: Development vs the Rapid Bus Project & Peshawar!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
فتوحات و کارکردگی کا اِحتساب!
’پاکستان تحریک اِنصاف‘ کی قیادت میں ’خیبرپختونخوا حکومت‘ کو حال ہی میں حاصل ہونے والی ’’آئینی فتح‘‘ کے ساتھ چند اخلاقی ذمہ داریاں بھی جڑی ہیں‘ جن کے بارے میں حساس و دردمند مؤقف سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ 

پشاور ہائی کورٹ نے ’آٹھ دسمبر‘ کے روز ’ریپیڈ بس ٹرانزٹ (آر بی ٹی)‘ منصوبے کو ’’آئینی‘‘ قرار دیا لیکن اِس نتیجے پر پہنچنے میں عدالت عالیہ کو کم و بیش ایک ماہ کا عرصہ لگا۔ عدالت سے رجوع کرنے والے جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) کے رہنما ’مولانا امان اللہ حقانی‘ نے ’’خیبرپختونخوا‘ اربن ماس ٹرانزٹ ایکٹ 2016ء‘‘ کو غیرقانونی اُور مذکورہ قانون کے تحت بننے والے ’بس منصوبے‘ کو آئین پاکستان کی ’شق 140-A‘ سے متصادم قرار دینے کی ہر ممکن کوشش میں جو بھی دلائل دیئے اُن سے جہاں قانون ساز رکن اسمبلی کی آئین شناسی عیاں ہوئی ہے وہیں سیاسی تعصب کی وجہ سے ’’ضعفِ فہم‘‘ بھی ڈھکا چھپا نہیں رہا۔ اصولی طور پر خیبرپختونخوا قانون ساز اسمبلی کے اراکین بالخصوص جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) سے تعلق رکھنے والوں کو تحریک انصاف کا شکرگزار ہونا چاہئے کہ اُن کے دور حکومت میں جب وزیراعلیٰ اکرم خان درانی پشاور سمیت پورے صوبے کے ترقیاتی فنڈز اپنے آبائی علاقے و انتخابی حلقے بنوں کی طرف بہا لے گئے تو کیا صوابدیدی اختیارات کی نہایت ہی بدترین عملی مثال اخلاقی اور آئینی اقدام تھا؟ کیا یہ المیہ (وحقیقت) نہیں کہ بانوے یونین کونسلوں‘ صوبائی اسمبلی کے گیارہ حلقوں اور قومی اسمبلی کی چار نشستیں رکھنے والے پشاور کے لوگ پینے کے صاف پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں (لیکن ذمہ دار کون ہے)؟ موسم سرما کے آغاز سے شروع ہونے والی گیس کی قلت (پریشر کی کمی) کی وجہ سے اندرون و بیرون پشاور کے رہنے والوں کو جن پریشانیوں کا سامنا ہے‘ اُن کے لئے الگ خیال سے مضمون باندھا جائے گا لیکن برسرزمین حقیقت کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے کہ تحریک انصاف کو واضح اکثریت اور گیارہ میں سے دس صوبائی اسمبلی کی نشستیں دینے کے باوجود بھی پشاور کی محرومی اور مسائل میں کمی نہیں آئی۔ ’نمایاں تبدیلی‘ اگر آئی ہے تو تحریک انصاف کے نامزد اُمیدواروں کی زندگیوں اور مالی حیثیت میں آئی ہے جنہیں مئی دوہزار کے عام انتخابات سے قبل بھی کوئی نہیں جانتا تھا اور آج بھی اُن کا نام لینے یا کارکردگی کو سراہنے والوں کی تعداد تحریک انصاف کے داخلی حلقوں تک ہی محدود ہے!

سچ تو یہ ہے کہ مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں پشاور نے تعصب کا مظاہرہ نہیں کیا اُور یہی وجہ تھی کہ تبدیلی کے غیرمقامی اور مقامی گمنام علمبرداروں کو دل کھول کر ووٹ دیئے گئے۔ اندرون پشاور کے حلقہ این اے ون پر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ’’نوے ہزار پانچ سو‘‘ ریکارڈ ووٹ حاصل کئے جبکہ اُن کے مدمقابل متواتر کامیاب رہنے والے عوامی نیشنل پارٹی کے نامزد الحاج غلام احمد بلور نے چوبیس ہزار چارسواڑسٹھ ووٹ لئے تھے لیکن عمران خان نے مڑ کر پشاور کی طرف نہیں دیکھا اُور حقوق کی ادائیگی تو دور کی بات پشاور نے اُن سے جس دلی محبت کا اظہار کیا‘ اُس کی قدر کرنے کی انہیں توفیق نصیب نہ ہو سکی!

عدالت عالیہ کے روبرو ’پشاور بس منصوبے‘ پر اعتراضات کا دائرہ صرف آئینی نہیں تھا بلکہ اِس میں تکنیکی اعتبار سے بھی کئی ایسے سوالات اُٹھائے گئے جن کی قریب ایک ماہ تک ذرائع ابلاغ میں رپورٹنگ سے یہ تاثر عام ہوا کہ جیسے یہ منصوبہ (میگا پراجیکٹ) ’تکنیکی اعتبار سے بھی غلط فیصلہ‘ ہے۔ اعتراض کرنے والوں نے اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور بالخصوص اگر بنوں و مردان میں بیٹھ کر پشاور کی طرف نگاہ کرنے والوں کے ضمیر زندہ ہوتے تو کم سے کم خاموشی ہی اختیار کر لیتے لیکن جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) اور عوامی نیشنل پارٹی نے تحریک انصاف کی سیاسی مخالفت میں اُن حدود کو بھی عبور کیا جن سے اُن کی ’پشاور دشمنی‘ عیاں ہو گئی ہے۔ پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ جس کی سربراہی چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کر رہے تھے اور اُن کے ساتھ جسٹس یونس تھیم نے ’بس منصوبے‘ کے خلاف ’’دلائل‘ اعتراضات اُور تحفظات‘‘ سنے لیکن اَن سنے نہیں کئے بلکہ سماعت (اِس موقع) کو غنیمت جانتے ہوئے بہت سے ضمنی موضوعات کو بھی چھیڑا جیسا کہ پشاور کی ٹریفک کے معاملات‘ جو نہایت ہی پیچیدہ حالت میں بحران کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ 

عدالت عالیہ نے پشاور ٹریفک پولیس کے اعلیٰ اہلکاروں کو طلب کیا جنہوں نے تسلی بخش انداز میں وہ متبادل ٹریفک حکمت عملی بیان کی‘ جو مذکورہ بس منصوبے پر تعمیراتی کام شروع ہونے سے پہلے وضع کر لی گئی تھی لیکن اگر ’مین جی ٹی روڈ‘ کو کھودنے سے قبل ’رنگ روڈ‘ کی تعمیر و توسیع مکمل کر لی جاتی تو ٹریفک کا دباؤ بڑی حد تک کنٹرول کیا جاسکتا تھا۔ علاؤہ ازیں بس منصوبے کے لئے مرکزی شاہراہ کا انتخاب کرنے سے وسائل کا ضیاع ہوا ہے اور پہلے سے موجود ایک انتہائی اچھی حالت میں سڑک کو اکھاڑ دیا گیا ہے۔ نجانے ہمارے فیصلہ سازوں اتنی دانش و بصیرت اچانک کیسے کوٹ کوٹ کر بھر جاتی ہے کہ حکومت میں آنے سے قبل اُنہیں سرکاری وسائل کی لوٹ مار اور اُن کا اسراف دکھائی دیتا ہے لیکن برسراقتدار آنے کے بعد وہ بھی ماضی کے حکمرانوں کی طرح ’افسرشاہی‘ کے ہاتھوں گمراہ ہو جاتے ہیں! چغل پورہ سے حیات آباد تک متبادل راستہ بنانے کی بجائے پہلے سے موجود ایک ہی سڑک کا انتخاب کرنا کہاں کی دانشمندی ہے؟ بس منصوبے کی بجائے میٹرو ٹرین منصوبہ کیوں نہیں جو کہ ماحول دوست‘ برق رفتار‘ موسمی اثرات سے نسبتاً محفوظ اور کم لاگت میں زیادہ مسافروں کو ایک مقام سے زیادہ تک لیجانے کی صلاحیت (گنجائش) کا حامل ہو سکتا ہے؟ 

خطے کے ممالک (بھارت‘ چین اور ایران) کی مثالیں موجود ہیں جبکہ ترقی یافتہ دنیا کے سبھی بڑے شہروں میں میٹرو ٹرین پر انحصار کیا جا رہا ہے۔ خدا جانے جب ہمارے سیاستدان بیرون ملک دوروں پر جاتے ہیں تو اپنی سمجھ بوجھ پاکستان ہی میں کیوں چھوڑ جاتے ہیں کہ انہیں بظاہر ترقی کے درپردہ محرکات اور حکمت عملیاں دکھائی و سجھائی نہیں دیتیں! بات اتنی مشکل نہیں کہ سمجھ میں نہ آئے اور شہری سہولیات میں حسب حال و مستقبل کی ضروریات کے مطابق ترقی سے متعلق علوم بھی اتنے پیچیدہ (راکٹ سائنس) نہیں کہ اِنہیں تجرباتی طور مراحل سے گزارنے پر اربوں روپے خرچ کر دیئے جائیں!

بس منصوبے سے متعلق سماعتوں کے دوران ٹریفک پولیس کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی کہ ’ہیوی ٹریفک‘ کا دباؤ رنگ روڈ پر منتقل کر دیا جائے گا لیکن خود ٹریفک پولیس کی جانب سے اعتراف بھی کیا گیا کہ پشاور میں پچاس فیصد ماحولیاتی آلودگی کا سبب ’ہیوی ٹریفک‘ ہے تو کیا اِس کا مستقل و پائیدار حل نہیں ہونا چاہئے؟ 

پشاور بس منصوبے کے نگران (پراجیکٹ منیجر) امین الدین خان کو قومی احتساب بیورو (نیب) میں بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا ہے اور یہ بات پشاور ہائی کورٹ کے لئے بھی تشویش کا باعث تھی جبکہ ایک موقع پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے اُن سے پوچھا کہ کیا وہ ’پشاور بس منصوبے‘ سے جڑی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل ہوں گے جبکہ اُنہیں ’نیب‘ کا بھی سامنا ہے لیکن جب اُن کی جانب سے تسلی بخش نہ ملا تو عدالت نے حکم دیا کہ اِس میگاپراجیکٹ کے لئے نیا نگران مقرر کیا جائے اور جب تک نیا نگران مقرر نہیں ہوتا‘ اُس وقت تک ’پشاور کا ترقیاتی ادارہ (پی ڈی اے) کا سربراہ (ڈائریکٹر جنرل) اِس منصوبے کی نگرانی کرے گا۔ کسی سیاسی حکومت کے لئے مالی معاملات میں شفافیت نہایت ہی اہم اور کلیدی ضرورت ہوتی ہے‘ اُمید کی جا سکتی ہے کہ نہایت ہی تاخیر سے شروع ہونے والا ’پشاور بس (آر بی ٹی) منصوبہ‘ تحریک اِنصاف کی ساکھ اور پشاور میں مقبولیت کے لئے سہارا ثابت ہوگا۔
۔

Monday, June 19, 2017

June2017: Security of VVIPs challenged, costing us too much!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
خیر کی توقعات؟
خیبرپختونخوا میں اَمن و امان کی صورتحال میں غیرمعمولی بہتر (تبدیلی) کا دعویٰ کرنے والوں کا عمل ’’قول وفعل میں تضادات کا مجموعہ‘‘ ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو ’اہم شخصیات (وی آئی پیز اُور وی وی آئی پیز) کی ذاتی حفاظت کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد یوں تعینات نہ ہوتی۔ اِس بیک وقت تشویشناک‘ مضحکہ خیز اور خودغرضی پر مبنی طرز عمل کی جانب توجہ دلاتے ہوئے معروف وکیل ’محمد خورشید خان‘ نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے تاکہ صوبائی حکومت اور بالخصوص محکمۂ داخلہ‘ پولیس اُور قانون نافذ کرنے والے اِداروں کے دیگر فیصلہ سازوں سے جواب طلبی کی جاسکے کہ آخر کیا جواز (ضرورت) ہے کہ ’خیبرپختونخوا میں قریب ’پانچ ہزار پانچ سو‘ پولیس اہلکار صرف اور صرف گنتی کے اہم شخصیات کے حوالے کر دیئے گئے ہیں جو اُن کی سیکورٹی کے نام پر شخصی ملازم (غلام) بنے ہوئے ہیں جو اپنے آقاؤں کی جان و مال کے محافظ بناتے اجتماعی عوامی مفادات کی قربانی دے دی گئی ہے۔‘‘

منطقی مؤقف ہے کہ پولیس اہلکاروں کی بھرتیوں اُور تعیناتیوں کا ’اَصل (مرکزی و بنیادی) مقصد‘ عام آدمی کی جان و مال کی حفاظت اور قانون نافذ کرنا ہوتا ہے لیکن پولیس اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد سے غیرضروری اِستفادے سے نہ صرف اِس اہم فورس کے اہلکار ایک بے معنی کام (ایکسرسائز) میں مصروف (کا حصہ) ہیں اُور دوسرا سرکاری خزانے سے اَدا ہونے والی تنخواہوں اُور مراعات کے عوض بااثر سیاسی و غیرسیاسی شخصیات کو اہم قرار دیتے ہوئے اِس قدر بیجا مصرف کہاں کا انصاف ہے؟ اپنی نوعیت کے اِس انوکھے مقدمے کے پیش ہوتے ہی پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اُور جسٹس عبدالشکور پر مبنی عدالت نے متعلقہ فریقین (بوساطت چیف سیکرٹری صوبائی حکومت) کو طلب کرلیا کہ وہ ڈویژنل بینچ (عدالت) کے روبرو حاضر ہو کر اپنا مؤقف (جواز) پیش کریں۔

بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر ’اہم شخصیات‘ کو کسی بھی وجہ سے ’حفاظت (سیکورٹی)‘ کی ضرورت ہے تو چونکہ اِن اہم شخصیات کا تعلق معاشرے کے غریب غرباء سے نہیں اور عجیب حسن اتفاق ہے کہ ہمارے اردگرد کوئی ایک بھی ’اہم شخص (وی وی آئی پی)‘ ایسا نہیں جس کی (معلوم) مالی حیثیت مشکوک نہ ہو۔ عوام کے دکھ درد کا رونا رونے اور مگرمچھ کے آنسو (ٹسوے) بہانے والوں کی مہارت ملاحظہ کیجئے کہ کس طرح نہایت خاموشی و رازداری سے ایک دوسرے کو نوازتے ہیں! اِن صاحبان ثروت کے اردگرد درجنوں کی تعداد میں اُن کے ذاتی ملازمین منڈلاتے تابع فرمان رہتے ہیں تو ایسی صورت میں ’اضافی سیکورٹی‘ کی بھلا ضرورت ہی کیا ہے؟ اُور اگر ضرورت ہے تو پھر ’وی وی آئی پیز‘ کو اپنے ہی مالی وسائل سے اِس کا بندوبست کرنا چاہئے۔

لائق توجہ امر یہ بھی ہے کہ اگر فیصلہ سازی کے منصب پر فائز کرداروں نے ’وی وی آئی پیز‘ کا تشخص برقرار رکھنا ہی ہے تو پھر ایک الگ سیکورٹی فورس کیوں تشکیل نہیں دی جاتی جو صرف اُور صرف اِن ’نام نہاد (خودساختہ)‘ وی وی آئی پیز کے لئے مخصوص ہو۔

عوام کے نام پر بھرتی کئے جانے والے پولیس اہلکاروں اور قومی وسائل کی بندربانٹ کسی بھی صورت ’امانت و دیانت‘ کے اصولوں (کسوٹی) پر پورا نہیں اُترتی۔ اِسی مقدمے کی ذیل میں اگر ’پشاور ہائی کورٹ‘ یہ جواب بھی طلب کرے کہ صوبائی وسائل سے کن کن اور جن جن اراکین قومی اسمبلی کو ’سیکورٹی‘ فراہم کی جا رہی ہے اور شخصی سیکورٹی کے علاؤہ وہ کون کون سے ’وی وی آئی پیز‘ ہیں کہ جن کی رہائشگاہوں پر مستقل پولیس اہلکار تعینات ہیں تو مزید دلچسپ حقائق اور حیران کن اعدادوشمار سامنے آئیں گے۔ تحریک انصاف نے مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات سے قبل خیبرپختونخوا کے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ماضی کی روائتی سیاسی جماعتوں کی مالی و انتظامی بدعنوانیوں کا باب ہمیشہ کے لئے بند کر دے گی لیکن عرصہ چار سال (مئی دوہزار تیرہ سے جون دوہزار سترہ تک) ایسا کچھ بھی عملاً دیکھنے کو نہیں ملا!

کوئی یقین کرے یا نہ کرے لیکن تحریک انصاف کی قیادت کا دعویٰ ہے کہ چار سال میں جادوئی طور پر ’خیبرپختونخوا پولیس کو غیرسیاسی‘ کر دیا گیا ہے لیکن عام آدمی (ہم عوام) کے نکتۂ نظر سے تبدیلی صرف اور صرف بیانات کی حد تک محدود ہے وگرنہ تھانہ کلچر اور پولیس کے اعلیٰ و ادنیٰ اہلکاروں کا مزاج و کارکردگی ’جوں کی توں‘ برقرار ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ چار سال کا وقت ضائع کر دیا گیا جس دوران پولیس کی صفوں (بھیس) میں کالی بھیڑوں کا صفایا سزا و جزأ کے ذریعے ممکن تھا اور اگر اختیارات و خودمختاری کے ساتھ‘ محکمانہ سطح پر احتساب بھی متعارف کرا دیا جاتا کہ ہر پولیس اہلکار کی مجموعی تنخواہوں اور برسرزمین مالی حیثیت (اثاثوں) کے بارے چھان بین کا عمل شروع ہوتا تو کیا ہی بات ہوتی!

کھلی حقیقت ہے کہ اضلاع میں دہائیوں سے تعینات پولیس اہلکاروں نے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے کاروباری و ذاتی مفادات کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے اور یہ ’پیٹی بند‘ اتنے ’طاقتور و متحد‘ ہیں کہ عام آدمی اُن کے سامنے آج بھی بے بس و لاچار دکھائی دیتا ہے!

ترجیحات اور خیر اندیشی ملاحظہ کیجئے کہ صوبائی دارالحکومت کے لئے پولیس اہلکاروں کی کل تعداد 6 ہزار 200 ہے جن میں سے 1 ہزار 529 اہم شخصیات کے حوالے ہیں! عجیب منطق ہے کہ اِسی ضلع پشاور میں صرف 25 ’وی وی آئی پیز‘ کے ہمراہ 178 پولیس اہلکار ’شاہانہ مزاج‘ کی تسکین کا سامان ہیں جبکہ ایک ہزار پانچ اہلکار اہم شخصیات کی رہائشگاہوں یا حکومتی دفاتر پر الگ سے تعینات ہیں۔ لب لباب یہ ہے کہ پشاور کے لئے 6200 پولیس اہلکاروں میں سے صرف 3 ہزار ہی باقی بچتے ہیں جن کے کندھوں پر ذمہ داری ہے کہ قریب ستر لاکھ کی آبادی کے شہر کو ہرقسم کے داخلی و خارجی خطرات سے محفوظ رکھیں!

پشاور میں حسب آبادی تھانہ جات اور پولیس اہلکاروں کی افرادی تعداد کون بڑھائے گا؟ اعدادوشمار چیخ چیخ کر گواہی دے رہے ہیں کہ خیبرپختونخوا پولیس کے وسائل و افرادی قوت سے خاطرخواہ استفادہ نہیں ہو رہا۔ ملاکنڈ میں 271‘ مردان میں 172‘ ڈیرہ اسماعیل خان میں 52‘ ایبٹ آباد میں 59‘ کوہاٹ میں 38‘ ہنگو میں 10‘ لوئر دیر میں 101 اور کرک میں 9 پولیس اہلکاروں کا کام صرف اور صرف ’اہم شخصیات‘ کی حفاظت ہے! علاؤہ اَزیں ڈھیروں ڈھیر ’اہم شخصیات‘ کی حفاظت کرنے والے ہزاروں پولیس اہلکار اِس بات کو ’اِستحقاق‘ سمجھتے ہیں کہ وہ ’خانصاحب بہادروں‘ کی آمدورفت کے موقع پر سڑکیں بند کر دیں‘ جس سے عام آدمی (ہم عوام) کے لئے غیرمعمولی مشکلات پیدا ہوتی ہیں! کیا ’پشاور ہائی کورٹ‘ ایک ایسی گھتی سلجھا پائے گی‘ جس کا بنیادی تعلق ’احساس اور ضمیر‘ سے ہے اور اِن جیسے بہت سے لطیف محسوسات کی نجانے کب سے موت ہو چکی ہے!

Sunday, April 2, 2017

Apr2017: Residential and Commercial Boundaries!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
حدود و قیود!
اہل پشاورکے لئے ’شہری زندگی‘ کی خوبصورتی جیسی اصطلاح کا مفہوم واضح نہیں۔ رہائشی علاقوں میں تجارتی مراکز کے قیام سے شہر کا کوئی ایک حصہ بھی محفوظ نہیں اور عجیب صورتحال یہ ہے کہ ’شہری ترقی‘ کے نام پر ایک سے زیادہ سرکاری اداروں کی موجودگی کے باوجود بھی رہائشی علاقوں کے رہنے والوں کو کم سے کم ذہنی سکون اور احساس تحفظ حاصل نہیں! یہ معاملہ عدالت میں بھی زیرسماعت ہے جہاں سے ملنے والے واضح احکامات کے باوجود‘ بطور تجربہ (ٹیسٹ کیس) یونیورسٹی ٹاؤن میں تجارتی سرگرمیاں ختم نہیں جا سکیں اور اِس بے قاعدگی کا نوٹس لیتے ہوئے ’پشاور ہائی کورٹ‘ نے تیس مارچ کے روز کئی حکومتی اعلیٰ حکام کو طلب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر ’چیف سیکرٹری’ سیکرٹری لوکل کونسل بورڈ‘ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر پشاور‘ عدالت کے روبرو پیش ہو کر (تجاہل عارفانہ پرمبنی اپنے طرزعمل کی) وضاحت نہیں کریں گے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اب تک یونیورسٹی ٹاؤن (رہائشی علاقے) میں جاری تجارتی سرگرمیاں ختم نہیں ہو سکی ہیں تو اِن تمام افراد کے خلاف توہین عدالت جیسی دفعات کے تحت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ عدالت کی جانب سے مسلسل احکامات نظرانداز کرنے کا معاملہ صرف یونیورسٹی ٹاؤن کی حد تک ہی محدود نہیں بلکہ پشاور کے قبرستانوں میں تجاوزات اور قبضہ مافیا کی کارستانیاں بھی واضح عدالتی احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں ہیں! لیکن چونکہ عدالت کی اپنی آنکھیں اُور کان نہیں‘ اِس لئے جب تک کوئی شخص اِن بے قاعدگیوں سے متعلق عدالت سے رجوع نہیں کرے گا یا پھر ذرائع ابلاغ مفاد عامہ کے ایسے کسی معاملے کو پوری قوت سے بار بار نہیں اُٹھائیں گے اُس وقت عدالت حرکت میں نہیں آتی! اگر ’پشاور ہائی کورٹ‘ قبرستانوں میں تجاوزات کے حوالے سے اپنے ہی احکامات پر عمل درآمد کا جائزہ لے اور معزز جج صاحبان زحمت کرتے ہوئے قبرستانوں کا دورہ کریں تو اُنہیں صرف حقیقت حال ہی نہیں بلکہ برسرزمین حقائق کی سنگینی کا بھی اندازہ ہو جائے گا کہ کس طرح سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی سے پشاور کے قبرستانوں کی اراضی ہڑپ کر لی گئی ہے! کس طرح جنازہ گاہ اور چھوٹی مساجد و مدارس کی آڑ میں سینکڑوں قبریں مسمار کر کے رہائشی کالونیاں بنا لی جاتی ہیں‘ جنہیں قانونی طور پر جائز بنانے کے لئے اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹرز کے ترقیاتی فنڈزسے گلیاں کوچے نالے نالیاں ٹیوب ویل اور بلدیاتی اداروں کے دفاتر قائم کئے جاتے ہیں۔

وزیرباغ کی اراضی بطور خاص جس طرح قبضہ کی گئی اور آج وزیرباغ کی جو حالت ہے‘ اُس سمیت پشاور کے جملہ باغات کا ازخود نوٹس لینا تو بنتا ہے کہ جنہیں کمرشل کرنے کے نام پر ایک خاص جماعت سے تعلق رکھنے والوں کو اجارے پر دے دیا گیا!

پشاور کے سیاسی حکمرانوں نے انتخابی سیاست اور دیگر ذاتی مفادات کو عزیز رکھا اور نتیجہ سب کے سامنے ہے تو جہاں عدالت سرکاری اہلکاروں کی کارکردگی کا احتساب کر رہی ہے تو وہیں پشاور کے ماضی و حال کے سیاسی و بلدیاتی فیصلہ سازوں کے اثاثوں اور مالی حیثیت کا حساب کتاب بھی طلب کیا جائے تو پوری کہانی سمجھ میں آ جائے گی! یونیورسٹی ٹاؤن کے رہائشی علاقے میں غیرسرکاری تنظیموں کے دفاتر‘ تعلیمی ادارے اُور علاج معالجے کے مراکز ازخود قائم نہیں ہوئے‘ کہیں نہ کہیں سے اجازت اور کہیں نہ کہیں سیاسی دباؤ کی وجہ سے چشم پوشی کی گئی ہے۔ اِس معاملے کی سنجیدگی کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے 4 رکنی بینچ جس کی قیادت ’جسٹس وقار احمد سیٹھ‘ کر رہے ہیں نے 4ماہ کا مزید وقت دیا تھا کہ یونیورسٹی ٹاؤن کی حدود میں جاری تمام کمرشل سرگرمیاں ختم کرائی جائیں اور یہ عرصہ بہت تھا لیکن اگر کام کیا جاتا۔ عدالتی احکامات کو خاطر میں نہ لانے والوں کی نیت پر تو شک نہیں کیا جاسکتا البتہ اُن کے عمل سے صاف ظاہر ہے کہ کمرشل سرگرمیوں کے عوض بھاری ماہانہ کرائے وصول کرنے والوں کے مفادات کا تحفظ کیا گیا ہے تو کہیں کمرشل سرگرمیاں جاری رکھنے کی رعایت دے کر بھی کچھ نہ کچھ ضرور کمایا گیا ہے‘ جو یقیناًاتنا زیادہ ضرور ہے کہ ’توہین عدالت‘ کے ارتکاب جیسا خطرہ بھی مول لینے میں قباحت محسوس نہیں کی گئی۔

مسئلہ بیوروکریسی (افسرشاہی) کے شاہانہ مزاج کا ہے‘ جنہیں کسی کام کا حکم ملنا اُور پھر اس کی تکمیل کی توقع رکھنے والے اگر ماضی کی مثالیں ذہن میں رکھتے تو یوں عدالت کا وقت برباد نہ ہوتا۔ عوام الناس کی نظر میں نہ تو قوانین کی اہمیت باقی رہی ہے‘ جس میں خواص کو رعائت دی جاتی ہے اور اِن قوانین و قواعد کا اطلاق صرف اور صرف عام آدمی پر ہوتا ہے۔ قوانین اور قواعد کی تشریح کرنے والا عدالتی نظام کی فعالیت پر بھی سوالیہ نشان لگ چکا ہے‘ جس کے وابستہ عام آدمی کی توقعات پوری نہیں ہو رہیں! کیا کسی نے سوچا کہ جو افسرشاہی ’پشاور ہائی کورٹ‘ کے ’4 رکنی ڈویژنل بینچ‘ کو خاطرمیں نہیں رہی اُس کی نظر میں کسی عام آدمی (ہم عوام) کی بطور سائل وقعت ہی بھلا کیا ہوگی!

تصور کیجئے کہ پشاور ہائی کورٹ نے 30 اکتوبر 2013ء کو ایک حکم دیا تھا کہ پشاور کے رہائشی علاقوں بالخصوص یونیورسٹی ٹاؤن کی حدود میں ہرقسم کی تجارتی (کمرشل) سرگرمیاں ختم کر دی جائیں لیکن ایک طویل عرصہ اور سماعتوں کی تاریخ پر تاریخ تبدیل ہونے کے باوجود بھی ایسا نہیں ہوسکا تو ایسی عدالت کا وقار اور ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے! یقیناًاُس تمام افسرشاہی کا احتساب ہونا چاہئے جو تیس اکتوبر دوہزار تیرہ سے آج تک پشاور پر حکم تو چلاتی رہی لیکن اُس نے عدالتی احکامات کو خاطرخواہ اہمیت نہیں دی۔ سرکاری اداروں کو باسہولت دفاتر اور ضرورت سے زیادہ اختیارات حاصل ہیں۔ تنخواہوں اور مراعات بھی باقاعدگی سے وصول کی جا رہی ہیں تو پھر کام کیوں دکھائی نہیں دیتا۔ بات صرف یونیورسٹی ٹاؤن میں جاری کمرشل سرگرمیاں ختم کرنے کی حد تک کیوں محدود سمجھ لی گئی ہے؟

اندرون شہر کی تنگ گلی کوچوں میں تعمیر ہونے والے کثیرالمنزلہ تجارتی مراکز‘ دکانیں اور مارکیٹیں کیا ’بلڈنگ کوڈز‘ کی خلاف ورزی نہیں؟ پیپل منڈی جیسا تجارتی مرکز کیا رہائشی علاقے کے وسط میں نہیں اُور ’ٹرک اڈے‘ سے دُوری کے سبب کیا پیپل منڈی (ہول سیل مارکیٹ) میں اَجناس کی نقل و حمل کے باعث مقامی اَفراد (اُور ملحقہ رہائشی علاقوں) میں رہنے والے مشکلات اُور مسائل سے دوچار نہیں؟ ضرورت ہے کہ پشاور کے جملہ رہائشی علاقوں کو اُن کا سکون واپس دلایا جائے۔ رہائشی و کمرشل علاقوں کے درمیان فرق (تمیز) موجود ہے‘ جن کی ازسرنو حدود بندی یا پہلے سے مقرر کمرشل علاقوں کی مناسب تشہیر کے ذریعے عوام الناس کو مطلع کیا جائے کہ وہ کن کن علاقوں میں رہائش اور کن حدود میں تجارتی سرگرمیاں کر سکتے ہیں۔

Saturday, September 19, 2015

Sep2015: Dispute Resolution & resolutions

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
متبادل جواز!
خیبرپختونخوا اور متصل قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف مختلف محاذوں پر جاری جنگ میں مقدمات کے حوالے سے پولیس اور عدالتوں پر پڑنے والے دباؤ کم کرنے اور حکومت پر عوامی اعتماد بحال رکھنے کی خاطر ’’مصالحتی کمیٹیوں‘‘ کا قیام عمل میں لایاگیا اور اِس نظام کے تحت مختلف اضلاع سے حوصلہ افزأ نتائج بھی سامنے آئے۔ پولیس تھانوں کی سطح پر بننے والی مصالحتی کمیٹیاں تنازعات کے حل میں مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں‘ جنہیں مزید فعال و بااختیار بنانے کی ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ اِس نظام میں دو فریقوں کی جانب سے پولیس یا کسی اور قانونی نظام کی شمولیت کے بغیر مصالحت پر اتفاق کرنے کے بعد ایک غیر جانبدار مصالحتی کمیٹی مقدمے کی سماعت کرتی ہے۔ یہ کمیٹیاں دہشت گردی‘ ملکی دفاع اور سلامتی کے مسائل کے علاؤہ دیگر ہر قسم کے تنازعات پر مصالحت کی کوششیں کرتی ہیں۔

سرکاری اَعدادوشمار کے مطابق اِن کمیٹیوں نے اب تک ہزاروں کی تعداد تنازعات حل کئے ہیں لیکن اُن کے فیصلوں کو تسلیم کرنے کی شرح حوصلہ اَفزأ نہیں کیونکہ جرائم پیشہ عناصر اُور مٹھی بھر مفاد پرستوں (قانون کی سمجھ بوجھ رکھنے والوں) کے درمیان گٹھ جوڑ کی وجہ سے انصاف تک رسائی کا یہ تیزرفتار نظام مشکوک بنایا جا رہا ہے اور یہی وجہ تھی کہ خیبرپختونخوا کے ’پولیس آرڈر سال 2002ء‘ کی 168-A شق میں ترمیم کی گئی جس کے بعد ہر ضلع میں تنازعات کے حل کے لئے تھانہ جات کی سطح پر بنائی جانے والی ’تصفیہ یا مصالحتی کمیٹیوں‘ کو قانونی حیثیت ملی اور اُن کے ناجائز ہونے سے متعلق پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے والے ایک درخواست گزار کے مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوئے عدالت نے اِن کمیٹیوں کو کام جاری رکھنے کو ’آئینی‘ قرار دیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ’جرگہ‘ کی طرز پر کام کرنے والی مصالحتی کمیٹیاں کا دفاع بھی کرنا چاہئے جو تنازعات کے فوری حل کی واحد صورت نظر آتی ہیں لیکن جرائم پیشہ ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو نہیں چاہتا کہ فوری انصاف تک رسائی کا یہ عمل جاری و ساری رہے۔ مثال کے طور پر اگر جائیدادوں پر قبضہ کرنے والے گروہوں کے مقدمات عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں تو انہیں نمٹانے میں ایک دو سال نہیں بلکہ نسلوں کی نسلوں کو پیشیاں بھگتانا پڑتی ہیں۔ اگر تنازعات مقامی سطح پر ہی حل ہونے لگیں تو قبضہ مافیا اُور قانون دان کھائیں گے کیا اُور بچائیں گے کیا! سردست محترم قانون دان گاہگوں (بیچارے سادہ لوح افراد) کے مقابلے تھانہ کچہری کے ’رازونیاز‘ سے آگاہ ’پیشہ وروں‘ کے دست راست بنے ہوئے ہیں اور اگر ایسا نہ ہوتا تو زیرالتوأ مقدمات کی تعداد ہزاروں میں نہ ہوتی! کسی معاملے کو سادہ و آسان یا پیچیدہ اور پیچیدہ سے پیچیدہ تر بنانے کا ہنر سیکھنے کے لئے قانونی امور کے ماہرین سے رجوع کیا جاسکتا ہے جنہیں قانون میں موجود ہر سقم اور ہر اُس عدالتی فیصلے کا علم ہوتا ہے جسے خاص حالات میں بھاری بھرکم فیس ادا کرنے والے کے حق میں استعمال کیا جاتا ہے۔ کسی قانون دان کی مہارت یہی ہوتی ہے کہ سفید کو سیاہ اور سیاہ کو سفید بنانے کی مہارت رکھتا ہو! پھر اِس بات کی مثالیں بھی موجود ہیں کہ ایک وکیل اپنے گاہگ کو نچوڑنے کے بعد اُسے دوسرے وکیل کے حوالے کر دیتا ہے اور جواب میں اُسے ایک عدد نیا گاہگ مل جاتا ہے اور یوں دونوں کو زیادہ فیسیں ادا کرنے والے یعنی سونے کے انڈے دینے والی مرغیاں ہاتھ آ جاتی ہیں۔

اگر حکومتیں کفر سے چل سکیں لیکن ناانصافیوں سے نہیں تو پھر اِس اہم ضرورت کو سمجھنا ہوگا کہ انصاف تک فراہمی کا طریقہ کار تیزرفتار ہونا چاہئے۔ اِس ضمن میں تجویز ہے کہ مقدمات دائر کرنے والوں کا ماضی بھی دیکھا جائے کہ وہ اُن کی آمدنی کا ذریعہ کیا ہے؟ یہ بھی دیکھا جائے کہ مختلف عدالتوں میں ایک جیسے مقدمات دائر کرنے والوں کا یہ پیشہ تو نہیں اور اگر وہ اپنے آبائی ضلع کے علاؤہ کسی دوسرے علاقے میں جائیداد کی خریدوفروخت کا کاروبار کر رہے ہیں تو کہیں اِس کا تعلق اُس قبضہ مافیا سے نہیں جس کی پشت پناہی جرائم پیشہ عناصر کر رہے ہوتے ہیں؟ عدالت کے سامنے کسی مقدمے کے فریقین کی مالی حیثیت‘ پیشہ اور تعلقات کے بارے حقائق بھی پیش ہونے چاہیءں اور اس سلسلے میں خفیہ اداروں کی مدد لی جا سکتی ہے‘ جس کے لئے عدالت کے پاس اختیار موجود ہے اور وہ چاہے تو اِس سلسلے میں بیک وقت ایک سے زیادہ اداروں سے تحقیقات کروا سکتی ہے لیکن ایسا نہیں کیا جاتا کیونکہ انصاف تک رسائی کا نظام جن برطانوی دور کے مرتب کردہ اصولوں کی بنیاد پر کھڑے ہیں‘ اُن میں شواہد کو توڑمروڑ کر پیش کرنا قطعی مشکل نہیں۔

پشاور ہائی کورٹ میں ایک جیسی چار درخواستوں کو خارج کرتے ہوئے مصالحتی کمیٹیوں کے قیام کو جائز قرار دینا خوش آئند ہے تاہم مصالحتی کمیٹیوں کے اراکین کا چناؤ زیادہ شفاف بنانے سے اِس نظام کی فعالیت و ساکھ میں اضافہ ممکن ہے۔ صوبہ سندھ کی مثال موجود ہے جہاں سیاست اور جرائم پیشہ عناصر کے درمیان تعلق کو ختم کرنا دہشت گردوں اور انتہاء پسندوں سے معاملہ کرنے سے بھی زیادہ مشکل ثابت ہوا اور ایک موقع پر سندھ رینجرز کو تسلیم کرنا پڑا کہ جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کے درمیان بھی تعلق موجود تھا‘ جن میں سے ایک اہداف کا تعین اور دوسرا اغوأ قتل یا عدالتوں میں مقدمات کے ذریعے فریقین کو الجھائے رکھتا تھا اور وہ مجبور ہو کر بھاری قیمت اَدا کرتے تھے کیا خیبرپختونخوا کی سطح پر جرائم پیشہ عناصر کی سیاسی پشت پناہی کرنے کے امکانات موجود نہیں؟