Showing posts with label Column. Editorial. Khyber Pukhtunkhwa. Show all posts
Showing posts with label Column. Editorial. Khyber Pukhtunkhwa. Show all posts

Tuesday, January 27, 2015

Jan2015: Senate Elections & KP

ژرف نگاہ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
خیبرپختونخوا: سینیٹ انتخابات

تین مارچ کے روز قانون ساز ایوان بالا (سینیٹ) کی اُن 52 نشستوں کے لئے انتخاب ہوگا‘ جن کی رکنیت کی آئینی مدت 11 مارچ کو مکمل ہو جائے گی۔ اِس سلسلے میں سولہ اور سترہ فروری تک الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس کاغذات نامزدگی جمع کرائے جا سکتے ہیں‘ جن پر اعتراضات بیس اور اکیس فروری کو سنے جائیں گے۔ اُمیدوار 25 فروری تک کاغذات نامزدگی واپس لے سکیں گے۔ مجموعی طورپر سندھ اور پنجاب سے گیارہ گیارہ‘ خیبرپختونخوا اُور بلوچستان سے بارہ بارہ نشستوں پر جبکہ قبائلی علاقوں سے 4 اور اسلام آباد سے سینیٹ کی 2 نشستوں پر نمائندوں کا چناؤ کرنے کے لئے اراکین صوبائی اسمبلی خفیہ رائے شماری کے ذریعے اپنا ووٹ ڈالیں گے۔

خیبرپختونخوا (صوبائی) قانون ساز ایوان میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتیں ’آئندہ سینیٹ الیکشن‘ کے لئے تیاریوں میں مصروف ہیں‘ غوروخوض کا عمل فیصلہ کن شکل اختیار کر رہا ہے اور صورتحال بڑی حد تک واضح ہو رہی ہے لیکن ساتھ ہی ہر جماعت اپنی اپنی عددی برتری کی حفاظت اور اُس سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کی فطری کوشش کے علاؤہ کچھ اضافی حمایت حاصل کرنے کے لئے بھی تگ و دو کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ ماضی میں بھی یہی دیکھنے میں آیا کہ خفیہ رائے شماری کی وجہ سے کچھ ایسے کردار بھی سینیٹ میں نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیجن کی وابستگی عددی اعتبار سے اسمبلی میں موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی۔ جمہوریت کا صبح شام راگ الاپنے والوں سے جب ’سینیٹ انتخابات‘ میں اراکین اسمبلی کے روئیوں اور کارکردگی کے مظاہرے کی بات کی جائے تو وہ اپنی غلطیوں کا موازنہ ماضی میں ہوئے واقعات کی مثالیں دیتے ہوئے ’ہارس ٹریڈنگ‘ کا بیک وقت دفاع بھی کرتے ہیں اُور اِس عمل پر ’لعنت ملامت‘ بھیجتے بھی نظر آتے ہیں! بہرحال سردست صورتحال یہ ہے کہ ہر ایک رکن صوبائی اسمبلی کی قسمت جاگ اُٹھی ہے‘ حکومت یا اس کے اِتحادی ہوں یا حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے اراکین سب کی اہمیت اُن کی جماعتوں کو اچانک محسوس ہونا شروع ہو گئی ہے اور یہی وہ نازک وقت ہوتا ہے جب کہیں چرب زبانی تو کہیں اچھی حکمت عملی کام آ جاتی ہے اور اراکین اسمبلی اپنے اپنے انتخابی حلقوں کے لئے خصوصی ترقیاتی فنڈز سمیت سینیٹ میں نشست حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوجاتے ہیں۔ تکنیکی طور پر ’سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی)‘ بجٹ کے ساتھ ہی پیش کردیا جاتا ہے لیکن حکومت کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ بجٹ میں مختص وسائل سے زیادہ ترقیاتی کاموں کے لئے مختص کردے۔ صوابدیدی اور غیرصوابدیدی اختیارات کا استعمال وفاقی اور صوبائی سطح پر ہمارے پارلیمانی نظام کا ایک ایسا ’خوبصورت‘ رخ ہے‘ جس کی وجہ سے حکومتیں اپنی آئینی مدت مکمل کرتی ہیں۔ انتخابات میں ہونے والے اخراجات پورے کئے جاتے ہیں اور آئندہ انتخابات کے لئے کچھ نہ کچھ پس و پیش بھی کر لیا جاتا ہے۔

ایک سو چوبیس اراکین پر مشتمل خیبرپختونخوا اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف 56 نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ جمعیت علمائے اسلام کے 17‘ پاکستان مسلم لیگ نواز کے 16‘ قومی وطن پارٹی کے 10 اور ’تحریک انصاف‘ کی اتحادی جماعت اسلامی پاکستان کے 8 اراکین ہیں۔ دیگراتحادی جماعتوں میں ’عوامی جمہوری اتحاد پاکستان‘ کی 5 جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی پانچ پانچ سیٹیں ہیں۔ 2 نشستوں پر آزاد اراکین براجمان ہیں‘ جو پہلے ہی تحریک انصاف حکومت کی حمایت کا اعلان کرچکے ہیں اور اُمید ہے کہ سینیٹ انتخاب میں بھی وہ حکمراں اتحاد ہی کی صفوں میں شامل رہیں گے۔ موجودہ صورتحال میں سینیٹ انتخابات ڈرامائی یا حیران کن نتائج کے حامل ہوسکتے ہیں کیونکہ چھوٹی جماعتیں کے ہاتھ میں فیصلہ ہے۔ اگر سب کچھ اصول اور ظاہری حمایت و تائید کے مطابق ہوتا ہے تو ’تحریک انصاف‘ کو حاصل 71 صوبائی اسمبلی کے اراکین کی حمایت سے 7 نشستیں حاصل ہوں گی جن میں 4 جنرل‘ ایک ٹیکنوکریٹ‘ ایک خواتین کی اور ایک اقلیت کے لئے مخصوص نشست شمار ہوگی لیکن اگر چھوٹی جماعتیں مختلف فیصلے کرتی ہیں تو یہ نتائج حسب توقع نہیں ہوں گے اور وہ گروہ جو ایوان میں اگرچہ کم تعداد میں نشستیں رکھتے ہیں وہ سینیٹ کی زیادہ نشستیں جیت جائیں گے! درحقیقت سینیٹ اِنتخابات ’تحریک اِنصاف‘کی قیادت کے لئے بھی ایک اِمتحان ہے جو صوبے میں ’صاف و شفاف‘ طرز حکمرانی اور مثالی طرز حکومت کی قیام کے لئے شروع دن سے دعوے کر رہی ہے یقیناًتحریک انصاف کی مرکزی قیادت کا اصولی مؤقف اور کارکنوں کی اکثریت کی یہی خواہش ہے کہ ’’چاہے سینیٹ انتخابات میں پلڑہ کسی بھی جماعت کا بھاری ہو‘ تحریک انصاف وہ ’پارلیمانی غطلیاں‘ نہیں دُہرائے گی‘ جو ماضی کی جماعتیں دُہراتی رہی ہیں۔

’’اتحاد میں برکت ہے‘‘ کے مفہوم کو سمجھتے ہوئے ۔۔۔ اگر خیبرپختونخوا اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتیں باہم اتحاد تشکیل دے دیتی ہیں تو مسلم لیگ نواز‘ جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن اور قومی وطن پارٹی سینیٹ کی ایک ایک نشست حاصل کرنے میں نہ صرف کامیاب ہو جائیں گی بلکہ وہ عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلزپارٹی کے لئے ایک ایک ٹیکنوکریٹ و خواتین کی نشستیں حاصل کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں لیکن اگر عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلزپارٹی کے مفادات کا تحفظ نہیں کیا جاتا تو وہ حکمراں اتحاد کا حصہ بن کر اُنہیں مزید ایک جنرل سیٹ دلوا سکتی ہیں اور یہی کوشش جاری ہے کہ کسی طریقے سے ایک اضافی سینیٹ کی نشست کے لئے ’جدوجہد‘ کی جائے لیکن ذرا ٹھہریئے حکمراں اتحاد کے لئے بھی ایک مشکل کھڑی ہے یعنی اگر وہ ’عوامی جمہوری اتحاد پاکستان‘ کو سینیٹ میں ایک نشست نہیں دیتی تو وہ اپنی حمایت کا رخ حزب اختلاف کی جانب موڑ سکتی ہے جس سے اُنہیں ایک اضافی سینیٹ نشست جیتنے کا موقع مل جائے گا۔ جماعت اسلامی کی دلی خواہش ہے کہ اُن کے امیر سراج الحق کو اِس مرتبہ سینیٹ میں نشست مل جائے اُور اگر اُن کی یہ معصوم خواہش پوری نہیں کی جاتی تو عزائم یہی دکھائی دے رہے ہیں کہ وہ بھی بغاوت کر دیں گے۔

صوبائی حکومت سے دانشمندانہ فیصلوں کی توقع ہے تاکہ ایک تو وہ اپنے اتحادیوں سے محروم نہ ہو اُور دوسرا ایسی کوئی صورتحال پیدا نہ ہو‘ جس سے جمہوری ادارے کی ساکھ متاثر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ’تحمل اور برداشت‘ کا مظاہرہ کرنے پر اتفاق رائے سے اتفاق پایا جاتا ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے اراکین کیا ایک مرتبہ پھر عوام (رائے دہندگان) کی توقعات پر پورا اُترتے ہیں۔ کیا سینیٹ کے صاف و شفاف انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے اور سیاسی جماعتیں اپنی عددی موجودگی کے مطابق ہی سینیٹ کی نشستیں جیت پاتی ہیں یقیناًاگر قانون ساز ایوان کے اراکین سودا بازی کے ذریعے رہی سہی ساکھ بھی گنوا دیتے ہیں تو یہ (بدقسمتی سے) بجلی گیس اور پیٹرولیم سے زیادہ بڑا بحران ثابت ہوگا۔

Monday, January 26, 2015

Jan2015: Promises with PK45

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
قابل تقلید ترقیاتی عمل
خیبرپختونخوا میں ترقی کا عمل سیاسی و غیرسیاسی وجوہات کی بناء پر سست روی کا شکار ہے اور یہ تعطل خود حکمراں اتحادی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی کے لئے بھی پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے‘ جنہیں اپنے اپنے حلقۂ انتخاب میں ترقیاتی کام نہ ہونے کی وجہ سے ’کڑی تنقید‘ کا سامنا ہے۔ خوشی ہو یا غم کی کوئی تقریب منتخب نمائندوں سے ملنے والے موقع جان کر باتوں باتوں میں ’ترقیاتی عمل کے حوالے سے ضرور ایک نہ ایک سوال داغ ہی دیتے ہیں۔‘ یاد رہے کہ مالی سال 2014-15ء کے دوران ترقیاتی کاموں کے لئے صوبائی حکومت نے مجموعی طور پر 140.23 ارب روپے مختص کئے تھے جن میں سے دو جنوری دوہزار پندرہ تک 64 ارب روپے خرچ کئے گئے ہیں!

پاکستان کی کوئی بھی دوسری جماعت ’تحریک انصاف‘ جیسی بصیرت‘ شعور اور اجتماعی مسائل کے حل سے متعلق واضح سوچ نہیں رکھتی۔ عام انتخابات کے عمل کو شفاف بنانے کے لئے اصلاحات کی تجویز ہو یا مالی و انتظامی بدعنوانیوں کے خاتمے اور قومی وسائل لوٹنے والوں کا بلااِمتیاز اِحتساب یا پھر عالمی سطح پر پاکستان کے حقیقی تشخص‘ وقار اور ساکھ بحال کرنے جیسی ضرورت‘ تحریک انصاف کے پاس ’حیران کن اِعدادوشمار‘ پر مبنی ’تبدیلی‘ کے لئے ایک سے بڑھ کر ایک منطقی جواز موجود ہیں تاہم ’نئے پاکستان‘ کی تشکیل بناء ترقیاتی عمل ممکن نہیں اور اِس سلسلے میں ’خیبرپختونخوا حکومت‘ جیسے ’نادر موقع‘ کا استعمال سے بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہوئے ’تعمیر و ترقی کی ایسی مثالیں‘ قائم کی جاسکتی ہیں‘ جو دوسروں کے لئے بھی قابل تقلید ہوں۔چودہ اگست سے اٹھارہ دسمبر (126 دن) تک جاری رہنے والے ’آزادی مارچ و دھرنے‘ نے تحریک کی مرکزی و صوبائی قیادت کو مصروف رکھا‘ جس کی وجہ سے اُنہیں ہزارہ ڈویژن میں ’ترقیاتی کاموں‘ کے حوالے کئے ہوئے وہ انتخابی وعدے بھی یاد نہ رہے‘ جن کی تعمیل خود ’تحریک انصاف‘ کے مستقبل کے لئے ازحد ضروری ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ’ہزارہ ڈویژن بالخصوص ایبٹ آباد اور سرکل بکوٹ سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی بالخصوص تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے عوام کے منتخب نمائندوں شدید دباؤ میں ہیں۔ پانچ جون دو ہزار چودہ کے روز خیبرپختونخوا اسمبلی کی نشست ’پی کے پینتالیس‘ پر ’ضمنی انتخابات‘ کا انعقاد ہوا‘ جس سے قبل چیئرمین تحریک انصاف نے ہزارہ ڈویژن کے سرکل بکوٹ میں چار مقامات پر اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے جن ترقیاتی کاموں کے اعلانات کئے اُن میں بڑے اور بنیادی کام چھ کالجوں کا قیام‘ بکوٹ کو تحصیل کا درجہ دینا شامل تھا جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے الگ سے ’گلیات‘ میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لئے مجموعی طور پر ’ایک ارب روپے‘ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ جنت نظیر وادیوں کی وجہ سے ’سرکل بکوٹ‘ میں سیاحت اور پن بجلی کی پیداوار کے وسیع امکانات موجود ہیں‘ جن سے استفادہ کرکے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں بلکہ جاری توانائی بحران کا پائیدار حل بھی اِس خطے میں ترقیاتی عمل کی توسیع سے باآسانی ممکن ہے۔

سرکل بکوٹ سے وعدے کرنے والوں کی کمی نہیں۔ کم و بیش تین عشروں سے سرکل بکوٹ پر حکمرانی کرنے والی مسلم لیگ (نواز) کے مقابلے اگر قومی اسمبلی کے لئے ووٹ تحریک انصاف کو ملے تو اس کی وجہ یہی تھی کہ اہل علاقہ تعمیروترقی چاہتے ہیں۔ اگر ’پی کے پینتالیس‘ کے ضمنی انتخاب کے لئے تحریک انصاف سرکل بکوٹ ہی سے تعلق رکھنے والے کسی مقامی رہنما (عبدالرحمن عباسی‘ راجہ مبین‘ نذیر عباسی‘ پیر اَظہر بکوٹی) کو پارٹی ٹکٹ دیتی تو تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ وہ مئی دو ہزار تیرہ کے عام انتخاب میں صوبائی اسمبلی کی نشست پر شکست کا بدلہ لے لیتی‘ بلکہ ایبٹ آباد سے کشمیر تک کی وادیوں پر پھیلے اِس وسیع انتخابی حلقے میں تحریک انصاف کے قدم زیادہ مستحکم ہوتے۔ بہرکیف ’سنجیدہ عملی کوششوں‘ کا وقت ابھی بھی ہاتھ سے نہیں گیا اور اگر سرکل بکوٹ میں حسب وعدہ ’تین بنیادی ترقیاتی کام‘ یعنی ’’چھ کالجوں کا قیام‘ تحصیل کا درجہ اور ایک ارب روپے کے تعمیراتی منصوبوں کے لئے مالی وسائل فراہم کر دیئے جاتے ہیں تو اِس سے تحریک انصاف سے سیاسی و دلی وابستگی رکھنے والے عوامی حلقے اطمینان محسوس کریں گے۔

تحریک انصاف سے زیادہ اِس حقیقت سے کون آشنا ہے کہ رہنما وہ کہلاتا ہے جسے نہ صرف منزل کا پتہ ہو بلکہ وہ جانب منزل درست سمت میں سفر بھی کر رہا ہو اور منزل تک رسائی کے لئے دوسروں کی رہنمائی کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہو۔ تحریک انصاف قیادت سے جڑی اِن تینوں ذمہ داریوں سے آگاہ اور انہیں پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے اُمیدوں کا مرکز ہے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے وہ سبھی اضلاع بشمول ایبٹ آباد خاطرخواہ تعمیروترقی چاہتا ہے‘ جنہیں سیاسی بغض و عناد اور تعصبات و امتیازات جیسے محرکات کے سبب دانستہ طور پر پسماندہ رکھا گیا تاکہ ایک خاص طبقہ اور استحصالی سوچ حکمراں رہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ماضی میں وزیراعلیٰ کا تعلق جس ضلع سے ہوتا‘ اُس کی قسمت بدل جاتی۔ مثال کے طور بنوں اور مردان میں ہوئی تیزرفتار تعمیر و ترقی کے عمل کو دیکھا جاسکتا ہے لیکن اِس رجحان و ترجیح کے ثمرات 1969 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلے ’ضلع ایبٹ آباد‘ تک نہیں پہنچ سکے‘ جس میں 51 یونین کونسلیں اور دو تحصلیں ہیں اُور تحریک انصاف سے اُمیدیں وابستہ کرنے والوں کی نظریں پشاور پر لگی ہوئی ہیں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔