Showing posts with label DAJ. Show all posts
Showing posts with label DAJ. Show all posts

Tuesday, January 12, 2016

Jan2016: Leadership response & responsibilities

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
قیادت: فکری و عملی تقاضے!
پاکستان تحریک انصاف کا المیہ یہ ہے کہ اِس کے کلیدی فیصلے اُور ترجیحات کا تعین کسی ایک مقام پر نہیں ہوتا اُور جس قدر زمینی فاصلہ پشاور (خیبرپختونخوا) اُور بنی گالہ (اِسلام آباد) کے درمیان ہے اُتنی ہی تاخیر حکمت عملیوں کے نفاذ یا اُن کے ثمرات حاصل کرنے کے لئے خاطرخواہ فعالیت و نگرانی میں بصورت رکاوٹ پیش آتی ہیں اُور یہ قطعی طور پر کسی ایسی جماعت کے لئے تو کم از کم خوش آئند قرار نہیں دیا جاسکتا جو انقلابی تبدیلیوں (اِصلاحات) کا عزم رکھتی ہو اُور چاہتی ہو کہ بذریعہ ووٹ پارلیمانی طرز حکمرانی کو زیادہ بامقصد‘ عوام کے سامنے بہرصورت جوابدہ بنایا جائے لیکن محض خواہشات اُور بیانات ہی کافی نہیں ہوتے بلکہ عملی طورپر ایسے اقدامات آئندہ چند سطور میں روایت کئے جارہے ہیں جو کارکنوں کے ’فیڈبیک‘ سے اخذ کئے گئے ہیں اور اگر تحریک انصاف کی مرکزی و صوبائی قیادت کارکنوں کے دلی جذبات کو سمجھ لیتی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ آئندہ عام انتخابات میں بلاشراکت غیرے ’خیبرپختونخوا‘ اُنہی کے نام رہے!

قومی مسائل کے حوالے سے ’پاکستان تحریک اِنصاف‘ کے سیاسی نظریات اُور پارلیمانی سطح پر جدوجہد اپنی جگہ لیکن برسرزمین حقائق زیادہ بڑے اَہداف کے ساتھ اُن چھوٹی چھوٹی باتوں پر برابر دھیان مرکوز رکھنے کے متقاضی ہیں‘ جس کا تعلق عام کارکن کی ’’اِقتصادی حالت (زار)‘‘ سے ہے۔ گذشتہ دو برس میں نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے لئے صوبائی سطح پر اِقدامات کا جائزہ لینے سے مایوسی ہوتی ہے تو دوسری طرف ترقیاتی عمل کے تعطل یا سست روی کے باعث روزگار کے مواقع نہیں بڑھ پائے۔ تعلیمی اِداروں میں ماضی کی طرح گنجائش کم رہی۔ سکول کے بعد کالج اُور کالج کے بعد کسی سرکاری یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنے کے خواہشمند کس ذہنی و جسمانی کرب اور مہنگے ترین تجربے سے گزرتے ہیں‘ کسی کو اِحساس تک نہیں۔ نجی تعلیمی اِداروں کی من مانیاں‘ فیسوں میں اِضافہ اور صورتحال کا ناجائز فائدہ اُٹھانے کی سرکاری سرپرستی (حوصلہ اَفزائی) تاحال (ہنوز) جاری ہے۔ بنیادی سہولیات و خدمات کی توسیع کے ساتھ سرکاری ملازمین کا قبلہ درست کرنے اُور انہیں عہدوں سے جڑی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کی تشنگی بھی الگ سے محسوس کی جا رہی ہے۔ ماضی میں اگر تعمیروترقی کا عمل سیاسی و انتخابی ترجیحات کے تابع ہوتا تھا تو اِس عمل میں تعطل کے محرکات بھی یہی بنے‘ جن کے لئے جواز کتنا ہی منطقی ہو‘ کارکنوں کی نظر میں قیادت کو محرومیوں کے اَزالے کے لئے عملی کوششیں کرنی چاہیءں۔ تحریک انصاف کے ایک کارکن کے دکھ بھرے لہجے کی ترجمانی الفاظ میں ممکن نہیں جو کہہ رہا تھا کہ ۔۔۔’’کیا میں اپنی نوکری کی درخواست لیکر اُن سیاسی جماعتوں کے پاس جاؤں جن سے خاندان‘ محلے اور پولنگ اسٹیشن کی سطح پر مخالفت مول لی؟‘‘ یقیناً’معلومات تک رسائی‘ اور اہلیت کے لئے ’این ٹی ایس‘ کے ذریعے ملازمتیں دینے کا شفاف طریقۂ کار اختیار کرنا معمولی بات نہیں لیکن کیا ’این ٹی ایس‘ امتحان کی فیس‘ طریقۂ کار اور وہ نفسیاتی دباؤ سہنے کی ملازمتوں کے متلاشیوں میں قوت و مہارت موجود بھی ہے۔ کسی امتحان میں منفی نمبروں کا طریقۂ کار اگر پرائمری مڈل یا ہائر کلاسیز میں متعارف کرایا جاتا تو منطق سمجھ میں آ سکتی تھی لیکن بیک وقت امتحانی بورڈز کے ذریعے اِمتحانات اُور بعدازاں ’این ٹی ایس‘ کے ذریعے اہلیت کی جانچ دو متضاد باتیں ہیں۔ فیصلہ سازوں کو عام آدمی (ہم عوام) کی اِس مشکل کا ادراک کرنا چاہئے کہ باقاعدہ و باضابطہ اور مرحلہ وار اِمتحانی نظام کی موجودگی میں کسی اضافی اور انوکھے قسم کے امتحان کا کیا جواز رہ جاتا ہے؟اگر ’این ٹی ایس‘ ضروری ہے تو پھر امتحانی بورڈز کی ضرورت نہیں رہتی۔ ویسے بھی سرکاری نوکری کے لئے تعلیمی قابلیت ہی اہم ہوتی ہے جس کے لئے اسناد کے جعل سازی کا رجحان مدنظر رکھتے ہوئے اگر تعلیمی قابلیت کو ’نادرا‘ ریکارڈ (شناختی کوائف) کا حصہ بنا دیا جائے تو نہ صرف اِس منفی رجحان کی روک تھام ممکن ہو جائے گی بلکہ فیصلہ سازوں کے سامنے برسر روزگار اور بے روزگار افراد کی تعداد اور جن شعبوں میں وہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں اُن کی معلومات بناء کسی ’اِضافی محنت‘ دستیاب ہوں گی جس سے اقتصادی و معاشی بہتری کے لئے حکمت عملیاں بنانے میں سہولت رہے گی۔

ملک کی داخلی سلامتی اُور خارجہ اَمور سے متعلق قومی حکمت عملی کے خدوخال‘ عالمی سیاسی منظرنامے میں پاکستان کے مفادات کا دفاع اور اِس بارے قوم کی رہنمائی بھی یقیناًسیاسی جماعتوں ہی کے منجملہ فرائض کا حصہ ہوتی ہے لیکن کارکنوں کی تسلی و تشفی اُور اُن کے اطمینان قلبی کی ذمہ داری بھی اُن ناخداؤں کے رحم و کرم پر ہی ہوتی ہے‘ جنہیں کوئی بھی فیصلہ یا سیاسی و انتخابی اتحاد کرنے سے قبل کارکنوں کے بارے میں کم سے کم ایک مرتبہ ضرور سوچنا چاہئے جو ’بھیڑ بکریاں‘ نہیں کہ اُن کی تعداد (ووٹ بینک) کی بنیاد پر سودا بازی کے لئے استعمال کی جائے۔ سیاسی قیادت اُور بالخصوص تحریک انصاف کے قائدین کو فکری و عملی تقاضوں کا بھی اِدراک کرنا ہے‘ جس میں کارکنوں کو مرکزی اہمیت حاصل ہونی چاہئے۔ اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ذریعے اگر ’تنظیم سازی‘ اُور ’تنظیم نو‘ نہیں کی جائے گی اُور ترقیاتی حکمت عملیوں میں عوام کے منتخب نمائندوں کی بصیرت‘ تجربے اُور وابستہ پارٹی کارکنوں کے مفادات کا خیال نہیں رکھا جائے گا‘ تو تحریک انصاف کے لئے اِس سے پیدا ہونے والے ’’احساس محرومی‘‘ کی تلافی عام انتخابات میں ناکامی جیسے نقصان کی صورت ظاہر ہو سکتی ہے یقیناًاُس وقت سے ڈرنا چاہئے جب انتخابی ناکامی‘ خسارہ اُور نقصانات ناقابل تلافی بن جائیں۔

Sunday, January 10, 2016

Jan2016: Intra Party Election & lessons from Past

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
جمہوری کسوٹی!
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ایک مرتبہ پھر ’’بضد‘‘ ہیں کہ جماعتی سطح پر انتخابات کا انعقاد کیا جائے جبکہ وہ ماضی میں اِسی قسم کے ایک ’’تلخ تجربے‘‘ سے پیدا ہونے والی ’انتشاری وجوہات‘‘ بصورت معمہ حل نہیں کر پائے اُور نہ ہی ایسی اصلاحات متعارف کرا سکے ہیں کہ جن کی بنیاد پر تنظیم سازی کی سطح پر ماضی میں جو (دانستہ) غلطیاں سرزد ہوئیں وہ آئندہ جماعتی انتخابات کے موقع پر دہرائی نہ جا سکیں۔ جمہوریت پر یقین کرنے والے روائتی سیاسی گروہوں کا طریقۂ واردات دیکھیں کہ جنہوں نے جماعتی انتخابات کو کونسلروں تک محدود کر رکھا ہے جبکہ جماعت اسلامی پاکستان میں یہ یہی عمل قدرے گہرائی و سنجیدگی سے لیا جاتا ہے لیکن اُس میں بھی جماعت کے ہر رکن کی رائے کو شامل نہیں کیا جاتا اور ایک سطحی چناؤ کر کے نچلی سطح پر کارکنوں کی نمائندگی کرنے والوں کی رائے کی روشنی میں فیصلہ کر لیا جاتا ہے۔ تحریک انصاف نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے اور چند ایسی بدعات (اقدامات) متعارف کرائی ہیں‘ جن کی صداقت و عملی فعالیت اُور فوائد و ثمرات کی مثال نہیں ملتی۔ یہ کہا جائے تو قطعی غلط نہیں ہوگا کہ تحریک انصاف ہی پاکستان کی وہ ’’واحد سیاسی جماعت‘‘ ہے جس میں ’’ہر ایک کارکن‘‘ کی رائے کو اہمیت ہی نہیں بلکہ مقام حاصل ہے۔

جماعتی انتخابات کے مرحلے پر اگر جلدبازی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے منصوبہ بندی کی جائے تو اِس سے ماضی کی طرح ’موقع پرستوں‘ کو آگے آنے کا موقع نہیں ملے گا اور ایسا نہیں ہوگا کہ پورا ’’سسٹم ہائی جیک‘‘ ہو جائے۔ یادش بخیر ’تحریک انصاف‘ کے گذشتہ جماعتی انتخابات سے پیدا ہونے والے تنازعات کا اثر حالیہ بلدیاتی انتخابات پر بھی صاف دیکھے جا سکتے ہیں جبکہ خیبرپختونخوا کے ضلع‘ تحصیل اور دیہی و ہمسائیگی کونسلوں کی سطح پر تحریک سے وابستہ کارکنوں نے بڑی تعداد میں کامیابی حاصل کی لیکن ضلعی حکومتیں صرف 9 اضلاع ہی میں قائم ہو سکیں اور ایسے اضلاع بھی ہیں جہاں تحریک سے تعلق رکھنے والے منتخب کارکنوں کی اکثریت ہے لیکن وہ حکومت نہیں بنا سکے اور ہنوز پارٹی عہدوں سمیت اختیارات و اقتدار کے لئے رسہ کشی جاری ہے‘ جس سے اگر کسی کا نقصان ہو رہا ہے تو وہ خود تحریک ہی ہے اور عام کارکنوں کی تحریک سے وابستہ توقعات پوری نہیں ہو رہیں۔

کسی بھی سیاسی جماعت کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ کارکنوں کی توقعات پر پورا اُترے۔ یہ توقعات سیاسی بنیادوں پر ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنے سے لیکر ترقیاتی کاموں تک مختلف ہوتی ہیں لیکن خیبرپختونخوا میں حکومت بنانے کے بعد تحریک انصاف نے ’’اہلیت‘‘ کا نعرہ لگایا۔ سفارش کے کلچر کی حوصلہ شکنی کی۔ بلدیاتی نظام حکومت کو زیادہ توسیع دے کر ہر گاؤں اور ہمسائیگی کونسل کو فیصلہ سازی کے عمل میں شریک کیا لیکن بات توجہ سے محروم رہ گئی اور وہ یہ تھی کہ ماضی کے متعصبانہ سیاسی روئیوں کی وجہ سے محروم رہنے والوں کی اکثریت نے جس اُمید کے ساتھ تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی کہ اُنہیں ملازمتیں ملیں گی یا تعمیروترقی کے حوالے سے زیرالتوأ امور ترجیحی بنیادوں پر حل ہوتے چلے جائیں گے لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ اسی طرح تھانہ اور پٹوار خانے کا کلچر تبدیل کرنے کے لئے جملہ سرکاری محکموں میں ’مداخلت‘ بند کرنے کا مثبت اثر نہ تو اِن محکموں کی حقیقی اصلاح کی صورت سامنے آ سکی اور نہ ہی عوام کو خاطرخواہ ریلیف مل سکا جو یہ چاہتے تھے کہ اُنہیں محکموں پر حکمراں افسرشاہی کے مزاج اور ’فائل ورک‘ سے نجات ملے لیکن یہ ہدف بھی خواب ہی رہا۔ وی آئی پی کلچر ختم کرنے کا انتخابی وعدہ پورا کرنے میں ڈھائی سال سے زیادہ عرصہ لگا تو یہ بھی تعجب خیز تھا۔ یہی صورتحال ترقیاتی کاموں کے حوالے سے ترجیحات کے تعین اور مالی وسائل کا ضیاع روکنے کے لئے کی جانے والی کوششوں میں پیش آئی جب نگرانی کے سخت گیر عمل کی وجہ سے ترقیاتی عمل رُک گیا اور یکے بعد دیگرے مالی سال کے دوران ترقیاتی بجٹ کا بڑا حصہ احتیاط کی نذر ہوگیا۔

تحریک انصاف کے کارکنوں میں پائی جانے والی مایوسی کا ایک سبب قانون ساز ایوانوں کے منتخب نمائندوں بشمول وزراء اور مشیروں کا سرد رویہ رہا جنہوں نے کارکنوں کو زیادہ اہمیت نہ دی۔ اس کی ایک وجہ تو سیاسی ناتجربہ کاری تھی جس میں وہ کارکنوں کی اہمیت کا خاطرخواہ اندازہ نہ لگا سکے اُور سمجھ بیٹھے کہ ’’جنون کا ووٹ بینک‘‘ یا ’’عمران خان کا جادو‘‘ ہمیشہ سرچڑھ کر بولتا رہے رہے گا۔ تحریک انصاف کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم یافتہ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقات سے بھی تعلق رکھتی ہے جنہیں ملازمتوں‘ اقتدار سے جڑے مفادات یا ترقیاتی کاموں کی افتتاحی تختیوں پر اپنا نام کنندہ کرانے کا کوئی شوق نہیں بلکہ وہ ہنوز چاہتے ہیں کہ ’بہتر طرز حکمرانی (گڈ گورننس)‘ کا آغاز ہو اُور خیبرپختونخوا ایک مثالی صوبہ بن جائے لیکن سارے خواب ایک ایک کر کے ریزہ ریزہ ہونے میں دیر نہیں لگی!

ماضی کے جماعتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے پارٹی کے فیصلوں پر اختیار کے ساتھ صوبائی حکومت میں عہدوں پر فائز ہوئے تو انہوں نے اپنے عزیزواقارب اور قریبی دوستوں کو نوازنا شروع کر دیا کیونکہ تحریک انصاف میں تبدیلی کی سوچ صرف اُور صرف سربراہ عمران خان کی ذات تک محدود رہی اور اُن جیسا تبدیلی کے مقصد سے لگن رکھنے والا پوری تحریک میں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔ عجب نہیں تھا کہ تحریک انصاف کے لئے چندہ دینے والوں کی اکثریت بیرون ملک آباد تھی اور انہوں نے ’سیاسی انقلاب بذریعہ ووٹ‘ کے لئے جس فراخدلی کا مظاہرہ کیا‘ ملک کی سیاسی تاریخ کا وہ بھی ایک درخشاں باب ہے۔ کسی بھی دوسری جماعت کو بیرون ملک تحریک انصاف جیسی مقبولیت (پذیرائی) نصیب نہیں تو اِس کا بنیادی محرک یہی ہے کہ پاکستان کے سیاسی نظام اور طرز حکمرانی میں اصلاح کے خواہشمند جمہوریت اور جمہوری اداروں کو استحکام چاہتے ہیں۔ مالی و انتظامی بدعنوانیوں میں ملوث کرداروں کا کڑا اُور بے رحم احتساب ہونا چاہئے لیکن ایسا نہ ہوسکا اور ہنوز یہ مطالبہ توانا بھی ہے اور زندہ بھی کہ سرکاری ملازمین سمیت ماضی میں جو افراد مالی و انتظامی بدعنوانیوں میں ملوث رہے اُنہیں نہ صرف فیصلہ سازی کے منصب سے علیحدہ کیا جائے بلکہ اس قسم کی قانون سازی بھی ضروری ہے جس کے تحت ’بدعنوانی ناقابل معافی و رعائت جرم‘ تصور ہو۔

معلومات تک رسائی کا قانون متعارف کرانے اُور ’صوبائی اِحتساب کمیشن کے قیام‘ سے لیکر سرکاری اَخراجات میں شفافیت جیسے اہداف حاصل کرنے میں پیشرفت بھی تیزرفتاری کی متقاضی ہے کیونکہ ملک کی کسی ایک سیاسی جماعت کے ہاتھوں سے وقت تیزی سے نکل رہا ہے‘ اُور جس ایک جماعت کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے تو وہ کوئی اُور نہیں بلکہ تبدیلی کی داعی ’تحریک انصاف‘ ہی ہے‘ جسے سماجی و معاشرتی سطح اُور ’جمہوری کسوٹی (کارکردگی و توقعات کے بلندوبالا معیار)‘ پر (بہرصورت) پورا اُترنا ہے۔ جماعتی انتخابات کے نازک مرحلے پر زیادہ غور و تفکر کی ضرورت ہے کہیں ایسا نہ ہو تحریک مضبوطی کی بجائے زیادہ کمزور ہو جائے جو پارلیمانی نظام کے لئے بطور حزب اختلاف اور بالخصوص خیبرپختونخوا کی سطح پر ایک باکردار حکومت کے حق میں مفید نہیں ہوگا۔