Showing posts with label Food Security. Show all posts
Showing posts with label Food Security. Show all posts

Saturday, August 15, 2015

Aug2015: The real issues to worry!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
زحال مسکیں‘ مکن تغافل!
قدرتی آفات سے قومی سطح پر نمٹنے اُور بحالی و تعمیرنو کے لئے حکمت عملی تیار کرنے والے وفاقی اِدارے ’نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (ndma.gov.pk)‘ کا کہنا ہے کہ ’’خیبرپختونخوا میں سیلابی صورتحال برقرار ہے بلکہ دریاؤں میں طغیانی کے سبب تباہ کاریوں کا سلسلہ بھی ہنوز جاری ہے جس کے نتیجے میں تیرہ اور چودہ اگست (چوبیس گھنٹوں میں) پانچ افراد ہلاک ہوئے جبکہ حالیہ چند ہفتوں میں مجموعی طور پر 207 افراد کی جان سیلاب کی نذر ہو چکی ہے۔ اِن میں 49 بچے اُور 63 خواتین بھی شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والے بچوں میں سے 33 کاتعلق صوبہ پنجاب اور 16کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے۔‘‘ ملک گیر سطح پر 13لاکھ 78ہزار 82 افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں اور بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشنگوئی کرتے ہوئے محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ ’’بلوچستان اور سندھ میں مزید بارشوں کا سلسلہ چودہ اگست سے قبل ہی شروع ہو چکا ہے اور اسی سلسلے کی مزید بارشیں ملک کے دیگر حصوں میں بھی متوقع ہیں۔‘‘ یاد رہے کہ ابھی تک ’مون سون بارشوں‘ کا نصف دورانیہ ہی مکمل ہوا ہے اور عموماً یہ سلسلہ ماہ ستمبر کے آخر تک جاری رہتا ہے۔ ملک کے سبھی مرکزی دریاؤں میں سیلاب کی بلند ترین سطح پہلے ہی خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے لیکن موسم کے بدلتے ہوئے غضباک تیور اور تھپڑ سہنے کے باوجود ہمارے ہاں ایسی سیاسی جماعتیں بھی ہیں‘ جو بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کے خلاف ہیں اور اِس تکنیکی مسئلہ کو ’سیاست کی نذر‘ کئے ہوئے ہیں۔ کیا کوئی جواب دے گا کہ محض چار ہفتوں میں جن 207 افراد کی ہلاکتیں ہو چکی ہیں اُن کے قتل کا مقدمہ کس کے خلاف درج کیا جائے؟ آخر اُن 49بچوں اور 63خواتین کا کیا قصور تھا‘ جنہیں سیلابی پانی بہا لے گیا؟

سیلاب سے متاثرہ ’خیبرپختونخوا‘ کو کئی داخلی مسائل کا سامنا ہے‘ جن میں موسمیاتی تغیرات کو نظرانداز کرنے کے سبب پیش آنے والے حادثات سب سے نمایاں ہیں۔ اِنہی حالات کی وجہ سے دیہی علاقوں سے شہروں کی جانب نقل مکانی ہو رہی ہے۔ نسلوں سے زراعت اور مال مویشیوں کی پرورش کے ذریعے معاشرے کی خدمت کرنے والے اپنا آبائی پیشہ ترک کر رہے ہیں۔ جن علاقوں میں بارشوں اُور سیلاب سے آبپاشی کا نظام تباہ یا متاثر ہوا ہے‘ اُس کی بحالی کے لئے حکومت کی جانب سے نہ تو ماضی میں خاطرخواہ توجہ دی گئی اور نہ ہی موجودہ حکمرانوں کو اُس ’چھوٹے کاشتکار‘ کسان اور محنت کش‘ کی فکر ہے‘ جو کسی سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے صاحب جائیداد کا غلام ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ اپنے خون پسینے سے زراعت کرنے والوں کی زندگی تو غلاموں سے بدتر ہے۔ اُنہیں محنت کا خاطرخواہ صلہ نہیں ملتا۔ زرعی ضروریات پر اِس قدر محصولات (ٹیکس) لگا دیئے گئے ہیں کہ چھوٹے پیمانے پر کاشتکاری منافع بخش تو کیا‘ اب تو فصل پر اُٹھنے والے اصل اخراجات وصول ہونا بھی ممکن نہیں رہا! یادش بخیر گذشتہ دور حکومت میں ملاکنڈ ڈویژن میں سیلاب آیا تو اُس وقت کے وزیر خزانہ کا تعلق اِسی خطے سے تھا‘ جنہوں نے دل کھول کر ’بڑے جاگیرداروں‘ کے ساتھ اپنی دوستی و تعلق کو نبھایا۔ افسوسناک امر یہ تھا کہ اجارے پر کام کرنے والے جن چھوٹے کاشتکاروں کی فصلیں سیلاب میں بہہ گئیں اُن سے جاگیرداروں نے فصل کی بجائے نقد رقم کا تقاضا کیا اور یہ رقم زبردستی وصول بھی کی گئی۔ ایک طرف جاگیرداروں نے اپنی زرعی زمینیں سیلاب سے خراب ہونے اور آبپاشی کے نظام کی بحالی کے لئے کروڑوں روپے وصول کئے اور دوسری جانب انہوں نے نہ تو کھیتوں کی صفائی‘ حد بندی اور آبپاشی کا نظام درست کیا بلکہ اُلٹا کاشتکاروں کی کھال بھی اُتاری! اس قدر سنگدلی کی توقع تو اُن استحصال پسند ہندو سے کی جا سکتی تھی‘ جس سے آزادی حاصل کرنے کا پوری قوم اِن دنوں 69واں جشن منا رہی ہے!

آخر ہمیں کس بات نے گردوپیش اور برسرزمین حقائق سے لاتعلق کر رکھا ہے؟ کیا یہ بات کسی درجے تشویشناک بھی ہے کہ ’’خیبرپختونخوا کے زیرکاشت رقبے میں ہرسال کمی آ رہی ہے۔‘‘ محکمۂ مال کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق زیرکاشت رقبے میں غیرمعمولی کمی کا رجحان 1985ء سے جاری ہے اُور اِس کی ابتدأ زرخیز زمینوں کو رہائشی مقاصدکے لئے استعمال کرنے کی دیکھا دیکھی پھیلنے والی وباء سے ہوئی۔ جب رہائشی کالونیاں ’خود رو جھاڑیوں‘ کی طرح پھیلنے لگیں تو نکاسی آب کے لئے آبپاشی کے نالے (واٹر چینلز) استعمال ہونا شروع ہوئے‘ جس نے رہی سہی کسر بھی نکال دی اور جو باقی ماندہ زمین رہائشی کالونیوں سے بچ گئی تھی‘ وہاں بھی صحت مند کاشتکاری ممکن نہیں رہی۔

محکمۂ مال کا کہنا ہے کہ ’’خیبرپختونخوا میں ہر سال 11.6 مربع کلومیٹر زرعی زمین دیگر مقاصد کے لئے استعمال میں لائی جا رہی ہے۔‘‘ ہمارے حکومتی اِدارے کمال کے ہیں۔ یہ اعدادوشمار تو مرتب کرتے ہیں لیکن اِن سے متعلقہ خطروں کا بیان نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر جب یہ کہا جا رہا ہے کہ ’’سالانہ گیارہ مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبہ کاشت نہیں ہو رہا‘‘ تو اِس کا موازنہ بڑھتی ہوئی آبادی اور خوراک کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے تناسب سے نہیں کیا جاتا۔ آخر یہ سوال بھی کیوں درپیش نہیں کہ ’’اگر خیبرپختونخوا میں گیارہ مربع کلومیٹر سالانہ کے تناسب سے اراضی کا زرعی استعمال ترک ہو رہا ہے تو آنے والے دنوں میں ’خوراک کی دستیابی و فراہمی (غذائی تحفظ)‘ کیسے ممکن ہو پائے گا؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں زرعی اراضی کا موجودہ کل رقبہ کتنا ہے؟
 اِس سلسلے میں محکمۂ زراعت کے مرتب کردہ اعدادوشمار ملاحظہ کیجئے جن کے مطابق ’’خیبرپختونخوا میں کل 18ہزار 709 اعشاریہ 55مربع کلومیٹر رقبہ زیرکاشت ہے جبکہ آئندہ پچیس سے تیس برس کے دوران ملک کے اِس ’شمال مغربی سرحدی صوبے‘ کی آبادی 5 کروڑ نفوس سے تجاوز کر جائے گی!‘‘ اگر ہم پشاور ہی کی مثال لیں تو یہاں کی زرخیز زمینیں پانی کی کمی کے باعث تباہ ہو رہی ہیں۔ اگر حکمرانوں کو فرصت ملے اور وہ چمکنی یا اِس کے مضافاتی دیہی علاقوں کا دورہ کریں‘ وہاں کے کاشتکاروں کے مسائل سننے کے لئے کھلی کچہریاں لگائیں تو معلوم ہو گا کہ جن زرعی زمینوں کو کاشت کرنے کے لئے پانی ہی دستیاب نہیں تو اگر ایسی زمینوں کو رہائشی و دیگر غیرزرعی مقاصد کے لئے فروخت کردیا جائے تو کیا مضائقہ ہے!؟ رواں برس (دوہزار پندرہ) میں خیبرپختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ جن کم و بیش 400 دیہی علاقوں میں ’زراعت بچاؤ اقدامات‘ کئے گئے ہیں وہ کافی تو کیا واجبی سے بھی کم ہیں۔ مثال کے طورپر ۔۔۔’’سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سات ایکڑ پر انار اُور انگور کے باغات لگائے گئے ہیں اور سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری سے پشاور کے مضافاتی ترناب کے علاقے میں 6.5 ایکڑ اراضی زیرکاشت لائی گئی ہے!‘‘ کیا یہ کوششیں اور اس قدر محدود پیمانے پر ہونے والے اقدامات کافی قرار دیئے جا سکتے ہیں؟ اگر محکمۂ زراعت اور اس کے ذیلی دیگر محکموں کے ہزاروں ملازمین کو ایک میدان میں جمع کرکے ایک عدد نہر اور ایک عدد گڑھا کھودنے پر لگا دیا جائے تو محض چند دنوں میں دنیا کی سب سے بڑی سیلابی نہر اور سب سے بڑا تالاب بن جائے گا‘ جس کے کئی ایک مفید استعمال بیان کرنے کا یہ محل نہیں۔ القصہ مختصر کاشتکاروں‘ محنت کشوں‘ سیاسی‘ نسلی و لسانی استحصال‘ تعصب اور محرومیوں کا شکار غریب و محکوم طبقات نے سب سے زیادہ اُمیدیں ’پاکستان تحریک انصاف‘ سے وابستہ کر رکھی ہیں‘ جن پر پورا اُترنے کے لئے ’بنی گالہ‘ کو نمائشی اقدامات و انتظامات کی بجائے انقلابی اصلاحات لانے کے لئے رہنما اصول وضع کرنا ہوں گے۔’’زحال مسکیں‘ مکن تغافل ورائے نیناں بنائے بتیاں۔۔۔کہ تاب ہجراں ندارم اے جاں‘ نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں۔ (اَمیر خسرو رحمۃ اللہ علیہ)‘‘

Sunday, November 2, 2014

Nov2014: Wastage of food

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
غذا کا ضیاع
ہم اپنے مسائل کے لئے خود بلکہ خود ہی ذمہ دار ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو زراعت اور ماحول جیسے وسائل اور متعلقہ علوم میں مہارت رکھنے والی دنیا غربت و افلاس کی مثالوں سے بھری ہوئی نہ ہوتی۔ ہماری ترجیح ہتھیار ہیں۔ ہمیں ہمارے ہی پیدا کردہ تنازعات نے جھکڑ رکھا ہے اور کچھ ایسی اقوام بھی ہیں جو دنیا بھر میں فسادات کو ہوا دے کر ’کاروبار‘ میں ملوث ہیں‘ تاکہ اُن کے ہتھیارساز اداروں کی بھٹیاں اور چمنیاں ٹھنڈیاں نہ پڑیں تو اگر ہم یہ سب جانتے بھی ہیں اور اپنے اردگرد ہونے والی سازشوں کی بنیادی وجوہات کا ادراک بھی رکھتے ہیں تو کیا امر مانع ہے‘ جس نے ہمارے وسائل کا استحصال اور ہماری آزادی کو محکومیت میں بدل دیا ہے؟

کیا یہ بات لمحہ فکریہ نہیں کہ ترقی یافتہ اور خود کو تہذیب یافتہ کہلانے والے ممالک ہر سال خوراک کی اِس قدر مقدار ضائع کر دیتے ہیں جس سے دو ارب لوگوں کی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں؟ یہ بات ایک عالمی جائزے سے سامنے آئی ہے کہ دنیا میں بھوک و افلاس اجناس کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ انسانوں کو انسانوں کا احساس نہیں رہا۔ سیاست حاوی ہے۔ اقوام اپنے ہی مقرر کردہ اہداف کے بارے میں سوچتے ہوئے خودغرضی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ خوراک کے یوں زیاں کو روکنے کے اقوامِ متحدہ کے اداروں کی قیادت میں ایک نیا پلیٹ فارم تشکیل دینے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ دنیا بھر کے کم سے کم 80کروڑ لوگوں کا پیٹ بھرا جاسکے۔گوکہ خوراک کے زیاں کی روک تھام کے لئے اقوام متحدہ سمیت کئی عالمی ادارے سرگرم عمل ہیں مگر اِن اداروں کی جانب سے کی جانے والی مساعی بھی اس غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کی روک تھام میں بُری طرح ناکام رہی ہیں۔

دنیا بھر میں جہاں لاکھوں افراد بھوک سے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں‘ وہیں کروڑوں لوگ لاکھوں ٹن خوراک ضائع کر دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے برائے’’خوراک و زراعت‘‘ کے مطابق سالانہ ایک ارب تیس کروڑ ٹن خوراک ضائع ہو رہی ہے جو پوری دنیا میں پائی جانے والی خوراک کے تناسب سے تیس فیصد بنتی ہے۔ خوراک کا یہ زیاں روکنے کے لئے سرگرم ادارے کی جانب سے حال ہی میں ’آن لائن گیٹ وے‘ قائم کیا گیا جس میں کرہ ارض کے انسانوں کو خوراک کے ضیاع کے روک تھام کے مختلف طریقوں سے آگاہی فراہم کی جا رہی ہے۔ اس ’گیٹ وے کے قیام‘ کا مقصد لوگوں میں خوراک کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے اجتماعی و انفرادی شعور میں اضافہ ہے جس کے لئے آگہی فراہم کرنے کی حتی الامکان کوشش کی جائے گی۔ البتہ یہ کوشش کس حد تک کامیاب ہو گی اس کا جواب وقت ہی دے گا۔

سوات سے تعلق رکھنے والے ماہرزراعت فضل مولا زاہد ’غذائی خودکفالت‘ اور خوراک کے ضائع ہونے کو روکنے کے لئے ایک عرصے تک فعال رہے لیکن بعدازاں آئل سیڈ ڈویلپمنٹ بورڈ تحلیل کر دیئے جانے کے صدمے نے شاید اُنہیں خاموش کر دیا ہے لیکن ایک وقت میں وہ ہوٹلوں میں جا جا کر بچی ہوئی روٹیوں کو گنتے اور وہاں موجود افراد کو تلقین کرتے کہ وہ ایک ایک نوالے کی اہمیت کا احساس کریں۔ یہی کام بڑے پیمانے پر اقوام متحدہ نے کرنے کا آغاز کیا ہے‘ کاش ہم اپنے دانشوروں اور ماہرین کی قدر اور اُن کی اہمیت کو سمجھتے اور عالمی سطح پر انہیں متعارف کراتے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ صرف ترقی یافتہ ہی نہیں بلکہ ہمارے ہاں بھی خوراک ضائع نہ کرنے کے حوالے سے عمومی سطح پر شعور کی کمی ہے۔ عام آدمی کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے کچن میں کتنی خوراک ہرروز ضائع کر رہا ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں نہ تو ذرائع ابلاغ عوام کی رہنمائی کرتے ہیں اور نہ ہی سکول‘ مکتب یا مسجد و منبر سے نصیحت واعظ یا تلقین کی جاتی ہے۔ حکومت نے تو گویا اِس بات کو اپنی ترجیحات ہی سے الگ کر دیا ہے کہ وہ سماج کی بہتری پر توجہ کرے۔ لے دے کر یہی کام رہ گیا ہے کہ اربوں روپے کے تعمیراتی منصوبوں کے بارے میں سوچا جائے‘ جن پر نام کی تختیاں سجانے کے ساتھ دیگر مالی و سیاسی مفادات بھی جڑے ہوتے ہیں۔

خوراک کے ہر ایک دانے کا استعمال کس طرح کیا جائے‘ اس بارے میں شعور اور آگاہی وہ پہلا قدم ہے جہاں سے خوراک بچانے کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔ تحفظ خوراک کی آگاہی کے لئے قائم کردہ اقوام متحدہ کے گیٹ وے پر جیسے جیسے خوراک کو بچانے کی معلومات میں اضافہ ہوتا چلا گا‘ اُمید ہے کہ اسی مناسبت سے اس کا فائدہ بھی بڑھتا جائے اور خوراک کا ضیاع کم ہونے میں مدد ملے۔ عجب ہے کہ مہذب دنیا پھلوں اور اناج کا چالیس فیصد‘ سبزی کا بیس فیصد اور پکانے کے تیل و مچھلی وغیرہ کا پینتیس فیصد حصہ ضائع کر رہی ہے! یاد رہے کہ عالمی آبادی سات ارب سے زیادہ ہوچکی ہے اور اگر آبادی میں اضافے کی موجودہ شرح برقرار رہی تو اندازہ ہے کہ سال بیس سو پچاس تک دنیا کی کل آبادی نو ارب تک پہنچ جائے گی۔ تب حکومتوں کے لئے خوراک کی فراہمی ایک بڑا چیلنج ہو گا جبکہ اس وقت بھی دنیا بھر میں پچاسی کروڑ انسان کو بھوک اور موت کا جبکہ اندازاً دو ارب انسان کم خوراکی کا شکار ہیں۔

 پاکستان کی سطح پر خوراک کے ضائع ہونے کو روکنے اور غذائی خودکفالت بالخصوص خوردنی تیل کی فصلات پر توجہ دینے میں ہمیں مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ وہ سبھی زرعی ماہرین جو گوشہ نشینی اختیار کر چکے ہیں‘ یہ منزل اور لمحۂ فکر اُن کے تجربات اور خدمات سے بھرپور استفادہ کرنے کا ہے۔ ’’ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن: خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک (اسد اللہ خان غالبؔ )