Showing posts with label War against Terrorism. Show all posts
Showing posts with label War against Terrorism. Show all posts

Tuesday, January 16, 2018

Jan 2018: Terror and Terrorism continues for good!

مہمان کالم
دہشت اُور دہشت گردی!
امریکہ کی زد میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ وہ تمام مسلم ممالک آ چکے ہیں‘ جن سے کسی نہ کسی صورت اسرائیل کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں یا مستقبل قریب و بعید میں ہو سکتے ہیں۔ فلسطینی صدر محمود عباس فکرمندوں میں شامل ہیں‘ جن کے لئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ’یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنا‘ مشرق وسطی میں امن کوششوں کے منہ پر ’طمانچہ‘ ہے۔ طاقت کے نشے میں فی الوقت امریکہ کو کسی عالمی معاہدے کی پرواہ نہیں جیسا کہ ’’اوسلو سمجھوتہ‘‘ جس کے تحت سال 1995ء میں فلسطین و اسرائیل کے درمیان تنازعات کے حل اور قیام امن کا عمل شروع ہوا تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ کے صدر جو منہ میں آئے بول دیتے ہیں یا اُن کے بیانات کے پیچھے امریکی سیاسی و فوجی قیادت کی سوچ چھپی ہوئی ہے؟ پاکستان کے نکتۂ نظر سے امریکی رویہ (بہار و خزاں) غیرضروری طور پر سخت تو ہے لیکن غیرمتوقع نہیں لیکن زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ ٹرمپ کا کرخت لہجہ اور سخت الفاظ کا انتخاب بدل نہیں رہا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ زبان ایک متحرک دریا کی طرح ہے‘ جس میں اِدھر اُدھر سے نت نئے الفاظ شامل ہوتے رہتے ہیں جو فصاحت و بلاغت میں اضافہ کرتے ہیں۔ یہ عمل عمومی و ارتقائی ہے جسے روکا نہیں جاسکتا اور اِسی کے ذریعے کئی نئی اصلاحات اور الفاظ دیگر زبانوں کی طرح ’اردو‘ میں بھی آئے اور مانوس ہوتے چلے گئے۔ ’’دہشت گردی‘‘ بھی ایک ایسا ہی لفظ (اصطلاح) ہے۔ فیروزاللغات میں اس کے معنی ’’بڑے پیمانے پر خوف و ہراس‘‘ پھیلانے کے درج ہیں۔ ابتدأ میں یہ لفظ صرف چھپکلی سے منسوب ہوتا تھا‘ جو رات کے کسی پہر روشندان کے سوراخ سے اندر رینگ آ تی اور پھر خاموشی سے کسی نکڑ میں بیٹھ کر خدا کی قدرت کا تماشا دیکھتی کہ انسان جو اشرف المخلوقات ہے‘ کیسے اُس کی دہشت سے چیختا چلاتا‘ تکیے اچھالتا‘ اِدھر سے اُدھر دوڑا پھرتا ہے لیکن پھر اچانک ایک روز یہ لفظ کتابوں کے سرمئی صفحوں سے نکل کر سامنے آ کھڑا ہوا۔ 

امریکہ پر دہشت گرد حملوں (نائن الیون) کے بعد دنیا کو بنیاد پرستی کے ہم وزن نیا لفظ ’’دہشت گردی‘‘ ملا جو ’حشرات العرض‘ کی موجودگی سے پیدا ہونے والی کھلبلی سے مختلف نوعیت کے خطرے کی نشاندہی کرتا تھا۔ معلوم ہوا کہ کچھ گروہ دنیا میں دہشت پھیلا رہے ہیں اُور اب ساری دنیا کا فرض ہے کہ اِن ’دہشت گردوں‘ سے ایسا ہی سخت گیر معاملہ کیا جائے۔ دہشت گردوں کا ماضی کیا ہے یہ کون ہیں؟ اچانک کہاں سے وارد ہوئے؟ اِن کی تربیت کس نے کی؟ اَسلحہ اُور مالی وسائل کس نے کیوں دیئے اور اب اِن سے نجات (چھٹکارہ) حاصل کرنا کیوں ضروری ہے؟ ایسے بہت سے سوالات کرنے والی زبانیں لب بستہ ہیں!

دہشت گردی روشناس (متعارف) کرانے والوں نے افغانستان کو دہشت گردی کا گڑھ قرار دیا اور پاکستان سمیت دنیا نے تسلیم کر لیا پھر ایک ایسی جنگ شروع ہوئی‘ جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی اور اب تو اِس جنگ کے اتحادی بھی ایک دوسرے سے متنفر ہو گئے ہیں‘ جس کی وجہ سے کامیابی کے امکانات مزید معدوم دکھائی دیتے ہیں! بہرحال ’اُنیس سو اسی‘ کی دہائی میں جن لوگوں کو ’’افغان جہاد‘‘ کے نام پر بھرتی کیا گیا‘ اُنہیں روسی افواج کے انخلاء کے بعد اپنے حال پر چھوڑنے کے نتائج سب کے سامنے ہیں! پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ افغانستان کے لئے دیکھے گئے خواب بھیانک ثابت ہوئے‘ جس کے لئے ذمہ داروں کا تعین یکساں اہم ہے۔ امن ہر معاشرے کی بنیادی ضرورت ہوتا ہے۔ کسی پڑوسی ملک کے صحن میں آ گ لگانے والا بھلا کب تک اور کیسے اُس آگ کے اثرات سے محفوظ رہ سکتے ہیں؟ آگ کا کام تو جلانا ہوتا ہے اور جب یہ پھیل جاتی ہے تو یہ اہداف میں تمیز نہیں کرتی۔ نام نہاد ’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف عالمی جنگ کو اختیار کرنے سے پاکستان نے اپنا جس قدر نقصان کیا‘ اُس کا ازالہ غلطی تسلیم کئے بناء ممکن نہیں۔

امریکہ یا موجودہ صدر ٹرمپ پر تنقید کرنے سے زیادہ اِس بات پر غور ہونا چاہئے کہ پاکستان اپنی سوچ اور عمل کی اصلاح کے لئے کن اصولوں پر ہمسایہ ممالک سے متعلق اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے۔ فیصلوں کے نتائج اور ماضی و حال کے فیصلہ سازوں کی کارکردگی کا احتساب بھی ضروری ہے‘ جس کی وجہ سے ’دہشت گردی‘ کے خلاف صف اول کا کردار ادا کرنے والے ملک کو ’دہشت گرد‘ کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے۔ 

پاکستان کے قومی وسائل اور ساکھ کو نقصان پہنچانے والوں کا بے رحم احتساب ہونا چاہئے۔ کیا آج کی تاریخ میں پاکستانی قوم یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب نہیں کہ ’مبینہ دہشت گردی‘ کے خلاف عالمی جنگ سے پاکستان کو حاصل ہونے والے مالی فوائد کا استعمال کہاں کیا گیا؟ عوام بخوبی سمجھ چکی ہے کہ دہشت گردی کیا ہے اور دہشت پھیلانے کے درپردہ مقاصد کیا ہیں! امریکہ کی جانب سے ’’33ارب ڈالر‘‘ وصول ہونے کا انکار نہیں کیا جا رہا ہے لیکن ہر ڈالر کا حساب دینے سے گریزاں خوف اور دہشت کو ہوا دے رہے ہیں تاکہ عالمی طاقت سے تصادم برقرار رہے۔ پاکستان کو اقتصادی ’دہشت گردوں‘ سے لاحق خطرات اپنی جگہ غور طلب ہیں۔
۔

Tuesday, December 5, 2017

Dec 2017: Terrorism - ignored facts

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
دہشت گردی: متضاد پہلو!
یکم دسمبر کے روز ’زرعی تربیتی مرکز‘ پشاور میں ہوئے دہشت گرد حملے سے متعلق تفتیشی عمل کی جزوی (عبوری) رپورٹ میں تفصیلاتی (پہلوؤں کا احاطہ) ذکر بین السطور اور ظاہراً کیا گیا ہے‘ وہ بڑی حد تک چونکا دینے والے ہیں‘ جیسا کہ حملہ آور موبائل فون کے ذریعے ’براہ راست‘ ویڈیو نشر کر رہے تھے اور انہوں نے حملے سے قبل ہی ’آڈیو ویڈیو رابطے (لنک)‘ افغانستان میں موجود منصوبہ سازوں سے جوڑ لئے تھے‘ جن سے ملنے والی ہدایات پر وہ ’کٹھ پتلی‘ کی طرح عمل کرتے رہے! 

واردات میں استعمال ہونے والا ’آٹو رکشہ‘ پر جعلی نمبر لگا ہوا تھا اُور یہ ’آٹو رکشہ‘ مقامی ساختہ اُن ذرائع کا حصہ ہے‘ جنہیں بنانے کے کارخانے لب سڑک پشاور کے فٹ پاتھوں پر قائم ہیں اور بالخصوص ’سٹی سرکلر روڈ‘ پر ایسے آٹو رکشاؤں کی ’صنعتیں‘ قائم ہیں‘ جہاں بناء کسی ضابطے ایسے آٹورکشا بڑی تعداد میں بن رہے ہیں‘ جن کی خریداری کے لئے قانونی و کاغذی ضوابط پورا کرنا ضروری نہیں ہوتے۔ اگر کسی کے پاس تین سے پانچ لاکھ روپے نقد موجود ہیں تو وہ پشاور میں کھڑے کھڑے آٹو رکشا کا مالک بن سکتا ہے‘ جس کے لئے اُس کے پاس قومی شناختی کارڈ یا ڈرائیونگ لائسینس ہونا بھی ضروری نہیں۔ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہونے والی تیسری چشم کشا حقیقت یہ ہے کہ ’زرعی تربیتی مرکز‘ میں لگائے گئے ’سی سی ٹی وی‘ کیمرے نمائشی تھے اور اِن کمروں سے ملنے والی نشریات (فیڈ) کی ریکارڈنگ کا خاطرخواہ بندوبست نہیں تھا۔ چند برس قبل نصب کئے گئے اِن کیمروں کی ظاہری حالت بالکل ٹھیک لیکن ان کی کارکردگی ’بالکل صفر‘ تھی۔ جس کمپیوٹر سے اِن کیمروں کو منسلک کیا گیا تھا اُس میں ریکارڈنگ کے آلات تو نصب تھے لیکن کمپیوٹر کی ’ہارڈ ڈسک (Hard Disk)‘ نہ ہونے کی وجہ سے کیمروں سے آنے والے آڈیو ویڈیو سگنلز (ریکارڈنگ) محفوظ نہیں ہو سکے۔ کمپیوٹرہارڈ ڈسک کیوں غائب تھی‘ چوری ہو چکی تھی یا اِسے دانستہ طور پر ہٹایا گیا؟ 

موبائل فون سے براہ راست ویڈیو اسٹریمنگ‘ جعلی نمبر پلیٹ والا مقامی ساختہ آٹو رکشا کے استعمال اور درست حالت میں ’کلوز سرکٹ‘ کیمرے نصب نہ ہونے کے سبب حملہ آوروں کی حرکات و سکنات کا جائزہ نہیں لیا جاسکتا کہ وہ اُس عمارت کے مختلف حصوں کے بارے میں کس قدر واقفیت (معلومات) رکھتے تھے اور اُنہیں ایک جیسی راہداریوں میں اپنے اہداف کی تلاش میں کتنی دقت یا سہولت کا سامنا کرنا پڑا۔ ’سی سی ٹی وی‘ کیمروں کے فعال نہ ہونے کی وجہ سے اِس بات کا اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں رہا کہ ’زرعی تربیتی مرکز‘ کا کوئی اہلکار کیا اِس حملے کی منصوبہ بندی یا سہولت کاری کا حصہ تھا یا نہیں۔ بہرحال ابتدائی تفتیش سے جن (اوّل الذکر) چار باتوں کے بارے میں تفتیش مکمل کر لی گئی ہے‘ اُس سے پولیس حکام نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ حملہ آور ’زرعی تربیتی مرکز‘ کے داخلی راستوں اور عمارت سے آشنا نہیں تھے اور انہیں فراہم کردہ معلومات کم یا غلط تھیں۔ کسی تفتیش کے اِس قدر نتیجہ خیز مرحلے تک پہنچنا بھی پشاور پولیس ہی کا کمال ہے وگرنہ اِس قسم کا نتیجہ اخذ کرنے میں شاید ترقی یافتہ ممالک کے تفتیش کاروں کو مہینے درکار ہوں! پولیس کے ایک انتظامی اہلکار سے ہوئی بات چیت میں یہ تاثر لگانا قطعی مشکل نہیں تھا کہ تفتیشی عمل سمیت پولیس ہر کام فوری طور پر اِس لئے بھی نمٹاتی ہے کیونکہ (خدانخواستہ) کسی دوسری دہشت گرد واردات کی صورت افرادی قوت دستیاب ہو۔ پشاور پولیس کے پاس تفتیش کے لئے دستیاب افرادی و تکنیکی وسائل کی کمی ہے اور یہ راز کی بات بھی نہیں لیکن فیصلہ ساز پولیس کی پیشہ ورانہ تربیت ومہارت‘ استعداد اور تکنیکی و افرادی قوت میں خاطرخواہ اضافہ کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ پشاور پولیس اہلکار کے اِس سوال کا جواب شاید ہی ’بنی گالہ‘ دے سکے‘ کہ پولیس میں سیاسی مداخلت نہ کرنے کا جو دعویٰ کیا جاتا ہے وہ کافی (درست حکمت عملی) نہیں بلکہ عوام تو ووٹ (اختیار) ہی اِس لئے دیتی ہے کہ اُن کے منتخب نمائندے سرکاری محکموں کا قبلہ درست کریں۔ اگر سیاست دان یہ کہتے پھریں کہ اُنہوں نے اداروں میں مداخلت ختم کر دی ہے اور آج کے بعد ہر ادارہ اپنے طور اپنے معاملات چلائے گا تو اِس بات کا تعین (فیصلہ) کون کرے گا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ واقعی قواعد و ضوابط کے مطابق ہے؟ 

اگر صرف قانون نافذ کرنے والے ایک ادارہ یعنی ’پولیس‘ کا قبلہ درست ہوجائے تو نہ صرف معاشرے سے عمومی و خصوصی (منظم) جرائم بلکہ دہشت گردوں کی سہولت کاری بھی انجام کو پہنچ سکتی ہے۔ تجویز من و عن نقل ہے کہ ’’خیبرپختونخوا پولیس سے متعلق اگر بنی گالہ یا پشاور میں کسی غیرسرکاری ’ہیلپ لائن‘ کا اجرأ کیا جائے تو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سمیت صوبائی قیادت کو بھی رہنمائی ملے گی کہ کس طرح ’’تھانہ و کچہری کلچر‘‘ تبدیل نہیں ہوا۔‘‘ کس طرح پولیس مجموعی طورپر اختیارات کے استعمال میں مادرپدر آزاد ہے اور صوبائی دارالحکومت پشاور سے دور دراز اضلاع میں محکمۂ پولیس میں آج بھی وہ سیاسی مداخلت جاری ہے‘ جس کے باعث خواص کے مفادات (انتخابی حلقہ بندیوں) کا تحفظ کیا جاتا ہے۔
خیبرپختونخوا کے محکمۂ ’انسداد دہشت گردی‘ کے سینیئر اہلکار ’ایس ایس پی‘ فرقان بلال کے بقول ۔۔۔ ’’جس موبائل فون کے ذریعے براہ راست ویڈیو اسٹریمنگ کی گئی اُسے قبضے میں لے لیا گیا تاہم یہ بات ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے کہ دہشت گرد فیس بک لائیو (Facebook Live)‘ واٹس ایپ (What's App) یا ایمو (Imo) میں سے کون سا سافٹ وئر استعمال کر رہے تھے یا اِن کے علاؤہ کوئی دوسرا ایسا سافٹ وئر استعمال کیا جارہا تھا جس سے شناخت کو پوشیدہ رکھا جا سکے۔‘‘ 

حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ’تحریک طالبان پاکستان‘ کی جانب سے جو چند منٹ (مختصر) دورانیئے ویڈیو جاری (ریلیز) کی گئی اُسے یقیناًحملہ آور کے بازو پر نصب موبائل فون ہی کے ذریعے بنایا گیا ہوگا۔ مارکیٹ اور آن لائن ایسے موبائل فون کور (cover) باآسانی دستیاب ہیں‘ جن کے ذریعے موبائل فون کو کسی بھی بازو پر نصب کیا جاسکتا ہے اور اِس قسم کے کور عموماً کھلاڑی یا جاگنگ (صحت مند رہنے کے لئے بھاگ دوڑ) کرنے والے کرتے ہیں۔ تفتیشی اہلکار موبائل فون اور دیگر آلات کے ذریعے اُس پیچیدہ معاملے کی گھتیاں سلجھانے کی کوشش کر رہے ہیں‘ جو اپنی نوعیت کا پہلا تو نہیں البتہ انوکھا واقعہ ضرور ہے۔ کیا مستقبل قریب میں یہ ممکن ہوگا کہ کسی علاقے میں دہشت گرد حملے کی اطلاع ملتے ہی‘ فوری طور پر وہاں سے ملحقہ تمام موبائل فون ٹاورز کی نشریات (رابطے) بند (ختم) کر دیئے جائیں؟ 

دہشت گرد جدید کیمونیکشن آلات کا استعمال جن مقاصد کے لئے کر رہے ہیں اُس میں اُن کا پراپگنڈہ اُور تربیتی حکمت عملی بھی شامل ہے کیا ہمارے اِدارے کم سے کم اتنے ہوشیار (چالاک) ہو سکتے ہیں کہ وہ اپنی سوچ اُور عمل کو دہشت گردوں سے ایک درجہ بلند رکھیں؟
۔

Friday, March 17, 2017

Mar2017: Military Courts, only way out!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
فوجی عدالتیں: کیوں نہیں؟
تصور ہی باطل ہے کہ صرف ’اِنسداد دہشت گردی‘ کے مقدمات میں ’فوری انصاف تک رسائی‘ ضروری ہے‘ جس کے لئے دو سال قبل فوجی عدالتوں کے قیام کے لئے کی جانے والی قانون سازی کی پھر سے ضرورت آ پڑی ہے اور اِس مرتبہ چند ترامیم کے ساتھ مذکورہ مسودہ قانون (بل) قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے۔ یہ ایک حساس مسئلہ ہے جس کے بارے میں ملک کی عسکری قیادت بھی یکساں فکرمند ہے اور یہی وجہ ہے کہ حالیہ ’’کور کمانڈرز کانفرنس‘‘ میں فوجی عدالتوں کی ’’اطمینان بخش کارکردگی‘‘ زیرغور آئی۔ چھوٹے موٹے اعتراضات اپنی جگہ لیکن ملک کی اکثر سیاسی جماعتیں ماسوائے پیپلز پارٹی‘ ان آئینی و قانونی مسودوں پر متفق ہیں جو مسودے قومی اسمبلی میں پیش کئے جا چکے ہیں۔

عجب ہے کہ فوجی عدالتوں کے قیام پر سیاسی جماعتیں نہ تو کھل کر حمایت اور نہ ہی کھل کر مخالفت کر رہی ہیں لیکن اُنہوں نے سیاست کے ذریعے ایک اچھی خاصی ضرورت کو التوأ (شک) میں ڈال رکھا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) کا مؤقف ہے کہ اس قانون میں سے ’مذہب‘ اور ’فرقے‘ کے الفاظ حذف کئے جائیں‘ قانون امتیازی نہیں ہونا چاہئے اور دہشت گردوں کی کسی درجہ بندی کا اندراج بھی آئین میں نہیں ہونا چاہئے۔ ’ایم کیو ایم‘ کا مطالبہ ہے کہ قانون صرف مذہب اور فرقے کے نام پر دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف ہونا چاہئے اور عام نوعیت کے دہشت گردوں کے خلاف فوجی عدالتوں کی بجائے عام عدالتوں میں عام قوانین کے تحت کاروائی ہونی چاہئے لیکن سب سے ’’مبہم‘ گومگو اور چونکہ چنانچہ‘‘ پر مبنی مؤقف پیپلز پارٹی کا ہے۔ پہلے دن سے بل کے پیش ہونے تک پیپلز پارٹی نہ صاف چھپتی ہے نہ سامنے آتی ہے۔ پیپلز پارٹی فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہونے سے لے کر مدت میں توسیع کے معاملات پر مذاکرات اور اجلاسوں میں اپنا مؤقف اور رائے تبدیل کرتی ہوئی نظر آئی ہے۔ 

پیپلز پارٹی نے اسپیکر قومی اسمبلی کی صدارت میں ہونے والے آخری اجلاس میں اپنی تجاویز رکھیں اور یہ بات سامنے آئی کہ پیپلز پارٹی دو برس کے لئے فوجی عدالتیں قائم کرنے کے لئے راضی ہو چکی ہے لیکن رات ڈھلے پیپلز پارٹی نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ اپنی تجاویز سے دستبردار نہیں ہوئی۔ ایسا ہرگز نہیں کہ پیپلز پارٹی فوجی عدالتوں کو ناقابل قبول سمجھ کر ایوان کے اندر یا باہر ان کی مخالفت کرے گی‘ یہ بھی نہیں کہ پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں اس بل کی حمایت کرے اور سینیٹ سے فوجی عدالتوں کا بل رد کروا دے گی۔ پیپلز پارٹی فوجی عدالتوں کی حامی بھی ہے اور مخالف بھی۔ اصل بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اپنی شرائط پر فوجی عدالتیں قائم کرنا چاہتی ہے!

فوجی عدالتوں کی ضرورت کی بات صرف حکومت ہی نہیں بلکہ اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ بھی کر رہی ہے۔ مقتدر قوتیں چاہتی ہیں کہ وہی فوجی عدالتیں ہوں جو دہشت گردی میں ملوث مجرموں کے خلاف پہلے کی طرح ہنگامی بنیادوں پر مقدمات چلائیں تاکہ مجرموں کو منطقی انجام تک پہنچا کر دہشت گردی کے شکار لوگوں کو انصاف مہیا کیا جا سکے۔ 

دو سال قبل آرمی پبلک سکول پشاور پر دہشت گرد حملے کے بعد وزیراعظم ہاؤس میں کل جماعتی کانفرنس کے موقع پر پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری کا وہ بیان آج بھی ریکارڈ پر موجود ہے جس کی تعریف وزیرِ داخلہ بھی کر چکے ہیں۔ اس بیان میں آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ ’’اگر میری جماعت کو نقصان ہوتا ہے تو بھی منظور لیکن دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے حکومت اور فوج کے ساتھ ہیں۔‘‘ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اِن دو برسوں میں ایسا کیا ہوا کہ اب پیپلز پارٹی ان فوجی عدالتوں کو توسیع دینے کو تیار نہیں اور تیار ہے تو اپنی کچھ شرائط کے ساتھ؟

پیپلزپارٹی اب تک ’’قلیل الجماعتی کانفرنس‘‘ طلب کر چکی ہے جس کی ناکامی کے بعد اُس نے اکیلے ہی فوجی عدالتوں پر ’’نو نکاتی تجاویز‘‘ پیش کر دیں‘ جس میں فطری انصاف‘ عالمی قوانین اور شفاف ٹرائل کے تمام اصولوں کا ذکر ہے لیکن فوجی عدالتوں کے قیام کے تناظر میں یہ نکات فنی اعتبار سے ناقابلِ عمل سمجھے جاتے ہیں۔ تجویز کے مطابق اگر سیشن ججوں نے ہی اس طرح کا ٹرائل کرنا ہے تو آئین میں ترمیم کی ضرورت کیا ہے؟ اور اگر عام قوانین کے مطابق ملزموں کے خلاف استغاثہ ہونا ہے تو پھر فوجی عدالتوں کی ضرورت ہی کیا ہے؟ 

حقیقت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اپنا مؤقف واضح نہیں کر پا رہی اور اِس سوال کا سامنا بھی نہیں کرنا چاہتی کہ کیا دہشت گرد کسی رعائت کے مستحق ہیں؟ پیپلزپارٹی کی جانب سے فوجی عدالتوں پر اپنا الگ بل لانے کا مطلب ’’سیاست‘‘ کے سوائے اُور کیا لیا جا سکتا ہے جبکہ تحریک انصاف حکومت سے نالاں ہے‘ اگر یہ دونوں جماعتیں حقیقی مخالفت کی ٹھان لیں تو حکومت لاکھوں کوششوں کے باوجود فوجی عدالتوں کا بل منظور نہیں کروا سکے گی تو کیا ایسا کرنا ملک کے مفاد میں ہوگا؟ 

پیپلز پارٹی ڈیل بھی چاہتی ہے اور اپنی طاقت و اہمیت کا مظاہرہ بھی کر رہی ہے۔ ڈیل (کچھ لو کچھ دو) کا مطلب ہے کہ ڈاکٹر عاصم حسین کی رہائی ممکن بنائی جائے اور طاقت و اہمیت کی بنیاد پر نمایاں ہونے کی ضرورت پارٹی کے داخلی محاذ پر جاری اختیارات کی اُس رسہ کشی کی وجہ سے محسوس ہو رہی ہے‘ جس کا ایک سرا زرداری اور اُن کے وفاداروں اور رسی کا دوسرا سرا بلاول اُور اُن کے ساتھ اپنا سیاسی مستقبل وابستہ کرنے والے کارکنوں کی اکثریت کے پیش نظر ہے۔ اصولی طور پر تمام مقدمات کا فیصلہ عمومی یا انسداد دہشت گردی کی عدالتوں ہی سے ہونے چاہیءں لیکن ملک کو جن معروضی حالات و مشکلات (بحرانوں) کا سامنا ہے اُن میں خصوصی عدالتی نظام کے بغیر دہشت گردی سے نمٹنے کی قومی حکمت عملی (نیشنل ایکشن پلان) کے جملہ اہداف حاصل نہیں ہو سکیں گے اور یہ بات ’مخالفت برائے مخالفت‘ کر رہی سیاسی جماعتوں کے قائدین بخوبی جانتے ہیں‘ جنہیں اپنے اپنے جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک و قوم کے مفاد کے بارے میں بھی ضرور سوچنا چاہئے۔
Politicizing the military courts for known reasons

Saturday, September 10, 2016

Sept2016: EDITED: Terrorism & Communication Threats

EDITED VERSION

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
نگہبانی کے تقاضے!
فریب نظر ہے کہ ’سائبر کرائمز بل‘ کے نام سے عجلت میں کی گئی قانون سازی ’اطمینان قلب‘ کے لئے تو کافی قرار دی جاسکتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ سیکورٹی انتظامات کی طرح اِس نئی قانون سازی سے بھی منظم جرائم اور دہشت گردی پر یقین رکھنے والے حلقے خوفزدہ نہیں۔ دردسر ہے تو ’انٹرنیٹ‘ کے اُس عام صارف کا ہے جس کی اکثریت معلومات اور تفریح سے جڑے خطرات سے آگاہ (خاطرخواہ تعلیم یافتہ) نہیں۔ اِس منظرنامے میں ٹیکنالوجی کی طرف مائل عام صارف پریشان ضرور ہے‘ کیونکہ ’ورچوئل وسائل‘ کی اِخلاقیات اور آداب کی خلاف ورزی اگر ’واجب سزا‘ قرار دے دی گئی ہے تو ’خوف و دہشت کی علامت بننے والے منظم جرائم پیشہ عناصر‘ ٹیکنالوجی ہی کے ذریعے خود کو ’روپوش‘ کئے ہوئے ہیں‘ جنہیں دشوار گزار قبائلی علاقوں‘ غاروں یا افغانستان کے میدانی علاقوں میں تلاش کرنے سے زیادہ کھٹن ایسے عناصر کا ’آن لائن سراغ‘ لگانا اُور اُن کی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔ 

دہشت گردی کے خلاف جاری ’ضرب عضب‘ میں کامیابیوں کا شمار کرنے والوں کو اِنٹرنیٹ وسائل کا آزادانہ اور بناء خوف و خطر استعمال کرنے والوں کی ’آن لائن سرگرمیاں‘ پر بھی ہاتھ ڈالنا ہوگا‘ جس کے بغیر بات (مقصدیت) ادھوری رہے گی۔ ایک طرف پورا ملک اور اُس کے لامحدود وسائل ہونے کے باوجود ’اب تک‘ دہشت گردوں کے زیراستعمال ’اکاونٹس‘ اُور ’کیمونیکشن ونگ (رابطہ کار افرادی قوت)‘ کی صلاحیت (دیدہ دلیری) ختم نہیں کی جاسکی‘ جو قومی زخموں پر نمک چھڑکنے کے لئے استعمال ہو رہے ہیں؟ ہمارے خفیہ ادارے بشمول جدید آلات اور ماہرین سے لیس ’سائبر ونگ‘ آخر کب اپنی قابلیت کی بنیاد پر داد وصول کریں گے؟ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں تک اگر اُن کی ’آن لائن سرگرمیوں‘ کے ذریعے نہیں پہنچا جا سکتا اُور ہمارے سیکورٹی اداروں کے ’سائبر ونگز‘ نے نفسیاتی طور پر ہتھیار ڈال دیئے ہیں تو کم سے کم اُن تمام ’اِی میل‘ ٹوئٹر اُور ’فیس بک‘ اکاونٹس کو بلاک (block) تو ضرور کیا جاسکتا ہے‘ جن کے ذریعے پاکستان دشمنی یا دہشت گرد ’کارناموں‘ کو مشتہر کیا جاتا ہے؟ بیس نکاتی ’نیشنل ایکشن پلان‘ اِس سلسلے میں رہنمائی کے لئے کافی ہے۔ ملک کی جغرافیائی اور سائبر سرحدوں کی نگہبانی کے الگ الگ تقاضے اور ذمہ داریاں ہیں‘ جنہیں شعوری توجہ کی ضرورت ہے۔

پہلی ذمہ داری: سیکورٹی حکام یہ کہہ کر اپنے فرائض سے ’گلوخلاصی‘ نہیں کرسکتے کہ افغانستان کی سرزمین اور مواصلاتی سہولیات (انٹرنیٹ) کا استعمال ہو رہا ہے۔ اگر طورخم سرحد پر گیٹ کی تعمیر سے آمدورفت کو کنٹرول (باقاعدہ و باضابطہ) بنایا جاسکتا ہے تو انٹرنیٹ کے چینلز سے پاکستان درآمد و برآمد ہونے والی ٹریفک (ڈیٹا) پر نظر کیوں نہیں رکھی جا سکتی؟ ’آن لائن ٹریفک‘ کی ’باریک بیں نظر اور مؤثر نگرانی‘ انٹرنیٹ کی واجبی سی معلومات رکھنے والے بھی اگر کرسکتے ہیں‘ تو مقامی جامعات کے طلباء و طالبات کو تحقیقی پراجیکٹس دیئے جاسکتے ہیں یا فوری نتائج کے لئے ٹیکنالوجی درآمد بھی کی جاسکتی ہے کیونکہ قومی سلامتی سے زیادہ کوئی دوسری شے قیمتی نہیں۔

دوسری ذمہ داری: ہر خاص و عام ہوشیار رہے کہ وہ اپنے گھروں میں لگائے ہوئے ’ہاٹ سپاٹس (وائی فائی انٹرنیٹ)‘ کسی بھی صورت نہ تو ’بناء پاس ورڈز‘ رہنے دیں اور نہ ہی اہل خانہ کے علاؤہ کسی بھی دوسرے شخص سے ایسی معلولات کا تبادلہ کریں جو ’حساس‘ کے زمرے میں آتی ہے۔ اگر گھر میں مہمان آئیں اور وائی فائی پاس ورڈ مانگیں تو یقین کرلیں کے اُن کی رخصتی کے فوراً بعد یا پہلی فرصت میں ’وائی فائی پاس ورڈ‘ تبدیل کردیا جائے۔ وائی فائی پاس ورڈ کو زیادہ محفوظ بنانے کے لئے چھ ہدایات ذہن نشین کر لیں۔ 1: اپنی ڈیوائیس ’ڈبلیو پی اے انسکپرشن (WPA2)‘ پر سیٹ کریں۔ 2: پاس ورڈ کسی بھی صورت 10ہندسوں سے کم نہ ہو۔ 3: پاس ورڈ میں الفاظ ہندسے اور خصوصی کریکٹرز کو شامل کریں۔ 4: سٹینڈرڈ ’ایس ایس آئی ڈی SSID‘ کا استعمال نہ کریں۔ 5: اپنی ذاتی معلومات SSID پر نہ رکھیں۔ 6: وائی فائی ڈیوائس کی لہریں (ایکسیس) کم سے کم یعنی اپنے گھر تک محدود رکھنے کے لئے اینٹینا ایڈجسٹمنٹ کی جاسکتی ہے جو جدید آلات میں باآسانی ممکن ہے۔ کھلے عام ’وائی فائی ہاٹ سپاٹ‘ رکھنے کی وجہ سے انٹرنیٹ صارفین نہ صرف جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں بلکہ نادانستہ طور پر ایک ایسے مستقل خطرے سے بھی دوچار ہیں‘ جس کی سنگینی کا انہیں ادراک نہیں۔ عموماً ہوٹلوں‘ کیفے اور دیگر پبلک مقامات پر ’اوپن وائی فائی‘ رکھا جاتا ہے‘ دہشت گردوں کے زیراستعمال انٹرنیٹ کو دیکھتے ہوئے اِس سہولت پر اُس وقت تک پابندی عائد ہونی چاہئے جب تک حالات معمول پر نہیں آ جاتے۔ جعلی یا بناء شناخت موبائل فون کنکشنز آج بھی موجود ہیں۔ 

ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنے مالی فائدے کے لئے پورے ملک کی سیکورٹی کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ موجودہ ہنگامی حالات کا تقاضا ہے کہ ’پری پیڈ‘ اضافی خدمات کی بجائے پاکستان میں صرف اور صرف ’پوسٹ پیڈ موبائل کنکشنز‘ دیئے جائیں‘ تاکہ بلنگ کے ذریعے صارف کی رہائش کے مقام کا تعین ہوسکے۔ افغانستان یا دیگر ممالک کے موبائل فون کنکشنز کی ’رومنگ (Roaming)‘ معاہدے بھی اُس وقت تک معطل رکھے جائیں‘ جب تک سیکورٹی حالات اِس کی اجازت نہیں دیتے۔ پاکستان حالت جنگ سے گزر رہا ہے‘ جس میں عسکریت پسندوں کے مواصلاتی رابطے نہ صرف دہشت گردی کی منظم و مربوط کاروائیوں کو ممکن بنا رہے ہیں بلکہ اِنہی کے ذریعے وہ جس کامیابی کا دعویٰ کرتے ہیں درحقیقت وہ ہمارے سیکورٹی اداروں کی ناکامی کا بیان ہیں۔ کیا ہم نے دل سے شکست تسلیم کر لی ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Saturday, June 20, 2015

Jun2015: Trust deficit between US & Pakistan

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
ناکافی اعتراف
’’ہم ہوئے کافر‘ تو وہ کافر مسلماں ہو گیا!‘‘ جیسی صورتحال سامنے آئی ہے کہ امریکہ کے ’اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں اِس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ عالمی سطح پر ’انسداد دہشت گردی‘ کی کوششوں میں ’پاکستان‘ غیرمعمولی کردار ادا کر رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ’پاکستان‘ کا شمار اُن چند ممالک میں کیا گیا ہے جو امریکہ کے ’انتہائی اہم ساتھی‘ ہیں! یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی فہرست میں شامل تعاون نہ کرنے والے ممالک کو سخت ترین امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ ’’پاکستان متعدد شدت پسند گروپوں سے مقابلہ کررہا ہے جن میں سے کئی پاکستانی حکومت یا حریف مذہبی فرقوں کو نشانہ بنا رہے ہیں!

سفارتکاری کی اپنی زبان اور لب و لہجہ ہوتا ہے۔ امریکہ کا اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ‘ پینٹاگون یا وائٹ ہاؤس کی ترجمانی کرنے والوں کے پاس ایسے الفاظ کا ذخیرہ موجود رہتا ہے‘ جن کے ایک سے زیادہ معنی اخذ کئے جا سکتے ہیں۔ الفاظ کے انتخاب اُور اُن کی ادائیگی میں احتیاط شاید ہی دنیا کے کسی دوسرے ملک کی سفارتکاری کا حصہ ہو۔ ضمنی طور پر عرض ہے کہ اگر قارئین الفاظ کے چناؤ میں ’امریکی مہارت‘ یا ’جادوگری‘ کا عملی مظاہرہ دیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہوں تو وہ ہر روز براہ راست نشر ہونے والی ’اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ‘ کی بریفنگز دیکھ کر بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ یہ بریفنگ دیکھنے کے لئے آپ کو ’ڈش اینٹینا‘ کی ضرورت ہوگی جس کے ذریعے ’ایشیاء سیٹ(AsiaSat)‘ پر موجود سی اسپین (C-Span)‘ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور وائس آف امریکہ (VoA)کی نشریات مفت دیکھی جا سکتی ہیں۔ تو بات ہو رہی تھی ذومعنی الفاظ اُور اُن کے انتخاب میں امریکی مہارت کے حوالے سے جس کا مظاہرہ اُس سالانہ رپورٹ میں بھی کیا گیا ہے‘ جو بیک وقت پاکستان کی تعریف بھی کر رہی ہے اور ساتھ ہی ایک وارننگ (دھمکی) بھی جاری کر دی گئی ہے کہ اگر پاکستان ’ڈو مور‘ نہیں کرتا تو آنے والے دنوں میں اُسے مشکل و مختلف حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کہا گیا کہ انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں سال دوہزار چودہ کے دوران پاکستان کا تعاون ملا جلا رہا کیونکہ پاکستان انسداد دہشت گردی کی تربیت دینے والے امریکی تربیت کاروں کو ویزے دینے سے انکار کرتا رہا! رپورٹ میں افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ کی قیادت اور تنظیم کو پہنچنے والے نقصان کا ذکر کرتے ہوئے اِس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ القاعدہ کی عالمی قیادت خطے کے دوردراز علاقوں میں موجود و فعال ہے۔ القاعدہ کی قیادت کو خطے میں افغان‘ پاکستانی اور بین الاقوامی فورسیز سے دباؤ کا سامنا ہے جبکہ پاکستان کے شمالی وزیرستان کے آپریشن سے گروپ کی آزادی سے کام کرنے کی طاقت مزید متاثر ہوئی ہے۔ افغانستان سے متعلق باب میں کہا گیا کہ ملک اب بھی افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک اور دیگر دہشت گرد گروپوں کی جانب سے بڑے حملوں کا سامنا کر رہا ہے جبکہ ان میں سے کئی حملوں کی منصوبہ بندی پاکستان میں کی گئی۔ سالنامہ رپورٹ میں پاکستان کی اُن فوجی مہمات کا ذکر بھی ملتا ہے‘ جنہیں وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ’لشکر طیبہ‘ کا بطور خاص ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اِن جیسے گروہوں کے خلاف کاروائی نہیں کی جا رہی جو اب بھی حکومت کی نرم دلی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے مبینہ طور پر عسکری تربیت دینے اور عسکریت پسندی و انتہاء پسندی پھیلانے کے لئے مالی وسائل جمع کر رہے ہیں! افغان طالبان اور حقانی قیادت کی پاکستان میں اب بھی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں‘ پاکستانی فوج کے آپریشنز نے ان کی کاروائیوں کو متاثر ضرور کیا تاہم انہیں براہ راست نشانہ نہیں بنایا گیا۔

سال دو ہزار چودہ کے دوران شروع کی گئیں دو فوجی کاروائیوں کا بطور خاص ذکر کرتے ہوئے کراچی میں جرائم پیشہ منظم گروہوں اور عسکریت پسندوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ کیا انتہاء پسندی اور اس سے جنم لینے والی عسکریت پسندی صرف پاکستان کا مسئلہ ہے یا دنیا کے دیگر ممالک بھی اس سے متاثر ہیں۔ اِس سلسلے میں اَمریکہ کے مرتب کردہ اَعدادوشمار کے مطابق دولت اسلامیہ نے 1083‘ طالبان نے 894 اور بوکو حرام نے 662 حملے کئے۔ یہ صورتحال کسی بھی صورت خوش آئند نہیں کہ اربوں ڈالر اور ٹیکنالوجی کے بے دریغ و غیرمحتاط استعمال کے باوجود انتہاء پسندی و عسکریت پسندی کو شکست نہیں دی جاسکی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ مسئلے کی جڑ یعنی ’غربت و جہالت‘ کم کرنے کے لئے وسائل کی منصفانہ تقسیم نہیں کی جا رہی۔ لوگوں کو انصاف نہیں مل رہا۔ جہاں امتیازات و طبقات کی حکمرانی ہو‘ وہاں اطمینان اور سکون کی بجائے محرومیاں پروان چڑھتی ہیں۔

 امریکہ سمیت مغربی دنیا بشمول پاکستان مسلمان ممالک سے کس قسم کا تعاون چاہتی ہے اُور پاکستان کی اپنے دوست ممالک سے توقعات ایسی دو الگ بلکہ متضاد باتیں ہیں جن کی اصلاح دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہوئے نقصانات کا حسب وعدہ اَزالہ کرنے سے ہوگا بصورت دیگر ہرسال دہشت گردی کے اعدادوشمار اِسی طرح چونکا دینے والے ہوں گے۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہورہا کہ پاکستان کی عسکری قیادت اُور اَمریکہ کے درمیان تعلقات تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہے ہوں لیکن سوچنا یہ ہے کہ کہیں نہ کہیں رہ جانے والی کمی کا تعلق ایک دوسرے پر ’اِعتماد‘ کی کمی سے تو نہیں!