Showing posts with label Chitral. Show all posts
Showing posts with label Chitral. Show all posts

Sunday, August 23, 2020

broghil

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

بروغل میلہ

خیبرپختونخوا کے معلوم سیاحتی مقامات میں شامل چند علاقے ایک ایسے بھی ہیں‘ جنہیں خاطرخواہ ترقی دیئے بغیر اگر منظم انداز میں سیاحوں کے لئے کھولا گیا اُور بڑی تعداد میں ملکی و غیرملکی سیاحوں نے اِن علاقوں کا رخ کرنا شروع کیا تو سہولیات اُور نگرانی کے لئے درکار افرادی قوت کی کمی کے باعث فائدے سے زیادہ نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔ ضلع چترال کے بالائی علاقوں پر مشتمل ’وادی¿ بروغل (Broghil)‘ ایسی ہی ایک الگ دنیا کا نام ہے‘ جہاں ہر چیز کو اُس کی اصل حالت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ سیاحت کی ترقی کے صوبائی ادارے ’خیبرپختونخوا ٹورازم ڈیپارٹمنٹ‘ نے ’بروغل‘ میں آئندہ ماہ کے پہلے ہفتے (پانچ اُور چھ ستمبر) 2 روزہ میلے اُور اِس دوران مختلف سرگرمیوں کے انعقاد کا اعلان کیا ہے‘ جس میں بُزکشی کا قدیمی و روائتی کھیل بھی شامل ہے۔ اِس کھیل کا آغاز دسویں صدی کے اوائل میں ہوا جو مشرق وسطیٰ کے ممالک بشمول ترکی‘ چین اُور منگولیا میں مقبول رہا۔ جس میں دو ٹیمیں ایک ذبح شدہ دنبے کی ایک دوسرے کھینچا تانی کرکے اِسے زیادہ سے زیادہ اپنے پاس رکھنے اُور فٹ بال کی طرح میدان میں مخالف ٹیم کی حد میں لیجانے کی کوشش کرتی ہیں اُور اِس میں نہ صرف کھلاڑی بلکہ گھوڑے کے طاقتور اُور مستعد ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ’بزکشی‘ کے علاو¿ہ ’یاک پولو (Yak Polo)‘ وادی¿ بروغل کا خاص کھیل ہے‘ جس کے مقابلوں کا انعقاد بطور خاص دو روزہ میلے کے دوران کیا جائے گا۔ میلے کے شرکا کھلاڑیوں اُور منتظمین کے علاو¿ہ سیاحوں کے قیام و طعام کے لئے خیمہ بستی کا قیام اُور آمدورفت کے لئے بڑی تعداد میں گاڑیوں کے استعمال سے دھواں اُور شور یہاں کے قدرتی ماحول کے لئے زہریلا ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ چترال ہی کے شیندور علاقے میں ہونے والے سالانہ میلے کے موقع پر عموماً جو خرابیاں دیکھنے میں آتی ہیں‘ اُن کی اصلاح اُور اُن سے سبق نہیں سیکھا جاتا اُور اگر یہ روش (تسلسل) قائم رہتا ہے تو سیاحت کی ترقی کے نام پر قدرتی ماحول کی تباہی ہو گی جو فائدے سے بڑا نقصان ہے۔ اِس لئے فیصلہ سازوں کو مہربانی کرنا ہو گی کہ وہ ”اندھا دھند سیاحت“ کی بجائے ”ماحول دوست سیاحت“ متعارف کروائیں اُور اُن قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کروائیں جن کا اعلان تو کیا جاتا ہے لیکن سیاحتی مقامات پر اُن کا ’خاطرخواہ احترام‘ دیکھنے میں نہیں آتا۔ ذہن نشین رہے کہ افغانستان کی سرحد (واخان راہداری) سے متصل ’بروغل‘ چترال کے مرکزی شہر سے قریب ڈھائی سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اُور یہ چنتر نامی معروف برفانی تودے پر واقع ہے جبکہ اِس کے اردگرد کئی دیگر چھوٹے بڑے برفانی تودے بھی ہیں اُور صاف و شفاف پانی کی قدرتی جھیلیں سے دریائے چترال کو پانی ملتا ہے جو پورے ضلع کی جان ہے۔ سال 2010ءمیں جنگلات اُور جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے ’بروغل نیشنل پارک‘ بنایا گیا تھا جہاں دور دراز علاقوں سے پرندے ہجرت کر کے آتے ہیں۔ یہ نیشنل پارک بھی مثالی حالت میں نہیں۔ بروغل میں تازہ پانی کی دو درجن سے زائد جھیلیں ہیں جن کی خوبصورتی اِس قدر ہے کہ قدرت کے اِن شاہکاروں کو دیکھتے ہوئے آنکھوں پر یقین ہی نہیں آتا کہ دنیا کے شاید ہی کسی دوسرے ملک اُور کسی ایک علاقے میں میٹھے پانی کی اِس قدر بڑی تعداد میں جھیلیں‘ برفانی تودے‘ جنگلی حیات اُور قدرتی ماحول ہوں اُور انہیں اِس قدر قریب اُور اصل حالت میں دیکھنے کا موقع مل سکتا ہے۔ یہیں سے شروع ہونے والے خدشات توجہ طلب ہیں‘ جن کا تعلق ”ماحول کے تحفظ‘ فضائی آلودگی‘ کوڑا کرکٹ اُور حیاتیاتی تنوع میں بگاڑ جیسے خطرات سے ہے۔

تحفظ ماحول کی عالمی تنظیم (IUCN) نے سال 2001ءمیں خلائی سیارے سے لی گئی تصویر کی مدد سے 14 ہزار 800 مربع کلومیٹر پر پھیلے اُور رقبے کے لحاظ سے خیبرپختونخوا کے سب سے بڑے ضلع چترال کے وسائل کا تناسب فہرست کیا تھا جس کے مطابق چترال میں زیرکاشت رقبہ 3 فیصد‘ جنگلات 4.7فیصد‘ وادیاں 62فیصد اُور پہاڑی سلسلے کل رقبے کے قریب پانچ فیصد ہیں جبکہ یہاں آبادی ایک فیصد سے کم حصے پر ہے۔ آغا خان رورل سپورٹ پروگرام کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق چترال کے ایک فیصد رقبے سے بھی کم حصے پر زراعت ہوتی ہے اُور جنگلات کا رقبہ بھی خاطرخواہ زیادہ نہیں اُور اِن دونوں شعبوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ چترال کے دیہی علاقوں میں قریب 100فیصد اُور شہری علاقوں میں 94فیصد سے زائد ایندھن کے لئے لکڑیاں استعمال ہوتی ہیں اُور جب تک جنگلات پر مقامی آبادی کے اِس انحصار کو کم نہیں کیا جاتا اُس وقت تک تحفظ ماحول و جنگلات کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گے۔ قومی و صوبائی فیصلہ ساز اگر اپنی توجہ اعدادوشمار مرتب کرنے اُور خلائی سیاروں سے تصاویر کی بنیاد پر حکمت عملیاں (ترجیحات) طے کریں تو اِس کے زیادہ مفید نتائج برآمد ہوں گے کیونکہ کرہ¿ ارض کے درجہ حرارت میں اضافے کے منفی اثرات دنیا کے ہر ملک پر مرتب ہو رہے ہیں اُور پاکستان میں وادی¿ چترال سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے۔ یہاں بارشیں اُور برفباری کے اوقات بدل گئے ہیں۔ گرمی بڑھنے سے برفانی تودے تیزی سے پگھل رہے ہیں لیکن ایسے کوئی اعدادوشمار دستیاب نہیں جن کی بنیاد پر کہا جا سکے کہ ضلع چترال میں ماحولیاتی نقصانات کس قدر ہیں۔ صوبائی حکومت اگر جامعات کو تحقیق کی ذمہ داری سونپے تو اِس سے تعلیم و تحقیق دونوں اہداف کم خرچ میں حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ چترال کی آبادی میں بھی غیرمعمولی رفتار سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اُور چونکہ چترال ایک ایسے زمینی خطے پر واقع ہے جہاں زلزلے بہت آتے ہیں اُور اِن کی شدت بھی زیادہ ہوتی ہے اِس لئے ضرورت ہے کہ چترال میں مقامی مکانات اُور کمرشل عمارتوں کی تعمیر کے لئے خصوصی مطالعہ اُور قواعد وضع کئے جائیں اُور سب سے زیادہ ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ زراعت کے لئے قابل استعمال زمین تعمیرات یا غیرزرعی مقاصد کے لئے استعمال نہ ہو۔ باردیگر درخواست ہے کہ اندھا دھند سیاحت کی بجائے پائیدار اُور ماحول دوست سیاحتی ترقی پر توجہات اُور وسائل مرکوز ہونے چاہیئں۔

....


Thursday, April 12, 2018

Apr 2018: Drought risk in Chitral - disaster knocking, need corrective measures!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
موسم‘ زراعت اُور اِنسان!

ہم زمین موسموں کی تبدیلی اور موسم اہل زمین کی سمجھ بوجھ پر ہنس رہے ہیں! 

انسانی تاریخ میں اِن دیکھے بھالے‘ مانوس تغیرات کے منفی اَثرات معلوم ہیں جو نہ صرف متاثرہ علاقوں کے رہنے والوں کے روزمرہ معمولات زندگی پر مرتب ہو رہے ہیں بلکہ ’زرعی پیداوار‘ اُور کسی نہ کسی صورت زرعی شعبے (زرعی معیشت و معاشرت) سے وابستہ غیرمقامی افراد کی بڑی تعداد بھی متاثرین میں شامل ہے اُور اندیشہ ہے کہ رواں برس (دوہزار اٹھارہ) کے دوران موسم گرما کی شدت ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دے گی لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے آنے والے رواں شدید موسم گرما سے نمٹنے اور اِس دوران بالخصوص اعلیٰ تعلیمی اِداروں اور دفاتر کے اُوقات بارے غوروخوض نہیں کیا گیا‘ جنہیں گرمی کے موسم میں بھی کام کاج جاری رکھنا پڑتا ہے۔ موسمی تبدیلیوں کا پہلا عکس ’بارشوں کی کمی‘ کی صورت ظاہر ہوتا ہے اور خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں بالخصوص ضلع چترال میں گذشتہ برس دسمبر سے بارشیں اور برفباری کا سلسلہ اوسط مقدار سے کم رہا ہے جس کی وجہ سے ’خشک سالی‘ مسلسل بڑھ رہی ہے لیکن مجال ہے جو کسی سیاست دان کے منہ سے ’خشک سالی‘ کے بارے میں ایک لفظ بھی تشویش کا سننے کو ملا ہو۔ 

یہ موسم ہماری زرخیز زمینوں کو بنجر بنا رہے ہیں۔ ہماری فصلیں مقدار اور معیار کے لحاظ سے متاثر ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے غذائی اجناس کی قلت اور اِس قلت کی وجہ سے طلب میں اضافے کے باعث مہنگائی عام ہے۔ علاؤہ ازیں حکومت کو سبزی اور پھل جیسی غذائی اجناس درآمد بھی کرنا پڑتی ہیں جبکہ اگر موسمی تبدیلیوں کے اثرات کا مطالعہ اور ان کے محرکات کے ازالے کی کوششیں کی جائیں تو بہتری (اصلاح و تبدیلی) ممکن ہے۔

سردست خیبرپختونخوا کے ضلع چترال پر اِس سال شدید خشک سالی کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔ پورا موسم سرما گزر گیا ہے لیکن خاطرخواہ برفباری نہیں ہوئی ہے اور بارشوں کے موسم میں بھی اہل چترال کی آنکھیں اور زمین کی پیاس سیراب نہ ہو سکیں! چترال میں خشک سالی سے پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث اِس سال ضلع کے بالائی علاقوں میں ’گندم‘ اُور ’جو (barley)‘ کی کم پیداوار حاصل ہوگی جبکہ اِن علاقوں (پہاڑوں اور ودایوں) سے حاصل ہونے والی سبزی بھی رواں سال کم حاصل ہونے کے واضح آثار ہیں۔ یاد رہے کہ چترال کی وادی بہترین معیار کی سبزی‘ پھل اور فصلوں کے لئے مشہور ہے‘ ایک وقت تھا کہ یہاں سے حاصل ہونے والی زرعی اجناس کا بڑا حصہ برآمد کیا جاتا تھا‘ لیکن آج کم مقدار میں سبزی‘ پھل اور فصلیں مقامی ضروریات ہی کے لئے کافی نہیں تو برآمدات کیسے ممکن ہوں گی!؟

ضلع چترال میں سبزی ماہ مارچ سے اپریل کے درمیان کاشت ہوتی ہیں‘ لیکن ملکو‘ شوٹخار‘ زیزدی ماداک‘ لون‘ ڈونے اویر‘ لووائی اور دیگر ملحقہ علاقوں میں بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے آبپاشی کے لئے آبی وسائل کی کمی ہے! مقامی کاشتکاروں کے لئے اِس کے سوأ کوئی دوسری صورت نہیں رہی کہ وہ فصلوں اُور سبزی کی بجائے ایسے چارہ جات کاشت کریں جن سے اُن کے مال مویشیوں کا گزربسر ہو سکے اور آنے والے زیادہ مشکل دنوں کے لئے چارے کی کچھ نہ کچھ مقدار ذخیرہ بھی کی جا سکے۔ یہ ایک مشکل صورتحال ہے جس میں چھوٹے پیمانے پر کاشتکاروں اور باغبانوں کو پیداوار کی نہیں بلکہ اپنی بقاء کی فکرلاحق ہے اور وہ اِس آزمائش کے مرحلے پر حکومت سے مدد چاہتے ہیں تاکہ اُنہیں زیادہ پیداوار والے بیج‘ فصلوں کی کاشت‘ باغات کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لئے اَدویات اُور بلاسود زرعی قرضہ جات کی صورت سہارا دیا جائے‘ تاکہ خشک سالی کے جاری عرصے میں چترال سے نقل مکانی کی نوبت نہ آئے۔ ’’سمٹنے کا بھی ہے اَب ہوش کس کو ۔۔۔ اَبھی رخت سفر بکھرا ہوا ہے (سالم شجاع انصاری)۔‘‘

چترال کی وادی میں خشک سالی کے اثرات تاحد نظر پھیلے باغات پر دیکھے جا سکتے ہیں جن کی ہریالی اور اِن دنوں (ماہ اپریل کے دوران) پھولوں سے مزین خوبصورتی ماند دکھائی دیتی ہے۔ بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے ماضی کی طرح پھل پھول نہیں لگ سکے اور چترال جو کہ منفرد ذائقے والے سیب‘ خوبانی‘ آڑو‘ ناشپاتی اور چیری جیسے پھلوں کے لئے مشہور ہوا کرتا تھا اندیشہ ہے کہ اِس سیزن غیرمعمولی حد تک مذکورہ پھلوں کی کم پیداوار حاصل ہوگی‘ جو مقامی افراد کے روزگار اور آمدن کا بنیادی ذریعہ ہے۔ کوئی ہے کہ جس کے گوش گزار کیا جائے‘ توجہ دلائی جائے کہ چترال میں خشک سالی سے غربت کی شرح بڑھ رہی ہے!؟

پانی کی کمی کی وجہ سے سبزی کی کاشت اُور برداشت کی سرگرمیاں رواں برس شروع نہیں ہو سکی ہیں۔ برفباری نہ ہونے کی وجہ سے ندی نالوں میں پانی کی مقدار کم ہے جس سے صرف کھیتی باڑی ہی نہیں بلکہ چھوٹے بجلی گھروں کی پیداواری صلاحیت بھی متاثر ہو رہی ہے جیسا کہ گولین (Golen) کے علاقے میں ’ایک سو آٹھ‘ میگاواٹ کا پن بجلی گھر (ہائیڈرو اسٹیشن) اپنی پیداواری صلاحیت کا نصف بھی نہیں دے رہا۔ معلوم ہوا کہ اگر موسم ہم سے ناراض ہو گئے تو نہ صرف زرخیز وادیوں سے انسانی آبادیوں کا وجود ختم ہوتا چلا جائے گا بلکہ وہ ترقی جس پر بحرانوں کے حل کا اِنحصار ہے‘ وہ بھی کارآمد نہیں رہے گی۔ جن فیصلہ سازوں کی نظر میں ’موسم‘ اُور ’موسمی تبدیلیاں‘ ترقی یافتہ (مغربی) ممالک کا مسئلہ ہے‘ اُنہیں اپنے گردوپیش پر نظر کرنی چاہئے کہ کس طرح صرف ایک بارش کے روٹھ جانے سے انسانی بقاء و ترقی کا مستقبل مخدوش دکھائی دے رہا ہے۔ 

تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت کو سوچنا چاہئے کہ اگر چترال کی وادیوں سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع ہوئی تو اُس وقت پیدا ہونے والے بحران سے کس طرح نمٹا جائے گا اور کیا ہی اچھا ہو کہ ایسے کسی بحران کو تحلیل کرنے کے لئے بروقت اقدامات کئے جائیں؟ ماضی میں لوگ اچھے موسم اور قدرت کو قریب سے دیکھنے کے لئے چترال کا رُخ کیا کرتے تھے لیکن اِس مرتبہ ’خشک سالی‘ کی وجہ سے اہل چترال قریبی علاقوں کو کوچ کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ اگر صوبائی حکومت شمسی توانائی کے وسائل بروئے کار ہوئے بالائی دیہی علاقوں کو دریاؤں سے پانی کی فراہمی ممکن بنائے تو زرعی معیشت و معاشرت کو درپیش مشکلات میں بڑی حد تک اور وقتی طور پر کمی لائی جا سکتی ہے۔ 

صوبائی سطح پر ہنگامی حالات سے نمٹنے (ڈیزاسٹر مینجمنٹ) کا اِدارہ تو موجود ہے‘ جسے چترال کی صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہئے کیونکہ رواں خشک سالی سے چترال کی تہذیب و تمدن‘ ثقافت اُور رہن سہن پر بھی خطرات منڈلا رہے ہیں!
۔

Friday, December 29, 2017

Dec 2017: Report on Kelash, Chitral by NCHR

chitral kalash Banner Graphics

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
ثقافت: مٹتے نقوش!
حکومت پاکستان نے عالمی معاہدے (پیرس پرنسپل) کے تحت سال 2012ء میں قانون سازی (Act XVI) کے ذریعے ’’اِدارہ برائے تحفظ انسانی حقوق (نیشنل کمیشن فار ہیومین رائٹس)‘‘ تشکیل دیا‘ جس کا بنیادی مقصد آئین کے مطابق پاکستان میں انسانی حقوق کا تحفظ کرنے میں ریاست کے واضح کردار کے عملی اطلاق کی کوشش ہے۔ اِس خصوصی ادارے کے تحت شکایات درج کرانے کے لئے ویب سائٹ (nchr.org.pk) پر سہولت دی گئی ہے کہ کوئی بھی پاکستانی (بلاامتیاز اور بناء جنسی تفریق) کسی اِنسانی حق کی تلفی بارے میں اپنی شکایات درج کرا سکتا ہے یا حکومت پاکستان کواِس بارے مطلع کر سکتا ہے۔ اِس ادارے کی فعالیت بڑھانے پر تو بات ہوسکتی ہے لیکن اِس کے وجود کی اہمیت اور ضرورت سے انکار ممکن نہیں اور اگرچہ پاکستان نے عالمی معاہدے ہی کے تحت ایک ادارہ قائم کیا ہو لیکن درحقیقت یہ پاکستان کی اپنی ضرورت بھی ہے اور اِس ادارے کو زیادہ خودمختاری‘ آزادی اور وسائل دے کر نہ صرف پاکستان کی عالمی ساکھ بہتر بنائی جا سکتی ہے بلکہ پاکستان میں جن تہذیبی نقوش کو خطرات لاحق ہیں‘ اُن کی سرپرستی تو بہرحال کی جا سکتی ہے۔ کمیشن برائے انسانی حقوق کے قیام کا مقصد‘ کارکردگی اور عزم کا بیان چیئرمین جسٹس (ریٹائرڈ) علی نواز چوہان کے اِس جامع قول سے اَخذ کیا جا سکتا ہے کہ ’’اِنسانی حقوق کا تحفظ بناء کوشش و محنت ممکن نہیں‘ جس کے لئے سخت جدوجہد کی ضرورت ہے اور اِس عملی جدوجہد میں قربانیاں دینے کا حوصلہ سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔‘‘ پاکستان میں انسانی حقوق کے بارے عمومی تصور دھندلا ہے۔ ہم اداروں سے کارکردگی کا مطالبہ تو کرتے ہیں لیکن اُن کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار نہیں ہوتے اور جب تک سماجی رویئے تبدیل نہیں ہوتے‘ اُس وقت تک صرف اداروں کے قیام سے بہتری نہیں آ سکتی۔

نیشنل کمیشن آف ہیومین رائٹس (اسلام آباد) نے ’کیلاش قبیلے‘ کے حوالے سے قریب پانچ ہزار الفاظ پر مشتمل رپورٹ جاری کی ہے‘ جس میں خیبرپختونخوا کے ضلع چترال کی تین وادیوں (رامبور‘ بمبوریت اُور بریڑ) میں آباد اُن تین ہزار افراد کا مقدمہ پیش کیا گیا ہے جو حکومتی سرپرستی سے محروم ہونے کے سبب شدید سماجی دباؤ میں ہیں اور اِس دباؤ کی وجہ سے وہ اپنا مذہب‘ رہن سہن‘ اُور ثقافت ترک کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں اِس خدشے کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ اگر یہ رجحان برقرار رہتا ہے تو کسی دن کیلاش قبیلے کی ثقافت ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گی۔ کیلاش قبیلہ اور اس کا تحفظ ایک حساس موضوع ہے جس کے بارے میں چترال سے باہر رہتے ہوئے بہت کچھ سوچا اور لکھا جا سکتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دور دراز علاقوں میں حکومتی اِدارے اور قوانین کا اثرورسوخ کمزور دکھائی دیتا ہے۔ ہم سب تسلیم کرتے ہیں اور اِس کی قدر بھی کرتے ہیں کہ پاکستان ایک ایسے گلدستے کی مانند ہے جس میں مختلف مذاہب اور ثقافتوں پر یقین رکھنے والے پھول اپنی مہک اور الگ شناخت سے ’اِسلامی نظریاتی‘ ملک کی خوبصورتی میں اضافے کا باعث ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان کا قدیم ترین و زندہ ثقافت ’کیلاش (کیلاشہ)‘ کی‘ تو غلط نہیں ہوگا۔ سکندر اعظم کی افواج کے ہمراہ آنے والے اِس قبیلے کے لوگ اپنی صدیوں پرانی زبان اور رہن سہن کو اپنائے ہوئے ہیں‘ جنہیں مقامی افراد ’کافر‘ بھی کہتے ہیں‘ تاہم یہ لوگ کسی بھی مقامی یا غیرمقامی گروہ کے لئے خطرہ نہیں اور نہ ہی اِن کی وجہ سے کبھی امن و امان کی صورتحال پیش آئی ہے۔ تحقیق کاروں کے مطابق ’’ہندوکش کے پہاڑی سلسلے سے منسلک وادیوں (بشمول ضلع چترال) میں اسلام اُنیسویں صدی کے اختتام تک پوری طرح پھیل چکا ہوگا۔‘‘ 

تو کیا کیلاش اپنا وجود کھو دیں گے؟ 
یہ ایک مشکل سوال ہے جس کا جواب تلاش کرنے والے اُن حکومتی کوششوں کو دیکھ کر مایوسی کا اظہار کرتے ہیں جو کیلاش ثقافت کو بچانے کے لئے ہونی چاہئے۔ ایک ایسا قبیلہ جو اپنے حال میں خوش ہے اور خوش رہنا چاہتا ہے جو مذہبی رسومات‘ تاریخ اور ثقافت کے نقوش کو سینے سے لگائے گردوپیش میں ہونے والی تبدیلیوں کے اثر سے خود کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں لیکن پہلے جیسا توانا نہیں رہا‘ اور جاری مزاحمت زیادہ عرصہ برقرار رہتی دکھائی نہیں دے رہی کیونکہ بہت سے ایسے بیرونی دباؤ بھی ہیں جن کے سامنے آج کا کیلاش نوجوان بالخصوص لڑکیاں ہار مان رہی ہیں اور اگر مذہب کی تبدیلی کا سلسلہ یونہی جاری رہتا ہے تو (اندیشہ ہے کہ) اِس سے باقی ماندہ تین یا چار ہزار کیلاشی لوگ بھی ختم ہو جائیں گے اور اُن کا ذکر صرف تاریخ کی کتب ہی میں ملے گا۔

’نیشنل کمیشن فار ہیومین رائٹس‘ کی رپورٹ کا تیسرا باب ’زبردستی مذہب کی تبدیلی‘ سے متعلق ہے جس میں کیلاش قبیلے کے بزرگوں سے بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’مذہب کی تبدیلی کے لئے کیلاش قبیلے پر زور زبردستی نہیں کی جا رہی لیکن نوجوان سیاسی و سماجی ترقی کے مواقعوں سے مستفید ہونے کے لئے اپنے ماضی سے ناطہ توڑ رہے ہیں۔‘‘ اِس رپورٹ کا یہ بیانیہ کیلاش مذہب و ثقافت ترک کرنے والوں سے متعلق لاتعداد صحافتی رپورٹوں کے برعکس نتیجۂ خیال ہے لیکن بہرصورت یہ ذمہ داری حکومت پاکستان ہی کی بنتی ہے کہ آئین کی متعدد شقوں بالخصوص آرٹیکل اٹھائیس کے تحت غیرمسلم اقلیتوں اور ثقافتوں کے تحفظ کو یقینی بنائے اور انہیں زندہ رکھنے والوں کے حقیقی تحفظات دور کرے۔ 

رپورٹ میں جن بنیادی موضوعات کو شامل کیا گیا ہے اُن میں اراضی کے تنازعات اور تعلیم سے متعلق بنیادی حقوق شامل ہیں تاہم رپورٹ کا سب سے اہم حصہ وہ بیس سفارشات ہیں جو مختصر اور طویل المدتی ابواب میں الگ الگ تقسیم کرتے ہوئے آغاز کلام ہی میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری قرار دی گئی ہے کہ وہ کیلاش مذہب و ثقافت کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے خاطرخواہ اقدامات اور اِس سلسلے میں دلچسپی کا مظاہرہ کریں۔ اِن سفارشات میں نہایت ہی باریک نکات کو بھی شامل کیا گیا‘ جو رپورٹ تحریر کرنے والوں کی محنت اور دیانت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کیلاش قبیلے کے لوگ اپنے تہوار اور فصل کاشت کرنے جیسے خصوصی ایام اپنے خاص کلینڈر (حساب) کے مطابق منایا کرتے تھے لیکن حکومت کی جانب سے اُن پر پابندی عائد کرکے تہواروں کے لئے سال کی خاص تاریخیں مقرر کر دی گئی ہیں۔ 

کمیشن کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ماضی کی طرح کیلاش قبیلے کو اختیار واپس دیا جائے کہ وہ اپنے تہواروں کی تاریخوں کا چناؤ خود کریں۔ کیلاش لوگوں اور حکومت کے درمیان اراضی کے تنازعات بھی سنجیدہ توجہ چاہتے ہیں اور جن جنگلات یا وادیوں پر کیلاش لوگ ملکیت کے دعویدار ہیں اُن سے متعلق حکومت اگر لچک کا مظاہرہ کرے اور کیلاش قبیلے کے تحفظات دور کئے جائیں تو اِس سے یقیناًصدیوں پرانے رہن سہن‘ بودوباش اور روایات کے باقی ماندہ آثار و نقوش کو مٹنے سے بچایا جا سکتا ہے۔
۔
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2017-12-29

Sunday, October 15, 2017

Oct 2017: Chitral can turn into the hub of agriculture production

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
گل و گلزار: خیبرپختونخوا
پاک سرزمین میں قدرت کی عطا کردہ نعمتوں کا مشاہدہ ’خیبرپختونخوا‘ کے بالائی علاقوں میں قریب سے کیا جا سکتا ہے جہاں ایک سے بڑھ کر ایک زرخیز اُور شاداب وادیاں صوبائی حکومت کی خاطرخواہ توجہ سے محروم ہیں۔ ضلع چترال کی وادی ’کریم آباد‘ کا گاؤں ’درونیل‘ بھی ایسی ہی ایک جنت نظیر وادی کا حصہ ہے‘ جہاں کی مٹی آب و ہوا (موسمی درجۂ حرارت) ٹماٹر‘ مٹر اور آلو جیسی (منافع بخش) سبزی کی کاشت کے لئے موزوں ہیں۔ تحریک انصاف ضلع چترال کے (سابق) جنرل (اکتالیس سالہ) ’’اسرارالدین صبور‘‘ نے سال 2005ء میں مقامی کاشتکاروں کو ’اپنی مدد آپ‘ کے تحت منظم کیا اور مٹر‘ ٹماٹر اور آلو (سبزی) کی بڑے (کمرشل) پیمانے پر کاشتکاری کی۔ انہوں نے کاشتکاروں کو منڈی تک رسائی اور زیادہ منافع کے لئے براہ راست منڈیوں میں سبزی کی فروخت سے بھی روشناس کرایا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ دو ایکڑ زیرکاشت رقبہ بڑھ کر پچاس ایکڑ تک جا پہنچا۔ اسرار الدین صبور کہتے ہیں کہ اگر ’کریم آباد وادی‘ میں پائپوں کے ذریعے آبپاشی کا بندوبست کر دیا جائے تو 300 ایکڑ سے زائد رقبہ زیرکاشت لایا جا سکتا ہے اور ماہ اگست سے دسمبر (برفباری) تک اِس وادی سے پورے ملک کو ٹماٹر کی فراہمی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ سردست علاقے میں ’9 کلومیٹر‘ کا واٹر چینل موجود ہے لیکن اگر پائپ بچھا کر باقی ماندہ ستر فیصد علاقے کو بھی زیرکاشت بنا دیا جائے تو اِس سے غذائی خودکفالت کا ایک اہم ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے۔ درحقیقت چترال کے مذکورہ گاؤں ’’درونیل (کریم آباد)‘‘ اور اِس سے ملحقہ دیگر دیہی علاقوں کی پسماندگی اور غربت دور کرنے کے لئے زراعت سے زیادہ کوئی دوسرا ’پائیدار ذریعہ (وسیلہ)‘ نہیں ہوسکتا۔ صوبائی حکومت ضلع چترال کو ’دو اضلاع‘ میں تقسیم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے لیکن اِس کے ساتھ ہی اگر ’جیپ ایبل خطرناک راستوں‘ کو محفوظ سڑکوں سے تبدیل کرنے کے عمل کا بھی آغاز کیا جائے تو اِس سے زرعی و سماجی انقلاب کا عمل تیزرفتار ہو جائے گا۔

درونیل اور ملحقہ دیہات میں ماہ جولائی سے اگست تک مٹر کی کاشت ہوتی ہے جبکہ بیس اگست سے دسمبر (برفباری تک) یہاں سے ٹماٹر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس علاقے کا مرکزی چترال سے فاصلہ قریب تیس کلومیٹر جبکہ گاؤں کی کل لمبائی ’پنتالیس کلومیٹر‘ ہے‘ جس تک رسائی کا بیس کلومیٹر خستہ حال حصہ موجود اور باقی مٹی‘ بجری اور ریت پر مشتمل غیرہموار پہاڑی راستے ہیں۔ پختہ سڑک ’فارم ٹو مارکیٹ‘ روڈ ثابت ہو سکتی ہے۔ صوبائی حکومت کے تجاہل عارفانہ کی مثال وہ سانحہ بھی رہا جب اِس وادی میں تودہ کی زد میں سکول کے پانچ بچے آئے۔ ایک ماہ تک پانچ سو مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت تودے سے بچوں کی لاشیں نکالیں لیکن صوبائی حکومت کی جانب سے بھاری مشینری اِس علاقے میں نہ پہنچ سکی کیونکہ سڑک موجود نہیں تھی۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات (لوکل باڈی الیکشنز) میں چترال سے ضلعی‘ تحصیل اور ویلیج کونسلوں کی نشستوں پر ’تحریک انصاف‘ کے نامزد اُمیدواروں نے اکثریت سے کامیابی حاصل لیکن تین سال سے تنظیمی ڈھانچہ نہ ہونے کی وجہ سے ’ضلع چترال‘ میں تحریک انصاف کو سیاسی طور پر نقصان پہنچ رہا ہے۔ مرکزی اور صوبائی قیادت کو چترال میں تحریک انصاف کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ چترال کے مسائل اور تحریک انصاف کے کارکنوں میں مایوسی پائی جاتی ہے‘ جن کی انقلاب‘ جنون اور تبدیلی سے وابستہ توقعات‘ اُمیدیں اور کئے گئے وعدے پورے نہیں ہوئے۔

ضلع چترال میں جنگلات اور سیاحت کے علاؤہ ’زرعی ترقی‘ کے لاتعداد امکانات موجود ہیں۔ سبزی اور پھلوں کی مصنوعات تیار کرکے برآمد کی جاسکتی ہیں جو مقامی افراد کے لئے روزگار اور متعلقہ شعبوں میں تعلیم کے مواقع روشناس کرائے گا۔ چترال نظرانداز کیوں؟ اِس بنیادی و سادہ سوال کا جواب جاننے کے لئے باوجود کوشش بھی وزیر زراعت اکرام اللہ خان گنڈا پور سے رابطہ نہ ہو سکا اور نہ ہی خیبرپختونخوا کے ’بیورو آف ایگرکلچر انفارمیشن‘ کا کوئی ذمہ دار حکومتی ترجیحات کے بارے میں بات کرنا پسند کرتا ہے۔ ’خوش گوار احساس‘ صرف اِس حد تک ہی محدود ہے کہ ’’(ضلع) چترال خیبرپختونخوا کا حصہ ہے‘‘ لیکن چترال کے وسائل اور وہاں زندگی بسر کرنے والوں کی مشکلات بھری زندگی پر نظر کریں تو ایک سے بڑھ کر ایک محرومی ’مستقل ڈیرے‘ ڈالے دکھائی دیتی ہے۔ چترال میں زراعت سے متعلق صوبائی حکومت کے ایک زیادہ دفاتر موجود (فعال) ہیں جن میں ’’واٹر منیجمنٹ‘‘ اور ’’سایل کنزوریشن‘‘ کا بنیادی کام ہی یہ ہے کہ وہ چھوٹے پیمانے پر آبپاشی کے منصوبے تخلیق کرے یا مقامی ضروریات کے مطابق اُن کی تعمیروترقی اور توسیع جیسی خدمات سرانجام دے۔

زراعت کی ترقی کے علاؤہ حکومتی اداروں کی نظر اِس بات پر بھی ہونی چاہئے کہ غذائی قلت کے ماحول میں دستیاب وسائل سے بہترین استفادہ کس طرح کیا جا سکتا ہے۔ باعث تعجب ہے کہ چارسدہ سے تعلق رکھنے والے خیبرپختونخوا کے سب سے زیادہ فعال‘ مستعد اور صداقت و امانت کے لحاظ سے ہم عصروں میں نسبتاً اچھی ساکھ رکھنے والا سیکرٹری زراعت ’محمد اسرار‘ جیسی نایاب نعمت کے ہوتے ہوئے بھی خاطرخواہ ثمرات ظاہر نہیں ہو رہے۔ سیکرٹری زراعت اِن دنوں محکمانہ ترقی کے لئے تربیتی کورس میں شریک ہیں لیکن وہ اِس کے باوجود باقاعدگی سے شام گئے تک ضروری اور معمول کے دفتری اَمور نمٹاتے ہیں۔ شاید ہی خیبرپختونخوا کے کسی دوسرے محکمے کا سیکرٹری اس قدر عملاً ’فرض شناس (ڈیوٹی فل اینڈ بیوٹی فل)‘ ہو یا ماضی میں کبھی پایا گیا ہو۔ زراعت کی توسیع و ترقی کے لئے متعلقہ صوبائی محکمے سمیت کسی بھی فیصلہ ساز بشمول وزیراعلیٰ سے توقعات وابستہ کرنا عبث ہیں‘ اگر کوئی مرکز نگاہ (اُمید کی کرن) ہے تو وہ سیکرٹری اسرار ہی ہیں جو اپنی تعلیم (ایم ایس سی‘ ایگری کلچر)‘ تجربے اور لگن سے خیبرپختونخوا کو ’’گل و گلزار‘‘ بنا سکتے ہیں۔ خوش لباس و گفتار‘ اِسرار نہایت ہی ’پُراَسرار‘ بھی ہیں کہ انہیں سیکشن آفیسر سے ایڈیشنل سیکرٹری اور آج کل سیکرٹری جیسے انتظامی عہدوں پر فائز ہونے (ترقی کے مواقع) ایک ترتیب و تواتر سے ملتے رہے ہیں‘ اُن جیسے بہت کم ایسے خوش نصیب ہوں گے۔ اِلتجا کے ساتھ یقین ہے کہ وہ اپنے تجربہ (مہارت) کا بہترین استعمال کرتے ہوئے ’چترال‘ کی وادیوں میں سبزی‘ پھل اور کوہاٹ سے ڈیرہ اسماعیل خان تک ’تیل دار فصلوں بشمول ’زیتون‘ کی کاشتکاری (زرعی ترقی) کے لئے اپنی توجہات اور جملہ وسائل مختص کریں گے۔
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2017-10-15
http://epaper.dailyaaj.com.pk/epaper/pages/1507997192_201710147211.gif

Monday, March 20, 2017

Mar2017: Obituary: The 'Bibi Dow' of Chitral

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
نایاب ہستیاں: ’بی بی ڈُو‘
اپنی زندگیاں کسی مقصد کے لئے وقف کرنے والے ’ظاہری حیات‘ کے بعد بھی اِس صورت زندہ و رہنما رہتے ہیں کہ اِجتماعی بہبود کے بارے میں اُن کے تصورات و نظریات اُور سماجی خدمات مشعل راہ رہتی ہیں۔ ایسی ہی ایک شخصیت محترمہ ’ماورین پٹریشا لائنز‘ (Maureen P Lines) کی تھی جنہیں احتراماً ’’بی بی ڈُو (Bibi Dow)‘‘ کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔ اَٹھارہ مارچ کے روز آخری رسومات کی ادائیگی کے بعد اُنہیں پشاور کے ’’گورا (عیسائی) قبرستان‘‘ میں سپرد خاک کردیا گیا۔ 79برس کی عمر میں انتقال کرنے والی ’بی بی ڈُو‘ چند ماہ سے علیل تھیں۔

’بی بی ڈُو‘ سے میری ملاقات یونیورسٹی ٹاؤن پشاور میں اُن کی رہائشگاہ پر ہوئی‘ جہاں وہ موسم سرما کے دوران ہی قیام کرتی تھیں جب چترال آمدورفت کے راستے برفباری سے بند ہو جاتے۔ چترال اُن کی زندگی میں اِس قدر رس بس گیا تھا کہ گھر کی درویوار سے لیکر مہمانوں کی تواضع تک چترال ہی سے لائی گئی سوغات (خشک میوہ جات) سے کرتی تھیں۔ انہیں فوٹوگرافی کا جنون کی حد تک شوق تھا لیکن یہ شوق بھی ایک مقصد و تحریک کے تابع تھا‘ کیونکہ تصاویر کے ذریعے پیغام منتقل کرنے میں زبان اور الفاظ کی محتاجی نہیں رہتی۔ انہوں نے کالاش خاندانوں کی قربت کے ہر قیمتی لمحے کو کچھ اِس انداز میں محفوظ (قید) کیا کہ اُن کے ہاں (فن کمال یہ تھا کہ) ’تصویروں کے بولنے کا گماں ہوتا۔‘ وہ چہرے پڑھ لیا کرتی تھیں۔ آنکھوں میں جھانک کر بات کرنے کی عادت ایک ایسے سچ کا جیتا جاگتا وجود تھا‘ جس کا طلسم سر چڑھ کر بولتا تھا لیکن مستند ’’سماجی ماہر‘ اِنسان دوست‘ ہمدرد اُور غریب نواز (philanthropist)‘‘ ہونے کے باوجود بھی اُنہوں نے اپنے آپ کو خودنمائی (ذرائع ابلاغ) سے ایک خاص فاصلے پر رکھا تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت اپنے مقصد کو دے سکیں۔ بطور صحافی تربیت اور تجربے کا استعمال کرتے ہوئے وہ اپنی بات دوسروں کے ذریعے کہلوانے کی بجائے براہ راست ’فرائیڈے ٹائمز‘ اور ’ڈان‘ کے ذریعے شائع کرواتی تھیں اور یہی صحافت کا وہ تبدیل ہوتا عالمی انداز ہے جس میں لکھاری اور فوٹوگرافر الگ الگ نہیں رہے بلکہ دونوں ہی ابلاغ کے لئے ایک سے زیادہ ذرائع کا استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان میں کم و بیش 37 برس ’بی بی ڈُو‘ کے قیام کا اگر خلاصہ پیش کیا جائے تو انہوں نے اپنی تمام صلاحیتیں اور جملہ وسائل خیبرپختونخوا کے ضلع چترال میں جنگلات اور کالاش قبیلے کے رسم و رواج‘ رہن سہن اور سماجی تحفظ‘ کی نذر کئے۔ اپنی ذات میں ایک تحریک ’بی بی ڈُو‘ سے ملاقات کا سبب اُن کی تصاویر کے انتخاب بارے ایک نشست تھی جو بعد میں مختلف وسیلوں سے جاری رہی۔ فن عکاسی کے بارے میں بھی اُن سے تبادلۂ خیال اُور تکنیکی اَمور کے بارے اُن کی معلومات و مہارت کسی بھی طرح معمولی نہیں تھے۔ تصویر بنانے سے پہلے ہی وہ اُس کے ممکنہ استعمال کے بارے میں بھی فیصلہ کر لیتی تھیں اور اِس سے بھی بڑھ کر اہم بات اُن کی یاداشت تھی‘ جو ہر تصویر کے ساتھ گھنٹوں بولنے کی صورت حافظے کا حصہ تھی۔ اُمید ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت اُن کی بنائی ہوئی تصاویر کی قومی و عالمی سطح پر نمائش کے ذریعے اُن کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرے گی۔

برطانوی نژاد ’بی بی ڈُو‘ کو بالخصوص ضلع چترال میں فروغ تعلیم اُور کالاش قبیلے کی ثقافت محفوظ بنانے کے لئے خدمات پر حکومت پاکستان نے 2007ء میں ’’تمغۂ اِمتیاز‘‘سے نوازہ‘ جس کی اپنی جگہ اہمیت لیکن اُنہیں ایسے کسی بھی اعزاز سے اپنی ذات کے لئے خوشی نہیں تھی۔ 

ایک سوال کہ ’’کہ ’تمغۂ امتیاز‘ کا فائدہ یہ ہوا؟‘‘ کے جواب میں اُن کے شائستہ الفاظ کی گونج آج بھی ذہن میں محفوظ ہے کہ ’’اب لوگ میری بات زیادہ سنجیدگی سے سننے لگے ہیں‘ (تعجب ہے کہ) کیا ہمیں اعزازات کی لالچ میں سماجی خدمت کرنی چاہئے؟ میرا خیال ہے نہیں کیونکہ ’بے نوا انسانوں‘ کی خدمت سے زیادہ بڑا اعزاز کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔‘‘ ’بی بی ڈُو‘ 1937ء برطانیہ میں پیداہوئیں‘ 1980ء میں پہلی مرتبہ پاکستان آئیں اور پھر یہیں کی ہو کر رہ گئیں۔ انہوں نے چترال کی مخدوش تہذیب کالاش کے لئے اپنی عمر وقف کر دی۔ غیرسرکاری تنظیم (این جی اُو) کی طرح کام کرنے والی ’بی بی ڈُو‘ ایک ایسی مثال ہیں جس سے ’این جی اُوز کیمونٹی‘ کو بھی سبق سیکھنا چاہئے کہ انہوں نے کس انداز میں خود کو کالاش گھرانوں کی بہبود کے لئے وقف کیا اور کس طرح اُن سے گھل مل کر اُن کی قدیم زبان پر بھی دسترس حاصل کی۔ ’بی بی ڈُو‘ آخری عمر تک اس مخدوش و قدیم تہذیب کی ترویج کے لئے کوشاں رہیں۔ متعددکتب تصنیف کیں۔ چترال کے دورافتادہ‘ پسماندہ علاقے کی ایک وادی بریر میں انہوں نے کالاش کے یتیم بچوں کی کفالت کی ذمہ داری کے ساتھ سکول بھی تعمیر کیا۔ جنگلات کاٹنے والے بااثر مافیا کے خلاف بھی ڈٹ کر تحفظ ماحول کی کوششیں جاری رکھیں۔ ’بی بی ڈُو‘ نے امریکہ کی نیویارک یونیورسٹی سے عالمی تعلقات اور ابلاغیات کی اسناد حاصل کر رکھی تھیں۔ انہوں نے امریکہ کے زیرانتظام صحت پروگرام میں ملازمت کی اور اسی پلیٹ فارم سے کالاش لوگوں کو مفت ادویات تقسیم کرتی رہیں۔ 1995ء میں انہوں نے فوٹوگرافی پر بھی کتاب لکھی۔ وہ ’’ہندوکش کنزرویشن ایسوسی ایشن‘‘ کی بانی تھیں‘ جنہوں نے تحفظ قدرتی ماحول اور گندھارا تہذیب پر بھی کام کیا۔

کالاشی اور چترالی زبانوں کی ماہرہ ’بی بی ڈُو‘ اپنے اِس اعزاز پر زیادہ فخر کرتی تھیں کہ مقامی لوگ عزت و تکریم کی وجہ سے اُن کا اصل نام نہیں لیتے بلکہ اُنہیں والدہ اور بہنوں جیسا احترام دیتے ہیں۔ 

چترال کی وادیوں میں بیت الخلاء اور پینے کے صاف پانی کی رسائی کے لئے اُن کی کوششیں اپنی جگہ خواتین کے لئے ایسے محفوظ چولہے بھی متعارف کئے جن سے اُنہیں پھیپھڑوں کے امراض لاحق نہ ہوں۔ مضبوط اعصاب والی ’انسانیت دوست ’بی بی ڈُو‘ اگر زندگی کے کسی ایک محاذ پر باوجود کوشش بھی ناکام رہیں تو وہ ’پاکستانی شہریت‘ کا حصول تھا‘ جس کے لئے زیرسماعت ’’مقدمہ‘‘ وہ مرتے دم تک نہ جیت پائیں! ’بی بی ڈُو‘ کی صورت ایک جیتے جاگتے طلسماتی کردار نے اپنے فکروعمل سے ثابت کیا کہ ’’اگر انسان چاہے تو دنیا کو ’جنت نظیر‘ بنا سکتا ہے۔‘‘ اُن کی وفات سے پیدا ہونے والا خلاء شاید ہی کبھی پُر ہو سکے کیونکہ اپنی ذات سے آگے دیکھنے کا ظرف ہر کسی کی شخصیت کا خاصہ نہیں ہوتا۔ ’بی بی ڈُو‘ کو جاننے والوں بالخصوص چترال کی وادیوں میں رہنے والوں کی اکثریت ’بی بی ڈُو‘ کی وفات پر یقیناًغمزدہ اور آنکھوں میں سوالات لئے ہے کہ اَب بلاامتیاز انسانیت کے دکھوں کا مداوا کون کرے گا؟ اُور اب ’’بے نواؤں‘ کی آواز‘‘ کون بنے گا؟ 

Thursday, August 6, 2015

Aug2015: Devastating flood in Chitral

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
آفات سانحات: سمجھ اُور بوجھ!
مون سون بارشیں نہ تو پہلی بار ہو رہی ہیں اور نہ ہی اِن سے متعلق موسمیاتی پیشنگوئیاں غلط ثابت ہوئی ہیں‘ جانی و مالی نقصانات کی وجہ یہ ہے ہم قدرت کو سمجھنے اور اس سے نمٹنے کے لئے خاطرخواہ تیاری نہیں کرتے۔ اگر تیاری ہوتی تو نقصانات کا حجم کم سے کم رکھنے میں بڑی مدد مل سکتی تھی۔

خیبرپختونخوا کا ضلع چترال آبادی کے لحاظ سے چھوٹا لیکن رقبے کے لحاظ سے بڑا ضلع ہے۔ واخان کی سولہ کلومیٹر چوڑی پٹی ہٹا دی جائے تو چترال کی سرحدیں بروغل میں تاجکستان سے ملتی ہیں جبکہ کنٹر (افغانستان)‘ گلگت بلتستان‘ دیر اور سوات کے ساتھ سرحدیں رکھنے والے اس ضلع کی آبادی کا اندازہ سات لاکھ کے قریب لگایا جاتا ہے۔ چترال کا محض چھ فیصد حصہ ہی قابلِ کاشت اور آبادی کے لائق ہے جبکہ پندرہ فیصد حصہ برفانی تودوں اور بقیہ پہاڑوں اور بے آب و گیاہ بیانوں پر مشتمل ہے۔ چترال میں سردیاں سخت جبکہ گرمیاں صرف زیریں علاقوں میں گرم کہلائی جا سکتی ہیں۔ بالائی چترال میں جولائی اور اگست کے دنوں میں بھی پنکھے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کے باوجود عالمی حدت میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گزشتہ کچھ سالوں سے چترال میں گلیشیئرز پگھلنے کی رفتار میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ بالائی چترال کے گاؤں بریپ میں کوئی آٹھ سال قبل گلیشیئر پھٹنے کا واقعہ پیش آیا۔ اگلے سال خوبصورت اور دیومالائی داستانوں کے حامل گاؤں سنوغر میں‘ تیسرے سال دل کو لبھانے والے مناظر کے حامل قصبے بونی اور پھر کھوار زبان کے صوفی شاعر مہ سیار کی محبوبہ کی جائے پیدائش ریشن میں گلیشیئر پھٹنے سے تباہی ہوئی۔ یہ سلسلہ اب رکنے کا نام نہیں لے رہا! کیونکہ فیصلہ سازوں نے ماضی میں ہونے والے اکادکا واقعات کا ’نوٹس‘ لینے کی ضرورت نہیں سمجھی۔

نوشہرہ سے آگے کا خیبر پختونخوا کا کوئی علاقہ مون سون کے راستے میں نہیں آتا لیکن ساون کے بچھڑے بادل (سکندر اعظم کے پیچھے رہ جانے والے زخمی فوجیوں کی طرح) ضلع دیر تک بارشوں کا باعث بنتے ہیں اور یوں یہ علاقہ ان بارشوں کی برکت سے ہرا بھرا اور چارے سے بھرپور ہے۔ دیر اور چترال کے درمیان بارہ ہزار فٹ بلند لواری ٹاپ نے ان بادلوں کا راستہ روک رکھا تھا۔ لواری ٹاپ نہ صرف ساون کے بادلوں کو روکتا تھا بلکہ چھ ماہ تک چترالیوں کو بھی بقیہ پاکستان سے الگ رکھتا تھا۔ سابق صدر پرویز مشرف نے لواری ٹاپ سے سرنگ (جو کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کا آئیڈیا تھا) نکلوا کر چترالیوں کو بارہ مہینے کا پاکستانی تو بنا دیا لیکن ساتھ ہی ساون کے لئے چترال پہنچنے کا راستہ بھی کھول دیا۔ یہ بات شاید بہت سے پڑھنے والوں کو مذاق لگے لیکن پرویز مشرف کے چترالی ناقدین (جن کی تعداد گو کہ آٹے میں نمک سے بھی کم ہے) اسے سائنسی بنیادوں پر ثابت کرنے پر تیار رہتے ہیں! متذکرہ قصبے بونی سمیت آس پاس کے علاقوں میں ساون کی بارشیں پہلے کبھی نہیں یا موجودہ شرح میں نہیں ہوئیں لیکن اس وقت ان علاقوں میں موسم اسلام آباد اور پنڈی سے ذرا مختلف نہیں تھا‘ باہر زوروں کی بارش جبکہ گھروں کے اندر حبس۔ یہ تجربہ چترالیوں کے لئے چند برس سے زیادہ کا نہیں ہے۔ چترال کی زمینی ساخت دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ان پہاڑیوں پر زبردست بارش کا پانی اپنے ساتھ ڈھیروں مٹی لے کر لڑھک کر نیچے آیا اور چترال کے دیہات وجود میں آئے۔ کہتے ہیں کہ پانی کبھی اپنا راستہ نہیں بھولتا‘ اب دوبارہ اپنے راستوں پر آیا تو اسے ہم قدرت کا قہر‘ موسمی تبدیلی‘ ہمارے گناہوں کا نتیجہ‘ حکمرانوں کی ناقص منصوبہ بندی اُور پتہ نہیں کیا کیا نام دے رہے ہیں۔ چترال میں سیلابی تباہی کو ذرائع ابلاغ نے شروع میں نظرانداز اور بعد میں بہت توجہ دی۔ ہوسکتا ہے اس کی وجہ کسی دھرنے کی غیر موجودگی‘ اسکاٹ لینڈ یارڈ کی طرف سے مزید انکشافات نہ ہونا یا ماڈل ایان علی کی عدالتی پیشیوں کا ختم ہونا ہو یا پھر واقعی میں ہمارے ذرائع ابلاغ اتنے بالغ ہو چکے ہیں وہ اس حقیقت میں سانحے کو سانحہ سمجھنے لگے ہیں!

چترال کی موجودہ ضرورت کیا ہے؟ کیا اسے یونیورسٹی کی ضرورت ہے یا بحالی و امدادی سرگرمیوں کی؟ چترال میں ریسکیو سروسیز کا آغاز اور دیگر مطالبات کو کچھ وقت کے لئے مؤخر کیا جاسکتا تھا۔ اس کی جگہ ہنگامی بنیادوں پر بجلی کا بندوبست کرنے کے لئے جنریٹرز کا بندوبست کیا جاتا۔ گلگت سے ایندھن لانا ضروری تھا۔ ہیلی کاپٹرز سے ادویات پہنچانے کی مانگ ہوتی‘ بحالی اور علاقائی ترقیاتی کے کام تو بہت بعد کی بات ہے! کون نہیں جانتا کہ بالائی چترال حالیہ سیلاب سے شدید متاثر ہوا ہے۔ رابطہ سڑکیں مٹ چکی ہیں۔ اشیائے خور و نوش مارکیٹ سے ختم ہوگئی ہیں۔ ایندھن صرف سرکاری گاڑیوں کے استعمال کے لئے رہ گیا ہے۔ پہلے سے ناگفتہ بہ بجلی کے نظام کا مکمل خاتمہ ہوگیا ہے۔ موبائل فون بند‘ گاڑیوں سے سڑکیں خالی۔ ریشن کے مقام پر بجلی گھر ٹنوں مٹی تلے دب گیا ہے‘ جس کا مطلب ہے کہ اس بجلی گھر سے پھر بلب جلانے کی امید نہ رکھی جائے۔ اسے صاف کرنے کی مدت میں نیا بجلی گھر تعمیر کیا جا سکتا ہے!

جہاں ہسپتال اور بازار بند ہوں۔ جہاں سرکاری ملازمین کے لئے مزید تعطیلات کا اعلان ہو چکا ہو۔ جہاں ہیلی کاپٹروں سے صرف بیماروں کو چترال پہنچایا جا رہا ہو۔ نجانے آغا خان فاؤنڈیشن کے ہیلی کاپٹرز کہاں گم ہو گئے ہیں۔ چترال کی معیشت پر سیلاب سے پیدا ہونے والے بوجھ کی شدت کو سمجھا جائے۔ مثال کے طور پر بونی سے چترال خاص جو کہ ساٹھ یا ستر کلومیٹر کا فاصلہ ہے اور سیلاب سے قبل کرایہ ڈیڑھ سو سے کم تھا لیکن اب بونی سے کوراغ جو کہ دس کلومیٹر سے کم فاصلہ ہے کا کرایہ ڈیڑھ سو روپے وصول کیا جا رہا ہے۔ جو پہلے ہی لٹ چکے ہیں ان کے لئے مشکل کی اس گھڑی مفت آمدورفت کا کم از کم بندوبست تو کیا ہی جا سکتا ہے۔ زخموں پر نمک پاشی کی بجائے مرہم کا بندوبست بھی ہونا چاہئے!

Sunday, July 26, 2015

Environmental balance

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
عدل و اعتدال
ماحول اور تحفظ ماحول کی بات کرتے ہوئے ہمیں ایک ایسے عدل و اعتدال (توازن) برقرار رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے جس میں جملہ ’ہم زمین‘ حیات کے وجود کو صرف برداشت ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ طرز معاشرت سیکھا جائے۔ یہی وہ موضوع ہے جو انسان سے انسان کی طرح جانوروں اور پرندوں کے تعلق کی ضرورت و اہمیت کو بیان کرتا ہے۔ پرانے دور میں جانوروں اور پرندوں سے استفادہ بار برداری‘ سواری‘ رکھوالی‘ شکار میں مدد‘ خوراک کے حصول جیسے اہم مقاصد کے لئے کیا جاتا مگر ہر دور میں انہیں شوقین مزاجی کے لئے پالا بھی جاتا رہا ہے۔ شہری علاقوں میں خاص طور پر اس قسم کے شوق کا عنصر غالب نظر آتا ہے۔ مغرب کی دیکھا دیکھی ہمارے ہاں بھی جانور پالنا ’فیشن کی علامت‘ بنتا جا رہا ہے۔ پشاور کے اندرون کوہاٹی گیٹ اور بٹیربازاں کی اکادکا دکانیں پرندوں سے بھری دکھائی دیتی ہیں جو اس شہر میں پلتے بڑھتے رجحان اور شوق کا آئینہ دار ہے۔

پالتو جانوروں میں گھوڑا سرفہرست ہے لیکن شہری علاقوں میں انسان کے اس سب سے پرانے دوست کی رکھوالی آسان نہیں۔ تقریباً ہر قوم اور تہذیب میں گھوڑوں کو خاص مقام حاصل رہا ہے۔ عرب میں تو ہر گھوڑے کا نام رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کا پورا شجرہ نسب تک یاد رکھا جاتا تھا۔ پالتو جانوروں میں دوسرا نمبر ’کتے‘ کا ہے جو رکھوالی کے ساتھ مغربی ممالک کی طرح سرآنکھوں پر بٹھایا جا رہا ہے۔ اگرچہ ہمارے ہاں کتا معیوب جانور سمجھا جاتا تھا لیکن انٹرنیٹ پر تلاش کیجئے ایک ایک کتے کی قیمت لاکھوں میں مقرر کرنے والے اور خریداروں کے ہجوم میں کان پڑی آواز بھی سنائی نہیں دے گی۔ ہمارے سیاستدانوں اور اشرافیہ کے لئے تو کتا ایک بہترین تحفہ بھی ہے اور چند ایک سیاست دان تو کتا بطور تحفہ وصول کرنے پر ذرائع ابلاغ کی زینت بھی بن چکے ہیں۔ ہمارے ہاں کتوں کی جو نسلیں گھر میں رکھنے کے لئے زیادہ عام ہیں ان میں لیبراڈور‘ جرمن شیفرڈ‘ بیلجیئم شیفرڈ‘ روٹ ویلر‘ رشین اور پوائنٹر لیکن ایسی اچھی نسل کے کسی کتے کا ملنا آسان اور سستا نہیں۔ گھریلو پالتو جانوروں میں تیسرے نمبر پر ’بلی‘ آتی ہے جنہیں پسند کرنے کی ایک وجہ ان کی خود کو صاف رکھنے کی عادت ہے۔ یہ روزانہ اپنی زبان سے اپنے پنجوں اور جسم کے مختلف حصوں کو صاف کرتی رہتی ہیں۔ یاد رہے کہ شیر کی خالہ (بلی) کی قیمت پانچ ہزار سے پانچ لاکھ روپے تک ہو سکتی ہے اور ان کی ماہانہ (درآمدی) خوراک بھی سستی نہیں جس پر ایک ہزار سے تین ہزار روپے کم از کم خرچ ہو سکتے ہیں!

ایک وقت میں طوطا پشاوریوں کے رہن سہن کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ ہر گھر اور کندھے پر ایک طوطا کچھ نہ کچھ بولتا نظر آتا لیکن اب سبز کے علاؤہ پیلے‘ سفید‘ نیلے اور مختلف دیگر رنگوں کے طوطے کوہاٹی گیٹ سے باآسانی مل جاتے ہیں جن کی قیمت ہزاروں روپے میں سن کر قطعی اوسان خطا نہ کیجئے گا کیونکہ طوطوں کی نسلیں درآمد کی جاتی ہیں۔ طوطے کی قیمت چند سو روپے سے دو لاکھ روپے تک ہو سکتی ہے۔ مکاؤ‘ کوکیٹو اور گرے پیرٹ نایاب نسلیں بھی ہیں جنہیں بہت پسند کیا جاتا ہے۔ اگر ہم پالتو جانوروں پر اٹھنے والے اخراجات کے حوالے سے فہرست مرتب کریں تو طوطا سرفہرست ہوگا کیونکہ یہ ہرقسم کی پھل‘ سبزی کھا سکتا ہے اور کسی گھر کی عادات کے مطابق اپنی خوراک کی عادات ڈھال لیتا ہے۔ آپ اسے اناج و سبزی روٹی یا ڈبل روٹی کا ٹکڑا تھما سکتے ہیں یقین جانئے یہ کسی بھی کھانے کی چیز کو کترنے میں بالکل انکار نہیں کرے گا۔ البتہ اس کا مزاج تھوڑا سخت کرخت اور بے وفا مشہور ہے کہ جب بھی اسے موقع ملتا ہے یہ اپنی فطرت کے مطابق اُڑ جاتا ہے!

یاد رکھیں کہ پالتو پرندے ہوں یا کوئی بھی جانور‘ ان کی طبیعت بے حد حساس ہوتی ہے۔ ان کا خیال چھوٹے بچوں کی طرح کرنا پڑتا ہے۔ انہیں زیادہ دیکھ بھال کی تو ضرورت نہیں ہوتی لیکن گھر میں رہتے ہوئے وہ خطرات کا ازخود مقابلہ نہیں کرسکتے اِس لئے آپ کو اُن کا ضامن بننا ہوتا ہے۔ جانور شور شرابے‘ تیز موسیقی‘ سگریٹ کے دھوئیں‘ کاربونیٹیڈ مشروبات‘ چائے‘ قہوہ یا دیگر نشہ آور مشروبات لینے کے عادی نہیں ہوتے اور یہی وجہ ہے کہ جب انہیں گھروں میں اِس قسم کی خوراک دی جاتی ہے تو وہ عمومی خوراک کھانا ترک کر دیتے ہیں۔ بچوں کو پرندوں کی دیکھ بھال سکھا کر انہیں صحت مند تفریح اور ماحول دوستی کی عملی تعلیم دی جا سکتی ہے۔ وہ کرہ ارض اور ماحول سے محبت کرنا سیکھ سکتے ہیں۔ جس طرح بچے شرارتیں کرکے آپ کو ہنسنے اور مسکرانے پر مجبور کر دیتے ہیں اسی طرح پالتو جانور بھی آپ کی بہت سی پریشانیوں کا ایک ایسا علاج ثابت ہوسکتے ہیں‘ جس کے کوئی (مضر) سائیڈ ایفکیٹ نہیں ہوتے۔

Saturday, July 25, 2015

July2015: Lessons embeded

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سبق آموز آفات
خیبرپختونخوا کے ضلع چترال کے رہنے والے کڑی آزمائش سے گزر رہے ہیں۔ گذشتہ دس برس کے دوران موسم کا یہ بدترین برتاؤ ہے جس سے پرسکون دریاؤں‘ چشموں اور دیگر آبی گزرگاہوں میں طوفان برپا ہے۔ چترال کی جنت نظیر وادیاں کہ جہاں کبھی پرسکون خاموشی ہوا کرتی تھی‘ موت کی وادی بن چکی ہے اور یہ سب کچھ کیا دھرا ’قدرت‘ کا نہیں بلکہ جن چھبیس دیہات کے ساٹھ ہزار سے زائد افراد اپنی جان بچانے کے لئے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں‘ اُن کی زحمت اور نقصانات کا سبب انسانی ہے اور یہی بات اگر ہم نے سمجھ لی تو نہ صرف مستقبل میں مزید ایسے طوفانوں سے بچ سکیں گے بلکہ میدانی علاقوں میں سیلابی ریلوں سے ہوئی تباہی سے بچاؤ بھی ممکن ہو سکے گا۔

چترال کی وادیاں ایک عرصے تک دریا کے کنارے پگڈنڈیوں سے جڑی ہوئی تھیں جن پر مسافت کرنے والے گدھے یا خچروں پر لدے ہوئے سامان کے ساتھ گاؤں گاؤں جا کر چائے‘ نمک و دیگر ضروریات فروخت کیا کرتے تھے۔ یہاں کی معیشت نوے فیصد سے زائد زراعت پر منحصر تھی۔ جس میں پالتو جانور مال مویشیوں کی انسانوں کی طرح یکساں اہمیت تھی۔ یہاں کے رہنے والوں کو درختوں کی قدر ہوا کرتی تھی اور انہیں مقدس سمجھ کر اُن کا خیال رکھا جاتا تھا لیکن پھر چترال کی ثقافت اور بودوباش میں تبدیلیاں آئیں اور درختوں کی شاخ تراشی کی بجائے اُنہیں کاٹ ڈالنے اور راتوں رات امیر بننے کی دھن ہر سر پر سوار ہو گئی۔ جنگلات کو ہر کسی نے اپنی اپنی اوقات کے مطابق نقصان پہنچایا یعنی کسی نے کم اور کسی نے زیادہ۔ کسی نے درخت کاٹ کر اور کسی نے خاموشی اختیار کر کے! چترال میں دیگر اضلاع سے سرکاری ملازمین تعینات کئے گئے جن کی فیصلہ سازی میں اُن کے پیش نظر چترال کی محبت یا مفادات نہیں تھے۔ سیاسی جماعتیں بھی مختلف ادوار میں چترال کے اُنہی افراد کو منتخب کرتی رہیں جن کے پاس مالی وسائل تھے اور وہ عام انتخابات میں سرمایہ کاری کرنے کی استطاعت رکھتے تھے۔ چترال کے جنگلات کی تقسیم اور اس قومی وراثت کے ذاتی اثاثوں میں تبدیل ہونے سے اس بات کا بھی خیال نہیں رکھا گیا کہ اگر درخت کاٹے جا رہے ہیں تو ان کے متبادل کے طور پر مزید درخت لگائے جائیں۔ چترال کی زرعی معیشت میں چرواہوں کا بھی کلیدی کردار ہوا کرتا تھا جو بکریاں لے کر دور پہاڑوں گھاٹیوں اور وادیوں میں گھومتے رہتے تھے اور اپنے ساتھ واپسی پر ایسی جڑی بوٹیاں لایا کرتے جن میں پیچیدہ امراض کا شافی علاج ہوتا۔ یہ روایت بھی ختم ہونے کے قریب ہے اور بکری بانی پر انحصار کی ضرورت بھی نہیں رہی۔ جب درخت کٹ رہے تھے تو سورج کی روشنی اور بارش کا پانی براہ راست زمین پر برسنے لگا۔ تیز ہواؤں نے زمین کے کٹاؤ کو مزید آسان بنادیا اور نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ سیاحت کے لئے جب کبھی بھی چترال جانے کا اتفاق ہوا‘ وہاں کے قدرتی وسائل کی شکست و ریخت دیکھ کر حیرت ہوتی کہ حکومتی محکمے کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ حالیہ مون سون بارشوں سے دریاؤں میں آئی طغیانی کا بڑا سبب یہی ہے کہ پہاڑوں سے درخت ختم ہو چکے ہیں اور وہاں کی مٹی بہہ کر وادیوں میں جمع ہوتی چلی گئی۔ یہی وجہ تھی کہ جب بارش آئی تو اس کا پانی پوری رفتار کے ساتھ وادیوں میں نئے راستے بناتا چلا گیا۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ چترال کی ضلعی انتظامیہ نے فی گھرانہ تین بکریوں سے زائد رکھنے پر پابندی کیوں عائد کی جبکہ وہاں کی معیشت اور طرزمعاشرت میں زراعت کا ایک کلیدی کردار رہا ہے جسے برقرار رکھنے یا زیادہ منافع بخش بنانے کی بجائے اس میں بتدریج کمی کی جاتی رہی۔ کیا یہ چترال سے کھلی دشمنی نہیں تھی کہ وہاں کے ماحولیاتی تنوع کی نہ تو حفاظت کی گئی اور نہ ہی ماحول کے توازن کو برقرار رکھنے کے لئے اُن کثیرالمنزلہ ہوٹلوں کی تعمیرات پر پابندی لگائی گئی جن کی وجہ سے جنگلات پر دباؤ بڑھا۔ قدرتی وسائل پر غیرضروری بوجھ بڑھا اور پیسہ کمانے کی لالچ میں چترال کی خوبصورتی کو ایک ایک کرکے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا!

عالمی سطح پر کرۂ ارض کا درجۂ حرارت بڑھنے کا منفی اثر بھی چترال پر دیکھا جاسکتا ہے۔ وادیوں کا درجۂ حرارت بڑھنے کی خبریں ایک عرصے سے شائع ہو رہی تھیں اور سیاح بھی یہ بات بتا رہے تھے کہ گذشتہ ماہ و سال کے مقابلے چترال کی آب و ہوا گرم ہو رہی ہے لیکن اس بارے حکومتی اداروں کی خاموشی برقرار رہی۔ فی الوقت چترال کے موجودہ جنگلات اور سرسبز وادیوں میں سے جو کچھ بھی باقی بچا ہے اُسے بچانے کی ضرورت ہے۔ علاؤہ ازیں تحقیق میں بھی سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے تاکہ چترال میں آئے سیلاب کے معلوم محرکات کی گہرائی اور اثرات کے بارے کوئی حکمت عملی طے کی جاسکے۔ جب تک ہم تحقیق کی ضرورت محسوس نہیں کرتے‘ سیلاب جیسی آفت کا راستہ روکنے کی کوئی دوسری صورت نہیں۔

چترال سے آمدہ اطلاعات کے مطابق متاثرین کے لئے امداد اور بحالی کی سرگرمیوں کا حجم بڑھانے کے ساتھ سیاسی امتیازات کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔ دور دراز وادیوں میں رہنے والوں کے مقابلے میدانی علاقوں میں ضرورت سے زیادہ امداد تقسیم کی جارہی ہے جس کی منصفانہ تقسیم سے موجودہ بحرانی صورتحال کی شدت میں بڑی حد تک کمی لائی جاسکتی ہے۔

Friday, July 24, 2015

Jul2015: New Earth & an Old Earth!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
نئی زمین‘ پرانی زمین
امریکہ کے خلائی ادارے کی تحقیق منظرعام پر آنے سے ایک ہفتہ قبل (سترہ جولائی) کے روز عالمی سطح پر ماحولیاتی تنوع کا ایک جائزہ پیش کیا گیا جس کے مطابق انسان نے اپنی بقاء کے لئے کرۂ ارض کا توازن بگاڑ دیا ہے۔ گذشتہ تین عشروں کے دوران خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد میں 70کروڑ کی غیرمعمولی کمی آئی ہے جبکہ اس عرصے میں دنیا کی آبادی میں دو کروڑ افراد کا اضافہ بھی ہوا لیکن یہ ترقی قدرت کے بنائے ہوئے نظام کو بگاڑ کر حاصل کی گئی ہے۔ سب سے زیادہ دباؤ جنگلات پر دیکھا گیا‘ جس کا رقبہ گذشتہ تین دہائیوں میں اِس تیزی سے کم ہوا ہے کہ اِس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ دانشمندی یہ تھی کہ جنگلات کے رقبے میں اضافہ کیا جاتا لیکن گذشتہ پندرہ برس میں دنیا بھر میں مجموعی طورپر پر 23لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلے جنگلات کاٹے گئے۔ زیر آب مخلوقات کا اپنی ضروریات سے 90فیصد زیادہ شکار کیا گیا۔ سمندروں کا پانی آلودہ کیا گیا۔ اس عرصے میں یہ بھی ہوا کہ دنیا بھر میں دریاؤں کا ساٹھ فیصد پانی کم ہوا۔ ’مضر ماحول گرین ہاؤس گیسیز (کاربن ڈائی آکسائیڈ‘ میتھین اُور نائٹروس آکسائیڈ) کے اخراج سے ہوا کثیف ہو چکی ہے اور اگر اکیسویں صدی میں جبکہ علوم قدرے ترقی یافتہ شکل میں ہمارے سامنے ہیں لیکن اِن علوم کی روشنی میں حکومتی ترجیحات مرتب نہیں کی جاتیں تو اِس کے زیادہ مضر اثرات آنے والے چند برس میں زیادہ شدت سے دیکھنے میں آئیں گے۔

چترال کی مثال لیں جہاں تین لاکھ خاندان مون سون بارشوں سے متاثر ہوئے ہیں لیکن صرف موسلادھار مون سون بارشیں ہی اِس تباہی کے لئے ذمہ دار نہیں بلکہ جس تیزی سے برفانی تودوں کا حجم کم ہو رہا ہے اُس سے دریاؤں میں طغیانی آئی۔ نقصانات کے ابتدائی تخمینہ جات کے مطابق مستوج میں ساٹھ ہزار جبکہ کیلاش کی وادیوں میں پچیس ہزار خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ ضلع چترال کے دیگر حصوں بونی اُور گرم چشمہ میں بھی بڑے پیمانے پر تباہی دیکھنے میں آئی ہے جس کی وجہ سے خیبرپختونخوا حکومت نے ’ہنگامی حالت‘ کے نفاذ کا اعلان کیا ہے اور رابطہ شاہراؤں کی بحالی اور امداد کاروائیوں کے لئے فوری طور پر چودہ کروڑ روپے مہیا کئے ہیں۔ ہمارے حکومتی ادارے کسی آفت کے موقع پر سب سے پہلا کام یہ کرتے ہیں کہ وہ اس کا سبب ’قدرت‘ کو قرار دیتے ہیں یعنی ’قدرتی آفت‘ حالانکہ قدرت کبھی بھی آفات نازل نہیں کرتی۔ یہ ہماری اپنی غلط حکمت عملیوں کا کیا دھرا ہے جو آفات کی صورت نازل ہوتا ہے۔ ہمارے فیصلہ سازوں کو اس بات میں زیادہ تسکین ملتی ہے کہ وہ تباہ حالوں کے لئے کروڑوں روپے بطور امداد خرچ کریں جس کا کوئی حساب کتاب (آڈٹ) نہ ہو!

قدرت کے مقرر کردہ ماحولیاتی توازن و تنوع کے بارے میں جس طرح کی ہماری سوچ اور عمل ہے‘ اُنہیں دیکھتے ہوئے ہمیں بہت جلد ایک نئی زمین کی ضرورت پڑے گی کیونکہ موسلادھار بارشیں ہوں یا برفانی تودے پگلنے کا تیزرفتار عمل‘ دونوں کی وجہ سے قابل کاشت و زرخیز زرعی اثاثوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ چترال کی وادی میں زراعت اور مال مویشیوں کے نقصانات کا اندازہ ابھی نہیں لگایا گیا اور اُمید ہے کہ خیبرپختونخوا کے محکمۂ زراعت کا ذیلی شعبہ ’ایگری کلچر انفارمیشن‘ اِس سلسلے میں تحقیق کرکے جلد حقائق نامہ مرتب کرے گا۔ ابھی ہم جولائی 2010ء میں آئے سیلاب کی تباہ کاریوں کو نہیں بھولے تھے کہ دوہزار پندرہ کی اُنہی تاریخوں نے ہمیں آلیا۔ اگر ہم ماضی کی غلطیوں اور اُن کوتاہیوں کا شمار کرنے کے قابل ہو جائیں تو ماحولیاتی توازن پھر سے بحال کرنا اب بھی ممکن ہے۔ دانشمندی یہی ہے کہ ہم خلاؤں میں نئی زمین تلاش کرنے کی بجائے اپنے پاؤں تلے موجود وسائل اور اپنی ضروریات و ترقی کو ماحول دوست بنانے پر توجہ مرکوز کریں۔

Sunday, July 5, 2015

TRANSLATION: Chessboard

Chessboard
سیاسی شطرنج
وزیراعظم نواز شریف جانتے ہیں کہ وہ سیاسی شطرنج کا کھیل دوسروں کی نسبت زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ اِس سیاسی شطرنج کی بساط کے مہروں میں سیاسی حکومت کے مدمقابل فوج کا ادارہ بھی ہے جبکہ سیاسی حکمرانوں کے سامنے ’میثاق جمہوریت‘ کے اہداف بھی ہیں۔ یہ وہی سیاسی معاہدہ ہے جس کی رو سے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین اس بات پر متفق ہوئے کہ وہ اپنے قول و فعل سے ایسی کوئی غلطی سرزد نہیں کریں گے جس سے فوج کے ادارے کو حکومت میں آنے کا موقع یا بہانہ مل جائے اور جمہوریت کا پانسہ پلٹ جائے۔

جون کی 23 تاریخ کو وزیراعظم نے پاک فوج کے سربراہ سے ملاقات کی۔ 24جون کو سابق صدر زرداری کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دی گئی اور وہ متحدہ عرب امارات میں اپنے پرآسائش محل نشین ہوگئے۔ یہ وہی وقت ہے جبکہ وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے ’ایف آئی اے‘ کے اختیارات میں اضافہ کیا ہے جس کے بعد وہ کسی بھی صوبے میں سماج دشمنوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف کاروائی کر سکیں گے۔ ان اختیارات کے ملنے کو سندھ حکومت سمجھتی ہے کہ یہ اُس کی صوبائی خودمختاری پر ایک وار ہے۔

سندھ رینجرز کے ڈائریکتر جنرل میجر جنرل بلال اکبر نے تین ہزار پانچ سو کلومیٹر پر پھیلے اُس شہر کا تقریباً کنٹرول سنبھال لیا ہے جسے ہم کراچی کے نام سے جانتے ہیں لیکن پاک فوج کا ادارہ اِس کنٹرول کو ریاستی قوانین کے تابع سیاسی حکمرانوں کے ہاتھ میں رکھنا چاہتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ’ایف آئی اے‘ اور ’نیب‘ جیسے اداروں کو اپنی موجودگی کا ثبوت دینا ہے تاکہ کراچی کو منظم جرائم پیشہ عناصر کے چنگل سے ہمیشہ کے لئے نجات دلائی جا سکے۔

ملک کی سیاسی شطرنج کی بساط پر ہونے والا کھیل سب کے سامنے ہے۔ ہر کوئی اپنی اپنی دانست کے مطابق چال چل رہا ہے۔ سندھ کی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی جو کہ سونے کی کان جیسی ہے کے مرکزی دفاتر پر 15جون کے روز سندھ رینجرز نے چھاپہ مارا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے (سندھ رینجرز) کی جانب سے اقتصادی بدعنوانوں کے خلاف یہ اپنی نوعیت کی منفرد کاروائی تھی جس سے یہ ثابت ہوا کہ رینجرز نے دیگر جرائم کے ساتھ اُس اقتصادی شہ رگ پر بھی ہاتھ ڈال دیا ہے جس کی وجہ سے جرائم پیشہ تقویت حاصل کرتے ہیں۔

سولہ جون کا دن خاموشی سے گزرا۔ 17جون کو وزیراعلیٰ سندھ نے ڈائریکٹر جنرل رینجرز کو ایک خط لکھا جس میں سندھ بلڈنگ اتھارٹی کے دفتر پر چھاپہ مارنے کو اپنے اختیارت سے تجاوز قرار دیا گیا۔ ڈائریکٹر جنرل رینجرز نے اس بات کو ضروری نہیں سمجھا کہ وہ وزیراعلیٰ کی طرف سے بھیجے گئے خط کا جواب دیں۔

یہ دن پیپلزپارٹی کے لئے اچھے نہیں۔ وفاقی حکومت نے کراچی الیکٹرک کے ادارے پر بھی ہاتھ ڈالا جس کا اجازت نامہ زرداری نے ابراز کو دیا تھا۔ 30جون کو ’ائر انڈس‘ نامی جہاز راں ادارے کو بھی کام کرنے سے روک دیا گیا اور یہ حکم ائرمارشل (ریٹائرڈ) محمد یوسف کی طرف سے آیا لیکن اگلے ہی ائرمارشل کو عہدے سے الگ کر دیا گیا۔ کیا سندھ حکومت کی جانب سے ماضی میں کئے گئے بہت سے دیگر معاہدے بھی خطرے میں ہیں؟

پاک فوج کے ادارے نے بہت بڑا محاذ کھول لیا ہے۔ زرداری ملک سے باہر چلے گئے ہیں جس سے دو طبقات کو غلط پیغام جا رہا ہے۔ ایک تو سیاسی حکومت اسے اچھی نظر سے نہیں دیکھ رہی اور دوسرا فوج کا ادارہ جانتا ہے کہ اُس کے پاس زیادہ وقت نہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی نہ صرف کمزور ہے بلکہ منظرنامے سے غائب بھی ہے۔ زرداری نے پیپلزپارٹی کے ساتھ وہ سب کچھ کر دیا ہے جو فوج کا ادارہ باوجود کوشش بھی تین دہائیوں میں نہیں کرسکا۔ راولپنڈی اور ملتان کے درمیان رہنے والے ووٹر جو کہ ایک سو قومی اسمبلی کی نشستوں میں پھیلے ہوئے ہیں پیپلزپارٹی سے متاثر نہیں۔ اُن کے لئے پیپلزپارٹی کا ماضی‘ اس کے قائدین کی شہادت و قربانیاں اور جیل میں بسر کیا ہوا وقت کوئی معنی نہیں رکھتا جبکہ ملتان اور رحیم یار خان کے درمیان قومی اسمبلی کی چار درجن نشستیں ہیں اور یہ خطہ ایک وقت میں پیپلزپارٹی کا گڑھ ہوا کرتا تھا لیکن یہاں بھی پیپلزپارٹی سے دلی ہمدردی رکھنے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کے لئے اگر کوئی علاقہ ایسا ہے کہ جہاں وہ اپنی جماعت کے لئے ووٹ حاصل کر سکتے ہیں تو وہ سکھر اور ٹھٹھہ کے درمیان کا خطہ ہے جہاں قومی اسمبلی کی تین درجن نشستیں ہیں اور ان علاقوں کی خاص شناخت یہ ہے کہ آپ کو یہاں انتہائی زیادہ غربت اور انتہائی کم شرح خواندگی نظر آئے گی۔ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ پیپلزپارٹی نواز لیگ کے مقابلے ملک میں مقبولیت کی کم ترین سطح کو چھو رہی ہے۔

دریں اثناء حکومت پاکستان نے 19 مزید افراد کے ڈوب کر مر جانے کا تماشا کیا ہے یہ حادثہ جو کہ ریلوے کے ادارے کی مجرمانہ غفلت اور سو سالہ پرانے ریلوے کے ڈھانچے (انفراسٹکچر) سے استفادہ کی وجہ سے پیش آیا کوئی انوکھا نہیں۔ ہر سال ایسے ہی محرکات کی وجہ سے پیش آنے والے ٹریفک حادثات کا شکار ہونے والوں کی تعداد پانچ ہزار ہے۔ سالانہ پانچ ہزار افراد ہی دہشت گردی کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ دو ہزار ہرسال سیلاب و قدرتی آات جبکہ پندرہ سو سالانہ گرمی کی لہر اور ایک ہزار فیکٹریوں میں لگنے والی آگ کے سبب مرجاتے ہیں۔ یہ سبھی وہ ہلاکتیں ہیں جو فطری نہیں اور اگر حکومت اپنا کردار ادا کرے تو اِن اموات کو باآسانی روکا جا سکتا ہے۔

مالی سال 2015-16ء کے بجٹ میں 326 ارب روپے سیاسی حکومت (سول گورنمنٹ) چلانے کے لئے مختص کئے گئے لیکن حکومت اس قدر مالی وسائل عوام کی حادثات و دیگر غیرفطری محرکات میں اموات کے لئے مختص نہیں کر رہی اور اپنے ہی عوام کو ہر روز مرتے ہوئے دیکھ رہی ہے اور اس کے لئے قدرت کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے۔ اگر حکومت پاکستان کے اعمال کے لئے قدرت ہی ذمہ دار ہے اور سب کچھ قدرت ہی کی مبینہ بے رحمی کے سبب وقوع پذیر ہو رہا ہے جسے روکا نہیں جاسکتا تو پھر ایک سیاسی حکومت کے انتظامی اخراجات پر 326 ارب روپے خرچ کرنے کی ضرورت یا منطق ہی کیا ہے؟ کسی دانا کا قول ہے کہ ’’میں مزاحیہ باتیں (لطیفے) نہیں لکھتا بلکہ میں تو صرف حکومتی اقدامات پر نظر رکھتا ہوں اور اُن سے متعلق حقائق عوام کے سامنے پیش کردیتا ہوں۔‘‘

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ شبیر حسین امام )

Thursday, April 23, 2015

TRANSLATION Back to Shandur

Back to Shandur
شیندور کا تنازعہ
خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان حکومتوں کے درمیان ایک دیرینہ تنازعہ حل ہونے کی وجہ سے دنیا کے بلند ترین کھیل کے میدان ’شیندور‘ میں ہونے والے سالانہ کھیلوں کے مقابلے جن میں ’پولو‘ کا مقابلہ عالمی توجہ کا مرکز ہوتا ہے کے روائتی گرمجوش مقابلوں کے انعقاد کے امکانات روشن ہو گئے ہیں اور تین برس کے وقفے کے بعد رواں برس 7 سے 9 اگست تک شیندور میلے کے دوران گلگت بلتستان کی پولو ٹیم بھی روائتی حریف کے مدمقابل ہوگی۔ یاد رہے کہ شیندور کا میدانی علاقہ خیبرپختونخوا کے ضلع چترال کا حصہ ہے جو سطح سمندر سے 12 ہزار 500 فٹ بلندی پر واقع ہے۔

شیندور کے مقام کے حوالے سے جب خیبرپختونخوا اُور وفاق کے زیرانتظام گلگت بلتستان حکومتوں کے درمیان تنازعہ کھڑا ہوا تو اُس کے حل کے لئے کسی نے خاطرخواہ کردار ادا نہیں کیا حتیٰ کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اِس سلسلے میں خاطرخواہ کوششیں دیکھنے میں نہیں آئیں۔ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے چھ وزرأ پر مشتمل ایک وفد نے پشاور کا دورہ کیا‘ جن کا صوبائی دارالحکومت میں پرتپاک استقبال کیا گیا اور اِس وفد نے خیبرپختونخوا حکومت سے مذاکرات کئے تاکہ شیندور کا تنازعہ حل کیا جاسکے۔20 اپریل کو دونوں فریقین نے ایک مشترکہ کانفرنس میں اعلان کیا کہ شیندور پولو فیسٹول کا انعقاد دونوں حکومتیں مل کر کریں گی۔ تنازعہ کی وجہ گلگت بلتستان کی پولو ٹیم‘ حکام اُور شائقین نے ’شیندور میلے‘ میں شرکت کرنا ترک کردی تھی جس کی وجہ سے اِس میلے کا خاطرخواہ لطف نہیں آ رہا تھا۔ میلے کے دُوران روائتی ٹیموں چترال اور گلگت بلتستان کے مابین مقابلہ ہوتا ہے جو جذبات سے بھرپور ہوتا ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کے مشیر برائے کھیل‘ ثقافت و امور نوجوانان امجد آفریدی کے بقول ’’گلت بلتستان اور چترال کی ٹیموں کے درمیان پولو مقابلہ پاکستان و بھارت کی کرکٹ‘ ہاکی و دیگر کھیلوں کے مقابلوں جیسا ہی ہوتا ہے۔ دونوں حکومت کے درمیان تنازعہ حل ہو جانے کے بعد اگست میں شیندور پولو مقابلہ ہونے امکانات ہیں جب غزر‘ گلگت‘ ہنزہ اور نگر کے علاؤہ سکردو بلتستان کے دور دراز علاقوں سے بھی شائقین شرکت کریں گے۔ گذشتہ تین برس سے گلگت بلتستان کی ٹیم شریک نہ ہونے سے ’شیندور فیسٹیول‘ میں شائقین کی حاضری نسبتاً کم رہی۔ ماضی میں جو حاضری دس ہزار شائقین کی ہوتی تھی وہ کم ہو تین ہزار رہ گئی۔ گذشتہ برس (سال دو ہزار چودہ) کے دوران صرف چند غیرملکی سیاح ہی شیندور میلہ دیکھنے آئے۔ شیندور میلے کو دیکھنے کے لئے غیرملکی سیاحوں کے ساتھ پاکستان میں تعینات غیرملکی سفیر بھی بڑی تعداد میں آتے تھے جس کی وجہ سے علاقے میں معاشی سرگرمیاں بھی پیدا ہوتی تھیں۔

جن وجوہات کی بناء پر گلگت بلتستان کی پولو ٹیم نے ’شیندور فیسٹول‘ میں شرکت کرنے سے معذرت کی‘ وہ انتہائی معمولی نوعیت کی باتیں تھیں جیسا کہ اُنہیں شائقین کے بیٹھنے کے لئے مختص مقامات پر اعتراض تھا کہ وہ بیٹھنے کی جگہ زیادہ ہونی چاہئے۔ اسی طرح گلگت بلتستان کے دور دراز یا مرکزی علاقوں سے آنے والے شائقین کو خیبرپختونخوا آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاتھا کیونکہ حفاظتی انتظامات آڑے آتے تھے۔ گلگت بلتستان کا یہ مطالبہ بھی تھا کہ مہمان خصوصی جس انعامی رقم کا اعلان کریں وہ خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کی ٹیموں کے درمیان برابر تقسیم ہو۔ خیبرپختونخوا حکومت نے اِن تمام تحفظات کو دور کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے کیونکہ شیندور پولو فیسٹول جیسا مقبول زمانہ اور اپنی نوعیت کے اس منفرد تفریحی ذریعے سے زیادہ کوئی دوسری چیز اہم نہیں ہو سکتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ گلگت بلتستان کے کھیل و سیاحت کے وزیر عنایت اللہ شمالی نے اِس توقع کا اظہار کیا کہ اِس مرتبہ ’شیندور فیسٹیول‘ سے وابستہ شائقین کی توقعات پوری ہوں گے اور اُنہیں خوب محظوظ ہونے کا موقع ملے گا جبکہ ملکی و غیرملکی سیاح بھی شیندور فیسٹیول دیکھنے آئیں گے۔

جس انداز میں خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان حکومتوں نے اپنے اختلافات بات چیت کے ذریعے دور کئے ہیں وہ دیگر صوبوں کے لئے بھی سبق آموز ہیں کہ وہ بھی ایک دوسرے سے حدود‘ پانی کی تقسیم و دیگر تنازعات بات چیت کے ذریعے ہی زیادہ بہتر و مؤثر انداز میں حل کرسکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے درمیان زیادہ گھمبیر قسم کے تنازعات بھی اسی طریق سے حل ہونے چاہئے جیسا کہ تین مقامات پر حدود کے تعین کا مسئلہ ہے۔ یہ مقامات کوہستان دیامر‘ درہ بابوسر اور شیندور کے ہیں۔ اگرچہ گلگت بلتستان حکومت کے کچھ تحفظات دور تو ہوئے ہیں جو ’شیندور میلے‘ میں شرکت سے متعلق تھے لیکن شیندور کے علاقے پر ملکیت کے حوالے سے وہ اپنے دعوے سے ابھی دستبردار نہیں ہوئے اور اس کی ملکیت کا دعویٰ چترال کا بھی ہے جو عرصہ دراز سے اِس علاقے پر کنٹرول رکھتا ہے۔
دریائے سندھ پر تعمیر ہونے والے ’دیامیر بھاشا ڈیم‘ کا معاملہ قدرے سنگین ہے جو خیبرپختونخوا کے ضلع کوہستان اور ملحقہ گلگت بلتستان کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ اس تنازعے کو حل کرنے کے لئے ڈیم کے بجلی گھر کا مقام تبدیل کیا گیا اور اسے ایک ایسے مقام پر تعمیر کیا گیا جس سے خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان دونوں کو فائدہ ہو۔ اسی طرح ڈیم کا اصل نام ’بھاشا ڈیم‘ تھا جسے تبدیل کرکے ’دیامیر بھاشا ڈیم‘ کر دیا گیا ہے۔ اس علاقے میں حدود کا تعین کرنے کے لئے سپرئم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج تنویر احمد خان کی سرپرستی میں کمیشن بھی تشکیل دیا گیا جبکہ اپرکوہستان اور دیامیر کے رہنے والوں کے درمیان ہوئی ایک مسلح جھڑپ جس میں کئی ایک افراد زخمی ہو گئے تھے کے بعد وفاقی حکومت کے زیرکنٹرول ’پنجاب رینجرز‘ کے دستے علاقے میں تعینات کر دیئے گئے۔ اُمید کی جاسکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں جملہ تنازعات خوش اسلوبی سے حل کر لئے جائیں گے۔ یاد رہے کہ کثیرالمقاصد ’دیامیر بھاشا ڈیم‘ پر لاگت کا تخمینہ 14 ارب ڈالر لگایا گیا ہے جس سے 4500 میگاواٹ بجلی حاصل ہونے کے علاؤہ زراعت کی ترقی اور تربیلا ڈیم کی عمر میں اضافہ ہوگا۔ حکومت کی جانب سے دیامیر بھاشا ڈیم سے ملحقہ 32 دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے کم و بیش 25 ہزار افراد کی نقل مکانی اور تعمیراتی کاموں کے لئے 101 ارب روپے منظور کئے ہیں۔ شیندور فیسٹول کے حوالے سے تنازعات تو معمولی نوعیت کے تھے جو اپنی فطرت میں زیادہ سنگین نوعیت کے نہیں لیکن اراضی کی ملکیت اور حدود کے تنازعات زیادہ سنگین نوعیت ہیں جن کے حل کے لئے پیشرفت ہونی چاہئے اور وفاقی اکائیوں کو مابین اختلافات و تنازعات کے حل کے لئے عملی کوششیں کرنی چاہئیں‘ تاکہ تنازعات کے سبب متاثر ہونے والی خوشحالی و ترقی کا معطل عمل آگے بڑھ سکے۔

 (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ:  شبیر حسین اِمام)
Back to Shandur