Showing posts with label US. Show all posts
Showing posts with label US. Show all posts

Monday, January 30, 2017

Jan2017: Khudi & Allama Iqbal

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام


خودی



’جیسا منہ ویسی چپیڑ‘ کا محاورہ صادق آتا ہے۔ جمہوری اسلامی ایران کی قیادت نے ’ڈونلڈ جان ٹرمپ‘ کو ’’کرارا جواب‘‘ دیتے ہوئے ایران سمیت چھ دیگر مسلم ممالک (عراق‘ لیبیا‘ صومالیہ‘ سوڈان‘ شام اُور یمن) کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے پر پابندی کے جواب میں کہا ہے کہ ’’تہران نے بھی امریکی شہریوں پر اسی قسم کی پابندی عائد کر دی ہے۔‘‘ ایران کی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ’’ایران کی شہریت رکھنے والوں سے کسی بھی صورت ہتک آمیز سلوک روا رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور جب تک امریکہ مذکورہ پابندی واپس نہیں لے لیتا‘ امریکی شہریوں کی بھی ایران میں داخلے پر پابندی عائد رہے گی!‘‘ 


کیا دنیا کا کوئی دوسرا اسلامی ملک ایسا ہے جس کی قیادت نے امریکی صدر کے فیصلے کو غیر قانونی‘ غیر منطقی اور بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے یوں عملاً چیلنج کیا ہو؟ یاد رہے کہ ٹرمپ نے اگرچہ پاکستان‘ افغانستان اور سعودی عرب کی شہریت رکھنے والوں کے خلاف ایسی واضح پابندی عائد نہیں کی تاہم پاکستان سمیت افغانستان و سعودی عرب سے آنے والی ویزا درخواستوں کی کڑی سکروٹنی (جانچ پڑتال) کا حکم دیا ہے اُور ’’کڑی‘‘ کا مطلب یہی ہے کہ امریکہ میں داخل ہونے کے لئے اجازت نامہ (ویزا) حاصل کرنے والوں کے کوائف کو آئندہ جانچ پڑتال کے اضافی مراحل سے گزرنا پڑے گا! 

مسلم ممالک اور بالخصوص پاکستان جیسے اِتحادی ملک کے خلاف امریکہ کی اعلیٰ سیاسی قیادت کے ذہن میں پائے جانے والے شکوک و شبہات (تحفظات) ہتک آمیز اور حیران کن ہیں۔ پاکستان کہ جس نے روس کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے امریکی عزائم کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستان کہ جس نے نائن الیون کے بعد نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صف اوّل کا کردار ادا کرتے ہوئے اپنے قومی مفادات‘ سلامتی اور معاشی و اقتصادی مستقبل تک کو داؤ پر لگا دیا۔ پاکستان کہ جس نے امریکہ کی محبت میں ایسے ایسے زخم سہے ہیں کہ اِس کا تن بدن اور روح تک آج تک لہولہان ہیں لیکن امریکی قیادت کا تلخ مزاج اور ماتھے پر شکنیں گواہ ہیں کہ وہ پاکستان کی دوستی اور ہرممکنہ حد سے زیادہ تعاون پر شکرگزار (احسان مند) نہیں! تو اِس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے بالخصوص اور مسلم دنیا کی قیادت نے بالعموم ملت اسلامیہ کے اصل اثاثہ‘ اسلاف کی عملی تعلیمات اور پیغامات فراموش کر دیئے۔ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے ’فلسفۂ حیات‘ اُور ’تصور خودی‘ کی موجودگی میں مسلمانوں کی پستی و زبوں حالی اور کسی عالمی طاقت کا یہ رویہ اِس بات کا بین ثبوت ہیں کہ جذبۂ خود داری‘ غیرت مندی اور اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کے لئے کائنات کی قوتوں کے ساتھ برسرپیکار رہنے کا جو درس ’فلسفۂ عجم (1908ء)‘ اسرار خودی (1915ء) اُور رموز خودی (1918ء) میں دیا گیا تھا وہ سب کے سب بالائے طاق رکھ (فراموش کر) دیئے گئے ہیں!

اِقبال شناسی بھی بہت بڑی نعمت ہے! تفکر کو عمل سے مربوط کرنے کا مرحلہ ہے کہ علامہ اقبالؒ شعور و تفکر کی کس منزل پر‘ کس طرح کا عمل اور ردعمل چاہتے تھے۔ انہوں نے قوائے عملی کو مفلوج کر دینے والے ’افلاطونی نظریات‘ کو رد کیا تو کیوں؟ 

ہندوؤں کے فلسفۂ وحدت الوجود کا جواب دیا تو کیوں؟ اور ایرانی شاعروں کی رومانی شاعری کے مقابلے انسان اور انسانیت کو نئے مراتب اُور منزلوں (رفعتوں) سے آشنا کیا تو کیوں؟ ’’اگر خواہی خدا را فاش دیدن۔۔۔ خودی را فاش تر دیدن بیاموز۔‘‘ 

امریکہ عالمی طاقت ہونے کے بل بوتے پر آج پوری دنیا کو للکار رہا ہے تو یہ بات علامہ اقبالؒ کے ہاں بہت پہلے بیان ہو چکی ہے۔ اپنے سوا اور اپنے مفادات کے مقابلے امریکہ اگر آج کسی دوسرے ملک اور قوم کی عزت کو ضروری نہیں سمجھ رہا تو اِس کا حل بھی علامہ اقبالؒ کے ہاں ہی ملتا ہے جنہوں نے ’’خودی کو اِس انتہاء تک مضبوط‘‘ کرنے کا درس دیا کہ وہ گردوپیش کی گردشیں اور عالمی سیاسی حالات‘ واقعات اور معاملات تو کیا ’انسان‘ کی ذات میں چھپی مخفی طاقتوں میں اِس حد تک اضافے کا باعث بن سکتی ہے کہ ہر فرد اپنی تقدیر کے دھارے کا رُخ اپنی مرضی کے مطابق موڑ سکتا ہے۔ ’’ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے: خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے۔۔۔ عبث ہے شکوۂ تقدیر یزداں: تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے!؟‘‘

امریکہ کے نئے صدر نے گذشتہ دس روز میں جو کچھ بھی کیا اور وہ آئندہ چار برس تک جو کچھ بھی کرنے کی دھمکیاں (اشارے) دے رہے ہیں‘ اُس پر تنقید کرنے کی بجائے یہ محل مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہئے کہ انہوں نے قرآن اور خطیب قرآن صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے دلی‘ روحانی‘ اُور زمانی رشتے کتنے الگ کر رکھے ہیں۔ دنیا جان چکی ہے کہ کعبے سے منہ پھیڑ لینے سے سوائے ذلت کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ اب بھی دیر نہیں ہوئی‘ سمجھ لیجئے کہ خودی کی تربیت میں اطاعت‘ ضبط نفس اور نیابت الٰہی کو پس پشت ڈالنے سے عروج نہیں ملے گا اور مسلمان انفرادی یا مسلم اقوام اجتماعی طور پر اُس وقت تک اپنی حیثیت نہیں منوا سکیں گے یعنی اُس وقت تک درجۂ کمال تک نہیں پہنچ سکیں گے جب تک ’ملت‘ نہیں بنیں گے اُور ملت کے تصور میں کسی ’’فرد کی انفرادیت‘‘ ختم نہیں ہوتی بلکہ اِس کی حیثیت پہلے سے نسبتاً زیادہ مضبوط‘ نمایاں اُور بہتر ہوتی چلی جاتی ہے۔ 

پیغام یہ ہے کہ اَمریکہ یا دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک (عالمی طاقت) کا اتحادی بننے میں بقاء نہیں اور نہ ہی کسی ملک سے تصادم (آ بیل مجھے مار) کی پالیسی ’دور اندیشی‘ کے زمرے میں شمار ہوگی بلکہ مسلمان ممالک کو علوم و فنون اور تحقیق و ترقی کے شعبوں میں اپنی فہم و فراست اور دانش میں اضافہ کرتے ہوئے یہ ’’باریک نکتہ‘‘ سمجھنا ہوگا کہ توحید و رسالت کی تقلید‘ اجتہاد اُور ملت اسلامیہ کی بنیاد و بقاء صرف اُور صرف ’’قرآنی تعلیمات‘‘ پر عمل درآمد میں پنہاں (پوشیدہ) ہیں۔ لاالہ الا اللہ (توحید) اُور محمد رسول اللہ (رسالت) کی گواہی کے بعد اِس کسوٹی پر عمل اعمال اور افکار سے پورا اُترے (کوششیں کئے) بناء دنیا و آخرت میں سرخروئی تو بہت دُور کی بات‘ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کا وجود اور بقاء بھی خطرات سے دوچار دکھائی دے رہے ہیں۔ ’’در جماعت فرد را بینم ما: اَز چمن را چوں گل چینم ما۔۔۔ فرد تا اَندر جماعت گم شود: قطرۂ وسعت طلب قلزم شود۔‘‘

Saturday, June 20, 2015

Jun2015: Trust deficit between US & Pakistan

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
ناکافی اعتراف
’’ہم ہوئے کافر‘ تو وہ کافر مسلماں ہو گیا!‘‘ جیسی صورتحال سامنے آئی ہے کہ امریکہ کے ’اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں اِس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ عالمی سطح پر ’انسداد دہشت گردی‘ کی کوششوں میں ’پاکستان‘ غیرمعمولی کردار ادا کر رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ’پاکستان‘ کا شمار اُن چند ممالک میں کیا گیا ہے جو امریکہ کے ’انتہائی اہم ساتھی‘ ہیں! یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی فہرست میں شامل تعاون نہ کرنے والے ممالک کو سخت ترین امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ ’’پاکستان متعدد شدت پسند گروپوں سے مقابلہ کررہا ہے جن میں سے کئی پاکستانی حکومت یا حریف مذہبی فرقوں کو نشانہ بنا رہے ہیں!

سفارتکاری کی اپنی زبان اور لب و لہجہ ہوتا ہے۔ امریکہ کا اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ‘ پینٹاگون یا وائٹ ہاؤس کی ترجمانی کرنے والوں کے پاس ایسے الفاظ کا ذخیرہ موجود رہتا ہے‘ جن کے ایک سے زیادہ معنی اخذ کئے جا سکتے ہیں۔ الفاظ کے انتخاب اُور اُن کی ادائیگی میں احتیاط شاید ہی دنیا کے کسی دوسرے ملک کی سفارتکاری کا حصہ ہو۔ ضمنی طور پر عرض ہے کہ اگر قارئین الفاظ کے چناؤ میں ’امریکی مہارت‘ یا ’جادوگری‘ کا عملی مظاہرہ دیکھنے میں دلچسپی رکھتے ہوں تو وہ ہر روز براہ راست نشر ہونے والی ’اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ‘ کی بریفنگز دیکھ کر بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ یہ بریفنگ دیکھنے کے لئے آپ کو ’ڈش اینٹینا‘ کی ضرورت ہوگی جس کے ذریعے ’ایشیاء سیٹ(AsiaSat)‘ پر موجود سی اسپین (C-Span)‘ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور وائس آف امریکہ (VoA)کی نشریات مفت دیکھی جا سکتی ہیں۔ تو بات ہو رہی تھی ذومعنی الفاظ اُور اُن کے انتخاب میں امریکی مہارت کے حوالے سے جس کا مظاہرہ اُس سالانہ رپورٹ میں بھی کیا گیا ہے‘ جو بیک وقت پاکستان کی تعریف بھی کر رہی ہے اور ساتھ ہی ایک وارننگ (دھمکی) بھی جاری کر دی گئی ہے کہ اگر پاکستان ’ڈو مور‘ نہیں کرتا تو آنے والے دنوں میں اُسے مشکل و مختلف حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کہا گیا کہ انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں سال دوہزار چودہ کے دوران پاکستان کا تعاون ملا جلا رہا کیونکہ پاکستان انسداد دہشت گردی کی تربیت دینے والے امریکی تربیت کاروں کو ویزے دینے سے انکار کرتا رہا! رپورٹ میں افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ کی قیادت اور تنظیم کو پہنچنے والے نقصان کا ذکر کرتے ہوئے اِس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ القاعدہ کی عالمی قیادت خطے کے دوردراز علاقوں میں موجود و فعال ہے۔ القاعدہ کی قیادت کو خطے میں افغان‘ پاکستانی اور بین الاقوامی فورسیز سے دباؤ کا سامنا ہے جبکہ پاکستان کے شمالی وزیرستان کے آپریشن سے گروپ کی آزادی سے کام کرنے کی طاقت مزید متاثر ہوئی ہے۔ افغانستان سے متعلق باب میں کہا گیا کہ ملک اب بھی افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک اور دیگر دہشت گرد گروپوں کی جانب سے بڑے حملوں کا سامنا کر رہا ہے جبکہ ان میں سے کئی حملوں کی منصوبہ بندی پاکستان میں کی گئی۔ سالنامہ رپورٹ میں پاکستان کی اُن فوجی مہمات کا ذکر بھی ملتا ہے‘ جنہیں وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ’لشکر طیبہ‘ کا بطور خاص ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اِن جیسے گروہوں کے خلاف کاروائی نہیں کی جا رہی جو اب بھی حکومت کی نرم دلی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے مبینہ طور پر عسکری تربیت دینے اور عسکریت پسندی و انتہاء پسندی پھیلانے کے لئے مالی وسائل جمع کر رہے ہیں! افغان طالبان اور حقانی قیادت کی پاکستان میں اب بھی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں‘ پاکستانی فوج کے آپریشنز نے ان کی کاروائیوں کو متاثر ضرور کیا تاہم انہیں براہ راست نشانہ نہیں بنایا گیا۔

سال دو ہزار چودہ کے دوران شروع کی گئیں دو فوجی کاروائیوں کا بطور خاص ذکر کرتے ہوئے کراچی میں جرائم پیشہ منظم گروہوں اور عسکریت پسندوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ کیا انتہاء پسندی اور اس سے جنم لینے والی عسکریت پسندی صرف پاکستان کا مسئلہ ہے یا دنیا کے دیگر ممالک بھی اس سے متاثر ہیں۔ اِس سلسلے میں اَمریکہ کے مرتب کردہ اَعدادوشمار کے مطابق دولت اسلامیہ نے 1083‘ طالبان نے 894 اور بوکو حرام نے 662 حملے کئے۔ یہ صورتحال کسی بھی صورت خوش آئند نہیں کہ اربوں ڈالر اور ٹیکنالوجی کے بے دریغ و غیرمحتاط استعمال کے باوجود انتہاء پسندی و عسکریت پسندی کو شکست نہیں دی جاسکی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ مسئلے کی جڑ یعنی ’غربت و جہالت‘ کم کرنے کے لئے وسائل کی منصفانہ تقسیم نہیں کی جا رہی۔ لوگوں کو انصاف نہیں مل رہا۔ جہاں امتیازات و طبقات کی حکمرانی ہو‘ وہاں اطمینان اور سکون کی بجائے محرومیاں پروان چڑھتی ہیں۔

 امریکہ سمیت مغربی دنیا بشمول پاکستان مسلمان ممالک سے کس قسم کا تعاون چاہتی ہے اُور پاکستان کی اپنے دوست ممالک سے توقعات ایسی دو الگ بلکہ متضاد باتیں ہیں جن کی اصلاح دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہوئے نقصانات کا حسب وعدہ اَزالہ کرنے سے ہوگا بصورت دیگر ہرسال دہشت گردی کے اعدادوشمار اِسی طرح چونکا دینے والے ہوں گے۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہورہا کہ پاکستان کی عسکری قیادت اُور اَمریکہ کے درمیان تعلقات تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہے ہوں لیکن سوچنا یہ ہے کہ کہیں نہ کہیں رہ جانے والی کمی کا تعلق ایک دوسرے پر ’اِعتماد‘ کی کمی سے تو نہیں!

Thursday, December 11, 2014

Dec2014: US Senate Report

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
ظلم و بربریت: حسن والوں کی سادگی نہ گئی!
امریکی سینیٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’گیارہ ستمبر 2001ء کے دہشت گرد حملوں کے بعد‘ وفاقی ادارہ برائے تحقیقات (سینٹرل انٹلی جنس ایجنسی‘ سی آئی اے) نے تفتیش کے دوران مشتبہ افراد کو اِنسانیت سوز اَنداز میں اَذیت کا نشانہ بنایا اور یہ طریقہ کار یا طرز عمل ’’امریکی اقدار کے منافی‘‘ تھا۔ امریکہ کے قانون ساز ایوان بالا (سینیٹ) کی قائمہ کمیٹی برائے خفیہ اداروں کی مرتب کردہ یہ رپورٹ عالمی سطح بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ ترقی یافتہ امریکہ‘ فرانس‘ برطانیہ اور یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والی حقوق انسانی کی تنظیمیں اپنی اپنی حکومتوں سے پوچھ رہی ہیں کہ وہ ’پوچھ گچھ کا ظالمانہ طریقہ کار اختیار کرنے کا جواز کیا تھا؟‘ یہ سوال بھی اُٹھایا جارہا ہے کہ ’’نام نہاد دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں امریکہ سے کس ملک نے کتنا تعاون کیا؟‘‘ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’سی آئی اے‘ نے اُن قیدیوں کے ساتھ غلط سلوک برتا‘ جن پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام تھا اور پوچھ گچھ کے لئے یا ’اضافہ شدہ تفتیش کے طریقوں‘ کے مؤثر ہونے کے بارے میں کانگریس اور امریکی عوام کو گمراہ بھی کیا گیا‘ جس میں قیدیوں کو چھوٹی کوٹھڑی میں بند رکھنا‘ نیند نہ کرنے دینا اور ’واٹر بورڈنگ‘ شامل ہے‘ جس میں انسان کو ڈوبنے کا احساس دلایا جاتا ہے۔ رپورٹ جاری کرتے ہوئے‘ سینیٹر ڈائن فائن سٹائن نے کہا کہ ’’تشدد کی اصطلاح کے عام معنی یہ ہیں کہ سی آئی اے نے قیدیوں کو ’’بے انتہاء اذیت‘‘ پہنچائی۔‘‘ بقول اُن کے‘ اِس سے یہ پتا چلتا ہے کہ ایک دہائی قبل ’’سی آئی اے کے اختیار کردہ حربے‘ امریکی اقدار اور تاریخ پر دھبہ ہیں۔‘‘

امریکہ کے خفیہ ادارے نے جس انداز میں طاقت و اختیارات کا ’اَندھا دھند‘ استعمال کیا ہے‘ اُس میں صرف اُنہیں کو قصوروار ٹھہرانا جائز نہیں ہوگا۔ وہ سبھی اتحادی ممالک بشمول پاکستان کا نام بھی اُس فہرست میں شامل ہے جنہوں نے ’سی آئی اے‘ کے ایجنٹوں کو بلاروک ٹوک اپنے ملک میں مشتبہ افراد کے خلاف کارروائیوں کی اجازت دے رکھی تھی۔ پاکستان نے تو ایک قدم آگے بڑھ کر سفارتکار تک سی آئی اے حوالے کئے اور عافیہ صدیقی کا معاملہ بھی سب کے سامنے ہے‘ جس کی وجہ سے ہر باضمیر پاکستانی کا سر جھکا دکھائی دیتا ہے۔ لمحہ فکریہ ہے کہ مسلم ممالک امریکہ کے ساتھ اُن تمام ’جنگی جرائم‘ میں شریک ہیں‘ جن کا پردہ فاش ہو چکا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کسی ملک نے اپنے دفاع کے لئے اسلحہ لے کر سودے بازی کی‘ کسی کو اپنا اقتدار طویل کرنا عزیز تھا۔

 کسی ملک کی قیادت نے اپنے اثاثے بیرون ملک منتقل کرنے اور ڈالروں کے بھرے ہوئے بیگ وصول کئے اور کچھ تو ایسے بھی ہیں جنہوں نے امریکہ کی محبت میں مسلم امہ کے اجتماعی مفادات کو پس پشت ڈال دیا۔ آج امریکہ کے مظالم کے خلاف خود امریکہ ہی میں مذمت اور احتجاج ہو رہا ہے لیکن وہ سبھی ممالک خاموش ہیں‘ جن کے باشندوں کو اذیت دی گئی‘ جنہیں چن چن کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا‘ اور حبس بیجا میں رکھنے والوں کو اس حد تک ذہنی و جسمانی اذیتیں دی گئیں کہ وہ یا تو اپنے حواس کھو بیٹھے یا پھر دم ہی توڑ گئے۔ امریکی سینیٹ کی ’سی آئی اے‘ سے متعلق حالیہ رپورٹ کی وجہ سے امریکی عوام کی بجائے اُس سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف غم وغصے کا اظہار ہونا چاہئے‘ جنہوں نے خود امریکی قوانین اور اقدار کو پائمال کیا۔ امریکہ کے صدر باراک اوباما کی مذمت اُن کے بیان سے عیاں ہے جس میں اُنہوں نے ہے کہ ’’تفتیش کے یہ اِنتہائی سخت طریقے نہ صرف بحیثیت قوم ہمارے اقدار کے برخلاف تھے بلکہ انسداد دہشت گردی کی ہمارے وسیع تر کوششوں یا ہمارے قومی سلامتی کے مفادات کو بچانے میں اِن سے کوئی مدد نہیں ملی۔ہمیں اِس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ پھر کبھی ایسے طریقوں کو اختیار نہ کیا جائے۔‘‘

امریکی سینیٹ رپورٹ جاری ہونے کے بعد‘ سی آئی اے کے موجودہ ڈائریکٹر جان برینن نے تسلیم کیا ہے کہ ’’ایک عشرہ قبل مشتبہ دہشت گردوں سے تفتیش کے دوران ادارے نے اُن اعلیٰ اقدار کی پاسداری نہیں کی‘ جنہیں ہم نے بڑی جدوجہد کے بعد اپنے لئے معین کیا تھا۔‘‘ برینن کے بقول سی آئی اے نے ’’ایسی ہی غلطیوں سے سیکھا ہے۔‘‘ سال 2009ء میں عہدۂ صدارت سنبھالنے کے بعد صدر اُوباما نے نام نہاد ’اضافہ شدہ تفتیشی طریقوں‘ کے اِستعمال پر پابندی عائد کی‘جن کی اُن کے پیش رو جارج ڈبلیو بش نے 2001ء کے دہشت گرد حملوں کے بعد اجازت دے رکھی تھی‘ یاد رہے کہ سات اکتوبر دو ہزار سے دنیا پر مسلط کی جانے والی جنگ کے ’’13 سال 2 ماہ اور 4دن‘‘ کے عرصہ میں عراق‘ اَفغانستان اور پاکستان میں دہشت گرد واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد دولاکھ بیس ہزار سے زیادہ ہے! امریکہ کی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قیادت کی جانب سے مذمت تو بہت کی گئی لیکن کسی نے تاحال ’معافی‘ نہیں مانگی ہے‘ کیا یہی امریکی اقدار ہیں کہ دو لاکھ سے زائد عام لوگوں کی ہلاکت‘ انسانیت سوز تشدد اور قتل جیسے جرائم کا ارتکاب‘ فساد کا ’’سبب‘‘ اور دنیا پر جنگ مسلط کرنے جیسے اعمال کے باوجود (رسمی طورپر) ’’SORRY‘‘ تک بھی نہ کہا جائے!