Showing posts with label ABHC. Show all posts
Showing posts with label ABHC. Show all posts

Tuesday, November 16, 2021

Burn Hall: Parents Day vs Appreciation Day

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
مقصد تعلیم: قوت اخوت عوام

پاکستان میں بہت ہی کم ”نجی تعلیمی“ اِدارے ایسے ہیں جہاں تعلیم میں پنہاں ”قومی خدمت“ جیسے مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے ’درس و تدریس‘ میں بہتری کے کم سے کم معیار کو حاصل کرنے کا بیانیہ (عہد) بھی ملتا ہے اُور روائتی تدریسی عمل کے ساتھ طلاب کو تحصیل ِعلم کے ساتھ نظم و ضبط سے روشناس کرایا جاتا ہے تاکہ وہ کسی بھی شعبہ ہائے زندگی میں اپنے قومی ترانے میں دیئے گئے اِس تصور کی منہ بولتی تصویر کے طور پر ”قوت ِاخوت ِعوام“ کا مظاہرہ کریں۔ ایسے ہی ’نیک نام‘ اُور ’معروف‘ اداروں میں ایبٹ آباد کا ’آرمی برن ہال‘ بھی شامل ہے‘ جس کا قیام مسیحی خدمتگاروں (مشنریوں) نے 1943ء(78 برس قبل) کیا تھا اُور اُن کا بنیادی مقصد ’تعلیم بصورت خدمت و عبادت‘ تھی۔

 قیام پاکستان کے بعد ’برن ہال‘ نامی تعلیمی ادارے کے بانی اراکین فادر برمن تھجیسن (Fr. Herman Thijssen)‘ فادر جارج شانکس (Fr.George Shanks) اُور فادر فرانسیس اسکینین (Fr. Francis Scanion) نے ہند سے نقل مکانی کرکے ایبٹ آباد کا انتخاب کیا۔ برن (Burn) اسکاٹش اُور انگریزی زبان کا لفظ ہے‘ جس کا مطلب کسی دریا کی چھوٹی شاخ جبکہ ہال Hall کا مطلب کسی وسیع و پرسکون احاطے میں بنے گھر کے ہیں۔ یوں برن ہال سے مراد ’فیض کا چشمہ‘ ہے جس کا مقصد و نصب العین بھی اِسی سوچ کا مظہر ہے اُور یہی انسان کو ’اشرف المخلوقات‘ کے مقصد سے قریب کرتا ہے جہاں اِنسان امتیازات و تعصبات سے بالاتر ہو کر انسانیت کو بلندیوں سے روشناس کرانے میں خدا کا فضل مقصود رہے۔ قیام پاکستان کے بعد برن ہال کے بانی جو پہلے ”سینٹ جوزف مشنری سوسائٹی مل ہل“ کے نام تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھ چکے تھے اُنہوں نے ادارے کا نام ’سینئر کیمبرج سکول‘ اُور بعدازاں ’برن ہال‘ رکھا لیکن چونکہ پاکستان آنے کے بعد اُنہوں نے حکومت سے زمین اجارے (لیز) پر حاصل کی تھی جس کا اجارہ ختم ہونے کے بعد 1977ءمیں ’برن ہال‘ کا تعلیمی بندوبست اُور جملہ وسائل (ترقی یافتہ شکل میں) ایجوکیشن کور کے تحت ’آرمی برن ہال‘ کا حصہ (اثاثہ) بن گئے اُور یوں برن ہال کے ایک نئے سفر کا آغاز ہوا‘ جو کامیاب کاروباری حکمت ِعملی کے ساتھ جاری ہے اُور صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ جنوب ایشیا میں اشرافیہ کے لئے مخصوص تعلیمی اداروں میں ’برن ہال‘ کا نام معروف ہے۔ حکومت ِپاکستان نے ’آرمی برن ہال‘ کی خدمات کے اعتراف میں یادگاری ٹکٹ بھی جاری کر رکھا ہے۔ ’مارچ 2018ئ‘ میں جاری ہونے والے اِس ڈاک ٹکٹ پر برن ہال کالجر برائے طلبہ شاخ کی عمارت اُور ادارے کا نصب العین (Moto) شائع کیا گیا جس پر لاطینی زبان کا جملہ ’Quo non ascendam‘ درج ہے جس کا مطلب ہے کہ ”وہ کونسی بلندی ہے جسے حاصل نہیں کیا جا سکتا؟“ یقینا جب انسان پرعزم ہو جائے اُور اُسے رہنما و رہنمائی میسر آئیں تو وہ کونسی بلندی ہے جسے یہ حاصل نہیں کر سکتا! بقول علامہ اقبالؒ ”زد بانگ کہ شاہینم و کارم بہ زمیں چیست .... صحرا است کہ دریاست تہ بال و پر ماست (ترجمہ: شاہین نے بلندی سے آواز دی کہ میرا زمیں پر کیا کام .... صحرا ہو یا دریا میں سب سے بلند ہوں۔)

قیام پاکستان سے قبل ’برن ہال‘ کا نصب العین لاطینی زبان و ادب سے لیا گیا اُور سکول کی نئی انتظامیہ کے چالیس سال بعد بھی یہی لاطینی نصب العین مقرر ہے حالانکہ برن ہال میں لاطینی زبان نہیں پڑھائی جاتی اُور نہ ہی یہاں وفاقی امتحانی بورڈ اُور برطانوی تعلیمی ادارے ’آکسفورڈ یونیورسٹی پریس‘ کی شائع کردہ نصابی کتب میں شامل زبانوں کے علاؤہ دیگر خارجی زبانوں کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ایبٹ آباد میں خیبرپختونخوا کا تعلیمی امتحانی بورڈ موجود ہے لیکن برن ہال کا الحاق وفاقی امتحانی بورڈ سے ہے‘ جسے ایبٹ آباد اُور خیبرپختونخوا کے تعلیمی بندوبست کا پابند کرنے کے لئے صوبائی فیصلہ سازوں کو ’ایجوکیشن کور‘ سے بات کرنی چاہئے کیونکہ طلاب کی اکثریت کو وفاقی بورڈ سے اسناد کی تصدیق‘ حصول اُور ثانوی امتحانات یا دیگر معاملات میں رجوع کرنے کے لئے پریشانی کا سامنا رہتا ہے۔ جب مقامی طور پر امتحانی بورڈ موجود ہے تو اِس کی سہولت سے اُن عمومی طلاب کا فائدہ اُٹھانے کا موقع کیوں فراہم نہیں ہونا چاہئے جو آمدورفت کے اضافی اخراجات برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے؟ یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ تعلیم کو کم خرچ بالا نشیں بنانے کے لئے سوچ بچار اُور بات چیت کیوں نہیں ہونی چاہئے؟ 

برن ہال حال کے زیراہتمام حال ہی محدود سطح پر چینی زبان کی کلاسیز شروع کی گئیں لیکن اُن کے معمولات بھی اِس طرح رکھے گئے ہیں کہ یہ بوائز اُور گرلز الگ الگ شاخوں میں یکساں نہیں اُور جہاں چینی زبان سیکھنے کی سہولت ہے تو وہ بھی اِس قدر سطحی ہے کہ اِن پر بنیادی تدریسی سرگرمیاں (نصابی دورانیہ) حاوی ہے۔ فیصلہ ساز متوجہ ہوں کہ دنیا کے ’گلوبل ویلیج‘ بننے اُور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں خارجی زبانوں کی اہمیت روائتی اسلوب سے بڑھ گئی ہے اُور اِس سلسلے میں مغربی یا افریقیائی ترقی یافتہ ممالک کے تصورات ِتعلیم کو دیکھنا چاہئے جہاں بچوں کو تعلیم کے ابتدائی برس میں قومی زبان کے علاؤہ کم سے کم تین دیگر زبانیں پڑھائی جاتی ہیں اُور تعلیمی اداروں (سکول‘ کالج یا جامعات) کو اِن کی چاردیواری تک محدود نہیں سمجھا جاتا بلکہ خارجی زبانیں سیکھنے والوں کو سالانہ تعطیلات کے دوران اُن ممالک کے سہ ماہی دورے کروائے جاتے ہیں جن زبانوں میں طلاب نے مہارت حاصل کی ہوتی ہے تاکہ وہ اُن زبانوں سے جڑی ثقافت‘ رہن سہن اُور معاشرتی بودوباش کو قریب سے مشاہدہ (محسوس) کر سکیں اُور اِس طرح حاصل ہونے والے شعوری علم سے نہ صرف عالمی دوستوں میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ طلاب اپنے تعلیمی اُور پیشہ ورانہ مستقبل کا تعین کرنے میں بھی سوچ کی محدودیت (خول) سے باہر جھانک کر دیکھنے کے صلاحیت حاصل کر لیتے ہیں۔

بنیادی بات یہ ہے کہ بچوں کو اُس کنویں سے باہر نکالا جائے جس کے باہر تعلیمی اداروں کے ناموں کے بورڈ نصب ہیں۔ تعلیم کے حقیقی مقاصد اُور درپیش عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے جس قسم کی سرمایہ کاری درکار ہے اُس کے بیشتر حصے کا تعلق سوچ بچار (فیصلہ سازی) سے ہے۔ توجہ طلب ہے کہ درس و تدریس کو روایت سے ایک درجہ بلند کرنے کے لئے تجربات صرف ترقی یافتہ یعنی مالی وسائل رکھنے والے ممالک ہی میں نہیں ہو رہے بلکہ سری لنکا جیسے ترقی پذیر اُور پاکستان سے زیادہ پسماندہ ملک میں بھی تعلیم اُور نوجوانوں میں سرمایہ کاری پاکستان کے مقابلے کہیں گنا بہتر بلکہ بہترین دکھائی دیتی ہے۔

برائے طالبات‘ آرمی برن ہال (سکول و) کالج میں ”یوم والدین“ کی پروقار تقریب کے موقع پر ’پاکستان ملٹری اکیڈمی (کاکول)‘ کے کمانڈنٹ میجر جنرل عمر بخاری مہمان خصوصی تھے جنہوں نے پرنسپل بریگیڈئر ڈاکٹر نوید کے ہمراہ اساتذہ اُور طلبہ کو حالیہ میٹرک اُور انٹرمیڈیٹ درجات کے بورڈ امتحانات میں ’سو فیصدی نتائج‘ پر مبارکباد دی۔ ذہن نشین رہے کہ برن ہال کی 57 طالبات نے ’اے پلس گریڈ‘ جبکہ 32 طالبات1000 سے زیادہ نمبر حاصل کئے ہیں۔ یوم والدین کے موقع پر سکول و کالج میں زیرتعلیم طلبہ کے تمام والدین کو مدعو نہیں کیا گیا جبکہ مساوی فیسیں اُور واجبات (تعلیمی اخراجات) ادا کرنے والے والدین بھی اِس عزت افزائی کے مستحق تھے۔ برن ہال انتظامیہ اگر تعلیم کے ذریعے‘ اب بھی‘ امتیازات اُور تعصبات ختم کرنے کا عزم رکھتی ہے تو ’یوم والدین‘ اُور ’یوم ستائش‘ کا الگ الگ اہتمام کرنا ہوگا۔

 ’یوم والدین‘ ایک ایسا حق ہے جس کے ذریعے سال میں صرف ایک مرتبہ والدین کی اساتذہ اُور سکول انتظامیہ سے براہ راست سال ملاقات ممکن ہوتی ہے اُور اِس موقع پر نہ صرف بچوں کی ایک سالہ کارکردگی پر تبادلہ خیال کیا جا سکتا ہے بلکہ ایک ہی درجے میں زیرتعلیم بچوں کے والدین کو ایک دوسرے سے ملنے اُور بچوں کے سکول میں روئیوں و کارکردگی کے بارے میں جاننے کا موقع ملتا ہے اُور جن تقاریب کے اخراجات والدین سے وصول کئے جاتے ہیں لیکن اگر والدین اُن میں شریک نہیں تو یہ خوش ذائقہ پکوان نہیں۔ ”اے اہل نظر‘ ذوق ِنظر خوب ہے لیکن .... جو شے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ ہنر کیا (علامہ اقبالؒ)۔“

.... 

Clipping from Daily Aaj Peshawar / Abbottabad dated Nov 16, 2021




Friday, September 7, 2018

Sept 2018: Fee increase by ABHC!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
برن ہال: والدین کی تشویش!
قیام پاکستان (1947ء) کے بعد جہاں مسلمانوں نے ’مذہبی سیاسی سماجی اُور ثقافتی آزادی‘ کے لئے سفر (ہجرت) اختیار کیا وہیں غیرمسلموں کی ایک تعداد نے بھی ’اسلامی جمہوریہ‘ کو اپنے ’جان و مال اُور مذہبی حقوق و آزادی‘ لئے زیادہ محفوظ سمجھا۔ اِسلام کے پیروکاروں پر بھروسہ کرنے والے ایسے غیرمسلموں میں ’عیسائی مذہب‘ کے پیروکار بھی شامل تھے‘ جن کے ایک گروہ میں درس و تدریس کے ماہرین نے کشمیر (سرینگر) میں قائم تعلیمی ادارے ’برن ہال‘ کو پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبے (حال خیبرپختونخوا) کے ضلع ’ایبٹ آباد‘ منتقل کیا اُور ایسا کرنے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ برطانوی دور میں ’ایبٹ آباد‘ کی تعمیروترقی اور اِس وادی کو چھاؤنی کے علاؤہ باسہولت شہری علاقہ بنانے میں ’جنرل سر جیمز اِیبٹ (پیدائش 12 مارچ 1807ء: وفات 6 اکتوبر 1896ء)‘ نے خاص دلچسپی لی تھی‘ جس کی وجہ سے نہ صرف اِس شہر کا نام آج تک اُن سے منسوب ہے بلکہ انتظامی و شہری ترقی سے متعلق اُن کی مہارت کے چرچے برصغیر کے طول و عرض میں عام تھے۔ یہی وجہ رہی کہ مسیحی ماہرین تعلیم جن میں زندگی اِنسانی خدمت کے لئے وقف کرنے والی عبادت گزار (مشنری) خواتین بھی شامل تھیں‘ نے ایبٹ آباد کا اِنتخاب کیا اُور یہاں آ کر حکومت سے ’اِجارے (لیز)‘ پر زمین حاصل کی اُور ’برن ہال‘ کے نام سے اِدارہ قائم کیا‘ جس کی آج 2 شاخیں قدیمی ۔شاخ (برائے طالبات) اور نئی شاخ (برائے طلباء) فوج کے ’ایجوکیشن کور‘ کی زیرنگرانی فعال ہیں 

قیام پاکستان کے وقت جان و مال سے قربانیاں دینے والے ’عیسائی مشنریوں‘ کی خدمات کو خراج تحسین اور تاحیات زندہ رکھنے کی بجائے ’برن ہال‘ نامی تعلیمی اداروں کو اجارے (لیز) کی مدت مکمل ہونے کے بعد ضبط کر لیا گیا۔ وہ مسیحی جو جنت نظیر کشمیر کو چھوڑ کر ’ایبٹ آباد‘ ’’سکون‘ اَمن اُور اپنائیت‘‘ کی تلاش میں آئے تھے‘ تاکہ خواندگی کے ذریعے ’’پاکستان کی خدمت‘‘ کر سکیں لیکن اُن کی نسلوں کو سال 1977ء میں بیدخل کر دیا گیا۔ لمحۂ فکریہ ہے کہ ’’1948ء سے سال 1977ء‘‘ تک کا عرصہ ایک ایسا ’سنہرا دور‘ تھا کہ پورے پاکستان سے بچوں کو اِس ’بورڈنگ سکول‘ میں بھیجا جاتا تھا۔ ’انگلش پبلک سکول لائنز‘ سے ’برن ہال‘ تک کے سفر میں ’مسیحی مشنریوں‘ نے پاکستان سے محبت اور خلوص کی ایسی ’’عملی مثالیں‘‘ پیش کیں جن پر جس قدر بھی فخر کیا جائے کم ہے۔

برطانیہ کے کیتھولک چرچ کا ذیلی فلاحی ادارہ ’سینٹ جوزف سوسائٹی فار فارن مشنز (Saint Joseph's Society for Foregin Missions)‘ جسے عرف عام میں ’مل ہل مشنیریز (Mill Hill Missionaries)‘ یا ’مل ہال فادرز (Mill Hill Fathers)‘ بھی کہا جاتا ہے آج سے قریب 152 سال قبل (1866ء) میں قائم ہوا‘ اُور اِس کی خدمات دنیا کے ’4 براعظموں‘ میں پھیلی ہوئی ہیں‘ جن میں ایشیائی ممالک (کمبوڈیا‘ چین‘ بھارت اُور پاکستان) بھی شامل ہیں لیکن افسوس جس نقشے پر کبھی ’ایبٹ آباد‘ لکھا (mark) ہوتا تھا اب نہیں رہا۔ مسیحی مشنری اقلیت ہونے کی وجہ سے خود کو اِس قدر ’بے بس‘ اور سیاسی طور پر اِس قدر ’بے یارومددگار‘ پایا کہ اُن سے برن ہال چھین لیا گیا لیکن وہ خاموش رہے اور ہنستے مسکراتے رخصت ہو گئے!

’برن ہال‘ کے نام سے تعلیمی اِداروں کی ’ماہانہ ٹیوشن فیسوں‘ میں ’25فیصد‘ غیرمعمولی اضافہ ’بنیادی خبر‘ ہے جس کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ یہ اضافہ صرف جاری مہینے کے لئے نہیں بلکہ گذشتہ دو ماہ (ماہ جولائی و اگست) کے لئے کیا گیا ہے اُور سکول کی ماہانہ فیسوں کے ساتھ گذشتہ دو ماہ کی فیسیں بطور ’بقایاجات‘ کی مد میں اِدا کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے‘ جس پر ’والدین کی جانب سے تشویش‘ منطقی امر ہے۔ یاد رہے کہ برن ہال سکولوں کے نگران (چیئرمین) کورکمانڈر راولپنڈی (ٹینکور) لیفٹیننٹ جنرل بلال اکبر (ہلال امتیاز ملٹری) جبکہ معاون نگران (ڈپٹی چیئرمین) میجر جنرل اختر نواز ستی کمانڈنٹ ’پاکستان ملٹری اکیڈمی (کاکول) ہیں اُور فیسوں میں حالیہ ’’25فیصد‘‘ اِضافے (ردوبدل) کی منظوری جس ’’نگران فیصلہ سازوں کے بورڈ‘‘ نے دی ہے‘ جس کی سربراہی مذکورہ 2 اہم عہدوں پر فائز جرنیلوں نے دی ہے۔ ایک سے زیادہ فوجی اِعزازات رکھنے والے اِن نفوس عالیہ کی پاکستان اور پاکستانیوں سے محبت شک و شبے سے بالاتر ہونے کے ساتھ‘ مشروط بھی نہیں کہ وہ اُور اُن کے اہل خانہ چونکہ دفاعی مد سے تنخواہیں اور مراعات پاتے ہیں‘ اِس لئے مجبوراً پاکستان کے وفادار ہیں لیکن اُن کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں اور ماضی (خدمات) اِس بات کا بین ثبوت ہے کہ وہ پاکستانیوں کے بارے میں بھی سوچتے ہیں اور فوج کو منافع بخش اِدارے کے طور پر نہیں بلکہ ’حفاظت و خدمت‘ جیسی ضروریات و تقاضوں کے تحت ’اِستوار‘ رکھنے پر یقین رکھتے ہیں۔

دردمندی سے غور (نظرثانی) کی ضرورت ہے کہ ۔۔۔
1: برن ہال کے نام سے تعلیمی اِداروں کی ماہانہ فیسوں میں ’25فیصد‘ (حالیہ) اضافے سے ’پہلی کلاس‘ کے فی طالب علم کی اوسط ’ماہانہ فیس 10 ہزار روپے‘ سے تجاوز کر گئی ہے‘ جس سے بڑی کلاسیز کے زیرتعلیم بچوں کی شرح فیس میں اضافے کا بلند تناسب حیران کن ہے۔ کسی پبلک سکول (سرکاری اَراضی پر قائم) سکول کی شرح فیس نجی اِداروں سے بھی بڑھ جائے تو اِس پر تشویش کا اِظہار‘ والدین کا حق ہے۔

2: برن ہال سکولوں میں فوجی ملازمین اور سویلینز سے تعلق رکھنے والے بچوں سے یکساں درس وتدریسی سہولیات کے عوض الگ الگ شرح سے فیسیں وصول کی جاتی ہیں جبکہ سویلین ذہین ترین اور جسمانی طور پر ’توانا‘ بچوں کو چن چن کر داخلہ دیا جاتا ہے جبکہ فوج سے وابستہ ملازمین کے لئے ہر قدم پر رعایت (گنجائش) موجود ہے۔ صرف ماہانہ فیسیں ہی نہیں دیگر اخراجات بھی قابل غور ہیں‘ جنہیں مستقل بنیادوں پر ’’ماہانہ فیس بل‘‘ کا حصہ بنا دیا گیا بلکہ سکول انتظامیہ کے ’اِمتیازی رویئے‘ پر بھی تشویش کا اظہار والدین کا حق ہے۔ اگر سب پاکستانی ہونے کے ناطے ’مساوی حقوق‘ رکھتے ہیں تو یہ ’ہتک آمیز‘ اِمتیازی سلوک کیوں؟

وزیراعظم عمران خان‘ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ (بوساطت انٹرسروسیز پبلک ریلیشنز) سے مؤدبانہ درخواست (اِستدعا) ہے کہ برن ہال کی فیسوں‘ معیار تعلیم اُور امتیازی روئیوں کا نوٹس لیں اُور اِس ’اخلاقی پہلو‘ پر بھی غور کریں کہ ’برن ہال‘ کی امانت اُس کے اصل وارث (کتھولک چرچ) کو واپس دے دینی چاہئے۔

Monday, March 19, 2018

Mar 2018: Ignored factors about education

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
خود فریبی: جبر کی حقیقت!
’اِستحصال کروٹ کروٹ‘ بھی ہو سکتا ہے اُور ’لمحہ لمحہ‘ بھی۔ ’معلوم حقائق‘ سے ’حقیقت حال کی تہہ تک پہنچنا‘ اُور ’عمومی روئیوں‘ میں ’اِظہار و سلوک‘ کی خوبیاں (گوہر) تلاش کرنے کی شعوری (دانستہ) کوششوں کے بغیر ’’تبدیلی ممکن نہیں ہوتی۔‘‘ خیبرپختونخوا میں سماجی اِنصاف کی فراہمی کا وعدہ کرنے والوں (پاکستان تحریک انصاف) کی توجہ چاہئے کیونکہ جہاں ہر مرحلے‘ سوچ‘ زوایۂ نگاہ اور ہر ایک صاحب نظر و اِختیار پر ’اِنکارِ‘ طاری ہو‘ وہاں (باوجود خواہش و غیرمتعلقہ شعبوں میں کوششوں) صنفی‘ جنسی اُور مالی اِمتیازات کو تقویت دینے سے ’’انسانی حقوق کی بلاامتیاز ادائیگی‘‘ ممکن نہیں رہتی۔ ’انقلاب‘ سطحی یا غیرسطحی منصوبہ سازی کا نہیں بلکہ عوامی مفادات کے خلاف متحرک منصوبوں پر حاوی ہونے کا نام ہوتا ہے۔ افسوس کہ جس دیس میں ’بے اصولی‘ اصول بن جائے وہاں اِس زراعت سے حاصل شجر چاہے کتنے ہی سایہ دار دکھائی دیں لیکن اُن کا پھل (حاصل و نتیجہ) کڑوا رہتا ہے۔ توجہات کی نذر ہے کہ کسی ملک‘ صوبے‘ علاقے یا اِدارے کا نظام ’’کفریہ عقائد‘‘ پر یقین سے تو چل سکتا ہے لیکن ظلم سے نہیں! خوداحتسابی کی گھڑی سوچنے‘ سمجھنے اُور دوسروں کو دعوت فکر دینے (شریک کرنے) کی ہے کہ ۔۔۔ کہیں ہم اپنے قول و فعل میں ظالم (اپنی اپنی اختیاراتی مملکت کے فرعون) تو نہیں؟

سب جانتے ہیں اُور (جیسے) کوئی نہیں جانتا۔ خیبرپختونخوا کے بالائی (پہاڑی) علاقوں میں موسم سرما کی تعطیلات کے بعد ’نئے تعلیمی سال (دوہزاراٹھارہ)‘ کا آغاز ہو چکا ہے اور اِس موقع پر والدین اور طلباء و طالبات کو درپیش ’تین پریشانیاں‘ بالخصوص توجہ طلب ہیں۔ 

داخلہ فارم کی قیمت سے لیکر داخلہ فیسوں کی شرح اور دیگر مدوں میں بھاری وصولیاں کرنے والے اداروں کے منہ کو خون لگ گیا ہے جو معیاری تعلیم کے خواہشمند والدین کی مجبوری کا ’ناجائز‘ فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ لالچ و حرص کے تابعداروں کو روکنے کے لئے عوام کے منتخب نمائندے اور اِن نمائندوں پر مشتمل مرکزی صوبائی یا ضلعی حکومتیں بشمول ضلعی انتظامیہ‘ ایک سے زیادہ نگران حکومتی محکموں کا دُور دُور تک نام و نشان دکھائی نہیں دیتا۔ تعلیم کی اہمیت پر انگریزی زبان میں گھنٹوں لیکچر دینے والوں کو اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہئے کہ انہوں نے بذریعۂ تعلیم ’’سماجی و قومی ترقی کے وسیع و بلیغ نظریئے (تصور)‘‘ کو کس حد تک محدود کر دیا ہے اور تعلیم کو ایک ایسے ’’خالص کاروبار‘‘ میں ڈھال دیا ہے‘ جہاں ’علم و دانش‘ کی اہمیت فقط اسناد (ڈگریوں) کی محتاج اور ملازمت کے حصول سے زیادہ معنی نہیں رکھتی۔ ’المیہ در المیہ‘ یہ بھی ہے کہ نجی اِداروں کی دیکھا دیکھی ’پاک فوج کی ذیلی شاخ ’اِیجوکیشن کور‘ جیسے معزز‘ مستند اور معتبر ریاستی اِدارے کی زیرنگرانی ’سکولز و کالجز‘ بھی ’منافع خوری‘ کی دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں! اگر معاشرے کو امتیازات کی بنیاد پر تقسیم نہیں کرنا تو سکول داخلے سے لیکر ماہانہ ٹیوشن فیسوں کی شرح تک ہر پاکستانی سے یکساں وصولیاں ہونی چاہیئں۔

کیا قومی سطح پر ’نجی یا سرکاری اِدارے‘ فوجی بہن بھائیوں سے اِمتیازی سلوک روا رکھتے ہیں؟ جس کا جواب دیتے ہوئے (شکوہ جواب شکوہ کے طور پر) پاک فوج کے انتظامی وسائل سے چلنے والے سکولوں اور علاج گاہوں میں ’سویلینز (civilians)‘ سے (ایک جیسی خدمات (سروسیز) کی) دوگنا سے بھی زیادہ قیمتیں وصول کی جاتی ہیں؟ 
’سویلین نان انٹائٹل (CNE)‘ کیوں ہیں؟ 
کیا عوام عدالت عالیہ سے رجوع کرے؟

چیف جسٹس آف پاکستان کو اِس بات کا بھی نوٹس لینا چاہئے؟ کیا ’یونیفارم‘ پہنے ’فیصلہ سازوں‘ کو زیب دیتا ہے کہ اُن کا بوجھ اُٹھانے (ٹیکس اَدا کرنے) والے عام آدمی (ہم عوام) کو یوں حقارت کی نظر سے دیکھیں؟ اطلاع کے لئے عرض ہے کہ عوام کے ٹیکسوں سے فراہم کردہ مالی وسائل ہی سے دفاع کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ باسہولت چھاؤنیوں کی خوبصورتی سے لیکر باادب گھریلو ملازمین کی قطاریں‘ ملٹری ڈیری فارم کے دودھ‘ دہی اور مکھن کی چکناہٹ اُور وردی پر سجے چاند ستاروں (اعزازات) کی چمک دمک کا راز ’صرف اُور صرف‘ یہ ہے کہ عام آدمی (ہم عوام) اپنی مالی حیثیت سے بڑھ کر ٹیکس اَدا کر رہے ہیں! ہم ایک ایسے معاشرے (پاکستان) کی تشکیل کر رہے ہیں جہاں معیاری تعلیم‘ صحت و معاشرتی مقام صرف اُنہی طبقات کا حق سمجھا جا رہا ہے‘ جن کے پاس ’مالی وسائل‘ کی فراوانی ہے‘ جو مذکورہ بنیادی حقوق (صحت و تعلیم) ’خریدنے‘ اور کسی بھی شے کی منہ مانگی قیمت ادا کرنے کی مالی سکت رکھتے ہیں؟ تو کیا کسی ایسے معاشرے میں حلال و حرام کی تمیز باقی رہے گی؟

تعلیمی اصلاحات کرنے والے بڑی بڑی باتیں تو کرتے ہیں لیکن وہ آج تک سکول کے بستے (بیگ) کا وزن کم نہیں کرسکے جو ہر سال بڑھتا چلا جا رہا ہے اور سچ تو یہ ہے کہ بچوں کے وزن اٹھانے کی سکت اور والدین کا صبر جواب دے رہا ہے! اِسی طرح فی کلاس روم (زیادہ سے زیادہ) بچوں کی تعداد کے حوالے سے کیا قواعد موجود ہیں اگر ہیں تو اُن پر کس حد تک عمل درآمد ہو رہا ہے۔ تمام تعلیمی اداروں میں دن کے آغاز اور اختتام (حاضری اور اخراج) کے اوقات ایک ہی جیسے مقرر کرنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی ٹریفک مشکلات باآسانی حل کی جاسکتی ہیں۔ تعلیمی اداروں کو آمدورفت کے لئے زیراستعمال نجی ٹرانسپورٹ وسائل کی گرانی‘ ٹرانسپورٹرز کی من مانیاں‘ اخلاقی مسائل الگ سے توجہ طلب ہیں کہ ماہانہ لاکھوں روپے منافع کمانے والے اداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ ’’سکول ٹرانسپورٹ‘‘ کا بندوبست کریں۔ اگر انتظامیہ کی زیرنگرانی سکولوں کی حدود میں کتابوں کی دکانیں (سٹیشنری شاپ) اور کنٹین جیسے منافع بخش شعبوں کا اضافہ ہو سکتا ہے تو طلباء و طالبات کو لانا لیجانا بھی نیم سرکاری و نجی سکولوں کی ذمہ داری قرار دی جا سکتی ہے۔ وقت کے فریب سے بچنے کی ضرورت ہے۔ ’’تعلیمی عمل‘‘ جامع اِصطلاح ہے‘ جس میں طلباء و طالبات کی جسمانی مشقت کم سے کم کرنے‘ انہیں باعزت اُور باوقار سہولیات کی فراہمی کے لئے اِنتظامی فیصلہ سازوں کو دردمندی (خوداِحتسابی کے نظریئے) سے سوچنا چاہئے کہ اگر حکومت اُور حکومتی اِدارے ’ریاستی عمل داری‘ نافذ کرنے میں عملاً کمزور (ناکام) ہیں تو وہ اپنے ضمیر اور اُس یوم الحساب (عدالت کو) کیا جواب دیں گے‘ جب استحصال کرنے کے بارے میں کوئی بھی حیل و حجت کام نہیں آئے گی۔

احمد ندیم قاسمی نے ’لذت آگہی‘ کے عنوان سے لکھا تھا
’’یہی علم ہے ۔۔۔ یہی علم میرا سرور ہے ۔۔۔ یہ علم میرا عذاب ہے!‘‘
۔
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=abbotabad&page=20&date=2018-03-19

Wednesday, September 13, 2017

Sept2017: Declamation Contest at Army Burn Hall College for Boys in the contest of governance!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین امام
۔۔۔ آؤ سچ بولیں!
پاکستان کی خارجہ و داخلہ پالیسی کے خدوخال مرتب کرنے والوں کے لئے نوجوان نسل کی سوچ رہنما اصول فراہم کر سکتی ہے‘ جن کی نظر میں ’’کشمیر مسئلہ نہیں بلکہ ایک مقصد ہے۔‘‘ ایبٹ آباد کے ’برن ہال کالج برائے طلباء‘ کے زیراہتمام ’اکیسویں کل پاکستان‘ بین الکلیاتی تقریری مقابلوں‘‘ کے اِنعقاد میں ’وطن کی محبت اُور شناخت‘ کے نظریاتی حوالوں پر جس تفصیل سے روشنی ڈالی گئی‘ اُس سے فکروعمل کو نئی جہتیں ملی ہیں۔ ’’اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے۔ اللہ کرے تجھ کو عطا جدت کردار۔ قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں اور کشمیر ایک مقصد ہے مسئلہ نہیں‘‘ جیسے موضوعات کو تفصیل سے بیان کیا۔ طلباء و طالبات نے ’’امن کو خواہش نہیں بلکہ عمل کی اساس بھی قرار دیا۔‘‘ انتظامیہ اگر اِن تقاریر کو کتابی شکل میں شائع (مجموعہ) کرے اور اِن کی ویڈیو ریکارڈنگز ’یو ٹیوب چینل‘ کے ذریعے مشتہر کرے تو اِس سے نہ صرف تقریر کے فن‘ جوش خطابت اور موضوعاتی تحقیق و بیان کی خوبیاں عام ہوں گی بلکہ فیصلہ سازوں کو بھی نئی نسل کی سوچ کے مطالعے اور رہنمائی حاصل کرنے میں مدد ملے گی کیونکہ یہ بات نہایت اہم ہے کہ آج کا نوجوان کیا سوچ رہا ہے اور اُس کے ذہن میں پاکستان کی ترقی کے اہداف کیا ہیں۔ ’’کھلا ہے جھوٹ کا بازار‘ آؤ سچ بولیں: نہ ہو بلا سے خریدار‘ آؤ سچ بولیں ۔۔۔ سکوت چھایا ہے انسانیت کی قدروں پر: یہی ہے موقع اِظہار‘ آؤ سچ بولیں (قتیل شفائی)۔‘‘

پاکستان کے معروف تعلیمی اِداروں میں شمار ہونے والے ’’برن ہال‘‘ کا قیام 1943ء میں سرینگر (کشمیر) میں ہوا۔ قیام پاکستان (1947ء) کے وقت عیسائی میشنری (رضاکاروں) نے ’ایبٹ آباد‘ کا انتخاب کرتے ہوئے ’برن ہال‘ ہی کے نام سے تعلیمی اِدارہ قائم کیا۔ 1956ء میں ’برن ہال‘ کی دوسری شاخ (مانسہرہ روڈ ایبٹ آباد) قائم کی گئی‘ جو ’سینئر سیکشن‘ کہلائی۔ 1977ء میں اِن تعلیمی اداروں کے جملہ انتظامی و تدریسی امور ’پاک فوج‘ کے سپرد کر دیئے گئے اور اُس موقع پر ’برن ہال‘ کے ’سینئر سیکشن‘ کا نام تبدیل کر کے ’آرمی برن ہال کالج فار بوائز‘ رکھا گیا۔ پاک فوج کے سربراہ بلحاظ عہدہ اِن تعلیمی اداروں کے ’پیٹرون انچیف‘ ہوتے ہیں جبکہ کالج کے معاملات پاک فوج کی ’10ویں کور (راولپنڈی)‘ کی زیرنگرانی ’بورڈ آف گورنرز‘ طے کرتا ہے۔ کورکمانڈر (10ویں کور) اِس کے چیئرمین اور پاکستان ملٹری اکیڈمی (کاکول) کے کمانڈنٹ کی تقرری بلحاظ عہدہ بطور ڈپٹی چیئرمین ہوتی ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ’آرمی برن ہال سکول و کالجز‘ برائے طلباء اور برائے طالبات (کی الگ الگ شاخیں) نہ صرف عصری تقاضوں سے ہم آہنگ‘ جدید تدریسی خوبیوں سے مزین ہیں بلکہ طلبہ کی کردارسازی اور اُن کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے‘ جس سے اُن کی شخصیت میں نظم و ضبط جیسا کلیدی عنصر شامل ہو جاتا ہے۔

پاک فوج کی ’اِیجوکیشن کور‘ بشمول ’برن ہال‘ پاکستان میں معیاری تعلیم و تربیت کی بہت بڑی کمی پوری کر رہی ہے اور یہ کسی بھی صورت معمولی خدمت نہیں بلکہ ایسی شعوری کوشش ہے جو نہایت ہی خاموشی اور تسلسل سے جاری ہے۔ عموماً دیکھنے میں آتا ہے کہ تعلیمی اِدارے ’ہم نصابی سرگرمیوں‘ کے لئے اپنے ہی ادارے کے طلباء و طالبات کا انتخاب کرتے ہیں لیکن ’آرمی برن ہال کالج برائے طلباء‘ (ایبٹ آباد) میں ’21ویں کل پاکستان سالانہ ’’بین الکلیاتی (اُردو انگریزی زبانوں میں) تقریری مقابلوں کے لئے ملک کے طول و عرض اور ایبٹ آباد کے مقامی سرکاری کالجز کے طلباء و طالبات کو بھی مدعو کیا گیا اور یوں نہ صرف اِن اداروں میں زیرتعلیم طلباء و طالبات کا ایک دوسرے سے تعارف ممکن ہوا بلکہ درس و تدریس کی ذمہ داریاں ادا کرنے والوں کو بھی تبادلہ خیال کا موقع ملا اُور سب سے بڑھ کر پاکستان کو درپیش داخلی و خارجی چیلنجز سے متعلق چنیدہ موضوعات پر اظہار خیال کی دعوت دے کر طلباء و طالبات کو گردوپیش میں رونما ہونے والے حالات و واقعات سے مربوط کر دیا گیا۔ رواں برس اکیسویں بین الکلیاتی تقریری مقابلوں میں ایبٹ آباد کے علاؤہ دیگر شہروں سے معروف تعلیمی اِداروں کی ’اکیس ٹیموں‘ نے حصہ لیا‘ جن میں پاکستان ائرفورس اکیڈمی رسالپور‘ پی ایم اے کاکول‘ یونیورسٹی آف پنجاب لاہور‘ ملٹری کالج آف سنگنلز‘ پاکستان میرین اکیڈمی کراچی‘ فوجی فاؤنڈیشن کالج فار بوائز روالپنڈی‘ کیڈٹ کالج حسن اَبدال‘ ملٹری کالج آف اِنجنیئرنگ‘ ملٹری کالج سوئی بلوچستان‘ پاکستان اِئرفورس کالج لوئر ٹوپہ‘ کرنل شیرخان کیڈٹ کالج صوابی اُور مقامی سرکاری کالجز شامل تھے۔

مقابلوں کے کئی مراحل طے کرنے کے بعد حتمی (فائنل) نشست بارہ ستمبر کے روز برن ہال کالج فار بوائز کے ’سکینلون ہال (Scanlon Hall)‘ میں منعقد ہوئی‘ جس کی فاتح ٹیم ’کیڈٹ کالج حسن ابدال‘ قرار پائی۔ پرنسپل بریگیڈئر واجد قیوم پراچہ (پی ایس سی‘ جی ایس سی) نے آئندہ برس طلباء و طالبات کے لئے الگ الگ ٹرافیز اور تقریری مقابلوں کے موقع پر ’محفل موسیقی‘ کے انعقاد کا بھی اعلان کیا تاکہ موسیقی کے ذریعے بھی طلباء و طالبات کی شخصیت میں چھپی صلاحیتوں کو اظہار اور ستائش کا موقع مل سکے۔ بریگیڈئر واجد نے ’’ہے جرم ضعیفی کی سزأ مرگ مفاجات‘‘ کے حوالے پاکستان کی دفاعی صلاحیت کی اہمیت جس منفرد انداز میں پیش کی‘ وہ ایک ایسا موضوع ہے جو الگ نشست اُور تفصیلاً غوروخوض کا متقاضی ہے۔ 

مجموعی طور پر ’برن ہال‘ کے زیراِہتمام ’تقریری مقابلوں‘ کے کامیاب اِنعقاد اِس ادارے کو چارچاند لگانے کی منفرد کوشش تھی لیکن اگر محترم جج صاحبان اپنی ذمہ داریاں اَدا کرنے میں الفاظ کی ادائیگی‘ درست انتخاب و تلفظ‘ موضوعاتی تحقیق اُور جامعیت کو بھی شمار کرتے تو یقیناًکامیابی ’ملٹری کالج سوئی بلوچستان‘ کے ہونہاروں کے حصے میں آتی! بہرکیف اُردو اُور اَنگریزی زبانوں کے سبھی مقرر ایک سے بڑھ کر ایک خطیب ثابت ہوئے‘ جن کی سبقت کے لئے معیار مقرر کرنا ممکن (آسان) نہیں۔ منتظمین کی طرح مقابلوں میں حصہ لینے والے تمام طلباء و طالبات اُور اُن کی رہنمائی کرنے والے اساتذہ دلی مبارکباد (داد) کے مستحق ہیں۔ اُمید ہے کہ حساس و مشکل موضوعات سے متعارف ہونے کے بعد طلباء و طالبات گردوپیش میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کو زیرمطالعہ رکھیں گے کیونکہ وہ جان چکے ہیں کہ صرف تعلیم حاصل کرکے اچھی ملازمت و خوشحال عملی زندگی ہی مقصد نہیں بلکہ اُنہوں نے ہر حیثیت میں پاکستان کی ’’خدمت کا حق اَدا کرنا ہے‘‘ اُور ’’وطن کو عظیم سے عظیم تر‘‘ بنانے کے لئے مواقعوں کی تلاش نہیں بلکہ ایک جوہری کی طرح تراش خراش کے ذریعے ’مواقع تخلیق کرنا ہیں۔‘




Saturday, February 4, 2017

Feb2017: Unrealistic Admission Charges!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام

رحم کیجئے رحم!


خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں بشمول ایبٹ آباد میں تعلیمی سال کا آغاز مارچ سے ماہ سرما کی تعطیلات تک مکمل ہونے کے ساتھ ہی نئے تعلیمی سال کے لئے طلباء و طالبات کے داخلوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے تاہم یہ عمل نہ تو شفاف ہے اور نہ ہی حسب حال۔ صوبائی اُور وفاقی حکومتوں کے زیرنگرانی کام کر رہے ادارے اپنی اپنی گنجائش کے مطابق طلباء و طالبات کی اہلیت کی جانچ کے لئے تحریری اِمتحان اُور اِنٹرویوز (داخلے کے خواہشمند بچے اور والدین سے بالمشافہ ملاقات) کا اہتمام کرتے ہیں لیکن درحقیقت اِس عمل کے ذریعے بچے کی ذہنیت‘ رجحانات اُور جسمانی صحت و تندرستی کے معیار کا تعین نہیں کیا جاتا بلکہ درپردہ والدین کی مالی حیثیت کے بارے رائے قائم کر کے فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کسی بچے کو داخلہ دیا جائے یا بناء کوئی جواز بتائے اُس کا نام داخل ہونے سے قبل ہی خارج کر دیا جائے۔ 

نجی تعلیمی ادارے ہر سال کروڑوں روپے نئے داخلوں کی مد میں کمانے کو ’’جائز (حلال)‘‘ سمجھتے ہیں تو ایسے ’سرکاری ونیم سرکاری پبلک سکول‘ بھی ہیں‘ جن کی اِنتظامیہ صوبائی یا وفاقی حکومتوں کی ملازم ہونے اور سرکاری عہدے‘ تنخواہیں‘ دوران و بعد ملازمت مراعات پانے کے باوجود ایسے فیصلے کرتی ہے‘ جس کا غالب مقصد ’مالی مفاد (منافع)‘ ہوتا ہے۔ اگر نجی تعلیمی ادارے والدین کی مجبوریوں سے فائدہ اُٹھائیں تو شعبۂ تعلیم میں ’سرمایہ کاری‘ کرنے والوں کی ’خالص کاروباری‘ ذہنیت کی نشاندہی ہوتی ہے لیکن اگر یہی طرزعمل وفاق کے زیرانتظام کسی ’پبلک (سرکاری) سکول‘ کا بھی ہو تو اِس سے کئی مطالب اَخذ کئے جا سکتے ہیں جیسا کہ 1: ’بھاری داخلہ فیسیں‘ اَدا کرنے کی سکت نہ رکھنے والوں کے بچوں کو معیاری پبلک سکولوں میں داخلہ حاصل کرنے کا حق نہیں‘ چاہے وہ کتنے ہی ذہین کیوں نہ ہوں! 2: کم و بیش پچاس ہزار روپے یکمشت ’داخلہ فیس‘ بشمول دیگر وصولیاں سات یوم کے اندر اندر کرنے کی مہلت ورنہ داخلہ منسوخ کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے والدین کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ جہاں سے چاہیں پیسے لائیں کیونکہ ’’پیسہ ہی داخلہ ملنے کی شرط ہے!‘‘

کسی نیم سرکاری معززومعروف پبلک سکول کے اِس قسم کے رویئے سے گردوپیش کے ’نجی تعلیمی اِدارے‘ کیا سبق حاصل کریں گے؟ پبلک سکول میں چار سالہ بچے کے ’پریپ کلاس‘ میں داخلہ جوئے شیر لانے سے کم مشکل نہیں جس کے لئے درجن بھر سفارش کے بعد والدین کے لئے اگلی مشکل عزیزواقارب کے سامنے ہاتھ پھیلانا رہ گیا ہے کہ وہ سات روز کے اندر کل 42 ہزار 873 جمع کرائیں‘ کیا یہ مطالبہ اُور مہلت ’مبنی بر انصاف‘ ہے؟ 

داخلہ فیس 5ہزار 500روپے۔ بلڈنگ فنڈ 5 ہزار 500 روپے۔ بلڈنگ کی دیکھ بھال کا فنڈ 5ہزار 500روپے۔ سکول کی سرگرمیوں کا احوال بصورت اشاعت (میگزین) 500 روپے۔ سکول کے حفاظتی انتظامات 8 ہزار روپے۔ ماہ جنوری اور ماہ فروری کی ایڈوانس ٹیوشن فیس 8 ہزار 454 روپے۔ ماہ مارچ اور ماہ اپریل کی ایڈوانس ٹیوشن فیس 9 ہزار 294 روپے جبکہ سال 2017ء کے کلینڈر کی قیمت 125 روپے مقرر کی گئی ہے! والدین کے پاس یہ ’آپشن‘ نہیں کہ وہ خود سے مقررہ فیسوں کے بارے سوال (نکتۂ اعتراض) اُٹھا سکیں! عام آدمی کے لئے اگر صحت و تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری نہیں تو پھر کس کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے؟ 

خیبرپختونخوا میں فعال ہر ایک تعلیمی اِدارہ صوبائی حکومت کی حدود و انتظام اور احکامات کا پابند ہونا چاہئے اور صوبائی حکومت ہی کا فرض ہے کہ سالانہ داخلوں کی مد میں سرکاری‘ نیم سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے لئے نہ صرف فیسوں کی زیادہ سے زیادہ حد مقرر کرے بلکہ سالانہ داخلہ فیسوں اور اِدھر اُدھر کی مدوں میں ’’اندھا دھند وصولیوں‘‘ کا بھی نوٹس لے جو سراسر ناجائز اور ظالمانہ ہیں! ایک والد کی ذہن کو جنجھوڑتے اِس جملے کے درد کو محسوس کیجئے کہ ’’’’رحم کیجئے رحم جناب‘ متوسط طبقات سے تعلق رکھنے والے بھی پاکستانی ہیں۔‘‘ 

لب لباب یہ ہے کہ سرکاری تعلیمی اِداروں کا معیار تعلیم اگر بہتر (تسلی بخش) ہوتا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ والدین نیم سرکاری یا نجی تعلیمی اداروں کا رُخ کرتے! فیصلہ سازوں کی نااہلی اور ذاتی مفادات کی اسیری کی قیمت عام آدمی (ہم عوام) کو چکانا پڑ رہی ہے! مقام تفکر ہے کہ سرکاری سکولوں کا نظام (قبلہ) صرف ’بیانات و ارشادات‘ سے کیسے درست ہو گا جبکہ اُن کے بارے فیصلہ سازی کے منصب پر فائز سیاسی و غیرسیاسی شخصیات نہ تو خود سرکاری سکولوں سے فارغ التحصیل ہیں اُور نہ ہی اُن کی اولادیں یا عزیز و رشتہ دار ہی پسند کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کے لئے سرکاری سکولوں سے استفادہ فرمائیں!؟ 

ایبٹ آباد کے معروف و مقبول سکول (جس کی بنیاد عیسائی پادریوں نے قیام پاکستان کے بعد بطور فلاحی سکول رکھی تھی) کی پریپ (جونیئر) کلاس میں بچے کو داخلہ دلوانے کے خواہشمند ایک ’عام پاکستانی‘ نے خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خان خٹک‘ وزیرتعلیم عاطف خان‘ بوساطت ’آئی ایس پی آر‘ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے اپیل کی ہے کہ ’آرمی برن ہال سکول اینڈ کالج فار بوائز‘ کے تعلیمی سال 2017ء‘ کے لئے مقررہ داخلہ و دیگر فیسوں کا نوٹس لیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ابھی بچے کو سکول میں داخلہ ملا بھی نہیں اُور اُس سے جنوری و فروری کے مہینوں کی فیسیں طلب کی جائیں؟ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ابھی تدریسی عمل شروع بھی نہیں ہوا‘ اور ہر بچہ دو ماہ کی ٹیوشن فیس پیشگی ادا کرے؟ کیا سکول کی انتظامیہ اساتذہ کی ماہانہ تنخواہیں اور دیگر اخراجات پیشگی ادا کرتی ہے؟ سیکورٹی کے نام پر کم وبیش تیس لاکھ روپے صرف پریپ کلاس کے بچوں سے وصول کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ داخلہ فیس پانچ ہزار پانچ سو کیوں جبکہ داخلہ فارم کی مد میں پہلے ہی ہزاروں روپے بذریعہ بینک اور فارم کی صورت وصول کئے جا چکے ہیں؟ سکول انتظامیہ کے دعوے کو کسوٹی مان کر یقین کر لیا جائے کہ قابلیت اُور جسمانی تندرستی کے ساتھ ذہین ترین بچوں کا ’پریپ کلاس‘ کے لئے انتخاب کر لیا گیا ہے تو پھر ذہانت ہی اہلیت (ترجیح) رہنی چاہئے تھی کہ مستقبل کے لئے ایسے ذہن تیار کئے جا سکیں‘ تطہیر کے روحانی و داخلی پیمانے پر بھی پورے اُترتے ہوں‘ جن کے دل و دماغ آلودگیوں سے پاک ہوں اُور اُن کی شریانوں میں ’رزق حلال‘ سے بنے خون کے قطرے گردش کر رہے ہوں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔