Showing posts with label NDMA. Show all posts
Showing posts with label NDMA. Show all posts

Sunday, November 1, 2015

TRANSLATION: Another October quake!

Another October quake
زلزلہ: اَیک اُور آفت!
خیبرپختونخوا اُور قبائلی علاقوں پر ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری سوگواری کی کیفیت میں کسی صورت کمی نہیں آ رہی۔ یہاں قدرتی اور غیرقدرتی محرکات کی وجہ سے آنے والی آفات نے معمولات زندگی کو بُری طرح متاثر ہی نہیں بلکہ کئی علاقوں میں تہہ و بالا کر رکھ دیا ہے۔ حالیہ زلزلے نے بھی آفت کی جلتی ہوئی آگ پر مزید تیل چھڑکا ہے۔ اگرچہ چھبیس اکتوبر کے روز آنے والے زلزلے کے جھٹکے پورے ملک میں محسوس کئے گئے لیکن اس سے جانی و مالی نقصانات خیبرپختونخوا اُور ملحقہ قبائلی علاقوں جو کہ افغانستان کی سرحد سے جڑے ہوئے ہیں میں نسبتاً زیادہ رونما ہوئے۔ زلزلے سے گلگت بلتستان‘ آزاد کمشیر اُور صوبہ پنجاب کے چند حصے بھی زلزلے سے متاثر ہوئے جہاں جانی و مالی نقصانات کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ زلزلے سے صرف زمین ہی نہیں ہلتی بلکہ اس سے خوف کا ایک ماحول بھی طاری ہو جاتا ہے جس کے نفسیاتی منفی اثرات بھی ہوتے ہیں اگر ان کی کلی پیمائش کی جائے۔ حالیہ زلزلے کا دورانیہ زیادہ لیکن شدت کم تھی جس کی وجہ سے کم پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے کیونکہ جو مقام زلزلے کا نکتۂ آغاز تھا وہ زیرزمین زیادہ گہرائی پر ہونے کی وجہ سے کم جانی و مالی نقصانات کا باعث بنا۔ ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ زلزلوں سے ہونے والی تباہی کا تعلق اُن کی گہرائی سے ہوتا ہے۔ زیرزمین تہہ در تہہ پرتوں میں کسی قسم کی تبدیلی جس قدر گہرائی میں ہوگی اتنا ہی کم پیمانے پر نقصانات کا باعث ہوگی۔ حالیہ زلزلہ کا مرکز افغانستان کا شمال مشرقی ضلع جورام میں تھا جو صوبہ بدخشاں میں واقع ہے اور یہ علاقہ پاکستان و چین کی سرحدوں سے ملتا ہے۔ زلزلے کی سطح زمین سے گہرائی 193 سے 212کلومیٹر ناپی گئی۔ اگر ہم 26اکتوبر 2015ء کے زلزلے کا موازنہ 8 اکتوبر 2005ء کے روز آئے زلزلے سے کریں تو دونوں میں فرق یہ ہے کہ دو ہزار پانچ کا زلزلہ سطح زمین سے صرف 15کلومیٹر گہرائی پر تھا اور یہی سبب تھا کہ اُس زلزلے سے زیادہ بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی یعنی 87 ہزار 351 لوگ ہلاک جبکہ 75 ہزار 266 دیگر زخمی ہوئے تھے اور زلزلے سے کم و بیش 28 لاکھ لوگ اپنی رہائشگاہوں سے محروم ہوگئے تھے لیکن دس برس بعد اکتوبر ہی کے مہینے میں آنے والے حالیہ زلزلے سے 300 سے کم ہلاکتیں ہوئیں۔ حالیہ زلزلے سے ہونیو الی کم ہلاکتوں کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ زلزلے کے مرکز سے قریب مالاکنڈ ڈویژن کے جن پہاڑی علاقوں میں تباہی ہوئی وہاں آبادی کم تھی اور جن دیگر علاقوں میں زلزلے کی شدت محسوس کی گئی وہ اس کے مرکز (صوبہ بدخشاں‘ افغانستان) سے فاصلے پر تھے۔مالاکنڈ ڈویژن میں ہوئے نقصانات کا زیادہ اثر ضلع شانگلہ میں ہوا جہاں سب ہونیو الی ہلاکتیں مجموعی ہلاکتوں کا پچاس فیصد ہیں‘ اس کے بعد متاثر ہونے والے اضلاع میں سوات‘ چترال‘ لوئر دیر‘ اپر دیر اور بونیر شامل ہیں جبکہ قبائلی علاقوں میں باجوڑ ایجنسی میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔

حالیہ زلزلے کی شدت کیا تھی؟ یہ ایک متنازعہ سوال ہے کیونکہ پاکستان کے محکمہ موسمیات کی جانب سے ریکٹر اسکیل پر 8.1 شدت بتائی گئی جبکہ امریکہ کے زلزلہ پیما مرکز کی جانب سے پہلی شدت 7.7 جبکہ نظرثانی شدہ شدت 7.5بتائی گئی۔ زلزلے کے بارے میں دو مختلف ذرائع سے مختلف اعدادوشمار تعجب خیز رہے۔ یاد رہے کہ اکتوبر دو ہزار پانچ کے زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.6 ریکارڈ کی گئی تھی۔

حالیہ زلزلے کے بارے میں موصول ہونے والی اطلاعات یہ تھیں کہ اس کی پھیلاؤ افغانستان سے ملحقہ ممالک تک ہی محدود رہا ہو گا لیکن بعدازاں معلوم ہوا کہ اس سے افغانستان و پاکستان کے علاؤہ بھارت‘ نیپال‘ چین‘ تاجکستان اور کرغستان بھی متاثر ہوئے۔ امریکہ کے جیوگرافکل سروے نامی ادارے کے مطابق پاکستان جو کہ زیرزمین ہونے والی تبدیلیوں کے علاقے پر واقع ہے‘ حالیہ زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوا اور افغانستان کے بعد سب سے زیادہ جانی و مالی نقصانات اسی خطے میں رونما ہوئے۔


چھبیس اکتوبر کے روز دوپہر 2بجکر 9منٹ پر زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے جو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے اور یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے سب کچھ ختم ہونے والا ہے کیونکہ زلزلے کی شدت میں اضافہ ہوتا چلا گیا لیکن کسی معجزے اور اللہ تعالی کے کرم سے درختوں کی طرح جھولنے والی عمارتیں زمین بوس نہیں ہوئیں۔ اُس عالم میں سب سے پہلا خیال یہی ذہن میں اُبھرا کہ کلمۂ طیبہ کا ورد کیا جائے اور اللہ سے معافی‘ مدد و مغفرت طلب کی جائے۔ زلزلہ اُن چند قدرتی آفات میں سے ایک ہے جس کے بارے میں انسانی علوم خاموش ہیں اور انسان اس کے سامنے خود کو بے بس محسوس کرتا ہے۔

زلزلے کے فوراً بعد عموماً تین طرح کے ردعمل دیکھنے میں آتے۔ سب سے پہلے تو عزیزواقارب کی خیریت جاننے کے لئے اُن سے فون پر رابطہ کیا جاتا ہے۔ حال احوال دریافت کیا جاتا ہے۔ دوسرے مرحلے پر رہائشگاہوں کے نقصانات اور دیواروں میں آنے والی دراڑوں کو دیکھا جاتا ہے اور تیسرے مرحلے پر اگر عمارتوں کو نقصان پہنچا ہو تو اہل خانہ کو کسی محفوظ مقام یا عزیز و رشتہ داروں کے ہاں منتقل کیا جاتاہے یا پھر حکومتی امداد کا انتظار کیا جاتا ہے جو ایسی صورتحال میں خیمے و بنیادی ضروریات کی دیگر اشیاء مہیا کرتی ہے جہاں عارضی سکونت اختیار کرکے متاثرین کو موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی رہائشگاہیں پھر سے بحال و تعمیر کر سکیں۔

زلزلے کے فوراً بعد پشاور میں حکومتی ادارے متحرک ہوگئے جہاں نہ صرف پورے صوبے کی صورتحال سے متعلق غوروخوض ہونا شروع ہوا بلکہ قبائلی علاقوں میں زلزلے سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی بھی یہیں بیٹھ کر وضع کی گئی۔ فیصلہ سازوں نے ہنگامی اجلاس طلب کئے گئے جبکہ حکومتی و حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاورکا دورہ کیا جہاں زلزلے کے زخمیوں کو منتقل کرنے کا سلسلہ تمام دن جاری رہا۔ قلعہ بالاحصار کی ایک دیوار بھی زلزلے کی وجہ سے منہدم ہو گئی۔

زلزلے کی وجہ سے شاہراؤں کا نظام متاثر ہوا‘ جس کے سبب متاثرہ علاقوں تک غذائی اشیاء و دیگر امداد پہنچانے میں رکاوٹیں حائل تھیں۔ ایک تو بالائی علاقوں میں موسم سرد تھا اور دوسرا زمینی راستے منقطع ہو چکے تھے۔ قومی سطح پر قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے ’نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)‘ اور صوبائی ادارے ’پروانشیل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے)‘ کی طرف نظریں اُٹھیں جو حسب اعلانات عملی طور پر قدرتی آفت سے نمٹنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ جس کا مطلب تھا کہ ان اداروں نے دوہزار پانچ کے زلزلے یا بعدازاں دو ہزار دس کے سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں سے کچھ سبق نہیں سیکھا تھا۔
زلزلے کے فوراً بعد ہیلی کاپٹروں نے پروازیں بھریں اور وہ سیّدو شریف کے اُس ائرپورٹ پر اُترنے لگے جو اِس علاقے میں عسکریت پسندی کی وجہ سے کئی برس تک بند رہا تھا۔ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اشیائے خوردونوش و دیگر امدادی اشیاء کے ساتھ اہم شخصیات بھی سوات کی صورتحال کا جائزہ لینے اور برسرزمین حقائق بارے جاننے کے علاؤہ ذرائع ابلاغ کی اُس تنقید سے بچنے کی کوشش میں متحرک دکھائی دیں جو مصیبت کی اِس گھڑی میں قیادت سے وابستہ اُمیدوں اور توقعات کو پیش کر رہا تھا۔ وزیراعظم جو امریکہ کے سرکاری دورے کے بعد واپسی میں برطانیہ پہنچ چکے تھے اپنے سرکاری دورے کو مختصر کرکے فوراً وطن واپس پہنچے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بھی کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے تاکہ وہ خیبرپختونخوا کی حکمراں اپنی جماعت کو زیادہ سے زیادہ امدادی سرگرمیوں اور متاثرہ علاقوں میں درکار ضروریات پہنچانے میں مستعد و فعال کرسکیں۔ اس پوری صورتحال میں نجی فلاحی و امدادی اداروں کی کارکردگی بھی قابل ستائش رہی جنہوں نے ہنگامی حالات سے نمٹنے کی اپنی اپنی استطاعت و صلاحیت کے مطابق فوری ردعمل کا اظہار کیا۔

زلزلے کے بعد وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے متاثرین کے لئے امدادی پیکجز کے اعلانات خوش آئند ہیں لیکن حسب روایت ایسے اعلانات کے بارے میں دیکھنا ہے کہ انہیں عملی جامہ پہنانے کے لئے جس قدر سنجیدگی سے کام لیا جاتا ہے۔ عموماً ایسے مواقعوں پر گرمجوشی میں ایسے امدادی وعدے اور اعلانات بھی کر دیئے جاتے ہیں جنہیں بعدازاں پورا کرنا ممکن نہیں ہوتا یا ادارے حکمرانوں کی جانب سے اعلانات کو عملی جامہ پہنانے میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے۔ ماضی کی قدرتی آفات سے متاثر ہونیو الوں کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں جنہیں تاحال بحالی و آبادکاری کے لئے حکومتی وعدوں کے ایفاء ہونے کا انتظار ہے۔ اسی طرح قبائلی علاقوں میں فوجی کاروائی سے متاثرین کی بحالی و آبادکاری کے لئے جون دوہزار چودہ میں اعلان کیا گیا کہ ہر متاثرہ گھر کی تعمیر کے لئے مالی وسائل فراہم کئے جائیں گے لیکن شمالی وزیرستان سمیت جنوبی وزیرستان‘ اورکرزئی‘ کرم‘ خیبر اور دیگر قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ اُنہیں دی جانے والی امدادی قطعی ناکافی ہے‘ جس سے اُن کی معیشت و معاشرت کی بحالی و تعمیرنو ممکن نہیں۔ حالیہ زلزلہ متاثرین کی امداد کے لئے حکومت نے اپنے وسائل پر انحصار کرنے کا اعلان کیا اور غیرملکی امداد کے لئے اپیل یہ کہتے ہوئے جاری نہیں کی کہ ہمارے پاس وسائل کی کمی نہیں اور زلزلہ متاثرین کی امداد اپنے ہی وسائل سے کی جائے گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ دعویٰ کہاں تک درست ثابت ہوتا ہے کیونکہ ماضی میں اس قسم کے فخریہ و پرجوش اعلانات ہنوز پورے نہیں کئے جا سکے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ: شبیر حسین اِمام)

Saturday, August 15, 2015

Aug2015: The real issues to worry!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
زحال مسکیں‘ مکن تغافل!
قدرتی آفات سے قومی سطح پر نمٹنے اُور بحالی و تعمیرنو کے لئے حکمت عملی تیار کرنے والے وفاقی اِدارے ’نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (ndma.gov.pk)‘ کا کہنا ہے کہ ’’خیبرپختونخوا میں سیلابی صورتحال برقرار ہے بلکہ دریاؤں میں طغیانی کے سبب تباہ کاریوں کا سلسلہ بھی ہنوز جاری ہے جس کے نتیجے میں تیرہ اور چودہ اگست (چوبیس گھنٹوں میں) پانچ افراد ہلاک ہوئے جبکہ حالیہ چند ہفتوں میں مجموعی طور پر 207 افراد کی جان سیلاب کی نذر ہو چکی ہے۔ اِن میں 49 بچے اُور 63 خواتین بھی شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والے بچوں میں سے 33 کاتعلق صوبہ پنجاب اور 16کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے۔‘‘ ملک گیر سطح پر 13لاکھ 78ہزار 82 افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں اور بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشنگوئی کرتے ہوئے محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ ’’بلوچستان اور سندھ میں مزید بارشوں کا سلسلہ چودہ اگست سے قبل ہی شروع ہو چکا ہے اور اسی سلسلے کی مزید بارشیں ملک کے دیگر حصوں میں بھی متوقع ہیں۔‘‘ یاد رہے کہ ابھی تک ’مون سون بارشوں‘ کا نصف دورانیہ ہی مکمل ہوا ہے اور عموماً یہ سلسلہ ماہ ستمبر کے آخر تک جاری رہتا ہے۔ ملک کے سبھی مرکزی دریاؤں میں سیلاب کی بلند ترین سطح پہلے ہی خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے لیکن موسم کے بدلتے ہوئے غضباک تیور اور تھپڑ سہنے کے باوجود ہمارے ہاں ایسی سیاسی جماعتیں بھی ہیں‘ جو بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کے خلاف ہیں اور اِس تکنیکی مسئلہ کو ’سیاست کی نذر‘ کئے ہوئے ہیں۔ کیا کوئی جواب دے گا کہ محض چار ہفتوں میں جن 207 افراد کی ہلاکتیں ہو چکی ہیں اُن کے قتل کا مقدمہ کس کے خلاف درج کیا جائے؟ آخر اُن 49بچوں اور 63خواتین کا کیا قصور تھا‘ جنہیں سیلابی پانی بہا لے گیا؟

سیلاب سے متاثرہ ’خیبرپختونخوا‘ کو کئی داخلی مسائل کا سامنا ہے‘ جن میں موسمیاتی تغیرات کو نظرانداز کرنے کے سبب پیش آنے والے حادثات سب سے نمایاں ہیں۔ اِنہی حالات کی وجہ سے دیہی علاقوں سے شہروں کی جانب نقل مکانی ہو رہی ہے۔ نسلوں سے زراعت اور مال مویشیوں کی پرورش کے ذریعے معاشرے کی خدمت کرنے والے اپنا آبائی پیشہ ترک کر رہے ہیں۔ جن علاقوں میں بارشوں اُور سیلاب سے آبپاشی کا نظام تباہ یا متاثر ہوا ہے‘ اُس کی بحالی کے لئے حکومت کی جانب سے نہ تو ماضی میں خاطرخواہ توجہ دی گئی اور نہ ہی موجودہ حکمرانوں کو اُس ’چھوٹے کاشتکار‘ کسان اور محنت کش‘ کی فکر ہے‘ جو کسی سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے صاحب جائیداد کا غلام ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ اپنے خون پسینے سے زراعت کرنے والوں کی زندگی تو غلاموں سے بدتر ہے۔ اُنہیں محنت کا خاطرخواہ صلہ نہیں ملتا۔ زرعی ضروریات پر اِس قدر محصولات (ٹیکس) لگا دیئے گئے ہیں کہ چھوٹے پیمانے پر کاشتکاری منافع بخش تو کیا‘ اب تو فصل پر اُٹھنے والے اصل اخراجات وصول ہونا بھی ممکن نہیں رہا! یادش بخیر گذشتہ دور حکومت میں ملاکنڈ ڈویژن میں سیلاب آیا تو اُس وقت کے وزیر خزانہ کا تعلق اِسی خطے سے تھا‘ جنہوں نے دل کھول کر ’بڑے جاگیرداروں‘ کے ساتھ اپنی دوستی و تعلق کو نبھایا۔ افسوسناک امر یہ تھا کہ اجارے پر کام کرنے والے جن چھوٹے کاشتکاروں کی فصلیں سیلاب میں بہہ گئیں اُن سے جاگیرداروں نے فصل کی بجائے نقد رقم کا تقاضا کیا اور یہ رقم زبردستی وصول بھی کی گئی۔ ایک طرف جاگیرداروں نے اپنی زرعی زمینیں سیلاب سے خراب ہونے اور آبپاشی کے نظام کی بحالی کے لئے کروڑوں روپے وصول کئے اور دوسری جانب انہوں نے نہ تو کھیتوں کی صفائی‘ حد بندی اور آبپاشی کا نظام درست کیا بلکہ اُلٹا کاشتکاروں کی کھال بھی اُتاری! اس قدر سنگدلی کی توقع تو اُن استحصال پسند ہندو سے کی جا سکتی تھی‘ جس سے آزادی حاصل کرنے کا پوری قوم اِن دنوں 69واں جشن منا رہی ہے!

آخر ہمیں کس بات نے گردوپیش اور برسرزمین حقائق سے لاتعلق کر رکھا ہے؟ کیا یہ بات کسی درجے تشویشناک بھی ہے کہ ’’خیبرپختونخوا کے زیرکاشت رقبے میں ہرسال کمی آ رہی ہے۔‘‘ محکمۂ مال کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق زیرکاشت رقبے میں غیرمعمولی کمی کا رجحان 1985ء سے جاری ہے اُور اِس کی ابتدأ زرخیز زمینوں کو رہائشی مقاصدکے لئے استعمال کرنے کی دیکھا دیکھی پھیلنے والی وباء سے ہوئی۔ جب رہائشی کالونیاں ’خود رو جھاڑیوں‘ کی طرح پھیلنے لگیں تو نکاسی آب کے لئے آبپاشی کے نالے (واٹر چینلز) استعمال ہونا شروع ہوئے‘ جس نے رہی سہی کسر بھی نکال دی اور جو باقی ماندہ زمین رہائشی کالونیوں سے بچ گئی تھی‘ وہاں بھی صحت مند کاشتکاری ممکن نہیں رہی۔

محکمۂ مال کا کہنا ہے کہ ’’خیبرپختونخوا میں ہر سال 11.6 مربع کلومیٹر زرعی زمین دیگر مقاصد کے لئے استعمال میں لائی جا رہی ہے۔‘‘ ہمارے حکومتی اِدارے کمال کے ہیں۔ یہ اعدادوشمار تو مرتب کرتے ہیں لیکن اِن سے متعلقہ خطروں کا بیان نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر جب یہ کہا جا رہا ہے کہ ’’سالانہ گیارہ مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبہ کاشت نہیں ہو رہا‘‘ تو اِس کا موازنہ بڑھتی ہوئی آبادی اور خوراک کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے تناسب سے نہیں کیا جاتا۔ آخر یہ سوال بھی کیوں درپیش نہیں کہ ’’اگر خیبرپختونخوا میں گیارہ مربع کلومیٹر سالانہ کے تناسب سے اراضی کا زرعی استعمال ترک ہو رہا ہے تو آنے والے دنوں میں ’خوراک کی دستیابی و فراہمی (غذائی تحفظ)‘ کیسے ممکن ہو پائے گا؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں زرعی اراضی کا موجودہ کل رقبہ کتنا ہے؟
 اِس سلسلے میں محکمۂ زراعت کے مرتب کردہ اعدادوشمار ملاحظہ کیجئے جن کے مطابق ’’خیبرپختونخوا میں کل 18ہزار 709 اعشاریہ 55مربع کلومیٹر رقبہ زیرکاشت ہے جبکہ آئندہ پچیس سے تیس برس کے دوران ملک کے اِس ’شمال مغربی سرحدی صوبے‘ کی آبادی 5 کروڑ نفوس سے تجاوز کر جائے گی!‘‘ اگر ہم پشاور ہی کی مثال لیں تو یہاں کی زرخیز زمینیں پانی کی کمی کے باعث تباہ ہو رہی ہیں۔ اگر حکمرانوں کو فرصت ملے اور وہ چمکنی یا اِس کے مضافاتی دیہی علاقوں کا دورہ کریں‘ وہاں کے کاشتکاروں کے مسائل سننے کے لئے کھلی کچہریاں لگائیں تو معلوم ہو گا کہ جن زرعی زمینوں کو کاشت کرنے کے لئے پانی ہی دستیاب نہیں تو اگر ایسی زمینوں کو رہائشی و دیگر غیرزرعی مقاصد کے لئے فروخت کردیا جائے تو کیا مضائقہ ہے!؟ رواں برس (دوہزار پندرہ) میں خیبرپختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ جن کم و بیش 400 دیہی علاقوں میں ’زراعت بچاؤ اقدامات‘ کئے گئے ہیں وہ کافی تو کیا واجبی سے بھی کم ہیں۔ مثال کے طورپر ۔۔۔’’سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سات ایکڑ پر انار اُور انگور کے باغات لگائے گئے ہیں اور سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری سے پشاور کے مضافاتی ترناب کے علاقے میں 6.5 ایکڑ اراضی زیرکاشت لائی گئی ہے!‘‘ کیا یہ کوششیں اور اس قدر محدود پیمانے پر ہونے والے اقدامات کافی قرار دیئے جا سکتے ہیں؟ اگر محکمۂ زراعت اور اس کے ذیلی دیگر محکموں کے ہزاروں ملازمین کو ایک میدان میں جمع کرکے ایک عدد نہر اور ایک عدد گڑھا کھودنے پر لگا دیا جائے تو محض چند دنوں میں دنیا کی سب سے بڑی سیلابی نہر اور سب سے بڑا تالاب بن جائے گا‘ جس کے کئی ایک مفید استعمال بیان کرنے کا یہ محل نہیں۔ القصہ مختصر کاشتکاروں‘ محنت کشوں‘ سیاسی‘ نسلی و لسانی استحصال‘ تعصب اور محرومیوں کا شکار غریب و محکوم طبقات نے سب سے زیادہ اُمیدیں ’پاکستان تحریک انصاف‘ سے وابستہ کر رکھی ہیں‘ جن پر پورا اُترنے کے لئے ’بنی گالہ‘ کو نمائشی اقدامات و انتظامات کی بجائے انقلابی اصلاحات لانے کے لئے رہنما اصول وضع کرنا ہوں گے۔’’زحال مسکیں‘ مکن تغافل ورائے نیناں بنائے بتیاں۔۔۔کہ تاب ہجراں ندارم اے جاں‘ نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں۔ (اَمیر خسرو رحمۃ اللہ علیہ)‘‘

Thursday, August 6, 2015

Aug2015: Devastating flood in Chitral

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
آفات سانحات: سمجھ اُور بوجھ!
مون سون بارشیں نہ تو پہلی بار ہو رہی ہیں اور نہ ہی اِن سے متعلق موسمیاتی پیشنگوئیاں غلط ثابت ہوئی ہیں‘ جانی و مالی نقصانات کی وجہ یہ ہے ہم قدرت کو سمجھنے اور اس سے نمٹنے کے لئے خاطرخواہ تیاری نہیں کرتے۔ اگر تیاری ہوتی تو نقصانات کا حجم کم سے کم رکھنے میں بڑی مدد مل سکتی تھی۔

خیبرپختونخوا کا ضلع چترال آبادی کے لحاظ سے چھوٹا لیکن رقبے کے لحاظ سے بڑا ضلع ہے۔ واخان کی سولہ کلومیٹر چوڑی پٹی ہٹا دی جائے تو چترال کی سرحدیں بروغل میں تاجکستان سے ملتی ہیں جبکہ کنٹر (افغانستان)‘ گلگت بلتستان‘ دیر اور سوات کے ساتھ سرحدیں رکھنے والے اس ضلع کی آبادی کا اندازہ سات لاکھ کے قریب لگایا جاتا ہے۔ چترال کا محض چھ فیصد حصہ ہی قابلِ کاشت اور آبادی کے لائق ہے جبکہ پندرہ فیصد حصہ برفانی تودوں اور بقیہ پہاڑوں اور بے آب و گیاہ بیانوں پر مشتمل ہے۔ چترال میں سردیاں سخت جبکہ گرمیاں صرف زیریں علاقوں میں گرم کہلائی جا سکتی ہیں۔ بالائی چترال میں جولائی اور اگست کے دنوں میں بھی پنکھے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کے باوجود عالمی حدت میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گزشتہ کچھ سالوں سے چترال میں گلیشیئرز پگھلنے کی رفتار میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ بالائی چترال کے گاؤں بریپ میں کوئی آٹھ سال قبل گلیشیئر پھٹنے کا واقعہ پیش آیا۔ اگلے سال خوبصورت اور دیومالائی داستانوں کے حامل گاؤں سنوغر میں‘ تیسرے سال دل کو لبھانے والے مناظر کے حامل قصبے بونی اور پھر کھوار زبان کے صوفی شاعر مہ سیار کی محبوبہ کی جائے پیدائش ریشن میں گلیشیئر پھٹنے سے تباہی ہوئی۔ یہ سلسلہ اب رکنے کا نام نہیں لے رہا! کیونکہ فیصلہ سازوں نے ماضی میں ہونے والے اکادکا واقعات کا ’نوٹس‘ لینے کی ضرورت نہیں سمجھی۔

نوشہرہ سے آگے کا خیبر پختونخوا کا کوئی علاقہ مون سون کے راستے میں نہیں آتا لیکن ساون کے بچھڑے بادل (سکندر اعظم کے پیچھے رہ جانے والے زخمی فوجیوں کی طرح) ضلع دیر تک بارشوں کا باعث بنتے ہیں اور یوں یہ علاقہ ان بارشوں کی برکت سے ہرا بھرا اور چارے سے بھرپور ہے۔ دیر اور چترال کے درمیان بارہ ہزار فٹ بلند لواری ٹاپ نے ان بادلوں کا راستہ روک رکھا تھا۔ لواری ٹاپ نہ صرف ساون کے بادلوں کو روکتا تھا بلکہ چھ ماہ تک چترالیوں کو بھی بقیہ پاکستان سے الگ رکھتا تھا۔ سابق صدر پرویز مشرف نے لواری ٹاپ سے سرنگ (جو کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کا آئیڈیا تھا) نکلوا کر چترالیوں کو بارہ مہینے کا پاکستانی تو بنا دیا لیکن ساتھ ہی ساون کے لئے چترال پہنچنے کا راستہ بھی کھول دیا۔ یہ بات شاید بہت سے پڑھنے والوں کو مذاق لگے لیکن پرویز مشرف کے چترالی ناقدین (جن کی تعداد گو کہ آٹے میں نمک سے بھی کم ہے) اسے سائنسی بنیادوں پر ثابت کرنے پر تیار رہتے ہیں! متذکرہ قصبے بونی سمیت آس پاس کے علاقوں میں ساون کی بارشیں پہلے کبھی نہیں یا موجودہ شرح میں نہیں ہوئیں لیکن اس وقت ان علاقوں میں موسم اسلام آباد اور پنڈی سے ذرا مختلف نہیں تھا‘ باہر زوروں کی بارش جبکہ گھروں کے اندر حبس۔ یہ تجربہ چترالیوں کے لئے چند برس سے زیادہ کا نہیں ہے۔ چترال کی زمینی ساخت دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ان پہاڑیوں پر زبردست بارش کا پانی اپنے ساتھ ڈھیروں مٹی لے کر لڑھک کر نیچے آیا اور چترال کے دیہات وجود میں آئے۔ کہتے ہیں کہ پانی کبھی اپنا راستہ نہیں بھولتا‘ اب دوبارہ اپنے راستوں پر آیا تو اسے ہم قدرت کا قہر‘ موسمی تبدیلی‘ ہمارے گناہوں کا نتیجہ‘ حکمرانوں کی ناقص منصوبہ بندی اُور پتہ نہیں کیا کیا نام دے رہے ہیں۔ چترال میں سیلابی تباہی کو ذرائع ابلاغ نے شروع میں نظرانداز اور بعد میں بہت توجہ دی۔ ہوسکتا ہے اس کی وجہ کسی دھرنے کی غیر موجودگی‘ اسکاٹ لینڈ یارڈ کی طرف سے مزید انکشافات نہ ہونا یا ماڈل ایان علی کی عدالتی پیشیوں کا ختم ہونا ہو یا پھر واقعی میں ہمارے ذرائع ابلاغ اتنے بالغ ہو چکے ہیں وہ اس حقیقت میں سانحے کو سانحہ سمجھنے لگے ہیں!

چترال کی موجودہ ضرورت کیا ہے؟ کیا اسے یونیورسٹی کی ضرورت ہے یا بحالی و امدادی سرگرمیوں کی؟ چترال میں ریسکیو سروسیز کا آغاز اور دیگر مطالبات کو کچھ وقت کے لئے مؤخر کیا جاسکتا تھا۔ اس کی جگہ ہنگامی بنیادوں پر بجلی کا بندوبست کرنے کے لئے جنریٹرز کا بندوبست کیا جاتا۔ گلگت سے ایندھن لانا ضروری تھا۔ ہیلی کاپٹرز سے ادویات پہنچانے کی مانگ ہوتی‘ بحالی اور علاقائی ترقیاتی کے کام تو بہت بعد کی بات ہے! کون نہیں جانتا کہ بالائی چترال حالیہ سیلاب سے شدید متاثر ہوا ہے۔ رابطہ سڑکیں مٹ چکی ہیں۔ اشیائے خور و نوش مارکیٹ سے ختم ہوگئی ہیں۔ ایندھن صرف سرکاری گاڑیوں کے استعمال کے لئے رہ گیا ہے۔ پہلے سے ناگفتہ بہ بجلی کے نظام کا مکمل خاتمہ ہوگیا ہے۔ موبائل فون بند‘ گاڑیوں سے سڑکیں خالی۔ ریشن کے مقام پر بجلی گھر ٹنوں مٹی تلے دب گیا ہے‘ جس کا مطلب ہے کہ اس بجلی گھر سے پھر بلب جلانے کی امید نہ رکھی جائے۔ اسے صاف کرنے کی مدت میں نیا بجلی گھر تعمیر کیا جا سکتا ہے!

جہاں ہسپتال اور بازار بند ہوں۔ جہاں سرکاری ملازمین کے لئے مزید تعطیلات کا اعلان ہو چکا ہو۔ جہاں ہیلی کاپٹروں سے صرف بیماروں کو چترال پہنچایا جا رہا ہو۔ نجانے آغا خان فاؤنڈیشن کے ہیلی کاپٹرز کہاں گم ہو گئے ہیں۔ چترال کی معیشت پر سیلاب سے پیدا ہونے والے بوجھ کی شدت کو سمجھا جائے۔ مثال کے طور پر بونی سے چترال خاص جو کہ ساٹھ یا ستر کلومیٹر کا فاصلہ ہے اور سیلاب سے قبل کرایہ ڈیڑھ سو سے کم تھا لیکن اب بونی سے کوراغ جو کہ دس کلومیٹر سے کم فاصلہ ہے کا کرایہ ڈیڑھ سو روپے وصول کیا جا رہا ہے۔ جو پہلے ہی لٹ چکے ہیں ان کے لئے مشکل کی اس گھڑی مفت آمدورفت کا کم از کم بندوبست تو کیا ہی جا سکتا ہے۔ زخموں پر نمک پاشی کی بجائے مرہم کا بندوبست بھی ہونا چاہئے!

Sunday, August 2, 2015

Aug2015: Count me too

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
زے ہم پختونخوا
جنگل ہو یا شہر‘ جہاں کہیں اور جب کبھی بھی مور ناچتا ہے تو اُسے دیکھنے والا کوئی نہ کوئی ضرور موجود ہوتا ہے لیکن گمان ہے کہ اپنے حسن و جمال پر نازاں رنگ برنگے پنکھوں والے پرندے ’مور‘ کی نظر اپنے بدھے پاؤں پر پڑتے ہی اُس کی دلی کیفیت یکسر خوشی سے غم میں تبدیل ہو جاتی ہے!

خیبرپختونخوا آفات کی زد میں ہے اور یہ بات اگر کوئی نہیں جانتا تو اُن کے لئے عرض ہے کہ ہر سال وارد ہونے والے سانحات کی وجہ سے متاثر ہونے والوں کی بحالی پہلی ترجیح ہونی چاہئے۔ جیسا کہ زلزلے سے جو علاقے متاثر ہوئے وہاں کی معیشت و معاشرت مکمل بحال ہو۔ قبائلی علاقوں کی سرزمین کو انتہاء پسندی اور دہشت گردی کا مرکز بنانے والوں کے خلاف کاروائی کے سبب نقل مکانی کرنے والوں کی آبائی علاقوں کو واپسی یا اُنہیں باعزت قیام و طعام کی سہولیات فراہم ہوں۔ حالیہ مون سون بارشوں کے نہ تھمنے والے سلسلے اور چترال سے ہوتی ہوئی بارش کا سلسلہ خیبرپختونخوا کے جن دیگر اضلاع میں نظام حیات تہہ و بالا کر رہا ہے تو اِس اتفاقیہ یا ہنگامی حالات میں حکومتی اداروں کو اپنی نااہلی تسلیم کرنی چاہئے اور ماضی میں اگر اُن سے کوتاہیاں سرزد ہوئی بھی ہیں (جنہیں وہ تسلیم نہیں کرتے) تو کم از کم آئندہ کے لئے اپنی کارکردگی (پرفارمنس) بہتر تو بنا ہی سکتے ہیں! مور کی طرح ناچنے کی بجائے ذرا اپنے پاؤں (اُن طبقات پر نظر ڈالیں‘ جو اِس گھڑی آفت زدہ ہیں یا جن کے ہاں آفت زدگی نے مستقل ڈیرے ڈال رکھے ہیں)۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمیں اپنی نااہلیوں اُور کرۂ ارض کے ماحولیاتی تقاضوں کو سمجھنے میں ہوئی کوتاہیوں پر مبنی رویہ اور سوچ ترک کرنا ہو گی اور قدرت کو موردالزام ٹھہرانا کی بجائے اِس حقیقت کا اعتراف کرنا ہوگا کہ مقامی طور پر ماحول دشمن طرز فکر و عمل ہو یا ایسے موسمیاتی تغیرات کہ جن کا سبب کرۂ ارض کا بڑھتا ہوا درجۂ حرارت‘ جملہ منفی اثرات سے آگہی کے باوجود اگر ہم اُن سے نمٹنے کے لئے تدابیر اختیار نہیں کرتے اور اپنے مالی وافرادی وسائل حسب حال ضروریات کے لئے مختص نہیں کرتے تو یہ کسی بھی صورت ’دانشمندی‘ نہیں ہوگی۔ برسرزمین حالات متقاضی ہیں کہ خیبرپختونخوا جس ہنگامی صورتحال سے گزر رہا ہے‘ اُس میں نمائشی و تفریحی ترجیحات کو کسی اُور موقع اور فرصت کے لئے اُٹھا رکھا جائے اور گردوپیش کے حقائق سے آنکھیں چرا کر ’جھوم برابر جھومنے‘ کی بجائے اُن زیردست‘ مصائب میں متبلا افراد کے بارے میں سوچیں‘ جنہیں اِس آزمائش کی گھڑی ہم میں سے ہر ایک کی مدد یا کم سے کم ’توجہ و دعا‘ کی ضرورت ہے!

انسانیت کا اِس سے بڑھ کر کوئی دوسرا المیہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ہم کم اَز کم اتنے حساس تو ہوں کہ اپنے ہی ہم وطنوں کے دکھ درد کو بانٹ سکیں یا کم از کم اپنے قول و فعل سے ایسا تاثر نہ دیں کہ جسے دیکھ کر مصائب و آلام میں مبتلا افراد خود کو الگ تھلگ اُور ایک دوسرے سے جدا سمجھنے لگیں! خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹوریٹ آف کلچر (فروغ سیاحت و ثقافت) کے فیصلہ سازوں نے ’زہ یم پختونخوا‘ کے نام سے جامع حکمت عملی مرتب کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس کا مقصد ملک کے شمال مغربی سرحدی صوبے کے مقامی اقدار‘ روایات‘ رہن سہن‘ بول چال سمیت جملہ طرز معاشرت کی خوبیوں اُجاگر کرنا ہیں۔ تحصیل کی سطح پر متعارف کی جانے والی اِس ’مجوزہ حکمت عملی‘ میں 43 پروگرام شامل کئے گئے ہیں جن میں موسیقی‘ اسٹیج ڈرامے اور مزاحیہ خاکوں کے علاؤہ معاشرتی و سماجی بہبود کے لئے اصلاحی پیغامات بھی عام کئے جائیں گے۔ خیبرپختونخوا کے طول و عرض میں ’روائتی میلے‘ بھی بطور خاص منعقد کئے جائیں گے۔ لوک ناچ گانے پر مشتمل میلوں کا مقصد ماضی کی روایات کو زندہ کرنا اُور ملک کے ثقافتی نقشے پر خیبرپختونخوا کو نمایاں کرنا ہے تاہم کیا ایسے تفریحی پروگرام منعقد کرنے کا یہی موزوں وقت ہے؟

پشتو زبان کے لفظ ’زہ یم پختونخوا‘ کا چناؤ کرکے ثقافت و سیاحت کا فروغ کرنے والوں نے موضوع کو محدود کر دیا ہے۔ کیا خیبرپختونخوا کی دیگر زبانیں بولنے والے اِن تفریحی تقریبات کا حصہ نہیں ہوں گے؟ اِس حکمت عملی کو اگر کسی دوسرے وقت کے لئے اُٹھا رکھنے کے ساتھ اگر اِس کا نام ’زہ یم پختونخوا (میں پختونخوا ہوں)‘ کی بجائے ’زے ہم پختونخوا (میں بھی پختونخوا ہوں)‘ کر دیا جائے تو اس سے ’مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے درمیان وحدت‘ کا وہ پیغام اُبھرے گا‘ جس موجودہ حکمت عملی میں یقیناًغیردانستہ طور پر کم ترین ترجیح پر دکھائی دیتا ہے۔ لمحۂ فکریہ ’اَمن و اَمان کی صورتحال‘ بھی ہے جس میں بہتری کے آثار مستقل سمجھنے والوں کو خفیہ اِداروں کی اُن رپورٹوں تک رسائی ہونی چاہئے‘ جو مسلسل خاموشی کو کسی بڑے خطرے کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ انسانی جان کا تحفظ ہر تفریحی مقصد اور ثقافت کے اُجاگر کرنے سے زیادہ اہم ہے اور اس ضرورت کو مقدم سمجھ کر ہی فیصلہ سازی ہونی چاہئے۔ اگر ہم کسی کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتے اور نہ ہی خالق کائنات کے حضور سجدۂ ریز ہو کر اپنی نافرمانیوں اور بغاوت بھرے قول و فعل سے توبہ تائب نہیں ہونے جیسی توفیقات نہیں رکھتے۔ اگر ہم بیدار تو ہیں لیکن فکری طور پر نہیں تو اِس ’مردۂ دل کیفیت‘ کی اصلاح (تبدیلی) کے بارے ہم میں سے ہرایک کو ’پہلی فرصت میں‘ اپنے اپنے ضمیر سے بات چیت ضرور کرنی چاہئے۔

Wednesday, April 29, 2015

Apr2015: Measures to avoid cyclone

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تفکرات
ایک کے بعد ایک اِمتحان۔ ایک کے بعد ایک زیادہ بڑی مشکل۔ ’’منیرؔ مجھ کو اک اُور دریا کا سامنا تھا۔۔۔میں ایک دریا کے پار اُترا‘ تو میں نے دیکھا!‘‘ پشاور پر نازل ہونے والی ہر ایک قدرتی آفت زیادہ جانی و مالی نقصان کا سبب بنتی ہے کیونکہ ہم اپنے ماضی سے سبق نہیں سیکھتے اور مستقبل پر نظر نہیں رکھتے! ہماری منتخب نمائندوں سے وابستہ توقعات پوری نہیں ہو رہیں تو ایسی کوئی درخشاں مثال ہمیں ماضی میں بھی ڈھونڈے سے نہیں ملتی‘ جس میں مگرمچھ کے آنسوؤں کا مقصد ذرائع ابلاغ کی تسلی و تشفی سے زیادہ نہ ہو! سرکاری وسائل اور اختیارات رکھنے والوں کے شب و روز کا اگر قریب سے مشاہدہ کیا جائے تو اُن کی ترجیحات سے یہ حقیقت واضح بھی ہو جاتی ہے کہ ’’شاخ در شاخ ظلم ڈھا کر بھی۔۔۔ آندھیاں معتبر نہیں ہوتیں!‘‘

پشاور سے ٹکرانے والے ’ہوائی بگولے‘ کی سائنسی تشریح یہ ہے کہ افغانستان کے راستے آنے والی ہواؤں کا ملاپ جبکہ قدرے گرم اور معتدل موسم سے ہوا‘ تو اُن کے مزاج میں سختی آگئی‘‘ لیکن ہمارے ہاں ماحولیاتی درجۂ حرارت زیادہ ہونے کی وجوہات کا ایک تعلق شہری علاقوں میں رہنے والوں کے طرز معاشرت و رہن سہن سے بھی ہے۔ مثال کے طور پر ہم سردیوں میں گرم کپڑے پہننے کی بجائے گیس کے ہیٹر جلا کر پورا کمرہ گرم رکھتے ہیں۔ جس کے پاس جتنے مالی وسائل ہوتے ہیں وہ اُتنا ہی غیرمحتاط اور ’ماحول دشمن‘ زندگی بسر کرتا ہے۔ گرمیوں میں خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں (گلیات) میں مستقل ٹھکانہ بنانے والے اپنے پیچھے کوڑے کچرے کے ڈھیر اور جنگلی حیات کی قبریں چھوڑ جاتے ہیں۔ مچھروں اور کیڑے مکوڑے جن کی پہاڑی مقامات پر ماحولیاتی تنوع میں خاص اہمیت ہوتی ہے‘ اُن پر کیمیائی مادے چھڑکے جاتے ہیں۔ پلاسٹک کے شاپنگ بیگز اور اشیائے خوردونوش کے خالی ڈبے یہاں وہاں پھینک دینا تو جیسے نسل درنسل منتقل ہونے والی وراثت کا حصہ ہو! ماحول دوستی‘ ماحول شناسی سے مشروط ہے اور جب تک ہم اِس حقیقت کا ادراک نہیں کر لیتے‘ چاہے کہیں بھی گزربسر کریں‘ ہماری وجہ سے دوسرے بھی قدرتی آفات کے نرغے میں آتے رہیں گے۔

تیز ہوا‘ آندھی اور موسلادھار بادوباراں کے سامنے شاہراؤں کے کنارے نصب قدآور ’اشتہاری اعلانات (بل بورڈز)‘ بھی نہ ٹھہر سکے! اِس سلسلے میں پشاور کے ترقیاتی ادارے (پی ڈی اے) نے ایک ضابطۂ اخلاق مرتب کررکھا ہے‘ جس پر عمل درآمد کرانے کی ضرورت ہے۔ طوفان کی وجہ سے جو ’بل بورڈز‘ زمین بوس نہیں ہوئے اُن کی بنیادیں بُری طرح ہل چکی ہیں اور آئندہ کوئی کم شدت کا طوفان اُنہیں منہدم کر سکتا ہے۔ عمومی طور پر مصروف چوراہوں اور شاہراؤں کے کنارے یہ ’بل بورڈز‘ نصب کئے جاتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کر سکیں۔ موجودہ حالات میں ضرورت اِس امر کی ہے کہ جی ٹی روڈ (این فائیو) سمیت پشاور شہر کے اندرونی بازاروں میں جابجا لگنے والے ’بل بورڈز‘ہٹائے جائیں جو ایک مستقل خطرہ اور سر پر لٹکنے والی تلوار جیسے ہیں۔

پشاور میں نکاسی آب کا نظام سنجیدہ اور فوری توجہ چاہتا ہے۔ مختلف ادوار میں بننے والی گلیاں اور سڑکیں اِس قدر بلندی پر بنائی گئیں ہیں اور تہہ در تہہ بلند ہوتی رہیں ہیں کہ رہائشگاہیں اور کاروباری مراکز نیچے رہ گئے ہیں۔ جی ٹی روڈ کی توسیع میں بھی اِس بات کا خیال نہیں رکھا گیا کہ ہشتنگری سے چغل پورہ تک کے علاقوں کے پانی کا بہاؤ کدھر جائے گا۔ سیٹھی ٹاؤن (خالصہ) کے علاقے اگرچہ نشیبی نہیں لیکن وہاں سے نکاسی آب ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ گلبہار‘ کوہاٹی چوک‘ چوک ناصر خان اور شعبہ چوک جیسے مصروف بازار بارش کی صورت تالاب کا منظر پیش کرنے لگتے ہیں کیونکہ زیرزمین نکاسی کے نظام (شاہی کھٹہ) پر قائم تجاوزات ختم نہیں کی جاسکیں۔ اُمید تھی کہ مرحلہ وار مہم میں بازاروں کے بعد قبرستانوں اور پھر شاہی کھٹے پر قائم ہونے والی تجاوزات ختم کی جائیں گی لیکن ضلعی انتظامیہ اور میونسپل حکام کی گرمجوشی اُور عزم مصلحتوں کا شکار ہوتا دکھائی دے رہا ہے (خدا کرے ایسا نہ ہو۔)

قدرتی آفات کے بارے میں ہمارا نصاب تعلیم معلومات سے خالی ہے۔ ماحول دوستی اور ماحولیاتی تنوع پر چند ایک اسباق کہیں نہ کہیں مل ہی جاتے ہیں لیکن کرۂ ارض کی بقاء و حیات کے ضامن ’زراعت اور موسم‘ جیسے موضوعات کو مستقل اور خاطرخواہ اہمیت و توجہ نہیں دی جارہی۔ اِس سلسلے میں ذرائع ابلاغ بھی یقیناًایک کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں (اور انہیں کرنا بھی چاہئے) کیونکہ محکمۂ موسمیات کے مطابق آنے والے دنوں میں مزید ایسے طوفان متوقع ہیں‘ جن کی شدت زیادہ بھی ہو سکتی ہے! تجویز ہے کہ ’سرسبزوشاداب پشاور‘ کے نام سے تحریک شروع کی جائے‘ جس میں ’گھر گھر ہریالی‘ کے اہداف مقرر کرکے (ممکنہ مقامات پر) شجرکاری اور گھریلو سطح (چھوٹے پیمانے) پر کاشتکاری کی سرپرستی و حوصلہ افزائی ہونی چاہئے۔ زرعی و موسمی شعبے میں تحقیق کرنے والے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کریں تاکہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے عام آدمی تک یہ موضوع منتقل کیا جا سکے کہ ماحولیات کے تحفظ میں ہماری بقاء اور اِس کے توازن میں بگاڑ کسی بھی صورت نہ تو ہمارے حال اور نہ ہی ہماری آنے والی نسلوں کے حق میں مفید ثابت ہوگا۔
How do we save our environment & population