Showing posts with label Traffic. Show all posts
Showing posts with label Traffic. Show all posts

Sunday, October 31, 2021

Traffic issues of Peshawar!

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی : راہ مستقیم

یقینی اَمر ہے کہ اگر صوبائی دارالحکومت پشاور میں ٹریفک کا نظام حسب ِقواعد فعال ہو گیا تو ہر شعبہ¿ زندگی پر طاری اُور ہر طرف بکھرے افراتفری (نفسانفسی) کے ماحول میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔ ضرورت تحمل کی ہے اُور بنا تحمل ٹریفک کو "راہ مستقل "پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ اِس سلسلے میں پشاور ٹریفک پولیس کے سربراہ (چیف ٹریفک آفیسر) عباس مجید مروت نے انسداد تجاوزات مہم جاری رکھنے کا حکم دیا ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ اِس بارے میں روزانہ کی بنیادوں پر کاروائیاں کی جائیں اُور بالخصوص مقررہ ’یک طرفہ (one-way)‘ پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔ اگرچہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا کہ کسی انتظامی عہدے پر فائز اعلیٰ شخصیت نے تجاوزات کے خلاف بلاتفریق کاروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہو اُور اِس سلسلے میں تاجر برادری سے تعاون کی اپیل بھی کی ہو تاکہ (مبینہ طور پر) پشاور کی خوبصورتی کو یقینی بنایا جا سکے لیکن پشاور کی ٹریفک سے جڑے مسائل کا کوئی ایک رخ (پہلو) نہیں بلکہ اِس کے کئی محرکات ہیں جن میں خود ٹریفک پولیس اہلکاروں کے ملوث ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن اِس بارے (داخلی احتساب) سے متعلق کوئی ایک بھی اعلیٰ اہلکار ایک لفظ بھی نہیں کہتا جیسا کہ اِس سلسلے میں ساری الزامات جھوٹ ہوں یقینا جو لوگ ٹریفک پولیس اہلکاروں کے غیرقانونی اڈوں‘ غیرقانونی پارکنگ‘ بنا رجسٹریشن گاڑیوں اُور تجاوزات کی آڑ میں آمدن کا حوالہ دیتے ہیں اُن کے الزامات اگر سوفیصد درست (سچ) نہیں تو اُنہیں سوفیصد غلط (جھوٹ) بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ڈرائیونگ لائسینس سے متعلق قواعد موجود لیکن اطلاق نہیں ہو رہا۔

 ماحول دشمن دھواں اگلنے والی گاڑیوں سے متعلق قواعد موجود لیکن اِن کا حسب ضرورت وسیع پیمانے پر اطلاق نہیں ہوتا۔ لوکل ٹرانسپورٹ اُور لوکل ٹرانسپورٹ سے بین الاضلاعی و بین الصوبائی راہداریوں (روٹس) پر چلنے والی گاڑیوں میں مسافروں کی گنجائش اُور اِن گاڑیوں کے روٹس پر چلنے کے حوالے سے ’روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی‘ کے قواعد کو ٹریفک اہلکاروں نے ممکن بنانا ہوتا ہے لیکن چونکہ ٹریفک کے بندوبست میں ایک سے زیادہ اداروں کا عمل دخل ہے اِس لئے کسی ایک ادارے کو مسائل کے لئے نہ تو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے اُور نہ ہی ٹریفک کا مسئلہ کسی ایک ادارے کی دلچسپی اُور حسب قواعد کارکردگی سے حل ہونا ممکن ہے۔ اِس بارے میں صوبائی حکومت کو ’پشاور ٹریفک اتھارٹی‘ بنا کر جملہ متعلقہ اداروں بشمول ٹریفک پولیس اُور روڈ ٹرانسپورٹ کو ایک اِدارے میں ضم کرتے ہوئے سزا و جزا کا نظام متعارف کرانا ہوگا تاکہ ٹریفک کی اِس ’اُلجھی ہوئی گھتی‘ کو سلجھایا جا سکے جو آبادی کے بڑھنے کے ساتھ سلجھ نہیں بلکہ مزید اُلجھ رہی ہے!

ٹریفک قواعد اگر وضع کئے گئے ہیں تو اُن پر بلاامتیاز اُور پسند و ناپسند کی بنیاد پر (جزوی) نہیں بلکہ کلی طور پر عمل درآمد ہونا چاہئے۔ فیصلہ سازوں کی ذہانت اُور جذبے پر شک نہیں لیکن کیا اہل پشاور یہ پوچھنے کی جرات کر سکتے ہیں کہ ہر طرف ٹریفک قواعد کی پھیلی ہوئی لاقانونیت کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا پشاور کے تمام موٹرسائیکل سوار ہیلمٹ کا استعمال کر رہے ہیں جبکہ قواعد کی رو سے یہ لازمی ہے اُور ایک موقع پر بنا ہیلمٹ موٹرسائیکلز کو پیٹرول کی فروخت بھی بند کر دی گئی تھی‘ جسے جاری رکھا جاتا اُور مزید سختی کی جاتی تو آج صورتحال قطعی مختلف ہوتی۔ درحقیقت صرف ٹریفک پولیس ہی کا نہیں بلکہ ضلعی انتظامیہ (ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اُور چاروں ٹاو¿نز کی انتظامیہ) کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ کسی ایک مہم کو پورے زور و شور سے شروع کرنے کے بعد اُس کی تکمیل سے قبل یا تو ختم کر دیتے ہیں یا ایک نئی مہم شروع کر دیتے ہیں اُور پرانی مہم آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل ہو جاتی ہے!

دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ وہ سبھی امور جو ٹریفک قواعد کی رو سے جرم کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں‘ اُن سے متعلق نرمی اُور اُنہیں لاگو کرنے کے لئے نت نئی مہمات اُور یقین دہانیوں کی نہیں بلکہ خاطرخواہ سختی (بلاامتیاز و تفریق) قواعد پر عمل درآمد کی ضرورت ہے البتہ ٹریفک پولیس اہلکاروں اُور عوام کے درمیان خوش اخلاقی پر مبنی تعلق استوار کرنے اُور ٹریفک قواعد سے متعلق تعلیمی اداروں میں آگاہی مہمات جیسے پہلوؤں پر زیادہ کام ہونا چاہئے۔ فیصلہ ساز اگر چاہیں تو ”ٹریفک رضاکار“ کے دستے بنا کر عمومی و خصوصی ایام میں نہ صرف ٹریفک قواعد پر عمل درآمد یقینی بنا سکتے ہیں بلکہ اِن رضاکاروں کی خدمات سے استفادہ شعور و آگاہی پھیلانے (عام کرنے) کے لئے بھی کیا جا سکتا ہے جو حتمی ہدف ہونا چاہئے کیونکہ مقولہ ہے کہ کسی قوم کے مہذب (تہذیب یافتہ) ہونے کا اندازہ اُس کے ہاں ٹریفک کے بہاؤ اُور پھیلاؤ کو دیکھ کر لگایا جا سکتاہے۔

....



Clipping from Daily Aaj Peshawar / Abbottabad dated 31 October 2021


Friday, January 12, 2018

Jan 2018: Rules for Pedestrians (TRANSLATION)

Rule for Pedestrians
پیدل چلنے والوں کے لئے رہنما اصول

انسانی جان سے زیادہ قیمتی کوئی دوسرے شے نہیں۔ ٹریفک کے قواعد و ضوابط کسی معاشرے کی تہذیبی اساس ہوتے ہیں اور اِنہی پر عمل درآمد کو دیکھتے ہوئے ذمہ دار معاشرتی روئیوں کے بارے میں رائے قائم کی جا سکتی ہے۔ ٹریفک قواعدوضوابط میں گاڑیوں کی طرح پیدل چلنے والوں پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں‘ جن کا آئندہ چند سطور میں احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اگر سڑک کے ساتھ پیدل چلنے والوں کے لئے راستہ بنایا گیا ہے تو بہرصورت صرف اُسے ہی استعمال کیا جائے۔ ہمیشہ ٹریفک کے بہاؤ کی مخالف سمت میں پیدل چلنا چاہئے تاکہ سامنے سے آنے والی گاڑیوں کو دیکھا جا سکے۔ اگر کسی پیدل راہ گیر کو سڑک عبور کرنا ہو تو وہ اِس عمل سے قبل سڑک کے کنارے کھڑے ہو کر پہلے دائیں اور پھر بائیں طرف دیکھ کر گاڑیوں کی آمدورفت کے بارے تسلی کر لے۔ سڑک ترچھے طریقے سے نہیں بلکہ ناک کی سیدھ میں تیز قدموں سے چلتے ہوئے عبور کرنی چاہئے۔ چونکہ پاکستان میں ’زیبرا کراسنگ‘ صرف بڑے شہروں اور چند مصروف شاہراؤں ہی پر بنائی جاتی ہیں اِس لئے راہ گیروں کو اپنی اور دوسروں کی حفاظت کے پیش نظر سڑک عبور کرتے ہوئے جلدبازی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ یاد رکھیں کہ سڑک عبور کرتے ہوئے موبائل فون کا استعمال جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ کسی مصروف شاہراہ یا فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے بھی موبائل فون کی سکرین پر نظریں جما کر نہیں چلنا چاہئے کیونکہ راستے میں کوئی رکاوٹ یا گڑھا یا کسی ٹھوس چیز سے ٹکر ہو سکتی ہے۔ پیدل راہ گیروں کو نہ صرف اپنی حفاظت بلکہ دوسروں کی رہنمائی بھی کرتے رہنا چاہئے تاکہ اُن کی طرح دوسرے بھی لاعلمی میں کسی حادثے کا شکار نہ ہوں۔

پیدل راہ گیروں کو ایسی شاہراؤں پر اضافی احتیاط سے کام لینا چاہئے جن کی چوڑائی کم ہوتی ہے۔ اگر چند دوست اکٹھے پیدل سفر کر رہے ہوں تو کم چوڑی سڑک پر ایک دوسرے کی پشت پر قطار کی صورت پیدل چلیں تاکہ ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹ نہ بنیں۔ اِسی طرح سڑک عبور کرتے ہوئے کسی ایسے نسبتاً کشادہ مقام کا انتخاب کرنا چاہئے جہاں ٹریفک کا مکمل بہاؤ اُن کی نظر میں رہے اور ڈرائیورز سڑک عبور کرنے والوں کو واضح طور پر دیکھ پا رہے ہوں۔ کسی موڑ کے قریب سے سڑک عبور کرنا خطرناک عمل ہوسکتا ہے کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں پیدل راہ گیر اچانک ڈرائیورز کو نظر آتے ہیں اور اِسی وجہ سے اکثر راہ گیر مصروف شاہراہوں پر تیزرفتار گاڑیوں کی زد میں آ جاتے ہیں۔

سڑک کا استعمال بیک وقت گاڑیاں اور پیدل راہ گیر کر رہے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں چونکہ فٹ پاتھ کا تصور عام نہیں اور یہاں تجاوزات کی وجہ سے اکثر فٹ پاتھوں پر قبضہ کر لیا جاتا ہے اِس لئے بہ امر مجبوری پیدل چلنے والوں کو بھی گاڑیوں کی طرح سڑک ہی کا کچھ حصہ استعمال کرنا پڑتا ہے۔ گاڑیوں اور پیدل راہ گیروں کا بیک وقت سڑک استعمال کرنا خطرناک عمل ہوسکتا ہے اگر دونوں فریق ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہوئے احتیاط سے کام نہ لیں۔

کم روشنی کے اوقات بالخصوص شام اور رات کے وقت پیدل چلنے والی ایسے خصوصی ملبوسات کا استعمال کرسکتے ہیں جن پر روشنی منعکس کرنے والی اشیاء (reflective material) لگا ہوا ہے۔ اِس قسم کا کم قیمت اور باآسانی دستیاب مٹیریل نہ صرف کپڑوں بلکہ جوتوں پر بھی لگایا جا سکتا ہے اور بالخصوص وہ سبھی لوگ جو دن کے اختتام پر چند گھنٹے پیدل چل کر اپنی صحت و تندرستی بحال رکھنا چاہتے ہیں‘ اِنہیں ایسے میٹریل سے بنی ہوئے اشیاء‘ کپڑے یا کپڑوں کا کوئی ایک حصہ یا پھر ایسے جوتے استعمال کرنے چاہیءں جو اِن پر پڑنے والی روشنی منعکس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ 

اپنی اور دوسروں کی انسانی جان کی اہمیت بہرحال مقدم ہے اور ہونی بھی چاہئے۔ کسی جگہ چند منٹ تاخیر سے پہنچنا اِس بات سے بہتر ہے کہ خدانخواستہ حادثے کی صورت میں اپنا اور دوسروں کا نقصان کر لیا جائے۔ 

پیدل چلنے کے بنیادی رہنما اصولوں سے متعلق اپنے بچوں کو بالخصوص آگاہ کریں اگر سب گھر والے اجتماعی طور پر ٹیلی ویژن کے تفریحی پروگراموں سے محظوظ ہو سکتے ہیں تو اِس بات پر تعجب نہیں ہونا چاہئے کہ دوسروں کی طرح اپنے اہل خانہ کے ساتھ بھی ٹریفک قواعد اور اصولوں کے بارے میں تبادلہ خیال کریں۔
۔

Monday, July 24, 2017

July 2017: More promises with Peshawar!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
ہر اِنتہاء کی انتہاء!
یقین ہی نہیں آتا کہ ۔۔۔ گویا پشاور کی قسمت جاگ اُٹھی ہو لیکن کیا ’اہل پشاور‘ بھی جاگ رہے ہیں‘ جن کے لئے خبر ہے کہ اپنی آئینی مدت کے ’اختتام‘ سے قبل ’تحریک انصاف‘ کی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ ’’پشاور کی خوبصورتی میں اِضافہ اُور بنیادی سہولیات کے نظام (ڈھانچے) میں وسعت‘ پیدا کی جائے گی۔ اِس مقصد سے تعمیروترقی کی اُس ’جامع‘ قرار دی جانے والی حکمت عملی سے گرد و غبار جھاڑ کر نظرثانی کی گئی ہے جس کا بنیادی اعلان تو جون دوہزار تیرہ میں کر دیا گیا تھا لیکن اِس کی یاد دہانی ہر مالی سال کے آغاز پر لازماً کی جاتی رہی ہے۔

تحریک انصاف کے فیصلہ ساز مبارک باد کے مستحق ہیں جنہوں نے ثابت کیا کہ وہ خیبرپختونخوا کو بالعموم اور پشاور کو بالخصوص نہیں بھولے بلکہ اُنہیں یاد سب سے ذرا ذرا‘ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو! ایک معتبرحکومتی شخصیت نے رازداری سے کہا ہے کہ پشاور کے لئے 10 ارب روپے مالیت کے ترقیاتی کاموں کی منظوری دے دی گئی ہے جن میں شہر کے مختلف حصوں میں ’6 عدد فلائی اُوورز‘ کی تعمیر بھی شامل ہے تاکہ ٹریفک کے بلاتعطل بہاؤ کو ممکن بنایا جاسکے۔ پشاور ٹریفک پولیس کے فیصلہ ساز ایک عرصے سے اس بات کا مطالبہ کرتے آئے ہیں جب تک کم سے کم چھ مقامات پر فلائی اُوورز کی تعمیر اور ’رنگ روڈ‘ کی تکمیل نہیں ہو جاتی اُس وقت ٹریفک کا دباؤ بدستور برقرار رہے گا لیکن اگر عام انتخابات کے قریب حکومت پشاور کی ترقی کے لئے 10ارب روپے جیسی خطیر رقم مختص کر رہی ہے تو اِس میں ’رازداری‘ کی کیا ضرورت ہے؟ یہ بات تو فخریہ طور پر ’علی الاعلان‘ ہونی چاہئے لیکن چونکہ ماضی میں اِس طرح کے اعلانات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بعدازاں مالی وسائل فراہم نہیں کئے گئے‘ اِس لئے کوئی بھی حکومتی وزیر نہیں چاہتا کہ وہ دس ارب روپے کے خصوصی ترقیاتی پیکج کا اعلان اپنے نام سے کرے! یقیناًدانشمندی یہی ہوگی کہ تحریک انصاف ’’مزید نیک نامی‘‘ کمانے کی بجائے خیبرپختونخوا اُور بالخصوص پشاور سے معافی مانگے اور تبدیلی لانے کی پرخلوص کوششوں (اصلاحاتی انقلابی نظریات) کا دفاع کرنے کی بجائے اعتراف کرے کہ وہ اپنے حصے کا کام مکمل نہیں کر سکی! پشاور کی ترقی کے لئے ماضی میں بھی اراکین اسمبلی اور صوبائی وزراء پر مشتمل کمیٹیاں بنائی گئیں۔ ماضی میں بھی ضلعی بلدیاتی منتخب نمائندوں کی بادشاہت رہی۔ ماضی اُور حال میں سرکاری ملازمین کی ’فوج ظفر موج‘ پشاور کی ترقی اور اِس کے غم میں نڈھال بھاری تنخواہیں مراعات اُور اِختیارات سے مستفید ہو رہی ہے لیکن اگر برسرزمین حقائق تبدیل نہیں ہوئے تو وہ عام آدمی (ہم عوام) ہے‘ جسے صوبائی حکومت کی جانب سے پینے کے صاف پانی‘ صحت و تعلیم اور آمدورفت کے باسہولت و باعزت ذرائع میسر نہیں!

نمائشی اقدامات‘ سیاست برائے سیاست اور انتخابی حلقوں پر مبنی ترجیحات کو عزیز رکھنے والے ماضی و حال کے حکمرانوں کی ایک سے بڑھ کر ایک مثال موجود ہے۔ صوبائی حکومت نے چغل پورہ سے حیات آباد تک سڑک کی توسیع اور جی ٹی روڈ سے متصل اِس مصروف ترین شاہراہ سے تجاوزات ختم کرنے کے لئے درجنوں کاروائیاں کی ہیں لیکن نہ تو سڑکوں کے کناروں سے سوفیصد تجاوزات ختم ہو سکی ہیں اور نہ ہی اندرون شہر کے بازاروں سے ختم کی جانے والی تجاوزات کا علاج ہی ہو پایا ہے۔ پشاور شہر کے بازاروں میں تجاوزات پھر سے لوٹ رہی ہیں اور اُس وقت تک کاروائی نہیں ہوگی جب تک یہ پوری طرح پھیل نہیں جائیں گی! بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ماضی و حال کی ناقص کارکردگی بھی کسی اضافی تعارف کی محتاج نہیں! جی ٹی روڈ سے براستہ خیبرروڈ چار رویہ شاہراہ کی چغل پورہ سے حیات آباد تک ’چھ رویہ‘ توسیع جیسا ممکن ہدف اگر حاصل نہیں سکا تو اِس کے لئے ’کس سے منصفی چاہیں؟۔‘

تعلیمی اِداروں اور دفتروں میں حاضری یا اختتامی اوقات میں سڑکوں پر اچانک ٹریفک کا رش اُمڈ آتا ہے اور گرمی سردی یا شدید موسمی صورتحال میں معطل ٹریفک کی وجہ سے اہل پشاور کی مصائب درد کی اُس انتہاء کو چھونے لگتے ہیں جہاں مزید صبر ممکن نہیں رہتا۔

دس ارب روپے جیسی خطیر رقم پر مبنی ترقیاتی حکمت عملی میں دو ٹول پلازہ تعمیر کئے جائیں گے۔ رنگ روڈ کو بہتر بنایا جائے گا یعنی اِس رقم کا بڑا حصہ شاہراؤں کی تعمیر ہی پر خرچ ہوگا۔ اندرون شہر کے علاقوں میں شمسی (سولر) توانائی سے سٹریٹ لائٹس کی تنصیب کا عزم بھی کسی خوشخبری سے کم نہیں‘ جو سال دوہزار تیرہ سے بیانات کا حصہ تو ہے لیکن باوجود ترقیاتی ترجیحات سے متعلق وعدوں کے بھی پشاور کا حق اَدا نہیں ہوا‘ تو اہل پشاور کو گلہ مند ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ خیبرپختونخوا کا کوئی ایک بھی ضلع ایسا نہیں جہاں بنیادی سہولیات کی فراہمی میں صوبائی حکومت نے برسرزمین حقائق اور ضروریات کا ’سوفیصد احاطہ‘ کرتے ہوئے سہولیات کی عملی فراہمی (دستیابی) ممکن بنا دی ہو۔ تو پھر گلہ کس کا اُور گلہ کس سے؟
 Belated development in Peshawar, the track record suggest PTI promises not fulfilled even after 4 years rule


Thursday, January 26, 2017

Jan2017: Truth about the Traffic in Peshawar!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
پشاور ٹریفک: سچ کیا ہے!؟

خاطرخواہ سنجیدگی کا فقدان ہے۔ اَنواع و اِقسام کے مسائل میں اُلجھے (صوبائی دارالحکومت) پشاور میں ’آمدروفت‘ سے جڑی کوفت ایک ایسا ’مرض‘ ہے‘ جس کی نہ صرف شدت میں بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ہر گزرتے دن کیساتھ اِضافہ ہو رہا ہے بلکہ اِس سے ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والا ’’کس و ناکس‘‘ کسی نہ کسی حد تک متاثر بھی ہے! تئیس جنوری کے روز پشاور ٹریفک کی منصوبہ بندی اُور اِسے فعال رکھنے کے لئے ذمہ دار (نگران) ’سینئر سپرٹینڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی)‘ صادق حسین بلوچ نے ’ضلعی اسمبلی‘ کے سامنے ٹریفک پولیس کی کارکردگی‘ درپیش مسائل اُور اُن کے حل سے متعلق تجاویز پیش کیں تو سب کو گویا سانپ ہی سونگھ گیا۔ حکمران ضلعی ہوں یا صوبائی‘ سیاسی ہوں یا غیرسیاسی اُن کا مزاج یہی ہوتا ہے کہ خود کو فرائض و ذمہ داریوں سے بری الذمہ رکھنا چاہتے ہیں! کیا ضلعی حکومت پشاور میں ٹریفک مسائل کے بارے واقعی (حقیقتاً) فکرمند ہے؟ اِس سوال کا جواب زیادہ کچھ کہنے اُور عملی مثالوں کے ذریعے پیش کرنے کی بجائے صرف اس ایک بات سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ’’ایس ایس پی ٹریفک کی طلبی ’’دو ڈھائی ماہ سے دیگر مصروفیات کی بناء پر ملتوی کی جاتی رہی‘‘ اُور جب اُنہیں حاضری کی سعادت بصورت اجازت مرحمت فرمائی بھی گئی تو ضلعی اسمبلی کے اراکین سے چالیس منٹ خطاب کرنے کی درخواست کو رد کرتے ہوئے صرف پندرہ منٹ میں ایک ایسے موضوع کا احاطہ کرنے کا حکم دیا گیا جس سے ضلع پشاور کی حدود میں رہنے والے ’’کم و بیش 70 لاکھ افراد‘‘ متاثر ہو رہے ہیں۔ 

اُس عمومی صورتحال کا تصور کیجئے جس میں ’’پشاور کی ابتر ٹریفک‘‘ کے باعث معمولات زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں‘ دفاتر‘ تجارتی مراکز حتی کہ علاج گاہوں تک بروقت رسائی ممکن نہیں رہی! اگر ضلعی حکمرانوں کی دلچسپی کا معیار بلند اُور حقیقت پسندانہ ہوتا تو پشاور ٹریفک کا ’تکنیکی حال احوال گہرائی سے جاننے کے لئے طلب کئے گئے اجلاس کے اوقات مقرر نہ کئے جاتے اور نہ ہی وقت کے تابع اجلاس جیسے نادر موقع کو غنیمت سے کم سمجھا جاتا۔ دانشمندی تو یہ تھی کہ اِس اجلاس کی تیاری ٹریفک پولیس کی طرح متعلقہ ضلعی حکومتوں کے نمائندوں اور عملے نے بھی کی ہوتی اور ہر ٹاؤن میں ٹریفک مسائل‘ اُن کی اِصلاح بارے منتخب بلدیاتی اراکین کے مشاہدے‘ فہم و فراست‘ بصیرت اور کردار کے علاؤہ عوامی شکایات کی روشنی میں جائزلیا جاتا لیکن یہ ’خوش فہمی‘ شاید ہی ممکنہ طور پر کسی ’حادثاتی تبدیلی‘ سے عملی سانچے میں ڈھل جائے کہ صوبائی اُور ضلعی حکومتوں کی کارکردگی عام آدمی (ہم عوام) کی توقعات کے معیار پر پوری اُترے یعنی ’’خدا کرے کہ میری اَرض پاک پر اُترے۔۔۔وہ فصل گل‘ جسے اندیشۂ زوال نہ ہو!‘‘

خوش آئند ہے کہ پشاور کی ضلعی حکومت میں کئی ایسے اراکین بھی ہیں جنہیں عرب و مغربی ممالک میں ترقی کے ثمرات کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا اتفاق ہوا ہے اُور وہ جانتے ہیں کہ ترقی کسی ایک شعبے یا کسی مقام (سیڑھی) پر ٹھہرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مسلسل اور مربوط عمل کا نام ہے۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ’’تبدیلی(The Change)‘‘ کا حصول محض ’سیاسی و انتخابی عزائم‘ کی تکمیل و اظہار ہی سے ممکن نہیں بلکہ اِس کے لئے ہمہ وقت‘ امانت و دیانت‘ خوداحتسابی‘ بہترین طرزحکمرانی (گڈگورننس)‘ حاضر دماغی‘ فعالیت‘ مستعدی‘ عمومی ذہنی رجحانات و ترغیبات کی بلندی‘ حاضر وقت و مستقبل میں درپیش آنے والے مسائل اور حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے دستیاب وسائل سے بھرپور استفادے کی ضرورت رہتی ہے۔ 

پشاور میں ٹریفک کا مسئلہ ہو یا کوئی دوسری اُلجھن جب تک ارتقائی و مسلسل سوچ‘ تفکر اُور مشاورتی عمل کو وقت کی قید سے آزاد دیگر ترجیحات پر غالب نہیں کیا جاتا اُس وقت تک کچھ بھی نتیجہ خیز نہیں ہوگا۔ بدقسمتی نہیں تو کیا ہے کہ ماضی کی طرح موجودہ حکمرانوں کے سامنے بھی جہاں کہیں اُور جب کبھی پشاور اور اِس کے مسائل کا تذکرہ پیش کیا جاتا ہے تو صوبائی اور ضلعی فیصلہ ساز ہمالیہ کی چوٹیوں سے بلند اُور سمندروں کی گہرائیوں سے زیادہ گہرے روائتی بیانات سے ایک قدم آگے نہیں بڑھ پاتے! 

ضرورت تو یہ تھی کہ جب ضلعی اسمبلی اجلاس میں ’ایس ایس پی ٹریفک‘ کی جانب سے چالیس منٹ (یعنی ایک گھنٹے سے بھی کم دورانیہ) کچھ عرض کرنے کی موصول ہونے والی زبانی درخواست پر ’پندرہ منٹ‘ کی بجائے چارسو چالیس منٹ یعنی سات سے آٹھ گھنٹے مختص کر دیئے جاتے‘ پہلی مرتبہ ضلعی اسمبلی اراکین کے سامنے پیش ہونے پر اُنہیں اپنی بات پوری طرح مکمل کرنے کا بصدشکریہ و اطمینان موقع دیا جاتا۔ ضلعی نمائندگی کے تاج پوشوں کو ماتحت اداروں کے اعتماد کا جواب ہمہ تن گوش توجہ اور کارکردگی سے دینا چاہئے۔ حاکم تو پہلے ہی تعداد میں زیادہ ہیں اصل ضرورت تو کام کرنے والے غلاموں کی شدت سے محسوس ہو رہی ہے! تھوڑے کہے میں پوشیدہ مطالب‘ اشاروں اور استعاروں کو سمجھنے سے اگر تحریک انصاف کی قیادت قاصر ہے تو جان لے کہ وہ پشاور تو کیا کسی بھی دوسرے ضلع کی قسمت اور شکل و صورت نہیں بدل سکے گی۔ نتیجہ یہ بھی ہوگا کہ ماضی کے سیاسی وغیرسیاسی اَدوار کی طرح اِس مرتبہ بھی کاغذی کاروائیوں اُور رسمی اِجلاسوں پر اکتفا کرتے ہوئے صوبے کے کسی بھی ضلع کے رہنے والوں کے حقوق کی ادائیگی اور اصلاح احوال سے متعلق معاملہ مبنی بر انصاف نہیں ہو پائے گا۔

Monday, May 30, 2016

May2016: Air & Noise Pollution in Peshawar!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
زہریلا شہر!
کیا اِس بات پر بھی تشویش اُور دُکھ کا اِظہار نہ کیا جائے کہ ’پھولوں کا شہر‘ ہونے کا لطیف و رنگین تعارف (اِستعارہ) رکھنے والے خیبرپختونخوا کے مرکزی شہر ’پشاور‘ کا شمار پاکستان کے اُن ’پرخطر‘ شہروں میں ہونے لگا ہے جہاں ٹریفک کے دباؤ (دھواں اُگلتی گاڑیوں) کی وجہ سے ’فضائی آلودگی‘ اور ’شور شرابا‘ انسانی صحت کے لئے ’قابل قبول حد‘ سے تجاوز کر گئے ہیں! عالمی ادارہ صحت (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن) کی جانب سے انسانی سماعتوں کے لئے ’شور‘ کی محفوظ حد کا ایک معیار طے کیا گیا ہے جسے کسوٹی قرار دیتے ہوئے ماہرین پشاور میں نجی گاڑیوں کی تعداد میں ہوئے اضافے‘ گاڑیوں کے خراب انجنوں سے اگلتے ہوئے دھویں اور آٹو رکشاؤں سے ہونے والے شور جیسے تین بنیادی محرکات کو پشاور میں پھیلتی ہوئی ’فضائی و صوتی آلودگیوں‘ کی بڑی وجہ قرار دیتے ہیں لیکن کیا فیصلہ سازوں کے ہاں گرد و غبار اور دھویں (کاربن کے ذرات) سے بھرپور (آلودہ) ’پشاور کی زہریلی ہوا‘ کی تطہیر سے متعلق تفکرات پائے جاتے ہیں؟ کیا پشاور کو زہریلا بنتے دیکھنے والے تماش بینوں کو ماحولیاتی آلودگی سے خوف یا وحشت آ رہی ہے؟ کیا فیصلہ سازوں کو اپنی دانستہ غلطی (تجاہل عارفانہ) کا احساس بھی ہے‘ کہ جس کی اصلاح کے لئے وہ خود پر آئینی و ضمیر پر اخلاقی بوجھ محسوس کررہے ہوں؟ ’’ایسی ویرانی میں کرتے بھی تو کیا۔۔۔ یہ بھی کچھ کم ہے کہ وحشت کی ہے!‘‘

موٹرگاڑیوں سے متعلق ’تحفظ ماحول‘ کے ایک سے زیادہ قواعد ضوابط موجود ہیں لیکن اُن پر عمل درآمد یا اُن سے متعلق عوام میں شعور و آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ’پاکستان انوئرمینٹل پروٹیکشن موٹر وہیکل ریگولیشنز 2016ء‘ کی تیسری شق (کلاس تھری) کے مطابق کوئی بھی شخص ایسی گاڑی استعمال نہیں کرسکتا جو (ظاہری طور پر) دھواں اگلتی ہو یا اُس سے شور پیدا ہو رہا ہو۔‘‘ اِس سلسلے میں ’نیشنل انوئرمینٹل کوالٹی اسٹینڈرڈز‘ کو معیار بنایا گیا ہے جس کی روشنی میں زیادہ سے زیادہ آواز 85 (ڈیسیبلز) ہونی چاہئے لیکن پشاور کے مختلف حصوں میں شور کی حد 95 ڈیسیبلز ریکارڈ کی گئی ہے اور اگر نجی گاڑیوں کی تعداد میں کمی نہیں لائی جاتی تو صوتی آلودگی میں وقت کے ساتھ مزید اضافہ ہوگا۔ تصور کیجئے کہ پشاور میں گاڑیوں کی تعداد 126.4 فیصد سالانہ کے تناسب سے اضافہ جبکہ سڑکوں کی وسعت سالانہ 0.85 فیصد کے تناسب سے ہو رہی ہے! کم گنجائش والی سڑکوں پر گاڑیوں کی سست روی سے چلنے کی وجہ سے نہ صرف زیادہ ایندھن خرچ ہوتا ہے بلکہ اِس سے پیدا ہونے والا دھواں اور شور بھی ’رواں دواں‘ ٹریفک کے مقابلے زیادہ پھیلتا ہے! ماہرین صحت کے مطابق مسلسل فضائی آلودگی میں سانس لینے اور شور کے ماحول میں رہنے کی وجہ سے ’بلندفشار خون (ہائی بلڈپریشر)‘ اور ’نفسیاتی عارضے‘ لاحق ہوتے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی کا سبب بننے والے جملہ محرکات بشمول سڑکوں پر دھواں و شور اگلتی ٹریفک کی بذریعہ حکمت و تدبر اصلاح ممکن ہے۔

رواں برس آغاز (جنوری دو ہزار سولہ) میں بھارت کے بڑے شہر دہلی میں بڑھتی ہوئی فضائی و صوتی آلودگی کا علاج تجویز کرتے ہوئے متعلقہ انتظامیہ نے 2 ہفتوں کے لئے صرف نجی گاڑیوں کو ’جفت و طاق‘ نمبروں کے مطابق (ایک ایک دن کے لئے) سڑک پر آنے (استعمال) کی اجازت دی گئی۔ اِس تجربے کا مقصد بڑھتی ہوئی نجی گاڑیوں کی تعداد کو کسی صورت ضبط میں لانا تھا یعنی ایک دن طاق نمبروں والی گاڑیوں کو سڑک پر آنے دیا جاتا اور دوسرے دن جفت نمبروں والی گاڑیاں سڑک پر آتیں۔ دہلی کے ٹریفک پولیس اہلکاروں نے بلاامتیاز ہر خاص و عام پر اِس انتظامی فیصلے کا اطلاق کیا جس کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہوئے۔ دہلی کی فضاء میں نہ صرف دھواں (کاربن کے ذرات کی تعداد) کم ہوئی بلکہ گاڑیوں کی وجہ سے شور بھی محفوظ حد کو چھونے لگا لیکن ذاتی گاڑی رکھنے والوں کو معمولات زندگی جاری رکھنے میں اِس لئے زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا کیونکہ حکومت کی جانب سے جفت و طاق نمبروں والی گاڑیوں کے تجربے سے پہلے ہی آمدورفت کے متبادل وسائل یعنی تیز رفتار (میٹرو) و حسب ضرورت تعداد میں بسیں (پبلک ٹرانسپورٹ)‘ اندرون شہر کے مختلف حصوں کو ملانے والی ریل گاڑی جیسے انتظامات کئے گئے تھے۔ عوام نے بھی مثالی تعاون کا مظاہرہ کیا اور ایک ہی دفتر یا تعلیمی اداروں میں آمدورفت کرنے والوں نے نجی طور پر اکیلے سفر کرنے کی بجائے دوستوں کو ہمراہ کرنا شروع کر دیا اور یوں نہ صرف ایندھن کی مد میں بچت ہونے لگی بلکہ سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ بھی کم ہوا لیکن دہلی کی ٹریفک پولیس صرف ’جفت و طاق‘ کی حد تک تجرباتی حکمت عملی تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ اُس نے صورتحال کا فائدہ اُٹھانے والے اُن ناجائز منافع خوروں پر بھی ہاتھ ڈالا جنہوں نے ٹیکسی (کمرشل) گاڑیاں اور ٹَک ٹَک (آٹو رکشہ) کے کرائیوں میں اضافہ کر لیا تھا۔

پشاور کی ٹریفک پولیس ’آلودگی سے پاک دہلی‘ نامی تجربے سے بہت کچھ سیکھ سکتی ہے اور علم تو (درحقیقت) مومن کی گمشدہ میراث ہے جس کے بارے میں حکم حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مفہوم ہے کہ ’علم جہاں کہیں اُور جس کسی سے بھی ملے (بصد شکریہ و کمال حتی الوسع و ظرف) حاصل کر لینا چاہئے۔‘

Noise and air pollution in Peshawar touching the dangerous limit

Tuesday, July 14, 2015

July2015: Cosmetic measures by Traffic Police!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
پہلی ضرورت: آخری حل!
کون نہیں جانتا کہ گرمی کی شدت اور بجلی کی کمی سے سبب پیدا ہونے والے بحران کی وجہ سے شہری و دیہی علاقوں میں رہنے والوں کی زندگیاں کس حد تک متاثر ہیں۔ کاروباری سرگرمیاں الگ سے ماند جبکہ اِن برسرزمین حقائق سے متصادم ’خیبرپختونخوا ٹریفک پولیس‘ کی جانب سے مختلف اضلاع میں نصب کئے جانے والے ’الیکٹرانک اطلاعیہ بورڈز‘ ہیں‘ جن پر نمودار ہونے والے پیغامات چلچلاتی دھوپ میں نہ تو تیز روشنی میں باآسانی پڑھے جاتے ہیں اُور نہ ہی گرمی کے ستائے ہوئے ایسی ہدایات پر توجہ دیتے ہیں‘ جن کا تعلق اُن کی عملی زندگی یا مشکلات سے نہیں! سوال یہ ہے کہ اِس قسم کی فیصلہ سازی کون کرتا ہے جس میں ’بجلی بحران‘ سمیت اُن زمینی حقائق کا بھی ادراک نہیں کیا گیا کہ ہمارے ہاں احتجاج کرنے والے مہذب طور طریقے اختیار نہیں کرتے۔ اُن کے ہاتھوں میں ڈنڈے‘ اینٹیں اور پتھر نجانے کہاں سے آ جاتے ہیں اور پھر وہ راستے میں آنے والی ہر چیز کو بے رحمی سے توڑتے چلے جاتے ہیں۔ اِس طرح توڑ پھوڑ کے ذریعے دل کا غبار نکالنے والے جب تھک جاتے ہیں تو اچانک آنسو گیس اُور لاٹھیوں سے لیس پولیس آ جاتی ہے اور بجائے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو گرفتار کرنے کے اُنہیں منتشر کر دیا جاتا ہے۔ ہر ایک چھوٹے بڑے احتجاج کی یہی کہانی ہے کہ اس میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں سے سختی نہیں کی جاتی۔ اگر صرف ایک مرتبہ ہی ایسے عناصر کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزائیں اور جرمانے عائد کئے جائیں تو آئندہ کسی دوسرے کی سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی ہمت نہیں ہوگی لیکن چونکہ مصلحتوں کی وجہ سے سزاؤں پر عمل درآمد نہیں ہوتا اِس لئے پشاور شہر کی حدود میں جہاں کہیں ٹریفک سگنلز موجود ہوا کرتے تھے‘ اُن کے اب آثار ہی دکھائی دیتے ہیں! معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت ہم کسی ترقیاتی حکمت عملی پر اُٹھنے والے اخراجات اور اِن کی شفافیت کے بارے میں جان سکتے ہیں لیکن یہ نہیں پوچھ سکتے کہ فیصلہ کس نے کیا اور کیا اس میں کہیں سیاسی دباؤ کا عمل دخل بھی شامل حال تھا!؟

آخر اِس قدر نازک و مہنگے ذرائع (الیکٹرانک بورڈز) سے استفادہ اور ٹریفک قواعد پر عمل درآمد کرنے سے متعلق پیغامات کی تشہیر کی ضرورت کیوں پیش آئی جبکہ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ عوام و خواص کو ٹریفک کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا علم نہیں بلکہ صورتحال یہ ہے کہ ’قانون شکنی‘ ہمارے مزاج کا حصہ بن چکی ہے۔ ہمیں ٹریفک سگنل توڑنے میں مزا آتا ہے۔ ہر کوئی اپنی اپنی اُوقات کے مطابق ’قانون شکن‘ ہے اور یہ بات صرف ٹریفک (آمدورفت) تک ہی محدود نہیں رہی۔ آپ کو وہیں گاڑی کھڑی (پارک) ملے گی‘ جہاں ’نو پارکنگ‘ کا بورڈ لگا ہوگا۔ یک طرفہ ٹریفک کا یک طرفہ تماشا بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں! گندگی کے ڈھیر بھی وہیں لگتے ہیں کہ جہاں لکھا ہو ’’یہاں گندگی پھینکنا منع ہے!‘‘ اُور چونکہ ٹریفک اہلکاروں کو قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانے میں سے ایک خاص تناسب سے ’کمیشن‘ دیا جانے لگا ہے‘ اِس لئے اہلکاروں کی اکثریت کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ایک خطیر ماہانہ تنخواہ پر اکتفا کرنے کی بجائے جلد از جلد اپنی جائز و ناجائز آمدنی کے ’ٹارگٹ (اہداف)‘ حاصل کریں۔ سوال یہ ہے کہ جو ٹریفک اہلکار دھوپ میں جلتے ہوئے اپنے فرائض ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں اگر وہ قواعد کی خلاف ورزیوں پر ہونے والے جرمانوں سے ’کمیشن‘ اور دیگر ذرائع سے یومیہ کچھ پس و پیش کرتے ہیں تو اس کے عوض اپنی جان جوکھوں میں بھی ڈالتے ہیں لیکن یہ سمجھ نہیں آتی کہ ائرکنڈیشن کمروں میں بیٹھے ہوئے ٹریفک پولیس کے اعلیٰ حکام کس وجہ سے حصہ بصورت بھتہ وصول کرتے ہیں؟

پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف اَضلاع میں ٹریفک نظام کی اِصلاح کے لئے پہلی ضرورت ٹریفک سگنلز (اشارے) نصب کرنے کی ہے جو شمسی توانائی سے چلنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہوں۔ دوسری ضرورت حد رفتار ناپنے کے آلات اور خودکار کیمروں کی تنصیب ہے‘ جن کے ذریعے بلاامتیاز ہر تیز رفتار گاڑی کو چالان (جرمانہ) کیا جا سکے گا۔ تیسری ضرورت عمومی ٹریفک سائن بورڈز‘ زیبرا کراسنگ اُور مصروف چوراہوں کے علاؤہ بھی ٹریفک کانسٹیبلز کی تعیناتی کے لئے انسانی وسائل کی کمی دور کرنے سے متعلق ہے کیونکہ جہاں ٹریفک کانسٹیبل موجود نہ ہو‘ وہاں دیکھی جانے والی افراتفری سے عمومی تہذیب کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ چوتھی ضرورت بناء ڈرائیونگ لائسینس ٹریفک کی حوصلہ شکنی ہے‘ جس کے لئے ’بائیو میٹرک تصدیق‘ کا استعمال ہونا چاہئے۔ پانچویں ضرورت تجاوزات کا خاتمہ کرنے کے بعد تعمیروترقی کا دوسرا مرحلہ مکمل کرنے کی ہے‘ جس میں تاخیر کی وجہ سے ایک تو پشاور کے چند علاقے کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں اور تجاوزات سے زیادہ اُن کا ملبہ ٹریفک کی روانی میں حائل ہو رہا ہے۔ بچوں میں ٹریفک قواعد کے بارے شعور اُجاگر کرنے کی حکمت عملی پھر سے فعال ہونی چاہئے اور اس میں ایک آدھ سبق نصاب میں بھی شامل کردیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب سے ٹریفک کا نظام درست کرنے کی کوئی ایک تدبیر‘ کوئی ایک حربہ‘ کوئی ایک حل حسب حال یا کافی نہیں۔ اِس کے لئے جامع اور بیک وقت کئی ایک اقدامات کرنا ہوں گے لیکن وسائل ضائع کرنے کی بجائے ایسی پائیدار حکمت عملی اختیار کی جائے جس میں رنگ برنگے اور نمائشی وقتی‘ نازک و مہنگے انتظامات سے زیادہ ’پائیداری‘ پر توجہ مرکوز ہونی چاہئے۔
The mess of traffic can only be resolve when address the needs not cosmetic initiatives

Friday, June 19, 2015

Jun2015: Ignored facts about Peshawar

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
نظراَنداز ’حقائق نامہ‘
فیصلہ سازوں کی رہنمائی کے لئے مرتب کئے جانے والے وہ چند کلیدی نوعیت کے سرکاری تشخیصی اعدادوشمار ملاحظہ کیجئے‘ جن کی روشنی میں ’پشاور میں ٹریفک کی صورتحال کے بارے رائے قائم کی جاتی ہے‘ اُور ٹریفک سے ’جڑے مسائل‘ کے حل کی بابت اعلیٰ حکام انہی پر منحصر سوچ بچار کرتے ہیں۔

 1: پشاور کی آبادی 71لاکھ سے زیادہ ہے۔

 2: پشاور کے وسائل پر بوجھ میں اضافہ قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں اُور یہاں افغان مہاجرین کے مستقل قیام کی وجہ سے ہے جس کا سب سے زیادہ منفی اثر ’ٹریفک کی روانی‘ پر دیکھا جا سکتا ہے اُور یہی وجہ ہے کہ مضافاتی ہو یا شہر‘ یونیورسٹی اُور حیات آباد کے علاقہ‘ ہر چوراہے (کراسنگ) پر رش کی وجہ سے ٹریفک گھنٹوں معطل رہتی ہے۔

 3: پشاور کے زمینی راستے افغانستان کے لئے تجارتی سازوسامان کی ترسیل ہوتی ہے اور ہر روز اوسطاً 1 ہزار مال بردار ٹرک پشاور سے ہو کر گزرتے ہیں جبکہ افغانستان کے لئے بطور پبلک ٹرانسپورٹ اتنی ہی تعداد میں استعمال ہونے والی دیگر گاڑیاں اِس کے علاؤہ ہیں۔

 4: افغان تجارتی معاہدے (ٹرانزٹ ٹریڈ) کے علاؤہ پشاور کی سڑکوں کو یومیہ استعمال کرنے والی مقامی چھوٹی بڑی گاڑیوں کی کل تعداد 8 لاکھ سے زیادہ ہے جبکہ سڑکوں کی گنجائش ڈیڑھ سے دو لاکھ گاڑیوں کی ہے۔

 5: پشاور میں 50 ایسے بڑے شاپنگ پلازہ (کثیرالمنزلہ خریدوفروخت کے مراکز) ہیں جن کی تعمیر میں گاڑیوں کی پارکنگ کے لئے جگہ مختص نہیں کی گئی اُور یہی وجہ ہے کہ اِن شاپنگ پلازہ سے رجوع کرنے والی اپنی گاڑیاں ملحقہ و متصل سڑکوں پر یہاں وہاں کھڑی (پارک) کر دیتے ہیں کیونکہ اِس کے بناء کوئی چارہ نہیں۔ آسمان سے باتیں کرنے والی عمارتیں تعمیر کرتے ہوئے اِن میں پارکنگ کیوں نہیں رکھی گئی جبکہ اِس کے بناء نقشے کی منظوری ممکن نہیں۔ زیادہ منافع کی لالچ میں پلازہ مالکان نے پارکنگ کے لئے مختص جگہ (عموماً تہہ خانے) بھی کرائے پر چڑھا دیئے ہیں۔ ضلعی و پشاور کے ترقیاتی ادارے میں ’بلڈنگ کنٹرول کے شعبہ جات‘ کو فعال بنانے اور کم از کم پچاس ایسے شاپنگ پلازہ مالکان کو اِس بات پر بہرصورت آمادہ کرنا ہے کہ وہ گاڑیوں کی پارکنگ کے لئے منظور شدہ نقشہ جات کے مطابق جگہ مختص کریں اُور نئی تعمیرات کی کڑی نگرانی کی جائے۔

 6: ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پشاور کے جن بازاروں و علاقوں میں تجاوزات کے خلاف کاروائی کی گئی تھی‘ اُسے مکمل نہیں کیا جاسکا اور مختلف وجوہات کی بناء پر یہ کاروائی‘ جس کا ایک جز ترقیاتی کام بھی تھے معطل کر دی گئی ہے۔

 7: اندرون شہر تجاوزات کے لئے ذمہ داروں میں بااثر و صاحبان ثروت تاجر بھی شامل ہیں‘ جو عملی طور پر تعاون نہیں کر رہے اُور مختلف قسم کے سیاسی و سماجی دباؤ کے ذریعے ’تجاوزات سے پاک پشاور‘ کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ ہیں۔

 اُور اَب ملاحظہ کیجئے کہ صوبائی دارالحکومت میں ٹریفک کو رواں دواں رکھنے اُور اِن سات کلیدی مسائل کو سلجھانے کا آغاز جس حکمت عملی سے کیا گیا ہے‘ اُس کے درپردہ منطق کیا ہے؟ کیا یہ سوچ ٹریفک پھل دے گی یا ایک مستقل و گھمبیر مسئلے کو حل کرنے کی بجائے ماضی کی طرح محض نمائشی حل پر اکتفا کر لیا گیا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ جلدبازی میں ’ترجیحات کا تعین‘ کرتے ہوئے مرتب کی جانے والی ترجیحی فہرست میں گڑبڑ ہو گئی ہے؟ تعلیم (شعور)‘ سہولت (خدمت) اُور منظم (نظم و ضبط) کے ’تین روشن اَصولوں‘ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ’پشاور پولیس‘ نے اَٹھارہ جولائی سے ’206 مستعد اہلکاروں‘ پر مشتمل ’ٹریفک وارڈنز سروس‘ کا باضابطہ آغاز کیا ہے۔ ’دیوہیکل‘ چمکدار‘ برق رفتار اُور قیمتی موٹرسائیکل سواروں کو دیکھ کر مغربی ممالک کا نقشہ یا Chips نامی وہ ڈرامہ سیریل آنکھوں کے سامنے گھوم جاتی ہے‘ جس میں اَمریکہ کے دو ٹریفک پولیس اہلکار فرض شناسی کی مثال تھے۔ وہ سڑکیں جو پہلے ہی ٹریفک کا بوجھ نہیں اُٹھا رہیں‘ کیا یہ منطقی ہے کہ اُس پر مزید ٹریفک بڑھا دی جائے کہ اِس سے مسئلہ حل ہو جائے گا؟ آخر کیا وجہ ہے کہ مقامی طور پر تیار ہونے والے ستر‘ ایک سو‘ یا اَیک سو ’پچیس سی سی‘ کے ہلکے (کم خرچ) موٹرسائیکلوں کی بجائے اِنتہائی تیزرفتار (مہنگے اُور اِیندھن کے دشمن) موٹرسائیکلوں کا اِنتخاب کیا گیا ہے؟

یہ مسئلہ نہ تو سیدھا اور نہ ہی اُلٹے لٹکنے سے حل ہوگا۔ پشاور کے ٹریفک کی اصلاح اُس وقت تک عملاً ممکن نہیں جب قواعد و ضوابط مسلط کرنے کی بجائے عوام کو فیصلہ سازی و مشاورت کے عمل میں ’براہ راست شریک‘ نہیں کر لیا جاتا۔ اِس سلسلے میں الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے وسائل موجود ہیں‘ جن کے ذریعے براہ راست اور تحریری مشاورت و تبادلہ خیال (بحث و مباحثہ) کی روایت متعارف کرائی جا سکتی ہے جس کے نتائج زیادہ مفید و پائیدار برآمد ہو سکتے ہیں۔ صرف ٹریفک ہی نہیں بلکہ پشاور کے دیگر مسائل کی بڑی وجہ بھی یہ ہے کہ اِس شہر کے بارے میں فیصلہ سازی کرنے والوں کا قلبی‘ روحانی و فکری تعلق پشاور سے نہیں۔ وہ ایک سیاسی عمل کے ذریعے منتخب ہو کر یا پڑھ لکھ کر ملازمت کرنے آتے ہیں‘تاکہ اپنا مستقبل سنوار سکیں۔ اپنی ذہانت و قابلیت کا لوہا منوا سکیں۔ اَپنی تعلیم یا اِنتخاب پر اُٹھنے والے اخراجات بمعہ منافع پورا کر سکیں۔ (حسب محاورہ) فطری اَمر ہے کہ ہر کسی کے لئے اُس کا اپنا ملک کشمیر ہوتا ہے اُور یہی سبب ہے کہ فیصلہ سازوں کی اکثریت کے دامن گیر اپنے اپنے آبائی علاقوں اور انتخابی حلقوں کی فکر رہتی ہے۔ ماضی کی طرح آج بھی تنخواہیں بمعہ مراعات یا مراعات بمعہ تنخواہ شمار کی جاتی ہیں۔
 ایسے مخلصین سے توقعات وابستہ کرنے کی روائتی روش رکھنے والے ’اہل پشاور‘ کو بھی اِس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ وہ اپنے شہر کے بارے مسائل پر غور کریں اُور فیصلہ سازی اپنے ہاتھ میں لیں۔

 بڑے بڑے عزائم‘ ملکی و غیرملکی حالات و واقعات کی گھتیاں سلجھانے والی سراپا دانشور قائدین پر انحصار و توکل کرنے کی بجائے ’پشاور کو اپنی ذات‘ میں متحد ہونا ہوگا۔ اَلمیہ ہے کہ سال دو ہزار دو سے اب تک اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود بھی نہ تو پشاور کے ٹریفک کا مسئلہ حل ہوسکا ہے اور نہ ہی اس کی شدت میں کمی آئی ہے۔ سوچئے کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ سب ’برکت‘ نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔ اِتفاق و اِتحاد نہ ہونے کی وجہ سے صوبائی اسمبلی میں درجن سے زیادہ (بشمول مخصوص) نشستیں ہونے کے باوجود بھی پشاور قیادت و نمائندگی سے محروم ہے تو آخر کیوں؟ سمجھ لیجئے کہ ترقی کے نام پر حق تلفی‘ مسائل کا تسلسل اُور غیرمربوط‘ جزوی‘ جوں کی توں محض ’حکمت عملیاں‘ ہی کافی نہیں‘ جب تک ’سیادت کے منصب‘ پر پشاور خود فائز نہیں ہو جاتا!
Traffic Warden Services introduced in #Peshawar but to solve and resolve the traffic issues, govt have to set it's priorities first

Thursday, February 12, 2015

Feb2015: Hazardous Traffic in Peshawar

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
خیبرپختونخوا: جان ہتھیلی پر!
فکر پشاور کے عنوان سے صوبائی دارالحکومت کی سڑکوں پر ’اُوورلوڈ‘ گاڑیوں اور نجی شعبے کی حوالے کی گئی ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ سے جڑی عام آدمی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے جو ایک ٹریفک کا اصلاجی پہلو سرسری طور پر بیان کیا گیا‘ اُس کی وضاحت ضروری ہے تاکہ موضوع کی اہمیت اور بحث مسلسل رہے۔
خیبرپختونخوا کے دیگر حصوں کی طرح پشاور میں بھی ہرسال درجنوں کی تعداد میں انسان کیڑے مکوڑوں کی طرح ٹریفک حادثات میں ’’کچل کر‘‘مر جاتے ہیں لیکن اِن حادثات کے بارے میں معلومات جمع کرنے کا نظام سائنسی بنیادوں پر استوار نہیں۔ سب کچھ قانون نافذ کرنے والے اِدارے ’پولیس‘ پر منحصر ہے کہ وہ کسی ٹریفک حادثے سے متعلق ابتدائی تفتیشی رپورٹ (ایف آئی آر) کن معلومات اور کن محرکات کے تحت درج کرتی ہے۔ عموماًیہی دیکھنے میں آتا ہے کہ ٹریفک حادثات کی رپورٹنگ کرنے کا یہ طریقہ ’سوفیصدی حادثات درج (ریکارڈ)‘ نہیں کرتا بلکہ بہت سے حادثات کی تحقیقات کرنے کی بجائے اُن کا موقع پر ہی تصفیہ یا پھر ایف آئی آر کے اندراج کے بعد کر لیا جاتا ہے۔ یہ عمل اُس وقت مزید پیچیدہ بن جاتا ہے جب کسی سرمائے دار‘ سیاسی اثرورسوخ رکھنے والی شخصیت یا سیاست دانوں‘ افسرشاہی کے قریبی حلقوں میں سے کسی کا ہو۔ عام آدمی چاہے گاڑی کے اندر بیٹھ کر حادثے کا شکار ہو یا سڑک عبور کرتے ہوئے تیزرفتاری کی زد میں آنے کے بعد ’خوش قسمتی‘ سے زندہ بچ جائے تو یہی سوچ رکھتا ہے کہ ’جو کچھ ہوا‘ اُس کی قسمت میں لکھا تھا‘ اُور اِس سب کچھ کے لئے کوئی دوسرا ذمہ دار نہیں۔ پولیس کا دباؤ بھی زخموں نڈھال شخص کو یہ باور کرانے پر ہوتا ہے کہ علاج و معالجے اور دیگر اخراجات کے لئے کچھ نہ کچھ رقم ملنا ہی کافی ہے۔ معاملات بسترمرگ پر ہی طے ہوجاتے ہیں اور علالت اگر مستقل معذوری کی صورت ہو تو بھی سوائے ہاتھ ملنے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔

ٹریفک حادثات کے بارے ہمارا‘ اجتماعی رویہ اور طرزعمل مثبت نہیں‘ جو نظرثانی چاہتا ہے۔ اعدادوشمار ملاحظہ کیجئے کہ کس طرح ’بے ہنگم ٹریفک کی وجہ سے حادثات‘ اُن غلطیوں کی وجہ سے بار بار دُہرائے جانے کی وجہ سے رونما ہو رہے ہیں‘ جن کی اصلاح ممکن تھی لیکن (صدافسوس کہ) متعلقہ فیصلہ سازوں کی توجہ اِس جانب مرکوز نہیں۔ خیبرپختونخوا پولیس کے مرتب کردہ ریکارڈ کے مطابق ’’سال 2014ء کے دوران‘ 88 خطرناک یا بڑے ٹریفک حادثات ہوئے جو اس سے قبل یعنی سال دو ہزار تیرہ میں 96تھے جبکہ دو ہزار بارہ میں صرف 84 یعنی اگر تین برس کی اُوسط نکالی جائے تو ہمارے ہاں ہونے والے ٹریفک حادثات کا شمار ہر سال 80 سے زیادہ بنتا ہے۔ اسی طرح سال 2014ء کے دوران رونما ہوئے کم خطرناک یا قدرے چھوٹے پیمانے پر ہونے والے ٹریفک حادثات کی تعداد 301 ہے جو دوہزار تیرہ میں 339 اور 2012ء میں 380 تھی یعنی اگر کم خطرناک حادثات کا تناسب بھی نکالا جائے تو وہ سالانہ تین سو پچاس سے زیادہ بنتا ہے! یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ کسی ٹریفک کی صورت فوری طور پر ’ریسکیو 1122‘ کو طلب نہیں کیا جاتا اور بالخصوص دیہی علاقوں یا پشاور کے علاؤہ دیگر اضلاع میں معاملات پولیس تھانے کی حد تک ہی نمٹا لئے جاتے ہیں۔ مریضوں کی مرہم پٹی کرکے اُنہیں فارغ کرنا جبکہ ٹریفک حادثات کے لگنے والے زخموں سے ابھی خون بھی رس رہا ہو‘ ایک معمول کی بات بن چکی ہے۔ یہی بڑا سبب ہے کہ ٹریفک حادثات کا شمار درج نہیں ہوتا۔

ہمارے ہاں ٹریفک سے جڑے مسائل کی نوعیت اور شدت کے کئی ایک اسباب ہیں جن میں سرفہرست عام آدمی کی سماجی حیثیت ہے‘ جو نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر کسی کے پاس مال دولت نہیں‘ تعلقات نہیں‘ سیاسی وابستگیاں نہیں تو وہ کچھ بھی ہوسکتا ہے‘ قانون و معاشرے کی نظر میں اَہم نہیں ہوسکتا۔ یہاں درجات کا معیار متقی و پرہیزگار ہونے یا ایمانداری و دیانت سے زندگی بسر کرنے کے طورطریقوں سے متعلق نہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو عوام کی نمائندگی کے لئے منتخب ہونے والوں کے لئے ’امانت و دیانت کی شرائط و قواعد‘ وضع کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ حلف نہ لینے پڑتے۔ قسمیں اور وعدے نہ کرنے پڑتے کہ میں اپنے اختیارات کا غلط استعمال نہیں کروں گا‘ جھوٹ نہیں بولوں گا وغیرہ وغیرہ۔ جن ہستیوں کے ہاتھ میں ہم نے قانون سازی اور حکمرانی سونپ دی ہے اُنہوں نے اِس عزت و تکریم اور اعزاز کے جواب میں ہمیں جو کچھ عنایت کیا ہے وہ یہ ہے کہ ’’ٹریفک انجنیئرنگ کا نام ونشان دکھائی نہیں دیتا۔ ٹریفک قواعد سے متعلق معلومات عوام و خواص کو نہیں۔ ٹریفک قواعد پر عمل درآمد کرنے کے لئے خاطرخواہ پولیس اہلکار (افرادی قوت) موجود نہیں۔ ٹریفک قواعد پر عمل درآمد حسب مقام و مادی و سیاسی حیثیت کیا جاتا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ مالکان استحصال کو اپنا استحقاق سمجھتے ہیں۔ ٹریفک پولیس کے تکنیکی وسائل کی کمی ہے۔ بنیادی شاہراؤں اور رابطہ سڑکوں کا نظام وسعت چاہتا ہے۔ ٹریفک کا بہاؤ تقسیم کرنے کے لئے حکمت عملی موجود نہیں اور نہ ہی آبادی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے تحت شاہراؤں کے نظام کو وسعت دی جا رہی ہے۔‘‘ ٹریفک کی ناکافی سہولیات اور نظام سے جڑی خرابیوں کے باعث ہونے والے اعدادوشمار میں ہلاکتوں و زخمی کی تعداد بھی توجہ طلب ہے۔ خیبرپختونخوا ریسکیو 1122کے ریکارڈ کے مطابق ۔۔۔’’سال 2010ء میں 184حادثات ہوئے‘ جن میں 162 زخمی 17 افراد ہلاک ہوئے۔ سال 2011ء میں 1117 حادثات میں 415 زخمی اور 36 ہلاکتیں ہوئیں۔ سال 2012ء کے دوران 1125 ٹریفک میں 1018زخمی اور 72 ہلاکتیں ہوئیں۔ 2013ء میں 1670 حادثات میں 2191 زخمی اور 51 ہلاکتیں ہوئیں۔ سال 2014ء کے دوران 971 چھوٹے بڑے ٹریفک حادثات میں 1100 زخمی اور 36 ہلاکتیں اِس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ ہماری توجہ ’ٹریفک کے نظام کی اصلاح جانب مبذول نہیں۔‘

پشاور جیسے مرکزی شہر سمیت پورے صوبے میں ’ٹریفک سگنلز‘ نصب کرنے کے لئے تو شاید بہت سے مالی وسائل کی ضرورت ہو لیکن سیٹ بیلٹ باندھنے‘ مسافر بسوں کے فرنٹ شیشوں پر چسپاں سٹیکر اُتروانے کے لئے تو مضبوط ارادے اور فرض شناسی کی ضرورت ہے۔ گاڑیوں کی فٹنس سرٹیفکیٹ جاری ہوتے ہیں جبکہ گاڑیاں پچاس فیصد بھی فٹ نہیں ہوتیں۔ سی این جی کے ٹینک بناء حفاظتی انتظامات مسافر بسوں کی سیٹوں تلے دبکے ملتے ہیں‘ لیکن اِن چلتے پھرتے بموں کی جانب متعلقہ حکام کا دھیان نہیں۔ دیگر شعبوں کی طرح ٹریفک کا نظام بھی کسی اَن دیکھی طاقت کی نظرکرم سے چل رہا ہے اور جو اِس نظام سے استفادہ کرنے کے باوجود زندہ ہیں‘ اُن کا شمار کرتے ہوئے یہ محاورہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ ’’جسے اللہ رکھے‘ اُسے کون چکھے!‘‘

Sunday, February 1, 2015

Feb2015: Traffic Warden System

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
ٹریفک وارڈن سسٹم
بہت کچھ قابل اصلاح ہے اور اگر ایک ایسی فہرست مرتب کی جائے کہ اصلاحات کا عمل کا آغاز کس شعبے سے ہونا چاہئے تو مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کی اکثریت اِس بات پر متفق ہوگی کہ پشاور میں ٹریفک کا برائے نام نظام‘ پہلی فرصت سے بھی پہلے درست ہونا چاہئے‘ جس سے کئی ایک ضمنی مسائل جڑے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر 1: تجاوزات کہ جن کی وجہ سے فٹ پاتھ کی بجائے پیدل چلنے والے مجبوراً سڑک کا استعمال کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں بدترین مثال اشرف روڈ‘ نیورام پورہ گیٹ‘ پیپل منڈی سے ہوتے ہوئے خیبربازار تک دیکھی جا سکتی ہے۔ 2: نئے اور پرانے تعمیر ہونے والی کثیر المنزلہ رہائشی و کاروباری مقاصد کے لئے زیر استعمال عمارتوں میں پارکنگ کی گنجائش نہ رکھنے سے شاہراؤں کا نصف رقبہ پارکنگ کی نذر ہو چکا ہے۔ اس کی بدترین مثال حال ہی میں تعمیر ہونے والے شاپنگ پلازوں میں دیکھی جا سکتی ہے جن کے نقشوں میں پارکنگ کے لئے جگہ مخصوص تھی لیکن بعدازاں اُسے بھی کرائے پر دے دیا گیا اور شہری ترقی یا میونسپل سروسیز کے معیار و فراہمی کے لئے ذمہ دار اِداروں نے اِس بے ضابطگی پر ’چپ سادھ‘ رکھی ہے کیونکہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کا تعلق بااثر سیاسی خاندانوں سے ہے! 3: مختلف ادوار میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کے ناقص معیار کی وجہ سے شہر کے مختلف حصوں میں نکاسئ آب کی نالے نالیاں ناکارہ ہو گئیں ہیں‘ جو معمول کے مطابق بارش ہونے یا نہ ہونے کی صورت میں بھی سڑکوں کو اکثر ناقابل استعمال بنا دیتی ہیں۔ 4: پشاور میں ٹریفک سگنلز نصب کرنے پر کسی بھی دور میں توجہ نہیں دی گئی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ پشاور میں کل 18 مقامات پر ٹریفک سگنل نصب ہیں جن میں سے 14 چھاؤنی کی حدود میں ہیں۔ جی ٹی روڈ پر لگائے گئے ٹریفک سگنل مظاہرین کے غم و غصے کا نشانہ بن کر ناکارہ ہو چکے ہیں۔ 5: سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پشاور کی سڑکوں پر ہر روز 7 لاکھ 50 ہزار گاڑیاں سفر کرتی ہیں‘ جنہیں ٹریفک قواعد کا پابند بنانے کے لئے ٹریفک پولیس اہلکاروں کی افرادی قوت ناکافی ہے اور یہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومت نے پشاور میں جدید طرز کا ’ٹریفک وارڈن سسٹم‘ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تو کیا اِس تجربے کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہوں گے اُور ’ٹریفک وارڈن سسٹم‘ کے خدوخال کیا ہوں گے‘ جن سے وابستہ توقعات و اُمیدیں کے علاؤہ اہل پشاور کن تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں؟

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں جب کبھی بھی قانون سازی یا قواعد سازی کی جاتی ہے تو اُس کے خدوخال اور خصوصیات سے اُن طبقات کو مطلع کرنا ضروری نہیں سمجھا جاتا‘ جن پر انہیں لاگو کیا جاتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ہمارے ہاں قواعد کے انبار لگ گئے ہیں۔ بیرون ممالک نے اپنی ضروریات کے مطابق وضع کردہ قوانین درآمد تو کر لئے گئے لیکن اُن پر عمل درآمد نہ ہو سکا اور یہی وہ منفی پہلو تھے‘ جنہیں ’’ٹریفک وارڈن سسٹم‘‘ کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کی صورت مخاطب کیا جائے گا۔

نوید یہ ہے کہ ’’ٹریفک وارڈن سسٹم‘‘میں شہریوں کو بھی شامل کیا جائے گا تاکہ دو اہداف حاصل کئے جا سکیں پہلا ٹریفک قواعد وضوابط کا ’مکمل اطلاق‘ ممکن ہو اور دوسرا اِن قواعد کے اطلاق میں ماضی کی طرح خاص و عام کی تمیز نہ کی جائے بلکہ شفاف انداز میں ’قاعدے قانون سب کے لئے یکساں‘ ہونے چاہیءں۔
پشاور کی ٹریفک پولیس میں ایک ایسا شعبہ بھی تخلیق کرنے پر اصولی اتفاق کر لیا گیا ہے جس کا کام مختلف تعلیمی اداروں اور دفاتر میں جا کر ’ٹریفک قواعد‘ سے متعلق معلومات و آگہی میں اضافہ کرنا ہوگا۔ یہ اپنی نوعیت کا منفرد تجربہ ہوگا‘ جس سے حکام کو بڑی توقعات وابستہ ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ٹریفک قواعد پر عمل درآمد کے لحاظ سے پشاور کو ملک کا مثالی شہر بنا دیا جائے۔ اِس سلسلے میں تجرباتی طور پر پبلک ایڈریسنگ سسٹم کے ذریعے مصروف چوراہوں پر ٹریفک قواعد کے بارے میں معلومات نشر کی جاتی رہی ہیں اور اِسی سلسلے میں ’ایف ایم ریڈیو چینلوں‘ کے وسائل سے بھی استعمال کیا گیا ہے‘ جسے کافی پذیرائی حاصل ہوئی تھی۔ نئے نظام کے تحت کسی ٹریفک ایمرجنسی کی صورت فون نمبر 1915 پر اطلاع دی جا سکے گی جبکہ ’ایف ایم ریڈیو چینل‘ مستقل بنیادوں پر ٹریفک اپ ڈیٹس نشر کریں گے۔ اگر رش کی وجہ کسی شاہراہ سے ٹریفک دوسری سمت منتقل کرنا ہو یا لوگوں کو دیگر متبادل راستے اختیار کرنے کے لئے آگاہ کرنا ہوتو اِس کے لئے ایف ایم ریڈیو کے وسائل استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ٹریفک قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر جرمانہ (چالان) کیا جاتا ہے‘ جسے خودکار نظام سے منسلک کرنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی حاصل کر لی گئی ہے۔ الغرض ایسے بہت سے اقدامات کی منظوری دے دی گئی ہے‘ جن سے نہ صرف ٹریفک کے بہاؤ میں بہتری آئے گی بلکہ ٹریفک پولیس کی مبینہ بے ضابطگیوں اور رشوت ستانی جیسی اِکا دُکا شکایات کا بھی ازالہ ہو جائے گا۔

سال دو ہزار پندرہ کے دوران محض ’’ٹریفک وارڈن سسٹم‘‘ (ایک نئے نظام) کے ذریعے اگر پشاور کی سڑکوں پر یومیہ سات لاکھ سے زائد گاڑیوں کو نظم وضبط کا پابند بنا دیا جاتا ہے‘ تو یہ کرامت سے کم نہیں ہوگا۔ بناء سڑکوں کو کشادہ کئے۔ بناء تجاوزات ختم کئے‘ ٹریفک پولیس اہلکاروں کی افرادی قوت اور وسائل میں اضافہ کئے بناء‘ غیرقانونی پرمٹ پر چلنے والی گاڑیوں کے کمرشل استعمال کو روکے بناء اُور اثرورسوخ پر مبنی ذہنیت کی تبدیلی کے بغیر جو کچھ حاصل ہوگا وہ پشتو کے اُس محاورے کی عکاسی کرے گا کہ ۔۔۔ ’’گڑ گڑ کی گردان سے کم اَز کم منہ تو میٹھا ہو ہی جائے گا!‘‘