Showing posts with label Human Rights. Show all posts
Showing posts with label Human Rights. Show all posts

Tuesday, May 3, 2022

Alarming Situation: Human Rights Violations in Pakistan

 ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

راۂ فرار

وقت ہے کہ اُن انسانی حقوق کی جانب متوجہ ہوا جائے‘ جن کے بغیر معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ اُور ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔ اِنسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے تیسواں سالانہ جائزہ جاری کیا ہے جس میں انسانی حقوق کی صورتحال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں کمی بیشی سے متعلق حکومتی اقدامات اُور کوششوں کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔ ہر رپورٹ کی طرح یہ بھی اہم ہے جس میں سب سے زیادہ زور آزادیئ اظہار اُور اختلاف رائے رکھنے کی ضرورت پر دیا گیا ہے اُور کم از کم 9 صحافیوں کو ہراساں کرنے کی کھلم کھلا اور بے دریغ ریاستی کوششیں کی مذمت کی ہے۔ 

پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ ہر سال کمی بیشی کے ساتھ یہ واقعات منظرعام پر آتے ہیں اُور سال کے ساتھ انہیں فراموش بھی کر دیا جاتا ہے۔ خواتین کے خلاف تشدد کی جملہ صورتیں قابل تشویش ہیں جو عصمت دری سے لے کر گھریلو بدسلوکی تک پھیلی ہوئی ہیں اُور اِنہی کے نتیجے میں قتل اُور بالخصوص غیرت کے نام پر قتل ہوتے ہیں۔ مذکورہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال دوہزاراکیس کے دوران پاکستان میں غیرت کے نام پر 478 قتل ہوئے۔ یہ قطعی طور پر معمولی عدد نہیں جسے پڑھ کر یا سن کر فراموش کر دیا جائے۔ پاکستان سے متعلق اِس قسم کے اعدادوشمار سے ملکی ساکھ متاثر ہوتی ہے اُور چونکہ اِس ساکھ کے ساتھ ’اسلامی‘ اُور ’جمہوری‘ ہونے کے صیغے بھی جڑے ہوئے ہیں اِس لئے تنقید کرنے والے جن پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہیں وہ پاکستان میں برداشت اُور رواداری کے علاؤہ انسانیت کے احترام کا فقدان بھی ظاہر کرتے ہیں! ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹیں جھوٹ نہیں ہو سکتیں جن سے یہ لمحہئ فکریہ اخذ ہوا ہے کہ سال دوہزاراکیس کے دوران پاکستان میں عصمت دری کے کم از کم پانچ ہزار سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان میں ہر قسم کے تشدد میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔ 

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سالنامہ میں جن چند واقعات کو بطور خاص اُور بطور مثال ملک میں قانون و انصاف کی حکمرانی کے حوالے سے پیش کیا گیا ہے اُن میں ناظم جوکھیو اور سیالکوٹ میں سری لنکا کے شہری پریانتھا کمارا کا قتل ہے۔ ذہن نشین رہے کہ نومبر 2021ء میں ناظم جوکھیو نامی شخص نے غیرقانونی شکار کرنے والوں کی موبائل فون سے ویڈیو بنائی اُور اُسے سوشل میڈیا پر جاری کر دیا۔ اِس کے بعد اُسے اغوأ کر لیا گیا اُور پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے بااثر سیاسی خاندان کے فارم ہاؤس سے اُس تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی لیکن تاحال قتل کے اِس مقدمے میں معلوم شواہد کے باوجود بھی انصاف نہیں ہو سکا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی عوام اُور خواص کے لئے الگ الگ ہے۔ اِسی طرح ’3 دسمبر 2021ء‘ کے روز 49 سالہ پریانتھا کمار نامی سری لنکن باشندے کو سیالکوٹ میں ہجوم نے زدوکوب کر کے قتل کیا اُور یہاں بھی ملزمان تو نامزد ہوئے لیکن سزائیں نہیں ہوئیں جن سے جرائم کی حوصلہ شکنی ہو سکتی۔ اِس قسم کے واقعات ملک میں بڑھتے ہوئے تشدد کی پریشان کن صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ چند ماہ قبل ہوئی ایک اُور تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ زیادہ تر جرائم میں نوجوان ملوث ہوتے ہیں‘ جو بیروزگاری اُور معاشی بے یقینی سے پیدا ہونے والی نفسیاتی اُلجھنوں کا شکار ہوتے ہیں۔ قابل افسوس ہے کہ گزشتہ چند برس سے پاکستانی معاشرہ تیزی سے پرتشدد ہوتا جا رہا ہے اُور یہ کسی ڈراؤنے خواب جیسی حقیقت ہے جو معاشرے میں رائج انتہا پسندانہ رجحانات کا براہ راست نتیجہ ہے اُور اِس کے لئے ریاستی حکمت عملیاں ہی ذمہ دار ہیں‘ جو تشدد کا باعث بننے والے اُن معلوم محرکات کی جانب متوجہ نہیں ہیں‘ جن کی نشاندہی ملکی و غیرملکی ماہرین وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ میں اِس بات پر بطور خاص توجہ دی گئی ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں قوانین سازی کے لئے پارلیمان میں بحث و مباحثہ اُور اجتماعی دانش سے کام لینے کی بجائے صدراتی آرڈیننس جاری کرنے جیسے ’راہئ فرار‘ کا انتخاب کیا گیا جس کے نشانے پر آزادیئ اظہار بھی رہی اُور تحریک انصاف کا دور حکومت شخصی و اجتماعی رائے کی آزادی کے لحاظ سے انتہائی نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔ مذکورہ رپورٹ نے مذہبی انتہاپسندی بڑھنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ علاؤہ ازیں پاکستان میں انسانی حقوق سے متعلق اعدادوشمار مرتب کرنے اُور اِنسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے کوششیں کرنے والے کارکنوں کو گزشتہ کئی برس سے درپیش سب سے بڑی مشکل ’لاپتہ افراد‘ کی صورت درپیش ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن کا کہنا ہے کہ سال دوہزاراکیس کے دوران سب سے زیادہ لاپتہ افراد کی اطلاعات بلوچستان سے موصول ہوئیں اُور اِن لاپتہ افراد کے اہل خانہ کا اسلام آباد میں احتجاجی دھرنا دینے کے باوجود بھی حکومت اِن کے خدشات و مشکلات حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ لاپتہ افراد سے لے کر گجر اور کورنگی نالے سے بے دخلی‘ فرقہ وارانہ تشدد اُور ٹرانسجینڈر افراد کے خلاف تشدد کے واقعات پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر دھبہ ہیں‘ جنہیں صاف کرنے کے لئے ریاست اُور ریاستی اداروں کو خاطرخواہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ اب یہ بات شہباز شریف کی قیادت والی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ انسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے کس قدر اقدامات کرتے ہیں جبکہ ماضی میں وہ اِنسانی حقوق کی مذکورہ اُور دیگر خلاف ورزیوں پر خود بھی تنقید کرتے رہے ہیں۔ بہرصورت ضرورت ہے کہ ذرائع ابلاغ کی آزادی برقرار رکھی جائے۔

 صحافت کی آزادی سے جمہوریت کی مضبوطی ممکن ہے اُور کسی بھی صورت اگر صحافیوں کو اپنا کام کرنے پر ہراساں کیا جاتا ہے تو اِس سے پاکستان کی مثبت ساکھ اُبھر کر سامنے نہیں آئے گی۔

 انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کسی بھی صورت معمولی نہیں اُور نہ ہی اِنہیں معمولی سمجھنے جیسی غلطی کرنی چاہئے۔

ہیومن رائٹس کمیشن کی سالانہ رپورٹ کو نظرانداز کرنے سے بہتری نہیں بلکہ خرابی پیدا ہوگی اُور اگر مذکورہ رپورٹ میں درج تجاویز پر حکومت عمل درآمد کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے تو اِس سے بہت سی خرابیاں و ناکامیاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔ اُمید ہے کہ ناکامیوں سے کام لینے کی بجائے انسانی جان و حرمت اُور انسانی حقوق کی اہمیت کا ادراک کیا جائے گا اُور ملک کی تمام برادریوں اور علاقوں کے تمام شہری جس ناانصافی اور ریاستی یا غیر ریاستی تشدد کا شکار ہیں اُنہیں تحفظ فراہم کرنے میں حکومت اُور حکومتی ادارے اپنا اپنا مثبت کردار ادا کریں گے۔

……


Friday, January 19, 2018

Jan 2018: Trendy protest as solution!

مہمان کالم
اِحتجاج بر اِحتجاج!
آخر اِحتجاج کے لئے ’شاہراۂ عام‘ بند کرنا ہی کیوں ضروری ہوتا ہے؟ 
یہ ایک ایسا بنیادی سوال ہے جس کا تعلق طرزحکمرانی سے زیادہ اُن معاشرتی روئیوں سے ہے‘ جس میں ہمیں اپنی غلطیاں نظر نہیں آتیں لیکن ہم دوسروں پر تنقید کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ سڑکیں بند کرنے میں پاکستان کی سبھی سیاسی و مذہبی جماعتیں ایک سے بڑھ کر ایک ہیں بلکہ مخالفین پر اپنی طاقت اور عوامی مقبولیت کا رعب ڈالنے کے سڑکیں بند کرنے اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا جاتا ہے اور ایسا کرنے میں صرف سیاسی و مذہبی جماعتوں ہی قصوروار نہیں بلکہ ’معاشرتی حیثیت‘ کا تعین بھی اِس بات سے ہوتا ہے کہ کون کتنی بڑی اور اہم شاہراہ بند کرسکتا ہے۔ 

عمومی طور پر دیکھنے میں آتا ہے کہ شادی بیاہ‘ خوشی و غم کے تہواروں کے موقع پر شاہرائیں اور مصروف و معروف گلی کوچوں کو ہر قسم کی آمدورفت کے لئے بند کر دیا جاتا ہے اور ہونا تو یہ چاہئے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اِس رجحان کی حوصلہ شکنی کریں لیکن وہ سڑکیں بند کرکے پہرہ دے رہے ہوتے ہیں کہ خلاف ورزی یا سڑک احتجاج کرنے پر احتجاج کرنے والوں سے نمٹا جائے۔ افسوس کہ ہم اپنی خوشی‘ غم اور احتجاج کے موقع پر حواس کھو دیتے ہیں ورنہ کئی ایسے طریقے (حل) بھی ڈھونڈے جا سکتے ہیں‘ جن کے ذریعے سانپ بھی مر سکتا ہے اور لاٹھی بھی بچ سکتی ہے! اپنے پاؤں پر اپنی ہی کلہاڑی مارنا کہاں کی دانشمندی ہے اور اپنے ہی لوگوں کو پریشانی سے دوچار کرنے سے سوائے نفرت اور کیا حاصل ہوسکتا ہے‘ اِس بارے سوچنا بھی تو معمول بنایا جا سکتا ہے۔ جس معاشرے سے سوچنے اور اِس معاشرتی خرابیوں کا پائیدار حل تلاش کرنے کے لئے غوروخوض کا عمل اٹھ جائے وہاں کے مسائل ہر گزرتے دن بڑھتے چلے جاتے ہیں‘ جیسا کہ ہم اپنے اردگرد مشاہدہ کرتے ہیں۔ سڑکیں بند نہ ہوں‘ راستے بہرحال کھلے رہیں اور معمولات زندگی متاثر کرنے والوں سے بلاامتیاز قانون کے مطابق معاملہ کیا جائے تو اِس سلسلے میں سب سے زیادہ تعاون اور قربانی اُن سیاسی جماعتوں کو دینا ہوگی جن کی قانون ساز ایوانوں میں نمائندگی موجود ہے کیونکہ جب تک قانون کا احترام قانون سازوں کی جانب سے دیکھنے میں نہیں آئے گا‘ عام آدمی (ہم عوام) اِس جانب متوجہ نہیں ہوں گے۔ رہنمائی کے لئے سپرئم کورٹ آف پاکستان (عدالت عظمیٰ) کے چیف جسٹس کی ایک رولنگ آن دی ریکارڈ ہے کہ ’’سڑک بند کرنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔‘‘

لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے سترہ جنوری کو ’مال روڈ لاہور‘ پر احتجاجی جلسۂ عام کے انعقاد کی مشروط اجازت دی تو یہ مصلحت تھی کیونکہ ایک سے زیادہ سیاسی جماعتوں کے مشترکہ احتجاج کے لئے پہلے ہی سے سڑک بند کی جا چکی تھی اور تصادم سے بچنے کے لئے عدالت کو ایک ایسا فیصلہ کرنا پڑا‘ جس سے سب کو اُن کی دلی مراد مل جائیں۔ ’پاکستان عوامی تحریک‘ کے مال روڈ پر مذکورہ احتجاجی جلسے میں پاکستان پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت شریک ہوئی جو انوکھی بات تھی۔ اس موقع پر لاہور میں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان پوسٹرز اور بینرز لگانے کے حوالے سے مقابلہ بھی ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہوا۔ یہ (غیرترقیاتی) اخراجات اگر اِن جماعتوں نے خود سے کئے ہیں تو بڑے دل گردے کی بات ہے۔ 

مذکورہ احتجاج انتہائی افسوسناک ’’سانحۂ ماڈل ٹاؤن‘‘ کے چودہ شہداء کے لئے انصاف کی پکار ہے مگر اِس سانحے پر آنسو بہانے والے برقی قمقموں اور رنگ برنگی روشنیوں جلا کر احتجاج کیوں کرتے ہیں؟ احتجاج میں موسیقی (ترانے اور نغمے) کیوں بجائے جاتے ہیں اور احتجاج کے شرکاء کا لہو گرمانے کے لئے بلند ترین آواز میں جدید ساؤنڈ سسٹم کا استعمال کیوں کیا جاتا ہے!؟

لاہور ہائی کورٹ سال دوہزارگیارہ میں شاہراۂ قائداعظم پر مفاد عامہ کے تحت جلسوں جلوسوں پر پابندی عائد کرچکی ہے لیکن اِس عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کرانے کی بجائے دوبارہ عدالت سے رجوع کیا گیا جس سے آئین و قانون پر عملداری کا تاثر پختہ نہیں ہوا‘ بلکہ ثابت ہوا ہے کہ پاکستان میں جس کی لاٹھی اُس کی بھینس ہے! پاکستان عوامی تحریک کے احتجاج میں تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی قابل ذکر اور بڑی جماعتیں شامل ہوئیں‘ اُن کے آپسی نظریات میں سیاسی یکسانیت نہیں پائی جاتی ہے۔ 

سیاست میں پیپلزپارٹی‘ تحریک انصاف اور نواز لیگ ایک دوسرے کے لئے عدم برداشت کی ایک تکون بنی ہوئی ہے اور سیاسی اختلافات ذاتیات اور دشمنی تک پہنچے ہوئے ہیں لیکن لاہور میں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف نے مل کر احتجاج میں شرکت کی‘ جبکہ عین اسی موقع پر بدین میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری‘ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو للکار رہے تھے!

پاکستان کی سیاست تضادات کا مجموعہ ہے۔ 
سیاست دان ایک دوسرے پر تنقید کرتے ہیں لیکن درپردہ اُن کے مفادات اور مقصد ’اقتدار کا حصول‘ ہے‘ جس پر اُنہیں کوئی ندامت یا شرمندگی بھی نہیں۔ کیا پاکستان کا عام آدمی (ہم عوام) خاموش تماشائی بن کر قومی وسائل کی تباہی و بربادی کا نظارہ یونہی کرتا رہے گا؟ کیا ہمیں اِس ’’طرزِ اِحتجاج‘‘ پر ’’اِحتجاج‘‘ نہیں کرنا چاہئے‘ جس سے مسائل حل نہیں بلکہ اُن کی شدت بڑھ رہی ہے۔ حب الوطنی کے تقاضے عملی اِظہار چاہتے ہیں۔ سیاسی اشرافیہ سے توقع ہے کہ پاکستان میں انصاف کی ’’بلاامتیاز‘‘ فراہمی‘ قانون کے ’’بلاامتیاز‘‘ نفاذ اور ’’بلاامتیاز‘‘ تعمیروترقی کے ذریعے ملک سنوارنے جیسے اہداف بھی پیش نظر رکھیں۔
۔

Monday, August 4, 2014

Aug2014: Human rights violation, international prospective

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
انسانی حقوق کی پائمالی: عالمی تناظر
طاقت کے نشے میں جہاں سماعت اور بصارت ساتھ دینا چھوڑ دیتی ہے‘ وہیں فہم و فراست‘ دانش یا مستقبل کے حوالے سے بصیرت بھی باقی نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان سے عراق اور فلسطین سے لیبیا و شام میں جنگ کے آلاؤ بھڑک رہے ہیں اور اگر اِن سبھی تنازعات کے محرکات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو واقعات کا تسلسل واحد عالمی طاقت امریکہ تک جا پہنچتا ہے‘ جسے صرف اور صرف اپنے مفادات سے غرض ہے لیکن یہ غرض دوسروں کے لئے کس قدر اذیت اور تکلیف کا باعث بنا ہوا ہے‘ اس پر امریکہ کی سیاسی و فوجی قیادت زیادہ غور نہیں کر رہی۔ مسلم ممالک کے سربراہوں کو مٹھی میں رکھنے اور مسلم دنیا کے وسائل پر کنٹرول حاصل کر لینے کے بعد امریکہ کی راہ میں کوئی ایسی رکاوٹ نہیں رہی‘ جو اُسے للکار سکے۔ براعظم ایشیاء میں پاؤں جمانے کے بعد امریکیوں کی نظریں افریقہ پر بھی ہیں جہاں ایک طرف توانائی جیسے وسائل کی کمی نہیں اور دوسرا وہاں سونے اور ہیرے جیسی معدنیات بھی وافر مقدار میں موجود ہیں۔

تین سے چھ اگست واشنگٹن میں امریکہ اور افریقی قائدین کا سہ روزہ سربراہ اجلاس میں پچاس سے زائد افریقی ممالک کے سربراہان کی شرکت کئی لحاظ سے غیرمعمولی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ براعظم افریقہ کے چار ممالک اریٹریا‘ زمبابوے‘ سوڈان اور جمہوریۂ وسطی افریقہ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے پیش نظر اِس اجلاس میں شرکت کے لئے دعوت نہیں دی گئی ۔اجلاس میں معاشی فروغ پاتے ہوئے افریقہ میں مواقع اور مستقبل زیرِ غور آئے گا‘ جبکہ کلیدی سوال یہ ہے کہ آیا امریکہ کس طرح افریقی ممالک سے اپنے تعلقات بہتر بنا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اجلاس کا عنوان ’اگلی نسل کے لئے سرمایہ کاری‘ رکھا گیا ہے۔ سربراہ ملاقاتوں کا مقصد مشترکہ مفادات کی نشاندہی کرنا بھی ہے اور یہ تبھی ممکن ہوگا جب یقینی طور پر افریقی نوجوانوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے قدم بڑھایا جائے‘ جن میں صحتِ عامہ‘ تعلیم اور روزگار کے مواقع میسر کرنا شامل ہوں گے۔ ایسے وقت جب جمہوریۂ وسطی افریقہ‘ سوڈان اور مشرقی و مغربی افریقی ممالک عسکریت پسندوں کی پیش قدمی کو روکنے کے لئے نبردآما ہیں‘ پہلا ہدف یہ ہوگا کہ ترقی کے حصول کے لئے درکار امن اور استحکام کو یقینی بنایا جاسکے۔ سربراہ اجلاس کے شرکاء تشدد کے خاتمے اور علاقائی اور داخلی سلامتی کو یقینی بنانے کے معاملے کو زیر بحث لائیں گے۔

براعظم افریقہ کا امن چیلنج کا درجہ رکھتا ہے جس کا عمومی طور پر ایک حصہ افریقہ کی پولیس اور فوج کا معاملہ ہے جو انتہائی پیشہ ور نہیں اور جس کے باعث‘ نامناسب اور تلخ حقیقتیں سامنے آتی ہیں۔ خصوصی طور پر جب داخلی سلامتی کے خطرات پر بات چیت ہو گی تو اس میں بے گناہ تماشائیوں کی ہلاکتیں ہونے جیسے واقعات پر بھی بات کی جائے گی۔ المیہ ہے کہ جہاں کہیں مقامی آبادی نظرانداز ہوگی‘ وہاں مزید شکایات جنم لیں گی۔ صدر اوباما اور دیگر سربراہان مملکت کے لئے یہ ایک چیلنج ہے کہ مقامی مسائل کو کس طرح علیحدہ کرکے زیر غور لایا جائے‘ پھر کہیں اِن خطرات کے بین الاقومی عناصر پر بات ہوسکتی ہے؟

اجلاس کے دوسرے روز طے ہے کہ افریقی رہنما امریکی حکومت کے عہدے داروں سے ملاقات کریں گے‘ جس میں معاشی سلامتی کا معاملہ زیر غور آئے گا۔ اِس اجلاس میں دو سو سے زائد امریکی اور افریقی کاروباری حضرات بھی شریک ہیں‘ جو تجارت اور مالی نوعیت کے تعلقات کو مضبوط کرنے کے حوالے سے معاملات زیرِ غور لائیں گے۔ افریقہ کے ساتھ امریکی تجارت کے ایک اہم حصے کا دارومدار افریقی افزائش اور مواقع کے سلسلے میں وضع کردہ قانون ہے۔ اِس امریکی قانون سازی کا مقصد ’’سب سہارا افریقہ‘‘ کی معیشتوں کی اعانت کرنا اور معاشی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ اس قانون کے تحت وہ افریقی ممالک جن کے معاشی انتظام اور انسانی حقوق کا ریکارڈ اچھا ہے‘ اُنہیں بغیر محصول ادا کیے امریکی منڈیوں تک رسائی فراہم ہوگی۔ براعظم افریقہ سے تعلق رکھنے والے ممالک تقریباً سات ہزار مصنوعات امریکہ برآمد کرتے ہیں جن کی مالیت 27 ارب ڈالر سالانہ بنتی ہے۔

ضمنی طورپر عرض ہے کہ امریکہ پر بھروسہ کرنے کے علاؤہ اگرچہ کسی دوسرے ذریعے کی کھوج نہیں لگائی گئی لیکن پاکستان کو درپیش مسائل کا حل اِسی میں ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے کو عالمی تناظر میں دیکھا جائے اور محض امریکہ کی دوستی پر اکتفا کرنے کی بجائے اپنے مفادات جس میں تجارت میں اضافہ جیسا ہدف پیش نظر رکھا جائے۔ سردست صورتحال مایوس کن ہے اور امریکہ مسلم دنیا میں پاکستان کے اثرورسوخ کو استعمال تو کرتا ہے لیکن جمہوری قدروں اور اداروں کی مضبوطی کی بجائے ایسے حکمرانوں کو مسلط رکھتا ہے‘ جن کے سامنے امانت و دیانت کے تصورات ابہام جیسے ہوں۔ امریکہ میں پاکستان کے سفارتخانے (embassyofpakistanusa.org) کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم پانچ ارب ڈالر سے کچھ زیادہ ہے جس کے حجم میں سال دوہزار دس سے تبدیلی نہیں آ رہی۔ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کی بڑی وجہ معاشی و اقتصادی مسائل ہیں‘ جن کی شدت توانائی بحران کے سبب ناقابل برداشت حدوں کو چھو رہی ہے۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر واویلا کرنے والوں کو ارض فلسطین کے مسلمان کیوں دکھائی نہیں دے رہے‘ اسرائیلی جارحیت اور بے گناہوں کا خون بہانے والوں کے اصل عزائم کیا ہیں؟ جب تک مسلم امہ محکوم ومغلوب رہے گی اور غلامی کا طوق اُتار نہیں دیتی‘ اس پر دباؤ برقرار رہے گا۔