Showing posts with label RTA. Peshawar. Show all posts
Showing posts with label RTA. Peshawar. Show all posts

Friday, November 24, 2017

Nov 2017: Grey areas of the KP's "Claim Tribunal."

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
کلیم ٹربیونل!؟
خیبرپختونخوا میں ’موٹروہیکل آرڈیننس‘ کے تحت ٹریفک حادثہ کا شکار ہونے والی‘ ایک خاتون جو کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کر رہی تھی کو 70 ہزار روپے نقد ادا کئے گئے ہیں۔ یہ اَدائیگی 148 صفحات پر مشتمل متعلقہ قانون میں کم سے کم 23 مقامات پر مذکور ’کلیم ٹربیونل‘ کے تحت عمل میں آئی ہے‘ جسے صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ فعال کیا گیا ہے۔ کسی قانون کو ’سرد خانے‘ سے نکالنے کی اِس عملی مثال کی جس قدر بھی تعریف کی جائے کم ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ایک ایسا قانون جس کی موجودگی کے بارے خود متعلقہ محکمے اور وزارت کی اکثریت کو بھی علم نہیں تھا وہ اچانک فعال کیسے ہوگیا اور اُس کی فعالیت کی اطلاع پشاور سے لاہور سفر کرنے والی ایک مسافر خواتین تک کیسے جا پہنچی جس نے 90 روز کے اندر خود سے پیش آنے والے حادثے کے لئے صوبائی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا اور ستر ہزار روپے نقد وصول کئے۔ 

مذکورہ قانون کے تحت پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والا کوئی بھی مسافر (خدانخواستہ) حادثے کی صورت میں تین لاکھ روپے تک کا تاوان طلب کر سکتا ہے اور صوبائی حکومت یہ معاوضہ ادا کرنے کی پابند ہوگی۔
اٹھارہ نومبر کو ’’چوری: سینہ زوری!‘‘ اور تیئس نومبر کے روز (روزنامہ آج کے ادارتی صفحات پر) شائع ہونے والے کالم بعنوان ’’قوت فیصلہ کا فقدان!‘‘کے تحت ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ سے جڑے عوامی مسائل کی مرحلہ وار نشاندہی کرنے کے سلسلے کی یہ تیسری کڑی ہے جس میں اُس قانون اور قواعد سے متعلق موضوع زیربحث ہے‘ جس کا تعلق خیبرپختونخوا کی اکثریت سے ہے لیکن اِسے ’نجی کاروباری طبقے‘ کے مفاد کے لئے سردخانے کی نذر کردیا گیا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ پر نجی شعبے کی اجارہ داری (تسلط) کے پیچھے کئی کردار کارفرما ہیں‘ جن میں قانون سازی اور فیصلہ سازی کے منصب پر فائز سرکاری اہلکار شامل ہیں اور سبھی نے ذاتی مالی مفادات کے لئے عام آدمی کی زندگی کو ایک مستقل (ذلت بھرے) عذاب سے دوچار رکھا ہے‘ جس کی اصلاح ’تبدیلی لانے والوں‘ کے لئے کھلا چیلنج ہے۔

’قانونی اصطلاحات کی لغت (ڈکشنری)‘ (مطبوعہ دوہزار تین‘ علمی کتب خانہ لاہور) میں ’’کلیم (Claim)‘‘ کا لغوی مطلب ’دعویٰ کرنا۔ حق جتانا‘ تحریر ہے۔ اِسی اصطلاح کی ضمن میں 12 دیگر اصلاحات کے معانی و تفصیلات درج ہیں لیکن ’کلیم ٹربیونل‘ کا ذکر نہیں کیونکہ ’موٹروہیکل قانون‘ کی یہ اِصطلاح مذکورہ قانون کے اندر ہی دفن رکھا گیا۔ قانون دانوں کے لئے ’کلیم‘ اور ’ٹربیونل‘ الگ الگ اصطلاحات ہیں اور جب ’کلیم ٹربیونل‘ سے متعلق یکجا کر کے پوچھا جاتا ہے تو اعتراف کرتے ہیں کہ ’’وہ نہیں جانتے‘‘ کہ ۔۔۔ ’خیبرپختونخوا کے موٹروہیکل آرڈیننس 1965ء‘ کی 67ویں شق اے کی ذیل میں اِس بارے تفصیلات موجود ہیں۔ مقام حیرت ہے کہ مذکورہ قانون کی 67-D‘ ذیلی شق 3 میں یہاں تک تحریر ہے کہ ۔۔۔ ’’کلیم ٹربیونل‘ کو ’سول کورٹ‘ کے مساوی اختیارات حاصل ہوں گے۔ جن کا استعمال کرتے ہوئے وہ کسی حادثے سے متعلق عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کرنے کا اختیار رکھے گی۔ اِس بات کو قانوناً ممکن بنائے گی کہ عینی شاہدین عدالت سے تعاون کریں اور وہ تمام متعلقہ شواہد و ثبوت عدالت کے روبرو پیش کریں جن کا تعلق متعلقہ ٹریفک حادثے سے ہو۔‘‘

سال دوہزار گیارہ میں پولیس سے بہ عہدہ ’ڈی پی اُو (تیمرگرہ‘ لوئر دیر)‘ ریٹائر ہونے والے ممتاز زرین خان کی تمام زندگی (چالیس برس) محکمۂ پولیس میں خدمات سرانجام دیتے گزر گئی۔ وہ ایک فرض شناس آفیسر رہے جنہوں نے خیبرپختونخوا کے شورش زدہ علاقوں میں اپنی تعیناتی کے دوران امن و امان کے پُرخطرحالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا‘ ریاست کی عمل داری بحال رکھی اُور فرائض منصبی کی بجاآوری سے سرکاری وسائل کے امانت و دیانت سے مصرف جیسے کسی بھی محاذ پر پسپا نہیں ہوئے۔ اِنہیں خدمات کے عوض اُنہیں تمغہ شجاعت اور دو مرتبہ ’قائد اعظم پولیس میڈلز‘ جیسے اِعزازات سے نوازہ جا چکا ہے۔ چالیس سالہ ملازمت کے دوران ممتاز زرین ’’اے ایس آئی‘ ڈی ایس پی اور ایس ایس پی (ہنگو‘ ٹانک‘ بٹ گرام اُور لوئر دیر)‘‘ جیسے کلیدی عہدوں پر فائز رہے۔ اِس عرصے میں انہوں نے درجنوں ٹریفک حادثات کی بذات خود تفتیش کی یا اُن کی زیرنگرانی ٹریفک حادثات کا تفیشی عمل مکمل ہوا لیکن انہیں ’کلیم ٹربیونل‘ جیسی اصطلاح کا علم نہ ہوسکا۔ پولیس سے ریٹائرمنٹ کے بعد ممتاز زرین نے اپنی تعلیم ’ایل ایل بی‘ کی بنیاد پر بحیثیت وکیل اور پولیس میں ملازمتی تجربے کی بنیاد پر بطور ’چیف سیکورٹی آفیسر‘ اپنی خدمات ایک نجی تعلیمی ادارے کے سپرد کر رکھی ہیں‘ وہ ماضی کی طرح آج بھی ایک فعال اور کامیابی عملی زندگی بسر کر رہے ہیں اور اُن کی ہمت و مستعدی دیکھ کر رشک آتا ہے کہ وہ کس طرح بعداز ریٹائرمنٹ بھی زندگی کی گاڑی چلانے کے لئے مختلف کرداروں میں فرائض منصبی اور کلیدی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ ہم ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ بطور کانسٹیبل ریٹائرڈ ہونے والے پولیس اہلکار کو ساری زندگی فکر معاش نہیں رہتا اور اُس کی مالی حیثیت اِس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ وہ ’باقی ماندہ زندگی‘ آرام سے بسر کرتا ہے لیکن پینسٹھ سالہ ممتاز زرین کے لئے زندگی ’جہد مسلسل‘ ہے جس کا نصاب صداقت و دیانت کے اصولوں پر مرتب ہے۔ 

ملک کے سیاسی و آئینی حالات پر گہری نظر رکھنے اور وسیع مطالعہ رکھنے والے دُرویش صفت ممتاز زرین سے جب ’کلیم ٹربیونل‘ کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو اُنہوں نے تسلیم کیا کہ ایسے کسی قانون کے بارے میں ’’نہیں جانتے‘‘ اور نہ ہی بطور پولیس آفیسر (چالیس سالہ عملی) زندگی میں اُن کا واسطہ کسی ’کلیم ٹربیونل‘ سے پڑا۔ نہ ہی کسی سرکاری محکمے کی جانب سے اُنہیں ’کلیم ٹربیونل‘ کے بارے میں بریفنگ دی گئی یا اجلاس طلب کیا گیا یا اِس بارے تحریری و زبانی کلامی معلومات فراہم کی گئیں ہیں۔ اگر تمام زندگی پولیس اور ریٹائرمنٹ کے بعد عملاً وکلالت کرنے والے ’ممتاز زرین‘ جیسے فعال شخص کو ’کلیم ٹربیونل‘ کی موجودگی کا علم نہیں‘ تو ایسے کسی قانون کے بارے میں کسی عام آدمی (ہم عوام) کی معلومات بارے اندازہ لگانا قطعی دشوار نہیں۔

المیہ یہ ہے کہ قوانین کتابوں میں دفن ہیں۔ سرکاری محکمے قوانین کے زور پر اپنی دھونس برقرار رکھے ہوئے ہیں اور انہی قوانین کی وجہ سے دھاندلی (کرپشن) بھی عام ہے۔ اگر عام آدمی (ہم عوام) کو قوانین کے بارے علم ہوجائے تو اِس کا مطلب ہوگا کہ ہمیں اپنے حقوق اور سرکاری محکموں کی جملہ ذمہ داریاں معلوم ہو جائیں گی اور جب ذمہ داریاں معلوم ہوں گی تو کارکردگی کے بارے سوال اٹھاے (پوچھے) جائیں اور یہی وجہ مرحلہ ہے کہ سرکاری اعلیٰ و ادنی ملازمین (افسرشاہی)‘ قانون سازایوانوں کے اراکین (سیاست دان) نہیں چاہتے کہ عوام کے منہ میں زبان آئے اُور وہ کلام کر سکیں!
۔
Under the KP's Provincial Motor Vehicle Ordinance 1965,
the claim tribunal has been activated but the law needs to be
propagate and amend
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=abbotabad&page=20&date=2017-11-24

Thursday, November 23, 2017

Nov 2017: Motor Vehicle Laws & the dark areas!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
قوت فیصلہ کا فقدان!
قوانین کی کمی نہیں اور نہ ہی سرکاری ملازمین کا قحط ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک قانون اور اُسے لاگو کرنے کے لئے ضمنی قواعد و ضوابط (رولز) موجود ہیں‘ جن پر عمل درآمد کرنے والے ادارے‘ وزیر‘ مشیر‘ سیکرٹری سے لیکر درجہ چہارم ملازمین تک تنخواہیں اور مراعات باقاعدگی سے وصول کرنے والے ملازمین کی ’فوج ظفر موج‘ موجود (اور سرکاری خزانے پر بوجھ) ہے لیکن اگر کسی ایک بنیادی چیز کا خسارہ ہے تو وہ ہے کارکردگی کا۔ 

قوانین کو عام آدمی (ہم عوام) کے حق میں مفید بنانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ قوانین و ضوابط کا اطلاق بلاامتیاز نہیں ہو رہا بلکہ ایک ایسا شعبہ بھی ہے جس میں تبدیلی نہیں آئی اور وہاں ماضی کی طرح آج بھی مخصوص انداز میں محدود پیمانے پر قوانین و قواعد کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ کم سے کم ایک ایسا صوبائی محکمہ بھی ہے جس کی ہمدردیاں عوام کی بجائے تجارتی اور کاروباری طبقات کے مفادات کا تحفظ (احاطہ) کرتی ہیں! اِس سلسلے میں نہایت ہی عمدہ مثال خیبرپختونخوا کے طول و عرض میں فعال ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ کے ’بے ہنگم نظام‘ کی دی جا سکتی ہے‘ جس سے متعلق قانون اگرچہ ’’52 سال اور 5 ماہ‘‘ قدیم ہے لیکن اِس پر جدید مواصلاتی وسائل متعارف ہونے کے بعد‘ سے نظرثانی کی ضرورت ’’شدت سے محسوس‘‘ ہونے کے باوجود بھی قانون سازوں اور فیصلہ سازوں کی توجہ اگر مرکوز نہیں تو اِس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اِن میں سے کوئی بھی نہ تو خود اور نہ ہی اُن کے اہل وعیال پبلک ٹرانسپورٹ استفادہ نہیں کرتا۔ المیہ ہے کہ سیاسی اور غیرسیاسی فیصلہ سازوں اور عوام کے رہن سہن میں زمین آسمان کا فرق ہے لیکن حیرت اُس بیوروکریسی پر بھی ہے جو متوسط طبقات سے اپنے تعلق کو اُس وقت بھول جاتی ہے جب اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتی ہے۔ عام آدمی (ہم عوام) کی پبلک ٹرانسپورٹ سے جڑی مشکلات اور شکایات قانون سازی سے لیکر قانون کے اطلاق تک کثیرالجہتی ہیں۔

صوبائی (خیبرپختونخوا) موٹر وہیکل آرڈیننس (148 صفحات) ’’8 جون 1965ء‘‘ جبکہ صوبائی موٹروہیکل رولز (20 صفحات) ’’3 نومبر 1969ء‘‘ سے لاگو ہیں اُور نجی شعبے کی ملکیت ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ پابند ہے کہ وہ انہی دو قوانین و قواعد کے تحت کسی ضلع میں مقامی‘ بین الاضلاعی یا بین الصوبائی (طے شدہ راستوں) روٹس پر مسافر گاڑیاں چلائیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی ہر مسافر گاڑی کے لئے لازم ہے کہ وہ روڈ پر آنے سے پہلے ’فٹنس سرٹیفکیٹ‘ حاصل کرے جس کا ’موٹروہیکل آرڈیننس‘ میں ’29 مقامات‘ پر ذکر ملتا ہے لیکن پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے زیراستعمال گاڑیوں (مسافر بسوں‘ وینز‘ ویگنز‘ منی بسوں‘ ہائی ایس‘ کوسٹرز وغیرہ) میں سفر کرنے کا عملی تجربہ رکھنے والے ’تحصیل یافتگان‘ سے پوچھیں کہ یہ گاڑیاں کتنی ’فٹ (موزوں)‘ ہیں۔ قانون میں انگریزی زبان کے لفظ (اصطلاح) ’فٹ (Fit)‘ استعمال کیا گیا ہے جن کے مطالب میں ’’مناسب‘ موافق‘ جچنا اور سائز ٹھیک ہونا‘‘ بھی شامل ہیں۔ کسی گاڑی کا صرف انجن ہی نہیں بلکہ اُس کی ظاہری داخلی و بیرونی حالت کا بھی اِسی زمرے میں شمار ہوتی ہے۔ 

موٹروہیکل آرڈیننس کے تحت جن تین درجات میں گاڑیوں کے پرمٹ (اجازت نامے) جاری کئے جاتے ہیں‘ وہ گاڑی کی فٹنس (fitness) سے مشروط ہوتے ہیں۔ فٹنس سرٹیفکیٹ ہر ضلع میں ’موٹر وہیکل ایگزیمینر (Examiner)‘ جاری کرتا ہے۔ رولز کے تحت موٹروہیکل ایگزیمنر کا مطلب وہ آفیسر ہوتا ہے جس کی تقرری (اپوئٹمنٹ) انسپکٹر جنرل پولیس رول نمبر 35کے تحت کرتا ہے۔ اِس اہم عہدے پر تعینات ہونے والے شخص کی اہمیت کا اندازہ اِس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ بیس صفحات پر مشتمل رولز میں ایگزیمینر کا ذکر 23 مقامات پر کیا گیا ہے لیکن کسی ایک ڈویژن میں ایک شخص (ایگزیمینر) کس طرح ہزاروں کی تعداد میں گاڑیوں کی فٹنس کس طرح عملاً ممکن بنا سکتا ہے!؟

پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑیوں کی عمومی ظاہری و ٹیکنیکل (چال چلن کی) ’فٹنس‘ اور اِس ’فٹنس کا معیار‘ بلند رکھنے کے لئے قانون تو موجود ہے لیکن اِس پر خاطرخواہ انداز میں عمل درآمد نہیں ہورہا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جب کبھی فرصت پائیں تو قریب ترین جنرل بس اسٹینڈ سے بین الاضلاعی و صوبائی روٹس پر چلنے والی گاڑیوں کا ظاہری معائنہ اور چند کلومیٹر سفر کریں تو اُنہیں اندازہ ہو جائے گا کہ کس طرح روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی سے لیکر ضلعی حکومتوں تک ہر حکومتی ادارہ اپنی ذمہ داری دوسرے کے کندھوں پر ڈال رہا ہے اور کس طرح نجی ملکیت میں فعال ٹرانسپورٹ نہ صرف شرح کرایوں میں من مانی کرتی ہے بلکہ ’اَن فٹ‘ گاڑیاں اور بناء لائسینس ڈرائیورز کی اکثریت عوام کی جان سے کھیل رہے ہیں۔ بارِدیگر تجویز ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے الیکٹرانک ٹکٹ گھر بنائے جائیں تاکہ اضافی شرح کرایہ وصول کرنے کی روک تھام ہو سکے۔ مذکورہ گاڑیوں کی ’فرنٹ اسکرین‘ پر گاڑی کا مقررہ روٹ‘ ڈرائیور کا نام‘ فٹنس لائسینس کی تفصیل اُور مسافر نشستوں کی کل تعداد درج ہونی چاہئے اور گاڑی کے روانہ ہونے سے قبل مسافروں کی جامہ اور ہمراہ سامان کی تلاشی ہونی چاہئے۔ 

صاف دکھائی دے رہا ہے اور اِس بارے سنجیدگی سے تحقیق ہونی چاہئے کہ بین الاضلاعی اور بین الصوبائی روٹس پر چلنے والی ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ کا استعمال غیرقانونی سرگرمیوں میں ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ کاروبار انتہائی منافع بخش ہونے کے ساتھ ایک ایسا مافیا بن چکا ہے کہ اِس میں چند معروف اداروں کے نئی سرمایہ کاری نہیں ہو رہی۔ صوبائی حکومت ’’پبلک ٹرائیویٹ پارٹنرشپ‘‘ کے تحت ٹرانسپورٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع متعارف کروا سکتی ہے۔ توجہ مبذول رہے کہ جہاں قوانین و قواعد پر بلاامتیاز اور خاطرخواہ عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ 

متعلقہ حکومتی ادارے کے درجہ بہ درجہ اہلکار مستفید ہو رہے ہیں جنہوں نے ذاتی مفادات کے لئے آنکھیں موند رکھی ہیں! جس کے باعث پاک افغان تجارتی معاہدے کے تحت غیرقانونی درآمدی اشیاء بالخصوص پارچہ جات‘ نئے و استعمال شدہ الیکٹرانک سازوسامان‘ گاڑیوں کے فاضل پرزہ جات اور منشیات کی اسمگلنگ بذریعہ پبلک ٹرانسپورٹ ہونے میں تعجب و حیرت کا اظہار کیسا!؟
۔
Provincial (KP) Motor Vehicle Ordinance 1965 need an overview
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=abbotabad&page=20&date=2017-11-23

Saturday, November 18, 2017

Nov 2017: Glossy picture of PUBLIC TRANSPORT not so glossy!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
چوری: سینہ زوری!
’پبلک ٹرانسپورٹ‘ سے جڑے دکھوں (مشکلات) میں یہ بات بھی شامل ہے کہ صرف اُور صرف ’تھکی ہوئی مسافر گاڑیوں میں سوار عام آدمی (ہم عوام) کو شک کی نگاہ سے دیکھا جائے کہ اِنہی میں دہشت گردوں سے لیکر منشیات فروشوں اور غیرقانونی طور پر اشیاء کی نقل و حمل کرنے والے پائے جاتے ہیں۔ 

مرغیوں کی طرح ڈبوں میں بند‘ کسی گاڑی کی گنجائش (seating capacity) سے زیادہ مسافروں کو سوار کرنا ایک الگ سا معمول بن گیا ہے۔ بین الاضلائی راستوں (روٹس) پر پبلک ٹرانسپورٹ سے جڑی شکایات کو پانچ بنیادی درجات میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ 1: ریجنل ٹرانسپورٹ اٹھارٹی کی جانب سے مقررہ کئے گئے (شرح) کرائے سے زیادہ وصولی کی جاتی ہے۔ 2: گاڑی کی ظاہری اور انجن کی حالت (fitness) لمبے سفر کے قابل نہ ہونے کے باوجود ایسی گاڑیوں کا استعمال عام ہو رہا ہے جو ’ماحول دوست‘ نہیں اور جن میں مسافروں کو دی جانے والی نشستیں نہ تو آرام دہ ہیں اور نہ ہی خواتین‘ بچوں اور ضعیف العمر افراد کے لئے زیادہ موزوں ہیں۔ 3: ڈیزل ایندھن کے تناسب سے مقررہ کرائے وصول کرنے والی گاڑیوں کو سستے ایندھن (سی این جی) سے چلانے کے باوجود بھی زیادہ کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔ ایسی ’سی این جی‘ گاڑیوں میں لمبی مسافت طے کرنے کے لئے ایک سے زیادہ گیس ٹینک نصب ہوتے ہیں۔ یوں مسافر کم یا زیادہ فاصلے کے سفر میں مستقل خطرات سے دوچار رہتے ہیں۔ 4: پبلک ٹرانسپورٹرز مسافروں سے صرف زائد کرایہ ہی وصول نہیں کرتے بلکہ اُن کا رویہ اِنتہاء درجے کا مغرور اور ہتک آمیز بھی ہوتا ہے۔ مسافروں سے اُن کے دستی سامان کا الگ سے کرایہ وصول کرنا بھی ایک معمول ہے‘ جن پر بالخصوص تہواروں یا خصوصی ایام میں باقاعدگی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ 5: پبلک ٹرانسپورٹ سے استفادہ کرنے والوں کے پاس چونکہ کوئی متبادل (option) ہی نہیں اِس لئے وہ ’نجی ٹرانسپورٹرز‘ کی کسی بھی ’جارحانہ اَدا (روئیوں)‘ کا (قطعی) بُرا نہیں مناتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ شکایت کریں گے تو کس سے اُور اگر انصاف چاہیں گے تو کون ہے جو عام آدمی (ہم عوام) کی فریاد جانب توجہ فرمائے۔ بنیادی سوال یہی ہے کہ بین الاضلاعی و صوبائی روٹس پر ’’حاجی کیمپ‘ پشاور بس ٹرمینل‘ چارسدہ روڈ اور کوہاٹ روڈ جیسے بڑے ’بس اَڈوں‘ کے اصل حاکم کون ہیں؟ حکومتی اِدارے ’نجی ٹرانسپورٹرز‘ کے مفادات کا تحفظ کرنے میں فعال لیکن عام آدمی (ہم عوام) کی مشکلات اور درپیش مسائل کے بارے فکرمند کون ہے؟

خیبرپختونخوا کے کل ’’سات ڈویژنز (مالاکنڈ‘ ہزارہ‘ مردان‘ پشاور‘ کوہاٹ‘ بنوں اُور ڈی آئی خان)‘‘ میں شامل تین اضلاع (چارسدہ‘ نوشہرہ اور پشاور) پر مشتمل ’’پشاور ڈویژن‘‘ سے مقامی اور بین الاضلاعی و بین الصوبائی روٹس پر چلنے والی مسافر گاڑیوں (پبلک ٹرانسپورٹ) کی کل تعداد ’’پندرہ سے سولہ ہزار‘‘ بتائی جاتی ہے (اس سلسلے میں درست اعدادوشمار کیوں موجود نہیں‘ یہ سوال اپنی جگہ لمحۂ فکریہ ہے)۔ 

پبلک ٹرانسپورٹ کے مذکورہ نظام کو قواعد و ضوابط کا پابند رکھنے کے لئے پشاور میں ’’23 چھوٹے بڑے اَڈے‘‘ بنائے گئے ہیں جن میں سے صرف ایک (پشاور بس ٹرمینل) ’ڈائریکٹوریٹ آف ٹرانسپورٹ‘ جبکہ باقی ماندہ کا نظم و نسق اور جملہ انتظامات (مینجمنٹ) ہر ضلع کی طرح پشاور کی ’مقامی (بلدیاتی) حکومت‘ کے پاس ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے بظاہر سیدھے سادے لیکن اِس ’پیچیدہ نظام‘ کا ایک اُور اعلیٰ و بالا نگران ادارہ ’ٹرانسپورٹ اتھارٹی‘ ہے جس کے مذکورہ سات ڈویژنز میں الگ الگ دفاتر ہیں اُور اِنہیں ’’ریجنل ٹرانسپورٹ اٹھارٹیز (آر ٹی اے)‘‘ کہا جاتا ہے۔ ’آرٹی اے‘ پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے راستوں (روٹس) کے انتخاب‘ اِن راستوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کے اجازت ناموں (روٹس پرمٹ) کے اجرأ‘ اُور فی مسافر (فی نشست) شرح کرائے کا تعین کرتی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی کسی بھی گاڑی کو ’روٹ پرمٹ‘ جاری کرنے کے لئے بنیادی طور پر ’چار روٹس‘ بھی تشکیل دیئے گئے ہیں جن کی درجہ بندی انگریزی حروف تہجی ’اے‘ بی اُور سی‘ سے کرتے ہوئے ’اے‘ نامی ’’روٹ پرمٹ‘‘ اُن گاڑیوں کو دیئے جاتے ہیں جن کی رجسٹریشن کی تاریخ 9 سال تک ہو۔ ’بی‘ نامی روٹ پرمٹ 11 سال تک کی رجسٹریشن رکھنے والی گاڑیوں جبکہ ’سی‘ نامی کٹیگری کے لئے ’عمر کی کوئی قید نہیں‘ بس گاڑی کا فٹ (fit) ہونا ضروری ہے اور یہ روٹ پرمٹ عموماً دیہی علاقوں کے درمیان چلنے والی گاڑیوں کو جاری کئے جاتے ہیں! 

’آر ٹی اے‘ افرادی قوت اور مالی وسائل نہیں رکھتی اُور اُسے زیادہ کرائے وصول کرنے اور گنجائش سے زیادہ مسافروں جیسی شکایت سے نمٹنے کے لئے ٹریفک پولیس کے تعاون ضرورت پڑتی ہے تو معلوم ہوا کہ کوئی ایک بھی ایسا محکمہ نہیں کہ جسے ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ سے جڑے مسائل کے لئے ذمہ دار (قصوروار) قرار دیا جائے! جس سے بات کرو‘ وہ خود کو ’’بری الذمہ‘‘ قرار دیتا ہے! 

پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے شکایات کے بارے میں ’ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی پشاور‘ کے ذمہ دار (سیکرٹری محمد ندیم اختر) کہتے ہیں کہ ’’اُن کے پاس قانون و قواعد کے اطلاق کے لئے درکار افرادی قوت اور مالی وسائل کی کمی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے ناموں کی جانچ پڑتال کے لئے تین افراد پر مشتمل ٹیم دفتری اوقات مخصوص ہے جس کی 23 مقامات پر بیک وقت موجودگی ممکن نہیں۔ ’آر ٹی اَے‘ حکام ’ٹریفک پولیس‘ کے محتاج رہتے ہیں‘ جن کی افرادی قوت کے ساتھ مل کر گشتی ٹیمیں تشکیل دی جاتی ہیں۔ (اِکا دُکا) گاڑیوں کو روک کر مسافروں سے استفسار کیا جاتا ہے اور زائد کرایہ وصول کرنے والے ڈرائیوروں کو جرمانہ کرنے کے علاؤہ اضافی کرایہ واپس دلایا جاتا ہے۔‘‘ 

حیرت انگیز امر یہ ہے کہ جن بس اڈوں میں کھلے عام اضافی کرایہ وصول کیا جاتا ہے اور جہاں سے ’لوڈ‘ ہو کر گاڑیاں نکلتی ہیں وہاں ’آرٹی اے‘ حکام کی موجودگی دکھائی نہیں دیتی‘ حالانکہ سڑکوں کی خاک چھان کی بجائے کرائے ناموں پر حسب شرح کا اطلاق اور عملاً قواعد پر باآسانی عمل درآمد بس ٹرمینلز میں ممکن ہے! یہ امر قطعی تعجب خیز نہیں ہوگا کہ پشاور سمیت ہر ضلع میں ’آر ٹی اے‘ اہلکار اور نجی ٹرانسپورٹرز کی ملی بھگت سے عام آدمی (ہم عوام) کو لوٹنے کا سلسلہ تحریک انصاف کے موجودہ دور حکومت میں بھی پوری ’سینہ زوری‘ سے جاری ہے۔ 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک سے درخواست ہے کہ وہ مقامی‘ بین الاضلاعی اور بین الصوبائی روٹس پر ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ سے متعلقہ عام آدمی (ہم عوام) کے مسائل و مشکلات جاننے کے لئے ’ہیلپ لائن‘ قائم کریں‘ جس میں فون کال‘ واٹس ایپ اُور ٹوئٹر کے ذریعے شکایت درج کرنے کی سہولت ہونی چاہئے۔ فوری طور پر ’بس ٹرمینلز‘ میں کمپیوٹرائزڈ ٹکٹوں کے اجرأ (ٹکٹ گھروں کے قیام) کا حکم دیں اور ہر روٹ پر مسافر گاڑیوں کی فرنٹ سکرین پر ایسے اسٹکرز چسپاں کروائیں جن میں گاڑی کی کٹیگری‘ روٹ کی نشاندہی‘ فی نشست کرایہ اور زیادہ سے زیادہ مسافروں کی تعداد (حسب گنجائش) جیسی تفصیلات (معلومات) درج ہو۔
۔
Issues regarding Public Transport on inter-district & inter-provincial routes
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2017-11-18