Showing posts with label IT. Show all posts
Showing posts with label IT. Show all posts

Friday, September 2, 2016

Sept2016: Possible uses of What's App

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
خاموش عالمی تحریک!
سمارٹ فونز کے ذریعے سماجی رابطہ کاری میں حالیہ اِضافہ ’واٹس ایپ (What's App)‘ کا ہے‘ جہاں ’اِنٹرنیٹ‘ کی بنیاد پر مرتب ’انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ نے نہ صرف کسی ایک بلکہ بیک وقت دوسو چھپن (256) افراد کے گروپ میں بات چیت یا تبادلۂ خیال کے وسیلے نے ’ایک جہان‘ کو بامعنی و بامقصد مصروفیت سے کچھ اِس طرح روشناس کرایا ہے‘ کہ حال اَحوال یا محض گپ شپ ہی نہیں بلکہ ’واٹس ایپ‘ کی دنیا میں معلومات‘ واقعات اور تازہ ترین خبروں کا فوری تبادلہ یا اُن پر اظہار خیال ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والوں کے معمولات کا حصّہ (محبوب مشغلہ یا ضرورت) بن گیا ہے۔ 

پاکستان کے قریب سبھی نجی ٹیلی ویژن چینلز نے اپنے اپنے ’واٹس ایپ‘ نمبر مشتہر کر رکھے ہیں‘ جن کے ذریعے ’سٹیزن جرنلزم‘ کو عملی پیش کیا جاتا ہے جو مورننگ شوز سے رات گئے تک خبروں میں ناظرین کی حصّہ داری ہوتی ہے اور وہ اپنے گردوپیش کے مسائل بارے ویڈیوز یا تصاویر ارسال کر سکتے ہیں جنہیں ہر روز خبروں کو مزیدار بنانے کے لئے ضروری تدوین (کانٹ چھانٹ) کر کے نشر کیا جاتا ہے جیسا کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے جانور کے ساتھ ’دس سکینڈ‘ دورانیئے کی ویڈیو یا تصویر (سلیفی) ارسال کرنے کی دعوت کا گرمجوشی سے جواب دیا جا رہا ہے! لیکن ’واٹس ایپ‘ کی مقبولیت اُور اِستعمال کرنے والے صارفین کی تعداد کا فائدہ اُٹھانے والے ’نیوز چینلز‘ نے خود کو تفریح کی حد تک محدود کر رکھا ہے حالانکہ یہی میڈیم (اسلوب) زیادہ تعمیری و مثبت مقاصد کے لئے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی سے بامقصد اِستفادے کا مطالبہ ’ایک منظم تحریک‘ کی صورت ہونا چاہئے اور ’آن لائن‘ محض وقت گزارنے والوں کی سرگرمیوں کو ذات کے گرد دائرے کی قید سے آزاد کر کے مفاد عامہ کے لئے استعمال کرنے کی عمومی ترغیب دی جا سکتی ہے‘ جو تعلیمی ادارے تدریس کے مراحل میں ’ایک منٹ کی ویڈیو سازی‘ کو ہم نصابی سرگرمیوں کا حصّہ بنائے ہوئے ہیں‘ اُنہیں چاہئے کہ وہ اپنی کوششیں ’واٹس ایپ‘ جیسے وسائل کے ذریعے عوام و خواص کے لئے پیش (عام) کریں تاکہ نہ صرف ہم نصابی سرگرمیوں کے حوالے سے دیگر تدریسی اِداروں کا رجحان (نکتۂ نظر) تبدیل ہو‘ بلکہ فوٹوگرافی اُور ویڈیوگرافی کے ذریعے تعلیم کی جانب توجہ مبذول ہو سکے۔ جس کے فوائد میں یہ نتیجہ بھی شامل ہے کہ ایسا کرنے سے ہمارے سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ سازوں (افسرشاہی) پر دباؤ بڑھے گا‘ جو سردست اکتفا کئے سمجھ بیٹھے ہیں کہ قانون سازی کرلینے اُور سرکاری اداروں کا بوجھ قومی خزانے پر بڑھا کر اُن کے حصّے کے جملہ فرائض و ذمہ داریاں اَدا ہو گئیں ہیں۔ 

پاکستان میں سماجی رابطہ کاری کی سب سے مقبول ویب سائٹ ’فیس بک‘ نے اُنیس فروری دو ہزار چودہ کے روز 19 ارب ڈالر سے زائد میں ’واٹس ایپ‘ نامی سمارٹ فونز کے ذریعے تبادلۂ خیال کے ایک اچھوتے تصور کو خریدا‘ جو توقعات سے زیادہ تیزی کے ساتھ نوجوانوں میں مقبول ہو رہا تھا۔ ’واٹس ایپ‘ نے اپنے قیام (2009ء) سے 2014ء کے سفر میں ثابت کیا کہ بڑے اِداروں کی موجودگی میں نت نئے تصورات بھی کامیابی کی ضمانت بن سکتے ہیں لیکن سرمایہ دارانہ نظام میں مدمقابل چھوٹے اداروں کو پھلنے پھولنے کا موقع نہیں دیا جاتا اُور بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو کھا جاتی ہیں۔ یہی کچھ ’واٹس ایپ‘ کے ساتھ بھی ہوا‘ جو کاروباری سوچ کا مقابلہ نہ کرسکا۔ بہرحال یہ الگ بحث ہے‘ سردست ’واٹس ایپ‘ کا تعارف مقصود ہے جس کے استفادہ کرنے والوں کا شمار رواں سال (دوہزار سولہ) کے ماۂ فروری تک ’ایک ارب‘ سے زیادہ تھا‘ جو اِس ’’حلقۂ اَرباب ذوق‘‘ کا حصّہ بن چکے ہیں! 

’واٹس اَیپ‘ پر زیرگردش کسی مغربی ملک کی ’ویڈیو‘ پاکستان میں بھی دیکھنے والے ملے جلے ردعمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اِس ویڈیو میں ایک ایسے شخص کو دکھایا گیا ہے جو سڑک کے بیچوں بیچ ایک گاڑی کے سامنے دیوار بن کر کھڑا ہے اور اُس کے اِردگرد سے تیزرفتار ٹریفک گزر رہی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ مذکورہ گاڑی کے ڈرائیور نے ’زیبرا کراسنگ‘ کا اِحترام نہ کرتے ہوئے ٹریفک سگنل سرخ ہونے پر گاڑی ’زیبرا کراسنگ‘ کے عین وسط میں روک لی جس سے بیس یا تیس سیکنڈ تک پیدل سڑک عبور (کراس) کرنے والوں کو مشکلات پیش آئیں۔ اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر وہ شخص گاڑی کے سامنے اُس وقت تک کھڑا رہا جب تک ڈرائیور نے اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے گاڑی کو واپس پیچھے نہیں کیا اور یہ عمل کئی منٹوں میں مکمل ہوا۔ 

لب سڑک ’ٹریفک قواعد‘ کا احترام اور اِس بارے عوامی شعور کی عکاسی کرنے والے اِس ایک ویڈیو نے پوری دنیا کو ایک شعوری پیغام دیا ہے کہ قوانین یا قواعد سے مطلوبہ نتائج اُس وقت تک حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتے جب تک معاشرے کا ہر فرد اُس کے اطلاق کے لئے اپنا اپنا کردار اَدا نہیں کرتا۔ کیا ہم دوسروں کی بجائے قوانین اور قواعد کے اطلاق کا عمل اپنی ذات سے شروع کرنا پسند فرمائیں گے؟ کیا ہمیں قانون و قواعد کا احترام اپنی ذات سے شروع کرتے ہوئے اُن دوسروں کو اِس کی تلقین کرنی چاہئے؟ کیا ہمیں عمومی اور معمولی سمجھی جانے والی قانون شکنی سے دوسروں کو روکنے کے لئے اُس ’خاموش تحریک‘ کا حصّہ بننا چاہئے‘ جو دنیا کو زیادہ مہذب اُور پرامن دیکھنا چاہتی ہے؟ ’’شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا: اپنے حصّے کی کوئی شمع جلاتے جاتے۔۔۔ اُس کی وہ جانے اُسے پاس وفا تھا‘ کہ نہ تھا: تم فرازؔ اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے!‘‘ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Wednesday, June 3, 2015

Free Internet

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
مفت انٹرنیٹ
سماجی رابطہ کاری کے ذریعے خبروں پر تبصرے ہوں یا گردوپیش کے حالات و واقعات کا ایک دوسرے سے تبادلہ‘ انٹرنیٹ کی بدولت تفریح سے لیکر اظہار کے وسیلوں تک ہر شعبے میں انقلابی تبدیلیاں آئی ہیں۔ یہاں تک کہ طرز حکمرانی میں اصلاحات‘ سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور عام انتخابات میں قابل یقین و بھروسہ شفافیت متعارف کرانے کے لئے بھی انٹرنیٹ سے کہیں استفادہ تو کہیں اِس کے بارے غوروخوض جاری ہے لیکن ہمارے ہاں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو انٹرنیٹ سے منسلک ہونے کی مقررہ قیمت ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ ایسے افراد میں بڑی تعداد طلباء و طالبات کی ہے جو عموماً ایک انٹرنیٹ کنکشن کے بل کو آپس میں تقسیم کرکے سست رفتار انٹرنیٹ سے اپنا شوق یا تحقیق کی ضرورت پورا کرتے ہیں۔

 عالمی سطح پر ’انٹرنیٹ‘ کو پانی‘ ہوا اُور خوراک کی طرح کرہ ارض پر رہنے والے باشعوروں کے لئے ایک بنیادی ضرورت قرار دیا جاتاہے اور یہی وجہ ہے کہ دو طرح کی تحاریک چل رہی ہیں۔ ایک تحریک انٹرنیٹ کو مفت فراہم کرنے کی وکالت کرتی ہے اور دوسری تحریک انٹرنیٹ پر حکومتوں کے کنٹرول اور کسی بھی وجہ سے سے سنسر (پابندیوں) کی مخالف ہے۔ اِن دونوں تحاریک کی وجہ سے کئی ایک تبدیلیاں آئی ہیں‘ جن میں سرفہرست انٹرنیٹ صارفین کے حقوق ہیں لیکن ہمارے ہاں یہ موضوعات ’تعارف‘ سے بھی محروم ہیں کیونکہ ایک تو نصاب تعلیم میں نئے موضوعات داخل کرنا ممکن نہیں۔ دوسرا ٹیکنالوجی کے ساتھ اخبارات و جرائد کا رویہ بھی ظالمانہ ہے اور اگر ٹیکنالوجی کے بارے میں کچھ لکھا جاتا بھی ہے تو وہ نت نئے ایجادات کی خبریں ہوتی ہیں کہ فلاں کمپنی نے نیا موبائل ایجاد کر دیا‘ جس کی ان گنت خوبیاں گنوا دی جاتی ہیں!

پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کو جن مشکلات کا سامنا رہتا ہے‘ ان کی موجودگی میں میں Internet.org کے ذریعے مفت انٹرنیٹ خوشگوار تو ہے لیکن اس کے ساتھ کئی ایک ’لیکن‘ بھی جڑے ہوئے ہیں‘ جنہیں استعمال سے قبل اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے۔ مفت انٹرنیٹ کے حوالے سے پاکستان پہنچنے والا جدید ترین تصور یہ ہے میں ’انٹرنیٹ ڈاٹ اُو آر جی‘ کسی بھی صارف کو مختلف ویب سائٹس تک رسائی دے گا لیکن یہ ویب سائٹس اشتہارات سے بھری ہوں گی اور جو صارف اِن کا استعمال کریں گے اُن کے بارے میں معلومات اور رجحانات کی کہیں نہ کہیں نگرانی ہو رہی ہوگی۔ جو صارفین انٹرنیٹ پر بہت زیادہ پیسے خرچ نہیں کر سکتے‘ یہ ان کے لئے تو سہولت ہے لیکن صرف انٹرنیٹ تک رسائی ہی کو کافی نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ اہم بات یہ بھی ہے کہ آن لائن ہوتے ہوئے آپ کا ڈیٹا (الفاظ‘ تصاویر‘ ویڈیوز وغیرہ) کس قدر محفوظ ہیں۔ اس سلسلے میں نوجوانوں کی رہنمائی کی بہت ضرورت ہے۔ تعلیمی اداروں کی سطح پر ’انٹرنیٹ ڈاٹ اُو آر جی‘ کے بارے میں آگہی مہمات چلائی جائیں۔ اساتذہ خود بھی سمجھیں اور طلباء و طالبات کی رہنمائی بھی کریں تاکہ وہ انجانے میں غلطی نہ کر بیٹھیں۔ مثال کے طور پر ’انٹرنیٹ اُو آر جی‘ کے ذریعے جن ویب سائٹس یا ایپلی کیشنز تک رسائی مفت دی جائے گی وہ سیکورٹی کی بنیادی شرط SSL کے بغیر ہوں گے مطلب یہ ہے کہ آپ کے پیغامات‘ تصاویر اور دیگر تمام ڈیٹا (کوائف‘ امور معلومہ) خفیہ نہیں ہوگا بلکہ آپ اور آپ کے دوستوں یا عزیزواقارب کے علاؤہ غیر متعلقہ بہت سے دیگر لوگ بھی آپ کے ڈیٹا کو دیکھ رہے ہوں گے۔ تصور کریں کہ آپ انٹرنیٹ پر اپنی پسندیدہ ٹی وی سیریز یا میوزک ویڈیو دیکھ رہے ہیں اور جب بھی آپ اس پر کلک کرتے ہیں تو آپ کا انٹرنیٹ کنکشن کافی حد تک سست ہو جاتا ہے۔ آپ اسکائپ‘ گوگل ہینگ آؤٹ کھولتے ہیں اور جیسے ہی ’کال‘ پر کلک کرتے ہی انٹرنیٹ کی کوالٹی اتنی خراب ہوجاتی ہے کہ آپ بمشکل ہی بات کر پاتے ہیں۔ کیا یہ امر پریشان کن ہے؟ یہ وہ چند امور ہیں جن کی حوصلہ افزائی ’انٹرنیٹ ڈاٹ اُو آر جی‘ نامی تصور کر رہا ہے۔

مستقبل قریب میں ایسے کئی ایک دیگر پلیٹ فارمز بھی متعارف ہونے والے ہیں اور چونکہ ’مفت‘ کا ’لاحقہ‘ لگا ہوتا ہے اِس لئے ہمارے نوجوان اس کی جانب تیزی سے راغب ہو جاتے ہیں!

ذہن نشین رہے کہ انٹرنیٹ کی موجودہ شکل ترقی یافتہ نہیں بلکہ یہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ارتقائی مراحل سے گزر رہا ہے۔ ایسے بہت سے صارفین ہیں جنہوں نے سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس کے استعمال سے ’آن لائن عملی زندگی کا آغاز‘ کیا لیکن چند برس بعد ہی اُکتا گئے۔ سبب یہ ہے کہ ہم ’ویب سائٹس‘ کے سطحی و عمومی استعمال سے زیادہ آگے نہیں بڑھتے۔ دوسری اہم بات سمجھنے لائق یہ ہے کہ اگلی ایک دہائی میں جو ایک ارب لوگ انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کریں گے‘ انہیں بڑے کاروباری و تجارتی ادارے اور حکومتیں اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہیں گی۔ چاہے کوئی صارف انٹرنیٹ کی قیمت ادا کرنے کی سکت رکھتا ہو یا وہ اسے مفت استعمال کر رہا ہو‘ آنے والے دنوں میں سب کچھ حکومتوں کے کنٹرول میں ہوگا‘ اور یہی دنیا کا مستقبل ہے‘ جس میں طرز غلامی کو آزادی اور آزادی کے ساتھ غلامی رہے گی۔ نہ کوئی کلی طور پر غلام ہوگا اور نہ ہی آزاد! ادارے اور حکومتیں پہلے ہی پوشیدہ طور پر انٹرنیٹ صارفین کا ڈیٹا (امورمعلومہ) استعمال کر کے منافع کما رہی ہیں یا مکمل طور پر کنٹرول چاہتی تھیں۔ اب ہم کس طرح آپسی رابطے کرتے ہیں‘ یہ فیصلہ بھی جلد ہی ہمارے بس میں نہیں رہے گا!
Nothing is free in the world