Showing posts with label Photography. Show all posts
Showing posts with label Photography. Show all posts

Monday, September 16, 2019

Smaha Jahangir - a girl with camera eye!

کیمرے کی آنکھ!

فوٹوگرافی (عکاسی) کے ذریعے تخلیقی صلاحیتوں کا اِظہار ممکن ہے اُور فنون لطیفہ میں شمار ہونے والا یہی ذریعہ (میڈیم اُور مضمون) گردوپیش سے متعلق کسی فوٹوگرافر (عکاس) کی سوچ کا ترجمان بھی ہوتا ہے۔

پاکستان میں ’فن فوٹوگرافی‘ انتہائی تیزی سے مقبول ہو رہا ہے‘ جس کی دلیل یہ ہے کہ عالمی سطح پر ہونے والے مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی ماضی کے مقابلے کہیں گنا زیادہ اُور معیار کے لحاظ سے بہترین انداز میں ہو رہی ہے۔ ایک وقت تھا جب غیرملکی فوٹو نیوز ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار عکاس‘ جنہیں پاکستان سے متعلق صحافتی فوٹوگرافی (Photojournalism) کی ذمہ داریاں (assignments) دی جاتی تھیں وہ دیگر موضوعات جیسا کہ روزمرہ معمولات زندگی اور پاکستان کے سیاحتی مقامات کی خوبصورتی کو دنیا کے سامنے پیش کرتے تھے لیکن ڈیجیٹل فوٹوگرافی (Digital Photography) کے کم قیمت اور باآسانی دستیاب آلات نے تو گویا انقلاب برپا کر دیا ہے اُور ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ اب تو ہر موبائل فون رکھنے والے کی جیب میں ایک عدد کیمرہ (camera) سما گیا ہے! اُور اگر ضرورت باقی رہ گئی ہے تو وہ تخلیقی صلاحیت اُور اپنی نظر سے دنیا کو دیکھنے کی جرات و حوصلے پر مبنی ’بہادری‘ دکھانے کی ہے۔

یاد رہے کہ 1975ءمیں ایسٹ مین کوڈک (Kodak) نامی کمپنی کے 24 سالہ انجنیئر اسٹیون ساسن (Steven Sasson) نے ’ڈیجیٹل فوٹوگرافی‘ ایجاد کی تھی اُور ’ایسٹ مین کوڈک‘ نامی کمپنی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اِس نے دنیا کو پہلا ڈیجیٹل کیمرہ دیا‘ جس کی آجکل ایسی ترقی یافتہ اشکال دیکھنے کو مل رہی ہیں کہ کیمرے کسی منظر سے منعکس ہونے والی روشنی اور اُس کی تفصیلات کی ایک سکینڈ سے بھی کم لمحے میں جانچ کر کے ازخود (automatically) درست تصویر (exposure) کا انتخاب کر لیتا ہے اُور کیمروں کی اِنہی صلاحیتوں کی وجہ سے فوٹوگرافی ہر دن پہلے سے زیادہ نکھری نکھری اُور آسان سے آسان تر ہوتی جا رہی ہے۔

 تصویر بنانا مشکل نہیں رہا لیکن اِس فن کو سمجھنا مشکل نہیں تو محنت و توجہ طلب ضرور ہے۔ موبائل ہو یا کسی بھی قسم کا کیمرہ‘ اُس پر لگے ایک خاص بٹن کو دبانے (click) سے تصویر تو بن سکتی ہے لیکن اِس تصویر میں مقصدیت ہی کسی عکاس کو کو عالمی سطح پر متعارف کروانے کا ذریعہ ہو سکتی ہے اُور یہ ایک ایسا نادر موقع ہے جس سے یقینا ہر کوئی فائدہ اُٹھانا چاہے گا‘ بالخصوص موبائل فون اُور سوشل میڈیا کا امتزاج کامیابی کی ضمانت بن سکتا ہے۔ دنیا منتظر و طلبگار ہے کہ کوئی کیمرے کی آنکھ سے اپنے گردوپیش میں دیکھنے کی اچھوتی کوشش کرے۔ خوش آئند ہے کہ عکاسی کے عالمی منظرنامے میں پاکستان ’غیرمانوس نام‘ نہیں رہا۔

اکتوبر 2017ءمیں جب جاپان کی معروف کیمرہ ساز کمپنی نیکون (Nikon) نے نئے ماڈل کا کیمرہ (D-850) متعارف کروایا تو اُس کے تجرباتی استعمال (فوٹوشوٹ) کے لئے دنیا کے بہترین اور معروف فوٹوگرافروں کو جاپان طلب کیا گیا‘ جہاں اُنہوں نے اپنی اپنی مہارت اُور صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔ اِن میں پاکستان سے فیشن فوٹوگرافر ’ٹپو جویری (Tapu Javeri)‘ بھی شامل تھے اُور پھر دنیا نے دیکھا کہ کس طرح ایک جیسے آلات اُور ایک جیسے حالات میں کام کرتے ہوئے ’ٹپو جویری‘ نے مدمقابل غیرملکی فوٹوگرافروں کو حیران بلکہ پریشان کیا! ’ٹپو جویری‘ تو ایک پیشہ ور عکاس ہیں‘ جن کا اُوڑھنا‘ بچھونا ہی عکاسی ہے لیکن آج ہمیں ایسی خواتین بالخصوص طالبات ملتی ہیں جنہوں نے عکاسی کے عمل کو شوق و ذوق کی تسکین کے لئے اپنایا اُور پھر اِس میدان میں آگے بڑھتی چلی گئیں۔

فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی ’24 سالہ‘ سماحہ جہانگیر (Smaha Jahangir) ایسی ہی ایک عکاس ہیں‘ رواں ماہ (ستمبر دوہزار اُنیس) اُن کی بنائی ہوئی ایک تصویر معروف عالمی میگزین ’نیشنل جیوگرافک‘ میں شائع ہوئی ہے‘ جو امریکہ سے شائع ہوتا ہے اُور دنیا میں دستاویزی فوٹوگرافی کا مستند ادارہ ہے۔ اِس اعزاز کی وجہ سے سماحہ جہانگیر دنیا کے لئے اجنبی نہیں رہیں۔ آپ اُن 10 پاکستانی خواتین میں بھی شامل ہیں‘ جو سوشل میڈیا کی وساطت سے عالمی منظرنامے پر پاکستان کا حوالہ (پہچان) ہیں۔ سماحہ جہانگیر (@fictionography) کے علاوہ خدیجہ ابتسام (@kibtisam)‘ ندا علوی (@nidalvi_)‘ مہ حور جمال (@mahoorjamal)‘ عظیمہ الیاس (@_zeemee)‘ نتاشا خان (@natty.a.khan)‘ آنیہ (@anniyah._)‘ نوال مظہر (@i.nawalmazhar)‘ توبا اُور اقصیٰ(@thenerdtwins)‘ عایزہ حماد (@aiza_Hammad) کے نام کسی اضافی تعارف کے محتاج نہیں۔ اِس مرحلہ فکر پر یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ صرف وہی عکاس بہترین (کامیاب) نہیں ہوتے کہ جن کی تصاویر کسی عالمی میگزین میں شائع ہوں بلکہ وہ سبھی مردوخواتین جو عکاسی کو سنجیدگی سے لیتے ہیں‘ اُن کی محنت‘ جذبے‘ لگن‘جنون اُور سب سے بڑھ کر الگ سوچنے کے انداز کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہئے۔ بظاہر عمومی دکھائی دینے والا ہنر‘ عکاسی کسی بھی طرح معمولی نہیں بلکہ اِس کے لئے اُس ’اَن دیکھے‘ کی تلاش کرنا پڑتی ہے‘ جو سب کو یکساں اور برابر دکھائی دے رہا ہوتا ہے لیکن کسی عکاس کی آنکھ ہی اُسے ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیتی ہے!

 کسی عکاس سے پوچھیں تو کہے گا کہ فوٹوگرافی کے لئے آپ کو جدید کیمرے‘ ٹرائی پوڈ‘ کیمرہ بیگ‘ عدسوں کی ضرورت ہے لیکن اِن بیش قیمت آلات کی ضرورت صرف اُسی صورت ہوتی ہے جبکہ فوٹوگرافی کو بطور کاروبار (پیشہ) شروع کرنا مقصود ہو۔ سوشل میڈیا کے ذریعے گردوپیش میں خوبیوں اور خوبصورتیوں کو تلاش کرنے کے لئے آلات سے زیادہ ’ژرف نگاہی‘ اُور سوچ (deep-thinking) چاہئے ہوتی ہے۔

سماجی و صحافتی موضوعات ہوں یا سیاحتی مقامات کی دلفریبی کو قید کرنا‘ اِس کام کے لئے کیمرے کے علاوہ جن 3 چیزوں کی اِنتہائی اَشد اُور ناگزیر ضرورت ہوتی ہے وہ صبر‘ تحمل اُور برداشت ہیں۔ عمومی غلطی یہی کی جاتی ہے کہ اندھا دھند تصاویر (clicks) کرنے کو فوٹوگرافی سمجھا جاتا ہے کہ چلو کوئی ایک تصویر تو اچھی آ ہی جائے گی ایسا ہو بھی سکتا ہے لیکن یہ حربہ ہر وقت کارگر ثابت نہیں ہوگا‘ جب تک کہ کسی بظاہر بے جان اُور خاموش تصویر کے قالب سے روشنی اُور خیالات بولتے دکھائی نہ دیں۔ رنگوں کو بات کرنی چاہئے اُور باتوں سے خوشبو وہ اضافی خصوصیت ہے‘ جو کسی تصویر کو خاص بلکہ بہت خاص بنا سکتی ہے۔
...
https://www.instagram.com/fictionography/
https://twitter.com/smahajahangir



Monday, March 20, 2017

Mar2017: Obituary: The 'Bibi Dow' of Chitral

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
نایاب ہستیاں: ’بی بی ڈُو‘
اپنی زندگیاں کسی مقصد کے لئے وقف کرنے والے ’ظاہری حیات‘ کے بعد بھی اِس صورت زندہ و رہنما رہتے ہیں کہ اِجتماعی بہبود کے بارے میں اُن کے تصورات و نظریات اُور سماجی خدمات مشعل راہ رہتی ہیں۔ ایسی ہی ایک شخصیت محترمہ ’ماورین پٹریشا لائنز‘ (Maureen P Lines) کی تھی جنہیں احتراماً ’’بی بی ڈُو (Bibi Dow)‘‘ کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔ اَٹھارہ مارچ کے روز آخری رسومات کی ادائیگی کے بعد اُنہیں پشاور کے ’’گورا (عیسائی) قبرستان‘‘ میں سپرد خاک کردیا گیا۔ 79برس کی عمر میں انتقال کرنے والی ’بی بی ڈُو‘ چند ماہ سے علیل تھیں۔

’بی بی ڈُو‘ سے میری ملاقات یونیورسٹی ٹاؤن پشاور میں اُن کی رہائشگاہ پر ہوئی‘ جہاں وہ موسم سرما کے دوران ہی قیام کرتی تھیں جب چترال آمدورفت کے راستے برفباری سے بند ہو جاتے۔ چترال اُن کی زندگی میں اِس قدر رس بس گیا تھا کہ گھر کی درویوار سے لیکر مہمانوں کی تواضع تک چترال ہی سے لائی گئی سوغات (خشک میوہ جات) سے کرتی تھیں۔ انہیں فوٹوگرافی کا جنون کی حد تک شوق تھا لیکن یہ شوق بھی ایک مقصد و تحریک کے تابع تھا‘ کیونکہ تصاویر کے ذریعے پیغام منتقل کرنے میں زبان اور الفاظ کی محتاجی نہیں رہتی۔ انہوں نے کالاش خاندانوں کی قربت کے ہر قیمتی لمحے کو کچھ اِس انداز میں محفوظ (قید) کیا کہ اُن کے ہاں (فن کمال یہ تھا کہ) ’تصویروں کے بولنے کا گماں ہوتا۔‘ وہ چہرے پڑھ لیا کرتی تھیں۔ آنکھوں میں جھانک کر بات کرنے کی عادت ایک ایسے سچ کا جیتا جاگتا وجود تھا‘ جس کا طلسم سر چڑھ کر بولتا تھا لیکن مستند ’’سماجی ماہر‘ اِنسان دوست‘ ہمدرد اُور غریب نواز (philanthropist)‘‘ ہونے کے باوجود بھی اُنہوں نے اپنے آپ کو خودنمائی (ذرائع ابلاغ) سے ایک خاص فاصلے پر رکھا تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت اپنے مقصد کو دے سکیں۔ بطور صحافی تربیت اور تجربے کا استعمال کرتے ہوئے وہ اپنی بات دوسروں کے ذریعے کہلوانے کی بجائے براہ راست ’فرائیڈے ٹائمز‘ اور ’ڈان‘ کے ذریعے شائع کرواتی تھیں اور یہی صحافت کا وہ تبدیل ہوتا عالمی انداز ہے جس میں لکھاری اور فوٹوگرافر الگ الگ نہیں رہے بلکہ دونوں ہی ابلاغ کے لئے ایک سے زیادہ ذرائع کا استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان میں کم و بیش 37 برس ’بی بی ڈُو‘ کے قیام کا اگر خلاصہ پیش کیا جائے تو انہوں نے اپنی تمام صلاحیتیں اور جملہ وسائل خیبرپختونخوا کے ضلع چترال میں جنگلات اور کالاش قبیلے کے رسم و رواج‘ رہن سہن اور سماجی تحفظ‘ کی نذر کئے۔ اپنی ذات میں ایک تحریک ’بی بی ڈُو‘ سے ملاقات کا سبب اُن کی تصاویر کے انتخاب بارے ایک نشست تھی جو بعد میں مختلف وسیلوں سے جاری رہی۔ فن عکاسی کے بارے میں بھی اُن سے تبادلۂ خیال اُور تکنیکی اَمور کے بارے اُن کی معلومات و مہارت کسی بھی طرح معمولی نہیں تھے۔ تصویر بنانے سے پہلے ہی وہ اُس کے ممکنہ استعمال کے بارے میں بھی فیصلہ کر لیتی تھیں اور اِس سے بھی بڑھ کر اہم بات اُن کی یاداشت تھی‘ جو ہر تصویر کے ساتھ گھنٹوں بولنے کی صورت حافظے کا حصہ تھی۔ اُمید ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت اُن کی بنائی ہوئی تصاویر کی قومی و عالمی سطح پر نمائش کے ذریعے اُن کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرے گی۔

برطانوی نژاد ’بی بی ڈُو‘ کو بالخصوص ضلع چترال میں فروغ تعلیم اُور کالاش قبیلے کی ثقافت محفوظ بنانے کے لئے خدمات پر حکومت پاکستان نے 2007ء میں ’’تمغۂ اِمتیاز‘‘سے نوازہ‘ جس کی اپنی جگہ اہمیت لیکن اُنہیں ایسے کسی بھی اعزاز سے اپنی ذات کے لئے خوشی نہیں تھی۔ 

ایک سوال کہ ’’کہ ’تمغۂ امتیاز‘ کا فائدہ یہ ہوا؟‘‘ کے جواب میں اُن کے شائستہ الفاظ کی گونج آج بھی ذہن میں محفوظ ہے کہ ’’اب لوگ میری بات زیادہ سنجیدگی سے سننے لگے ہیں‘ (تعجب ہے کہ) کیا ہمیں اعزازات کی لالچ میں سماجی خدمت کرنی چاہئے؟ میرا خیال ہے نہیں کیونکہ ’بے نوا انسانوں‘ کی خدمت سے زیادہ بڑا اعزاز کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔‘‘ ’بی بی ڈُو‘ 1937ء برطانیہ میں پیداہوئیں‘ 1980ء میں پہلی مرتبہ پاکستان آئیں اور پھر یہیں کی ہو کر رہ گئیں۔ انہوں نے چترال کی مخدوش تہذیب کالاش کے لئے اپنی عمر وقف کر دی۔ غیرسرکاری تنظیم (این جی اُو) کی طرح کام کرنے والی ’بی بی ڈُو‘ ایک ایسی مثال ہیں جس سے ’این جی اُوز کیمونٹی‘ کو بھی سبق سیکھنا چاہئے کہ انہوں نے کس انداز میں خود کو کالاش گھرانوں کی بہبود کے لئے وقف کیا اور کس طرح اُن سے گھل مل کر اُن کی قدیم زبان پر بھی دسترس حاصل کی۔ ’بی بی ڈُو‘ آخری عمر تک اس مخدوش و قدیم تہذیب کی ترویج کے لئے کوشاں رہیں۔ متعددکتب تصنیف کیں۔ چترال کے دورافتادہ‘ پسماندہ علاقے کی ایک وادی بریر میں انہوں نے کالاش کے یتیم بچوں کی کفالت کی ذمہ داری کے ساتھ سکول بھی تعمیر کیا۔ جنگلات کاٹنے والے بااثر مافیا کے خلاف بھی ڈٹ کر تحفظ ماحول کی کوششیں جاری رکھیں۔ ’بی بی ڈُو‘ نے امریکہ کی نیویارک یونیورسٹی سے عالمی تعلقات اور ابلاغیات کی اسناد حاصل کر رکھی تھیں۔ انہوں نے امریکہ کے زیرانتظام صحت پروگرام میں ملازمت کی اور اسی پلیٹ فارم سے کالاش لوگوں کو مفت ادویات تقسیم کرتی رہیں۔ 1995ء میں انہوں نے فوٹوگرافی پر بھی کتاب لکھی۔ وہ ’’ہندوکش کنزرویشن ایسوسی ایشن‘‘ کی بانی تھیں‘ جنہوں نے تحفظ قدرتی ماحول اور گندھارا تہذیب پر بھی کام کیا۔

کالاشی اور چترالی زبانوں کی ماہرہ ’بی بی ڈُو‘ اپنے اِس اعزاز پر زیادہ فخر کرتی تھیں کہ مقامی لوگ عزت و تکریم کی وجہ سے اُن کا اصل نام نہیں لیتے بلکہ اُنہیں والدہ اور بہنوں جیسا احترام دیتے ہیں۔ 

چترال کی وادیوں میں بیت الخلاء اور پینے کے صاف پانی کی رسائی کے لئے اُن کی کوششیں اپنی جگہ خواتین کے لئے ایسے محفوظ چولہے بھی متعارف کئے جن سے اُنہیں پھیپھڑوں کے امراض لاحق نہ ہوں۔ مضبوط اعصاب والی ’انسانیت دوست ’بی بی ڈُو‘ اگر زندگی کے کسی ایک محاذ پر باوجود کوشش بھی ناکام رہیں تو وہ ’پاکستانی شہریت‘ کا حصول تھا‘ جس کے لئے زیرسماعت ’’مقدمہ‘‘ وہ مرتے دم تک نہ جیت پائیں! ’بی بی ڈُو‘ کی صورت ایک جیتے جاگتے طلسماتی کردار نے اپنے فکروعمل سے ثابت کیا کہ ’’اگر انسان چاہے تو دنیا کو ’جنت نظیر‘ بنا سکتا ہے۔‘‘ اُن کی وفات سے پیدا ہونے والا خلاء شاید ہی کبھی پُر ہو سکے کیونکہ اپنی ذات سے آگے دیکھنے کا ظرف ہر کسی کی شخصیت کا خاصہ نہیں ہوتا۔ ’بی بی ڈُو‘ کو جاننے والوں بالخصوص چترال کی وادیوں میں رہنے والوں کی اکثریت ’بی بی ڈُو‘ کی وفات پر یقیناًغمزدہ اور آنکھوں میں سوالات لئے ہے کہ اَب بلاامتیاز انسانیت کے دکھوں کا مداوا کون کرے گا؟ اُور اب ’’بے نواؤں‘ کی آواز‘‘ کون بنے گا؟