Showing posts with label BDS. Show all posts
Showing posts with label BDS. Show all posts

Sunday, October 24, 2021

Medical Admissions: Ambiguity vs Clarity

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

اِبہام سے اِبہام تک

طب (میڈیکل اینڈ ڈینٹل) کے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں داخلہ حاصل کرنے کے لئے جس اضافی اہلیت کو لازمی قرار دیا گیا ہے اُسے ’نیشنل میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز ایڈمشن ٹیسٹ (MDCAT)‘ کہا جاتا ہے۔ اِس خصوصی امتحان میں حصہ لینا طب کی تعلیم حاصل کرنے کے ہر خواہشمند طالب عمل کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ رواں برس (22-2021ء) کے لئے ایم ڈی کیٹ امتحان کا انعقاد پورے ملک میں 30 اگست سے 30 ستمبر کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر ہوا لیکن اِس امتحانی طریقہ کار اُور اِس کے مراحل سے متعلق اعتراضات رکھنے والوں نے لاہور کی عدالت ِعالیہ (ہائی کورٹ) سے رجوع کر رکھا تھا جس کی وجہ سے ایک ایسی غیریقینی کی صورتحال درپیش تھی کہ داخلے کے خواہشمند اُور میڈیکل و ڈینٹل کالجز اپنی اپنی جگہ پریشان تھے اُور کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ کیا ہونے والا ہے!

 22 اکتوبر 2021ءکے روز لاہور ہائی کورٹ نے مذکورہ امتحانی مرحلے (ایم ڈی کیٹ) کے خلاف ایک سے زیادہ درخواستوں (پٹیشنز) کو خارج کر دیا۔ درخواست گزاروں نے ’پاکستان میڈیکل کمیشن ایکٹ 2020ئ‘ اُور ’پاکستان میڈیکل کمیشن کنڈکٹ آف ایگزیمنیشن ریگولیشنز 2021ئ‘ کی متعدد شقوں کا حوالہ دیا تھا جن کی مبینہ طور پر ایم ڈی کیٹ امتحان میں خلاف ورزی کی گئی‘ اِس لئے عدالت نے ایم ڈی کیٹ امتحان کو کالعدم قرار دے لیکن ’لاہور ہائی کورٹ‘ نے درخواست گزاروں کے مؤقف سے اتفاق نہیں کیا اُور اب صورتحال واضح ہو چکی ہے کہ ’ایم ڈی کیٹ‘ کے نتائج جہاں اُور جیسے تھے اُنہیں درست تسلیم کر لیا گیا ہے اُور اِس کے بعد اگلا مرحلہ یعنی میڈیکل و ڈینٹل کالجوں میں داخلے شروع ہوں گے جس کے لئے پاکستان میڈیکل کمیشن نے پہلی مرتبہ صوبوں کو خودمختار بنایا ہے کہ اگر وہ میڈیکل و ڈینٹل کے نئے تعلیمی سال میں داخلوں کے لئے اپنے ہاں قواعد و ضوابط بنانا چاہیں تو ایسا کر سکتے ہیں۔ 

پاکستان میڈیکل کمیشن کے سربراہ (صدر) ڈاکٹر ارشد تقی نے بائیس اکتوبر ہی کے روز صوبائی حکومتوں کو اپنے ہاں نجی میڈیکل کالجوں سے متعلق قواعد سازی کا اختیار دیا تاہم اُنہوں نے یہ بات بھی واضح کی کہ اِس اختیار میں اہلیت (میرٹ) پر سمجھوتا تسلیم نہیں کیا جائے گا لیکن یہاں مسئلہ (درپیش مرحلہ) یہ ہے کہ امتحانی بورڈز کی جانب سے زیادہ نمبرات اُور ایم ڈی کیٹ میں بھی زیادہ نمبر حاصل کر کے کامیاب طالب علموں کی اکثریت سرکاری و نجی میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لئے درخواست گزار ہے لیکن تعلیمی اداروں میں نشستیں محدود ہیں جیسا کہ سندھ میں ساڑھے سات سے آٹھ ہزار طلبہ کامیاب ہوئے لیکن وہاں کی میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں نشستوں کی کل تعداد تین ہزار ہے اُور اِسی قسم کی زیادہ سنگین صورتحال خیبرپختونخوا میں بھی دیکھنے کو مل رہی ہے کہ یہاں بھی سرکاری میڈیکل و ڈینٹل میں داخلے خواہشمندوں اُور اہلیت رکھنے والوں کی تعداد مجموعی نشستوں 1620 سے درخواست گزاروں کی تعداد ہزاروں گنا زیادہ ہے۔ خیبرپختونخوا میں سولہ نجی جبکہ 14 سرکاری میڈیکل کالجز ہیں جن نشستوں کی کل تعداد 1486 ہے جو گزشتہ تعلیمی سال (2020-21ئ) کے مقابلے 104 نشستیں زیادہ ہیں۔ یہ اضافہ پاکستان میڈیکل کمیشن نے فروری 2021ءمیں کیا تھا جبکہ اِس موقع پر قبائلی (پسماندہ) اضلاع سے تعلق رکھنے والوں کے لئے مختص نشستوں کی تعداد دگنی (136) کر دی گئی تھی۔ خیبرپختونخوا کے میڈیکل کالجوں کے 10 میڈیکل اُور 4 ڈینٹل کالجوں میں کل 1382 نشستیں ہیں جن میں سے 922 اوپن میرٹ‘ 136 قبائلی اضلاع‘ 130 جنرل سلیف فنانس‘ 43 غیرملکی سلیف فنانس‘ 29 بلوچستان کے قبائلی علاقوں‘ 34 آزاد جموں و کشمیر‘ 12 افغان شہریت رکھنے والوں‘ 6 معذور افراد‘ 4 مقبوضہ کشمیر اُور دیگر پسماندہ اضلاع جیسا کہ چترال‘ بونیر‘ ٹانک‘ دیر‘ شانگلہ وغیرہ سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لئے مختص ہیں۔

بنیادی بات یہ ہے کہ میڈیکل و ڈینٹل کالجوں کی 460 نشستیں مختلف حوالوں سے مختص ہیں اُور یہ تعداد چار یا پانچ میڈیکل و ڈینٹل کالجوں کے مساوی بنتی ہیں۔ اصولاً نشستوں کی تعداد میں حسب آبادی اضافہ ہونا چاہئے کیونکہ ایک ایسی صورت میں جبکہ طلبہ کی اکثریت اپنے خرچ پر یعنی سالانہ پندرہ لاکھ روپے فیس بھی ادا کرنے کے لئے تیار ہے لیکن اُنہیں پاکستان میں داخلہ نہیں ملتا اُور وہ مجبوراً بیرون ملک داخلہ لیتے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف بیش قیمت ذہانت بلکہ زرمبادلہ بھی بیرون ملک منتقل ہوتا ہے۔ طب کی تعلیم سے متعلق بندوبست جس قدر واضح بنانے کی کوشش کی جاتی ہے یہ اُسی قدر ابہام میں الجھ جاتا ہے۔

ابہام در ابہام کی یہ صورتحال غور و خوض کی متقاضی ہے کہ طب (میڈیکل و ڈینٹل) کی تعلیم اُور اِس سے متعلق بندوبست زیادہ وسیع (بڑے پیمانے) پر کیا جائے۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ صوبوں کو خاطرخواہ خودمختاری نہیں دی جا رہی۔ پاکستان میڈیکل کمیشن نے صوبوں کو یہ اختیار دے رکھا ہے کہ وہ نئے تعلیمی سال (2022ئ) کے لئے نجی میڈیکل کالجوں کے داخلہ قواعد اپنے طور پر بھی وضع کر سکتے ہیں تو اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو یہ اختیار کیوں نہیں دیا جاتا کہ وہ اپنے طور پر نجی و سرکاری میڈیکل کالجوں کے قیام کی بھی منظوری دے سکیں؟

....





Sunday, September 26, 2021

Education from exams to protest

 ژرف ِنگاہ .... شبیرحسین اِمام

اہم موڑ

طب کی بنیادی تعلیم (ایم بی بی ایس اُور بی ڈی ایس) حاصل کرنے خواہشمند طلبا و طالبات کو اپنی ذہانت‘ اہلیت اُور برتری ثابت کرنے کے لئے 2 امتحانی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ پہلا 10ویں کلاس (میٹرک) کے بعد شروع ہوتا ہے اُور اِس 2 سالہ دور (گیارہویں اُور بارہویں جماعتوں) میں اُنہیں ایڑی چوٹی کا زور لگانا ہوتا ہے تاکہ لازمی مضامین کے علاو¿ہ فزکس (علم ِطبیعات)‘ کیمسٹری (علم ِکیمیا) اُور بیالوجی (علم ِحیاتیات) میں نمایاں نمبر حاصل کرتے ہوئے متعلقہ امتحانی بورڈ میں خصوصی حیثیت سے کامیاب ہوں۔ اگر یہ کہا جائے کہ کسی طالب علم کی زندگی کے یہی 2 سال اُس کی باقی ماندہ عملی زندگی کا تعین کرتے ہیں تو غلط نہیں ہوگا۔ ’ایف اے / ایف ایس سی‘ طلبہ کی زندگی کا ”اہم ترین موڑ“ سمجھا تو جاتا ہے لیکن اِس کے تحفظ اُور درست رہنمائی کے علاو¿ہ کامیاب ہونے والے طلبہ کی تعداد کے مطابق داخلوں کا اہتمام و انتظام نہیں کیا جاتا۔ ہر سال طب و دیگر تعلیمی شعبوں میں داخلہ حاصل کرنے کے خواہشمندوں کی بڑی تعداد (اکثریت) داخلوں سے محروم رہ جاتی ہے لیکن بالخصوص طب کے تعلیمی اداروں میں نشستوں کی تعداد میں حسب آبادی و ضرورت (خاطرخواہ) اضافہ نہیں کیا جاتا تو آخر تعلیمی اداروں کی تعداد یا اِن میں ہر سال نشستوں کی تعداد بتدریج بڑھانا کس کی ذمہ داری ہے اُور اِس سلسلے میں عوام کا دیرینہ مطالبہ کیوں سُنا اَن سُنا کیا جا رہا ہے۔ طب کی تعلیم سے متعلق حکومتی بندوبست عوام کی نظروں میں خرابیوں کا مجموعہ ہے اُور یہی وجہ ہے کہ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والوں کے علاو¿ہ اندرون ملک زیرتعلیم طلبا و طالبات اُور ڈاکٹر بننے کے بعد میڈیکل کمیشن کے پیچیدہ و مالی لحاظ سے مہنگے انتظامی امور کے بارے شکایت کرنے والوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ حالیہ احتجاج اُن طلبہ کی جانب سے جاری ہے جو اپنے والدین کے ہمراہ چاروں صوبوں سے ’اسلام آباد‘ میں میڈیکل کمیشن کے سامنے جمع ہوئے۔ سینکڑوں کی تعداد میں اِن احتجاج کرنے والوں نے پچیس اُور چھبیس ستمبر کی ساری رات ’پاکستان میڈیکل کمیشن‘ کے صدر دفتر کے سامنے کھلے آسمان تک بسر کی۔ اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے اُور تھک ہار کر میڈیکل کمیشن کے سامنے سڑک اُور ملحقہ سبزہ زار پر سو گئے تاہم اُنہوں نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ مبینہ ’بے حس میڈیکل کمیشن‘ کے سامنے ہار نہیں مانیں گے اُور احتجاج جاری رکھتے ہوئے اِس کا دائرہ بھی بڑھایا جائے گا۔ آخری خبریں آنے تک ڈاکٹروں کی ملک گیر نمائندہ تنظیم ’پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA)‘ نے بھی طلبہ کی حمایت کر دی ہے اُور ’پی ایم اے پنجاب‘ کے کئی رہنماؤں نے طلبہ اُور اُن کے والدین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے دھرنے میں شرکت بھی کی ہے۔

وفاقی ادارے (پاکستان میڈیکل کمیشن) کے تعلقات کسی بھی فریق سے مثالی نہیں۔ طب کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے علاو¿ہ میڈیکل کمیشن کے پاس رجسٹرڈ ڈاکٹر‘ طب کی تدریس کرنے والے اساتذہ‘ اندرون و بیرون ملک طب کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اُور نجی تعلیمی ادارے اپنی اپنی جگہ یکساں فریادی (نوحہ کناں) ہیں۔ اِس صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اِس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مذکورہ سبھی فریقین نے عدالتوں سے رجوع کر رکھا ہے اُور ’پاکستان میڈیکل کمیشن‘ کے قیام اُور اِس قیام کو جس آئین سے تحفظ دیا گیا ہے اُس کے خلاف حالیہ (تازہ ترین) مقدمہ رواں ہفتے (چوبیس ستمبر دوہزاراکیس) عدالت ِعالیہ (پشاور ہائی کورٹ) میں درج ہوا ہے جس میں درخواست گزار جواد افضل وغیرہ نے ”پاکستان میڈیکل کمیشن قانون 2020ئ“ کو غیرمناسب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ قانون آئین پاکستان (1973ئ) کی مختلف شقوں کے خلاف ہے بالخصوص یہ 18ویں آئینی ترمیم سے بھی متصادم ہے جس میں صوبوں کو تعلیم جیسے شعبے میں فیصلے کرنے کی اجازت (آئینی خودمختاری) دی گئی تھی۔ مقدمہ درج ہو چکا ہے اُور سماعت کے لئے ’یکم اکتوبر‘ کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ اِس مقدمے (مو¿قف) کی خاص بات طلبہ کی اہلیت جانچنے کے معیار (MDCAT) نامی امتحان ہے‘ جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اِس کی خاطرخواہ تیاری کے لئے طلبہ کو وقت نہیں دیا گیا اُور پے در پے امتحانات کی وجہ سے طلبہ شدید ذہنی دباو¿ کا شکار ہوتے ہیں۔ اگرچہ مقدمے میں یہ نکتہ شامل نہیں کہ طلبہ کی اہلیت جانچنے کے لئے اُنہیں ایک سے زیادہ امتحانی مراحل سے واسطہ پڑتا ہے جو غیرضروری اُور نامناسب تعلیمی بندوبست ہے اصولاً بورڈ امتحان ہی کسی طالب کی اہلیت و قابلیت جانچنے کے لئے کافی ہے اُور اگر بورڈ امتحان ’کسی وجہ سے‘ کافی نہیں تو پھر اِسے جاری رکھنے کا مقصد سمجھ و ضرورت سے بالاتر ہے۔ اُمید کے مقدمے کے کسی مرحلے پر اِس بارے بھی غور ہوگا کہ آخر میڈیکل و ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے لئے کسی اضافی امتحان کی ضرورت (طلب) ہی کیوں پیش آتی ہے؟

پشاور ہائی کورٹ کے سامنے میڈیکل کمیشن سے متعلق دوسرا اعتراض (عذر) یہ پیش گیا ہے کہ ’ایم ڈی کیٹ‘ نامی (تعلیمی اہلیت جانچنے کا) امتحانی مرحلہ پانچ مختلف نصابوں (چار صوبوں اُور وفاقی تعلیمی نصاب) پر مشتمل ہے‘ جس میں کامیابی کے لئے کم سے کم 65 فیصد نمبر حاصل کرنا ضروری ہیں۔ یہ پینسٹھ فیصد نمبر بورڈ امتحان میں پاس ہونے کے مقررہ معیار سے زیادہ رکھے گئے ہیں۔ درخواست گزاروں کا مو¿قف ہے کہ کورونا وبا سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کی وجہ سے درس و تدریس کا عمل بار بار تعطل کا شکار رہا ہے اُور جبکہ اِس بات کا اعتراف خود وفاقی و صوبائی حکومتیں بھی کرتی ہیں تو اِس کے باوجود میڈیکل و ڈینٹل تعلیم کے خواہشمند طلبا و طالبات سے ’پاسنگ مارکس‘ کم کرنے کی صورت رعایت کیوں نہیں کی گئی؟ تیسرا نکتہ صوبائی خودمختاری سے متعلق ہے کہ طب (میڈیکل و ڈینٹل) کی تعلیم میں داخلوں کے لئے اہلیت کا امتحان (ایم ڈی کیٹ) منعقد کرنے کا اختیار صوبوں کو ہونا چاہئے کہ وہ امتحان کے نصاب‘ امتحان کی تاریخ اُور امتحان کے آن لائن یا آف لائن طریقہ¿ کار سے متعلق فیصلہ خود کریں۔ ذہن نشین رہے کہ رواں برس ہونے والے مذکورہ ’ایم ڈی کیٹ امتحان‘ کے نتائج ایسے طلبا و طالبات کے لئے مایوسی کا باعث بنے ہیں جو سکول و بورڈ امتحانات کے دوران یعنی اپنے پورے تعلیمی عرصے (ایجوکیشن کیئریر) میں نمایاں رہے لیکن وہ ’ایم ڈی کیٹ‘ میں کامیاب نہ ہو سکے یا اِس امتحان کو بھی امتیازی نمبروں سے پاس نہ کر سکے۔ یہ صورتحال صرف طلبا و طالبات ہی کے لئے نہیں بلکہ والدین اُور اساتذہ کے لئے پریشان کن ہیں جنہوں نے بچوں کے اچھے مستقبل کے خواب میں اپنا پیٹ کاٹ کر اُور اپنی ضروریات کی قربانیاں دے کر سرمایہ کاری کی لیکن اُن کے سامنے ایک ’ناقابل یقین نتیجہ‘ اُور سردمہری کا مظاہرہ کرنے والا ’بے رحم ادارہ‘ موجود ہے‘ جس پر کسی مہذب و شائستہ اُور آئینی حقوق و اخلاقی ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے شکایت یا مقدمہ درج کرنے اُور کسی بھی نوعیت کے احتجاج کا کوئی اثر نہیں ہو رہا۔

وفاقی اُور صوبائی سطح پر فیصلہ سازوں کو لاکھوں کی تعداد میں طب کی تعلیم کے خواہشمند طلبہ اُور اِن کے والدین میں پائی جانے والی تشویش و پریشانی کا سدباب کرنے کے لئے خاطرخواہ فوری اُور باعث ِاطمینان عملی اقدامات کرنے چاہیئں۔

....





Saturday, November 11, 2017

Nov 2017: Medical Education Standard in KP at it's own, at the lowest level!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
محرومِ مراتب!
طب کے شعبے میں ’بیچلرز آف ڈینٹسٹری (بی ڈی ایس)‘ کا تعلق منہ اور دانتوں کے امراض سے ہے اور اِس کی سند ’ایف ایس سی‘ کے بعد ’چار سالہ کورس‘ اور ’ایک سالہ‘ عملی تربیت (ہاؤس جاب)‘ کے مکمل کرنے پر طلباء و طالبات کو دی جاتی ہے۔ انسانی صحت میں دانتوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں کیونکہ صحت مند مسوڑوں اور دانتوں عمومی جسمانی صحت کا انحصار رہتا ہے۔ 

دانتوں کی صفائی اُور دیکھ بھال کے بارے میں اسلام کے ہاں بھی خصوصی احکامات ملتے ہیں‘ جن میں مسواک کے استعمال کی بطور خاص تلقین شامل ہے۔ دانتوں کی تعلیم اور بعداز تعلیم متعلقہ ڈاکٹروں کو پیشہ ورانہ اعلیٰ تعلیم کے مواقع اُور اُن کی خدمات سے کماحقہ استفادہ کے حوالے سے امور صوبائی حکومت کی توجہات کے متقاضی ہیں۔ ذہن نشین رہے کہ خیبرپختونخوا میں تین سرکاری (پبلک) ڈینٹل کالجز ہیں جن میں ’خیبر کالج آف ڈینٹسٹری پشاور‘ باچا خان ڈینٹل کالج مردان اور ایوب میڈیکل کالج (ڈینٹل سیکشن) ایبٹ آباد‘ شامل ہیں جہاں بالترتیب پچاس‘ پچیس اور پچیس طلبہ و طالبات کو ہر سال داخلہ دیا جاتا ہے جبکہ نجی شعبے میں چھ ڈینٹل کالجز ہیں‘ اِن میں سردار بیگم ڈینٹل کالج پشاور (75 طلبہ سالانہ)‘ فرنٹیئر میڈیکل کالج ( 50 طلبہ سالانہ)‘ پشاور ڈینٹل کالج ( 50 طلبہ سالانہ)‘ ویمن میڈیکل کالج (50 طالبات سالانہ)‘ ایبٹ آباد انٹرنیشنل میڈیکل کالج (50 طلبہ سالانہ) اور ’رحمان کالج آف ڈینٹیسٹری پشاور‘ میں سالانہ 50 طلبہ کو داخلے دیئے جاتے ہیں۔ یوں خیبرپختونخوا میں سالانہ تقریباً ’425 طلباء و طالبات‘ ڈینٹل کی تعلیم کا وہ اِبتدائی مرحلہ عبور کرتے ہیں‘ جس کے بعد اِس شعبے میں اعلیٰ تعلیم کے مزید مراحل بھی مکمل کئے جاتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ قریب ’تین کروڑ آبادی‘ کے لئے خیبرپختونخوا میں ’ڈینٹل ایجوکیشن‘ کے مواقع (حسب آبادی و ضرورت) کم ہیں اور سرکاری سرپرستی میں ’ڈینٹل کالجز‘ کی تعداد اُور نشستوں میں کم سے کم اِس قدر اِضافہ ہونا چاہئے کہ سرکاری اُور نجی شعبے میں زیرتعلیم طلباء و طالبات کی تعداد مساوی ہو جائے۔ 

فی الوقت ’سرکاری کالجز‘ میں ایک سو اُور نجی کالجوں میں سالانہ ’تین سو پچیس‘ طلباء و طالبات زیرتعلیم رہتے ہیں جبکہ ’ایم بی بی ایس‘ میں طلباء و طالبات کی سالانہ مجموعی تعداد 1800 ہے۔ دوسری اہم ضرورت ’ڈینٹل کالجز‘ سے فارغ التحصیل اور ایک سال کی عملی تربیت (ہاؤس جاب) مکمل کرنے والے ’ڈاکٹروں‘ کا موازنہ اگر میڈیسن بیچلر آف سرجری (ایم بی بی ایس) خاطرخواہ اہمیت نہیں دی جاتی۔ حسن اِتفاق ہے کہ خیبرپختونخوا میں علاج معالجے کی ضلعی سطح پر سہولیات کے نگرانوں (ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز) کی تعیناتیاں کرتے ہوئے نظر انتخاب ہمیشہ ’اِیم بی بی ایس‘ ڈاکٹروں پر ہی ٹھہرتی ہے! جس سے ’بی ڈی ایس‘ ڈاکٹروں میں ایک خاص قسم کا ’احساس محرومی‘ پایا جاتا ہے اور وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اُنہیں بھی یکساں مقام دیا جائے۔

خیبرپختونخوا میں ’ڈینٹل اِیجوکیشن‘ کا شعبہ جن چند بنیادی مسائل سے دوچار ہے اُن میں سرکاری و نجی کالجوں کا الگ الگ معیار تعلیم بھی ہے۔ سرکاری کالجوں کا الحاق ’خیبرمیڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو)‘ کے ساتھ ہونے کی وجہ سے اُن کے امتحانات کی براہ راست نگرانی اور مارکنگ ’کے ایم یو‘ کرتا ہے جہاں تعلیم و قابلیت کے مطابق دیئے جانے والے نمبر نجی کالجوں کے مقابلے کم ہوتے ہیں۔ 

نجی کالج اپنے طلباء و طالبات کی قابلیت کا تعین چونکہ خود کرتے ہیں‘ اِس لئے اُن کے ہاں زیرتعلیم طلبہ اِمتیازی نمبروں سے کامیاب قرار پاتے ہیں اُور ملازمتوں میں نمبروں کی بنیاد پر میرٹ طے ہونے کی وجہ سے سرکاری کالجوں سے تعلیم حاصل کرنے والے پیچھے لیکن نجی کالجوں والے آگے نکل جاتے ہیں لہٰذا ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ نجی کالجوں کا اِلحاق بھی ’’خیبرمیڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو)‘‘ سے کیا جائے تاکہ ڈینٹل کے شعبے میں زیرتعلیم طلباء و طالبات کے مابین یکساں مقابلے کی فضاء پیدا ہو اُور ’ڈینٹل تعلیم‘ کا معیار بلند ہو۔ ڈینٹل کالجز کا امتحانی نگران ادارہ ’کے ایم یو‘ ہونا چاہئے اور امتحان کا مرکزی نظام (سنٹرلائز) ہونا چاہئے۔ اِسی طرح خیبرپختونخوا کے میدانی اور بالائی علاقوں میں موسموں کا فرق ہے‘ جس کی وجہ سے میڈیکل و ڈینٹل کالجز کے نصابی سال الگ الگ تاریخوں پر شروع اور ختم ہوتے ہیں۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ میدانی و بالائی (پہاڑی) علاقوں کے لئے الگ الگ نگران میڈیکل یونیورسٹیز مقرر کی جائیں کیونکہ میدانی علاقوں میں چار ماہ جبکہ پہاڑی علاقوں میں ڈیڑھ سے دو ماہ کی تعطیلات ہوتی جس کی وجہ سے میدانی علاقوں کے طلباء و طالبات کو تیاری کے لئے زیادہ وقت (فرصت) میسر آتی ہے۔ اِس سلسلے میں خیبرپختونخوا حکومت کو ہزارہ ڈویژن کے لئے الگ میڈیکل یونیورسٹی کے قیام کا جلد اعلان کرنا چاہئے جو عرصہ دراز سے زیرغور ہے اور ایک قابل عمل منصوبہ ناگزیر وجوہات کی بناء پر سردخانے کی نذر کردیا گیا ہے۔ سیاسی فیصلہ سازوں کو عقاب کی نظر سے معاملہ اپنے ہاتھ میں لینا ہوگا کیونکہ افسرشاہی (بیوروکریسی) نہ تو کسی کے آگے جوابدہ ہے اور نہ ہی اُسے آئندہ عام انتخابات یا کسی بھی مرحلے پر کارکردگی کے احتساب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی جانب سے رواں برس (دوہزارسترہ کے لئے) میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں داخلے کے لئے کم سے کم نمبروں کی شرط ’’83.4 فیصد‘‘ مقرر کی ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں اِس اہلیت پر پورا اُترنے والے ہزاروں طلبہ و طالبات باوجود خواہش و کوشش بھی داخلہ حاصل نہیں کر رہے تو یہ بات صوبائی حکومت کے لئے چیلنج ہونی چاہئے کہ طب کی تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند ہزاروں طلباء و طالبات کے لئے ’میڈیکل کے متعلقہ شعبوں میں تعلیم کا بندوبست کیا جائے۔‘ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ مالی سکت رکھنے والے ہی نجی میڈیکل کالجز میں داخلہ لے سکتے ہیں! کرپشن (مالی بدعنوانیوں) بھی اس لئے عام ہیں کیونکہ معاشرے میں ہر خوبی حتی کہ تعلیم بھی خریدی جا سکتی ہے! 

اے کاش تعلیم کاروبار اور صنعت نہ ہوتا۔ کیا صوبائی مالیاتی ادارے ’بینک آف خیبر‘ کے ذریعے ’اعلیٰ تعلیم کے لئے بناء سود قرضہ جات کا اجرأ‘ نہیں کیا جاسکتا؟ اگر ہم اپنی نوجوان نسل پر بھی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں تو کیا سڑکیں‘ گلیاں اور نالیاں تعمیر کرنے سے ہمارا مستقبل محفوظ ہو سکتا ہے؟
۔