Showing posts with label Yemen. Show all posts
Showing posts with label Yemen. Show all posts

Monday, April 20, 2015

TRANSLATION Turning crisis into oppourtunity

Turning crisis into opportunity
بحران کا حل
سعودی عرب اور اُس کے ہمسایہ ملک یمن کے درمیان جاری تنازعہ میں فریق نہ بننے اور اِس پورے معاملے میں غیرجانبدار رہنے کا فیصلہ حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے اکثریت رائے سے کیا لیکن سعودی عرب اور اُس کے اتحادی عرب ممالک نے پاکستان کی سلامتی کو داخلی سطح پر لاحق خطرات اور چیلنجز کا ادارک نہ کرتے ہوئے اِس غیرمتوقع فیصلے کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا۔ یقیناًدوست تو وہی ہوتا ہے جو آپ کی درون خانہ حالت سے واقف ہو اور آپ سے کسی ایسی چیز یا اقدام کا مطالبہ یا توقع نہ رکھے‘ جسے سرانجام دینا آپ کے لئے کلی طور پر یا سردست ممکن نہیں ہوتا۔ جب پاکستان کی جانب سے یمن تنازعہ میں غیرجانبدار رہنے کا فیصلہ سامنے آیا تو متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ نے کہا ’’پاکستان کو اِس فیصلے کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی!‘‘ جس کاجواب دیتے ہوئے پاکستان کے وزیرداخلہ نے متحدہ عرب امارات کو یاد دلایاکہ ’’پاکستان ایک باعزت قوم کا نام ہے اور ایسا بیان پاکستانی قوم کو دھمکی دینے کے مترادف ہے۔‘‘

پاکستان کی قانون ساز قومی اسمبلی نے کئی دن تک بحث و مباحثے کے بعد فیصلہ کیا لیکن سعودی عرب کی قیادت میں عرب ممالک کے اتحاد کے لئے پاکستان کا یہ فیصلہ ’خطرناک‘ بھی تھا اور اِسے ’غیرمتوقع‘ بھی قرار دیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کی قیادت میں عرب ممالک کا اتحاد ایک ایسے جال میں پھنس گئے ہیں جو ایک دوسرے سے کئے گئے وعدوں سے بُنا ہوا ہے اور دونوں ہی فریق حالات کا اپنے اپنے نکتۂ نظر سے جائزہ لے رہے ہیں اور ایک دوسرے سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ تو پاکستان کے حق میں ہے اور نہ ہی اِسے سعودی عرب سمیت اُس کے اتحادی ممالک کے مفاد میں قرار دیا جاسکتا ہے۔ مختلف النظریات دونوں فریقین کو چاہئے کہ وہ ایک دوسرے کی پوزیشن کا ادراک کریں‘ اسے سمجھیں اور ایک دوسرے وابستہ توقعات کو اُس انتہا تک نہ لے جائیں جہاں فاصلے پیدا ہونے لگیں اور ایک دوسرے پر اعتماد کم ہوتا محسوس ہو۔ اس میں شک و شبہ نہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب ایک دوسرے دیرینہ دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں اور سعودی عرب نے کئی ایک مشکل مواقعوں پر پاکستان کی مدد کی ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ پاکستان داخلی طور پر ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہے جس میں کامیابی اُس کے لئے انتہائی ضروری ہے۔

سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک جذباتی‘ اپنے مفاد کے اسیر اور حالات کی نزاکت کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اُنہیں پاکستان سے جو توقعات اور امیدیں وابستہ تھیں وہ چونکہ پوری نہیں کی گئیں اِس لئے وہ نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوگئے۔ اُنہیں پاکستان اور ہمارے ہمسایہ ایران کے ساتھ تعلقات کی نزاکت و اہمیت اور اِس سے جڑے تقاضوں کا بھی ادراک کرنا چاہئے۔ یہ موقع پاکستان کے سفارتکاروں کو اپنی غیرمعمولی کارکردگی دکھانے کا ہے کہ وہ عرب دنیا میں پاکستان کے خلاف پائے جانے والے غصے کو غم کریں اور اُس حقیقت کا پرچار کریں جس کی وجہ سے پاکستان نے ’یمن تنازعہ‘ میں فریق کی بجائے اِس سے ’غیرجانبدار‘ رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ موجودہ صورتحال میں دو خطرات ظاہر ہوئے ہیں ایک تو ہمارے انکار سے سعودی عرب کے حکمران خود کو خطرے میں محسوس کر رہے ہیں اور دوسرا جمہوری اسلامی ایران کی خطے میں پوزیشن مستحکم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستانی سفارتکاروں کو عرب حکمرانوں اور عرب دنیا کو یہ باور کرانا ہوگا کہ پاکستان کے لئے سعودی عرب اور ایران دونوں کی اہمیت ایک جیسی ہے اور پاکستان کسی کی بھی حمایت یا مخالفت نہیں کررہا۔

امریکہ اور فلپائن کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ ہو چکا ہے جس کے تحت اگر کوئی ملک فلپائن یا امریکہ پر حملہ آور ہوگا تو دونوں ممالک اپنی اپنی افواج ایک دوسرے کے دفاع کے لئے استعمال کریں گے۔ ایسا ہی ایک معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے لئے درمیان بھی ہونا چاہئے لیکن کیا یمن نے سعودی عرب پر حملہ کیا ہے؟
پاکستان اگر سعودی عرب سے ایسا کوئی مشترکہ دفاع کا معاہدہ کرتا ہے تو اس کے عوض اسے اقتصادی فوائد حاصل کرنا چاہیءں۔ مثال کے طورپر قرض پر تیل حاصل کیا جائے‘ پاکستان میں بنی ہوئی مصنوعات کی عرب ممالک کی منڈیوں تک رسائی میں اضافہ کیا جائے۔ پاکستان کی افرادی قوت کو دیگر ممالک کے زیادہ عرب ممالک میں ملازمتوں کے مواقع دیئے جائیں اور تیل و گیس مارکیٹ کے نرخ سے کم قیمت پر حاصل کئے جائیں۔ جس طرح سعودی عرب کو اپنا دفاع عزیز ہے پاکستان کے حکمرانوں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے مضبوط دفاع اور تربیت یافتہ فوجی قوت کا استعمال کرکے ملک کو درپیش توانائی بحران کا حل اور اقتصادی مشکلات کم کرنے کو پیش نظر رکھیں اور اسے اپنی ترجیح بنا کر ایک ایسی صورتحال سے کچھ نہ کچھ حاصل کرنے کی کوشش کریں جو بظاہر پاکستان کے حق میں نہیں۔

(بشکریہ: دِی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ:شبیر حسین اِمام)
Turning crisis into opportunity

Tuesday, April 14, 2015

Apr2015: TRANSLATION How Pakistan should respond

How Pakistan should respond
پاکستان کا ردعمل؟
اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ پاکستان ایک غلط وقت میں غلط مقام پر کھڑا ہے‘ جہاں اُسے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ عرب ممالک کے اُس عسکری اتحاد کا حصہ بنے یا اِس سے الگ رہے اور چونکہ پاکستان نے غیرجانبدار رہنے کا اصولی فیصلہ جمہوری انداز میں کر لیا ہے تو اس کے منفی اثرات یہ مرتب ہوسکتے ہیں کہ اہم اتحادی عرب ممالک کی حمایت اور مشکل کی کسی گھڑی میں اُن کا تعاون ہمارے شامل حال نہ ہو۔ درحقیقت چند عرب ممالک کی جانب سے یمن کی داخلی صورتحال میں فریق بننے کا فیصلہ ہی غلطی پر مبنی تھا اور پھر وہ یہ خواہش کرنے لگے کہ پاکستان بھی اُن کی غلطی میں حصہ دار بن جائے۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اور عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب کے دیرینہ تعلقات رہے ہیں اور پاکستان اِن تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اہمیت بھی دیتا ہے لیکن اِس دلی و مذہبی لگاؤ کا یہ مطلب ہرگز نہیں بنتا کہ اگر کوئی عرب ملک غلطی کرے گا تو پاکستان بھی اُس کی تائید و حمایت کرنے اندھوں جیسی تقلید کرنے لگے گا۔ عرب ممالک کو پاکستان کے داخلی حالات کا ادراک کرنا چاہئے۔ دوست وہ ہوتا ہے جو اپنے دوست کی مجبوریوں کو سمجھے۔ پاکستان داخلی طورپر بیک وقت ایک سے زیادہ فوجی کاروائیاں کر رہا ہے جیسا کہ آپریشن ضرب عضب اور آپریشن خیبرٹو سے ہم سب واقف ہیں لیکن اِن کاروائیوں کا دائرہ صرف قبائلی علاقوں ہی تک محدود نہیں بلکہ ملک گیر سطح پر خوف و دہشت کی علامت بننے والوں کے خلاف بھرپور کاروائی جاری ہے‘ جس میں پاک فوج کو یکسوئی اور مزید وسائل کی بھی ضرورت ہے کیونکہ دشمن اِس حد تک معاشرے میں سرایت کر چکا ہے کہ ایک تو اُس کی ظاہری وفوری شناخت ممکن نہیں اور دوسرا وہ گوریلا طرز جنگ اختیار کئے ہوئے ہے‘ جس کا مقابلہ کرتے ہوئے اگر فوج احتیاط سے کام نہیں لیتی تو اندیشہ ہے کہ بے گناہ افراد اِس کی زد میں آ جائیں گے۔ پھر قومی سطح پر دہشت گردی کے خلاف ایک ’ایکشن پلان‘ کی بھی منظوری دی جاچکی ہے‘ جسے مکمل کرنا بھی فوج ہی کی ذمہ داریوں کا حصہ ہے اب اگر کسی ملک کی فوج ایک سے زیادہ داخلی محاذوں پر مصروف ہو اور اُسے اپنی افرادی قوت اُور وسائل میں اضافے پر بھی توجہ دینی ہو‘ تو یہ بات ناممکن حد تک دشوار ہو سکتی ہے کہ وہ کسی تیسرے اور بیرون ملک محاذ کی جانب پیشقدمی کرنا شروع کردے۔ پاکستان کی فوجی و سیاسی قیادت کے لئے یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ اس کی پہلی‘ دوسری اور تیسری ترجیح پاکستان ہی ہونی چاہئے۔

عرب ممالک یمن کے تنازعہ کو مختلف نظر سے دیکھ رہے ہیں اور پاکستان کی دفاعی اور سیاسی قیادت اِس مسئلے کو الگ زوایئے سے دیکھ رہی ہے۔ پاکستان کا نکتۂ نظر یہ ہے کہ یمن کی داخلی صورتحال سے سعودی عرب میں مقامات مقدسہ سمیت وہاں کے شاہی خاندان کی حکومت کو بھی کوئی خطرہ نہیں۔ پاکستان سمیت کئی مسلمان ممالک یہ بھی سمجھتے ہیں کہ یمن کا تنازعہ شیعہ سنی نہیں بلکہ یہ خالصتاً دو گروہوں کے درمیان خانہ جنگی ہے‘ جو کلمہ گو مسلمان ہیں اور عرب ممالک کو اُمت کے درمیان اختلاف ختم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ناکہ اُس آگ کو بھڑکایا جائے جو محض اقتدار و اختیارات پر دسترس حاصل کرنے کے لئے لگائی گئی ہے اگر مسلمان ممالک اسی طرح داخلی طورپر کمزور ہوتے رہے اور اُن کے ہمسایہ ممالک بالخصوص مسلم امہ کی قیادت کا زعم رکھنے والے عرب حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ بڑے بھائی جیسا کردار اَدا کریں اور اپنا اثرورسوخ یا رعب و دبدبے کا اِستعمال کرتے ہوئے متحارب گروہوں کو ایک دوسرے سے بات چیت پر آمادہ کریں اور تنازعات باہم مل بیٹھ کر حل کریں تاکہ مسلم دنیا کے بارے میں اِس منفی تاثر کی نفی ہو سکے کہ یہ لوگ برداشت نہیں رکھتے حالانکہ اسلام کا لغوی مطلب ہی سلامتی اور امن سے ماخوذ ہے۔ ہمیں اپنوں اور غیروں پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اسلام کے ماننے والے امن پسند ہیں‘ وہ دوسروں کی جان ومال کے تحفظ کو فرض عین سمجھتے ہیں اور کسی ایک انسان کا قتل اُن کے نزدیک پوری انسانیت کے قتل کے مترادف فعل ہے۔

اصولی طور پر پاکستان کو اپنی معیشت و اقتصادیات کو مضبوط بنانے پر توجہ دینی چاہئے تاکہ وہ دوسروں کی مالی مدد اور معاونت پر انحصار ہی نہ کرے۔ یہ عمل اگر فوری طورپر ممکن نہیں تو ہمارے حکمرانوں کو چاہئے کہ اِس ہدف کو بتدریج حاصل کریں کیونکہ جب تک ہمارے ہاتھ میں کشکول رہے گا‘ ہم دوسروں کی خواہشات کے سامنے نہ صرف ہتھیار ڈالتے رہیں گے بلکہ اپنے ملکی وسائل کی ترقی اور ضروریات کے لئے بھی دوسروں کی منظوری کے محتاج بنے رہیں گے جیسا کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ ہے‘ جو سالہا سال سے التوأ کا شکار ہے کیونکہ مبینہ طور پر امریکہ نہیں چاہتا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان قربت و معاشی و اقتصادی تعلقات میں اضافہ ہو۔ اِس مرحلے پر پاکستان یہ بھی کر سکتا ہے کہ عرب ممالک کی تنظیم سے اپنے تعلقات بہتر بنائے۔ پاکستان اِس پوزیشن میں ہے کہ وہ عرب ممالک اور یمن کی متحارب قیادت کے درمیان اختلافات بذریعہ بات چیت ختم کرا سکتا ہے۔ دوسرا پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کے خدوخال ازسرنو تشکیل دے سکتا ہے بالخصوص عرب ممالک اور مشرق وسطی کے حالات کے تناظر میں بھی خارجہ پالیسی واضح ہونی چاہئے جسے دیکھتے ہوئے دوست و دشمن ممالک پاکستان سے کسی بھی بات کا مطالبہ کرنے سے پہلے جان لیں کہ ہماری سوچ کیا ہے اور ہم کس حد تک تعاون کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تیسرا وزیر اعظم ملک کی اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو طلب کر کے سنجیدہ اور جامع بات چیت کرسکتے ہیں تاکہ پاکستان کو آمدن کے پائیدار اور مستقل وسائل میں اضافہ کیا جاسکے۔ یہ کام سال 2019 ء یا 2024ء میں بننے والی جمہوری حکومتوں کے لئے نہیں چھوڑنا چاہئے بلکہ یہ انتہائی اہم ہے اور اِسے آج کے آج ہی ہوناچاہئے۔
پاکستان کا بجٹ آئندہ دو ماہ میں متوقع ہے اور اس کا بیشتر حصہ تو تیار بھی ہوچکا ہے۔ ہماری افسرشاہی اِس بات کی ماہر ہے کہ وہ غیرترقیاتی اخراجات کی روایت کو برقرار رکھے جبکہ پاکستان کی ضرورت ہر ایک پائی کا دانشمندانہ استعمال ہے۔ اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے کی ضرورت ہے اور بیرونی امداد پر کم سے کم انحصار کرتے ہوئے قرضہ جات کی ادائیگی کے لئے مالی وسائل مختص کرنا ہوں گے۔ چوتھا اقدام یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ پاکستان عرب دنیا میں اپنی ساکھ اور اہمیت بڑھانے کے لئے سفارتکاری میں سرمایہ کاری کرے۔

 پاکستان کو قائم ہوئے 70 برس ہونے لگے ہیں اور اب تک ہمیں عرب ممالک کی تجارتی و افرادی قوت کی منڈیوں میں حسب ضرورت یا خاطرخواہ مقام نہیں مل سکا۔ پانچویں ضرورت ایران کے ساتھ تعلقات میں گرمجوشی لانی ہے۔ اِس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ ہم ایران کے انتہائی قریب چلے جائیں یا اُس کی ہر بات کی تائید کرنا شروع کردیں بلکہ ایران میں موجود توانائی کے وسائل سے استفادہ کرکے پاکستان توانائی بحران سے نکل بھی سکتا ہے اور اپنے توانائی کے وسائل کو ترقی بھی دے سکتا ہے جو اِس بحران کا ایک پائیدار حل ثابت ہوگا۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ پاکستان کا وسیع تر مفاد دوسروں کو سمجھانے کی بجائے ہمارے حکمران اور فیصلہ ساز اِس حقیقت کا ادراک کریں کہ پاکستان کی بقاء داخلی امن و سلامتی سے جڑی ہے۔ ہمارا استحکام اور بحرانوں سے نجات صرف اور صرف قیام امن کی محتاج ہے‘ جس کے لئے جاری جدوجہد ایک فیصلہ کن اور نازک مراحل سے گزر رہی ہے اور اِس وقت اگر توجہ کسی دوسری طرف مبذول کی گئی تو اِس سے انتشار بڑھے گا‘ بحرانوں کی شدت میں اضافہ ہوگا اور ملک میں پہلے ہی سے بلند سطحوں کو چھونے والی بیروزگاری‘ غربت و افلاس اور اقتصادی پیداواری سرگرمیوں میں کمی آئے گی۔ ہمیں جوش کی نہیں ہوش سے کام لینے کی ضرورت‘ کل سے زیادہ آج ہے!

 (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: مشرف زیدی۔ ترجمہ: شبیر حسین اِمام)
How Pakistan should respond