Showing posts with label Muslim World. Show all posts
Showing posts with label Muslim World. Show all posts

Monday, January 30, 2017

Jan2017: Khudi & Allama Iqbal

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام


خودی



’جیسا منہ ویسی چپیڑ‘ کا محاورہ صادق آتا ہے۔ جمہوری اسلامی ایران کی قیادت نے ’ڈونلڈ جان ٹرمپ‘ کو ’’کرارا جواب‘‘ دیتے ہوئے ایران سمیت چھ دیگر مسلم ممالک (عراق‘ لیبیا‘ صومالیہ‘ سوڈان‘ شام اُور یمن) کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے پر پابندی کے جواب میں کہا ہے کہ ’’تہران نے بھی امریکی شہریوں پر اسی قسم کی پابندی عائد کر دی ہے۔‘‘ ایران کی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ’’ایران کی شہریت رکھنے والوں سے کسی بھی صورت ہتک آمیز سلوک روا رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور جب تک امریکہ مذکورہ پابندی واپس نہیں لے لیتا‘ امریکی شہریوں کی بھی ایران میں داخلے پر پابندی عائد رہے گی!‘‘ 


کیا دنیا کا کوئی دوسرا اسلامی ملک ایسا ہے جس کی قیادت نے امریکی صدر کے فیصلے کو غیر قانونی‘ غیر منطقی اور بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے یوں عملاً چیلنج کیا ہو؟ یاد رہے کہ ٹرمپ نے اگرچہ پاکستان‘ افغانستان اور سعودی عرب کی شہریت رکھنے والوں کے خلاف ایسی واضح پابندی عائد نہیں کی تاہم پاکستان سمیت افغانستان و سعودی عرب سے آنے والی ویزا درخواستوں کی کڑی سکروٹنی (جانچ پڑتال) کا حکم دیا ہے اُور ’’کڑی‘‘ کا مطلب یہی ہے کہ امریکہ میں داخل ہونے کے لئے اجازت نامہ (ویزا) حاصل کرنے والوں کے کوائف کو آئندہ جانچ پڑتال کے اضافی مراحل سے گزرنا پڑے گا! 

مسلم ممالک اور بالخصوص پاکستان جیسے اِتحادی ملک کے خلاف امریکہ کی اعلیٰ سیاسی قیادت کے ذہن میں پائے جانے والے شکوک و شبہات (تحفظات) ہتک آمیز اور حیران کن ہیں۔ پاکستان کہ جس نے روس کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے امریکی عزائم کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستان کہ جس نے نائن الیون کے بعد نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صف اوّل کا کردار ادا کرتے ہوئے اپنے قومی مفادات‘ سلامتی اور معاشی و اقتصادی مستقبل تک کو داؤ پر لگا دیا۔ پاکستان کہ جس نے امریکہ کی محبت میں ایسے ایسے زخم سہے ہیں کہ اِس کا تن بدن اور روح تک آج تک لہولہان ہیں لیکن امریکی قیادت کا تلخ مزاج اور ماتھے پر شکنیں گواہ ہیں کہ وہ پاکستان کی دوستی اور ہرممکنہ حد سے زیادہ تعاون پر شکرگزار (احسان مند) نہیں! تو اِس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے بالخصوص اور مسلم دنیا کی قیادت نے بالعموم ملت اسلامیہ کے اصل اثاثہ‘ اسلاف کی عملی تعلیمات اور پیغامات فراموش کر دیئے۔ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے ’فلسفۂ حیات‘ اُور ’تصور خودی‘ کی موجودگی میں مسلمانوں کی پستی و زبوں حالی اور کسی عالمی طاقت کا یہ رویہ اِس بات کا بین ثبوت ہیں کہ جذبۂ خود داری‘ غیرت مندی اور اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کے لئے کائنات کی قوتوں کے ساتھ برسرپیکار رہنے کا جو درس ’فلسفۂ عجم (1908ء)‘ اسرار خودی (1915ء) اُور رموز خودی (1918ء) میں دیا گیا تھا وہ سب کے سب بالائے طاق رکھ (فراموش کر) دیئے گئے ہیں!

اِقبال شناسی بھی بہت بڑی نعمت ہے! تفکر کو عمل سے مربوط کرنے کا مرحلہ ہے کہ علامہ اقبالؒ شعور و تفکر کی کس منزل پر‘ کس طرح کا عمل اور ردعمل چاہتے تھے۔ انہوں نے قوائے عملی کو مفلوج کر دینے والے ’افلاطونی نظریات‘ کو رد کیا تو کیوں؟ 

ہندوؤں کے فلسفۂ وحدت الوجود کا جواب دیا تو کیوں؟ اور ایرانی شاعروں کی رومانی شاعری کے مقابلے انسان اور انسانیت کو نئے مراتب اُور منزلوں (رفعتوں) سے آشنا کیا تو کیوں؟ ’’اگر خواہی خدا را فاش دیدن۔۔۔ خودی را فاش تر دیدن بیاموز۔‘‘ 

امریکہ عالمی طاقت ہونے کے بل بوتے پر آج پوری دنیا کو للکار رہا ہے تو یہ بات علامہ اقبالؒ کے ہاں بہت پہلے بیان ہو چکی ہے۔ اپنے سوا اور اپنے مفادات کے مقابلے امریکہ اگر آج کسی دوسرے ملک اور قوم کی عزت کو ضروری نہیں سمجھ رہا تو اِس کا حل بھی علامہ اقبالؒ کے ہاں ہی ملتا ہے جنہوں نے ’’خودی کو اِس انتہاء تک مضبوط‘‘ کرنے کا درس دیا کہ وہ گردوپیش کی گردشیں اور عالمی سیاسی حالات‘ واقعات اور معاملات تو کیا ’انسان‘ کی ذات میں چھپی مخفی طاقتوں میں اِس حد تک اضافے کا باعث بن سکتی ہے کہ ہر فرد اپنی تقدیر کے دھارے کا رُخ اپنی مرضی کے مطابق موڑ سکتا ہے۔ ’’ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے: خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے۔۔۔ عبث ہے شکوۂ تقدیر یزداں: تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے!؟‘‘

امریکہ کے نئے صدر نے گذشتہ دس روز میں جو کچھ بھی کیا اور وہ آئندہ چار برس تک جو کچھ بھی کرنے کی دھمکیاں (اشارے) دے رہے ہیں‘ اُس پر تنقید کرنے کی بجائے یہ محل مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہئے کہ انہوں نے قرآن اور خطیب قرآن صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے دلی‘ روحانی‘ اُور زمانی رشتے کتنے الگ کر رکھے ہیں۔ دنیا جان چکی ہے کہ کعبے سے منہ پھیڑ لینے سے سوائے ذلت کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ اب بھی دیر نہیں ہوئی‘ سمجھ لیجئے کہ خودی کی تربیت میں اطاعت‘ ضبط نفس اور نیابت الٰہی کو پس پشت ڈالنے سے عروج نہیں ملے گا اور مسلمان انفرادی یا مسلم اقوام اجتماعی طور پر اُس وقت تک اپنی حیثیت نہیں منوا سکیں گے یعنی اُس وقت تک درجۂ کمال تک نہیں پہنچ سکیں گے جب تک ’ملت‘ نہیں بنیں گے اُور ملت کے تصور میں کسی ’’فرد کی انفرادیت‘‘ ختم نہیں ہوتی بلکہ اِس کی حیثیت پہلے سے نسبتاً زیادہ مضبوط‘ نمایاں اُور بہتر ہوتی چلی جاتی ہے۔ 

پیغام یہ ہے کہ اَمریکہ یا دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک (عالمی طاقت) کا اتحادی بننے میں بقاء نہیں اور نہ ہی کسی ملک سے تصادم (آ بیل مجھے مار) کی پالیسی ’دور اندیشی‘ کے زمرے میں شمار ہوگی بلکہ مسلمان ممالک کو علوم و فنون اور تحقیق و ترقی کے شعبوں میں اپنی فہم و فراست اور دانش میں اضافہ کرتے ہوئے یہ ’’باریک نکتہ‘‘ سمجھنا ہوگا کہ توحید و رسالت کی تقلید‘ اجتہاد اُور ملت اسلامیہ کی بنیاد و بقاء صرف اُور صرف ’’قرآنی تعلیمات‘‘ پر عمل درآمد میں پنہاں (پوشیدہ) ہیں۔ لاالہ الا اللہ (توحید) اُور محمد رسول اللہ (رسالت) کی گواہی کے بعد اِس کسوٹی پر عمل اعمال اور افکار سے پورا اُترے (کوششیں کئے) بناء دنیا و آخرت میں سرخروئی تو بہت دُور کی بات‘ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کا وجود اور بقاء بھی خطرات سے دوچار دکھائی دے رہے ہیں۔ ’’در جماعت فرد را بینم ما: اَز چمن را چوں گل چینم ما۔۔۔ فرد تا اَندر جماعت گم شود: قطرۂ وسعت طلب قلزم شود۔‘‘

Sunday, September 20, 2015

Sep2015: Muslims in the west

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
ملتی جلتی کہانیاں
مسلمانوں کے خلاف تعصب آمیز روئیوں نے جدت پسند‘ تعلیم یافتہ‘ نسلی و لسانی تعصبات کے خلاف بظاہر آواز اُٹھانے اور انسانی حقوق جیسی اصطلاح کا غلط اطلاق و استعمال کرنے والے مغربی معاشرے کی آزادی‘ سوچ اور عمل کا پول کھول دیا ہے لیکن مشہور اخباروں کے کونوں کھدروں میں بھی ایسی خبریں کم ہی دکھائی دیں گئیں کہ کسی بس میں داخل ہو کر سفر سے متعلق سوال پوچھنے پر بس ڈرائیور نے مسلمان خاتون کے اسکارف (حجاب) پر طنز کیا اور اس کو کھینچنے کی کوشش کی۔ چند ماہ پہلے کوپن ہیگن کی ایک یہودی عبادت گاہ پر حملے کے بعد اس قسم کی سرگرمیوں میں کافی تیزی آئی ہے جب کسی راہگیر نے کسی مسلمان عورت کے سر سے اسکارف اتارنے کی کوشش کی ہو۔ ابھی چند دن پہلے مشہور امریکی برانڈ ایبرکومی میں اسکارف پہننے کی وجہ سے نوکری نہ ملنے والی خاتون کے مقدمہ جیتنے کی کہانی بھی دوستوں کی نظر سے گذری ہوگی۔ کچھ عرصہ پہلے ایک امریکی شہر میں مسجد کے سامنے اسلحہ بردار لوگوں نے پیغمبرِ رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرضی و طنزیہ انداز میں خاکے بنوانے کے مقابلے کا اہتمام کیا۔کچھ دن پہلے ہی ایک مسلمان جوڑے کو اس وقت سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جب وہ اپنے بیٹے کو لینے کے لئے اس کے دوست کے دروازے کے سامنے کھڑے تھے کہ ایک بندوق بردار عورت نے ان کو وہاں سے بھاگ جانے کا کہا۔ جب انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے بیٹے کو لینے کے لئے آئے ہیں تو وہ بندوق بردار خاتون بندوق کی نوک پر ان کو اس گھر کے اندر لے کر گئی جہاں ان کا بیٹا موجود تھا۔ چند ماہ پہلے ہی ایک مسلمان خاتون کو یونائیٹڈ ائرلائن میں کھلا ہوا کوک کا کین دیا گیا تو انہوں نے بند کین طلب کیا جس پر ائر ہوسٹس نے مسلمان ہونے کے ناطے ان کو بند کین کو بطور اسلحہ استعمال کر لینے کے ڈر سے بند کین دینے سے انکار کر دیا۔ ٹھیک ان کے برابر میں بیٹھے مسافر کو بیئر (آب جو) کا بند کین دیا گیا جس پر مسلمان خاتون نے اعتراض کیا تو جہاز میں موجود ایک دو مسافروں نے مسلمانوں کے متعلق نفرت آمیز جملوں کی بوچھاڑ کر دی۔ ایک مسلمان نوجوان جوڑا جو امریکہ ہی کے کسی شہر میں بستا تھا اور پارکنگ کے معمولی جھگڑے پر ان کو گولی مار دی گئی تھی۔تازہ ترین واقعہ سترہ اگست دوہزار پندرہ کو کوپن ہیگن میں پیش آیا ہے کہ جہاں ایک اسلامی مرکز (جس میں مسجد بھی شامل تھی) کو نامعلوم افراد نے نذر آتش کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے اس شخص کو گرفتار کر لیا لیکن اُسے ذہنی مریض ثابت کرنے کی کوشش کی گئی‘ تقریباً دو تین ماہ پہلے کوپن ہیگن میں مسلمانوں کے قبرستان کی بے حرمتی کی گئی اور کئی قبروں کے کتبے اکھاڑ دیئے گئے۔ اگر اِس قسم کے واقعات پاکستان میں ہوئے ہوتے تو نجانے کتنے ہی صحافیوں کی لاٹری نکل آئی ہوتی۔ وہ راتوں رات امیر کبیر ہو چکے ہوتے! اگر آپ کو اِس بات پر یقین نہ آئے تو کسی خفیہ ادارے کے اہلکار سے رازداری میں پوچھیں کہ خیبرپختونخوا کے اُن 10بڑے صاحب جائیداد افراد کے نام بتائیں جن کی قسمت ’نائن الیون‘ کے بعد جاگ اُٹھی تو آپ کو ’این جی اوز‘ اُور امریکہ کی قیادت میں نیٹو افواج کے لئے اشیاء خوردونوش کی فراہمی یا آمدورفت میں معاونت کرنے والوں کے علاؤہ تین سرکردہ صحافیوں کے بھی نام دکھائی دیں گے۔ بہتی گنگا میں کس کس نے ہاتھ دھوئے‘ کون کون نہایا لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ مغربی ممالک کی افواج کو افغانستان پر حملے کا صرف ایک جواز ’نائن الیون‘ تھا لیکن ایسے درجنوں نہیں سینکڑوں جواز پشاور اُور قبائلی علاقوں سے آڈیو ویڈیو تصویری (دستاویزی) ثبوتوں کے ساتھ فراہم کئے گئے‘ جنہیں مغربی ذرائع ابلاغ میں خوب اُچھالا گیا اور یہی وجہ ہے کہ آج کے مغربی معاشرے کی عمومی سطح پر اگر مسلمانوں کو بالعموم دہشت گرد سمجھا جاتا ہے تو اِس جرم میں شریک ہمارے اپنے بھی ہیں‘ جنہوں نے الفاظ نہیں بلکہ اُن کی حرمت کو پائمال کیا!

مسلمانوں کی ساکھ اور شہرت کو نقصان کسی ایک مغربی ملک کی حد تک محدود نہیں بلکہ اِس کا اثر کہیں کم تو کہیں زیادہ دکھائی دیتا ہے اور مذہب یا بظاہر حلیے کی بنیاد پر امتیازی سلوک کے واقعات میں ایک مماثلت یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف اکسانے والے ’دہشت گرد‘ نہیں کہلائے جاتے بلکہ انہیں ذہنی و نفسیاتی امراض کا شکار قرار دے دیا جاتا ہے۔ امریکی ریاست ٹیکساس میں سوڈان سے تعلق رکھنے والے گھرانے کے فرد ’احمد محمد‘ نامی چودہ سالہ مسلمان بچے کو ’بم بنانے کی کوشش‘ کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ تو سائنس پراجیکٹ کے لئے ایک کلاک (ڈیجیٹل گھڑیال) بنانے کی کوشش میں تھا اور وہ اپنی کوشش کی ستائش کے لئے اسے سکول لے آیا تھا۔ اس واقعے کے متعلق اب تک 10 لاکھ سے زائد افراد نے سماجی رابطہ کاری کی مختلف ویب سائٹس (سوشل میڈیا) پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے اور یہ عمل تادم تحریر جاری تھا۔ درحقیقت اس بچے کا نام ہی سکیورٹی اہلکاروں کے کان کھڑے کرنے کا سبب بنا۔ اگر یہی کام کسی غیر مسلم یا سفید فام امریکی بچے نے کیا ہوتا تو اس کو انعام و اکرام سے نوازا جاتا۔ دوسری طرف اس واقعے کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ بعد میں اس قسم کے واقعات پر کفِ افسوس ملنے سے بہتر تھا کہ ایسا ہوا۔ انہوں نے سکول کی تعریف بھی کی کہ انہوں نے اس قدر فرض شناسی کا ثبوت دیا اور یہ کہ اسلام کا نام مسلمانوں نے ہی خراب کر رکھا ہے وغیرہ وغیرہ! غور کیجئے کہ اِن سب واقعات میں کردار بدل رہے ہیں لیکن کہانی ملتی جلتی ہے۔ مسلمانوں سے ایسی کیا خطا ہوئی ہے کہ ایک دنیا ان کی دشمن بنی پھرتی ہے؟ صرف اتنی خطا ہے کہ گیارہ ستمبر (نائن الیون) کے واقعے میں ملوث ہائی جیکرز کے نام اسلامی تھے؟ یا پھر یہ کہ چند ہزار افراد کا گروہ خود کو طالبان اور دولت اسلامیہ کہلوا کر بندوق کے زور پر دنیا بھر میں اسلام نافذ کرنا چاہتا ہے!؟

آخر یہ کیوں نہیں دیکھا جاتا کہ دنیا بھر میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر خود مسلمان اور اسلامی ممالک ہیں۔ امریکہ‘ برطانیہ‘ کینیڈا اُور دیگر مغربی ممالک میں مقیم مسلمان وہاں کی ترقی کے لئے ہر شعبے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں لیکن یہ حقیقت کسی کی نظر سے کیوں نہیں گزرتی۔ اگر یہی رویہ جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب اہل مغرب مسلمان بچوں کے بستے (سکول بیگز) کی تلاشی داخلی دروازوں پر لیا کریں گے یا پھر شاید اُنہیں الگ سکولوں تک محدود کر دیا جائے۔ وہ دنیا جو خود کو مہذب اور پر امن کہتی ہے، اپنے جیسے پرامن لوگوں سے اس قدر خوف زدہ کیوں ہے؟ کیا ان سے مختلف رنگ اور مذہب رکھنے والے انسان نہیں؟ ذہین لیکن امریکی مسلمان بچے ’احمد محمد‘ کے ساتھ پیش آنے والے امتیازی سلوک کی چند بیمار ذہن افراد کے علاؤہ سب ہی نے مذہب‘ رنگ‘ نسل اور ملکوں کی قید سے بالاتر ہو کر حمایت کی ہے۔ فیس بک کے سربراہ مارک زکربرگ سے لے کر ہلری کلنٹن اور امریکی صدر باراک اوباما تک اس کی حمایت اور ستائش میں بول پڑے ہیں‘ جو خوش آئند و حوصلہ افزأ بات ہے لیکن آخر یہ واقعہ پیش ہی کیوں آیا‘ اور کیا یہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کا آخری واقعہ ثابت ہوگا؟