Showing posts with label ANF. Show all posts
Showing posts with label ANF. Show all posts

Sunday, January 2, 2022

Drug Addiction in Peshawar

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: خدا جانے یہ کسی دشمنی ہے؟

شاعر یعقوب عامر نے یہ کہتے ہوئے شاید پشاور ہی کی ’منظرکشی‘ کی ہو کہ ”چند گھنٹے شوروغل کی زندگی چاروں طرف .... اُور پھر تنہائی کی ہمسائیگی چاروں طرف۔“ ایسے ہی شوروغل سے چند گھنٹے واسطہ رکھنے پر جو مشاہدات سامنے آئے اُن میں منشیات فروشی اُور منشیات کے عادی افراد ایسا بدنما دھبہ ہیں‘ جن سے پشاور کو صاف کرنا صرف ضروری نہیں بلکہ انتہائی ضروری (ناگزیر) ہو چکا ہے۔ کیا ہمارے فیصلہ سازوں نے کبھی اِس بارے سوچا ہوگا کہ جب ہر دن کے آغاز اُور تدریسی دورانئے کے اختتام پر طالب علم شہر کی انتہائی مصروف شاہراؤں اُور چوراہوں پر منشیات استعمال کرنے والوں کو دیکھتے ہوں گے تو اُن کے ذہنوں میں کتنے ہی سوالات اُٹھتے ہوں گے کہ آخر یہ کون ہیں‘ کیا کر رہے ہیں اُور سب سے اہم و بنیادی بات یہ ہے کہ اِن نظاروں سے اُن طالب علموں کے اعصاب پر کیا گزرتی ہوگی؟ 

پشاور اہل پشاور سے ہے اُور تعلق یک طرفہ نہیں ہونا چاہئے کہ احساس کی موت معلوم ہو۔ فیصلہ ساز توجہ فرمائیں کہ ایک طرف پشاور کو خوبصورت بنانے کی مہمات ہیں جن میں سبزہ زاروں کو بحال کیا جا رہا ہے (بہت ہی اچھی بات ہے)۔ جا بجا خوبصورتی کے لئے محراب بنائے جا رہے ہیں (یہ بھی بہت ہی اچھی بات ہے)۔ فٹ پاتھوں پر بیش قیمت ٹائلز اُور صفائی کا غیرمعمولی اہتمام دیکھنے کو ملتا ہے (یہ بھی اچھی بات ہے)۔ ”بی آر ٹی (میٹرو بس) راہداری“ پشاور کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہی ہے (یہ بھی باسہولت پشاور کے خواب کی عمدہ تعبیر ہے) لیکن کیا پشاور کی مثالی ظاہری خوبصورتی کے ساتھ اِس کی معنوی (جزئیاتی) خوبصورتی کی جانب بھی توجہ مبذول نہیں ہونی چاہئے جو اہل پشاور (انسانوں) سے متعلق ہو اُور اِس تاثر کو زائل کیا جائے ”پھولوں کے شہر“ کی ساکھ ’منشیات فروشی‘ اُور ’منشیات استعمال کرنے والے کے جُھنڈ‘ بن چکے ہیں! پشاور کی ضلعی حکومت جہاں پیشہ ور بھیکاریوں کا سدباب کر رہی ہے‘ وہیں کمشنر و ڈپٹی کمشنر پشاور منشیات کے جاری دھندے کا بھی نوٹس لیں جس کی وجہ سے پشاور کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔

لمحہ فکریہ ہے کہ پشاور میں منشیات فروشوں کے ڈیرے (مراکز) صرف سڑک کنارے ہی بدنامی کا باعث نہیں بلکہ تعلیمی اِداروں بالخصوص جامعات کی قیام گاہوں (ہاسٹلز) بھی محفوظ نہیں جہاں اطلاعات کے مطابق نشہ آور اشیا کی ترسیل باسہولت بھی ہے اُور وافر بھی‘ جس کی وجہ سے طلبہ کی ایک تعداد تعلیمی عرصے کے دوران ایسی لت میں پڑ جاتی ہے جس سے باقی ماندہ زندگی جان چھڑانا آسان نہیں ہوتا اُور یہ ایک انتہائی سنجیدہ موضوع ہے‘ جسے مزید نظراِنداز نہیں کرنا چاہئے۔ فیصلہ سازوں کو اگر اِس بات پر یقین نہ آئے تو وہ نشے کے عادی افراد کے علاج و بحالی کے لئے کام کرنے والی ایک غیرسرکاری تنظیم (این جی اُو) ”دوست فاؤنڈیشن (قائم اُنیس سو بانوے)“ سے رجوع کر سکتے ہیں‘ جہاں صرف پشاور ہی نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کے بارے منشیات کے استعمال کی بابت حقائق معلوم کئے جا سکتے ہیں۔ دوست فاو¿نڈیشن کے ایک ذمہ دار سے معلوم ہوا کہ منشیات اِس قدر آسانی سے دستیاب ہیں کہ فاؤنڈیشن میں علاج اُور بحالی کے بعد کسی درجہ تندرست ہونے والوں میں سے پچاس فیصد نشے کے عادی افراد دوبارہ منشیات استعمال کرنے لگتے ہیں اُور جب تک منشیات کے خلاف حکومتی اُور سماجی روئیوں میں تبدیلی نہیں آئے گی اُس وقت تک منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال پر قابو نہیں پایا جا سکے گا۔ ذہن نشین رہے کہ دوست فاؤنڈیشن اپنے محدود وسائل میں ہر سال اوسطاً 400 نشے کے عادی افراد کو بحال کر رہی ہے جبکہ ضرورت اِس سے ہزاروں گنا زیادہ کی ہے! صوبائی اُور پشاور سے متعلق فیصلہ ساز اِس سلسلے میں اپنی تحقیق بھی کر سکتے ہیں لیکن ”دوست فاؤنڈیشن“ کے اعدادوشمار بھی یکساں قابل اعتبار ہیں جنہیں دیکھتے ہوئے انتہائی بھیانک منظرنامہ اُبھر کر سامنے آتا ہے۔ کیا اِس بات پر غور ہونا چاہئے کہ پشاور میں کئی قسم کے نشے ملتے ہیں جن میں مقامی طور پر تیار کردہ ’آئس (ice)‘ بھی شامل ہے جو 100 روپے فی خوراک کے طور پر ملتی ہے۔ پہلے تاثر یہ تھا کہ ’آئس‘ کہلانے والا انتہائی تیز کیمیائی نشہ بہت مہنگا ہوتا ہے لیکن دوست فاو¿نڈیشن میں نشے کے ایک عادی فرق کے بقول یہ آئس کی ایک خوراک کم سے کم سو روپے میں بھی باآسانی مل جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسداد منشیات بارے ذیلی ادارے (UNODC) کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ”پشاور میں پندرہ سے چونسٹھ سال عمر کے نشہ عادی افراد کی تعداد 8 لاکھ ہے۔“ ذہن نشین رہے کہ یہ آٹھ لاکھ وہ ہیں جنہیں ہر روز باقاعدگی سے ہیروئن نامی نشہ ملتا ہے جبکہ دیگر منشیات کے عادی افراد کی تعداد آٹھ لاکھ کے مساوی ہے۔ کون سمجھے گا کہ منشیات کا دیمک پشاور کو چاٹ (کھائے جا) رہا ہے اُور ”ضلع پشاور کی حدود میں نجی و سرکاری جامعات میں نشہ آور اشیا ملتی ہیں اُور نشے کے عادی اَفراد میں جامعات و کالجوں میں زیرتعلیم طلبا و طالبات بھی شامل ہیں۔“ اگرچہ ’دوست فاؤنڈیشن‘ کے ذمہ دار احتیاط (ڈپلومیسی) سے کام لیتے ہوئے منشیات کے بڑھتے ہوئے اِستعمال کی وجہ ’حکومتی اِداروں‘ بالخصوص قانون نافذ کرنے والوں کو قرار نہیں دیتے لیکن حقیقت یہی ہے کہ نشہ آور اشیا کی باآسانی دستیابی کے باعث اِس کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے! عجیب و غریب صورتحال ہے کہ پشاور جیسے مرکزی شہر میں کہ جہاں خیبرپختونخوا کے پولیس سربراہ کے علاو¿ہ پشاور میٹروپولیٹن پولیس (چیف کپیٹل سٹی پولیس) کی صورت الگ سے سربراہ مقرر ہے تاکہ زیادہ مو¿ثر پولیسنگ ہو سکے جبکہ انسداد منشیات کے اِدارے اُور خفیہ اِداروں کی دفاتر بھی یہیں پر ہیں لیکن حیات آباد کارخانو مارکیٹ کی ریل پٹڑی سے لیکر چغل پورہ (رنگ روڈ) کے سبزہ زاروں اُور اُوور ہیڈ بریجز (پُلوں) کے نیچے سروں کو چادر سے ڈھانپ کر اُور ٹولیوں کی صورت بیٹھے منشیات استعمال کرنے والے ایک ایسی حقیقت ہیں جو درحقیقت تعصبات کا مجموعہ ہے اُور لاتعلقی پر مبنی طرز ِحکمرانی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ”تعلق ہے نہ اب ترک ِتعلق .... خدا جانے یہ کیسی دشمنی ہے (کامل بہزادی)۔“

....

Clipping from Daily Aaj Peshawar / Abbottabad dated 02 Jan 2022 (Sunday)

Editorial Page Jan 02, 2022 (Sunday)

Clipping from Daily Aaj - Jan 02, 2022

Friday, December 22, 2017

Dec 2017: Laws over laws & performance!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
قوانین کی بہتات!
منشیات کے خلاف وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی کوششیں باہم مربوط نہیں اور یہی وجہ ہے کہ وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا کو ایسی کسی بھی قانون سازی سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے جو وفاقی قانون اُور اِداروں کی موجودگی میں اپنے وسائل ’اِنسداد منشیات‘ کی نذر کریں گویا وفاق کی جانب سے نہایت ہی مہذب و شائستہ انداز میں خیبرپختونخوا کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ اپنی الگ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے سے باز رہیں۔ حقیقت تو یہی ہے کہ اگر انسداد منشیات ہی مقصود ہے تو اِس کے لئے وفاقی قانون‘ اداروں اور اُن قواعد کافی ہیں‘ جو پہلے ہی سے نہ صرف موجود ہیں بلکہ فعال بھی ہیں اور کسی بھی قسم کی نئی قانون سازی سے وہ عالمی امدادی ادارے یا پاکستان کے دوست ممالک پریشانی میں مبتلا ہو جائیں گے کہ وفاق یا صوبے میں کس سے بات کریں اور اگر منشیات کا انسداد نہیں ہورہا تو اِس کے لئے ذمہ دار کون ہے۔ 

تحریک انصاف کی قیادت میں موجودہ خیبرپختونخوا حکومت کی شروع دن سے قانون سازی میں غیرمعمولی دلچسپی اپنی جگہ اہم لیکن قانون پر قانون سازی کرنے سے معاملات مزید اُلجھ جائیں گے‘ جس کا یقیناًفائدہ بڑے پیمانے پر منشیات کا دھندا کرنے والے اٹھائیں گے۔ کون نہیں جانتا کہ منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی کا بڑا حصہ دہشت گردی اور انتہاء پسندی عام کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور اِسی دھندے کے ذریعے کرنسی کی غیرقانونی لین دین (ہنڈی) بھی ہوتی ہے۔ حیرت انگیز نتائج برآمد ہوں گے اگر انسداد منشیات کے وفاقی ادارے سے وابستہ ملازمین کے اثاثوں کی چھان بین کی جائے اور وہ اربوں کے اثاثہ جات کے مالک نکلیں۔ اصولی طور پر پولیس کی موجودگی میں کسی انسداد منشیات کے ادارے (انٹی نارکاٹکس فورس) کی ضرورت ہی نہیں تھی لیکن وفاق کے زیرنگرانی اگر یہ ادارہ قائم کر بھی دیا گیا ہے تو اِس کی کارکردگی (موجودگی) خود وفاق ہی کے زیرانتظام قبائلی علاقوں میں نہ ہونے کے برابر ہے آخر کیوں؟ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا کو بروقت خبردار کرنا خوش آئند اَمر ہے کیونکہ اِداروں کی جانب سے عموماً اِس قسم کا تیزرفتار ردعمل سامنے نہیں آتا لیکن یہاں معاملہ اربوں ڈالرز کی اُس غیرقانونی تجارت (خریدوفروخت) کا ہے تو صوبائی اور وفاقی حکومتیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑی دکھائی دیتی ہیں!

وفاقی نارکوٹکس کنٹرول سیکرٹری کی جانب سے خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری کے نام لکھے گئے مکتوب میں کئی تحفظات کا اظہار لائق مطالعہ ہے جس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ’’انسداد منشیات کے لئے وفاقی ادارے اور پولیس کی موجودگی میں کسی بھی قسم کی صوبائی قانون سازی اور ادارہ قائم نہ کیا جائے۔‘‘ 

قابل ذکر ہے کہ خیبرپختونخوا کے ’’ایکسائز‘ ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ‘‘ نے ایک مسودہ قانون بنام ’خیبرپختونخوا نارکوٹکس سبسٹینس ایکٹ 2017ء‘ تیار کیا ہے اور اِس مجوزہ قانون کی صوبائی کابینہ منظوری بھی دے چکی ہے اور یہ ماہ اکتوبر کے دوران صوبائی اسمبلی میں منظوری کے لئے پیش کردیا گیا تھا‘ جس کے بعد اِسے صوبائی قانون ساز پارلیمان کی ’سلیکٹ کمیٹی‘ کو غوروخوض کے لئے ارسال کیا گیا‘ جس کے سربراہی صوبائی وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول کر رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ آئین پاکستان کی دفعہ 142 بی کے تحت اُسے اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی صوبائی قانون کو ترمیم یا ختم (واپس) کرسکتی ہے اور آئین ہی کی متعدد شقوں سے یہ بات بھی ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ انسداد منشیات وفاقی معاملہ (فیڈرل سبجیکٹ) ہے اور خیبرپختونخوا اِس میں مداخلت نہ کرے۔ وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا کو اِس بات سے بھی مطلع کیا گیا ہے کہ وفاقی قوانین کی موجودگی میں صوبائی حکومتیں کسی بھی قسم کا نیا قانون منظور نہیں کر سکتیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں قوانین اور قواعد و ضوابط کی کمی نہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک اور وسیع المعانی قانون موجود ہے لیکن اُس پر عمل درآمد کی عملی مثالیں موجود نہیں۔ قوانین کی بہتات کا اَندازہ اِس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ خود قانون ساز اِداروں کو معلوم نہیں کہ اُن کی حدود و قیود کیا ہیں۔ جہاں تک عوام کا تعلق ہے تو قوانین سازی اور اِن میں ترامیم کے حوالے سے عوامی سطح پر نہ تو شعور پایا جاتا ہے اور نہ ہی لوگوں کو قوانین کے اطلاق اور اِن کے حوالے سے اپنے حقوق کا علم ہے۔ ’چٹ منگنی پٹ بیاہ‘ کی طرح قوانین بنائے جاتے ہیں‘ جن کے بارے میں عوام کا نقطۂ نظر یا مختلف مکاتب فکر سے رائے (اِن پُٹ) لینے کو ضروری نہیں سمجھا جاتا۔ 

ذرائع ابلاغ میں بھی بحث نہیں کی جاتی تاکہ قانون کو جامع بنایا جا سکے۔ یہی سبب ہے کہ قوانین اور قانون ساز اداروں کی کارکردگی کے بارے میں عام آدمی (ہم عوام) کی رائے زیادہ مختلف نہیں کہ یہ دونوں ہی خاطرخواہ حساسیت کا مظاہرہ نہیں کر رہے اور مسئلے کا حل نہیں بلکہ بذات خود ایک مسئلہ ہیں! معاشرے میں قوانین کی بہتات سے نہیں بلکہ اُن کے اطلاق سے تبدیلی آتی ہے لیکن یہ بات وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی سمجھ میں آنے کے لئے شعور کی کئی درجہ بلندی درکار ہوگی۔

انسداد منشیات میں صرف ممنوع منشیات کی کاشت‘ نقل و حمل اور خرید و فروخت روکنا ہی شامل نہیں ہوتا بلکہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی بھی اُسی وفاقی قانون کا حصہ ہے جس پر وفاق پاکستان کی جملہ اکائیوں نے عمل درآمد کرنا ہے لیکن اب تک صرف سندھ حکومت نے منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لئے ایسے مراکز (کراچی‘ حیدرآباد اور سکھر میں) قائم کئے ہیں۔ اگر خیبرپختونخوا حکومت ’ترک منشیات کے مراکز‘ قائم کرے اور پشاور جیسے مرکزی شہر میں جابجا منشیات کی فروخت کے منظم دھندوں پر ہاتھ ڈالے تو اِس کے لئے کسی اضافی قانون کی ضرورت نہیں۔ روزمرہ مشاہدے میں منشیات کی فروخت اور استعمال کھلے عام ہوتا ہے۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں منشیات اور سگریٹ نوشی کا رجحان صرف طلباء ہی نہیں بلکہ طالبات میں بھی پھیل چکا ہے‘ جس حقیقت کا مسلسل انکار اِس مسئلے کو بحرانی حدوں تک لے گیا ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے ’توجہ دلاؤ نوٹس‘ کے بعد صوبائی حکومت شاید اِس مسودۂ قانون کو آگے نہ بڑھائے اور یہ سلیکٹ کمیٹی کے سردخانے ہی میں رہے لیکن ایک ایسی قانون سازی کی کوشش اپنی جگہ زیربحث آنی چاہئے کہ مسائل کا حل نت نئے قوانین سے نہیں بلکہ اُن کے اطلاق میں ڈھونڈا جائے تو زیادہ بہتر و پائیدار (مثبت) نتائج برآمد ہوں گے۔
۔

Saturday, November 18, 2017

Nov 2017: Glossy picture of PUBLIC TRANSPORT not so glossy!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
چوری: سینہ زوری!
’پبلک ٹرانسپورٹ‘ سے جڑے دکھوں (مشکلات) میں یہ بات بھی شامل ہے کہ صرف اُور صرف ’تھکی ہوئی مسافر گاڑیوں میں سوار عام آدمی (ہم عوام) کو شک کی نگاہ سے دیکھا جائے کہ اِنہی میں دہشت گردوں سے لیکر منشیات فروشوں اور غیرقانونی طور پر اشیاء کی نقل و حمل کرنے والے پائے جاتے ہیں۔ 

مرغیوں کی طرح ڈبوں میں بند‘ کسی گاڑی کی گنجائش (seating capacity) سے زیادہ مسافروں کو سوار کرنا ایک الگ سا معمول بن گیا ہے۔ بین الاضلائی راستوں (روٹس) پر پبلک ٹرانسپورٹ سے جڑی شکایات کو پانچ بنیادی درجات میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ 1: ریجنل ٹرانسپورٹ اٹھارٹی کی جانب سے مقررہ کئے گئے (شرح) کرائے سے زیادہ وصولی کی جاتی ہے۔ 2: گاڑی کی ظاہری اور انجن کی حالت (fitness) لمبے سفر کے قابل نہ ہونے کے باوجود ایسی گاڑیوں کا استعمال عام ہو رہا ہے جو ’ماحول دوست‘ نہیں اور جن میں مسافروں کو دی جانے والی نشستیں نہ تو آرام دہ ہیں اور نہ ہی خواتین‘ بچوں اور ضعیف العمر افراد کے لئے زیادہ موزوں ہیں۔ 3: ڈیزل ایندھن کے تناسب سے مقررہ کرائے وصول کرنے والی گاڑیوں کو سستے ایندھن (سی این جی) سے چلانے کے باوجود بھی زیادہ کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔ ایسی ’سی این جی‘ گاڑیوں میں لمبی مسافت طے کرنے کے لئے ایک سے زیادہ گیس ٹینک نصب ہوتے ہیں۔ یوں مسافر کم یا زیادہ فاصلے کے سفر میں مستقل خطرات سے دوچار رہتے ہیں۔ 4: پبلک ٹرانسپورٹرز مسافروں سے صرف زائد کرایہ ہی وصول نہیں کرتے بلکہ اُن کا رویہ اِنتہاء درجے کا مغرور اور ہتک آمیز بھی ہوتا ہے۔ مسافروں سے اُن کے دستی سامان کا الگ سے کرایہ وصول کرنا بھی ایک معمول ہے‘ جن پر بالخصوص تہواروں یا خصوصی ایام میں باقاعدگی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ 5: پبلک ٹرانسپورٹ سے استفادہ کرنے والوں کے پاس چونکہ کوئی متبادل (option) ہی نہیں اِس لئے وہ ’نجی ٹرانسپورٹرز‘ کی کسی بھی ’جارحانہ اَدا (روئیوں)‘ کا (قطعی) بُرا نہیں مناتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ شکایت کریں گے تو کس سے اُور اگر انصاف چاہیں گے تو کون ہے جو عام آدمی (ہم عوام) کی فریاد جانب توجہ فرمائے۔ بنیادی سوال یہی ہے کہ بین الاضلاعی و صوبائی روٹس پر ’’حاجی کیمپ‘ پشاور بس ٹرمینل‘ چارسدہ روڈ اور کوہاٹ روڈ جیسے بڑے ’بس اَڈوں‘ کے اصل حاکم کون ہیں؟ حکومتی اِدارے ’نجی ٹرانسپورٹرز‘ کے مفادات کا تحفظ کرنے میں فعال لیکن عام آدمی (ہم عوام) کی مشکلات اور درپیش مسائل کے بارے فکرمند کون ہے؟

خیبرپختونخوا کے کل ’’سات ڈویژنز (مالاکنڈ‘ ہزارہ‘ مردان‘ پشاور‘ کوہاٹ‘ بنوں اُور ڈی آئی خان)‘‘ میں شامل تین اضلاع (چارسدہ‘ نوشہرہ اور پشاور) پر مشتمل ’’پشاور ڈویژن‘‘ سے مقامی اور بین الاضلاعی و بین الصوبائی روٹس پر چلنے والی مسافر گاڑیوں (پبلک ٹرانسپورٹ) کی کل تعداد ’’پندرہ سے سولہ ہزار‘‘ بتائی جاتی ہے (اس سلسلے میں درست اعدادوشمار کیوں موجود نہیں‘ یہ سوال اپنی جگہ لمحۂ فکریہ ہے)۔ 

پبلک ٹرانسپورٹ کے مذکورہ نظام کو قواعد و ضوابط کا پابند رکھنے کے لئے پشاور میں ’’23 چھوٹے بڑے اَڈے‘‘ بنائے گئے ہیں جن میں سے صرف ایک (پشاور بس ٹرمینل) ’ڈائریکٹوریٹ آف ٹرانسپورٹ‘ جبکہ باقی ماندہ کا نظم و نسق اور جملہ انتظامات (مینجمنٹ) ہر ضلع کی طرح پشاور کی ’مقامی (بلدیاتی) حکومت‘ کے پاس ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے بظاہر سیدھے سادے لیکن اِس ’پیچیدہ نظام‘ کا ایک اُور اعلیٰ و بالا نگران ادارہ ’ٹرانسپورٹ اتھارٹی‘ ہے جس کے مذکورہ سات ڈویژنز میں الگ الگ دفاتر ہیں اُور اِنہیں ’’ریجنل ٹرانسپورٹ اٹھارٹیز (آر ٹی اے)‘‘ کہا جاتا ہے۔ ’آرٹی اے‘ پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے راستوں (روٹس) کے انتخاب‘ اِن راستوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کے اجازت ناموں (روٹس پرمٹ) کے اجرأ‘ اُور فی مسافر (فی نشست) شرح کرائے کا تعین کرتی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی کسی بھی گاڑی کو ’روٹ پرمٹ‘ جاری کرنے کے لئے بنیادی طور پر ’چار روٹس‘ بھی تشکیل دیئے گئے ہیں جن کی درجہ بندی انگریزی حروف تہجی ’اے‘ بی اُور سی‘ سے کرتے ہوئے ’اے‘ نامی ’’روٹ پرمٹ‘‘ اُن گاڑیوں کو دیئے جاتے ہیں جن کی رجسٹریشن کی تاریخ 9 سال تک ہو۔ ’بی‘ نامی روٹ پرمٹ 11 سال تک کی رجسٹریشن رکھنے والی گاڑیوں جبکہ ’سی‘ نامی کٹیگری کے لئے ’عمر کی کوئی قید نہیں‘ بس گاڑی کا فٹ (fit) ہونا ضروری ہے اور یہ روٹ پرمٹ عموماً دیہی علاقوں کے درمیان چلنے والی گاڑیوں کو جاری کئے جاتے ہیں! 

’آر ٹی اے‘ افرادی قوت اور مالی وسائل نہیں رکھتی اُور اُسے زیادہ کرائے وصول کرنے اور گنجائش سے زیادہ مسافروں جیسی شکایت سے نمٹنے کے لئے ٹریفک پولیس کے تعاون ضرورت پڑتی ہے تو معلوم ہوا کہ کوئی ایک بھی ایسا محکمہ نہیں کہ جسے ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ سے جڑے مسائل کے لئے ذمہ دار (قصوروار) قرار دیا جائے! جس سے بات کرو‘ وہ خود کو ’’بری الذمہ‘‘ قرار دیتا ہے! 

پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے شکایات کے بارے میں ’ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی پشاور‘ کے ذمہ دار (سیکرٹری محمد ندیم اختر) کہتے ہیں کہ ’’اُن کے پاس قانون و قواعد کے اطلاق کے لئے درکار افرادی قوت اور مالی وسائل کی کمی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے ناموں کی جانچ پڑتال کے لئے تین افراد پر مشتمل ٹیم دفتری اوقات مخصوص ہے جس کی 23 مقامات پر بیک وقت موجودگی ممکن نہیں۔ ’آر ٹی اَے‘ حکام ’ٹریفک پولیس‘ کے محتاج رہتے ہیں‘ جن کی افرادی قوت کے ساتھ مل کر گشتی ٹیمیں تشکیل دی جاتی ہیں۔ (اِکا دُکا) گاڑیوں کو روک کر مسافروں سے استفسار کیا جاتا ہے اور زائد کرایہ وصول کرنے والے ڈرائیوروں کو جرمانہ کرنے کے علاؤہ اضافی کرایہ واپس دلایا جاتا ہے۔‘‘ 

حیرت انگیز امر یہ ہے کہ جن بس اڈوں میں کھلے عام اضافی کرایہ وصول کیا جاتا ہے اور جہاں سے ’لوڈ‘ ہو کر گاڑیاں نکلتی ہیں وہاں ’آرٹی اے‘ حکام کی موجودگی دکھائی نہیں دیتی‘ حالانکہ سڑکوں کی خاک چھان کی بجائے کرائے ناموں پر حسب شرح کا اطلاق اور عملاً قواعد پر باآسانی عمل درآمد بس ٹرمینلز میں ممکن ہے! یہ امر قطعی تعجب خیز نہیں ہوگا کہ پشاور سمیت ہر ضلع میں ’آر ٹی اے‘ اہلکار اور نجی ٹرانسپورٹرز کی ملی بھگت سے عام آدمی (ہم عوام) کو لوٹنے کا سلسلہ تحریک انصاف کے موجودہ دور حکومت میں بھی پوری ’سینہ زوری‘ سے جاری ہے۔ 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک سے درخواست ہے کہ وہ مقامی‘ بین الاضلاعی اور بین الصوبائی روٹس پر ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ سے متعلقہ عام آدمی (ہم عوام) کے مسائل و مشکلات جاننے کے لئے ’ہیلپ لائن‘ قائم کریں‘ جس میں فون کال‘ واٹس ایپ اُور ٹوئٹر کے ذریعے شکایت درج کرنے کی سہولت ہونی چاہئے۔ فوری طور پر ’بس ٹرمینلز‘ میں کمپیوٹرائزڈ ٹکٹوں کے اجرأ (ٹکٹ گھروں کے قیام) کا حکم دیں اور ہر روٹ پر مسافر گاڑیوں کی فرنٹ سکرین پر ایسے اسٹکرز چسپاں کروائیں جن میں گاڑی کی کٹیگری‘ روٹ کی نشاندہی‘ فی نشست کرایہ اور زیادہ سے زیادہ مسافروں کی تعداد (حسب گنجائش) جیسی تفصیلات (معلومات) درج ہو۔
۔
Issues regarding Public Transport on inter-district & inter-provincial routes
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2017-11-18