Showing posts with label HR. Show all posts
Showing posts with label HR. Show all posts

Friday, September 4, 2015

Sep2015: Women Rights & politics in Pakistan

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
کوۂ گراں!
پاکستان تحریک انصاف تنظیم سازی اُور کارکنوں کی تربیت کے لئے دیگر سیاسی جماعتوں سے زیادہ شعوری‘ فعال اور مستعد رویئے رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ وقتاً فوقتاً کارکنوں اُور بالخصوص خواتین کے لئے ’تربیتی نشستوں‘ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ قانون ساز ایوانوں اور بلدیاتی حکومت سازی کے لئے عام انتخابات ہوں یا ضمنی انتخابی مرحلہ ہر موقع پر رہنمائی کا ناکافی ہی سہی لیکن محدود مالی وسائل میں کچھ نہ کچھ بندوبست ضرور کیا جاتا ہے۔ گھر گھر جا کر ووٹ کی اہمیت اُجاگر کرنے کے علاؤہ کسی انتخابی حلقے میں محلے‘ علاقے یا گاؤں کی سطح خواتین کو جمع کرکے اُنہیں تصاویر‘ فلمی مواد‘ چارٹ حتیٰ کہ خاکوں کے ذریعے عملی طور پر سکھایا جاتا ہے کہ وہ بہتر طرز حکمرانی کے لئے کس طرح بہتر انداز میں اپنا اپنا انفرادی کردار اَدا کر سکتی ہیں۔ اِس ’مرکزی شعبۂ تربیت‘ کی نگران (بلحاظ عہدہ سیکرٹری شعبۂ خواتین) ڈاکٹر رخشندہ پروین نے 3 ستمبر کی نصف شب کے قریب سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹ ٹوئٹر (twitter) کے ذریعے تحریک انصاف کی مرکزی قیادت سے ایک مطالبہ کیا‘ جو کئی لحاظ سے معنی خیز ہے اور بالخصوص اگر اس کا مطالعہ پاکستان میں پائی جانے والی سیاسی اقدار و روایات کی عینک لگا کر کیا جائے تو کئی ایک تلخ ضمنی معانی اخذ ہوں گے‘ جس کی گہرائی میں پاکستان میں خواتین کے حقوق‘ سیاسی جماعتوں کا خواتین سے برتاؤ‘ شرح و خواندگی میں اضافے اور ہر شعبہ زندگی میں خواتین کے فعال عملی کردار کے باوجود خواتین کی محدود معاشرتی حیثیت جیسی تلخیوں کا لاوا اُبلتا ہوا محسوس ہوتا ہے!

ایک سو چالیس حروف پر مبنی ٹوئیٹر پیغام میں ڈاکٹر رخشندہ نے لکھا ہے’’خواتین کو ’پالیسی کونسل‘ میں شامل کیا‘ کیونکہ وہ آبادی کا اہم جز ہیں‘ (سیاسی ترجیحات کے تعین اور فیصلہ سازی کے عمل میں) خواتین کی عدم موجودگی ایک ایسی کمی ہے جو دور ہونی چاہئے۔‘‘ ڈاکٹر رخشدہ (@survivorwins) کے اِس مہذب انداز میں دل ہلا دینے والے ٹوئیٹ پیغام (شکوے) کے مخاطب چیئرمین عمران خان (@ImranKhanPTI)‘ نعیم الحق (@naeemul_haque)‘ )‘ پالیسی کونسل کے سربراہ اسد عمر (@Asad_Umar)‘ منزہ حسن (@MunazaHassan) اُور شعبۂ خواتین کی سربراہ (@PTI_WW) ہیں‘ جن کی جانب سے اِس متعلق تادم تحریر (14گھنٹوں) میں کوئی جواب یا وضاحت دینا ’ضروری نہیں سمجھا گیا‘ اُور لاتعلقی پر مبنی اِس قسم کا رویہ اپنی جگہ تشویشناک بھی ہے اور معاملات کی زیادہ سنگین نوعیت میں خرابیوں کی جانب اشارہ بھی کر رہا ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت کو پاکستان کی سیاسی تاریخ کا یہ سبق فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ جس کسی نے مخلص سیاسی کارکنوں کو خاطرخواہ اہمیت نہ دیتے ہوئے اُن کی رائے پر دھیان نہیں دیا‘ تو اُس نے درحقیقت (نادانستہ یا دانستہ طور پر) کسی اُور کا نہیں بلکہ صرف اپنا ہی نقصان کیا! یقیناًچیئرمین عمران خان نے کبھی بھی نہیں کہا ہوگا کہ سرمایہ داروں‘ جاگیرداروں اور عالمی اداروں کے مشیروں کو ’پالیسی کونسل‘ کا حصہ بنایا جائے لیکن اُن کے اردگرد ایسے لوگوں کی کمی نہیں جن کی’ذاتی ترجیحات‘ تحریک انصاف کی تنظیمی مضبوطی و مقبولیت میں کی بجائے اسے کمزور کر رہی ہے!

معروف سماجی و سیاسی کارکن‘ مصنف‘ انسانی حقوق کی علمبردار اور ٹیلی ویژن پر سیاسی و معاشرتی اِصلاح کے حوالے سے بحث و مباحثوں (ٹاک شوز) کی میزبانی کے علاؤہ ٹیلی ویژن پروڈکشن کے اسرارورموز سے آگاہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹر رخشندہ پروین کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں۔ پاکستان کے بارے میں اُن کی رائے کو عالمی سطح پر توجہ سے سنا جاتا ہے۔ جدید علوم کی روشنی میں اسلامی تعلیمات کا احاطہ اور اسلام کے عالمگیر پیغام پر اُن کے خیالات اولیائے کرام کی فکری تحریک سے اخذ ہیں‘ وہ تیرہویں صدی کے فارسی صوفی شاعر (مولوی) جلال الدین محمد رومی (1207ء تا 1273ء) کے فلسفیانہ نظریات سے ملنے والی توانائی کو تقسیم کرنے میں بخیل نہیں اُور سب سے بڑھ کر جدید ترقی یافتہ دنیا کے ارتقائی علمی و فکری نظریات کو سمجھتے ہوئے اپنی اقدار سے جڑی ہوئی ہیں۔ تربیتی نشستوں کے دوران جہاں کہیں بھی اُن سے علم حاصل کرنے کا موقع ملا‘ تو انہوں نے کبھی بھی سیاست اور جنگ میں سب کچھ جائز ہونے کی حمایت نہیں کی بلکہ وہ ہمیشہ اخلاقی اقدار‘ قوانین وقواعد کی پابندی اور صداقت پر مبنی کردار و عمل اختیار کرنے کی حمایت اور وکالت کرتی دکھائی دیں۔ ڈاکٹر رخشندہ پروین نے دیگر معروف خواتین سماجی کارکنوں عارفہ مظہر‘ عاصمہ راجوائی‘ ادیبہ امیرالدین اُور رابعہ حیدر کے ہمراہ ’9 اگست 2012ء‘ کے روز ’پاکستان تحریک انصاف‘ میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان ایک ایسی پریس کانفرنس میں کیا تھا‘ جس میں تحریک انصاف کی رہنما فوزیہ قصوری بھی موجود تھیں اور یہ پریس کانفرنس اُس وقت سانحہ مظفرگڑھ کے حوالے سے طلب کی گئی تھی‘ جس کی مذمت کرتے ہوئے فوزیہ قصوری نے کہا تھا کہ ’’پاکستان میں بالخصوص اور صوبہ پنجاب میں بالعموم خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے اور خود کو ’خادم اعلیٰ‘ کہنے والے وزیراعلیٰ شہباز شریف خواتین کے بنیادی حقوق پر وار کرنے والوں سے قانون کے مطابق خاطرخواہ سختی نہیں کرتے۔‘‘ لیکن افسوس کہ خواتین کے حقوق اور انہیں معاشرے میں جائز مقام دلانے کی جدوجہد کرنے والی جن سماجی کارکنوں نے تحریک انصاف میں جوش و جذبے اور خوشی خوشی شمولیت اختیار کی‘ اُن میں سے ایک نے کھلم کھلا سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹ پر ایک ایسا اختلافی نوٹ لکھ چھوڑا ہے‘ جس کا دھبہ تحریک انصاف کی قیادت چاہنے کے باوجود بھی کبھی نہیں دھو سکے گی۔

محض 3سال 25 دن کے سیاسی سفر میں ڈاکٹر رخشندہ پر یہ حقیقت آشکارہ ہوگئی کہ جہاں بات خواتین کے حقوق کی ہوتی ہے وہاں ملک کی سبھی چھوٹی بڑی سیاسی جماعتیں ایک جیسا رویہ اُور مزاج رکھتی ہیں۔ 1120 دنوں کے سیاسی سفر میں ڈاکٹر رخشندہ کو اگر تھکاوٹ کا احساس ہو رہا ہے اور اگر انہیں خواتین کے حقوق حاصل کرنا ’کوہ گراں‘ معلوم ہو رہا ہے تو یہ کسی بھی صورت نہ تو تعمیری ہے اور نہ ہی پاکستان کے سیاسی مستقبل کے لئے یہ بات خوش آئند قرار دی جاسکتی ہے کہ قیادت کرنے والی خواتین بھی خود کو ’محروم‘ اُور ’نظرانداز‘ محسوس کرنے لگیں! کہیں یہ وقت وہ تو نہیں جب ملک کی اکیاون فیصد آبادی ایک الگ سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے اپنے حقوق کے حصول کے لئے جدوجہد کا آغاز کرے۔ خواتین کو قانون ساز ایوانوں میں غلامانہ نمائندگی دینا نہ تو آبادی کے تناسب سے کافی ہے اور نہ ہی سیاسی جماعتوں کی منظور نظر‘ سرمایہ دار گھرانوں سے تعلق رکھنے والی بیگمات کو اسمبلیوں کی رکنیت بانٹنے سے اکثریتی آبادی کی نمائندگی ہو پائی ہے یقیناًتحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے ڈاکٹر رخشندہ پروین کو مایوس کیا ہے اور کم از کم اِس مایوسی کی توقع ’(معاشی و اقتصادی) اِنصاف‘ (سیاسی) اِنصاف‘ (سماجی) اِنصاف‘ (آئینی) اِنصاف‘ (انتخابی) انصاف اُور (صنفی)اِنصاف‘ جیسی گردان کرنے والی جماعت سے نہیں تھی!

Monday, August 4, 2014

Aug2014: Human rights violation, international prospective

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
انسانی حقوق کی پائمالی: عالمی تناظر
طاقت کے نشے میں جہاں سماعت اور بصارت ساتھ دینا چھوڑ دیتی ہے‘ وہیں فہم و فراست‘ دانش یا مستقبل کے حوالے سے بصیرت بھی باقی نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان سے عراق اور فلسطین سے لیبیا و شام میں جنگ کے آلاؤ بھڑک رہے ہیں اور اگر اِن سبھی تنازعات کے محرکات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو واقعات کا تسلسل واحد عالمی طاقت امریکہ تک جا پہنچتا ہے‘ جسے صرف اور صرف اپنے مفادات سے غرض ہے لیکن یہ غرض دوسروں کے لئے کس قدر اذیت اور تکلیف کا باعث بنا ہوا ہے‘ اس پر امریکہ کی سیاسی و فوجی قیادت زیادہ غور نہیں کر رہی۔ مسلم ممالک کے سربراہوں کو مٹھی میں رکھنے اور مسلم دنیا کے وسائل پر کنٹرول حاصل کر لینے کے بعد امریکہ کی راہ میں کوئی ایسی رکاوٹ نہیں رہی‘ جو اُسے للکار سکے۔ براعظم ایشیاء میں پاؤں جمانے کے بعد امریکیوں کی نظریں افریقہ پر بھی ہیں جہاں ایک طرف توانائی جیسے وسائل کی کمی نہیں اور دوسرا وہاں سونے اور ہیرے جیسی معدنیات بھی وافر مقدار میں موجود ہیں۔

تین سے چھ اگست واشنگٹن میں امریکہ اور افریقی قائدین کا سہ روزہ سربراہ اجلاس میں پچاس سے زائد افریقی ممالک کے سربراہان کی شرکت کئی لحاظ سے غیرمعمولی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ براعظم افریقہ کے چار ممالک اریٹریا‘ زمبابوے‘ سوڈان اور جمہوریۂ وسطی افریقہ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے پیش نظر اِس اجلاس میں شرکت کے لئے دعوت نہیں دی گئی ۔اجلاس میں معاشی فروغ پاتے ہوئے افریقہ میں مواقع اور مستقبل زیرِ غور آئے گا‘ جبکہ کلیدی سوال یہ ہے کہ آیا امریکہ کس طرح افریقی ممالک سے اپنے تعلقات بہتر بنا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اجلاس کا عنوان ’اگلی نسل کے لئے سرمایہ کاری‘ رکھا گیا ہے۔ سربراہ ملاقاتوں کا مقصد مشترکہ مفادات کی نشاندہی کرنا بھی ہے اور یہ تبھی ممکن ہوگا جب یقینی طور پر افریقی نوجوانوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے قدم بڑھایا جائے‘ جن میں صحتِ عامہ‘ تعلیم اور روزگار کے مواقع میسر کرنا شامل ہوں گے۔ ایسے وقت جب جمہوریۂ وسطی افریقہ‘ سوڈان اور مشرقی و مغربی افریقی ممالک عسکریت پسندوں کی پیش قدمی کو روکنے کے لئے نبردآما ہیں‘ پہلا ہدف یہ ہوگا کہ ترقی کے حصول کے لئے درکار امن اور استحکام کو یقینی بنایا جاسکے۔ سربراہ اجلاس کے شرکاء تشدد کے خاتمے اور علاقائی اور داخلی سلامتی کو یقینی بنانے کے معاملے کو زیر بحث لائیں گے۔

براعظم افریقہ کا امن چیلنج کا درجہ رکھتا ہے جس کا عمومی طور پر ایک حصہ افریقہ کی پولیس اور فوج کا معاملہ ہے جو انتہائی پیشہ ور نہیں اور جس کے باعث‘ نامناسب اور تلخ حقیقتیں سامنے آتی ہیں۔ خصوصی طور پر جب داخلی سلامتی کے خطرات پر بات چیت ہو گی تو اس میں بے گناہ تماشائیوں کی ہلاکتیں ہونے جیسے واقعات پر بھی بات کی جائے گی۔ المیہ ہے کہ جہاں کہیں مقامی آبادی نظرانداز ہوگی‘ وہاں مزید شکایات جنم لیں گی۔ صدر اوباما اور دیگر سربراہان مملکت کے لئے یہ ایک چیلنج ہے کہ مقامی مسائل کو کس طرح علیحدہ کرکے زیر غور لایا جائے‘ پھر کہیں اِن خطرات کے بین الاقومی عناصر پر بات ہوسکتی ہے؟

اجلاس کے دوسرے روز طے ہے کہ افریقی رہنما امریکی حکومت کے عہدے داروں سے ملاقات کریں گے‘ جس میں معاشی سلامتی کا معاملہ زیر غور آئے گا۔ اِس اجلاس میں دو سو سے زائد امریکی اور افریقی کاروباری حضرات بھی شریک ہیں‘ جو تجارت اور مالی نوعیت کے تعلقات کو مضبوط کرنے کے حوالے سے معاملات زیرِ غور لائیں گے۔ افریقہ کے ساتھ امریکی تجارت کے ایک اہم حصے کا دارومدار افریقی افزائش اور مواقع کے سلسلے میں وضع کردہ قانون ہے۔ اِس امریکی قانون سازی کا مقصد ’’سب سہارا افریقہ‘‘ کی معیشتوں کی اعانت کرنا اور معاشی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ اس قانون کے تحت وہ افریقی ممالک جن کے معاشی انتظام اور انسانی حقوق کا ریکارڈ اچھا ہے‘ اُنہیں بغیر محصول ادا کیے امریکی منڈیوں تک رسائی فراہم ہوگی۔ براعظم افریقہ سے تعلق رکھنے والے ممالک تقریباً سات ہزار مصنوعات امریکہ برآمد کرتے ہیں جن کی مالیت 27 ارب ڈالر سالانہ بنتی ہے۔

ضمنی طورپر عرض ہے کہ امریکہ پر بھروسہ کرنے کے علاؤہ اگرچہ کسی دوسرے ذریعے کی کھوج نہیں لگائی گئی لیکن پاکستان کو درپیش مسائل کا حل اِسی میں ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے کو عالمی تناظر میں دیکھا جائے اور محض امریکہ کی دوستی پر اکتفا کرنے کی بجائے اپنے مفادات جس میں تجارت میں اضافہ جیسا ہدف پیش نظر رکھا جائے۔ سردست صورتحال مایوس کن ہے اور امریکہ مسلم دنیا میں پاکستان کے اثرورسوخ کو استعمال تو کرتا ہے لیکن جمہوری قدروں اور اداروں کی مضبوطی کی بجائے ایسے حکمرانوں کو مسلط رکھتا ہے‘ جن کے سامنے امانت و دیانت کے تصورات ابہام جیسے ہوں۔ امریکہ میں پاکستان کے سفارتخانے (embassyofpakistanusa.org) کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم پانچ ارب ڈالر سے کچھ زیادہ ہے جس کے حجم میں سال دوہزار دس سے تبدیلی نہیں آ رہی۔ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کی بڑی وجہ معاشی و اقتصادی مسائل ہیں‘ جن کی شدت توانائی بحران کے سبب ناقابل برداشت حدوں کو چھو رہی ہے۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر واویلا کرنے والوں کو ارض فلسطین کے مسلمان کیوں دکھائی نہیں دے رہے‘ اسرائیلی جارحیت اور بے گناہوں کا خون بہانے والوں کے اصل عزائم کیا ہیں؟ جب تک مسلم امہ محکوم ومغلوب رہے گی اور غلامی کا طوق اُتار نہیں دیتی‘ اس پر دباؤ برقرار رہے گا۔