Showing posts with label Sindh. Show all posts
Showing posts with label Sindh. Show all posts

Tuesday, February 21, 2017

Feb2017: Peace in Karachi, at any cost.

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
امن: بہرقیمت!
کراچی میں امن و امان کی صورتحال مثالی نہیں لیکن اگر اِس کا موازنہ گزشتہ چند دہائیوں سے کیا جائے تو غیرمعمولی بہتری آئی ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے‘ بے ہنگم آبادی کے اِس امیر شہر کو دہائیوں تک نظرانداز کرنے کے سبب مسائل بڑھتے بڑھتے بحرانوں کی شکل اختیار کرتے رہے‘ جن میں نسلی اُور لسانی بنیادوں پر سیاسی مفادات کے لئے منظم جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی‘ فرقہ واریت‘ سبقت و مقبولیت کے لئے غیرصحت مند مقابلے کا رجحان‘ اسلحے‘ منشیات کی خریدوفروخت اُور کالا دھن کمانے‘ بیرون ملک منتقلی اُور سرکاری محکموں میں حد سے زیادہ سیاسی مداخلت کی ایک سے بڑھ کر ایک مثال موجود ہے مقامی افراد کی اکثریت کا کہنا ہے کہ ’’اِن منفی رجحانات میں اگرچہ بڑی حد تک کمی آئی ہے لیکن صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں ہی کو تن تنہا ’امن کی بحالی‘ کے لئے ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ سیاسی حکمرانوں کو بھی اپنی ترجیحات اور فیصلوں میں کراچی کو اہمیت و ترجیح دینا ہوگی۔
روشنیوں کے شہر کراچی میں خطرات اور امن کی بحالی کے امکانات (توقعات اُمیدیں اور وسائل پر انحصار) کم نہیں لیکن زندگی کی رونقیں جس تیزی (رفتار) سے بحال ہو رہی ہیں‘ اُس سے عام آدمی کا اعتماد بڑھا ہے۔ پاکستان رینجرز سندھ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل محمد سعید پُرامید ہیں کہ قانون شکن اور دہشت و انتہاء پسندی پھیلانے والے عناصر کے خلاف جاری کاروائیوں (آپریشن) میں توقعات سے بڑھ کر کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں‘ جن کا ثبوت یہ ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں 91فیصد جبکہ دہشت گردی کے واقعات میں 72 فیصد کمی آئی ہے! کراچی آپریشن میں اب تک پندرہ سو تیرہ دہشت گرد گرفتار ہوئے ہیں۔ نو ہزار سے زائد چھاپوں کی داستان میں دس ہزار سات سو سولہ کی تعداد میں ہتھیار (اسلحہ) بھی برآمد کرنے کا دعویٰ ہم جیسے صحافیوں کے لئے یقین کرنے کا ’’کافی جواز‘‘ تو ہو سکتا ہے لیکن کراچی کے عام آدمی کی نظر میں داخلی طاقتوں سے نمٹنے کے لئے جس طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے وہ کچھ ضرورت سے زیادہ ہے اُور اگر قانون نافذ کرنے والے ’خفیہ اُور ظاہری معلومات‘ کی بنیاد پر ’آپریشنز‘ کئے جائیں تو مطلوبہ اہداف اور نتائج کم وقت میں حاصل ہو جائیں گے۔ رینجرز کا دعویٰ زمینی حقائق کی تصدیق کرتا ہے کہ بھتہ خوری اور اغوأ برائے تاوان کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہیجن کی شرح بتدریخ 93فیصد اور 86فیصد کم ہونا قطعی معمولی بات ہے! اب کراچی میں ’علاقہ غیر (نوگو ایریاز)‘ نہیں رہے۔‘‘ وفاق کے زیرکنٹرول کم و بیش ایک لاکھ افرادی قوت پر مبنی نیم فوجی دستے ’پاکستان رینجرز‘ کی دو الگ الگ شاخیں پنجاب اور سندھ میں فعال ہیں‘ جن کی ذمہ داریوں کا احاطہ ’پاکستان رینجرز آرڈیننس 1959ء‘ میں کیا گیا ہے۔ واہگہ بارڈر لاہور پر قومی پرچم سرنگوں کرنے کی دلچسپ موسیقیت بھری تقریب دیکھنے کا اتفاق جس کسی کو بھی ہوا‘ وہ ’پنجاب رینجرز‘ کی سرحدی و جغرافیائی حفاظت سے جڑی ذمہ داریوں اور کارکردگی کے پہلوؤں سے آگاہ ہے لیکن رینجرز کا بنیادی مقصد بھارت کے ساتھ صوبہ سندھ و پنجاب میں بالترتیب 912 اور 1200 کلومیٹرز طویل جنوبی سرحد کی حفاظت کرنے تک محدود نہیں رہا لیکن سندھ کے صدر مقام کراچی میں صدر دفتر (ہیڈکواٹر) رکھنے والی رینجرز کو اِس شہر میں امن و امان کی بحالی کی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی جسے احسن طورپر ادا کرنے کی عملی مثالیں یہاں وہاں دکھائی دیتی ہیں کہ کراچی کی رونقیں ایک ایک کر کے واپس لوٹ رہی ہیں!
پاکستان میں نہ تو قوانین کی کمی ہے اور نہ ہی اِن قوانین کے اطلاق کے لئے سیکورٹی فورسز یا اداروں کی تعداد ہی کم ہے۔ وفاق کے زیرانتظام 12 جبکہ صوبوں کے زیرانتظام 13الگ الگ ناموں سے ’سیکورٹی ایجنسیز‘ ہیں جن کا بنیادی کام ایک ہی ہے لیکن قوانین کے اطلاق میں اُس قومی پالیسی کو پیش نظر رکھا جاتا ہے‘ جس کے تخلیق صرف داخلی ہی نہیں بلکہ پاکستان کے خطے میں مفادات بھی ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان میں سیکورٹی کا مکمل کنٹرول کبھی بھی منتخب سیاسی حکومتوں کے پاس نہیں رہا بلکہ قانون نافذ کرنے کے نام پر مسلح دستے ہی کبھی زیادہ تو کبھی کم بااختیار رہے۔ اِن اداروں کے سربراہوں کی تقرری کی حد تک سیاسی حکومتوں کا عمل دخل نظر آتا ہے لیکن اپنے فیصلوں اور احکامات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ترجیحات و لائحہ عمل اختیار کرنے میں یہ سیکورٹی ادارے بڑی حد تک نہیں بلکہ مکمل خودمختار ہیں۔ پاکستان کی سیاسی و انتظامی حکمرانی کا یہی پہلو سب سے زیادہ اِصلاح طلب ہے جس میں ادارے قومی مفاد سے زیادہ اپنی ذات اور ساخت میں خود کو محدود کئے ہوئے ہیں جس سے نفسانفسی کا ماحول غالب ہے اور قومی وسائل کا ضیاع الگ سے ہو رہا ہے۔ ملک کے کسی بھی حصے کو داخلی خطرات و خارجی سازشوں کے بچانے کے لئے اگر پولیس کی بجائے نیم فوجی دستے (رینجرز) سے محفوظ بنانا اِس بات کا ثبوت ہے کہ پولیس کا قبلہ درست کرنے اور اِس کی صفوں سے کالی بھیڑوں کو نکال باہر کرنے جیسے مشکل فیصلے کی بجائے عارضی و آسان فیصلوں کو ترجیح دی گئی ہے‘ جس کی بوجھ قومی خزانے پر بھی ہے اور قومی ضمیر پر بھی کیونکہ طاقت کے انتہائی استعمال سے اِس بات کا امکان بھی موجود رہتا ہے کہ بنیادی انسانی حقوق کچلے جائیں اور جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ عام لوگوں کو ناکردہ گناہوں کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے۔ امن بہرصورت اور بہرقیمت بحال ہونا چاہئے لیکن اِس کا بوجھ ’قومی قوت برداشت یا اعصاب‘ پر حاوی نہیں بلکہ اُس کی تقویت کا باعث ہونا چاہئے۔ انتظامی امور کے ساتھ قانون کی حکمرانی بھی قومی خزانے پر بوجھ نہیں ہونی چاہئے۔ شفافیت اُور اِنسانی جان کی قیمت و اِحترام بھی بطور اصل ترجیح یکساں ضروری ہے کیونکہ جیل جیسا ’امن اور خوف‘ نہیں بلکہ شہروں اور دیہی علاقوں میں زندگی خوبصورت نظر آنی چاہئے اور چھوٹی بڑی خوبیاں رائیگاں نہ جائیں تو اِس متعلق بھی ہر اقدام سے پہلے‘ سوچنا اور مقامی لوگوں کے ساتھ مشاورت بھی یکساں ضروری ہے۔

Wednesday, September 23, 2015

Sep2015: Political criminals!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
چور دروازے‘ کھڑکیاں‘ روشندان!
کیا معاملات طے پا چکے ہیں؟ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرپرسن آصف علی زرداری کے ایک قریبی دوست ڈاکٹر عاصم حسین کو مالی و انتظامی بدعنوانیوں کے جن درجنوں مقدمات کا سامنا ہے اگر اُن کے ’شریک جرم‘ پر ہاتھ ڈالے بغیر ڈاکٹر عاصم کو پہلے مرحلے میں علیل اور دوسرے مرحلے میں ضمانت پر رہا کر دیا جاتا ہے‘ تو پاکستان کی اس سے زیادہ بڑی بدقسمتی نہیں ہو گی۔ بنیادی خرابی یہ ہے کہ ہمارے ہاں خائن و بددیانتی کرنے والوں کے لئے قانون کے اطلاق اور انصاف تک رسائی کے مراحل میں ’چور دروازے‘ موجود ہیں جنہیں خود سیاست دانوں ہی نے قوانین بناتے ہوئے چھوڑا ہے اور ضرورت اِس امر کی ہے کہ اِن چور دروازوں‘ کھڑکیوں اُور روشندانوں کو ختم کرنے کے لئے آئین کی اصلاحات بلکہ تطہیر کی جائے بصورت دیگر چاہے ’نیشنل ایکشن پلان‘ کتنا ہی جامع کیوں نہ ہوں اس کے ذریعے سیاست اور دہشت گردی و جرائم کے درمیان گہرے تعلق کو ختم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

بائیس ستمبر کے روز سابق مشیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم کو اچانک دل کی تکلیف کے باعث نجی ہسپتال منتقل کیا گیا‘ جہاں انہیں مختصر وقت کے لئے اپنی بیوی سے ملنے کی اجازت بھی دی گئی۔ یاد رہے کہ اِس سے قبل بھی ڈاکٹر عاصم طبیعت کی خرابی کا بہانہ کرکے ہسپتال منتقل ہونے کی درخواست کر چکے ہیں لیکن اُن کے طبی معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ وہ تندرست ہیں! منگل کی سہ پہر ہسپتال منتقلی کے بعد سرکاری خرچ پر ڈاکٹرعاصم کا ایکو‘ اِی سی جی اُور سینے کے اَیکسرے کئے گئے۔ لمحۂ فکریہ ہے کہ ہمارے ہاں جھوٹے بیماروں اور بالخصوص ’اعلیٰ و بالا شخصیات‘ کو ایسے امراض لاحق ہوتے ہیں‘ جن کا علاج سرکاری خرچ پر بیرون ملک سے کروایا جاتا ہے اور اگر اپنے ملک میں بھی علاج کیا جائے تو انہیں بہترین سہولیات مہیا کی جاتی ہیں جن کا عام آدمی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ کیا ’قومی ادارہ برائے امراض قلب‘ سے رجوع کرنے والے کسی عام شخص کا علاج بھی اسی مستعدی‘ توجہ اور اِسی قدر نگہداشت کے ساتھ کیا جاتا؟

پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں کھرب پتی بننے والے دس افراد میں شامل ڈاکٹر عاصم پر صرف یہ الزام نہیں کہ اُنہوں نے مشیر پیٹرولیم کے عہدے پر فائز عرصے کے دوران اپنے اختیارات کی وجہ سے ہزاروں ارب روپے کے مالی فوائد حاصل کئے یا قومی خزانے کو نقصان پہنچایا بلکہ ’سندھ رینجرز‘ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ’’مالی بدعنوانی میں ملوث سیاسی کرداروں نے کراچی (شہر) سمیت سندھ کے جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کے ساتھ روابط قائم کر رکھے ہیں اور سیاست و جرائم کے درمیان تعلق کو ختم کرنے میں ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری ایک اہم پیشرفت ہے‘ جس پر پیپلزپارٹی کی قیادت کا آگ بگولہ ہونا ایک فطری عمل ہے۔ وہ پھندا جو ڈاکٹر عاصم کے سر پر تلوار کی صورت لٹک رہا ہے اُس کی گرفت پیپلزپارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری بھی محسوس کر رہے ہیں اور یہی وجہ تھی کہ بوکھلاہٹ میں اُنہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ وہ قبائلی علاقوں (فاٹا) سے کراچی تک پورا ملک بند کروا دیں گے اور فوج کا نام لئے بغیر بطور اشارہ یہ بھی کہا کہ اُن کی جماعت اسٹیبلشمنٹ کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی صلاحیت رکھتی ہے‘‘ لیکن یہ بیان داغنے کے بعد اُنہیں متحدہ عرب امارات منتقل ہونا پڑا۔ خود کو عوام کی پارٹی کہنے والی سیاسی جماعت کے کئی اراکین کو اُن کے دفاع کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جن کا کہنا ہے کہ ’’زرداری صاحب کے کہنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ وہ فوج کی اینٹ سے اینٹ بجائیں گے اور نہ ہی وہ احتساب کے عمل سے خوفزدہ ہیں۔‘‘ حقیقت یہی ہے کہ اگرچہ احتساب کی گرفت میں صرف چند سیاسی کردار ہی دکھائی دیتے ہیں لیکن بات کہیں نہ کہیں سے تو شروع کرنا ہی تھی۔ جب سندھ رینجرز نے متحدہ قومی موومنٹ کے جرائم میں ملوث کارکنوں (سیکٹر اراکین) پر ہاتھ ڈالا گیا اور متحدہ کے صدر دفتر (نائن زیرو) کی تلاشی کے دوران انتہائی مطلوب جرائم پیشہ افراد اور غیرملکی اسلحے کے انبار برآمد ہوئے‘ تو یہ عوامی دباؤ سامنے آیا تھا کہ کراچی میں دیگر سیاسی جماعتوں کے خلاف بھی کاروائی کی جائے اور یہی وجہ تھی کہ چھبیس اگست کے روز گرفتاری اُور ستائیس اگست کو انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے انہیں 90روز کے لئے ’رینجرز‘ کے حوالے کیا تاکہ اُن سے شریک جرم افراد کے بارے میں پوچھ گچھ ہو سکے۔ ابھی ڈاکٹرعاصم بمشکل ایک مہینہ بھی کاٹ نہیں پائے کہ اُنہیں بیماریاں لاحق ہونے لگی ہیں! جب قومی خزانہ لوٹ رہے تھے تو تندرست و توانا تھے۔ جب نجی میڈیکل کالجوں کے قیام کی اجازت اُور اُن کے قواعد میں نرمی کے عوض اربوں روپے بطور رشوت لے رہے تھے‘ اُس وقت اُنہیں کوئی بیماری لاحق نہیں تھی! رینجرز کے بقول ۔۔۔’’ڈاکٹر عاصم کراچی کے میٹھا رام ہسپتال کی ذیلی جیل میں زیرِ حراست تھے جہاں چوبیس گھنٹے ایک ڈاکٹر اور دو نرسیں اُن کی دیکھ بھال کرتے رہے لہٰذا اُنہیں کسی اضافی طبی دیکھ بھال کی ضرورت نہیں۔ ڈاکٹر عاصم کی تمام اراضی کے ماسٹر پلان اور ان اراضیوں پرتعمیرات کی قانونی حیثیت کی جانچ پڑتال جاری ہے اور کراچی میں ان کے ہسپتالوں کی تفصیلات بھی کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے طلب کر لی گئیں ہیں۔‘‘ ڈاکٹر عاصم ایک پیچیدہ معمہ ہے‘ جسے حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں لیکن اُن کی لالچ و حرص صرف انفرادی نوعیت کی نہیں تھی بلکہ اِس سے حصہ داری پانے والوں کا احتساب بھی ہونا چاہئے۔ سال 2009ء میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر سندھ سے سینیٹر (قانون ساز ایوان بالا کے رکن) منتخب ہونے کے بعد اُنہیں سال 2012 ء میں ’’وزیر پیٹرولیم و قدرتی وسائل‘‘ اُور ’’وزیراعظم کا مشیر برائے پیٹرولیم‘‘ جیسے اہم عہدوں پر فائز کیا گیا۔ 2012ء میں انہیں سینیٹ سے اس وقت مستعفی ہونا پڑا جب سپرئم کورٹ نے دہری شہریت پر اراکین پارلیمان کو نا اہل قرار دیا تھا کیونکہ وہ ’کینیڈا کی شہریت‘ بھی رکھتے ہیں! پیپلز پارٹی نے انہیں سال 2013ئکے عام انتخابات کے بعد صوبہ سندھ کے ’’ہائر ایجوکیشن کمیشن‘‘ کا چیئرمین مقرر کیا اور جب اُنہیں گرفتار کیا گیا تو وہ اِسی ہائرایجوکیشن کمیشن کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے!

تصویر کا دوسرا‘ زیادہ بھیانک رُخ ملاحظہ کیجئے کہ ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری کے بعد پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت متحدہ عرب امارات منتقل ہو چکی ہے اور پارٹی و صوبائی کابینہ کے اجلاس بھی وہیں طلب کئے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ’متحدہ عرب امارات‘ کا ہی اِنتخاب کیوں کیا گیا؟ سندھ رینجرز کے ایک اعلیٰ اہلکار کے مطابق امریکہ حکومت کے خفیہ اِدارے ’سی آئی اے‘ کا دفتر متحدہ عرب امارات میں قائم ہے اُور پیپلزپارٹی اپنے امریکی تعلقات کے بل بوتے پر ڈاکٹر عاصم کا معاملہ رفع دفع کرنا چاہتی ہے۔ یہ بالکل ویسی ہی صورتحال ہے کہ جب پاکستان تحریک انصاف نے پارلیمینٹ کے سامنے اپنا احتجاجی دھرنا کسی صورت ختم کرنے سے انکار کردیا تو پشاور کے ایک سکول پر دہشت گردوں نے حملہ کرکے ایک سو پچاس سے زائد زندگیاں ختم کردی جن میں معصوم بچے بھی شامل تھے اور تحریک انصاف کی قیادت کو مجبوراً 126دن جاری رہنے والے اجتجاجی دھرنے کو ختم کرنا پڑا۔ ڈاکٹرعاصم کی ایک کڑی سے پیپلزپارٹی کی شریک جرم قیادت‘ دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین اور معروف کاروباری شخصیات کی بدعنوانیاں جڑی ہوئی ہیں! جنہوں نے قومی وسائل اور امن وامان کو جھکڑ رکھا ہے۔ رینجرز کے اعلیٰ عہدیدار کے لہجے میں تلخی امنڈ آئی جب اُنہوں نے کہا کہ ’’روپوش ملک دشمنوں سے چھٹکارہ حاصل کئے بناء چارہ نہیں رہا‘ چاہے (خدانخواستہ) اِس کی ’آرمی پبلک سکول پشاور‘ سے بھی زیادہ بڑی قیمت ہی کیوں نہ اَدا کرنی پڑے‘ یہ فیصلہ کن گھڑی ہے۔ ایسے تمام چور دروازوں‘ کھڑکیوں اور روشندانوں کو ہمیشہ کے لئے بند کرنا ہی پڑے گا۔ قومی وسائل کو لوٹنے اور قومی اِداروں کی تباہی اور اٹھارہ کروڑ عوام کی غربت و اقتصادی مشکلات کا سبب بننے والے کسی رو رعائت یا آئینی حقوق یا انسانی ہمدردی کے مستحق نہیں ہونے چاہیئں
PPPP using America pressure to get release of Dr.Asim, arrested on corruption charges

Sunday, July 5, 2015

TRANSLATION: Chessboard

Chessboard
سیاسی شطرنج
وزیراعظم نواز شریف جانتے ہیں کہ وہ سیاسی شطرنج کا کھیل دوسروں کی نسبت زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ اِس سیاسی شطرنج کی بساط کے مہروں میں سیاسی حکومت کے مدمقابل فوج کا ادارہ بھی ہے جبکہ سیاسی حکمرانوں کے سامنے ’میثاق جمہوریت‘ کے اہداف بھی ہیں۔ یہ وہی سیاسی معاہدہ ہے جس کی رو سے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین اس بات پر متفق ہوئے کہ وہ اپنے قول و فعل سے ایسی کوئی غلطی سرزد نہیں کریں گے جس سے فوج کے ادارے کو حکومت میں آنے کا موقع یا بہانہ مل جائے اور جمہوریت کا پانسہ پلٹ جائے۔

جون کی 23 تاریخ کو وزیراعظم نے پاک فوج کے سربراہ سے ملاقات کی۔ 24جون کو سابق صدر زرداری کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دی گئی اور وہ متحدہ عرب امارات میں اپنے پرآسائش محل نشین ہوگئے۔ یہ وہی وقت ہے جبکہ وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے ’ایف آئی اے‘ کے اختیارات میں اضافہ کیا ہے جس کے بعد وہ کسی بھی صوبے میں سماج دشمنوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کاروائی کر سکیں گے۔ ان اختیارات کے ملنے کو سندھ حکومت سمجھتی ہے کہ یہ اُس کی صوبائی خودمختاری پر ایک وار ہے۔

سندھ رینجرز کے ڈائریکتر جنرل میجر جنرل بلال اکبر نے تین ہزار پانچ سو کلومیٹر پر پھیلے اُس شہر کا تقریباً کنٹرول سنبھال لیا ہے جسے ہم کراچی کے نام سے جانتے ہیں لیکن پاک فوج کا ادارہ اِس کنٹرول کو ریاستی قوانین کے تابع سیاسی حکمرانوں کے ہاتھ میں رکھنا چاہتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ’ایف آئی اے‘ اور ’نیب‘ جیسے اداروں کو اپنی موجودگی کا ثبوت دینا ہے تاکہ کراچی کو منظم جرائم پیشہ عناصر کے چنگل سے ہمیشہ کے لئے نجات دلائی جا سکے۔

ملک کی سیاسی شطرنج کی بساط پر ہونے والا کھیل سب کے سامنے ہے۔ ہر کوئی اپنی اپنی دانست کے مطابق چال چل رہا ہے۔ سندھ کی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی جو کہ سونے کی کان جیسی ہے کے مرکزی دفاتر پر 15جون کے روز سندھ رینجرز نے چھاپہ مارا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے (سندھ رینجرز) کی جانب سے اقتصادی بدعنوانوں کے خلاف یہ اپنی نوعیت کی منفرد کاروائی تھی جس سے یہ ثابت ہوا کہ رینجرز نے دیگر جرائم کے ساتھ اُس اقتصادی شہ رگ پر بھی ہاتھ ڈال دیا ہے جس کی وجہ سے جرائم پیشہ تقویت حاصل کرتے ہیں۔

سولہ جون کا دن خاموشی سے گزرا۔ 17جون کو وزیراعلیٰ سندھ نے ڈائریکٹر جنرل رینجرز کو ایک خط لکھا جس میں سندھ بلڈنگ اتھارٹی کے دفتر پر چھاپہ مارنے کو اپنے اختیارت سے تجاوز قرار دیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل رینجرز نے اس بات کو ضروری نہیں سمجھا کہ وہ وزیراعلیٰ کی طرف سے بھیجے گئے خط کا جواب دیں۔

یہ دن پیپلزپارٹی کے لئے اچھے نہیں۔ وفاقی حکومت نے کراچی الیکٹرک کے ادارے پر بھی ہاتھ ڈالا جس کا اجازت نامہ زرداری نے ابراز کو دیا تھا۔ 30جون کو ’ائر انڈس‘ نامی جہاز راں ادارے کو بھی کام کرنے سے روک دیا گیا اور یہ حکم ائرمارشل (ریٹائرڈ) محمد یوسف کی طرف سے آیا لیکن اگلے ہی ائرمارشل کو عہدے سے الگ کر دیا گیا۔ کیا سندھ حکومت کی جانب سے ماضی میں کئے گئے بہت سے دیگر معاہدے بھی خطرے میں ہیں؟

پاک فوج کے ادارے نے بہت بڑا محاذ کھول لیا ہے۔ زرداری ملک سے باہر چلے گئے ہیں جس سے دو طبقات کو غلط پیغام جا رہا ہے۔ ایک تو سیاسی حکومت اسے اچھی نظر سے نہیں دیکھ رہی اور دوسرا فوج کا ادارہ جانتا ہے کہ اُس کے پاس زیادہ وقت نہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی نہ صرف کمزور ہے بلکہ منظرنامے سے غائب بھی ہے۔ زرداری نے پیپلزپارٹی کے ساتھ وہ سب کچھ کر دیا ہے جو فوج کا ادارہ باوجود کوشش بھی تین دہائیوں میں نہیں کرسکا۔ راولپنڈی اور ملتان کے درمیان رہنے والے ووٹر جو کہ ایک سو قومی اسمبلی کی نشستوں میں پھیلے ہوئے ہیں پیپلزپارٹی سے متاثر نہیں۔ اُن کے لئے پیپلزپارٹی کا ماضی‘ اس کے قائدین کی شہادت و قربانیاں اور جیل میں بسر کیا ہوا وقت کوئی معنی نہیں رکھتا جبکہ ملتان اور رحیم یار خان کے درمیان قومی اسمبلی کی چار درجن نشستیں ہیں اور یہ خطہ ایک وقت میں پیپلزپارٹی کا گڑھ ہوا کرتا تھا لیکن یہاں بھی پیپلزپارٹی سے دلی ہمدردی رکھنے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کے لئے اگر کوئی علاقہ ایسا ہے کہ جہاں وہ اپنی جماعت کے لئے ووٹ حاصل کر سکتے ہیں تو وہ سکھر اور ٹھٹھہ کے درمیان کا خطہ ہے جہاں قومی اسمبلی کی تین درجن نشستیں ہیں اور ان علاقوں کی خاص شناخت یہ ہے کہ آپ کو یہاں انتہائی زیادہ غربت اور انتہائی کم شرح خواندگی نظر آئے گی۔ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ پیپلزپارٹی نواز لیگ کے مقابلے ملک میں مقبولیت کی کم ترین سطح کو چھو رہی ہے۔

دریں اثناء حکومت پاکستان نے 19 مزید افراد کے ڈوب کر مر جانے کا تماشا کیا ہے یہ حادثہ جو کہ ریلوے کے ادارے کی مجرمانہ غفلت اور سو سالہ پرانے ریلوے کے ڈھانچے (انفراسٹکچر) سے استفادہ کی وجہ سے پیش آیا کوئی انوکھا نہیں۔ ہر سال ایسے ہی محرکات کی وجہ سے پیش آنے والے ٹریفک حادثات کا شکار ہونے والوں کی تعداد پانچ ہزار ہے۔ سالانہ پانچ ہزار افراد ہی دہشت گردی کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ دو ہزار ہرسال سیلاب و قدرتی آات جبکہ پندرہ سو سالانہ گرمی کی لہر اور ایک ہزار فیکٹریوں میں لگنے والی آگ کے سبب مرجاتے ہیں۔ یہ سبھی وہ ہلاکتیں ہیں جو فطری نہیں اور اگر حکومت اپنا کردار ادا کرے تو اِن اموات کو باآسانی روکا جا سکتا ہے۔

مالی سال 2015-16ء کے بجٹ میں 326 ارب روپے سیاسی حکومت (سول گورنمنٹ) چلانے کے لئے مختص کئے گئے لیکن حکومت اس قدر مالی وسائل عوام کی حادثات و دیگر غیرفطری محرکات میں اموات کے لئے مختص نہیں کر رہی اور اپنے ہی عوام کو ہر روز مرتے ہوئے دیکھ رہی ہے اور اس کے لئے قدرت کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے۔ اگر حکومت پاکستان کے اعمال کے لئے قدرت ہی ذمہ دار ہے اور سب کچھ قدرت ہی کی مبینہ بے رحمی کے سبب وقوع پذیر ہو رہا ہے جسے روکا نہیں جاسکتا تو پھر ایک سیاسی حکومت کے انتظامی اخراجات پر 326 ارب روپے خرچ کرنے کی ضرورت یا منطق ہی کیا ہے؟ کسی دانا کا قول ہے کہ ’’میں مزاحیہ باتیں (لطیفے) نہیں لکھتا بلکہ میں تو صرف حکومتی اقدامات پر نظر رکھتا ہوں اور اُن سے متعلق حقائق عوام کے سامنے پیش کردیتا ہوں۔‘‘

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ شبیر حسین امام )

Wednesday, March 18, 2015

Mar2015: Translation Civil Military Hybrid

Is the civil-military hybrid sustainable
فوجی و سیاسی حکومت: پائیدار حل؟
پاکستان کی دس فیصد آبادی ملک کے سب سے بڑے صنعتی و تجارتی مرکز ’کراچی‘ میں آباد ہے‘ جہاں طرز حکمرانی کا ایک نیا انداز اپنایا گیا ہے جس میں پاک فوج کی تخلیق کردہ ایک حکمت عملی کے تحت ایسی انتظامیہ کو کلیدی فیصلوں کے لئے ذمہ داری سونپی گئی ہے جو سول اور فوجی اہلکاروں پر مشتمل ہے اور اِس مخلوط قسم کی انتظامیہ کی سربراہی وزیراعلیٰ سندھ سیّد قائم علی شاہ کے سپرد ہے جن کے ساتھ فوج کی پانچویں کور کے کمانڈر لفٹیننٹ جنرل نوید مختار اُس کمیٹی کا حصہ ہے‘ جو اپنے فیصلوں میں باہم مشاورت کے علاؤہ سیاسی و غیرسیاسی دباؤ سے آزاد ہے۔ برسرزمین حقیقت یہ ہے کہ اِس سول و فوجی طرز حکمرانی کے متعارف کرائے جانے کی وجہ سے کلیدی فیصلوں کا اختیار پاکستان پیپلزپارٹی کے صدر دفتر ’بلاول ہاؤس‘ سے کراچی میں فوج کے اُس مرکزی دفتر منتقل ہو گیا ہے جہاں کورکمانڈر تشریف رکھتے ہیں۔ اِس پورے منظرنامے میں قانون ساز سندھ کی صوبائی اسمبلی کی حیثیت غیرمتعلقہ ہو گئی ہے اور صوبائی وزراء بھی اگرچہ وجود رکھتے ہیں لیکن اُنہیں فیصلہ سازی کے عمل میں شریک نہیں کیا جاتا۔ ہوسکتا ہے کہ اصل حقیقت ایسا نہ ہو لیکن بظاہر سیاسی و فوجی حکام پر مشتمل خصوصی کمیٹی نگران کے طور پر کام کر رہی ہے۔

کراچی کی صورتحال ابتر ہوئے طویل عرصہ گزر چکا ہے۔ گذشتہ دو دہائیوں (بیس برس) میں ہوئے واقعات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتوں‘ منظم جرائم کے گروہوں اور عسکریت پسندوں نے پاکستان کی دس فیصد آبادی کو نہ صرف نفسیاتی طور پر ایک مستقل دباؤ میں رکھا ہوا ہے بلکہ اِن عناصر کی وجہ سے پاکستان کی مجموعی قومی آمدنی کا پچیس فیصد حصہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔

بدقسمتی سے کراچی سے تعلق رکھنے والا سیاسی طبقہ بھی یہی چاہتا ہے کہ موجودہ حالات جوں کے توں (اسٹیٹس کو) برقرار رہے اور اِس میں تبدیلی نہ آئے کہ جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کا اصول بااثر اور سرمایہ دار طبقات کے لئے ہرلحاظ سے سودمند ہے۔ سیاسی و فوجی قیادت پر مبنی خصوصی اعلی سطحی کمیٹی کے قیام کا پہلا مقصد یہی تھا کہ سیاسی اشرافیہ کو یہ پیغام دے دیا جائے کہ اب سیاست اور جرائم کو ایک دوسرے سے الگ الگ کرکے جائزہ لیا جائے گا اور چاہے کوئی کردار سیاسی طور پر کتنا ہی سرگرم کیوں نہ لیکن اگر وہ جرائم میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث ہے تو آئین کے مطابق اُس سے معاملہ کرنے میں مزید رعائت نہیں برتی جائے گی۔

کیا سیاسی و فوجی اعلیٰ سطحی کمیٹی سیاست و جرائم کے درمیان اصطلاحی تمیز کو عملی طور پر الگ الگ کرتے ہوئے کامیاب ہو پائے گی؟ یا پھر سیاست و جرائم کے درمیان پایا جانے والا تانا بانا اُور تعاون جوں کا توں برقرار رہے گا؟ کراچی میں امن و امان کی صورتحال بحال کرنے کے لئے اِن جاری کوششوں کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہوپائیں گے جبکہ دونوں قوتیں اپنی اپنی جگہ طاقتور بھی ہیں اور نہ تو کسی کے لئے فتح آسان ہوگی اور نہ ہی اُس حاکمیت سے دستبرداری کہ جس کا تعلق مالی فوائد سے بھی ہے۔

سیاسی و فوجی اعلیٰ سطحی کمیٹی کی سربراہی وزیراعلیٰ سندھ سیّد قائم علی شاہ کو سونپی گئی ہے جو سیاست و جرائم کے درمیان تعلق کو توڑنے اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے سے متعلق فیصلہ سازی میں ناکام ثابت ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کراچی میں رونما ہونے والے جرائم کی شرح بدستور بلند ترین سطحوں کو چھو رہی ہے۔ اِس دعوے کا ثبوت یہ ہے کہ گیارہ مارچ کو متحدہ قومی موومنٹ کے صدر دفتر ’نائن زیرو‘ اُور اُس کے اطراف میں مکانات پر اچانک چھاپہ مارا گیا جہاں سے بڑی تعداد میں اسلحہ اور انتہائی مطلوب و خطرناک ملزم گرفتار ہوئے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے صدر دفتر پر چھاپے کی کاروائی کی نگرانی فوجی دستے کر رہے تھے۔ ایک سیاسی جماعت کے صدر دفتر پر اِس قسم کی کاروائی کا مطلب یہی تھا کہ سیاسی و فوجی اعلیٰ سطحی حکمراں کمیٹی پائیدار حل نہیں ہوگی‘ کیونکہ سیاسی متحدہ کی طرح دیگر جماعتیں بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں اور یہ اَمر بھی عیاں ہے کہ کراچی غیراعلانیہ طور پر فوج کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

پاک فوج کے کراچی میں حالات کو جوں کا توں رکھنے کی روش اور روائتی طرزحکمرانی کو جاری و ساری رکھنے کی سوچ کا خاتمہ کردیا ہے۔ اِن کے علاؤہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح صوبہ سندھ کے صدر مقام کراچی میں بھی فوجی عدالتیں قائم کی گئیں ہیں جو دہشت گردی جیسی وارداتوں میں ملوث کرداروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرکے اِس بات کا فوری فیصلہ کریں گی کہ اُن سے کیا معاملہ کیا جائے۔ اِس کے علاؤہ خصوصی اہداف کے خلاف کراچی میں ’ٹارگیٹیڈ آپریشن (فوجی کاروائیاں)‘ بھی اُسی منصوبہ بندی کا جز ہے‘ جس میں کراچی کا امن بحال کرنے کے ساتھ روشنیوں کے اِس شہر کی رونقیں اور اطمینان واپس دلانا ہے۔

پاک فوج نے ایک ایسی ذمہ داری اپنے سر لی ہے جس میں اُسے داخلی حلقوں کے علاؤہ عام آدمی کو بھی اپنی پرخلوص کوششوں کے بارے میں اطمینان دلانا ہے اور رائے عامہ ہموار رکھنی ہے جو پہلے ہی کراچی کی ہولناک صورتحال کی وجہ سے سہمی ہوئی ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ کراچی میں حالات معمول پر لانے کے لئے فوج کے ادارے سے صرف بڑی توقعات ہی وابستہ نہیں بلکہ یہ توقعات انتہاؤں کو چھو رہی ہیں۔ ہم میں سے ہر کسی نے جادوگروں کو دیکھا ہے جو آن کی آن میں ٹوپی سے خرگوش نکال کر داد وصول کرتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ کراچی کے تناظر میں‘ طرز حکمرانی کا تجربہ کس حد تک کامیاب و کامران اور جاری غیرمعمولی‘ غیرروائتی اور جادوئی عمل کس طرح نتیجہ خیز ثابت ہوگا کہ جو سب کو حیران بھی کردے اور ہر ناظر سے (جادوگر) کی طرح داد و اکرام بھی وصول پائے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔  تلخیص و ترجمہ: شبیر حسین اِمام)
Is the civil-military hybrid sustainable article by Dr Farrukh Saleem published in The News on March 18, 2015