Showing posts with label Rangers. Show all posts
Showing posts with label Rangers. Show all posts

Tuesday, February 21, 2017

Feb2017: Peace in Karachi, at any cost.

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
امن: بہرقیمت!
کراچی میں امن و امان کی صورتحال مثالی نہیں لیکن اگر اِس کا موازنہ گزشتہ چند دہائیوں سے کیا جائے تو غیرمعمولی بہتری آئی ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے‘ بے ہنگم آبادی کے اِس امیر شہر کو دہائیوں تک نظرانداز کرنے کے سبب مسائل بڑھتے بڑھتے بحرانوں کی شکل اختیار کرتے رہے‘ جن میں نسلی اُور لسانی بنیادوں پر سیاسی مفادات کے لئے منظم جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی‘ فرقہ واریت‘ سبقت و مقبولیت کے لئے غیرصحت مند مقابلے کا رجحان‘ اسلحے‘ منشیات کی خریدوفروخت اُور کالا دھن کمانے‘ بیرون ملک منتقلی اُور سرکاری محکموں میں حد سے زیادہ سیاسی مداخلت کی ایک سے بڑھ کر ایک مثال موجود ہے مقامی افراد کی اکثریت کا کہنا ہے کہ ’’اِن منفی رجحانات میں اگرچہ بڑی حد تک کمی آئی ہے لیکن صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں ہی کو تن تنہا ’امن کی بحالی‘ کے لئے ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ سیاسی حکمرانوں کو بھی اپنی ترجیحات اور فیصلوں میں کراچی کو اہمیت و ترجیح دینا ہوگی۔
روشنیوں کے شہر کراچی میں خطرات اور امن کی بحالی کے امکانات (توقعات اُمیدیں اور وسائل پر انحصار) کم نہیں لیکن زندگی کی رونقیں جس تیزی (رفتار) سے بحال ہو رہی ہیں‘ اُس سے عام آدمی کا اعتماد بڑھا ہے۔ پاکستان رینجرز سندھ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل محمد سعید پُرامید ہیں کہ قانون شکن اور دہشت و انتہاء پسندی پھیلانے والے عناصر کے خلاف جاری کاروائیوں (آپریشن) میں توقعات سے بڑھ کر کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں‘ جن کا ثبوت یہ ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں 91فیصد جبکہ دہشت گردی کے واقعات میں 72 فیصد کمی آئی ہے! کراچی آپریشن میں اب تک پندرہ سو تیرہ دہشت گرد گرفتار ہوئے ہیں۔ نو ہزار سے زائد چھاپوں کی داستان میں دس ہزار سات سو سولہ کی تعداد میں ہتھیار (اسلحہ) بھی برآمد کرنے کا دعویٰ ہم جیسے صحافیوں کے لئے یقین کرنے کا ’’کافی جواز‘‘ تو ہو سکتا ہے لیکن کراچی کے عام آدمی کی نظر میں داخلی طاقتوں سے نمٹنے کے لئے جس طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے وہ کچھ ضرورت سے زیادہ ہے اُور اگر قانون نافذ کرنے والے ’خفیہ اُور ظاہری معلومات‘ کی بنیاد پر ’آپریشنز‘ کئے جائیں تو مطلوبہ اہداف اور نتائج کم وقت میں حاصل ہو جائیں گے۔ رینجرز کا دعویٰ زمینی حقائق کی تصدیق کرتا ہے کہ بھتہ خوری اور اغوأ برائے تاوان کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہیجن کی شرح بتدریخ 93فیصد اور 86فیصد کم ہونا قطعی معمولی بات ہے! اب کراچی میں ’علاقہ غیر (نوگو ایریاز)‘ نہیں رہے۔‘‘ وفاق کے زیرکنٹرول کم و بیش ایک لاکھ افرادی قوت پر مبنی نیم فوجی دستے ’پاکستان رینجرز‘ کی دو الگ الگ شاخیں پنجاب اور سندھ میں فعال ہیں‘ جن کی ذمہ داریوں کا احاطہ ’پاکستان رینجرز آرڈیننس 1959ء‘ میں کیا گیا ہے۔ واہگہ بارڈر لاہور پر قومی پرچم سرنگوں کرنے کی دلچسپ موسیقیت بھری تقریب دیکھنے کا اتفاق جس کسی کو بھی ہوا‘ وہ ’پنجاب رینجرز‘ کی سرحدی و جغرافیائی حفاظت سے جڑی ذمہ داریوں اور کارکردگی کے پہلوؤں سے آگاہ ہے لیکن رینجرز کا بنیادی مقصد بھارت کے ساتھ صوبہ سندھ و پنجاب میں بالترتیب 912 اور 1200 کلومیٹرز طویل جنوبی سرحد کی حفاظت کرنے تک محدود نہیں رہا لیکن سندھ کے صدر مقام کراچی میں صدر دفتر (ہیڈکواٹر) رکھنے والی رینجرز کو اِس شہر میں امن و امان کی بحالی کی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی جسے احسن طورپر ادا کرنے کی عملی مثالیں یہاں وہاں دکھائی دیتی ہیں کہ کراچی کی رونقیں ایک ایک کر کے واپس لوٹ رہی ہیں!
پاکستان میں نہ تو قوانین کی کمی ہے اور نہ ہی اِن قوانین کے اطلاق کے لئے سیکورٹی فورسز یا اداروں کی تعداد ہی کم ہے۔ وفاق کے زیرانتظام 12 جبکہ صوبوں کے زیرانتظام 13الگ الگ ناموں سے ’سیکورٹی ایجنسیز‘ ہیں جن کا بنیادی کام ایک ہی ہے لیکن قوانین کے اطلاق میں اُس قومی پالیسی کو پیش نظر رکھا جاتا ہے‘ جس کے تخلیق صرف داخلی ہی نہیں بلکہ پاکستان کے خطے میں مفادات بھی ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان میں سیکورٹی کا مکمل کنٹرول کبھی بھی منتخب سیاسی حکومتوں کے پاس نہیں رہا بلکہ قانون نافذ کرنے کے نام پر مسلح دستے ہی کبھی زیادہ تو کبھی کم بااختیار رہے۔ اِن اداروں کے سربراہوں کی تقرری کی حد تک سیاسی حکومتوں کا عمل دخل نظر آتا ہے لیکن اپنے فیصلوں اور احکامات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ترجیحات و لائحہ عمل اختیار کرنے میں یہ سیکورٹی ادارے بڑی حد تک نہیں بلکہ مکمل خودمختار ہیں۔ پاکستان کی سیاسی و انتظامی حکمرانی کا یہی پہلو سب سے زیادہ اِصلاح طلب ہے جس میں ادارے قومی مفاد سے زیادہ اپنی ذات اور ساخت میں خود کو محدود کئے ہوئے ہیں جس سے نفسانفسی کا ماحول غالب ہے اور قومی وسائل کا ضیاع الگ سے ہو رہا ہے۔ ملک کے کسی بھی حصے کو داخلی خطرات و خارجی سازشوں کے بچانے کے لئے اگر پولیس کی بجائے نیم فوجی دستے (رینجرز) سے محفوظ بنانا اِس بات کا ثبوت ہے کہ پولیس کا قبلہ درست کرنے اور اِس کی صفوں سے کالی بھیڑوں کو نکال باہر کرنے جیسے مشکل فیصلے کی بجائے عارضی و آسان فیصلوں کو ترجیح دی گئی ہے‘ جس کی بوجھ قومی خزانے پر بھی ہے اور قومی ضمیر پر بھی کیونکہ طاقت کے انتہائی استعمال سے اِس بات کا امکان بھی موجود رہتا ہے کہ بنیادی انسانی حقوق کچلے جائیں اور جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ عام لوگوں کو ناکردہ گناہوں کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے۔ امن بہرصورت اور بہرقیمت بحال ہونا چاہئے لیکن اِس کا بوجھ ’قومی قوت برداشت یا اعصاب‘ پر حاوی نہیں بلکہ اُس کی تقویت کا باعث ہونا چاہئے۔ انتظامی امور کے ساتھ قانون کی حکمرانی بھی قومی خزانے پر بوجھ نہیں ہونی چاہئے۔ شفافیت اُور اِنسانی جان کی قیمت و اِحترام بھی بطور اصل ترجیح یکساں ضروری ہے کیونکہ جیل جیسا ’امن اور خوف‘ نہیں بلکہ شہروں اور دیہی علاقوں میں زندگی خوبصورت نظر آنی چاہئے اور چھوٹی بڑی خوبیاں رائیگاں نہ جائیں تو اِس متعلق بھی ہر اقدام سے پہلے‘ سوچنا اور مقامی لوگوں کے ساتھ مشاورت بھی یکساں ضروری ہے۔

Sunday, December 20, 2015

TRANSLATION: The Karachi Nexus

The Karachi nexus
کراچی: گٹھ جوڑ
ہلاکتوں کی شرح: پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم سیّد یوسف رضا گیلانی نے اپنے عہدے کا حلف 25مارچ 2008ء کے روز اٹھایا جبکہ اُنہی کی سیاسی جماعت کی سربراہی کرنے والے آصف علی زرداری نے 9 ستمبر 2008ء کے روز صدر پاکستان کے عہدے پر فائز ہوئے۔ سال 2008ء کے دوران کراچی میں 777قتل ہوئے۔ سال 2013ء میں کراچی میں ہوئے قتل 2507رہے اور ہر سال بڑی تعداد میں قتل کے ان واقعات کی وجہ سے کراچی دنیا کا ایک ایسا خونیں شہر بن گیا جہاں ہر روز درجنوں ہلاکتیں معمول بن گئیں اور اسے ’دنیا کی قتل گاہ‘ کہا جانے لگا کیونکہ دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اس قدر ہلاکتیں نہیں ہوتیں جس قدر کراچی میں ہو رہی تھیں۔

اغوأ برائے تاوان کی وارداتیں: سال 2003ء میں 33جبکہ سال 2013ء کے دوران کراچی میں 174 اغوأ برائے تاوان کی وارداتیں رونما ہوئیں اور یوں کراچی کو دنیا کے اُن شہروں میں سرتاج کہا جانے لگا جہاں اغوأ برائے تاوان کی سب سے زیادہ وارداتیں رونما ہوتیں ہیں۔

موٹرسائیکل چھیننے کی وارداتیں: سال 2006ء کے دوران کراچی میں کل 7 ہزار 85 موٹرسائیکل چھیں لی گئیں لیکن سال 2013ء موٹرسائیکل چھیننے کی یہ وارداتیں بڑھ کر 23 ہزار 153ہو گئیں اور یوں کرۂ ارض پر کراچی واحد ایسا شہر بننے کا اعزاز پا گیا جہاں سب سے زیادہ لوگ اپنی موٹرسائیکلوں سے محروم ہوئے۔ سال 2013ء کے دوران کراچی کو ملنے والا یہ تیسرا اعزاز تھا یعنی قتل‘ اغوأ برائے تاوان اور موٹرسائیکل چھیننے کی وارداتیں پوری دنیا میں سب سے زیادہ کراچی میں ہو رہی تھیں۔
موٹرگاڑیاں چھیننے کی وارداتیں: سال 2008ء کے دوران 6ہزار 23 گاڑیاں کراچی کی حدود میں چھینی گئیں۔

رینجرز آپریشن کے بعد کی صورتحال: کراچی میں رینجرز نے امن و امان قائم کرنے اور وہاں جرائم پیشہ گروہوں کا قلع قمع کرنے کے لئے آپریشن (کاروائی) کا آغاز ستمبر 2013ء میں کیا۔ سال2015ء کے وسط تک کراچی میں قتل کی وارداتیں کم ہو کر 44 تک پہنچ گئیں جو 80فیصد کمی تھی۔ 2015ء کے وسط تک اغوأ برائے تاوان کی وارداتیں 14 تک آ گئیں جو 92 فیصد کمی تھی۔ موٹرسائیکل چھیننے کی وارداتوں میں 75 فیصد اور گاڑیاں چھیننے کی وارداتوں میں 50فیصد غیرمعمولی کمی آئی۔

سندھ اسمبلی کی قرارداد: رینجرز کو کراچی آپریشن جاری رکھنے اور اس سلسلے میں انہیں حاصل خصوصی اختیارات میں توسیع سندھ اسمبلی کی قرارداد سے مشروط تھی جس کے لئے 16دسمبر کے روز سندھ اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی۔ قرارداد میں پانچ ایسے شعبوں کی نشاندہی کرتے ہوئے رینجرز کے دائرۂ اختیار کو محدود کر دیا گیا۔ جن پانچ شعبوں میں رینجرز کو الگ کرنے کی کوشش کی گئی اُن میں دہشت گردی کی معاونت کرنے والوں کے خلاف کاروائی کا اختیار‘ دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف کاروائی‘ دہشت گردی کی مالی سرپرستی کرنے والوں کے خلاف کاروائی کا اختیار‘ دہشت گردوں کے سہولت کار بننے والوں کے خلاف کاروائی اور سندھ کے تمام سرکاری محکموں کے خلاف کاروائی شامل تھا۔

تجزیہ: کراچی میں جرائم کا دھندا ایک درخت کی طرح ہے جس کی شاخیں زمیں میں گہری ہو چکی ہیں۔ زمین کے اوپر اس کی شاخیں قتل‘ اغوأ برائے تاوان‘ موٹرسائیکل اور گاڑیوں کی چوڑیوں کی صورت دکھائی دیتی ہیں لیکن جو ہم نہیں دیکھ سکتے وہ اس درخت کی پھیلی ہوئی جڑیں ہیں کہ جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کی پشت پناہی‘ اُن کی سہولت کاری اور اُن کی مالی معاونت و پشت پناہی کہیں اور سے نہیں بلکہ سیاست دانوں کی طرف سے ہو رہی ہے اور سیاست دانوں اور جرائم پیشہ عناصر نے گٹھ جوڑ کر رکھا ہے۔ کراچی کو لاحق امراض و خطرات کا ظاہری رخ ہمارے سامنے ہے لیکن اصل بیماری زیرزمین ہے‘ جو بظاہر دکھائی نہیں دیتی۔

رینجرز کی نپی تلی کاروائیوں کے نتائج جرائم میں غیرمعمولی کمی کی صورت ظاہر ہوئے ہیں لیکن یہ سمجھ لینا کہ جرائم پیشہ عناصر کی قوت کو منتشر کرنے یا انہیں کسی ایک محاذ پر شکست دینے سے اُن کا خاتمہ ہوگیا ہے غلط ہوگا۔ جن چار جرائم (قتل‘ اغوأ برائے تاوان‘ موٹرسائیکل اور موٹرگاڑیوں کے چھیننے کی وارداتوں) میں کمی آئی ہے وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ ابھی مرض بھی باقی ہے اور اس کا سبب بننے والے اسباب بھی موجود ہیں۔سیاسی جماعتوں اور جرائم پیشہ و دہشت گرد تنظیموں کے درمیان گٹھ جوڑ پر ہاتھ ڈالا گیا ہے اور اس کی پہلے جیسی قوت و توانا وجود موجود نہیں لیکن بہرحال جرائم کا وہ تناور درخت موجود ہے‘ جس نے کراچی کے امن و امان اور اس کی خوبیوں کو اپنی شاخوں سے ڈھانپ رکھا ہے۔

 (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیر حسین اِمام)

Sunday, July 5, 2015

TRANSLATION: Chessboard

Chessboard
سیاسی شطرنج
وزیراعظم نواز شریف جانتے ہیں کہ وہ سیاسی شطرنج کا کھیل دوسروں کی نسبت زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ اِس سیاسی شطرنج کی بساط کے مہروں میں سیاسی حکومت کے مدمقابل فوج کا ادارہ بھی ہے جبکہ سیاسی حکمرانوں کے سامنے ’میثاق جمہوریت‘ کے اہداف بھی ہیں۔ یہ وہی سیاسی معاہدہ ہے جس کی رو سے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین اس بات پر متفق ہوئے کہ وہ اپنے قول و فعل سے ایسی کوئی غلطی سرزد نہیں کریں گے جس سے فوج کے ادارے کو حکومت میں آنے کا موقع یا بہانہ مل جائے اور جمہوریت کا پانسہ پلٹ جائے۔

جون کی 23 تاریخ کو وزیراعظم نے پاک فوج کے سربراہ سے ملاقات کی۔ 24جون کو سابق صدر زرداری کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دی گئی اور وہ متحدہ عرب امارات میں اپنے پرآسائش محل نشین ہوگئے۔ یہ وہی وقت ہے جبکہ وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے ’ایف آئی اے‘ کے اختیارات میں اضافہ کیا ہے جس کے بعد وہ کسی بھی صوبے میں سماج دشمنوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کاروائی کر سکیں گے۔ ان اختیارات کے ملنے کو سندھ حکومت سمجھتی ہے کہ یہ اُس کی صوبائی خودمختاری پر ایک وار ہے۔

سندھ رینجرز کے ڈائریکتر جنرل میجر جنرل بلال اکبر نے تین ہزار پانچ سو کلومیٹر پر پھیلے اُس شہر کا تقریباً کنٹرول سنبھال لیا ہے جسے ہم کراچی کے نام سے جانتے ہیں لیکن پاک فوج کا ادارہ اِس کنٹرول کو ریاستی قوانین کے تابع سیاسی حکمرانوں کے ہاتھ میں رکھنا چاہتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ’ایف آئی اے‘ اور ’نیب‘ جیسے اداروں کو اپنی موجودگی کا ثبوت دینا ہے تاکہ کراچی کو منظم جرائم پیشہ عناصر کے چنگل سے ہمیشہ کے لئے نجات دلائی جا سکے۔

ملک کی سیاسی شطرنج کی بساط پر ہونے والا کھیل سب کے سامنے ہے۔ ہر کوئی اپنی اپنی دانست کے مطابق چال چل رہا ہے۔ سندھ کی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی جو کہ سونے کی کان جیسی ہے کے مرکزی دفاتر پر 15جون کے روز سندھ رینجرز نے چھاپہ مارا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے (سندھ رینجرز) کی جانب سے اقتصادی بدعنوانوں کے خلاف یہ اپنی نوعیت کی منفرد کاروائی تھی جس سے یہ ثابت ہوا کہ رینجرز نے دیگر جرائم کے ساتھ اُس اقتصادی شہ رگ پر بھی ہاتھ ڈال دیا ہے جس کی وجہ سے جرائم پیشہ تقویت حاصل کرتے ہیں۔

سولہ جون کا دن خاموشی سے گزرا۔ 17جون کو وزیراعلیٰ سندھ نے ڈائریکٹر جنرل رینجرز کو ایک خط لکھا جس میں سندھ بلڈنگ اتھارٹی کے دفتر پر چھاپہ مارنے کو اپنے اختیارت سے تجاوز قرار دیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل رینجرز نے اس بات کو ضروری نہیں سمجھا کہ وہ وزیراعلیٰ کی طرف سے بھیجے گئے خط کا جواب دیں۔

یہ دن پیپلزپارٹی کے لئے اچھے نہیں۔ وفاقی حکومت نے کراچی الیکٹرک کے ادارے پر بھی ہاتھ ڈالا جس کا اجازت نامہ زرداری نے ابراز کو دیا تھا۔ 30جون کو ’ائر انڈس‘ نامی جہاز راں ادارے کو بھی کام کرنے سے روک دیا گیا اور یہ حکم ائرمارشل (ریٹائرڈ) محمد یوسف کی طرف سے آیا لیکن اگلے ہی ائرمارشل کو عہدے سے الگ کر دیا گیا۔ کیا سندھ حکومت کی جانب سے ماضی میں کئے گئے بہت سے دیگر معاہدے بھی خطرے میں ہیں؟

پاک فوج کے ادارے نے بہت بڑا محاذ کھول لیا ہے۔ زرداری ملک سے باہر چلے گئے ہیں جس سے دو طبقات کو غلط پیغام جا رہا ہے۔ ایک تو سیاسی حکومت اسے اچھی نظر سے نہیں دیکھ رہی اور دوسرا فوج کا ادارہ جانتا ہے کہ اُس کے پاس زیادہ وقت نہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی نہ صرف کمزور ہے بلکہ منظرنامے سے غائب بھی ہے۔ زرداری نے پیپلزپارٹی کے ساتھ وہ سب کچھ کر دیا ہے جو فوج کا ادارہ باوجود کوشش بھی تین دہائیوں میں نہیں کرسکا۔ راولپنڈی اور ملتان کے درمیان رہنے والے ووٹر جو کہ ایک سو قومی اسمبلی کی نشستوں میں پھیلے ہوئے ہیں پیپلزپارٹی سے متاثر نہیں۔ اُن کے لئے پیپلزپارٹی کا ماضی‘ اس کے قائدین کی شہادت و قربانیاں اور جیل میں بسر کیا ہوا وقت کوئی معنی نہیں رکھتا جبکہ ملتان اور رحیم یار خان کے درمیان قومی اسمبلی کی چار درجن نشستیں ہیں اور یہ خطہ ایک وقت میں پیپلزپارٹی کا گڑھ ہوا کرتا تھا لیکن یہاں بھی پیپلزپارٹی سے دلی ہمدردی رکھنے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کے لئے اگر کوئی علاقہ ایسا ہے کہ جہاں وہ اپنی جماعت کے لئے ووٹ حاصل کر سکتے ہیں تو وہ سکھر اور ٹھٹھہ کے درمیان کا خطہ ہے جہاں قومی اسمبلی کی تین درجن نشستیں ہیں اور ان علاقوں کی خاص شناخت یہ ہے کہ آپ کو یہاں انتہائی زیادہ غربت اور انتہائی کم شرح خواندگی نظر آئے گی۔ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ پیپلزپارٹی نواز لیگ کے مقابلے ملک میں مقبولیت کی کم ترین سطح کو چھو رہی ہے۔

دریں اثناء حکومت پاکستان نے 19 مزید افراد کے ڈوب کر مر جانے کا تماشا کیا ہے یہ حادثہ جو کہ ریلوے کے ادارے کی مجرمانہ غفلت اور سو سالہ پرانے ریلوے کے ڈھانچے (انفراسٹکچر) سے استفادہ کی وجہ سے پیش آیا کوئی انوکھا نہیں۔ ہر سال ایسے ہی محرکات کی وجہ سے پیش آنے والے ٹریفک حادثات کا شکار ہونے والوں کی تعداد پانچ ہزار ہے۔ سالانہ پانچ ہزار افراد ہی دہشت گردی کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ دو ہزار ہرسال سیلاب و قدرتی آات جبکہ پندرہ سو سالانہ گرمی کی لہر اور ایک ہزار فیکٹریوں میں لگنے والی آگ کے سبب مرجاتے ہیں۔ یہ سبھی وہ ہلاکتیں ہیں جو فطری نہیں اور اگر حکومت اپنا کردار ادا کرے تو اِن اموات کو باآسانی روکا جا سکتا ہے۔

مالی سال 2015-16ء کے بجٹ میں 326 ارب روپے سیاسی حکومت (سول گورنمنٹ) چلانے کے لئے مختص کئے گئے لیکن حکومت اس قدر مالی وسائل عوام کی حادثات و دیگر غیرفطری محرکات میں اموات کے لئے مختص نہیں کر رہی اور اپنے ہی عوام کو ہر روز مرتے ہوئے دیکھ رہی ہے اور اس کے لئے قدرت کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے۔ اگر حکومت پاکستان کے اعمال کے لئے قدرت ہی ذمہ دار ہے اور سب کچھ قدرت ہی کی مبینہ بے رحمی کے سبب وقوع پذیر ہو رہا ہے جسے روکا نہیں جاسکتا تو پھر ایک سیاسی حکومت کے انتظامی اخراجات پر 326 ارب روپے خرچ کرنے کی ضرورت یا منطق ہی کیا ہے؟ کسی دانا کا قول ہے کہ ’’میں مزاحیہ باتیں (لطیفے) نہیں لکھتا بلکہ میں تو صرف حکومتی اقدامات پر نظر رکھتا ہوں اور اُن سے متعلق حقائق عوام کے سامنے پیش کردیتا ہوں۔‘‘

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ شبیر حسین امام )