Showing posts with label Public Transport. Show all posts
Showing posts with label Public Transport. Show all posts

Thursday, February 2, 2023

Environmetal friendly roaming

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

ماحول دوست نقل و حرکت

امریکی جامعہ (یونیورسٹی آف کیلیفورنیا) کی ’کلائمنٹ اینڈ کیمونٹی‘ نامی تحریر و تحقیق سے متعلق حکمت عملی نے ’ماحول دوست نقل و حرکت (ایچیونگ زیرو ایمیشن ود مور موبیلٹی اینڈ لیس مائنگ)‘ کے عنوان سے جائزہ جاری کیا ہے جس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کم فاصلوں کی مسافت کے لئے گاڑیوں کا استعمال نہ کیا جائے۔ پیدل چلنے کی عادت اپنائی جائے اُور آبادی کے مراکز (شہروں قصبوں) میں فراہم کردہ سہولیات پر نظرثانی کی جائے تاکہ نقل و حرکت کے رجحانات تبدیل کئے جا سکیں۔ دنیا ’ماحولیاتی انحطاط‘ سے پریشان ہے جس کی وجہ سے نہ صرف غربت میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ کرہ¿ ارض پر انسان کا مستقبل بھی غیریقینی سے دوچار ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے کے لئے کرہ ارض کا درجہ حرارت ’ڈیڑھ ڈگری سنٹی گریڈ‘ کم کرنے پر عالمی اتفاق رائے ’پیرس معاہدہ‘ کہلاتی ہے لیکن ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے مذکورہ معاہدے پر خاطرخواہ عمل درآمد دیکھنے میں نہیں آ رہا۔ 

امریکہ میں ہوئی مذکورہ تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ ایسی موٹرگاڑیاں بھی ماحول دشمن ہیں جن میں ایندھن ذخیرہ کرنے کے لئے بیٹریاں نصب کی جاتی ہیں کیونکہ اِن بیٹریوں کو بنانے اُور تلف کرنے سے ماحول کا نقصان ہو رہا ہے اُور بہتر یہی ہے کہ اہل زمین ماحول کی بہتری کے لئے ہر قسم کی گاڑیوں کا استعمال کم سے کم کر دیں۔ آمدورفت کے لئے حتی الوسع پیدل چلنے کی کوشش کی جائے تاکہ کم سے کم دھواں پیدا ہو۔ کرہ¿ ارض پر رہنے والوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے جن اثرات کا سامنا ہے اُن سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے مختلف (آؤٹ آف باکس) تدابیر اختیار کرنا ہو گی جیسا کہ ایک کہانی ہے کہ کسی شخص کو شیر‘ بکری اور گھاس کو دریا کے پار سلامت حالت میں اِس طرح پہنچانا تھا کہ کوئی فریق دوسرے کو نہ کھائے۔ اگر وہ وہ شیر اور بکری کو ایک ساتھ کشتی میں لے جائے تو اندیشہ ہے کہ شیر بکری کو کھا جائے گا۔ اگر بکری اور گھاس کو کشتی پر سوار کرے تو اندیشہ ہے کہ بکری گھاس کھا جائے گی۔ اگر پہلے گھاس کو دوسرے کنارے پر پہنچائے تو اندیشہ ہے کہ ندی کنارے اکیلا رہ جانے والا شیر بکری کھا جائے گا اُور اگر شیر کو اکیلا چھوڑ کر بکری اُور گھاس دوسرے کنارے پر لے جائے تو اندیشہ ہے کہ بکری گھاس کھا جائے گی لیکن اِس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ شیر اور گھاس کو پہلے دوسرے کنارے پر پہنچایا جائے اُور اِس کے بعد دوسرے پھیرے میں بکری لے جائی جائے تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔ کرہ ارض پر رہنے والوں کو بھی بالکل اِسی نوعیت کا کوئی حل تلاش کرنا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں میں کمی لانے کے لئے اپنے معمولات زندگی پر نظرثانی کریں کہ کن امور کی مرحلہ وار انجام دہی سے وہ مطلوبہ نتائج (بہتری) حاصل کر سکتے ہیں۔ امریکہ کی جامعہ نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے کے لئے تجویز کیا ہے کہ شیر و بکری کو اکٹھا نہیں چھوڑا جا سکتا کہ ہم زیادہ ایندھن بھی استعمال کریں اُور ماحول دوستی کا خواب بھی دیکھیں۔ کہانی کا شیر ’ایندھن‘ ہے جبکہ بکری ایندھن کی بچت کے لئے یکساں ماحول دشمنی ایسی گاڑیوں کی تخلیق ہے جو لیتھیئم کا استعمال کرتی ہیں۔ کم مسافت کے لئے کسی بھی قسم کی (چھوٹی بڑی) گاڑی استعمال کرنے کی بجائے اگر پیدل چلنے کوترجیح دی جائے تو ماحول کی بہتری کے اہداف حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ اِس سلسلے میں تجارتی مراکز کے قریب ’کار پارکنگ‘ بنا کر بازاروں میں گاڑیوں کی تعداد کم کی جاسکتی ہے اِس طرح رہن سہن کی لاگت میں بھی کمی آئے گی اُور ایندھن (پیٹرول ڈیزل یا سی این جی) کی بچت ممکن ہوگی۔ مذکورہ رپورٹ میں دلیل دی گئی ہے کہ لیتھیم کی مانگ کم کرنے کے لئے نئی ایجادات کی ضرورت ہے بالخصوص ایسی بیٹریاں بنائی جائیں جن میں توانائی ذخیرہ (اسٹوریج) کرنے کی صلاحیت زیادہ ہو اُور وہ ماحول دوست بھی ہوں لہٰذا الیکٹرانک گاڑیوں پر منتقلی کے تصور کی بجائے اگر انفرادی طور پر گاڑیوں کا استعمال کم کیا جائے اور مسافت کے لئے اجتماعی گاڑیاں استعمال کی جائیں یا پیدل چلنے اور سائیکل چلانا پھر سے رواج بن جائیں تو یہ خیال (تصور) بُرا نہیں ہے۔ اس سے قطع نظر کہ امریکی رپورٹ میں صرف یہی تجویز کیا گیا ہے کہ شیر (ایندھن)] بکری (بیٹریاں) اُور گھاس (الیکٹرانک گاڑیوں) سے چھٹکارا حاصل کیا جائے لیکن اصل مسئلہ وہ چھوتی بڑی صنعتیں بھی ہیں جو گاڑیوں کے بعد ماحول میں دھواں اگلنے والا دوسرا بڑا ذریعہ (سورس) ہیں۔

....


Saturday, January 28, 2023

Motorways: the unsafe journey experiences.

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

موٹرویز : سہولیات و حفاظت کا معیار

پاکستان میں موٹروے سال 1997ءمیں متعارف ہوئی‘ جس کے بعد سے اِس کی توسیع جاری ہے۔ فی الوقت کثیر رویہ ’موٹرویز (شاہراہیں)‘ 2 ہزار 816 کلومیٹر طویل ہیں جبکہ 1 ہزار 213 کلومیٹر توسیعی منصوبے زیرغور یا زیرتعمیر ہیں۔ یہی موٹروے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کا بھی حصہ ہے جو چین کی سرحد (درہ خنجراب) سے شروع ہو کر گوادر (بندرگاہ) تک تجارتی راہداری ہے۔ پاکستان میں کل 16موٹرویز کا خاکہ تیار کیا گیا جن میں سے 11 کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد اِنہیں فعال کر دیا گیا ہے۔ موٹروے کے ہر حصے (سیکشن) کو انگریزی زبان کے حرف ’ایم (M)‘ سے شناخت کیا جاتا ہے جبکہ ’ایم‘ کے ساتھ کسی عدد (نمبر) کا اضافہ اُس کی انفرادیت کو ظاہر کرتا ہے جیسا کہ پشاور سے اسلام آباد (155 کلومیٹر) طویل موٹروے کو ’ایم ون (M-1)‘ کہا جاتا ہے اُور یہ سال 2007ءسے فعال ہے۔

موٹروے کا ذکر کرتے ہوئے سب سے پہلے ’ہائی وے سیفٹی ٹرانسپورٹیشن انجینئرنگ‘ کو دیکھا جاتا ہے جو کسی بھی شاہراہ یا موٹر وے کا سب سے اہم پہلو ہوتا ہے کیونکہ اگر بناوٹ میں نقص نہ ہو تو ٹریفک حادثات سے بچا جا سکتا ہے۔ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں بنا رکاوٹ اُور تیزرفتار سفر کے لئے موٹرویز کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے لیکن ’ہائی ویز‘ کو درپیش ’سیفٹی چیلنجز‘ خاطرخواہ توجہ سے حل نہیں کئے گئے۔ اِس منظرنامے سے متعلق یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ موٹروےز کے ساتھ حفاظتی امور سے جڑے مسائل (سیفٹی چیلنجز) کی ایک نئی جہت سامنے آئی ہے۔ موٹرویز کے سیفٹی مینجمنٹ کا تقاضا یہ ہے کہ حرکت کی رفتار برقرار رکھتے ہوئے حفاظتی مسائل کو زیادہ محتاط طریقے سے حل کیا جائے۔ موٹروے ہو یا کوئی عمومی شاہراہ‘ جن مقامات پر عموماً ٹریفک حادثات ہوتے ہیں‘ اُنہیں ”حادثاتی بلیک سپاٹس“ کہا جاتا ہے۔ یہ ’بلیک سپاٹس‘ تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے تخلیق پاتے ہیں جبکہ اِن کے دیگر محرکات (وجوہات) میں ڈرائیونگ میں مہارت کی کمی‘ ٹریفک قواعد سے متعلق خواندگی کی کمی‘ تیزرفتاری اُور بے صبری کا عمومی قومی رجحان‘ ٹریفک سائن بورڈز کی کمی‘ جیومیٹرک ڈیزائن کے مسائل اور پیدل چلنے والوں یا موٹرویز کے اردگرد کھیتوں سے مال مویشوں اُور جانوروں کا موٹرویز عبور کرنا جو اِس کے نامناسب ڈیزائن کا عکاس ہے چند ایسے پہلو ہیں‘ جنہیں خاطرخواہ توجہ حاصل نہیں اُور اگرچہ صارفین اِن کے بارے میں متعلقہ شعبوں کو شکایات درج کرواتے بھی ہیں لیکن غلطیوں کی اصلاح بہت ہی کم دیکھنے میں آتی ہے اُور پُرخطر موٹرویز پر سفری سلسلہ سالہا سال سے جاری ہے۔ انسانی جان کی اہمیت کا احساس فیصلہ سازی کی جس سطح پر ہونا چاہئے وہ دیکھنے میں نہیں آ رہا اُور یہی وجہ ہے کہ ایسے عوامل موجود ہیں جو آئے روز موٹرویز پر ہونے والے حادثات یا حادثات سے بال بال بچنے میں براہ راست یا بالواسطہ کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اِن عوامل میں موسمیاتی تبدیلیاں اُور ماحولیاتی اثرات جیسا کہ دھند‘ سموگ وغیرہ کا بھی کافی عمل دخل ہے۔ اب تک کے موٹرویز تجربے یعنی عمومی مشاہدے اُور تجزئیات کو یکجا کیا جائے تو معلوم ہوتا کہ موٹرویز پر حادثات کی بڑی وجہ لاپرواہی سے گاڑی چلانا (2 فیصد)‘ تیز رفتاری (25 فیصد)‘ ٹائر پھٹنے سے حادثات (23فیصد)‘ بریک فیل ہونا (18فیصد) اور موٹرویز کو پیدل عبور کرنے کی کوشش میں (9فیصد) حادثات ہوئے ہیں۔ یہ اعدادوشمار سالہا سال سے کم و بیش ایک جیسے ہی ہیں جبکہ ضرورت یہ ہے کہ موٹروے سے استفادہ کرنے والے مسافروں کی آرا بھی اِس میں شامل ہونی چاہئے کہ خوش قسمتی سے زندہ بچ جانے والے موٹرویز کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اُور اُن کا سفری تجربہ کیسا رہا یا بار بار سفر کرنے میں اُنہیں کون کون سے ایک جیسے مسائل و مشکلات سے واسطہ پڑتا ہے یا مسائل و مشکلات اُن کی نظروں سے گزرتے ہیں؟ موٹرویز قومی اثاثہ ہیں جنہیں بہتر سے بہتر بنانے کے ساتھ اِن کے انتظامی امور (مینجمنٹ) میں وقت کے ساتھ اصلاحات ضروری ہیں تاکہ مسافروں کو معیاری سہولیات میسر آئیں۔ اُنہیں اپنی حفاظت کا احساس ہو۔ اِس مقصد کے لئے رہنمائی کا مناسب ”ٹریفک گائیڈنس اینڈ کنٹرول سسٹم“ ہونا چاہئے تاکہ گاڑیوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔ جن دیہی یا شہری علاقوں کے آس پاس سے موٹرویز گزرتی ہے وہاں کے رہنے والے کسی نہ کسی مجبوری کی وجہ سے موٹروے پیدل عبور کرنے جیسا خطرہ مول لیتے ہیں جبکہ ایسے خطرات کو انڈر پاسیز بنا کر کم یا ختم کیا جا سکتا ہے۔ گاڑیوں بالخصوص پبلک ٹرانسپورٹ کو حد رفتار کا لحاظ پاس رکھنے کے لئے اُن کی رفتار ایک ٹول پلازے سے دوسرے ٹول پلازے تک دیکھی جانی چاہئے اُور پبلک ٹرانسپورٹ کے جو ڈرائیور تیزرفتار یا گنجائش سے زیادہ مسافروں کو سوار کریں اُنہیں سخت جرمانے ہونے چاہیئں۔ ٹائر پھٹنے کی وجہ سے ہونے والے حادثات کی روک تھام ’ٹائر چیکنگ گیج‘ اُور بریک فیل ہونے کی صورت حادثے سے بچنے کی تربیت کے لئے ذرائع ابلاغ (پرنٹ‘ الیکٹرانک میڈیا اُور سوشل میڈیا) کے ذریعے آگاہی مہمات چلائی جانی چاہیئں۔ شاہراؤں پر سفر محفوظ اُور قابل محظوظ بنانے کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

موٹرویز اُور گرینڈ ٹرنک (جی ٹی) روڈ سے سفر کرنے میں دو بنیادی فرق ہیں۔ سب سے پہلا اُور نمایاں اُور انتہائی اہم فرق یہ ہے کہ موٹرویز پر ’جی ٹی روڈ‘ کے مقابلے فی گاڑی زیادہ ’ٹول ٹیکس‘ وصول کیا جاتا ہے۔ دوسرا فرق موٹرویز پر بنائے گئے قیام و طعام کے مقامات (ریسٹ ایریاز) میں خدمات کی قیمت نسبتاً زیادہ وصول کی جاتی ہے جبکہ تیسری عمومی شکایت قیام و طعام کے مقامات (ریسٹ ایریاز) میں بنائے گئے ’عوامی واش رومز‘ کی خراب حالت اُور صفائی کا انتہائی ناقص انتظام سے متعلق ہے۔ موٹرویز کو پیدل عبور کرنے کی کوشش عمومی حادثات کا باعث بنتی ہے جس میں انسانوں یا جانوروں کو بچانے کی کوشش میں جانی و مالی نقصانات معمول کی بات ہیں۔ ایسی کسی ہنگامی صورت میں اگر موٹرویز کے متعلقہ شعبے کو بذریعہ ”ہیلپ لائن فون نمبر 130“ اطلاع دی جائے تو یہ بات یقینی نہیں ہوتی کہ فوری مدد پہنچے گی۔ اگر ہنگامی حالات میں کی گئی کسی فون کال کو کئی منٹ تک انتظار کروانے کے بعد جواب دیا جائے تو اِس سے ’ہنگامی حالت (ایمرجنسی)‘ میں مدد کا تصور مجروح ہوتا ہے۔ موٹرویز پر سفر کا تجربہ مسافروں کے لئے کتنا شاندار اُور پُرخطر ہے اِس حوالے سے اگر تحقیق کی جائے تو موٹروے سے زیادہ محفوظ اُور ماحول دوست آمدورفت کا تصور تیز رفتار ریل گاڑی (بلٹ ٹرین) کا سامنے آئے گا جو کئی ہمسایہ ممالک میں انتہائی ترقی یافتہ اُور زیرزمین سرنگوں کی شکل میں فعال ملتا ہے۔

....


Monday, May 9, 2022

Peshawar: Public Transport issues.

ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام
پشاور کہانی: پبلک ٹرانسپورٹ مشکلات
سال دوہزارسولہ میں عوامی رائے پر مبنی ایک جائزے سے معلوم ہوا تھا کہ پشاور میں 90 فیصد سے زائد ایسی خواتین جو کہ ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ سے استفادہ کرتی ہیں‘ آمدورفت کے ذرائع سے مطمئن نہیں ہیں اُور اِنہیں کئی ایک طرح کے مسائل (ذہنی و جسمانی کوفت) کا سامنا ہے جن میں پرہجوم پبلک ٹرانسپورٹ میں دھکم پیل‘ بسوں کے عملے اُور مسافروں سے ہراسگی‘ بلاوجہ بے عزتی اُور وقت کے ضیاع جیسی مشکلات شامل تھیں۔

خواتین کی اِس تعداد میں شامل طالبات کی مشکلات الگ تھیں جنہیں کسی مقررہ وقت پر اپنے تعلیمی اِداروں کو پہنچنا ہوتا تھا لیکن پشاور کی پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال ہمیشہ ہی سے تاخیر کا باعث رہتا اُور یہ بات بھی یقینی نہیں ہوتی تھی کہ تعلیمی یا دفتری اُوقات کے آغاز (صبح) اُور تعلیمی یا دفتری اُوقات کے اِختتام (سہ پہر سے شام تک) جیسے مواقعوں پر کوئی بھی مسافر وقت مقررہ پر اپنی منزل یا واپس گھر پہنچ سکتا تھا لیکن ’بس رپییڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی)‘ متعارف ہونے کے ساتھ جہاں ’ائرکنڈیشن‘ بسوں میں سفر جیسا خواب (تصور) حقیقت کی صورت اختیار کر گیا وہیں وقت کی پابندی اُور بروقت و باسہولت آمدورفت بھی ممکن ہو چکی ہے۔

 پشاور کی ’ریپیڈ بس ٹرانزٹ (بی آر ٹی) المعروف ’میٹرو بس‘ کی فعالیت (تیرہ اگست دوہزاربیس) کا سب سے زیادہ فائدہ ملازمت پیشہ خواتین اُور طالبات اُٹھا رہی ہیں۔ قبل ازیں پشاور شہر (چغل پورہ‘ گل بہار‘ نشترآباد‘ ہشت نگری‘ چارسدہ سے یونیورسٹی ٹاؤن اُور حیات آباد) سے شہر کے دوسرے حصے میں واقع دفاتر اُور تعلیمی اداروں تک پہنچنا کسی ڈروانے خواب جیسا تھا۔ مسافر بسوں میں طالبات کو ذومعنی ہتک آمیز جملے اُور سٹیاں سننے کو ملتی تھیں لیکن اب ایسا نہیں ہے اُور جس طرح ہر مشکل کے بعد راحت آتی ہے بالکل اِسی صورت پشاور کی میٹرو بس بھی کسی نعمت سے کم نہیں لیکن اِس نعمت کی خاطرخواہ قدر اُور اہمیت کا احساس نہیں کیا جا رہا۔ دوسری طرف ’میٹرو بسوں‘ میں خواتین کے لئے مختص ایک چوتھائی نشستوں کی تعداد میں بھی اضافے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے اُور ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ ہر دو یا چار بسوں کے بعد ایک بس صرف خواتین کے لئے مخصوص ہونی چاہئے کیونکہ خواتین مسافروں کی تعداد مردوں کے مساوی یا اِن سے زیادہ ہے جنہیں مصروف اوقات میں پریشانی کا سامنا رہتا ہے۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ ڈیزل اُور بجلی کی مِلی جُلی طاقت والی اِن درآمد شدہ ’ہبرڈ بسوں‘ کی تعداد میں مطلوب اضافہ مقامی بسوں سے کر دیا جائے بالخصوص خواتین کے لئے جن الگ بسوں کی ضرورت ہے وہ چند برس قبل جاپان حکومت کے مالی تعاون سے شروع کئے گئے ’پنک بسوں (Pink Buses)‘ کی طرز پر ہونا چاہئے‘ جس میں درآمدی اُور مقامی بسوں کا استعمال کیا گیا اُور ایسی بسوں کے فاضل پرزہ جات و مرمت بھی آسان رہتی ہے۔

 ایک تجویز ’بی آر ٹی‘ کے انتظامی امور اُور انفرادی حیثیت برقرار رکھتے ہوئے مختلف روٹس (راہداریوں) پر نجی شعبے کی شراکت سے پبلک ٹرانسپورٹ متعارف کروائی جائے اُور اِس سلسلے میں پشاور‘ اندرون ملک اُور بیرون ملک رہنے والے پشاوریوں کو سود سے پاک‘ نفع نقصان کی بنیاد پر سرمایہ کاری (ریپیڈ بس ٹرانزٹ منصوبے میں شراکت داری) کی دعوت دی جائے یقینا پشاور سے آبائی تعلق رکھنے والے ہر شخص کی خواہش و کوشش ہوگی کہ وہ اپنے شہر کی کسی طور خدمت کر سکے اُور خدمت کا یہ جذبہ ایسی صورت میں زیادہ پرکشش ہو سکتا ہے جبکہ اِس کے ساتھ کچھ نہ کچھ مالی فائدہ بھی جڑا ہو۔ اگرچہ اِس قسم کی سرمایہ کاری کا تصور انوکھا ہے لیکن اگر ’ٹرانس پشاور‘ کو وسعت دینی ہے اُور بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کی ضروریات پورا کرنی ہیں تو اِس کے سوا چارہ نہیں کہ پشاور کے ’بی آر ٹی‘ میں نجی شعبے کو سرمایہ کاری کی دعوت دی جائے۔ تجویز یہ بھی ہے کہ پشاور بس ٹرمینل (المعروف جی ٹی ایس لاہور اڈہ)‘ پشاور جنرل بس اسٹینڈ (المعروف حاجی کیمپ اڈہ) اُور ٹرک اڈے کو چغل پورہ سے آگے سبزی و فروٹ منڈی کے آس پاس منتقل کیا جائے اُور ریپیڈ بس ٹرانزٹ کے ذریعے مال برداری بھی متعارف کروائی جائے یعنی سبزی و فروٹ منڈی سے شہر کے دوسرے حصے حیات آباد‘ ورسک روڈ اُور چارسدہ روڈ کے انتہائی حصوں تک مال برداری کے لئے خشک گودیاں بنائی جائیں تو اِس سے بھی ریپیڈ بس ٹرانزٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی میں خاطرخواہ اضافہ ممکن ہے جبکہ اِس طرح کے استعمال سے مسافروں کو دی جانے والی سہولیات (عمومی آپریشن) بھی متاثر نہیں ہوگا۔ پشاور کی ’ریپیڈ بس ٹرانزٹ‘ کے ملازمین کی تعداد 2 ہزار کے لگ بھگ ہے جن میں 15فیصد خواتین ہیں جبکہ اِس تناسب میں اضافے کے ساتھ مزید توسیع کی ضرورت ہے۔

 ذہن نشین رہے کہ بیس ماہ پہلے ’بی آر ٹی‘ سے استفادہ کرنے والے کل مسافروں میں خواتین کا تناسب قریب 2 فیصد تھا جو قریب دو سال میں بڑھ کر 30فیصد ہو چکا ہے اُور اگر بسوں کی تعداد بڑھائی جائے اُور خاص اوقات میں خواتین کے لئے الگ سے خصوصی بسیں چلائی جائیں تو یہ تعداد پچاس فیصد سے تجاوز کر جائے گی۔ پشاور میں خواتین موٹرسائیکل یا سائیکلیں نہیں چلاتیں اُور یہی وجہ ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ چاہے جس قدر بھی دشوار گزار‘ ہتک آمیز یا آسان ہو پشاور کی خواتین نے اِسی میں سفر کرنا ہوتا ہے۔ اگر اِس روایت کی حوصلہ شکنی اُور خواتین کو موٹربائیک استعمال کرنے کی طرف راغب کیا جائے تب بھی پبلک ٹرانسپورٹ سے جڑی خواتین کی شکایات و تحفظات بڑی حد تک حل ہو سکتے ہیں اُور یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ آمدورفت میں خودانحصاری سے خواتین کے لئے روزگار کے مواقعوں میں بھی اضافہ ہوگا۔

پاکستان میں خواتین ملازمت پیشہ خواتین کا تناسب خطے کے ممالک اُور عالمی سطح پر کم ترین ہے اُور اِس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اگرچہ خواتین کی آبادی مجموعی آبادی کے تناسب سے بڑھ رہی ہے لیکن ملازمت پیشہ خواتین کی تعداد کم ہو رہی ہے جیسا کہ ورلڈ بینک کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق سال 2015ء میں پاکستان کی کل خواتین کا 24 فیصد ملازمت پیشہ تھا جو 2019ء میں کم ہو کر 23فیصد رہ گیا۔ ذہن نشین رہے کہ پشاور کے شہری علاقے کا کل رقبہ قریب 215 مربع کلومیٹر ہے جبکہ ’میٹرو بس‘ کی لمبائی قریب 30 کلومیٹر ہے اُور یہ پشاور شہر یا اِس کے تمام حصوں پر مشتمل نہیں ہے۔
Clipping from Editorial Page May 09, 2022 Monday


Saturday, June 13, 2020

Covid19 and Public Transport

سچائی کا سفر
پبلک ٹرانسپورٹ مستقل مسئلہ (دردِ سر) ہے اُور اِس درد کا مستقل بنیادوں پر حل (علاج) ہونا چاہئے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد ’حسب توقع‘ نہ تو کرایوں میں عملاً کمی ہوئی اُور نہ ہی بسوں میں گنجائش سے زیادہ مسافروں کو سوار کرنے جیسے عمومی طرزعمل (قانون شکنی) سے رجوع کیا گیا جو کورونا وبا کے ممکنہ پھیلاو ¿ کم کرنے کے لئے (حتی الوسع) ’سماجی فاصلے (social distancing)‘ سے متعلق حکومتی قواعد و ضوابط (SOPs) کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھی لیکن رواں ہفتے پبلک ٹرانسپورٹ مالکان کی جانب سے 2 اعلانات سامنے آئے کہ ایک تو بین الاضلاعی راستوں (روٹس) پر مقررہ کرائے کی شرح میں مزید کمی کر دی گئی ہے اُور دوسرا ’ایس اُو پیز‘ پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ یہ دونوں باتیں ذرائع ابلاغ نے فوری خبر (Breaking News) اُور شہ سرخیوں (Headlines) کے ساتھ بالکل اُسی اہتمام کے ساتھ شائع کیں‘ جس طرح پیٹرولیم مصنوعات اُور آٹے کی قیمتیں کم ہونے کے بارے میں عوام کو روزانہ ’خوش خبریاں‘ دی جاتی ہیں لیکن اِن خبروں کا زمینی حقائق سے تعلق نہیں ہوتا اُور نہ ہی خبر دینے سے پہلے اُس کے مندرجات کے بارے خاطرخواہ تحقیق کے عمل کو خاطرخواہ اہمیت دی جا رہی ہے جو صحافت کا پہلا اُور بنیادی اصول ہے۔ اِس سلسلے میں اُردو اُور انگریزی صحافت دو الگ الگ سمتوں اُور دو الگ الگ بلندیوں پر بھی اِس لئے دکھائی دے رہی ہیں کیونکہ دونوں کے ہاں حقائق کی تصدیق و جانچ کے لئے محنت کا معیار ایک جیسا نہیں۔

بنیادی طور پر کسی بھی آمدہ اطلاع کو خبر اُور بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اُور ذمہ داری کی ساتھ اَدا (شائع) کرنے سے قبل‘ اُس کی آزاد ذرائع یا اپنے طور پر تصدیق ہونی چاہئے۔ اِس بات کو عملاً اُور باآسانی ممکن بنایا جا سکتا ہے کہ 1: کوئی بھی خبر تصدیقی مراحل سے گزرے بغیر شائع یا نشر نہ ہو۔ 2: خبر ضروری ہوتی ہے اُس کو پیش کرنے کا انداز ضمنی اہمیت رکھتا ہے۔ بالخصوص صفحے کی خوبصورتی کے لئے خبروں کو دو‘ تین یا چار کالموں میں مزین و سجاوٹ کے لئے منتخب اُور نمایاں کرنے کا بھی کوئی نہ کوئی تو اصول بھی ہونا چاہئے کیونکہ صرف خبر کا ہونا ہی اہم اُور کافی نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ اِس میں سچ جھوٹ یا جھوٹ سچ کی آمیزش کا تناسب جاننے کا بھی پیمانہ ہونا چاہئے کیونکہ خبر کے ساتھ صحافتی اِدارے کی ساکھ اُور کاروباری مستقبل بھی جڑا ہوتا ہے۔

’سچائی‘ کا وہ سفر جو اِنفردی حیثیت سے جتماعی قالب میں ڈھل کر اپنی انتہائی (ترقی یافتہ) شکل (وجاہت) میں ”صحافت“ کہلاتا ہے اُور یہ لفظ اصطلاحاً صحیفے سے بھی ماخوذ ہے یعنی ایک ایسی دستاویز (صحیفہ) جو خالق کائنات کے مقدس کلام کی ترسیل سے منسوب ہے تو اِس بات میں کوئی حرج نہیں کہ اگر کسی خبر کی فوری تصدیق ممکن نہ ہو تو اُسے (تا دم تصدیق) روک کر شائع کر لیا جائے۔ درحقیقت صحافت کسی بھی شکل میں ہو لیکن اگر یہ ذمہ داری اُور اِحساس ذمہ داری کے ساتھ اَدا نہیں ہوتی تو پھر یہ ایک ایسا معمول بن جائے گی جس سے معاشرے میں نہ تو خیر اُور بہتری کی صورتیں برآمد ہوں گی اُور نہ ہی حکومتی سطح پر فیصلہ ساز اپنی ترجیحات کے تعین میں درست رہنمائی حاصل کر پائیں گے بلکہ عوام اُور حکمران دونوں ہی گمراہ ہوں گے کیونکہ اگر کسی نے اُن کی آنکھوں کی دھول جھونکنے کی کوشش کی ہے تو اُس کوشش (جھوٹ) کو کامیاب بنانے میں ذرائع ابلاغ بھی شریک ہو گئے ہیں اُور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے‘ جس سے صحافتی ذمہ داریاں ترتیب و تشکیل پاتی ہیں۔

عام آدمی (ہم عوام) کے نکتہ نظر سے عندیہ (خوش خبری) اگر صرف سماعتوں اُور بصارتوں ہی کی آسودگی کے لئے شائع کی جاتی ہے‘ تب تو ٹھیک (قابل فہم) ہے لیکن اگر ذرائع ابلاغ ”اَزرائے طنز و مذاق“ قیمتوں اُور نرخناموں میں کمی سے متعلق ایسی خبریں شائع کرتے ہیں کہ جن میں عوام کے لئے کسی ریلیف کا ذکر ہوتا ہے اُور برسرزمین حقیقت یا حقائق یکسر مختلف (برعکس) ہوتے ہیں تو یہ طرزِعمل اَمانت و دیانت کے اَصولوں کے منافی ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ ایسی خبریں (بالخصوص پرنٹ میڈیا جب شہ سرخیوں کے ساتھ) شائع کرتے ہیں تو اِس سے عوام کی نظروں میں بطور اِدارہ اِن کی اہمیت‘ فرض شناسی‘ ذمہ داری‘ صحافتی اَخلاقیات و اَقدار اُور سماجی کردار قابل اِعتبار و بھروسہ نہیں رہتا یقینا کوئی بھی شخص (قاری‘ ناظر و سامع) نہیں چاہے گا کہ جن حقائق سے اُسے عملی زندگی میں ہر روز واسطہ پڑ رہا ہے اُن سے متعلق خبرنگاری مصدقہ نہیں۔ اِس پورے تناظر کا تیسرا پہلو اُور ضرورت یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ کی توجہ (جملہ وسائل‘ رائے اُور جھکاو ¿) عوام کی طرفداری جانب مائل ہونی چاہئے۔ وہ کاروباری گروہ اُور طبقات جو اَجناس کی فروخت یا خدمات کی فراہمی جیسے شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں اگر اُنہیں یقین ہو کہ حکومت اُور ذرائع ابلاغ عوام کے مفادات کی حفاظت کرتے ہیں تو یوں کھلم کھلا لاقانونیت دیکھنے میں نہ آئے کہ اجناس میں ملاوٹ سے لیکر کم وزن‘ گرانفروشی اُور ذخیرہ اندوزی قانونی و اخلاقی و سماجی طور پر جرائم ہی تصور نہ ہوں۔

عوامی مفاد کیا ہوتا ہے؟
اِس کی حفاظت کس کی ذمہ داری اُور کیسے کی جائے؟
اِن تینوں امور سے متعلق سوچ بچار اُور لائحہ عمل ’طرزحکمرانی‘ کہلاتا ہے۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ کرائے ناموں کی شرح میں کمی تو بہت دور کی بات لیکن اگر ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ کے کرایوں پر صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی مقررہ کردہ شرح کے مطابق عمل درآمد اُور کورونا وبا سے متعلق حکومتی ہدایات کا احترام ضروری سمجھا جا رہا ہوتا تو صرف پشاور میں گزشتہ چند دنوں کے دوران ’1200ٹرانسپورٹرز‘ کو جرمانے اُور 4 بس اڈے سربمہر نہ کئے گئے ہوتے! لائق توجہ یہ بھی ہے کہ اگر نجی شعبے کی اجارہ داری سے چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے امور صوبائی دارالحکومت ہی میں تسلی بخش نہیں تو صوبائی حکمرانوں اُور متعلقہ فیصلہ سازوں نے کس بنیاد (جواز) پر یقین کر لیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے دور دراز اضلاع اُور علاقوں پبلک ٹرانسپورٹرز مسافروں (صارفین) کو لوٹ نہیں رہی اُور سب سے بڑھ کر احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے کورونا وبا کے پھیلانے کا باعث بن رہی ہے۔ ’صوبائی ٹرانسپورٹ اٹھارٹی‘ اُور ’پبلک ٹرانسپورٹ اُونرز ایسوسی ایشن‘ گٹھ جوڑ سے پیدا ہونے والی صورتحال پر قابو پانے کے لئے ضلعی انتظامیہ (کمشنری نظام) کام آ رہا ہے‘ جنہیں جرمانہ اُور سزائیں دیتے ہوئے صرف خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے مرکزی اُور ضلعی دفاتر میں تنخواہیں اُور مراعات باقاعدگی سے وصول کرنے والوں کے خلاف بھی کاروائی کرنی چاہئے جو مسافروں کی جان و مال کے تحفظ‘ سہولیات کی فراہمی اُور مقررہ شرح سے زائد کرایوں کی وصولی سے متعلق قوانین اُور قواعد شکنی میں برابر (یکساں) شریک جرم (ملوث) ہیں۔
مرا نصیب ہوئیں تلخیاں زمانے کی
کسی نے خوب سزا دی ہے مسکرانے کی
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے ہر ٹھکانے کی (اَزہر درانی)
....
Clipping from Editorial Page of Daily Aaj - June 13, 2020 Saturday
Editorial Page of  Daily Aaj - June 13, 2020 Saturday


Friday, November 24, 2017

Nov 2017: Grey areas of the KP's "Claim Tribunal."

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
کلیم ٹربیونل!؟
خیبرپختونخوا میں ’موٹروہیکل آرڈیننس‘ کے تحت ٹریفک حادثہ کا شکار ہونے والی‘ ایک خاتون جو کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کر رہی تھی کو 70 ہزار روپے نقد ادا کئے گئے ہیں۔ یہ اَدائیگی 148 صفحات پر مشتمل متعلقہ قانون میں کم سے کم 23 مقامات پر مذکور ’کلیم ٹربیونل‘ کے تحت عمل میں آئی ہے‘ جسے صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ فعال کیا گیا ہے۔ کسی قانون کو ’سرد خانے‘ سے نکالنے کی اِس عملی مثال کی جس قدر بھی تعریف کی جائے کم ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ایک ایسا قانون جس کی موجودگی کے بارے خود متعلقہ محکمے اور وزارت کی اکثریت کو بھی علم نہیں تھا وہ اچانک فعال کیسے ہوگیا اور اُس کی فعالیت کی اطلاع پشاور سے لاہور سفر کرنے والی ایک مسافر خواتین تک کیسے جا پہنچی جس نے 90 روز کے اندر خود سے پیش آنے والے حادثے کے لئے صوبائی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا اور ستر ہزار روپے نقد وصول کئے۔ 

مذکورہ قانون کے تحت پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والا کوئی بھی مسافر (خدانخواستہ) حادثے کی صورت میں تین لاکھ روپے تک کا تاوان طلب کر سکتا ہے اور صوبائی حکومت یہ معاوضہ ادا کرنے کی پابند ہوگی۔
اٹھارہ نومبر کو ’’چوری: سینہ زوری!‘‘ اور تیئس نومبر کے روز (روزنامہ آج کے ادارتی صفحات پر) شائع ہونے والے کالم بعنوان ’’قوت فیصلہ کا فقدان!‘‘کے تحت ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ سے جڑے عوامی مسائل کی مرحلہ وار نشاندہی کرنے کے سلسلے کی یہ تیسری کڑی ہے جس میں اُس قانون اور قواعد سے متعلق موضوع زیربحث ہے‘ جس کا تعلق خیبرپختونخوا کی اکثریت سے ہے لیکن اِسے ’نجی کاروباری طبقے‘ کے مفاد کے لئے سردخانے کی نذر کردیا گیا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ پر نجی شعبے کی اجارہ داری (تسلط) کے پیچھے کئی کردار کارفرما ہیں‘ جن میں قانون سازی اور فیصلہ سازی کے منصب پر فائز سرکاری اہلکار شامل ہیں اور سبھی نے ذاتی مالی مفادات کے لئے عام آدمی کی زندگی کو ایک مستقل (ذلت بھرے) عذاب سے دوچار رکھا ہے‘ جس کی اصلاح ’تبدیلی لانے والوں‘ کے لئے کھلا چیلنج ہے۔

’قانونی اصطلاحات کی لغت (ڈکشنری)‘ (مطبوعہ دوہزار تین‘ علمی کتب خانہ لاہور) میں ’’کلیم (Claim)‘‘ کا لغوی مطلب ’دعویٰ کرنا۔ حق جتانا‘ تحریر ہے۔ اِسی اصطلاح کی ضمن میں 12 دیگر اصلاحات کے معانی و تفصیلات درج ہیں لیکن ’کلیم ٹربیونل‘ کا ذکر نہیں کیونکہ ’موٹروہیکل قانون‘ کی یہ اِصطلاح مذکورہ قانون کے اندر ہی دفن رکھا گیا۔ قانون دانوں کے لئے ’کلیم‘ اور ’ٹربیونل‘ الگ الگ اصطلاحات ہیں اور جب ’کلیم ٹربیونل‘ سے متعلق یکجا کر کے پوچھا جاتا ہے تو اعتراف کرتے ہیں کہ ’’وہ نہیں جانتے‘‘ کہ ۔۔۔ ’خیبرپختونخوا کے موٹروہیکل آرڈیننس 1965ء‘ کی 67ویں شق اے کی ذیل میں اِس بارے تفصیلات موجود ہیں۔ مقام حیرت ہے کہ مذکورہ قانون کی 67-D‘ ذیلی شق 3 میں یہاں تک تحریر ہے کہ ۔۔۔ ’’کلیم ٹربیونل‘ کو ’سول کورٹ‘ کے مساوی اختیارات حاصل ہوں گے۔ جن کا استعمال کرتے ہوئے وہ کسی حادثے سے متعلق عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کرنے کا اختیار رکھے گی۔ اِس بات کو قانوناً ممکن بنائے گی کہ عینی شاہدین عدالت سے تعاون کریں اور وہ تمام متعلقہ شواہد و ثبوت عدالت کے روبرو پیش کریں جن کا تعلق متعلقہ ٹریفک حادثے سے ہو۔‘‘

سال دوہزار گیارہ میں پولیس سے بہ عہدہ ’ڈی پی اُو (تیمرگرہ‘ لوئر دیر)‘ ریٹائر ہونے والے ممتاز زرین خان کی تمام زندگی (چالیس برس) محکمۂ پولیس میں خدمات سرانجام دیتے گزر گئی۔ وہ ایک فرض شناس آفیسر رہے جنہوں نے خیبرپختونخوا کے شورش زدہ علاقوں میں اپنی تعیناتی کے دوران امن و امان کے پُرخطرحالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا‘ ریاست کی عمل داری بحال رکھی اُور فرائض منصبی کی بجاآوری سے سرکاری وسائل کے امانت و دیانت سے مصرف جیسے کسی بھی محاذ پر پسپا نہیں ہوئے۔ اِنہیں خدمات کے عوض اُنہیں تمغہ شجاعت اور دو مرتبہ ’قائد اعظم پولیس میڈلز‘ جیسے اِعزازات سے نوازہ جا چکا ہے۔ چالیس سالہ ملازمت کے دوران ممتاز زرین ’’اے ایس آئی‘ ڈی ایس پی اور ایس ایس پی (ہنگو‘ ٹانک‘ بٹ گرام اُور لوئر دیر)‘‘ جیسے کلیدی عہدوں پر فائز رہے۔ اِس عرصے میں انہوں نے درجنوں ٹریفک حادثات کی بذات خود تفتیش کی یا اُن کی زیرنگرانی ٹریفک حادثات کا تفیشی عمل مکمل ہوا لیکن انہیں ’کلیم ٹربیونل‘ جیسی اصطلاح کا علم نہ ہوسکا۔ پولیس سے ریٹائرمنٹ کے بعد ممتاز زرین نے اپنی تعلیم ’ایل ایل بی‘ کی بنیاد پر بحیثیت وکیل اور پولیس میں ملازمتی تجربے کی بنیاد پر بطور ’چیف سیکورٹی آفیسر‘ اپنی خدمات ایک نجی تعلیمی ادارے کے سپرد کر رکھی ہیں‘ وہ ماضی کی طرح آج بھی ایک فعال اور کامیابی عملی زندگی بسر کر رہے ہیں اور اُن کی ہمت و مستعدی دیکھ کر رشک آتا ہے کہ وہ کس طرح بعداز ریٹائرمنٹ بھی زندگی کی گاڑی چلانے کے لئے مختلف کرداروں میں فرائض منصبی اور کلیدی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ ہم ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ بطور کانسٹیبل ریٹائرڈ ہونے والے پولیس اہلکار کو ساری زندگی فکر معاش نہیں رہتا اور اُس کی مالی حیثیت اِس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ وہ ’باقی ماندہ زندگی‘ آرام سے بسر کرتا ہے لیکن پینسٹھ سالہ ممتاز زرین کے لئے زندگی ’جہد مسلسل‘ ہے جس کا نصاب صداقت و دیانت کے اصولوں پر مرتب ہے۔ 

ملک کے سیاسی و آئینی حالات پر گہری نظر رکھنے اور وسیع مطالعہ رکھنے والے دُرویش صفت ممتاز زرین سے جب ’کلیم ٹربیونل‘ کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو اُنہوں نے تسلیم کیا کہ ایسے کسی قانون کے بارے میں ’’نہیں جانتے‘‘ اور نہ ہی بطور پولیس آفیسر (چالیس سالہ عملی) زندگی میں اُن کا واسطہ کسی ’کلیم ٹربیونل‘ سے پڑا۔ نہ ہی کسی سرکاری محکمے کی جانب سے اُنہیں ’کلیم ٹربیونل‘ کے بارے میں بریفنگ دی گئی یا اجلاس طلب کیا گیا یا اِس بارے تحریری و زبانی کلامی معلومات فراہم کی گئیں ہیں۔ اگر تمام زندگی پولیس اور ریٹائرمنٹ کے بعد عملاً وکلالت کرنے والے ’ممتاز زرین‘ جیسے فعال شخص کو ’کلیم ٹربیونل‘ کی موجودگی کا علم نہیں‘ تو ایسے کسی قانون کے بارے میں کسی عام آدمی (ہم عوام) کی معلومات بارے اندازہ لگانا قطعی دشوار نہیں۔

المیہ یہ ہے کہ قوانین کتابوں میں دفن ہیں۔ سرکاری محکمے قوانین کے زور پر اپنی دھونس برقرار رکھے ہوئے ہیں اور انہی قوانین کی وجہ سے دھاندلی (کرپشن) بھی عام ہے۔ اگر عام آدمی (ہم عوام) کو قوانین کے بارے علم ہوجائے تو اِس کا مطلب ہوگا کہ ہمیں اپنے حقوق اور سرکاری محکموں کی جملہ ذمہ داریاں معلوم ہو جائیں گی اور جب ذمہ داریاں معلوم ہوں گی تو کارکردگی کے بارے سوال اٹھاے (پوچھے) جائیں اور یہی وجہ مرحلہ ہے کہ سرکاری اعلیٰ و ادنی ملازمین (افسرشاہی)‘ قانون سازایوانوں کے اراکین (سیاست دان) نہیں چاہتے کہ عوام کے منہ میں زبان آئے اُور وہ کلام کر سکیں!
۔
Under the KP's Provincial Motor Vehicle Ordinance 1965,
the claim tribunal has been activated but the law needs to be
propagate and amend
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=abbotabad&page=20&date=2017-11-24

Thursday, November 23, 2017

Nov 2017: Motor Vehicle Laws & the dark areas!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
قوت فیصلہ کا فقدان!
قوانین کی کمی نہیں اور نہ ہی سرکاری ملازمین کا قحط ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک قانون اور اُسے لاگو کرنے کے لئے ضمنی قواعد و ضوابط (رولز) موجود ہیں‘ جن پر عمل درآمد کرنے والے ادارے‘ وزیر‘ مشیر‘ سیکرٹری سے لیکر درجہ چہارم ملازمین تک تنخواہیں اور مراعات باقاعدگی سے وصول کرنے والے ملازمین کی ’فوج ظفر موج‘ موجود (اور سرکاری خزانے پر بوجھ) ہے لیکن اگر کسی ایک بنیادی چیز کا خسارہ ہے تو وہ ہے کارکردگی کا۔ 

قوانین کو عام آدمی (ہم عوام) کے حق میں مفید بنانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ قوانین و ضوابط کا اطلاق بلاامتیاز نہیں ہو رہا بلکہ ایک ایسا شعبہ بھی ہے جس میں تبدیلی نہیں آئی اور وہاں ماضی کی طرح آج بھی مخصوص انداز میں محدود پیمانے پر قوانین و قواعد کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ کم سے کم ایک ایسا صوبائی محکمہ بھی ہے جس کی ہمدردیاں عوام کی بجائے تجارتی اور کاروباری طبقات کے مفادات کا تحفظ (احاطہ) کرتی ہیں! اِس سلسلے میں نہایت ہی عمدہ مثال خیبرپختونخوا کے طول و عرض میں فعال ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ کے ’بے ہنگم نظام‘ کی دی جا سکتی ہے‘ جس سے متعلق قانون اگرچہ ’’52 سال اور 5 ماہ‘‘ قدیم ہے لیکن اِس پر جدید مواصلاتی وسائل متعارف ہونے کے بعد‘ سے نظرثانی کی ضرورت ’’شدت سے محسوس‘‘ ہونے کے باوجود بھی قانون سازوں اور فیصلہ سازوں کی توجہ اگر مرکوز نہیں تو اِس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اِن میں سے کوئی بھی نہ تو خود اور نہ ہی اُن کے اہل وعیال پبلک ٹرانسپورٹ استفادہ نہیں کرتا۔ المیہ ہے کہ سیاسی اور غیرسیاسی فیصلہ سازوں اور عوام کے رہن سہن میں زمین آسمان کا فرق ہے لیکن حیرت اُس بیوروکریسی پر بھی ہے جو متوسط طبقات سے اپنے تعلق کو اُس وقت بھول جاتی ہے جب اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتی ہے۔ عام آدمی (ہم عوام) کی پبلک ٹرانسپورٹ سے جڑی مشکلات اور شکایات قانون سازی سے لیکر قانون کے اطلاق تک کثیرالجہتی ہیں۔

صوبائی (خیبرپختونخوا) موٹر وہیکل آرڈیننس (148 صفحات) ’’8 جون 1965ء‘‘ جبکہ صوبائی موٹروہیکل رولز (20 صفحات) ’’3 نومبر 1969ء‘‘ سے لاگو ہیں اُور نجی شعبے کی ملکیت ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ پابند ہے کہ وہ انہی دو قوانین و قواعد کے تحت کسی ضلع میں مقامی‘ بین الاضلاعی یا بین الصوبائی (طے شدہ راستوں) روٹس پر مسافر گاڑیاں چلائیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی ہر مسافر گاڑی کے لئے لازم ہے کہ وہ روڈ پر آنے سے پہلے ’فٹنس سرٹیفکیٹ‘ حاصل کرے جس کا ’موٹروہیکل آرڈیننس‘ میں ’29 مقامات‘ پر ذکر ملتا ہے لیکن پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے زیراستعمال گاڑیوں (مسافر بسوں‘ وینز‘ ویگنز‘ منی بسوں‘ ہائی ایس‘ کوسٹرز وغیرہ) میں سفر کرنے کا عملی تجربہ رکھنے والے ’تحصیل یافتگان‘ سے پوچھیں کہ یہ گاڑیاں کتنی ’فٹ (موزوں)‘ ہیں۔ قانون میں انگریزی زبان کے لفظ (اصطلاح) ’فٹ (Fit)‘ استعمال کیا گیا ہے جن کے مطالب میں ’’مناسب‘ موافق‘ جچنا اور سائز ٹھیک ہونا‘‘ بھی شامل ہیں۔ کسی گاڑی کا صرف انجن ہی نہیں بلکہ اُس کی ظاہری داخلی و بیرونی حالت کا بھی اِسی زمرے میں شمار ہوتی ہے۔ 

موٹروہیکل آرڈیننس کے تحت جن تین درجات میں گاڑیوں کے پرمٹ (اجازت نامے) جاری کئے جاتے ہیں‘ وہ گاڑی کی فٹنس (fitness) سے مشروط ہوتے ہیں۔ فٹنس سرٹیفکیٹ ہر ضلع میں ’موٹر وہیکل ایگزیمینر (Examiner)‘ جاری کرتا ہے۔ رولز کے تحت موٹروہیکل ایگزیمنر کا مطلب وہ آفیسر ہوتا ہے جس کی تقرری (اپوئٹمنٹ) انسپکٹر جنرل پولیس رول نمبر 35کے تحت کرتا ہے۔ اِس اہم عہدے پر تعینات ہونے والے شخص کی اہمیت کا اندازہ اِس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ بیس صفحات پر مشتمل رولز میں ایگزیمینر کا ذکر 23 مقامات پر کیا گیا ہے لیکن کسی ایک ڈویژن میں ایک شخص (ایگزیمینر) کس طرح ہزاروں کی تعداد میں گاڑیوں کی فٹنس کس طرح عملاً ممکن بنا سکتا ہے!؟

پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑیوں کی عمومی ظاہری و ٹیکنیکل (چال چلن کی) ’فٹنس‘ اور اِس ’فٹنس کا معیار‘ بلند رکھنے کے لئے قانون تو موجود ہے لیکن اِس پر خاطرخواہ انداز میں عمل درآمد نہیں ہورہا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جب کبھی فرصت پائیں تو قریب ترین جنرل بس اسٹینڈ سے بین الاضلاعی و صوبائی روٹس پر چلنے والی گاڑیوں کا ظاہری معائنہ اور چند کلومیٹر سفر کریں تو اُنہیں اندازہ ہو جائے گا کہ کس طرح روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی سے لیکر ضلعی حکومتوں تک ہر حکومتی ادارہ اپنی ذمہ داری دوسرے کے کندھوں پر ڈال رہا ہے اور کس طرح نجی ملکیت میں فعال ٹرانسپورٹ نہ صرف شرح کرایوں میں من مانی کرتی ہے بلکہ ’اَن فٹ‘ گاڑیاں اور بناء لائسینس ڈرائیورز کی اکثریت عوام کی جان سے کھیل رہے ہیں۔ بارِدیگر تجویز ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے الیکٹرانک ٹکٹ گھر بنائے جائیں تاکہ اضافی شرح کرایہ وصول کرنے کی روک تھام ہو سکے۔ مذکورہ گاڑیوں کی ’فرنٹ اسکرین‘ پر گاڑی کا مقررہ روٹ‘ ڈرائیور کا نام‘ فٹنس لائسینس کی تفصیل اُور مسافر نشستوں کی کل تعداد درج ہونی چاہئے اور گاڑی کے روانہ ہونے سے قبل مسافروں کی جامہ اور ہمراہ سامان کی تلاشی ہونی چاہئے۔ 

صاف دکھائی دے رہا ہے اور اِس بارے سنجیدگی سے تحقیق ہونی چاہئے کہ بین الاضلاعی اور بین الصوبائی روٹس پر چلنے والی ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ کا استعمال غیرقانونی سرگرمیوں میں ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ کاروبار انتہائی منافع بخش ہونے کے ساتھ ایک ایسا مافیا بن چکا ہے کہ اِس میں چند معروف اداروں کے نئی سرمایہ کاری نہیں ہو رہی۔ صوبائی حکومت ’’پبلک ٹرائیویٹ پارٹنرشپ‘‘ کے تحت ٹرانسپورٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع متعارف کروا سکتی ہے۔ توجہ مبذول رہے کہ جہاں قوانین و قواعد پر بلاامتیاز اور خاطرخواہ عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ 

متعلقہ حکومتی ادارے کے درجہ بہ درجہ اہلکار مستفید ہو رہے ہیں جنہوں نے ذاتی مفادات کے لئے آنکھیں موند رکھی ہیں! جس کے باعث پاک افغان تجارتی معاہدے کے تحت غیرقانونی درآمدی اشیاء بالخصوص پارچہ جات‘ نئے و استعمال شدہ الیکٹرانک سازوسامان‘ گاڑیوں کے فاضل پرزہ جات اور منشیات کی اسمگلنگ بذریعہ پبلک ٹرانسپورٹ ہونے میں تعجب و حیرت کا اظہار کیسا!؟
۔
Provincial (KP) Motor Vehicle Ordinance 1965 need an overview
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=abbotabad&page=20&date=2017-11-23

Saturday, November 18, 2017

Nov 2017: Glossy picture of PUBLIC TRANSPORT not so glossy!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
چوری: سینہ زوری!
’پبلک ٹرانسپورٹ‘ سے جڑے دکھوں (مشکلات) میں یہ بات بھی شامل ہے کہ صرف اُور صرف ’تھکی ہوئی مسافر گاڑیوں میں سوار عام آدمی (ہم عوام) کو شک کی نگاہ سے دیکھا جائے کہ اِنہی میں دہشت گردوں سے لیکر منشیات فروشوں اور غیرقانونی طور پر اشیاء کی نقل و حمل کرنے والے پائے جاتے ہیں۔ 

مرغیوں کی طرح ڈبوں میں بند‘ کسی گاڑی کی گنجائش (seating capacity) سے زیادہ مسافروں کو سوار کرنا ایک الگ سا معمول بن گیا ہے۔ بین الاضلائی راستوں (روٹس) پر پبلک ٹرانسپورٹ سے جڑی شکایات کو پانچ بنیادی درجات میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ 1: ریجنل ٹرانسپورٹ اٹھارٹی کی جانب سے مقررہ کئے گئے (شرح) کرائے سے زیادہ وصولی کی جاتی ہے۔ 2: گاڑی کی ظاہری اور انجن کی حالت (fitness) لمبے سفر کے قابل نہ ہونے کے باوجود ایسی گاڑیوں کا استعمال عام ہو رہا ہے جو ’ماحول دوست‘ نہیں اور جن میں مسافروں کو دی جانے والی نشستیں نہ تو آرام دہ ہیں اور نہ ہی خواتین‘ بچوں اور ضعیف العمر افراد کے لئے زیادہ موزوں ہیں۔ 3: ڈیزل ایندھن کے تناسب سے مقررہ کرائے وصول کرنے والی گاڑیوں کو سستے ایندھن (سی این جی) سے چلانے کے باوجود بھی زیادہ کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔ ایسی ’سی این جی‘ گاڑیوں میں لمبی مسافت طے کرنے کے لئے ایک سے زیادہ گیس ٹینک نصب ہوتے ہیں۔ یوں مسافر کم یا زیادہ فاصلے کے سفر میں مستقل خطرات سے دوچار رہتے ہیں۔ 4: پبلک ٹرانسپورٹرز مسافروں سے صرف زائد کرایہ ہی وصول نہیں کرتے بلکہ اُن کا رویہ اِنتہاء درجے کا مغرور اور ہتک آمیز بھی ہوتا ہے۔ مسافروں سے اُن کے دستی سامان کا الگ سے کرایہ وصول کرنا بھی ایک معمول ہے‘ جن پر بالخصوص تہواروں یا خصوصی ایام میں باقاعدگی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ 5: پبلک ٹرانسپورٹ سے استفادہ کرنے والوں کے پاس چونکہ کوئی متبادل (option) ہی نہیں اِس لئے وہ ’نجی ٹرانسپورٹرز‘ کی کسی بھی ’جارحانہ اَدا (روئیوں)‘ کا (قطعی) بُرا نہیں مناتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ شکایت کریں گے تو کس سے اُور اگر انصاف چاہیں گے تو کون ہے جو عام آدمی (ہم عوام) کی فریاد جانب توجہ فرمائے۔ بنیادی سوال یہی ہے کہ بین الاضلاعی و صوبائی روٹس پر ’’حاجی کیمپ‘ پشاور بس ٹرمینل‘ چارسدہ روڈ اور کوہاٹ روڈ جیسے بڑے ’بس اَڈوں‘ کے اصل حاکم کون ہیں؟ حکومتی اِدارے ’نجی ٹرانسپورٹرز‘ کے مفادات کا تحفظ کرنے میں فعال لیکن عام آدمی (ہم عوام) کی مشکلات اور درپیش مسائل کے بارے فکرمند کون ہے؟

خیبرپختونخوا کے کل ’’سات ڈویژنز (مالاکنڈ‘ ہزارہ‘ مردان‘ پشاور‘ کوہاٹ‘ بنوں اُور ڈی آئی خان)‘‘ میں شامل تین اضلاع (چارسدہ‘ نوشہرہ اور پشاور) پر مشتمل ’’پشاور ڈویژن‘‘ سے مقامی اور بین الاضلاعی و بین الصوبائی روٹس پر چلنے والی مسافر گاڑیوں (پبلک ٹرانسپورٹ) کی کل تعداد ’’پندرہ سے سولہ ہزار‘‘ بتائی جاتی ہے (اس سلسلے میں درست اعدادوشمار کیوں موجود نہیں‘ یہ سوال اپنی جگہ لمحۂ فکریہ ہے)۔ 

پبلک ٹرانسپورٹ کے مذکورہ نظام کو قواعد و ضوابط کا پابند رکھنے کے لئے پشاور میں ’’23 چھوٹے بڑے اَڈے‘‘ بنائے گئے ہیں جن میں سے صرف ایک (پشاور بس ٹرمینل) ’ڈائریکٹوریٹ آف ٹرانسپورٹ‘ جبکہ باقی ماندہ کا نظم و نسق اور جملہ انتظامات (مینجمنٹ) ہر ضلع کی طرح پشاور کی ’مقامی (بلدیاتی) حکومت‘ کے پاس ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے بظاہر سیدھے سادے لیکن اِس ’پیچیدہ نظام‘ کا ایک اُور اعلیٰ و بالا نگران ادارہ ’ٹرانسپورٹ اتھارٹی‘ ہے جس کے مذکورہ سات ڈویژنز میں الگ الگ دفاتر ہیں اُور اِنہیں ’’ریجنل ٹرانسپورٹ اٹھارٹیز (آر ٹی اے)‘‘ کہا جاتا ہے۔ ’آرٹی اے‘ پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے راستوں (روٹس) کے انتخاب‘ اِن راستوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کے اجازت ناموں (روٹس پرمٹ) کے اجرأ‘ اُور فی مسافر (فی نشست) شرح کرائے کا تعین کرتی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی کسی بھی گاڑی کو ’روٹ پرمٹ‘ جاری کرنے کے لئے بنیادی طور پر ’چار روٹس‘ بھی تشکیل دیئے گئے ہیں جن کی درجہ بندی انگریزی حروف تہجی ’اے‘ بی اُور سی‘ سے کرتے ہوئے ’اے‘ نامی ’’روٹ پرمٹ‘‘ اُن گاڑیوں کو دیئے جاتے ہیں جن کی رجسٹریشن کی تاریخ 9 سال تک ہو۔ ’بی‘ نامی روٹ پرمٹ 11 سال تک کی رجسٹریشن رکھنے والی گاڑیوں جبکہ ’سی‘ نامی کٹیگری کے لئے ’عمر کی کوئی قید نہیں‘ بس گاڑی کا فٹ (fit) ہونا ضروری ہے اور یہ روٹ پرمٹ عموماً دیہی علاقوں کے درمیان چلنے والی گاڑیوں کو جاری کئے جاتے ہیں! 

’آر ٹی اے‘ افرادی قوت اور مالی وسائل نہیں رکھتی اُور اُسے زیادہ کرائے وصول کرنے اور گنجائش سے زیادہ مسافروں جیسی شکایت سے نمٹنے کے لئے ٹریفک پولیس کے تعاون ضرورت پڑتی ہے تو معلوم ہوا کہ کوئی ایک بھی ایسا محکمہ نہیں کہ جسے ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ سے جڑے مسائل کے لئے ذمہ دار (قصوروار) قرار دیا جائے! جس سے بات کرو‘ وہ خود کو ’’بری الذمہ‘‘ قرار دیتا ہے! 

پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے شکایات کے بارے میں ’ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی پشاور‘ کے ذمہ دار (سیکرٹری محمد ندیم اختر) کہتے ہیں کہ ’’اُن کے پاس قانون و قواعد کے اطلاق کے لئے درکار افرادی قوت اور مالی وسائل کی کمی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے ناموں کی جانچ پڑتال کے لئے تین افراد پر مشتمل ٹیم دفتری اوقات مخصوص ہے جس کی 23 مقامات پر بیک وقت موجودگی ممکن نہیں۔ ’آر ٹی اَے‘ حکام ’ٹریفک پولیس‘ کے محتاج رہتے ہیں‘ جن کی افرادی قوت کے ساتھ مل کر گشتی ٹیمیں تشکیل دی جاتی ہیں۔ (اِکا دُکا) گاڑیوں کو روک کر مسافروں سے استفسار کیا جاتا ہے اور زائد کرایہ وصول کرنے والے ڈرائیوروں کو جرمانہ کرنے کے علاؤہ اضافی کرایہ واپس دلایا جاتا ہے۔‘‘ 

حیرت انگیز امر یہ ہے کہ جن بس اڈوں میں کھلے عام اضافی کرایہ وصول کیا جاتا ہے اور جہاں سے ’لوڈ‘ ہو کر گاڑیاں نکلتی ہیں وہاں ’آرٹی اے‘ حکام کی موجودگی دکھائی نہیں دیتی‘ حالانکہ سڑکوں کی خاک چھان کی بجائے کرائے ناموں پر حسب شرح کا اطلاق اور عملاً قواعد پر باآسانی عمل درآمد بس ٹرمینلز میں ممکن ہے! یہ امر قطعی تعجب خیز نہیں ہوگا کہ پشاور سمیت ہر ضلع میں ’آر ٹی اے‘ اہلکار اور نجی ٹرانسپورٹرز کی ملی بھگت سے عام آدمی (ہم عوام) کو لوٹنے کا سلسلہ تحریک انصاف کے موجودہ دور حکومت میں بھی پوری ’سینہ زوری‘ سے جاری ہے۔ 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک سے درخواست ہے کہ وہ مقامی‘ بین الاضلاعی اور بین الصوبائی روٹس پر ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ سے متعلقہ عام آدمی (ہم عوام) کے مسائل و مشکلات جاننے کے لئے ’ہیلپ لائن‘ قائم کریں‘ جس میں فون کال‘ واٹس ایپ اُور ٹوئٹر کے ذریعے شکایت درج کرنے کی سہولت ہونی چاہئے۔ فوری طور پر ’بس ٹرمینلز‘ میں کمپیوٹرائزڈ ٹکٹوں کے اجرأ (ٹکٹ گھروں کے قیام) کا حکم دیں اور ہر روٹ پر مسافر گاڑیوں کی فرنٹ سکرین پر ایسے اسٹکرز چسپاں کروائیں جن میں گاڑی کی کٹیگری‘ روٹ کی نشاندہی‘ فی نشست کرایہ اور زیادہ سے زیادہ مسافروں کی تعداد (حسب گنجائش) جیسی تفصیلات (معلومات) درج ہو۔
۔
Issues regarding Public Transport on inter-district & inter-provincial routes
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2017-11-18

Thursday, June 15, 2017

June2017: Hurdles & drive of the Rapid Bus Project for Peshawar!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
ڈبوتی کشتی!
پاکستان تحریک اِنصاف کی قیادت میں ’خیبرپختونخوا‘ کی موجودہ حکومت کے چار سال یہ یقین دلانے میں گزار دیئے کہ ’پشاور کو تیزرفتار ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ سروس (بس ریپیڈ ٹرانزٹ)‘ دی جائے گی‘ اور آخری (پانچویں) مالی سال کے آغاز پر ’ریپیڈ بس ٹرانزٹ‘ منصوبے میں تاخیر کی بنیادی وجہ (قصوروار) وفاقی حکومت کو قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ اِس عوامی منصوبے کی راہ میں روڑے اٹکا رہی ہے۔ 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے خصوصی مشیر برائے ’امورِ ٹرانسپورٹ‘ شاہ محمد وزیر چاہتے ہیں کہ اُن کا یقین کرتے ہوئے مان لیا جائے کہ ’’مذکورہ منصوبے کے لئے وفاقی حکومت سے دو سال قبل ریلوے کی اراضی لیز پر دینے کی درخواست کی گئی تھی جسے مسترد کرتے ہوئے معاملہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا جہاں عرصہ دو سال سے زیرالتوأ اِس درخواست کی قسمت کا فیصلہ نہیں کیا جا رہا!‘‘ اگر ہمارے مشیر و معاونین ’لابنگ‘ کے ذریعے وفاقی حکومت کو قائل نہیں کرسکتے تو ایسے کردار کس مرض کی دوا ہیں؟ 

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کس بنیاد پر یہ تصور بھی کر سکتی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی وفاقی حکومت ایک ایسے ماحول میں خاطرخواہ دردمندی (صلۂ رحمی) کا مظاہرہ کرے گی جبکہ اُسے ’پانامہ کیس‘ میں نااہلی کے قریب اور بند گلی میں دھکیلنے والوں میں پیش پیش اُور سب سے زیادہ سرگرم تحریک انصاف ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا بالخصوص پشاور کو اِس بات کی سزا دی جارہی کہ اِس نے مئی دوہزارتیرہ کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کو ووٹ دیا ہی کیوں!؟ یاد رہے کہ پشاور سے خیبرپختونخوا اسمبلی کی گیارہ نشستوں میں سے دس اور قومی اسمبلی کی اکثریتی نشستوں پر تحریک انصاف نے انتخابی کامیابیاں حاصل کی تھیں اُور ماضی جیسی مقبولیت نہ سہی لیکن ’تحریک اِنصاف‘ کا ووٹ بینک ہر اِنتخابی حلقے میں مدمقابل کسی بھی سیاسی جماعت کو ’ٹف ٹائم‘ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اَگر شروع دن سے ’سیاسی پختگی (معاملہ فہمی)‘ بصیرت و دانشمندی سے کام لیا جاتا اُور مقامی قیادت (کارکنوں) پر اِعتماد کرتے ہوئے ’تحریک اِنصاف کی تنظیمیں‘ مضبوط کی جاتیں تو ایک ایسی صورتحال یقیناًپیش نہ آتی جس میں وفاق خیبرپختونخوا حکومت اور خیبرپختونخوا کے رہنے والوں کو دو الگ الگ اکائیوں کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ طاقت کا سرچشمہ بہرحال عوام ہی ہوتے ہیں! وزیراعظم سمیت وفاقی حکومت کے ہر کردار کو اپنے کردار کا تعین کرنا ہوگا کہ وہ ’وفاق پاکستان‘ کی علامت ہیں اور محض سیاسی وجوہات و مخالفت کی بناء پر کسی ایک صوبے کے رہنے والوں کو یوں ترقی سے محروم نہیں رکھ سکتے! جبکہ یہ طرزعمل آئین کی عملی خلاف ورزی کے زمرے میں بھی شمار ہوتی ہے۔

پشاور کے ’ریپیڈ بس ٹرانزٹ‘ کے لئے ریلوے کی اراضی نہ دینے کا جواز یہ دیا جاتا ہے کہ وفاقی حکومت پشاور سے طورخم (افغانستان سرحد) تک ریلوے لائن کو دو رویہ کرنا چاہتی ہے اور اِس توسیعی منصوبے کی وجہ سے ریلوے کی اراضی اجارے (لیز) پر نہیں دے سکتی جبکہ برسرزمین حقیقت یہ ہے کہ پشاور سے طورخم ریل پٹڑی (ریلوے لائن) کی بطور معمول دیکھ بھال تک نہیں کی جاتی اور خیبرایجنسی کے سنگلاخ پہاڑی علاقوں سے گزرنے والی پٹڑی کئی مقامات پر ہوا میں معلق دکھائی دیتی ہے! جہاں ریلوے کا ’سنگل ٹریک‘ ہی موجود نہیں وہاں ’ڈبل ٹریک‘ کی باتیں کرنا ایک ایسے مفروضے کو پیش کرنے جیسا ہے جو کسی بھی صورت ایک ایسے ادارے کے لئے عملاً قابل عمل نہیں جو مالی بحران سے دوچار ہواور جس کے پاس ملازمین کی ماہانہ تنخواہیں اَدا کرنے کے لئے بھی مالی وسائل نہ ہوں! اگر وفاقی حکومت ریلوے اور پی آئی اے کو ’بیل آؤٹ پیکجز‘ نہ دے تو یہ ادارے کب کے دیوالیہ (ختم) ہو چکے ہوتے! وفاق کو یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ سیاسی بدنیتی پر مبنی اُن کے فیصلے کہ ’ریپیڈ بس ٹرانزٹ‘ کے لئے اراضی نہ دینے کی وجہ سے خیبرپختونخوا کے عوام میں ’نواز لیگ‘ کے بارے کوئی ’فقیدالمثال‘ تاثر پیدا نہیں ہو رہا جو اپنی آنکھوں سے ہوتا دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان کے وسائل پر صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے حکمران کس طرح مسلط ہیں اور یہ بات چھوٹے صوبوں میں پائے جانے والے احساس محرومی میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ کیا آئندہ عام انتخابات میں ’نواز لیگ‘ کو خیبرپختونخوا سے حمایت کی قطعی کوئی ضرورت نہیں؟

جاننے کے باوجود بھی نہایت ہی بیدردی سے وقت ضائع کیا گیا اُور اب پشاور کے لئے تیزرفتار بس سروس منصوبہ ’تحریک انصاف‘ کی مجبوری بن گئی ہے‘ جس کے پاس ’پشاور‘ کے سامنے اپنی کارکردگی رکھنے کی دوسری کوئی بھی صورت (کارکردگی) باقی نہیں رہی! یاد رہے کہ ’ریپیڈ بس ٹرانزٹ‘ کی تعمیر پرلاگت کا کل تخمینہ ’49 ارب (49.346بلین) روپے‘ لگایا گیا ہے جس کے لئے 41 ارب (41.86بلین) روپے ’ایشیائی ترقیاتی بینک‘ سے پچیس سال کی آسان اقساط (سافٹ لون) کی صورت حاصل ہوں گے۔ صوبائی حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ پشاور کا ’ریپیڈ بس ٹرانزٹ‘ منصوبہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے سستا ایسا منصوبہ ہوگا جس کا موازنہ اگر لاہور (صوبہ پنجاب کے درالحکومت) سے کیا جائے تو اسی نوعیت کے ترقیاتی منصوبے پر فی کلومیٹر لاگت ’82 فیصد‘ کم آئے گی! شفافیت شرط ہے۔ ترقی کے عمل سے متعلق ادارہ جاتی حکمت عملی ہو‘ سیاسی بیان بازی ہو یا پھر اعدادوشمار پر مبنی تفصیلات‘ ہر مرحلہ ’شکوک و شبہات‘ سے بالاتر ہونا چاہئے۔ پشاور کے لئے بس منصوبے پر کل لاگت کے تخمینے سے متعلق کئی قسم کے دعوے اور اعدادوشمار پر مبنی دستاویزات زیرگردش ہیں اور اگر صوبائی حکومت کی بجٹ دستاویز کو حتمی تسلیم کرتے ہوئے یقین کیا جائے تو رواں برس (دوہزار سترہ) میں اِس منصوبے پر کام کا آغاز ہو جانا چاہئے جس کی تکمیل کے لئے چھ سے آٹھ ماہ درکار ہوں گے یعنی ’ریپیڈ بس ٹرانزٹ‘ (کا پھل) ایک ایسے وقت میں (پک کر) تیار ہو جائے جب ’عام انتخابات‘ سر پر ہوں گے! اُمید کی جاسکتی ہے کہ دوہزار پندرہ سے منصوبے کی حکمت عملی (فزیبلٹی) تیار کرنے کے بعد رواں برس مرحلہ وار ’ریپیڈ بس ٹرانزٹ‘ پر کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔ خیبرپختونخوا وفاق کے روئیوں پر نہیں بلکہ ووٹ (اپنی حمایت) کارکردگی کی بنیاد پر دے گا۔ تحریک انصاف تسلی بخش جواب دے کہ آئندہ عام انتخابات میں کیوں نہ ’نواز لیگ‘ یا اُن کے اتحادیوں کو ووٹ دیا جائے‘ جو کم سے کم خیبرپختونخوا اُور بالخصوص پشاور کے مسائل و مشکلات میں کمی کرنے کی ٰزیادہ بہتر پوزیشن میں ہوں گے! 
’’اب نزع کا عالم ہے مجھ پر‘ تم اپنی محبت واپس لو۔۔۔ 
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اُتارا کرتے ہیں! (اُستاد قمر جلالوی)‘‘

Friday, April 7, 2017

Apr2017: Rapid Bus Transit Project for Peshawar!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
پشاور: اِحساس کی دُنیا!
صوبائی حکومت کی جانب سے پشاور کے لئے تیزرفتار ’’پبلک ٹرانسپورٹ سروس (بس ریپڈ ٹرانزٹ)‘‘ منصوبہ کب شروع اُور مکمل ہوگا‘ اِس بارے میں کوئی بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی لیکن ’اُنتیس کلومیٹر‘ طویل ’باون اِعشاریہ چھتیس اَرب روپے‘ مالیت کے جس منصوبے کا خواب گذشتہ تین برس سے دکھایا جا رہا ہے‘ اُس کے بارے میں ’ضلعی اِسمبلی اِجلاس‘ میں بحث کا خلاصہ یہ رہا کہ ضلعی حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے اراکین نے اظہار اطمینان جبکہ حزب اختلاف کی جماعت عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے ضلع اسمبلی کے اراکین نے اِسے مقامی افراد کی مالی استطاعت سے متصادم قرار دیا ہے۔ رواں ہفتے ضلعی اسمبلی کے اَیوان میں ہونے والی ایک روزہ (چند گھنٹوں کی نشست اور) بحث کی تفصیلات اپنی جگہ ’کم سے کم‘ بلدیاتی نمائندوں کو ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ سے جڑی ’اہل پشاور کی تکالیف کا احساس تو ہوا ہے اور اگرچہ اِس احساس میں احساس ندامت شامل نہیں لیکن پھر بھی یہ اپنی جگہ اہم ضرور ہے!

پشاور کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ کی ضرورت مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں سبھی سیاسی جماعتوں کے منشور کا حصہ تھی اُور اِس ضرورت سے آج بھی انکار نہیں کیا جا رہا لیکن ایک طبقہ تمام تر اختیارات اور وسائل رکھنے کے باوجود اِس مسئلے کا فوری یا مرحلہ وار حل نہیں دے رہا تو دوسرا اِس فیصلے کی سیاسی مخالفت کرتے ہوئے ایسے شکوک و شبہات پیدا کر رہا ہے‘ جس کی انتہاء نہیں جیسا کہ یہ کہنا کہ بس کا کرایہ پچاس روپے فی سواری مقرر کرنا ظلم ہے اور اگر اُنہیں برسرزمین حقائق کا علم ہوتا تو کبھی بھی یہ نکتہ نہ اُٹھاتے کہ پشاور کی ملازمت پیشہ اُور طالب علموں پر مشتمل اکثریت پبلک ٹرانسپورٹ سے اِستفادہ کرتی ہے جنہیں پچاس روپے سے زیادہ کرایہ اُور ہر روز جس ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘ اُس کا حساب ممکن ہی نہیں! اُنتیس کلومیٹر طویل بس منصوبے کے بارے میں ’پشاور کی ضلعی اسمبلی‘ کو دی جانے والی بریفنگ کا مقصد اِس منصوبے کا تعارف نہیں تھا لیکن صوبائی حکومت کی کوشش تھی کہ اِس منصوبے پر غوروخوض کرتے ہوئے مثبت تجاویز سامنے آئیں لیکن شاید ہمارے ہاں جمہوریت اُور جمہوری رویئے ابھی اتنے توانا نہیں ہوئے کہ اجتماعی بہبود کے تصورات سیاسی مفادات پر حاوی ہو جائیں۔ عوام کے منتخب نمائندے چاہے بلدیاتی ہوں یا قانون ساز ایوانوں کے معززین‘ سبھی ایک قدر مشترک یہ ہے کہ ’پشاور سے محبت کی بنیاد پر نہ تو تعلقات اِستوار ہیں اُور نہ ہی مخالفت برائے مخالفت کی وجہ پشاور کے وسائل و مسائل ہیں۔‘ پبلک ٹرانسپورٹ کی طرح پینے کے صاف پانی کی فراہمی‘ نکاسئ آب اُور گندگی تلف کرنے جیسی چار بنیادی ضروریات کی فراہمی کس کی ذمہ داری ہے؟ صوبائی حکومت کی جانب سے ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ کو جدید خطوط پر اِستوار کرنے کا دعویٰ اُور یہ کہنا کہ ’تھرڈ جنریشن بس سروس‘ چین کے بعد اَگر دُنیا کے کسی دوسرے حصّے میں فعال ہو گی‘ تو وہ پشاور ہوگا‘ تو اگر چین ہی ترقی کے معیار کی کسوٹی ہے‘ تو پھر شہری زندگی کی دیگر بنیادی سہولیات کا معیار بھی عوامی جمہوریہ چین ہی مساوی ہونا چاہئے۔ ہمارے ہاں تحقیق و ترقی کا معیار اِس حد تک گر چکا ہے کہ ہمارے ماہرین اگر اپنے ہاں کی ضروریات کے مطابق ایک بس سروس بھی نہیں دے سکتے اور سب کچھ اگر درآمد ہی کرنا ہے تو پھر پورے کا پورا ’خیبرپختونخوا‘ ہی چین کو ٹھیکے پر کیوں نہیں دے دیا جاتا؟ 

ہمارے تعمیراتی اُور شہری ترقی کے اِداروں کی کارکردگی اُور فیصلہ سازوں کے اثاثوں میں اضافہ اگر کسی کو سمجھ نہ آ رہا تو ’چیچک زدہ سڑکیں‘ اُور اہل پشاور کو فراہم ہونے والا مضر صحت پانی دیکھ لے۔ آخر کس چیز کی کمی ہے ایک سے بڑھ کر ایک مالی و انتظامی بدعنوانیوں کی مثالیں بکھری پڑی ہیں اُور جنہوں نے پشاور کے وسائل کو لوٹ کھایا‘ جنہوں نے قبرستانوں کی اراضی کو بھی نہ بخشا‘ وہی خاندان اور اُنہی خاندانوں کی ایک نئی نسل کو فیصلہ سازی سونپ دی گئی ہے! بنیادی سوال اُور لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ پشاور کے لئے تیزرفتار بس سروس (پبلک ٹرانسپورٹ) منصوبے کی شفافیت کا معیار کیا ہوگا؟ 

ماضی میں بنائے جانے والے فلائی اُوورز‘ سڑکیں‘ نکاسئ آب کے چھوٹے بڑے منصوبے اُور دیگر تعمیراتی کاموں میں ہوئی مالی بدعنوانیوں کے مقدمات قائم ہوئے۔ اَربوں کی کرپشن کرنے والے لاکھوں روپے ادا کرکے ’باعزت بَری‘ ہوتے رہے تو کیا پشاور میں ترقی کے نام پر بدعنوانی کی تاریخ ایک مرتبہ پھر دہرائی جائے گی؟ منصوبے کے نگران ضلعی ناظم اُور صوبائی حکومت کا تعلق ایک ہی سیاسی جماعت سے ہونے کی وجہ سے مالی معاملات میں شفافیت کے بارے شکوک و شبہات پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے اُور اگر تعریف و توصیف پیش نظر نہیں تو ضلعی اسمبلی میں عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ (نواز) کے اراکین کو بھی اُن نگرانوں میں شامل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں‘ جو معترض بھی ہیں لیکن ایک ایسے جرم کے مرتکب بھی کہ جب پشاور کی ترقی کے لئے مختص مالی وسائل بنوں اور مردان کے اَضلاع میں خرچ ہو رہے تھے‘ جب ترقیاتی کاموں میں حصہ داری (کمیشن) باقاعدہ و باضابطہ پارٹی فنڈ (چندے) کے نام پر وصول کیا جاتا تھا۔ 

پشاور کو یاد ہوگا جب سیاسی رہنماؤں کے لئے ’ایزی لوڈ‘ جیسی اصطلاحات عام تھیں تو کیا ماضی کا مقابلہ موجودہ تبدیلی سے ممکن و جائز ہوگا جبکہ سرکاری اِدارے اپنے فیصلوں میں زیادہ خودمختار و آزاد بھی ہیں اور کیا ایسے سیاسی فیصلہ سازوں کے کردار پر انگلی اُٹھائی جا سکتی ہے‘ جنہوں نے اصلاحات کی صورت ایسی مثالیں قائم ہیں جن کی ماضی میں مثال نہیں ملتی‘ اے کاش کہ تبدیلی کا یہ عمل مثالی شفافیت کے ساتھ ناقابل یقین حد تک سست رفتار نہ ہوتا!

Tuesday, April 4, 2017

Apr2017: Spare parts smuggling business!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
باسہولت قانون شکنی!
اَصل (بنیادی) مسئلہ یہ ہے کہ معاشرے کے بااثر اُور فیصلہ سازی کے منصب پر فائز کردار‘ اپنی اپنی حیثیت کے مطابق ’قانون شکنی‘ میں ’’ملوث‘‘ ہیں اُور جب تک قانون کے اِحترام کی عملی مثالیں ’اُوپر سے نیچے (اعلیٰ سے ادنیٰ تک)‘ منتقل نہیں ہوتیں‘ اُس وقت تک بہتری تو بہت دُور کی بات حالات مزید بگڑتے چلے جائیں گے۔ جرائم پیشہ عناصر گروہوں کی صورت معاشرے کے لئے مستقل خطرہ بنے رہیں گے۔ ایک ایسے ماحول میں دہشت گرد اُور اِنتہاء پسند عناصر کو بھی ’پھلنے پھولنے‘ کے مواقع میسر آتے ہیں‘ جہاں قانون ’پر عمل درآمد‘ سب کے نزدیک الگ الگ معنی رکھتا ہو۔

قانون ساز اسمبلی کے اراکین کی اکثریت کے پاس ایسی گاڑیاں ہیں جو ’آف روڈ (off road)‘ کہلائی جاتی ہیں۔ اِن ’دیوہیکل گاڑیوں‘ کی ساخت میں اِس بات کا بطور خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ اِنہیں ایسی ’اُونچی نیچی (ناہموار) اُور دلدلی یا پتھریلے راستوں پر اِستعمال کیا جائے گا جہاں عمومی اِستعمال کی موٹرگاڑیاں نہیں چل سکتیں۔ موٹے موٹے ٹائروں والی ایسی گاڑیوں کا اِستعمال ایک فیشن بھی ہے اور اِن سے کسی شخص کی مالی حیثیت اُور مرتبے کا اندازہ بھی ہوتا ہے‘ چونکہ ایک سے پانچ کروڑ روپے مالیت کی یہ درآمد شدہ ’فور بائی فور‘ گاڑیاں رکھنے والوں کا ایک مقصد اپنی دولت و امارت (مالی رعب و دبدبے) کا اظہار بھی کرنا ہوتا ہے اِس لئے یہ ’نیا رجحان‘ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ ایک ہی قسم (ماڈل) اُور رنگ کی (ایک جیسی) دو ’لینڈ کروزر‘ یا اِس قسم کی ’آف روڈ‘ گاڑیاں آگے پیچھے ایک قطار (کاروان) کی صورت دکھائی جائیں! جن کے اگر شیشوں پر ’سیاہ رنگ‘ کے اِسٹکرز بھی چسپاں ہوں تو کیا پھر گاڑی کے مالک کی شان ہی نرالی ہوتی ہے۔ ایک اُور منفی رجحان یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ گاڑی کی نمبر پلیٹ قانون نافذ کرنے والے اِداروں بالخصوص فوجی گاڑیوں کی طرح مستقل نہ لگائی جائیں بلکہ نمبر پلیٹیں اِس طرح سے لگائی جائیں کہ اُنہیں تبدیل کرنا آسان ہو۔ فوج کے اعلیٰ حکام (ون سٹار بریگیڈئرز) کی گاڑیوں سے اِس قسم کی تختیاں نصب کرنے کی اِبتدأ ہوتی ہے جن کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دفتری اوقات اُور وردی کے بغیر وہ سرکاری نمبر اور ستارہ (سٹار) لگی سرخ رنگ کی تختی کا استعمال نہ کریں۔ غیرملکی سفارتکاروں اور حاضر سروس پولیس کے اعلیٰ حکام کو بھی اِسی قسم کی نمبر پلیٹ والی گاڑیاں رکھنے کی اجازت دی گئی ہے اُور اِن کی دیکھا دیکھی یہ رجحان عوام الناس کو منتقل ہو گیا ہے جس کے خلاف ٹریفک پولیس اہلکاروں کو سخت کاروائی کرنی چاہئے لیکن عموماً اِیسی بڑی گاڑیوں کو روکنے کی ہمت و جرأت ’ٹریفک پولیس اہلکاروں‘ میں نہیں ہوتی! جو دل سے جانتے ہیں کہ کروڑ سے پانچ کروڑ روپے کی گاڑی کا مالک قطعی طور پر ’’عام‘‘ نہیں ہو سکتا۔
گاڑیوں کے فاضل پرزہ جات کے لئے پشاور کا رُخ کرنے والوں کو پہلا پڑاؤ ’’شعبہ بازار‘‘ ہوتا ہے جہاں جدید ماڈل کی نئی (اِلیکٹرانک) اُور پرانی گاڑیوں کے اِستعمال شدہ پرزہ جات نہایت ہی اَچھی حالت میں مل جاتے ہیں۔ 

کوئی پوچھنے والا نہیں کہ اِس قدر بڑی مقدار میں استعمال شدہ پرزہ جات کہاں سے آتے ہیں جنہیں عرف عام میں ’’کابلی‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ’کابلی سپیئر پارٹس‘ درحقیقت چوری شدہ گاڑیوں سے نکالے گئے ہوتے ہیں اور ملک کے مختلف حصوں سے یہ پرزہ جات پشاور کی منڈیوں میں لائے جاتے ہیں۔ ایسے پرزہ جات کی ایک بڑی مقدار اسمگل (غیرقانونی طور پر درآمد) ہونے کے مناظر ’طورخم‘ سرحد پر عام دیکھے جاسکتے ہیں جہاں ہتھ ریڑھیوں پر اِن پرزہ جات کو بچے منتقل کر رہے ہوتے ہیں اور یہ سب کچھ اتنی برق رفتاری سے ہو رہا ہوتا ہے کہ پاک افغان سرحد پر تعینات فوج اور حتی کہ خفیہ اداروں کے اہلکار بھی نہیں دیکھ پاتے! لب لباب یہ ہے کہ جب تک قومی خزانے سے تنخواہیں اور مراعات لینے والے پاکستان سے عملاً وفادار نہیں ہوں گے اُس وقت تک عام آدمی (ہم عوام) جس قدر بھی حب الوطنی کی تجدید اور عہد کرتے رہیں‘ قومی ترانے کے احترام میں چاہے ایک ہی پاؤں پر کیوں نہ کھڑے رہیں ٹس سے مس (کھکھ) فائدہ نہیں ہوگا۔

’شعبہ بازار‘ کے بعد استعمال شدہ ’پرزہ جات‘ کا دُوسرا (بڑا) مرکز پشاور ہی کے ’قمردین گڑھی‘ میں واقع ہے اور پشاور کے رنگ روڈ براستہ کارخانو خیبرایجنسی سے متصل اِس واحد دکان کے بارے میں قانون نافذ کرنے والے اِداروں کی لاعلمی پر تعجب ہوتا ہے۔ جہاں سے ’واٹس ایپ‘ کے ذریعے بھی خریدوفروخت ہوتی ہے۔ خریدار ملک کے کسی بھی حصے میں بیٹھ کر ’درکار (مطلوب)‘ پرزے کی تصویر ’واٹس اَیپ‘ کے ذریعے اِرسال کرتا ہے‘ جس کی قیمت بذریعہ بینک یا موبائل فون (اِیزی پیسہ وغیرہ) ادا کرنے والوں کو مطلوبہ پرزہ بذریعہ ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ اِرسال کردیا جاتا ہے۔ یہ ’ٹیکس فری کاروبار (لین دین)‘ سینکڑوں ہزاروں یا لاکھوں روپے نہیں بلکہ کروڑوں روپے مالیت ہے‘ لیکن کسی کو دکھائی نہیں دے رہا!
شعبہ بازار ہو یا گھڑی قمر دین‘ ملک کے مختلف حصوں میں گاڑیوں کے استعمال شدہ فاضل پرزہ جات کی خریدوفروخت کے مراکز قائم ہیں اُور اِس صورتحال کا نسبتاً زیادہ سنجیدہ پہلو یہ ہے کہ حکومتیں گاڑیاں بنانے والے شعبے کے مفادات کی محافظ ہے اور اگر کوئی شخص اِس شعبے میں موجود مختلف اقسام کے بگاڑ کو نزدیکی سے جاننا چاہتا ہو تو اُسے ہمارے کمزور سرحدی انتظام اور بڑی سطح پر ’بے ضابطہ معیشت‘ کا جائزہ لینا ہوگا۔ 

آخر ہمیں خیبرپختونخوا اُور بلوچستان میں بڑھتی ہوئی ’’کابلی گاڑیوں‘‘ کی بصورت پرزہ جات تجارت کیوں دکھائی نہیں دے رہی! 

کیا ہم عقل کے اَندھے ہو چکے ہیں یا دانستہ آنکھیں موند لینے کے پیچھے اِنتظامی عہدوں پر فائز افراد کی حرص و طمع ہے جس کو کسی کروٹ سکون نصیب نہیں ہورہا! تصور کیجئے اُور داد دیجئے کہ انتظامی عہدوں پر فائز افراد نے ’کتنی صفائی‘ اُور ’کتنے قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نہ صرف عام آدمی (ہم عوام) کے لئے ’اَمن و اَمان کا حصول‘ ایک خواب‘ اُمید اور دُعا بنا دیا ہے بلکہ راتوں رات اَمیر بننے کی ’’بے قرار خواہشات‘‘ کی وجہ سے ہماری معیشت اَن گنت خطرات سے دوچار ہے!

Friday, March 31, 2017

Mar2017: Jul so Jee - Public Transport Solution for Peshawar?

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
جلسو جی؟
پاکستان کے بڑے شہروں (کراچی‘ لاہور اُور اسلام آباد) کی سطح پر ’داخلی ذرائع آمدروفت (لوکل ٹرانسپورٹ)‘ کے شعبے میں نجی اِداروں کی سرمایہ کاری سے سہولت اُور اِداروں کے درمیان مقابلے کی وجہ سے صارفین کے لئے کم قیمت بالانشین خدمات میسر ہیں۔ درحقیقت ’کاریم (Careem)‘ نامی جس اِدارے نے جدید‘ محفوظ و آرام دہ موٹرگاڑیوں کے ذریعے کراچی میں ’لوکل ٹرانسپورٹ‘ متعارف کرائی تو یہ متحدہ عرب امارات کے 53 شہروں میں کامیابی سے جاری ایک تجربے کا تسلسل تھا اور پھر اِسی تجربے کی کامیابی و بڑھتی ہوئی مقبولیت دیکھتے ہوئے دیگر کئی عالمی اِداروں نے پاکستان میں قدم رکھا‘ جن میں’اُوبر (Uber)‘ نامی امریکی کمپنی بھی تھی جس سے سال دوہزار پندرہ وابستہ ڈرائیورز کی تعداد سات ہزار سے زیادہ اور سالانہ منافع گیارہ کھرب روپے سے زیادہ تھا لیکن پاکستان میں ’اُوبر‘ کی خدمات کا معیار ’کاریم‘ کی طرح اچھا نہیں رہا پھر بھی لوکل ٹرانسپورٹ کی سہولیات میں یہ ایک گرانقدر اضافہ تھا۔ 

کراچی کے بعد ’کاریم‘ سمیت دیگر عالمی و پاکستانی نجی اداروں کا دائرۂ کار لاہور اور اسلام آباد تک پھیلایا گیا لیکن جب پشاور کی بات آئی تو کسی ایک کمپنی نے بھی ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ کو منظم و فعال کرنے میں سرمایہ کاری کرنے پر آمادگی کا اظہار نہیں کیا اور اس کی ’ٹھوس وجوہات‘ بیان کی جاتی ہیں کہ ایک تو پشاور کی سڑکیں موجود ٹریفک ہی کا دباؤ برداشت کرنے کے قابل نہیں۔ عام آدمی کی قوت خرید (مالی سکت) دیگر شہروں کے مقابلے کم ہے۔ سڑکوں کی حالت ایسی ہے کہ کم فاصلہ طے کرنے میں بھی اکثر گھنٹے خرچ ہو جاتے ہیں۔ امن و امان کی خراب صورتحال بھی رکاوٹ ہے کہ صرف قبائلی علاقوں سے جڑی پٹی کے کئی حصے (نوگو ایریاز) ہی نہیں بلکہ حیات آباد جیسی ’جدید رہائشی بستی‘ میں قائم حفاظتی دیوار میں جابجا ’کھڑکیاں اور دروازوں‘ کی وجہ سے نجی سفر اور گاڑیاں نسبتاً محفوظ نہیں۔ علاؤہ ازیں ٹریفک کا بے ہنگم نظام ہے جس میں ڈرائیورز کی بڑی تعداد کے پاس ’ڈرائیونگ لائسینس‘ نہیں اُور پرانے ماڈلز کی ایسی سست رفتار و خراب گاڑیاں بھی استعمال ہو رہی ہیں جو ماحول دوست نہ ہونے کے علاؤہ ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹ ہیں۔ اِس حقیقت کا بھی انکار ممکن نہیں کہ خیبرپختونخوا میں ’بالخصوص و بالعروج‘ صحت و تعلیم کی طرح ٹرانسپورٹ کے شعبے پر مسلط نجی ادارے بطور مافیا اس حد تک مضبوط‘ منظم و متحد ہیں کہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے کسی بھی قسم کی سودا بازی کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ 

ذاتی مفادات کے اسیر (کاروباری سوچ) سب سے زیادہ چندہ دینے والے اور عام انتخابات میں سرمایہ کاری کرنے والوں میں پیش پیش رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ایسی کوئی بھی ’فیصلہ سازی (قانون سازی)‘ ممکن نہیں رہی‘ جس سے مقابلے کی فضاء پیدا ہو‘ خدمات کا معیار و مقدار بہتر ہو اور صارفین کے حقوق کا تحفظ ہو سکے۔

پشاور میں پبلک ٹرانسپورٹ کا بڑا اِنحصار ’آٹو رکشہ‘ پر ہے‘ جس میں فی کلومیٹر سفر کے نہ تو نرخ مقرر ہیں اور نہ ہی اِن تین پہیوں والی سواریوں کے لئے ’فٹنس سرٹیفکیٹس‘ جیسی ضرورت کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔  پہلے سے موجود ’ساٹھ ہزار سے زیادہ آٹو رکشاؤں اور موٹرسائیکلوں کے شہر میں ایک ایسی ’پبلک ٹرانسپورٹ سروس‘ کا آغاز ہونے جا رہا ہے جس کے لئے مزید آٹورکشہ اور موٹرسائیکل حاصل کئے جائیں گے اور اِس سروس کی خاص (مختلف) بات یہ ہوگی کہ اِن کی بکنگ دن یا رات کے کسی بھی وقت ’آن لائن‘ کی جا سکے گی۔ صارف کو خوف نہیں ہوگا کہ ڈرائیور کون ہے اور کہیں اُسے دیر رات گئے لوٹ تو نہیں جائے گا۔ اِس نئی سروس کا نام ’ہندکو زبان‘ کے الفاظ ’’جلسو جی؟‘‘ (کیا آپ سفر کرنا پسند کریں گے؟) سے ماخوذ ہے اور پشاور کی مختلف جامعات (یونیورسٹیز) سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے آٹورکشہ کے ذریعے 10 روپے اور موٹرسائیکل کی فی کلومیٹر سواری کی قیمت 8 روپے مقرر کی ہے۔ 

’آن لائن‘ بکنگ کے لئے ’کاریم‘ اور ’اُوبر‘ کی طرز پر ’ایپلی کیشن‘ بھی تخلیق کر لی گئی ہے جسے ’وہیلز (Vheelz)‘ کا نام دیا ہے اور اِس کے ذریعے ’جی پی ایس‘ پر مبنی صارف کی لوکیشن (محل وقوع) اور منزل کا تعین کیا جائے گا۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی دنیا میں یہ کوئی اچھوتا خیال نہیں لیکن اِس لحاظ سے قابل افسوس ہے کہ ملک کے دیگر حصوں میں گاڑیوں پر منحصر نظام پشاور پہنچنے کے بعد بھی ترقی نہیں کرسکا اُور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پشاور انواع و اقسام کے شورمچاتے‘ دھواں گرد اُڑاتے آٹوکشاؤں سے کبھی بھی نجات حاصل نہیں کر پائے گا! 

کیا آٹو رکشا اُور موٹرسائیکلوں پر مبنی ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ کے نظام سے پشاور کو آرام دہ اور جدید ترین آمدروفت کی سہولیات میسر آ جائیں گی؟ سوال یہ بھی ہے پبلک ٹرانسپورٹ کا بندوبست کرنے کی بنیادی ذمہ داری تو صوبائی اور پشاور کے ضلعی حکمرانوں کی ہے جنہیں عام آدمی (ہم عوام) کی مشکلات کا احساس تک نہیں! 

کیا ’جلسو جی‘ کامیاب ہو پائے گی جبکہ پشاور کے عازمین صابر بھی نہیں!؟ وہ چاہتے ہیں کہ گھر سے قدم باہر رکھیں تو سواری تیار ملے اور جہاں جانا ہو‘ تو چند قدم بھی پیدل نہ چلنا پڑے۔ پشاور میں ٹریفک سے جڑے بیشتر مسائل شاہانہ مزاج‘ طورطریقوں (بے صبری) کا نتیجہ ہیں وگرنہ بازار کلاں سے براستہ گھنٹہ گھر تا چوک یادگار ٹریفک ’ون وے‘ کی جا سکتی ہے‘ اور پارکنگ کے لئے ’گورگٹھڑی‘ اور ’قلعہ بالاحصار‘ کے اردگرد کا وہ حصہ استعمال کیا جاسکتا ہے جہاں کبھی درختوں کی قطاریں ہوا کرتی تھیں۔ اِس سلسلے میں محکمۂ آثار قدیمہ کی توجہ بھی درکار ہے کہ اِن دنوں گورگٹھڑی کی بحالی میں مصروف ہے اور جاری ترقیاتی کاموں میں گورگٹھڑی کے چار کونوں پر گنبد والے مینار پھر سے بحال کر اِس عمارت کے ظاہری حسن اور جاہ و جلال کو پھر سے زندہ کیا جاسکتا ہے! 

دو سو آٹو رکشاؤں اور پانچ سو موٹرسائیکلوں پرمشتمل ٹرانسپورٹ کمپنی سے جڑے ڈرائیورز میں بڑی تعداد طلبہ کی ہوگی جو یہ کام پارٹ ٹائم (جز وقتی) یا فل ٹائم (کل وقتی) طور پر کریں گے جبکہ اپنی گاڑیاں رکھنے والے بھی اِس حکمت عملی کا حصہ بن سکتے ہیں‘ جس میں بہتری لائی جا سکتی ہے اور اے کاش کہ پشاور کو ماحول دوست ’ٹیکسی سروس‘ بھی میسر آ جائے لیکن ایسا کرنے کے لئے آٹورکشاؤں کی تعداد کم کرنا یا اُنہیں مختلف علاقوں میں اِس طرح تقسیم کرنا ہوگا کہ جی ٹی روڈ اور اس سے ملحقہ علاقوں پر اِن کا بوجھ کسی صورت کم کیا جا سکے۔
Peshawar will get a public transportation system based on Auto Rickshaw and motorcycles, would it be sustainable and upto
the needs of one of fast growing cities of the Khyber Pukhtunkhwa

Thursday, January 26, 2017

Jan2017: Truth about the Traffic in Peshawar!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
پشاور ٹریفک: سچ کیا ہے!؟

خاطرخواہ سنجیدگی کا فقدان ہے۔ اَنواع و اِقسام کے مسائل میں اُلجھے (صوبائی دارالحکومت) پشاور میں ’آمدروفت‘ سے جڑی کوفت ایک ایسا ’مرض‘ ہے‘ جس کی نہ صرف شدت میں بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ہر گزرتے دن کیساتھ اِضافہ ہو رہا ہے بلکہ اِس سے ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والا ’’کس و ناکس‘‘ کسی نہ کسی حد تک متاثر بھی ہے! تئیس جنوری کے روز پشاور ٹریفک کی منصوبہ بندی اُور اِسے فعال رکھنے کے لئے ذمہ دار (نگران) ’سینئر سپرٹینڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی)‘ صادق حسین بلوچ نے ’ضلعی اسمبلی‘ کے سامنے ٹریفک پولیس کی کارکردگی‘ درپیش مسائل اُور اُن کے حل سے متعلق تجاویز پیش کیں تو سب کو گویا سانپ ہی سونگھ گیا۔ حکمران ضلعی ہوں یا صوبائی‘ سیاسی ہوں یا غیرسیاسی اُن کا مزاج یہی ہوتا ہے کہ خود کو فرائض و ذمہ داریوں سے بری الذمہ رکھنا چاہتے ہیں! کیا ضلعی حکومت پشاور میں ٹریفک مسائل کے بارے واقعی (حقیقتاً) فکرمند ہے؟ اِس سوال کا جواب زیادہ کچھ کہنے اُور عملی مثالوں کے ذریعے پیش کرنے کی بجائے صرف اس ایک بات سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ’’ایس ایس پی ٹریفک کی طلبی ’’دو ڈھائی ماہ سے دیگر مصروفیات کی بناء پر ملتوی کی جاتی رہی‘‘ اُور جب اُنہیں حاضری کی سعادت بصورت اجازت مرحمت فرمائی بھی گئی تو ضلعی اسمبلی کے اراکین سے چالیس منٹ خطاب کرنے کی درخواست کو رد کرتے ہوئے صرف پندرہ منٹ میں ایک ایسے موضوع کا احاطہ کرنے کا حکم دیا گیا جس سے ضلع پشاور کی حدود میں رہنے والے ’’کم و بیش 70 لاکھ افراد‘‘ متاثر ہو رہے ہیں۔ 

اُس عمومی صورتحال کا تصور کیجئے جس میں ’’پشاور کی ابتر ٹریفک‘‘ کے باعث معمولات زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں‘ دفاتر‘ تجارتی مراکز حتی کہ علاج گاہوں تک بروقت رسائی ممکن نہیں رہی! اگر ضلعی حکمرانوں کی دلچسپی کا معیار بلند اُور حقیقت پسندانہ ہوتا تو پشاور ٹریفک کا ’تکنیکی حال احوال گہرائی سے جاننے کے لئے طلب کئے گئے اجلاس کے اوقات مقرر نہ کئے جاتے اور نہ ہی وقت کے تابع اجلاس جیسے نادر موقع کو غنیمت سے کم سمجھا جاتا۔ دانشمندی تو یہ تھی کہ اِس اجلاس کی تیاری ٹریفک پولیس کی طرح متعلقہ ضلعی حکومتوں کے نمائندوں اور عملے نے بھی کی ہوتی اور ہر ٹاؤن میں ٹریفک مسائل‘ اُن کی اِصلاح بارے منتخب بلدیاتی اراکین کے مشاہدے‘ فہم و فراست‘ بصیرت اور کردار کے علاؤہ عوامی شکایات کی روشنی میں جائزلیا جاتا لیکن یہ ’خوش فہمی‘ شاید ہی ممکنہ طور پر کسی ’حادثاتی تبدیلی‘ سے عملی سانچے میں ڈھل جائے کہ صوبائی اُور ضلعی حکومتوں کی کارکردگی عام آدمی (ہم عوام) کی توقعات کے معیار پر پوری اُترے یعنی ’’خدا کرے کہ میری اَرض پاک پر اُترے۔۔۔وہ فصل گل‘ جسے اندیشۂ زوال نہ ہو!‘‘

خوش آئند ہے کہ پشاور کی ضلعی حکومت میں کئی ایسے اراکین بھی ہیں جنہیں عرب و مغربی ممالک میں ترقی کے ثمرات کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا اتفاق ہوا ہے اُور وہ جانتے ہیں کہ ترقی کسی ایک شعبے یا کسی مقام (سیڑھی) پر ٹھہرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مسلسل اور مربوط عمل کا نام ہے۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ’’تبدیلی(The Change)‘‘ کا حصول محض ’سیاسی و انتخابی عزائم‘ کی تکمیل و اظہار ہی سے ممکن نہیں بلکہ اِس کے لئے ہمہ وقت‘ امانت و دیانت‘ خوداحتسابی‘ بہترین طرزحکمرانی (گڈگورننس)‘ حاضر دماغی‘ فعالیت‘ مستعدی‘ عمومی ذہنی رجحانات و ترغیبات کی بلندی‘ حاضر وقت و مستقبل میں درپیش آنے والے مسائل اور حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے دستیاب وسائل سے بھرپور استفادے کی ضرورت رہتی ہے۔ 

پشاور میں ٹریفک کا مسئلہ ہو یا کوئی دوسری اُلجھن جب تک ارتقائی و مسلسل سوچ‘ تفکر اُور مشاورتی عمل کو وقت کی قید سے آزاد دیگر ترجیحات پر غالب نہیں کیا جاتا اُس وقت تک کچھ بھی نتیجہ خیز نہیں ہوگا۔ بدقسمتی نہیں تو کیا ہے کہ ماضی کی طرح موجودہ حکمرانوں کے سامنے بھی جہاں کہیں اُور جب کبھی پشاور اور اِس کے مسائل کا تذکرہ پیش کیا جاتا ہے تو صوبائی اور ضلعی فیصلہ ساز ہمالیہ کی چوٹیوں سے بلند اُور سمندروں کی گہرائیوں سے زیادہ گہرے روائتی بیانات سے ایک قدم آگے نہیں بڑھ پاتے! 

ضرورت تو یہ تھی کہ جب ضلعی اسمبلی اجلاس میں ’ایس ایس پی ٹریفک‘ کی جانب سے چالیس منٹ (یعنی ایک گھنٹے سے بھی کم دورانیہ) کچھ عرض کرنے کی موصول ہونے والی زبانی درخواست پر ’پندرہ منٹ‘ کی بجائے چارسو چالیس منٹ یعنی سات سے آٹھ گھنٹے مختص کر دیئے جاتے‘ پہلی مرتبہ ضلعی اسمبلی اراکین کے سامنے پیش ہونے پر اُنہیں اپنی بات پوری طرح مکمل کرنے کا بصدشکریہ و اطمینان موقع دیا جاتا۔ ضلعی نمائندگی کے تاج پوشوں کو ماتحت اداروں کے اعتماد کا جواب ہمہ تن گوش توجہ اور کارکردگی سے دینا چاہئے۔ حاکم تو پہلے ہی تعداد میں زیادہ ہیں اصل ضرورت تو کام کرنے والے غلاموں کی شدت سے محسوس ہو رہی ہے! تھوڑے کہے میں پوشیدہ مطالب‘ اشاروں اور استعاروں کو سمجھنے سے اگر تحریک انصاف کی قیادت قاصر ہے تو جان لے کہ وہ پشاور تو کیا کسی بھی دوسرے ضلع کی قسمت اور شکل و صورت نہیں بدل سکے گی۔ نتیجہ یہ بھی ہوگا کہ ماضی کے سیاسی وغیرسیاسی اَدوار کی طرح اِس مرتبہ بھی کاغذی کاروائیوں اُور رسمی اِجلاسوں پر اکتفا کرتے ہوئے صوبے کے کسی بھی ضلع کے رہنے والوں کے حقوق کی ادائیگی اور اصلاح احوال سے متعلق معاملہ مبنی بر انصاف نہیں ہو پائے گا۔

Saturday, December 17, 2016

Dec2016: E-Management of the Public Transport

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
اِی مینجمنٹ: شفاف طرزحکمرانی!

اِصلاح اَحوال مقصود ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی بذریعہ ’اِی مینجمنٹ‘ کے حوالے سے گذارشات میں جن ’دو پہلوؤں‘ سے صورتحال کا جائزہ اُور اِصلاحات تجویز کی گئیں‘ اُن کا لب لباب یہ تھا کہ صوبائی حکومت اپنی ’پبلک ٹرانسپورٹ پالیسی‘ کے مرکزی خیال پر ’’نظرثانی‘‘ کرے جس کی روشنی میں اِس شعبے میں نہ صرف صوبائی حکومت اپنی سرمایہ کاری سے تبدیلی لائے بلکہ نجی شعبے کی بلاشرکت غیرے حاکمیت (اجارہ داری) کو قوانین و قواعد کے تابع بنانے کے لئے ایک ایسے ’نظام‘ پر بھروسہ کیا جائے‘ جو چوبیس گھنٹے فعال رہ سکتا ہے‘ جو رخصت پر نہیں جاتا‘ جس کی طبعی عمر زیادہ ہے‘ جو بہ امر مجبوری یا بہانہ بنا کر چھٹی نہیں کرتا‘ جس کے ذریعے صارفین کی شکایات‘ تجاویز و آراء اُور تجربات (فیڈبیک) سے آگاہی ممکن ہو سکتی ہے۔ ’بالا و اعلیٰ‘ امر یہ ہے کہ سب سے بڑھ کر ’کمپیوٹرائزڈ نظام‘ کی نگرانی کرنے والے اپنے اختیارات (پرویلیجز) کا استعمال کرتے ہوئے (باوجود خواہش) بھی ذاتی یا ٹرانسپورٹرز کے مفادات کا تحفظ نہیں کر سکیں گے یا اگر کریں گے تو اُن کی کارکردگی کا احتساب کرنا زیادہ آسان ہوگا۔ اگر ’پبلک ٹرانسپورٹ سیکٹر‘ میں ’اِی مینجمنٹ‘ کا کامیابی سے اِطلاق کر دیا جاتا ہے تو اِسی کی بنیاد پر صحت و تعلیم کے شعبوں میں بھی اصلاحات ممکن بنائی جا سکیں گی‘ کیونکہ اِن دونوں شعبوں (صحت و تعلیم) میں بھی حکومت سے زیادہ نجی اِداروں کی حاکمیت دکھائی دیتی ہے لیکن ’طرزحکمرانی‘ کو شفاف بنانے کے لئے ’اِی مینجمنٹ‘ پر بادلنخواستہ ’تجرباتی اِنحصار‘ سے زیادہ فیصلہ سازوں کی مکمل آمادگی (نیت کا اخلاص)‘ ذہنی رغبت اُور ترتیب و ترکیب لازمی ہے۔

مثالیں موجود ہیں‘ جن کی روشنی میں ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ کو ’اِی مینجمنٹ‘ کے حوالے کرنے سے حاصل شدہ اُن تمام نتائج کو سامنے رکھ کر ایسی اصلاحات متعارف کی جاسکتی ہیں‘ جن کا تجربہ پاکستان میں قدرے چھوٹے پیمانے پر چند نجی اداروں نے کر رکھا ہے اور وہ اِس ’آن لائن نظام‘ سے مسلسل استفادہ کرکے اربوں روپے سالانہ منافع کما رہے ہیں لیکن افسوس کہ سرکاری سطح پر نہ تو ایسی کامیابیوں کا مطالعہ کرنے کی زحمت گوارہ کی جاتی ہے اور نہ ہی ہمارے ہاں سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ’تعلیم و تحقیق اُور ترقی‘ کرنے والوں کی ذہانت و صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کو ضروری تصور کیا جاتا ہے۔ ضمنی بات یہ ہے کہ اگر ہمارے فیصلہ ساز جامعات میں ہونے والی تحقیق ہی کے بارے میں ایک سالانہ صوبائی مقابلے کا انعقاد کرائیں‘ تو اُن کی آنکھیں کھلی کی کھلی بلکہ عقل دنگ رہ جائے گی کہ ہمارے ہاں طلباء و طالبات کس قدر ’ٹیلنٹ‘ سے مالامال ہیں اُور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ اپنے گردوپیش کے مسائل بارے کس حد تک فکرمند رہتے ہیں اور دل سے چاہتے ہیں کہ کوئی اُن کی سوچ کو سمجھتے ہوئے تعمیرو ترقی کے خاکے میں اُنہیں رنگ بھرنے دے! جن مغربی معاشروں نے ترقی و ارتقاء کی منازل طے کیں‘ درحقیقت اُنہوں نے اپنے ہاں نوجوانوں کے خیالات کو سُنا‘ اُنہیں اہمیت دی اُور ایسا کرنے کی وجہ وہ تشنگی ہے جس کے چراغ طالبانِ علم و حکمت اپنے دلوں میں جلائے رکھتے ہیں! علم کی طلب‘ پیاس و تشنگی رکھنے والوں کو وہ سب کچھ عطا ہوتا ہے‘ جس کی لگن میں وہ اپنے مطالعے اُور سوچ کو وسعت دیتے چلے جاتے ہیں! بعدازاں گردوپیش اور کائنات پر غور کرنے کا یہ عمل ’ارتقائی‘ کامیابیوں کا ضامن بن جاتا ہے اُور ہر دُور کے مطابق علم و دانش‘ ذہانت اُور تخلیقی قوتیں میں اِضافہ دلیل (برہان) و متقاضی ہے کہ ’فیصلہ سازی سے تعمیروترقی کے بارے حکمت عملیاں وضع کرنے کے عمل میں نوجوانوں کی تحریر و تحقیق اور اُن کے خیالات و نظریات کو بھی خاطرخواہ (یکساں) اہمیت دی جائے۔‘

تعلیم کے شعبے میں اب تک ’اِی مینجمنٹ‘ سے جس قدر استفادہ ممکن ہو سکا ہے‘ اُس کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔ ’اِی مینجمنٹ‘ کے تحت نہ صرف کسی سکول (تعلیمی ادارے) کا مالی نظم و ضبط (فیسیں‘ جرمانے‘ اضافی اخراجات کی وصولی) بہترانداز میں بذریعہ بینک ممکن ہوئی ہے بلکہ اِسی ’اِی مینجمنٹ‘ کے بل بوتے (خیروبرکت سے) کسی تعلیمی ادارے میں زیرتعلیم ہر ایک طالب علم کی یومیہ حاضری‘ کلاس میں کارکردگی (نفسیاتی روئیوں کے اُتار چڑھاؤ)‘ وقتاً فوقتاً داخلی و بیرونی امتحانات کے نتائج‘ ہم نصابی سرگرمیوں میں دلچسپی بارے اساتذہ کی رائے (educational assesment) اُور ذہنی و جسمانی نشوونما سے متعلق کوائف (Data) نہ صرف بطور ریکارڈ جمع (محفوظ) کر لیا جاتا ہے بلکہ اِس معلومات کا تبادلہ بذریعہ ’ایس ایم ایس‘ والدین یا سرپرستوں کے دیئے گئے موبائل نمبروں پر خودکار نظام کے ذریعے ارسال بھی کر دیا جاتا ہے۔ یوں کسی تعلیمی ادارے کی چاردیواری میں ہونے والا درس و تدریس کا عمل انتظامیہ یا اساتذہ کی دسترس تک محدود نہیں رہا بلکہ اِس میں والدین و سرپرست بھی شریک ہو گئے ہیں‘ جو اگر چاہیں تو اپنے بچے کی ذہنی و جسمانی اور علمی تربیت کے بارے بذریعہ فون یا ملاقات کا وقت طے کر کے انتظامیہ سے اِس بارے تبادلۂ خیال بھی کر سکتے ہیں۔ سال میں ایک مرتبہ ’یوم والدین‘ کو کسی تقریب میں مدعو کرکے بچے کی تعلیمی کارکردگی کے بارے ’اجمالی تبادلۂ خیال‘ معلومات کے وسیع المعانی تبادلے سے بدل گیا ہے۔ 

قابل ذکر ہے کہ اِبتدأ میں نجی تعلیمی اداروں نے ’غیرحکیمانہ رازداری‘ ترک کی اُور انکم ٹیکس اِداروں کے خوف و دہشت اُور دیگر تحفظات کے باوجود بھی اگر ’اِی مینجمنٹ کے نظام‘ میں وقت‘ مہارت و تجربے اُور مالی وسائل سے سرمایہ کاری کی تو اِس خالص منافع کے گرد گھومتی سوچ سے درس و تدریس کے عمل کو آگے بڑھانے میں ’بڑی قیمتی‘ مدد ملی ہے۔ یہی ’اِی مینجمنٹ‘ کا حسن ہے کہ اِس کی کوئی حد نہیں۔ یہ وسیع امکانات پر مشتمل ایک ایسے ’نئے جہان‘ سے متعارف کراتی ہے‘ جہاں ہر گھڑی کچھ نہ کچھ نیا ’وقوع پذیر‘ ہو رہا ہوتا ہے 

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ’اِی مینجمنٹ نظام‘ سے استفادہ کرنے والے مستقبل کی ضروریات کے لئے زیادہ بہتر طور پر تیار ہوتے ہیں۔ اِس کے ذریعے بہتر و فعال نظم وضبط کا حصول ممکن ہوتا ہے جس کی بدولت اِنسانی ترقی اُور علوم و فنون کے اِرتقائی مراحل طے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ وسیع النظری درکار ہے۔ فیصلہ سازی بصیرت سے عاری نہیں بلکہ اِس سوچ سے مربوط رہنی چاہئے کہ ’مستقبل میں اُن کی ذہانت کے بارے میں کیا رائے قائم کی جائے گی‘ اُور وہ آج کے درپیش مسائل کا حل مستقبل کے تقاضوں کی روشنی میں کس حد تک کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں!

E-Management of Transport where the possibilities of same can be apply in Health & Education sectors too

Friday, December 16, 2016

Dec2016: E Management of Public Transport, why not?

ژرف نگاہ .... شبیر حسین اِمام
پبلک ٹرانسپورٹ: اِی مینجمنٹ کیوں نہیں!؟

اَلمیہ ہے کہ ’وسائل سے ’محروم طبقات‘ کے لئے آسانیاں پیدا کرنے والوں کو اُس عام آدمی (ہم عوام) کو درپیش مشکلات کا رتی بھر اِحساس نہیں‘ جس کی آنکھیں ایک کے بعد ایک مسیحا کا انتظار کرتے کرتے پتھرا چکی ہیں۔‘ پبلک ٹرانسپورٹ سے بطور مسافر واسطہ رکھنے والوں کو روزمرہ یا کبھی کبھار جن تکلیف دہ اور ذلالت بھرے مراحل (برتاؤ) سے یومیہ یا حسب ضرورت نمٹنا پڑتا ہے‘ اُس کا خاتمہ ’اِی مینجمنٹ (کمپیوٹرائزیشن)‘ سے باآسانی ممکن ہے۔ 

سردست جنرل بس اسٹینڈ سے مال برداری تک آمدورفت یا نقل و حمل کے لئے استعمال ہونے والے وسائل (گاڑیاں اُور ٹرک) نہ تو ماحول دوست ہیں اور نہ ہی صارفین (مسافروں) کے موافق (فٹنس کنڈیشن) کے کسی کم سے کم معیار پر ہی پوری اُترتی ہیں!

کسی بھی ضلع میں ’جنرل بس اسٹینڈ‘ پر جہاں بنیادی سہولیات کا فقدان ماضی کی طرح آج بھی معمول دکھائی دیتا ہے‘ وہیں ٹرانسپورٹروں اور مسافروں کے درمیان تعلق وقتی‘ سطحی اُور ایک کاروبار سے زیادہ اہمیت (تعارف و بیان) نہیں رکھتا جس میں خالص منافع ہی پیش نظر (مقصود و ترجیح) یعنی کاروباری ذہنیت حاکم ہونے کی وجہ سے صورتحال انتہاء تک بگڑ چکی ہے۔ 

کسی مسافر کا پہلا واسطہ ’بس اسٹینڈ‘ کے عملے اُور ڈرائیور و کنڈیکٹر سے ہوتا ہے جس کے ساتھ اخلاق و شائستگی سے بات نہیں کی جاتی۔ کسے یاد ہوگا کہ کبھی ٹکٹ گھر بھی ہوا کرتے تھے! بہرحال بطور صارف‘ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والوں کی بنیادی شکایات کا مختصر بیان یہ ہے کہ 1: اضافی کرایہ کی وصولی‘ 2: مسافروں کے سازوسامان کے کرائے کا تقاضا‘ 3: فی گاڑی مقررہ نشستوں سے زیادہ مسافروں کو سوار کرنا‘ 4: غیرآرام دہ نشستیں‘ 5: صفائی کی ناقص صورتحال‘ 6: نشستوں کے نیچے ایندھن (سی این جی) کے سلینڈر نصب ہونے کی وجہ سے مسافروں کو تمام وقت پاؤں سمیٹ کر رکھنے کے علاؤہ ایک ایسے مستقل خطرے پر بیٹھ کر سفر کرنا پڑتا ہے‘ جو نہ تو محفوظ ہے اور نہ ہی پبلک ٹرانسپورٹ کے حفاظتی پروٹوکول (حکومتی جاری کردہ ہدایات واحکامات) سے مطابقت رکھتا ہے۔ 7: مسافر گاڑیوں کی آڑ میں اسمگلنگ (اشیاء کی غیرقانونی نقل و حمل) جو بین الاضلاعی و بین الصوبائی روٹس پر کھلے عام کی جاتی ہے۔ قیمتی پتھر‘ معدنیات‘ کپڑا‘ بیش قیمت الیکٹرانکس آلات اور گاڑیوں کے فاضل پرزہ جات وغیرہ کو مسافروں کی نشسوں کے نیچے‘ گاڑی کے کونوں کھدروں‘ اکثر پاؤں رکھنے کی جگہ پر رکھا جاتا ہے‘ جس سے کئی گھنٹوں پر محیط سفر ایک مستقل سزا بن جاتا ہے۔ 8: جنرل بس اسٹینڈ یا ایسے مقامات پر پینے کے صاف پانی‘ سایہ دار انتظارگاہیں اور دیگر سہولیات کی فراہمی اور اُن کا معیار و مقدار میں اضافہ ہونا چاہئے۔

پبلک ٹرانسپورٹ کی ’اِی مینجمنٹ‘ عملاً کیسے کی جائے؟ اَصولی طور پر ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ کے شعبے میں حکومت بذات خود سب سے بڑی سرمایہ کار ہونی چاہئے تھی لیکن چونکہ یہ شعبہ سوفیصدی نجی شعبے کے حوالے کر دیا گیا ہے تو اِس کا قطعی مطلب یہ نہیں کہ عام آدمی (ہم عوام) کی اکثریت سے غلاموں جیسا یا اِس سے بھی بدتر سلوک روا رکھے یا ایسا کرنے کی غیرتحریری اجازت دے دی جائے۔ 

پبلک ٹرانسپورٹ سے جڑے جملہ شعبوں کے اصلاح بذریعہ ’اِی مینجمنٹ‘ باآسانی ممکن بنانے کے لئے تمام گاڑیوں اور اُن کے روٹس پر مشتمل ’کمپیوٹرائزیشن کوڈنگ‘ کے ذریعے ’ڈیٹابیس‘ بنائی جا سکتی ہے جو کسی ایک روٹ پر چلنے والی گاڑیوں کو اُن کی فٹنس کے مطابق عارضی و مستقل روٹ پرمٹ (اجازت نامے) جاری کرے۔ 

مستقل روٹ پرمٹ صرف ایک جبکہ اضافی روٹ پرمٹ زیادہ سے زیادہ فراہم کئے جا سکتے ہیں تاکہ کسی ایک روٹ پر خاص حالات و اوقات میں گاڑیوں کی تعداد کم زیادہ ہونے کے علاؤہ نجی شعبے کے لئے سرمایہ کاری کرنے کے مواقع مشتہر کئے جا سکیں۔ ڈرائیورز کے کوائف‘ رابطہ نمبر‘ صحت و زندگی کا بیمہ (انشورنس)‘ ڈرائیونگ لائسینس ہونے کی لازمی شرط سے مشروط ہونے چاہئیں جبکہ ڈرائیور کی جسمانی و نفسیاتی صحت و تندرستی کے لئے کم سے کم ہر چھ ماہ یا ایک سال بعد مرکزی سرکاری ہسپتال میں ماہر معالجین کی زیرنگرانی طبی معائنہ لازمی قرار دیا جائے۔ ڈرائیور و کنڈیکٹر کا متعلقہ تھانے سے کریمنیل ریکارڈ وغیرہ کی تفصیلات اگر ڈیٹابیس کا حصہ ہوں گی‘ تو ’اِی ٹیگ‘ کی طرح ایک خودکار نظام کے ذریعے نہ صرف کسی بھی روٹ پر رواں دواں گاڑیوں کی کل تعداد بلکہ اُن کی اسپیڈنگ پر بھی نظر رکھی جاسکے گی جو انسداد دہشت گردی کے لئے وضع کی گئی قومی حکمت عملی کے اہداف حاصل کرنے کا ذریعہ بھی ہوگی اُور نہ صرف ڈرائیور بلکہ ہر مسافر کے ’کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی)‘ کے ذریعے ٹکٹوں کا حصول ممکن ہوگا۔ 

گاڑیوں میں ’جی پی ایس‘ آلات اُور ’سی سی ٹی وی‘ کیمروں کی تنصیب سے مسافروں بالخصوص خواتین اور بزرگوں کی شکایات کا اَزالہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ایک سے زیادہ صوبائی حکومت کے محکمے ہونے کے باوجود نہ صرف مسافروں سے اضافی کرایہ یومیہ بنیادوں پر وصول کیا جارہا ہے بلکہ کسی مسافر کے بطور صارف حقوق کاغذوں پر تحریر کرنے والے اِن پر عمل درآمد کو ضروری نہیں سمجھ رہے؟ 

ماضی میں صوبائی وزیرٹرانسپورٹ سمیت متعلقہ افسرشاہی کے عہدے ایسے افراد کے پاس بھی رہے‘ جو یا تو خود یا اُن کے عزیزواقارب مختلف ناموں سے پبلک ٹرانسپورٹ کا کاروبار کرتے تھے۔ فیصلہ سازی مفادات سے متصادم ہونے کی وجہ تھی کہ عام آدمی (ہم عوام) سے زیادہ ٹرانسپورٹروں کے مفادات کا تحفظ کیا جاتا رہا۔ 

پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے المعروف ملنگ و دبنگ اور دُرویش وزیراعلیٰ پرویز خان خٹک سے درخواست ہے کہ وہ پبلک ٹرانسپورٹ میں اندرون و بیرون پشاور صوبائی حکومت کی سرمایہ کاری کے علاؤہ ’اِی مینجمنٹ سسٹم‘ نافذ کرائیں‘ اگرچہ سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ سازوں کی اکثریت اُور اُن کے اہل خانہ ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ سے خود استفادہ نہیں کرتے‘ اِس لئے انہیں مسافروں کی تکالیف و مشکلات کا احساس نہیں اُور نہ ہی اُن کی شکایات سننے کا بھی کماحقہ فعال نظام موجود ہے ایسی صورت میں ’اِی مینجمنٹ‘ کے ذریعے کسی مسافر کے لئے ممکن ہوگا کہ وہ سفر پر نکلنے سے پہلے اپنی سیٹ مختص کروا سکے۔ کسی خاص روٹ پر گاڑیوں کی دستیابی کے بارے معلومات حاصل کرسکے۔ 


ایڈوانس بکنگ اور اپنی مرضی کی نشست حاصل (بُک) کر سکے اُور اگر اِس جیسے لاتعداد اِمکانات کو ’مرکزی ڈیٹابیس‘ سے جوڑتے ہوئے ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ کی اِی منیجمینٹ‘ متعارف کی جاتی ہے تو فی سواری ٹیکس وصول کرنا بھی ممکن ہو پائے گا‘ جو مالی مشکلات سے دوچار صوبائی حکومت کے لئے اضافی و معقول (پائیدار) آمدنی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

"Public Transport in Khyber Pukhtunkhwa need to be managed & organized using the tools of "E-MANAGEMENT