Showing posts with label Medical Education. Show all posts
Showing posts with label Medical Education. Show all posts

Friday, December 10, 2021

Price tag & Medical Education in Khyber Pukhtunkhwa

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

طب کی تعلیم: پریشانیاں مقدر کیوں؟

خیبرپختونخوا کے سرکاری میڈیکل و ڈینٹل کالجوں کی شرح فیس میں اضافے پر والدین اُور نئے تعلیمی سال (دوہزاربائیس میں) داخلوں کے خواہشمند طلبہ پریشان ہیں‘ جن کے لئے فیسوں میں اِس اچانک اضافے کا فیصلہ غیرمنطقی اُور ناقابل یقین ہے۔ ایک نکتہ نظر یہ بھی ہے کہ اگر طب (میڈیکل و ڈینٹل) کی تعلیم مہنگی کی جائے گی تو پاکستان کی آبادی کے تناسب سے درکار ڈاکٹروں کی کمی کیسے پوری ہوگی؟ یہ بالکل ویسی ہی صورتحال ہے کہ قومی فیصلہ ساز پاکستان کو ”ایک زرعی ملک“ تو قرار دیتے ہیں لیکن بنیادی ضروریات کی زرعی اجناس جیسا کہ ٹماٹر‘ پیاز‘ لہسن‘ ادرک‘ آلو‘ دالیں اُور خشک چائے کی پتی درآمد کی جاتی ہے تو کیا پاکستان کے فیصلہ سازوں نے بھی تیاری کر رکھی ہے کہ ملک میں ڈاکٹروں کی مقامی تیاری کے عمل کو مہنگا کر دیا جائے تاکہ ذہانت و اہلیت کے باوجود متوسط اُور غریب طبقات سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر نہ بن سکیں اُور دوسرا ڈاکٹروں کی کمی سرمایہ دار عرب خلیجی و یورپی ممالک کی طرح افرادی قوت کو درآمد کرنے سے پوری کی جائے؟ ذہن نشین رہے کہ پاکستان میں ہر ایک ہزار لوگوں کے لئے 0.473 ڈاکٹر دستیاب ہیں جبکہ عالمی معیار کے مطابق آبادی کے تناسب سے اگر ڈاکٹروں کی تعداد پوری نہ بھی کی جائے تب بھی پاکستان کو قریب ساٹھ ہزار ڈاکٹروں کی کمی کا سامنا ہے۔ ڈاکٹروں کی یہ کمی اِس لئے بھی ہے کہ طب کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹروں کے لئے سرکاری ملازمتیں اُور طب ہی کے شعبے میں مزید تربیت کے مواقع خاطرخواہ دستیاب نہیں ہیں‘ جن کی وجہ سے ذہین اُور تعلیم یافتہ نوجوان بہتر تعلیمی و معاشی مستقبل کے لئے بیرون ملک موجود مواقعوں سے استفادہ کرتے ہیں۔ اصطلاحی طور پر اِسے ’برین ڈرین (ذہانت کی نقل مکانی)‘ قرار دیا جاتا ہے اُور ترقی پذیر ممالک اگر اپنے ہاں علاج معالجے کی خاطرخواہ سہولیات کی فراہمی نہیں کر پا رہیں تو اِس کی ایک وجہ یہی ’برین ڈرین‘ بھی ہے! دوسرا لائق توجہ پہلو یہ ہے کہ جب پاکستان میں طب کی تعلیم کو مہنگا اُور اِس تعلیم کی سرکاری سرپرستی میں کمی کی جائے گی تو طلبہ کی بڑی تعداد خطے بیرون ملک طب کی تعلیم حاصل کرنے جائیں گے‘ جہاں پاکستان کے مقابلے مالی لاگت کم اُور معیار تعلیم بہتر ہے اُور یوں پاکستان سے قیمتی زرمبادلہ بیرون ملک بالخصوص وسط ایشیائی ریاستوں‘ ترکی‘ یورپی ممالک اُور چین منتقل ہو جائے گا اُور یہ سلسلہ فی الوقت بھی جاری ہے۔

سرکاری تعلیمی اداروں میں داخلے کے خواہشمند اُور زیرتعلیم والدین کی جانب سے صحافیوں کو ارسال کئے جانے والے برقی مکتوبات (اِی میلز) میں اِس جانب توجہ دلائی گئی ہے کہ ”خیبرپختونخوا کے سرکاری میڈیکل و ڈینٹل کالجوں کی شرح فیس نجی کالجوں کے قریب لانے سے طلبہ کی ایک تعداد اہلیت کے باوجود بھی تعلیم حاصل نہیں کر سکیں گے اُور ایک تعداد مالی سکت نہ ہونے کے باعث داخلوں سے محروم رہ جائے گی۔ پریشانی اُن ملازمت پیشہ یا ریٹائرڈ والدین کو بھی ہے جن کے بچے سرکاری اداروں سے استفادہ کر رہے ہیں لیکن فیسوں میں اچانک سو گنا سے زائد اضافے نے اُنہیں پریشان کر رکھا ہے کہ مہنگائی و معاشی سست روی کے سبب آمدنی کے محدود ہوتے وسائل میں اضافی فیس کی ادائیگی کا فوری بندوبست کہاں سے کریں گے!“ ذہن نشین رہے کہ طب کی سرکاری کالجوں کی فیسوں میں اضافے اُور داخلہ قواعد میں تبدیلی کی منظوری ”صوبائی داخلہ کمیٹی“ کے اجلاس (پانچ نومبر دوہزاراکیس) میں دیا گیا جس کی صدارت صوبائی وزیرصحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے کی جبکہ دیگر شرکا میں سیکرٹری ہیلتھ طاہر اورکزئی‘ چیئرمین کمیٹی و وائس چانسلر خیبرمیڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ضیا الحق‘ رجسٹرار سلیم گنڈاپور‘ کنونیئر خیبرمیڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر جواد اُور کمیٹی کے سیکرٹری و ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمشنز ارشد خان شامل تھے۔ مذکورہ اجلاس کی تفصیلات (منٹس آف میٹنگ) کی نقول بھی والدین کی جانب سے صحافیوں کو ارسال کی گئی ہیں جن کے مطابق ”مذکورہ نشست میں وائس چانسلر خیبر میڈیکل یونیورسٹی نے قبل ازیں کمیٹی اجلاس (24 ستمبر 2021ئ) کے فیصلوں سے اجلاس کو آگاہ کرتے ہوئے نئی داخلہ حکمت ِعملی (ایڈمشن پالیسی 2021-22ء) پیش کی جس سے صوبائی وزیرصحت و خزانہ نے اتفاق کیا اُور یوں کئے گئے فیصلوں کی روشنی میں نئے تعلیمی سال کے ساتھ ہی نئی شرح فیسیں بھی لاگو کر دی جائیں گی۔ داخلہ حکمت ِعملی پر نظرثانی کے عمل میں چار بنیادی نوعیت کے فیصلے کئے گئے۔1: اوپن میرٹ (خالصتاً اہلیت) پر داخلہ حاصل کرنے والوں کے فیس کی شرح 23 ہزار 370 روپے سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کر دی جائے۔ 2: جنرل سیلف فنانس اُور افغان شہریت رکھنے والے اُور غیرملکی مقیم پاکستانیوں کے لئے (کٹیگری بی ٹو) کی شرح فیس جو 4 لاکھ13 ہزار 209روپے مقرر ہے اِسے بڑھا کر 8 لاکھ روپے کر دی جائے۔ 3: اُوپن میرٹ اُور سیلف فنانس کی داخلہ فیس 1 لاکھ 47 ہزار 800 روپے سے بڑھا کر 3 لاکھ روپے اُور 5 لاکھ 54 ہزار روپے سے بڑھا کر 8 لاکھ روپے کر دی جائے۔ 4: ویٹھ ایج فارمولہ کے تحت دیئے جانے والے ’ایم بی بی ایس اُور بی ڈی ایس‘ ایڈمشنز کے لئے میٹرک یا اِس کے مساوی امتحانات میں حاصل کردہ نمبروں کا 10فیصد‘ ایف ایس سی یا اِس کے مساوی امتحان کے نمبروں کا 40فیصد اُور ایم ڈی کیٹ امتحان کے حاصل کردہ کل نمبروں کا 50فیصد شمار کرتے ہوئے داخلہ اہلیت (میرٹ) بنایا جائے۔

پاکستان میں طب کی تعلیم اگرچہ مرکزی انتظام (پاکستان میڈیکل کمیشن) کے تابع فرمان ہے لیکن اِس تعلیمی نظم و نسق کے خلاف ”پہلی بغاوت“ سندھ کی صوبائی کابینہ کی جانب سے اِس فیصلے کی صورت سامنے آئی کہ سندھ کے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز میں ’ایم ڈی کیٹ امتحان (2021ء)‘ میں 50فیصد نمبر حاصل کرنے والوں کو بھی داخلہ دیا جائے گا جبکہ پاکستان میڈیکل کمیشن بار بار اِس بات کی وضاحت کر چکا ہے کہ ”اگر کسی بھی میڈیکل کالج نے ’ایم ڈی کیٹ‘ میں 65 فیصد سے کم نمبر حاصل کرنے والوں کو اپنے ہاں داخلہ دیا تو مرکزی ادارہ (پاکستان میڈیکل کمیشن) ایسے داخلوں کی تصدیق نہ کرتے ہوئے طلبہ کو قومی رجسٹریشن نمبر جاری نہیں کرے گا۔“ اگر طب کی تعلیم کے بنیادی نظم و نسق جو اپنی جگہ تعلیمی قابلیت و اہلیت جانچنے کا معیار بھی ہے قابل بھروسہ نہ رہا اُور کوئی ایک صوبہ اِس کے احترام کو ضروری نہیں سمجھتا تو اِس سے پیدا ہونے والی صورتحال (تنازع) مستقبل میں دیگر صوبوں میں بھی پھیل سکتا ہے جو کسی بھی صورت طب کے شعبے میں درس و تدریس اُور اِس شعبے کے مستقبل و معیار کے حوالے سے خوش آئند (اچھی خبر) نہیں ہے۔ 

توجہ طلب ہے کہ بیچلرز آف میڈیسن اینڈ بیچلرز آف سرجری (MBBS) اُور بیچلرز آف ڈینٹل سرجری (BDS) کے لئے صرف داخلہ فیسیں ہی نہیں بڑھائی گئیں بلکہ دیگر ماہانہ اُور سالانہ وصولیوں کی شرح میں بھی اضافہ کیا گیا ہے اُور والدین کے لئے صورتحال کا یہی پہلو پریشانی کا باعث ہے کیونکہ جہاں ایک طرف مہنگائی اُور کورونا وبا کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں محدود ہیں‘ وہیں اگر سرکاری تعلیمی اِداروں کے اخراجات بھی بڑھا دیئے جاتے ہیں تو یہ پریشان کسی بھی طرح معمولی (جائز) نہیں۔ ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ طب (میڈیکل اینڈ ڈینٹل) تعلیم کے مواقعوں (زیرتعلیم طلبہ کی تعداد) میں اضافہ کر کے ادارہ جاتی آمدنی بڑھائی جائے اُور سرکاری و نجی اداروں کے درمیان شرح فیس کے لحاظ سے واضح فرق برقرار رکھا جائے کیونکہ سرکاری میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں اہلیت کا جو بلند معیار مقرر ہے اگر اِس کے باوجود بھی اعلیٰ تعلیم کے لئے لاکھوں روپے درکار ہوں گے تو اِس سے سرکاری و نجی اداروں کے درمیان فرق ختم ہو جائے گا اُور صرف اہلیت ہی نہیں بلکہ اُن طلبہ کے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے جیسے خواب کا بھی خون ہوگا‘ جس کے لئے وہ اپنی زندگی کا بہترین وقت‘ صلاحیت اُور توانائی وقف رکھتے ہیں۔ 

....





Sunday, October 24, 2021

Medical Admissions: Ambiguity vs Clarity

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

اِبہام سے اِبہام تک

طب (میڈیکل اینڈ ڈینٹل) کے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں داخلہ حاصل کرنے کے لئے جس اضافی اہلیت کو لازمی قرار دیا گیا ہے اُسے ’نیشنل میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز ایڈمشن ٹیسٹ (MDCAT)‘ کہا جاتا ہے۔ اِس خصوصی امتحان میں حصہ لینا طب کی تعلیم حاصل کرنے کے ہر خواہشمند طالب عمل کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ رواں برس (22-2021ء) کے لئے ایم ڈی کیٹ امتحان کا انعقاد پورے ملک میں 30 اگست سے 30 ستمبر کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر ہوا لیکن اِس امتحانی طریقہ کار اُور اِس کے مراحل سے متعلق اعتراضات رکھنے والوں نے لاہور کی عدالت ِعالیہ (ہائی کورٹ) سے رجوع کر رکھا تھا جس کی وجہ سے ایک ایسی غیریقینی کی صورتحال درپیش تھی کہ داخلے کے خواہشمند اُور میڈیکل و ڈینٹل کالجز اپنی اپنی جگہ پریشان تھے اُور کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ کیا ہونے والا ہے!

 22 اکتوبر 2021ءکے روز لاہور ہائی کورٹ نے مذکورہ امتحانی مرحلے (ایم ڈی کیٹ) کے خلاف ایک سے زیادہ درخواستوں (پٹیشنز) کو خارج کر دیا۔ درخواست گزاروں نے ’پاکستان میڈیکل کمیشن ایکٹ 2020ئ‘ اُور ’پاکستان میڈیکل کمیشن کنڈکٹ آف ایگزیمنیشن ریگولیشنز 2021ئ‘ کی متعدد شقوں کا حوالہ دیا تھا جن کی مبینہ طور پر ایم ڈی کیٹ امتحان میں خلاف ورزی کی گئی‘ اِس لئے عدالت نے ایم ڈی کیٹ امتحان کو کالعدم قرار دے لیکن ’لاہور ہائی کورٹ‘ نے درخواست گزاروں کے مؤقف سے اتفاق نہیں کیا اُور اب صورتحال واضح ہو چکی ہے کہ ’ایم ڈی کیٹ‘ کے نتائج جہاں اُور جیسے تھے اُنہیں درست تسلیم کر لیا گیا ہے اُور اِس کے بعد اگلا مرحلہ یعنی میڈیکل و ڈینٹل کالجوں میں داخلے شروع ہوں گے جس کے لئے پاکستان میڈیکل کمیشن نے پہلی مرتبہ صوبوں کو خودمختار بنایا ہے کہ اگر وہ میڈیکل و ڈینٹل کے نئے تعلیمی سال میں داخلوں کے لئے اپنے ہاں قواعد و ضوابط بنانا چاہیں تو ایسا کر سکتے ہیں۔ 

پاکستان میڈیکل کمیشن کے سربراہ (صدر) ڈاکٹر ارشد تقی نے بائیس اکتوبر ہی کے روز صوبائی حکومتوں کو اپنے ہاں نجی میڈیکل کالجوں سے متعلق قواعد سازی کا اختیار دیا تاہم اُنہوں نے یہ بات بھی واضح کی کہ اِس اختیار میں اہلیت (میرٹ) پر سمجھوتا تسلیم نہیں کیا جائے گا لیکن یہاں مسئلہ (درپیش مرحلہ) یہ ہے کہ امتحانی بورڈز کی جانب سے زیادہ نمبرات اُور ایم ڈی کیٹ میں بھی زیادہ نمبر حاصل کر کے کامیاب طالب علموں کی اکثریت سرکاری و نجی میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لئے درخواست گزار ہے لیکن تعلیمی اداروں میں نشستیں محدود ہیں جیسا کہ سندھ میں ساڑھے سات سے آٹھ ہزار طلبہ کامیاب ہوئے لیکن وہاں کی میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں نشستوں کی کل تعداد تین ہزار ہے اُور اِسی قسم کی زیادہ سنگین صورتحال خیبرپختونخوا میں بھی دیکھنے کو مل رہی ہے کہ یہاں بھی سرکاری میڈیکل و ڈینٹل میں داخلے خواہشمندوں اُور اہلیت رکھنے والوں کی تعداد مجموعی نشستوں 1620 سے درخواست گزاروں کی تعداد ہزاروں گنا زیادہ ہے۔ خیبرپختونخوا میں سولہ نجی جبکہ 14 سرکاری میڈیکل کالجز ہیں جن نشستوں کی کل تعداد 1486 ہے جو گزشتہ تعلیمی سال (2020-21ئ) کے مقابلے 104 نشستیں زیادہ ہیں۔ یہ اضافہ پاکستان میڈیکل کمیشن نے فروری 2021ءمیں کیا تھا جبکہ اِس موقع پر قبائلی (پسماندہ) اضلاع سے تعلق رکھنے والوں کے لئے مختص نشستوں کی تعداد دگنی (136) کر دی گئی تھی۔ خیبرپختونخوا کے میڈیکل کالجوں کے 10 میڈیکل اُور 4 ڈینٹل کالجوں میں کل 1382 نشستیں ہیں جن میں سے 922 اوپن میرٹ‘ 136 قبائلی اضلاع‘ 130 جنرل سلیف فنانس‘ 43 غیرملکی سلیف فنانس‘ 29 بلوچستان کے قبائلی علاقوں‘ 34 آزاد جموں و کشمیر‘ 12 افغان شہریت رکھنے والوں‘ 6 معذور افراد‘ 4 مقبوضہ کشمیر اُور دیگر پسماندہ اضلاع جیسا کہ چترال‘ بونیر‘ ٹانک‘ دیر‘ شانگلہ وغیرہ سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لئے مختص ہیں۔

بنیادی بات یہ ہے کہ میڈیکل و ڈینٹل کالجوں کی 460 نشستیں مختلف حوالوں سے مختص ہیں اُور یہ تعداد چار یا پانچ میڈیکل و ڈینٹل کالجوں کے مساوی بنتی ہیں۔ اصولاً نشستوں کی تعداد میں حسب آبادی اضافہ ہونا چاہئے کیونکہ ایک ایسی صورت میں جبکہ طلبہ کی اکثریت اپنے خرچ پر یعنی سالانہ پندرہ لاکھ روپے فیس بھی ادا کرنے کے لئے تیار ہے لیکن اُنہیں پاکستان میں داخلہ نہیں ملتا اُور وہ مجبوراً بیرون ملک داخلہ لیتے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف بیش قیمت ذہانت بلکہ زرمبادلہ بھی بیرون ملک منتقل ہوتا ہے۔ طب کی تعلیم سے متعلق بندوبست جس قدر واضح بنانے کی کوشش کی جاتی ہے یہ اُسی قدر ابہام میں الجھ جاتا ہے۔

ابہام در ابہام کی یہ صورتحال غور و خوض کی متقاضی ہے کہ طب (میڈیکل و ڈینٹل) کی تعلیم اُور اِس سے متعلق بندوبست زیادہ وسیع (بڑے پیمانے) پر کیا جائے۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ صوبوں کو خاطرخواہ خودمختاری نہیں دی جا رہی۔ پاکستان میڈیکل کمیشن نے صوبوں کو یہ اختیار دے رکھا ہے کہ وہ نئے تعلیمی سال (2022ئ) کے لئے نجی میڈیکل کالجوں کے داخلہ قواعد اپنے طور پر بھی وضع کر سکتے ہیں تو اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو یہ اختیار کیوں نہیں دیا جاتا کہ وہ اپنے طور پر نجی و سرکاری میڈیکل کالجوں کے قیام کی بھی منظوری دے سکیں؟

....





Sunday, October 3, 2021

Issues, reservations & concerns about 'Medical Education' in Pakistan

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

اہلیت و قابلیت اُور سیاست

پہلا نکتہ: طب کی تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبا و طالبات کی علمی قابلیت اُور ذہنی اہلیت جانچنے کے ایک سے زیادہ معیار مقرر ہیں اُور اِن دونوں معیارات کی کسوٹی پر پورا اُترنے والوں کو ہی ’ایم بی بی ایس‘ یا ’بی ڈی ایس‘ میں داخلہ دیا جاتا ہے۔ طلبہ کی اہلیت جانچنے کا ایک معیار‘ ایک پیمانہ اُور ایک امتحان کیوں کافی نہیں ہو سکتا؟

دوسرا نکتہ: ’میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمشن ٹیسٹ (MDCAT)‘ کے نام سے طلبہ کی اہلیت جانچنے کے لئے خصوصی امتحان میں کامیابی کے لئے 65 فیصد نمبر حاصل کرنا لازمی ہے جبکہ اِس سے قبل (گزشتہ برس) یہ معیار 60 فیصد مقرر تھا۔ کامیابی کے لئے اِس قدر بلند شرح سے نمبرات حاصل کرنا کیوں لازم ہے اُور یہ معیار پچاس فیصد یا اِس سے کم کیوں مقرر نہیں ہونا چاہئے؟ 

تیسرا نکتہ: طب کی تعلیم حاصل کرنے کے کسی خواہشمند طالب علم کے لئے ’ایم ڈی کیٹ‘ میں کامیاب ہونا لازم ہے اگر کوئی طالب علم ’ایم ڈی کیٹ‘ میں کامیاب نہ ہو سکے تو اُسے نہ تو اپنے امتحانی پرچہ جات کی جانچ پڑتال (rechecking) کا موقع دیا جاتا ہے اُور نہ ہی وہ اپنا ایک تعلیمی سال ضائع کئے بغیر ’ایم ڈی کیٹ‘ امتحان دوبارہ دے سکتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ایم ڈی کیٹ کے پرچہ جات طلبہ کی تسلی و تشفی کے لئے نہیں دکھائے جاتے اُور اُنہیں اپنے نمبر بہتر بنانے کا فوری موقع (سپلمنٹری ایگزیم) بھی نہیں دیا جاتا؟ 

چوتھا نکتہ: ’ایم ڈی کیٹ‘ نامی امتحان کے لئے سوالنامہ قومی سطح پر تیار کیا جاتا ہے اُور اِس مقصد کے لئے پورے ملک میں ’ایف ایس سی (بارہویں کلاس)‘ کی سطح پر پڑھائے جانے والے مضامین (نصابی کتب) سے سوالنامہ تیار کیا جاتا ہے۔ اِس امتحانی حکمت ِعملی کی وجہ سے اکثر طلبہ ’آو¿ٹ آف کورس‘ یعنی وہ اپنے زیرمطالعہ رہے نصاب ِتعلیم سے ہٹ کر داغے گئے سوالات کی شکایت کرتے ہیں۔ آخر ایسا کیوں ممکن نہیں کہ ہر صوبے اُور ہر امتحانی بورڈ کے طلبہ کے لئے اُن کے ہاں پڑھائے جانے والے نصاب سے ’ایم ڈی کیٹ‘ کا سوالنامہ تیار کیا جائے؟

پانچواں نکتہ: ’ایم ڈی کیٹ‘ میں 65فیصد سے کم نمبر حاصل کرنے والوں کو ناکام (fail) قرار دے دیا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں یہی”فیل“ قرار دیئے جانے والے طلبہ کی بڑی تعداد بیرون ملک تعلیمی اداروں کا رخ کرتی ہے جہاں اُنہیں داخلہ حاصل کرنے کے لئے نہ صرف اہل سمجھا جاتا ہے بلکہ اُنہیں خصوصی تعلیمی وظائف (سکالرشپس) بھی دیئے جاتے ہیں اُور تعلیمی مراحل امتیازی حیثیت سے مکمل کرتے ہیں۔ اِس سے معلوم ہوا کہ ’ایم ڈی کیٹ‘ کی اہمیت اُور ضرورت صرف پاکستان کی حد تک ہے اُور اِس سے کسی طالب علم کی تعلیمی قابلیت یا ذہنی اہلیت اُور رجحانات کا اندازہ لگانا درست نہیں اُور اصلاح طلب ہے کہ ’ایم ڈی کیٹ‘ امتحانی نظام پر نظرثانی کی جائے۔

چھٹا نکتہ: بیرون ملک طب کی تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طلبہ کے ساتھ نہ صرف ذہانت بلکہ خطیر اُور قیمتی زرمبادلہ بھی جاتا ہے جبکہ پاکستان میں طب کے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں حسب طلب و ضرورت نشستوں کی تعداد میں اضافہ مطالبات کے باوجود بھی نہیں کیا جا رہا۔ ہر سال پہلے سے زیادہ طلبہ ’ایم ڈی کیٹ‘ کا امتحان دیتے ہیں اُور ہر سال ہی پہلے سے زیادہ طلبہ کو داخلہ نہ ملنے کی صورت مایوسی ہوتی ہے تو آخر کیا وجہ ہے کہ اہلیت و ذہانت ہونے کے باوجود بھی طب کی تعلیم کے مواقعوں میں اضافہ نہیں کیا جا رہا تو (خاکم بدہن) کہیں ایسا تو نہیں کہ ’ایم ڈی کیٹ‘ ہر سال کروڑوں روپے کمانے کا ذریعہ بنا دیا گیا ہو؟

ساتواں نکتہ: پاکستان میں طب کی تعلیم میں یکساں اہم کردار نجی تعلیمی اداروں کا ہے‘ جنہوں نے اِس شعبے میں مالی وسائل سے سرمایہ کاری کے علاو¿ہ ذہین ترین اُور قابل اساتذہ کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں تاکہ نجی کالجوں کے درمیان پائے جانے والے مقابلے کے ماحول میں اُنہیں فوقیت (داخلہ لیتے وقت دوسروں پر ترجیح) دی جائے لیکن حکومت کی جانب سے نہ تو نجی اداروں کی سرمایہ کاری کو تحفظ حاصل ہے‘ نہ اِنہیں بلاسود قرضہ جات دیئے جاتے ہیں تاکہ یہ مالی بحران سے نکلنے اُور اپنی خدمات کے معیار کو بلند کرنے میں مزید سرمایہ کاری کریں۔ کورونا وبا نے طب کے سبھی نجی اداروں کو مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے‘ جن کی مدد بارے حکومت نے دو سال سے تاحال کوئی پالیسی نہیں دی۔ آخر کیا وجہ ہے کہ حکومت طب کے نجی تعلیمی اداروں کی خدمات کا اعتراف تو کرتی ہے لیکن اِن کی سرپرستی نہیں کی جاتی؟

آٹھواں نکتہ: طب (میڈیکل و ڈینٹل) کے نجی تعلیمی اداروں کو جامعات کا درجہ دینے اُور اُن کے ہاں نشستوں کی تعداد (زیرتعلیم طلبہ کی گنجائش) بڑھانے میں بھی متعلقہ منتظم حکومتی ادارہ (پاکستان میڈیکل کمیشن) اُور سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ ساز دلچسپی نہیں لے رہے۔ تعلیم کے شعبے میں مقامی و بیرونی سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھنے والوں کے لئے خصوصی حکمت ِعملی وضع کیوں نہیں کی جاتی؟

نواں نکتہ: اٹھارہویں آئینی ترمیم (سال 2010ئ) سے لاگو ہے جس کا بنیادی نکتہ صوبائی خودمختاری کی صورت فیصلہ سازی میں وفاق کے بوجھ کو کم کرنا ہے لیکن طب کی تعلیم کے منتظم ادارے (پاکستان میڈیکل کمیشن) کو وفاقی حکومت نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے اُور اِس کی جملہ فیصلہ سازی سمیت اِس ادارے کے نگرانوں کا انتخاب بھی منظور نظر (من پسند) افراد سے کیا جاتا ہے‘ جن میں اکثریت کا طب کی تعلیم یا اِس شعبے سے دور دور کا واسطہ (تعلق) نہیں ہوتا اُور جب یہ غیرمتعلقہ لوگ فیصلہ سازی کرتے ہیں تو اِن کے فیصلے اُور اقدامات نہ صرف زیرتعلیم اُور تعلیم حاصل کرنے کے خواہمشندوں بلکہ طب کے شعبے سے تعلق رکھنے والے جملہ پیشہ ور افراد کے لئے بھی پریشانی اُور مشکلات کا باعث ہوتے ہیں۔ آخر اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو طب کی تعلیم سے متعلق فیصلے کرنے کا اختیار کیوں نہیں دیا جاتا جیسا کہ دیگر درجات میں تعلیم کے لئے اِنہیں اختیار حاصل ہے؟

دسواں نکتہ: طب (میڈیکل اینڈ ڈینٹل) کی تعلیم اندرون یا بیرون ملک حاصل کرنے والوں کو مساوی تصدیق نامے (رجسٹریشن) جاری کی جاتی ہے جبکہ دونوں قسم کے تعلیمی بندوبست میں علمی و عملی نصاب کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔ بیرون ملک کا کوئی بھی تعلیمی ادارہ پاکستان سے پوچھ کر یا پاکستان کی منظوری سے نصاب تعلیم نہ تو مرتب کرتا ہے اُور نہ ہی ایسا نصاب تعلیم لاگو کرتا ہے‘ جو پاکستان میں بھی پڑھایا جا رہا ہو۔ کیا وجہ ہے کہ الگ الگ نظام تعلیم سے فارغ التحصیل ہونے والوں کو بعدازاں ایک ہی ترازو میں تولا جاتا ہے؟

گیارہواں نکتہ: طب کے تعلیمی بندوبست کے حوالے سے جملہ فریقین (طلبا و طالبات‘ اِن کے والدین و اساتذہ‘ نجی تعلیمی اداروں اُور طب کے تعلیمی امور بارے ماہرین) کا ’پاکستان میڈیکل کمیشن‘ کی کارکردگی اُور فیصلہ سازی کے بارے تحفظات اُور شکایات ہیں تو آخر کیا وجہ ہے کہ اِن سبھی فریقین کی رائے (اجتماعی دانش) کو خاطرخواہ اہمیت نہیں دی جا رہی؟ ”سمجھنے ہی نہیں دیتی سیاست ہم کو سچائی .... کبھی چہرہ نہیں ملتا‘ کبھی درپن نہیں ملتا۔ (شاعر نامعلوم)۔“

بارہواں نکتہ: سیاست کے لغوی سمجھنے اُور سمجھانے کی ضرورت ہے کہ یہ ایک ایسا طرزفکروعمل کا مجموعہ ہے کہ جس سے وابستہ کردار اختلافات ختم کرنے کے لئے اپنی صلاحیتوں اُور ریاستی و غیرریاستی وسائل بروئے کار لاتے ہیں لیکن پاکستان کی سیاست میں ”کامیابی کا معیار“ اختلافات کم یا ختم کرنے کی بجائے اِن کی شدت میں اضافے سے منسوب ہے۔ کیا یہ طرز ِسیاست تبدیل نہیں ہونا چاہئے؟ ”سیاست کے چہرے پہ رونق نہیں .... یہ عورت ہمیشہ کی بیمار ہے (شکیل جمالی)۔“

....



Editorial Page Daily Aaj Peshawar / Abbottabad dated October 03, 2021 Sunday


Sunday, September 26, 2021

Exams, the failing impact

شبیر حسین اِمام

طب کی تعلیم: روشن مستقبل؟

پاکستان میں طب کی تعلیم (میڈیکل ایجوکیشن) کا مستقبل کتنا روشن یا کتنا تاریک ہے اُور میڈیکل (MBBS) یا ڈینٹل (BDS) کی تعلیم کے معیار (بشمول درس و تدریسی سہولیات) میں ہر سال‘ حسب آبادی اضافہ یا آبادی کے تناسب کے مقابلے ہر سال کمی ہو رہی ہے؟ اِس جیسے بہت سارے سوالات کا جواب تلاش کرنے کے لئے جائزہ لینا پڑے گا کہ ’پاکستان میڈیکل کمیشن (PMC)‘ کے نام سے قائم وفاقی ادارے کے قواعد و ضوابط کیا ہیں اُور کیا اِس ادارے سے وابستہ طبقات کی توقعات پوری ہو رہی ہیں یا نہیں؟ علاؤہ ازیں پاکستان میں طب (میڈیکل اینڈ ڈینٹل) کا تعلیمی و تدریسی بندوبست کیا ہے اُور اِس میں خرابیاں دور کرنے (اصلاحات) کی کوشش میں کون کون سی خرابیاں داخل ہو گئی ہیں‘ جنہیں دور کئے بغیر طب کی تعلیم قابل اطمینان و معیار نہیں ہو سکتی جبکہ متعلقہ فریقین یعنی فارغ التحصیل ہوئے ڈاکٹرز‘ طب کے شعبے سے وابستہ تدریسی عملہ‘ ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم (پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن)‘ نجی تعلیمی اداروں (پرائیویٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز) کی نمائندہ تنظیم ”پاکستان ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل انسٹی ٹیویشنز (PAMI) کے اراکین اُور طب کی تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبا و طالبات‘ اِن کے والدین اُور اساتذہ کی اکثریت کے شکایات‘ تحفظات‘ خیالات اُور تجاویز بھی اپنی اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہیں‘ جنہیں محض اِس لئے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ اختلافی نکتہ¿ نظر ہر طبقے کے ذاتی یا کاروباری مفادات کے عکاس ہیں۔ یہ نکتہ اپنی جگہ اہم ہے کہ پاکستان میں طب کی تعلیم کا قبلہ اُس وقت تک درست نہیں ہوگا جب تک اِس سے متعلق قواعد و ضوابط وضع کرنے میں کثیرالجہتی و جامع مشاورت نہیں کی جاتی اُور دوسرا متفقہ و متنازعہ قواعد و ضوابط لاگو کرنے کے لئے من پسند‘ منظورنظر‘ جن میں اکثریت غیرمتعلقہ شعبوں سے ملازمتیں مکمل کرنے (ریٹائرڈ) کردار شامل ہیں کی بجائے حقیقی اہل اُور متعلقہ ماہرین کی سمجھ بوجھ اُور جذبے کو اصلاحات لاگو کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔

طب کی تعلیم کے حوالے سے اعتراضات کی طویل فہرست میں اگر کسی ایک نکتے کو پکڑ کر اِس الجھن (گھتی) سلجھانے کی کوشش کی جائے تو وہ یہ ہوگی کہ سردست پاکستان میڈیکل کمیشن نے نئے تعلیمی سال (2022ئ) میں داخلے کے لئے 65فیصد نمبرات حاصل کرنے کی بنیاد پر اہلیت کا جو معیار (پیمانہ) بصورت ’میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمشن ٹیسٹ (MDCAT)‘ مقرر کیا ہے اُس کی وجہ سے پاکستان کے سرکاری و نجی میڈیکل کالجوں میں درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ (اہلیت رکھنے کے باوجود بھی) نااہل ہو گئے ہیں جس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے 2 پہلو ہیں۔ پہلا پہلو یہ ہے کہ جو طلبا و طالبات ’ایم ڈی کیٹ امتحان‘ میں 65 فیصد نمبر حاصل نہیں کر سکے اُور وہ طب کی تعلیم بہرصورت حاصل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ بچپن سے اُن کے ذہنوں میں یہی بات ڈالی گئی کہ اُنہیں بڑا ہو کر ڈاکٹر بننا ہے‘ اِس لئے وہ سوائے ڈاکٹری کسی دوسری تعلیم کو اہم نہیں سمجھتے۔ ایسے طالب علموں میں بڑی تعداد اُن بچوں کی ہوتی ہے جن کے والدین کم مالی وسائل کے باوجود بچوں کو بیرون ملک بھیج دیتے ہیں تاکہ وہ طب (میڈیکل یا ڈینٹل) کی تعلیم حاصل کرنے جیسے خواب کی تعبیر کر سکیں۔ اِس صورت میں پاکستان سے صرف ذہین و اہل طالب علم ہی نہیں بلکہ داخلہ فیسوں‘ ٹیویشن فیسوں‘ آمدورفت اُور قیام و طعام و دیگر ضروریات کی صورت ’قیمتی زرمبادلہ‘ بیرون ملک منتقل ہو جاتا ہے۔ پاکستان میڈیکل کمیشن نے بیرون ملک کے تعلیمی اداروں کی درجہ بندی جاری کر رکھی ہے جس کے تحت تین درجات (گریڈ اے‘ گریڈ بی اُور گریڈ سی) کے کالجز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ عام فہم زبان میں بات کی جائے تو بیرون ملک طب کی تعلیم اخراجات کے لحاظ سے دو درجات میں تقسیم ہے جبکہ بیرون ملک تعلیمی اداروں کا تعلیمی معیار میں ایک جیسا ’ناقابل اعتبار‘ ہے کہ ترقی یافتہ مغربی ممالک ہوں یا ایشیائی اُور وسط ایشیائی ریاستیں یا چین و افریقہ‘ اِن تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہو کر پاکستان واپس آنے والوں کے لئے لازم ہے کہ وہ ’نیشنل لائسینسینگ ایگزیم (NLE)‘ میں کامیاب ہوں بصورت ِدیگر وہ پاکستان میں طب کی مزید تعلیم یا اِس شعبے میں ملازمت کرنے کے لئے اہل تصور نہیں ہوں گے۔ اِس مرحلے پر 2 ضمنی اقدامات (اصلاحات) کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے تو ’ایم ڈی کیٹ‘ نامی امتحان میں کامیابی کے لئے مقررہ نمبرات کی شرح 65 فیصد سے کم کر کے 50 فیصد مقرر ہونی چاہئے تاکہ طب کی تعلیم کے خواہشمند طلبہ کی زیادہ سے زیادہ تعداد پاکستان ہی میں تعلیم حاصل کرے اُور یوں ذہین بچے اُور قیمتی زرمبادلہ بیرون ملک منتقل نہ ہو۔

 دوسری ضرورت طب کی تعلیم کے موجودہ بندوبست میں وسعت اُور اِس شعبے میں موجود نجی سرمایہ کاری کے امکانات سے فائدہ کی ہے۔ نجی تعلیمی ادارے نہ صرف روزگار کی فراہمی کا ذریعہ ہیں بلکہ اُنہوں نے تعلیم کے شعبے میں حکومت کا بوجھ بھی بانٹ رکھا ہے اُور اگر اِن نجی تعلیمی اداروں کی تعداد یا اِن سمیت سرکاری میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں زیرتعلیم طلبہ کی تعداد (گنجائش) میں اضافہ کیا جائے تو اِس سے طلبہ اُور اِن کے والدین میں پائی جانے والی تشویش بڑی حد تک کم ہو جائے گی۔ بنیادی بات آبادی کی بڑھتی ہوئی شرح اُور اِس کی وجہ سے پیدا ہونے والی مانگ (طلب) کو پورا کرنے کی ہے۔

سردست صورتحال یہ ہے کہ صرف طب ہی نہیں بلکہ دیگر علوم کی تعلیم کے شعبوں میں بھی داخلے ملنا ہر سال پہلے سے زیادہ مشکل ہو رہا ہے اُور اِس صورتحال (عوام کی مجبوری) کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے غیرمعیاری تعلیمی ادارے بھی قائم ہو رہے ہیں یا پہلے سے موجود نجی تعلیمی اداروں کا معیار بہتر ہونے کی بجائے رو بہ زوال ہے کیونکہ طب کی تعلیم ہو یا علاج معالجے کی سہولیات دونوں پر مانگ (آبادی) کا بوجھ ہے اُور دونوں ہی سے متعلق اصلاحات کے لئے جامع حکمت عملی مرتب (وضع) ہونی چاہئے۔

....




Education from exams to protest

 ژرف ِنگاہ .... شبیرحسین اِمام

اہم موڑ

طب کی بنیادی تعلیم (ایم بی بی ایس اُور بی ڈی ایس) حاصل کرنے خواہشمند طلبا و طالبات کو اپنی ذہانت‘ اہلیت اُور برتری ثابت کرنے کے لئے 2 امتحانی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ پہلا 10ویں کلاس (میٹرک) کے بعد شروع ہوتا ہے اُور اِس 2 سالہ دور (گیارہویں اُور بارہویں جماعتوں) میں اُنہیں ایڑی چوٹی کا زور لگانا ہوتا ہے تاکہ لازمی مضامین کے علاو¿ہ فزکس (علم ِطبیعات)‘ کیمسٹری (علم ِکیمیا) اُور بیالوجی (علم ِحیاتیات) میں نمایاں نمبر حاصل کرتے ہوئے متعلقہ امتحانی بورڈ میں خصوصی حیثیت سے کامیاب ہوں۔ اگر یہ کہا جائے کہ کسی طالب علم کی زندگی کے یہی 2 سال اُس کی باقی ماندہ عملی زندگی کا تعین کرتے ہیں تو غلط نہیں ہوگا۔ ’ایف اے / ایف ایس سی‘ طلبہ کی زندگی کا ”اہم ترین موڑ“ سمجھا تو جاتا ہے لیکن اِس کے تحفظ اُور درست رہنمائی کے علاو¿ہ کامیاب ہونے والے طلبہ کی تعداد کے مطابق داخلوں کا اہتمام و انتظام نہیں کیا جاتا۔ ہر سال طب و دیگر تعلیمی شعبوں میں داخلہ حاصل کرنے کے خواہشمندوں کی بڑی تعداد (اکثریت) داخلوں سے محروم رہ جاتی ہے لیکن بالخصوص طب کے تعلیمی اداروں میں نشستوں کی تعداد میں حسب آبادی و ضرورت (خاطرخواہ) اضافہ نہیں کیا جاتا تو آخر تعلیمی اداروں کی تعداد یا اِن میں ہر سال نشستوں کی تعداد بتدریج بڑھانا کس کی ذمہ داری ہے اُور اِس سلسلے میں عوام کا دیرینہ مطالبہ کیوں سُنا اَن سُنا کیا جا رہا ہے۔ طب کی تعلیم سے متعلق حکومتی بندوبست عوام کی نظروں میں خرابیوں کا مجموعہ ہے اُور یہی وجہ ہے کہ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والوں کے علاو¿ہ اندرون ملک زیرتعلیم طلبا و طالبات اُور ڈاکٹر بننے کے بعد میڈیکل کمیشن کے پیچیدہ و مالی لحاظ سے مہنگے انتظامی امور کے بارے شکایت کرنے والوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ حالیہ احتجاج اُن طلبہ کی جانب سے جاری ہے جو اپنے والدین کے ہمراہ چاروں صوبوں سے ’اسلام آباد‘ میں میڈیکل کمیشن کے سامنے جمع ہوئے۔ سینکڑوں کی تعداد میں اِن احتجاج کرنے والوں نے پچیس اُور چھبیس ستمبر کی ساری رات ’پاکستان میڈیکل کمیشن‘ کے صدر دفتر کے سامنے کھلے آسمان تک بسر کی۔ اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے اُور تھک ہار کر میڈیکل کمیشن کے سامنے سڑک اُور ملحقہ سبزہ زار پر سو گئے تاہم اُنہوں نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ مبینہ ’بے حس میڈیکل کمیشن‘ کے سامنے ہار نہیں مانیں گے اُور احتجاج جاری رکھتے ہوئے اِس کا دائرہ بھی بڑھایا جائے گا۔ آخری خبریں آنے تک ڈاکٹروں کی ملک گیر نمائندہ تنظیم ’پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA)‘ نے بھی طلبہ کی حمایت کر دی ہے اُور ’پی ایم اے پنجاب‘ کے کئی رہنماؤں نے طلبہ اُور اُن کے والدین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے دھرنے میں شرکت بھی کی ہے۔

وفاقی ادارے (پاکستان میڈیکل کمیشن) کے تعلقات کسی بھی فریق سے مثالی نہیں۔ طب کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے علاو¿ہ میڈیکل کمیشن کے پاس رجسٹرڈ ڈاکٹر‘ طب کی تدریس کرنے والے اساتذہ‘ اندرون و بیرون ملک طب کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اُور نجی تعلیمی ادارے اپنی اپنی جگہ یکساں فریادی (نوحہ کناں) ہیں۔ اِس صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اِس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مذکورہ سبھی فریقین نے عدالتوں سے رجوع کر رکھا ہے اُور ’پاکستان میڈیکل کمیشن‘ کے قیام اُور اِس قیام کو جس آئین سے تحفظ دیا گیا ہے اُس کے خلاف حالیہ (تازہ ترین) مقدمہ رواں ہفتے (چوبیس ستمبر دوہزاراکیس) عدالت ِعالیہ (پشاور ہائی کورٹ) میں درج ہوا ہے جس میں درخواست گزار جواد افضل وغیرہ نے ”پاکستان میڈیکل کمیشن قانون 2020ئ“ کو غیرمناسب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ قانون آئین پاکستان (1973ئ) کی مختلف شقوں کے خلاف ہے بالخصوص یہ 18ویں آئینی ترمیم سے بھی متصادم ہے جس میں صوبوں کو تعلیم جیسے شعبے میں فیصلے کرنے کی اجازت (آئینی خودمختاری) دی گئی تھی۔ مقدمہ درج ہو چکا ہے اُور سماعت کے لئے ’یکم اکتوبر‘ کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ اِس مقدمے (مو¿قف) کی خاص بات طلبہ کی اہلیت جانچنے کے معیار (MDCAT) نامی امتحان ہے‘ جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اِس کی خاطرخواہ تیاری کے لئے طلبہ کو وقت نہیں دیا گیا اُور پے در پے امتحانات کی وجہ سے طلبہ شدید ذہنی دباو¿ کا شکار ہوتے ہیں۔ اگرچہ مقدمے میں یہ نکتہ شامل نہیں کہ طلبہ کی اہلیت جانچنے کے لئے اُنہیں ایک سے زیادہ امتحانی مراحل سے واسطہ پڑتا ہے جو غیرضروری اُور نامناسب تعلیمی بندوبست ہے اصولاً بورڈ امتحان ہی کسی طالب کی اہلیت و قابلیت جانچنے کے لئے کافی ہے اُور اگر بورڈ امتحان ’کسی وجہ سے‘ کافی نہیں تو پھر اِسے جاری رکھنے کا مقصد سمجھ و ضرورت سے بالاتر ہے۔ اُمید کے مقدمے کے کسی مرحلے پر اِس بارے بھی غور ہوگا کہ آخر میڈیکل و ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے لئے کسی اضافی امتحان کی ضرورت (طلب) ہی کیوں پیش آتی ہے؟

پشاور ہائی کورٹ کے سامنے میڈیکل کمیشن سے متعلق دوسرا اعتراض (عذر) یہ پیش گیا ہے کہ ’ایم ڈی کیٹ‘ نامی (تعلیمی اہلیت جانچنے کا) امتحانی مرحلہ پانچ مختلف نصابوں (چار صوبوں اُور وفاقی تعلیمی نصاب) پر مشتمل ہے‘ جس میں کامیابی کے لئے کم سے کم 65 فیصد نمبر حاصل کرنا ضروری ہیں۔ یہ پینسٹھ فیصد نمبر بورڈ امتحان میں پاس ہونے کے مقررہ معیار سے زیادہ رکھے گئے ہیں۔ درخواست گزاروں کا مو¿قف ہے کہ کورونا وبا سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کی وجہ سے درس و تدریس کا عمل بار بار تعطل کا شکار رہا ہے اُور جبکہ اِس بات کا اعتراف خود وفاقی و صوبائی حکومتیں بھی کرتی ہیں تو اِس کے باوجود میڈیکل و ڈینٹل تعلیم کے خواہشمند طلبا و طالبات سے ’پاسنگ مارکس‘ کم کرنے کی صورت رعایت کیوں نہیں کی گئی؟ تیسرا نکتہ صوبائی خودمختاری سے متعلق ہے کہ طب (میڈیکل و ڈینٹل) کی تعلیم میں داخلوں کے لئے اہلیت کا امتحان (ایم ڈی کیٹ) منعقد کرنے کا اختیار صوبوں کو ہونا چاہئے کہ وہ امتحان کے نصاب‘ امتحان کی تاریخ اُور امتحان کے آن لائن یا آف لائن طریقہ¿ کار سے متعلق فیصلہ خود کریں۔ ذہن نشین رہے کہ رواں برس ہونے والے مذکورہ ’ایم ڈی کیٹ امتحان‘ کے نتائج ایسے طلبا و طالبات کے لئے مایوسی کا باعث بنے ہیں جو سکول و بورڈ امتحانات کے دوران یعنی اپنے پورے تعلیمی عرصے (ایجوکیشن کیئریر) میں نمایاں رہے لیکن وہ ’ایم ڈی کیٹ‘ میں کامیاب نہ ہو سکے یا اِس امتحان کو بھی امتیازی نمبروں سے پاس نہ کر سکے۔ یہ صورتحال صرف طلبا و طالبات ہی کے لئے نہیں بلکہ والدین اُور اساتذہ کے لئے پریشان کن ہیں جنہوں نے بچوں کے اچھے مستقبل کے خواب میں اپنا پیٹ کاٹ کر اُور اپنی ضروریات کی قربانیاں دے کر سرمایہ کاری کی لیکن اُن کے سامنے ایک ’ناقابل یقین نتیجہ‘ اُور سردمہری کا مظاہرہ کرنے والا ’بے رحم ادارہ‘ موجود ہے‘ جس پر کسی مہذب و شائستہ اُور آئینی حقوق و اخلاقی ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے شکایت یا مقدمہ درج کرنے اُور کسی بھی نوعیت کے احتجاج کا کوئی اثر نہیں ہو رہا۔

وفاقی اُور صوبائی سطح پر فیصلہ سازوں کو لاکھوں کی تعداد میں طب کی تعلیم کے خواہشمند طلبہ اُور اِن کے والدین میں پائی جانے والی تشویش و پریشانی کا سدباب کرنے کے لئے خاطرخواہ فوری اُور باعث ِاطمینان عملی اقدامات کرنے چاہیئں۔

....





Tuesday, August 21, 2018

Aug 2018: Monopoly of Private Medical Colleges & an ugly role of PMDC!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام

میڈیکل کالجز: فیسوں میں اضافہ!

طب کی اعلیٰ تعلیم پر ’نجی شعبے‘ کی حکمرانی کے جاری دور کا خاتمہ کسی صورت (بذریعہ تدبیر و تدبر) نہیں ہو رہا۔ حتیٰ کہ ’سپریم کورٹ آف پاکستان‘ کی جانب سے مالی و اِنتظامی ’بے قاعدگیوں‘ کا نوٹس لیا گیا لیکن اِس کے باوجود بھی نگران ادارہ (پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ’پی ایم ڈی سی‘) اُور ’نجی میڈیکل کالجز‘ ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ پرائمری سے مڈل‘ سیکنڈری‘ ہائر سیکنڈری اور گریجویشن تک ’تعلیم‘ کے ہر شعبے پر ایسے ہی سرمایہ کاروں کی اجارہ داری ہے جنہوں نے ایک پاؤں نجی کاروبار اور دوسرا پاؤں سیاست میں گھسا رکھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ قانونی اور عدالتی چارہ جوئی کے باوجود بھی صورتحال میں تبدیل نہیں ہو رہی۔19 اگست کو قوم سے پہلے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’’وہ وزارت عظمیٰ کے دوران نجی کاروبار نہیں کریں گے۔‘‘ لیکن کیا وہ اپنی جماعت کے دیگر اراکین کو بھی روک سکیں گے جو انتخابات اور سیاسی جماعتوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے قومی فیصلہ سازی پر مسلط ہیں!؟

کیا یہ اَمر باعث تشویش نہیں کہ پاکستان کی سب بڑی عدالت (سپرئم کورٹ) کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی مداخلت کے باوجود بھی میڈیکل کالجوں کے نگران ادارے ’’پی ایم ڈی سی‘‘ اور ’’پاکستان ایسوسی ایشن آف پرائیوٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل انسٹیٹیویشن (پی اے ایم آئی)‘‘ نے مل بیٹھ کر فیصلہ کر لیا کہ ۔۔۔ ’’داخلہ فیسوں کی شرح میں اضافہ کر دیا جائے۔‘‘ لمحۂ فکریہ ہے کہ جن قومی اداروں کو عوام کے مفادات کا محافظ ہونا چاہئے‘ لیکن وہ نجی اداروں کے کاروباری مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں! اِس صورت میں عدالت کی جانب سے دباؤ اور تشویش کا اظہار بے معنی ہو کر رہ گیا ہے۔ 

یاد رہے کہ میڈیکل کالجز کی سالانہ فیس 8لاکھ سے 9لاکھ 50ہزار تک بڑھادی گئی ہے‘ جس کے بعد ہر طالب علم کو (تعلیمی سیشن 2019ء) سے داخلے کی مد میں (اضافی) پچاس ہزار روپے اور پانچ فیصد ٹیکس اَدا کرنا ہوگا یعنی نہ صرف میڈیکل کالجز کو مقررہ فیس پر پچاس ہزار روپے اضافی وصول کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے بلکہ طلباء و طالبات پر پانچ فیصد ٹیکس کا اضافہ بھی کر دیا گیا ہے جس کی رقم بھی قریب پچاس ہزار روپے ہی بنتی ہے! ٹیکس اور وہ بھی تعلیم پر ٹیکس‘ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ 

اِس ضمن میں فیصلہ کیا گیا کہ میڈیکل کالجز میں زیرتعلیم طلباء و طالبات کے والدین یا سرپرستوں کے پانچ سال پر مشتمل مالی استعداد سے متعلق اسناد بھی طلب کی جائیں اور انشورنس سرٹیفکیٹ بھی پیش کرنا لازمی ہوگا۔ نجی میڈیکل کالجز میں داخلوں کے لئے والدین کی ’مالی استعداد‘ معلوم کرنے کا تعلق قطعی طور پر فیسوں میں اضافے سے نہیں ہونا چاہئے بلکہ یہ تو ایک الگ ضرورت ہے۔ صرف نجی میڈیکل کالجز ہی نہیں بلکہ دیگر ایسے تعلیمی ادارے بھی ہیں جہاں عمومی درس و تدریس سے لیکر پیشہ ورانہ اعلیٰ تعلیم تک لاکھوں روپے فیسیں وصول کی جاتی ہیں اور اصولی طور پر اِن معاملات کا ’ایف بی آر(FBR)‘ کو جائزہ لینا چاہئے کہ بھاری فیسیں ادا کرنے والے والدین کے ذرائع آمدن کیا ہیں؟ پاکستان میں بدعنوانی کی بڑی وجہ بھی یہی ہے صارفین کے اخراجات اور اثاثہ جات معلوم لیکن ’ذرائع آمدن‘ نامعلوم ہیں!

خودمختار’پی ایم ڈی سی ‘کی جانب سے فیسوں میں اضافے کو دیگر فیصلوں کی آڑ میں پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی گئی ہے جیسا کہ والدین کے ذرائع آمدن کیا ہیں؟ اضافی پانچ فیصد ٹیکس دیا جائے اور سنٹرل پالیسی نظام کے تحت آئندہ سے داخلے دیئے جائیں وغیرہ وغیرہ۔ نجی میڈیکل کالجز کے معاملات گزشتہ برس (2018ء) دسمبر سے موجودہ چیف جسٹس پاکستان کی عدالت میں زیرسماعت ہیں‘ جنہوں نے ’نجی میڈیکل کالجز‘ کی جانب سے داخلہ وصولیوں اور ایڈمیشن پالیسی سے متعلق خبروں اور والدین کی شکایات کا ’’ازخود نوٹس‘‘ لیا تھا‘ جس کے بعد اُمید ہو چلی تھی کہ صورتحال تبدیل ہوگی۔ توقع تھی کہ پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم خطے کے دیگر ممالک (بھارت‘ چین‘ روس اور ایران) کے مقابلے صرف زیادہ نہیں بلکہ بہت زیادہ ہے تو اِس میں کمی ہو گی اور غیرمعیاری نجی میڈیکل کالجز کا خاتمہ عملاً ممکن ہوگا۔ اخبارات میں خبروں اور تجزئیات کی اشاعت اور عوام کو اُمید دلانے کی حد تک تو سپرئم کورٹ نے یقیناًاپنا ہدف حاصل کر لیا لیکن نئے تعلیمی سیشن (دو ہزار اُنیس) کے لئے جب والدین کو ایک لاکھ روپے اضافی ادا کرنا پڑیں گے تو اُن پر ’سپرئم کورٹ‘ اور ’انصاف و قانون‘ کی حقیقت واضح ہو جائے گی! 

عدالت عظمیٰ نے ’پی ایم ڈی سی‘ رجسٹرار سے رپورٹ طلب کی تھی اور ریمارکس دیئے تھے کہ بغیر جواز فیسوں میں اضافے کی اجازت نہ دی جائے چونکہ ’’جواز‘‘ کے امکان کو رکھا گیا تھا جس کا فائدہ ’رجسٹرار‘ نے بخوبی اٹھایا ہے اور وکلاء ثابت کردیں گے کہ اُس نے توہین عدالت بھی نہیں کی! 

آٹھ سال گزرنے کو ہیں اور موضوع ہے کہ پرانا نہیں ہورہا۔ مجموعی طور پر سپریم کورٹ نے 2010ء میں میڈیکل کالج کی فیسوں سے متعلق از خود نوٹس لیا تھا اور بعدازاں فیصلہ سامنے آیا کہ ہر طالب علم سالانہ ساڑھے پانچ لاکھ روپے ادا کرے گا ‘جس میں زیادہ سے زیادہ 7فیصد سالانہ اضافے کی اجازت ہو گی۔2013ء میں نجی میڈیکل کالجز 6لاکھ 42ہزار تک فیس وصول کر رہے تھے اور قانونی ضرورت تھی کہ میڈیکل کالج تدریس کے ساتھ 150بیڈز کا ’’مفت تدریسی (ٹیچنگ) ہسپتال‘‘ کی سہولت بھی فراہم کرے گا‘ جس سے طلباء و طالبات کو عملی تربیت کے ساتھ عوام کو صحت کی سہولیات میسر آئیں گی لیکن نجی میڈیکل کالجز کی بڑی تعداد سرکاری علاج گاہوں سے استفادہ کر رہی ہے‘ جہاں پہلے ہی حکومت کی جانب سے سالانہ بجٹ دیا جاتا ہے۔ سال 2016ء میں میں ’پی ایم ڈی سی‘ نے داخلوں کا ’’سنٹرل انڈکشن نظام‘‘ متعارف کرایا تھا تاکہ نجی کالجز کو طالب علموں سے من مانی وصولیاں روکی جا سکیں لیکن نجی میڈیکل کالجز کی جانب سے ’پی ایم ڈی سی‘ کا اِس نظام کو مسترد کرتے ہوئے عدالت سے حکم امتناعی (اسٹے آرڈر) حاصل کرلیا گیا۔

2017ء میں ایک مرتبہ پھر ’پی ایم ڈی سی‘ نے نجی میڈیکل کالجز کے ساتھ مشاورت کا عمل شروع کیا اور فیصلہ سامنے آیا کہ سالانہ فیس 6لاکھ 42ہزار سے بڑھا کر 8لاکھ روپے کردی جائے اور اسی رقم میں طالب علم کو قیام و طعام‘ ٹرانسپورٹ اور لائبریری سمیت درس و تدریس سے جڑی جملہ سہولیات فراہم کی جائیںیعنی 8 لاکھ روپے سے اضافی فنڈز طلب نہ کئے جائیں۔ ساتھ ہی نجی کالجز کو ہدایت کی گئی کہ طلباء و طالبات کو ’’سنٹرل انڈکشن نظام‘‘ کے تحت ہی داخلہ دیں۔ نئی شرح داخلہ فیسوں کے مطابق نجی میڈیکل کالج کے ہر طالب علم کو سالانہ 9لاکھ 50روپے ادائیگی کرنا ہوگی جبکہ اِس کے علاؤہ الگ سے (ایک مرتبہ) 50ہزار روپے داخلہ فیس اور ایک ہی مرتبہ داخلہ فیس پر پانچ فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ گویا میڈیکل کالجز بیٹھے بٹھائے فی طالب علم پچاس ہزار روپے مقررہ فیس کے علاؤہ وصولی کریں گے جبکہ وہ پہلے ہی داخلہ فارم کی فروخت سے لاکھوں روپے کما چکے ہوتے ہیں! 

نئی داخلہ پالیسی ’اکتوبر 2018ء‘ سے فعال تصور ہوگی اور اس کا اطلاق اُن تمام ’طلباء و طالبات پر یکساں‘ پر ہوگا جنہوں نے ماضی میں بھی داخلہ لے رکھا ہے لیکن تاحال ’ایم بی بی ایس‘ اور ’بی ڈی ایس‘ کی تعلیم مکمل نہیں کی! طب کی اعلیٰ تعلیم ’’حکیمانہ فعل ‘‘ہے‘ جسے نجی شعبے کے حوالے کرنے جیسے ’’ظالمانہ‘ اقدام ‘‘کی اصلاح اب اگر کوئی کر سکتا ہے تو وہ ’وزیراعظم عمران خان‘ ہیں! جنہیں عدالت عظمیٰ جیسی بلندمرتبت ’’اتھارٹی ‘‘کی ناکامی کے بعد ’’اُمید کی آخری کرن‘‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے!

Saturday, January 13, 2018

Jan 2018: Medical Education Standard in Pakistan, a road to nowhere!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
مستقبل کی سوچ!
پاکستان میں جس طرح رہائشی اور کاروباری علاقوں کے درمیان تمیز کرنا مشکل ہے بالکل اِسی طرح خالصتاً کاروباری نکتۂ نظر سے نجی اِداروں کی حاکمیت کے خلاف ریاست کا وجود بھی کمزور دکھائی دیتا ہے۔ طب (میڈیکل) جیسے حساس شعبے میں ’اعلیٰ تعلیم‘ کی صورتحال بھی ناقابل بیان ہے جس کا ’اَزخودنوٹس‘ کی سماعت کے دوران (بارہ جنوری کے روز) سپرئم کورٹ نے ’’پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ( پی ایم ڈی سی)‘‘ نامی نگران ادارے کو تحلیل کرتے ہوئے ’’سات رکنی عبوری کمیٹی‘‘ تشکیل دی ہے جو آئندہ کسی حکمنامے تک روزمرہ امور کی انجام دہی کرے گی۔ 

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پی ایم ڈی سی کے وجود اور ’سنٹرل ایڈمیشن پالیسی‘ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جو سات رکنی عبوری کمیٹی تشکیل دی اُس کی سربراہی جسٹس شاکر اللہ جان کریں گے جبکہ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف ’پی ایم ڈی سی‘ سے متعلق قانون سازی میں معاونت کی غرض سے کمیٹی کا حصہ بنائے گئے ہیں۔ اِس اعلیٰ اختیاراتی عبوری کمیٹی کو نجی میڈیکل کالجوں کی جانچ پڑتال (انسپکشن) کا اختیار بھی حاصل ہوگا‘ جو خوش آئند اقدام ہے اُور اُمید ہے کہ سپرئم کورٹ کی اِس دلچسپی اور باریک بین خلوص نیت کوشش سے خاطرخواہ بہتری آئے گی۔ ’’سمجھ میں زندگی آئے کہاں سے۔۔۔ پڑھی ہے یہ عبارت درمیاں سے۔ (جان ایلیا)۔‘‘

پاکستان میں رجسٹرڈ طبی معالجین کی تعداد ایک لاکھ چونسٹھ ہزار اور ماہر (اسپیشلسٹ) ڈاکٹروں کی تعداد سینتالیس ہزار ہے جبکہ پچیس ہزار ماہر ڈاکٹر پاکستان چھوڑ کر بیرون ملک جا چکے ہیں! 

زوال نہیں تو کیا ہے کہ معاشرے کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے‘ ذہین‘ باشعور‘ مفید اور زمینی حقائق کو سمجھنے والوں نے خود کو انجان بنا رکھا ہے اور وہ ایک ایسے ماحول سے دل برداشتہ ہیں جسے ٹھیک کرنا خود اُنہی کی ذمہ داری ہے۔ ’طب کی تعلیم کا انتظام اور اِس کا معیار برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے‘ اِس سے آئینی فرض سے انکار ممکن نہیں لیکن تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہم نے سب کچھ حکومت پر ڈال دیا ہے۔ سرکاری خرچ پر ڈاکٹری کی عملی تربیت اور مہارت حاصل کرنے کے بعد جو ڈاکٹر پاکستان کو چھوڑ کر جاتے ہیں‘ انہیں اپنے ضمیر کے سامنے بھی جواب دینا چاہئے کہ اُن پر مٹی کا کتنا قرض واجب الاداء ہے۔ یہ امر بھی افسوسناک ہے کہ پچیس ہزار سے زائد ڈاکٹر بیرون مل جانے کے باوجود بھی حکومت کو نہیں بلکہ عدالت عظمی کو لاحق تشویش سامنے آئی ہے۔ اگر مذکورہ پچیس ہزار ڈاکٹر بیرون ملک نہ بھی گئے ہوتے تب بھی پاکستان میں ماہر ڈاکٹروں کی تعداد حسب آبادی کم ہے جس پر قابو پانے کے لئے حکومت کے پاس منصوبہ بندی نہیں۔ ڈاکٹر اگر بیرون ملک جا رہے ہیں تو اس کی وجہ وہاں کے بہتر ملازمتی طریقۂ کار اور حالات کار ہیں جن میں اُنہیں مالی طور پر کشش دکھائی دیتی ہے۔ 

پاکستان میں ڈاکٹروں کو جان و مال اور ملازمتی تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ اہلیت کی بنیاد پر اگر محکمانہ ترقی کا نظام وضع کر دیا جائے تو کوئی وجہ نہیں ہوگی کہ کوئی اپنا ملک اور آبائی شہر چھوڑ کر چلا جائے۔
سپرئم کورٹ کے سامنے زیرغور معاملہ ’طب کی تعلیم‘ اور ’نجی اداروں کی من مانیوں‘ کا ہے۔ عدالت عظمی نے بظاہر عزم کر رکھا ہے کہ میڈیکل کی تعلیم دینے کے لئے مقرر کردہ فیسوں سے زائد وصولیاں کرنے اور ایڈمیشنز دینے کے لئے عطیات پر عائد پابندی کا کھلم کھلا مذاق اڑانے والوں سے نمٹا جائے گا اُور اِس عدالتی مؤقف کی حمایت خود ’پی ایم ڈی سی‘ کے وکیل نے بھی کی ہے کہ ’نجی میڈیکل کالجز کی جانب سے مقررہ شرح کے مطابق داخلہ فیسیوں اور اِن کے علاؤہ عطیات کے نام پر وصولیاں غلط اقدام ہے۔‘ پی ایم ڈی سی کی جانب سے میڈیکل کی سالانہ فیس 6 لاکھ 42 ہزار روپے مقرر ہے جبکہ نجی میڈیکل کالجز فی طالب علم سالانہ فیس کی مد میں 9 سے 15 لاکھ روپے وصول کر رہے ہیں۔ سالانہ فیسوں اور دیگر مدوں میں اضافی وصولیاں کرنے والے باقاعدہ رسیدیں دی جاتی ہیں۔ 

پاکستان میں طب کی تعلیم کا معیار اُور نجی اداروں کی حاکمیت و سرپرستی بدقسمتی سے دانستہ طور پر کی جا رہی ہے اور حکومتوں نے ہمیشہ عوام کے مقابلے سرمایہ داروں کے مفادات کا زیادہ تحفظ کیا ہے۔ یہ طرزعمل ناقابل قبول ہے۔ طب کی تعلیم حاصل کرنے والوں کو عملی زندگی میں جن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے نجی میڈیکل کالجوں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء و طالبات اُن کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ اگر پاکستان میں ڈاکٹروں اور ماہر ڈاکٹروں سمیت آبادی کے تناسب سے طبی سہولیات کی کمی ہے تو اِس میں اضافہ حکومتی وسائل سے خود حکومت ہی کو کرنا چاہئے۔ 

عمومی تعلیم کی طرح طب کی پیشہ وارانہ تعلیم بھی نجی شعبے کے حوالے کرنے سے پیدا ہونے والی خرابیوں پر تعجب کا اظہار کرنے کی بجائے غلطی سے رجوع ضروری ہے اور ایسے تمام نجی میڈیکل کالجز جو ’پی ایم ڈی سی‘ کے بنائے ہوئے قواعد و ضوابط پر پورا نہیں اُترتے اُنہیں بناء رعایت ختم میں تاخیر و کوتاہی کا ازالہ ہونا چاہئے! معاملہ سالانہ فیسوں کی زائد وصولی سے زیادہ گھمبیر ہے کیونکہ طب کی تعلیم کا معیار بھی گر رہا ہے۔ 

ذرائع ابلاغ میڈیکل کی تعلیم سے جڑی بے قاعدگیوں کی مسلسل رپورٹ کرتے آ رہے ہیں لیکن ماضی میں پاکستان پیپلزپارٹی (پارلیمینیٹرین) سے تعلق رکھنے والے اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے دست راست (ڈاکٹر) عاصم حسین اور پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی موجودہ میں کسی کا احتساب کا خوف نہیں۔ جب تک اربوں کی اِس مالی و انتظامی بدعنوانیوں کی جڑ تک نہیں پہنچا جائے گا اور ماضی و حال میں کی گئی خردبرد (فنانشیل کک بیکس) ضبط نہیں کئے جائیں گے‘ اُس وقت تک معاملات کی درستگی محض عدالتی سماعتوں اور عبوری انتظامیہ تعینات کرنے سے ممکن نہیں ہوگی۔ 

سمجھ لیجئے کہ خواہش اور عدالت چاہے جتنی اور جس قدر بھی بڑی ہو لیکن بناء ’سزا و جزا‘ اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کے کڑے احتساب‘ مالی بدعنوانیوں اور انتظامی بے قاعدگیوں کے جاری سلسلے روکے نہیں جا سکیں گے۔
۔