Showing posts with label Independent Monitoring Unit. Show all posts
Showing posts with label Independent Monitoring Unit. Show all posts

Thursday, January 4, 2018

Jan 2018: Pending work of KP education department

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
تبدیلی: پیش خیمہ محرکات!
پاکستان تحریک اِنصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت کی آئینی مدت (پانچ سال) مکمل ہونے میں گنتی کے چند مہینے ہی باقی ہیں۔ قریب پانچ سال کے عرصے میں ’بنیادی و ثانوی سرکاری تعلیمی اداروں‘ کی کارکردگی کا جائزہ لینے پر ایک ایسی ملی جلی صورتحال سامنے آتی ہے‘ جس کے مثبت و منفی پہلو ہم پلہ تو ہیں لیکن صوبائی حکمران باقی ماندہ (ادھورے) کام کے لئے بری الذمہ قرار نہیں دیئے جا سکتے! یہ بات درست ہے کہ پانچ سال کے دوران سرکاری سکولوں میں زیرتعلیم بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ یہ بھی درست ہے کہ خیبرپختونخوا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ غیرمعمولی تعداد میں بچوں کو نجی سکولوں سے سرکاری سکولوں میں داخل کرنے کا رجحان دیکھنے میں آیا۔ 

سرکاری سکولوں میں یونیفارم‘ نصابی کتب اور دیگر ضروریات کے علاؤہ بنیادی سہولیات کی فراہمی کا نظام بھی نسبتاً بہتر یا منظم ہوا‘ بلکہ اِن سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے لئے ماہانہ وظیفہ بھی مقرر کر دیا گیا‘ جو اگرچہ ماضی کی حکومت نے متعارف کیا تھا لیکن اِسے صوبے کے طول و عرض میں وسعت دی گئی۔ تجرباتی بنیادوں پر سرکاری سکولوں کے ٹرانسپورٹ کا بندوبست چند اضلاع تک محدود ہے اور اُمید ہے کہ آنے والے دور میں اِسے وسعت دی جائے گی لیکن برسرزمین تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ تعلیمی ایمرجنسی (ہنگامی حالات) کے نفاذ کے باوجود بھی آج کے خیبرپختونخوا میں ’پندرہ لاکھ‘ سے زائد بچے سرکاری یا نجی سکولوں سے استفادہ نہیں کر رہے۔ ایسے سرکاری سکول بھی ہیں جن کی چاردیواریاں نہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات جیسے پینے کا پانی اور بیت الخلاء سے محروم ہیں آخر کیوں!؟

نومبر دوہزار سترہ میں ’بنیادی و ثانوی (صوبائی) وزارت تعلیم‘ کے نگران ادارے ’انڈی پینڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ‘ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا کے ’سولہ فیصد‘ سرکاری سکولوں میں پینے کا پانی دستیاب نہیں۔ مزید پانچ فیصد سرکاری سکولوں میں بیت الخلاء نہیں۔ تیئس فیصد میں بجلی اور پانچ فیصد سرکاری سکولوں کی چاردیواریاں نہیں ہیں! 

صوبائی حکومت نے تعلیم کا معیار بہتر بنانے کے لئے چالیس ہزار اساتذہ ’اہلیت کی بنیاد پر بھرتی کئے‘ جس کی وجہ سے طلبہ کی تعداد کے تناسب سے فی معلم شرح چالیس ہو سکے۔ صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اُس نے 80ہزار اساتذہ کو انگریزی زبان اور انگریزی میں مضامین پڑھانے کی تربیت دی لیکن اِن سبھی اخراجات سے شعبۂ تعلیم کا کم اُور نجی اداروں سمیت پہلے سے مراعات یافتہ سرکاری ملازمین کو ذاتی طور پر نسبتاً زیادہ فائدہ ہوا۔ اساتذہ کی تنخواہیں بڑھا دی گئیں! جو کام اور معیار نجی تعلیمی ادارے نہایت ہی کم لاگت میں کر رہے ہیں‘ اُس کے لئے صوبائی خرانے سے اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی قریب پانچ سال بعد ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں سرکاری اِداروں کو نجی اداروں کے مقابلے بطور مثال پیش نہیں کیا جاسکتا۔ 

صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اِس نے سال دوہزار سترہ کے دوران ’بارہ ہزار اضافی کلاس رومز‘ تعمیر کئے اور سرکاری تعلیمی اداروں میں قرآن کریم کی ناظرہ تعلیم لازمی قرار دی لیکن کیا صوبائی حکومت کی ذمہ داری صرف اور صرف سرکاری سکولوں کی حد تک ہی محدود ہے اُور اِسے بنیادی و ثانوی نجی تعلیمی اداروں کے معاملات سے کوئی غرض نہیں رکھنی چاہئے!؟ 

المیہ نہیں تو کیا ہے کہ نجی تعلیمی ادارے والدین کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھانے کے لئے پہلے سے زیادہ منظم اور لوٹ مار میں مصروف ہیں۔ ماہانہ ٹیوشن فیسوں میں من چاہا اضافہ‘ پیشگی فیسیں‘ حیلوں بہانوں سے مختلف مدوں میں وصولیاں‘ ایک سے زیادہ زیرتعلیم بہن بھائیوں کی فیسوں میں رعائت سے انکار اُور نجی سکولوں سے وابستہ اساتذہ کا ’’استحصال‘‘ سب کچھ کھلے عام ہو رہا ہے‘ جو تبدیلی لانے کے دعویداروں کے لئے ’لمحۂ فکریہ‘ ہونا چاہئے۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک‘ وزیرتعلیم عاطف خان کو خوشامدی حلقوں‘ غیرسرکاری تنظیموں اور اپنی شان میں مضامین لکھنے والے تجزیہ کاروں کی بجائے اپنے آپ سے پوچھنا چاہئے کہ اُن سے وابستہ اُمیدیں کس حد تک پوری ہوئیں اور وہ کس قدر تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوئے ہیں!؟

حرف آخر: خیبرپختونخوا میں خواتین کے حقوق اور خواتین سے متعلق پالیسی سازی‘ قوانین سازی‘ قوانین کے اطلاق اور متعلقہ سماجی و سیاسی روئیوں پر نظر رکھنے والے سرکاری ادارے نے ویب سائٹ (kpcsw.gov.pk) کا اجرأ کیا ہے جس کا مقصد ’خواتین کو (زیادہ) بااختیار‘ بنانا ہے اور اِس ’ویب سائٹ منصوبے‘ کے لئے مالی وسائل آسٹریلیا حکومت اور غیرملکی امدادی ادارے نے فراہم کئے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ ادارہ 2009ء میں قائم کیا گیا تھا جس کے قواعد و ضوابط میں خیبرپختونخوا اسمبلی نے 2016ء میں تبدیلی (ترمیم) کی تھی اور دوہزارنو سے دوہزار سولہ اور دوہزار سولہ سے دوہزار اٹھارہ تک کے سفر میں اِس ادارے نے خواتین سے متعلق درجنوں دستاویزات (رپورٹیں) جاری کی ہیں‘ جن سے خواتین کو درپیش مشکلات کو گہرائی سے سمجھا تو جا سکتا ہے لیکن اِس سمجھ بوجھ سے بہتری دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ 

بہرحال اُمید کی جا سکتی ہے کہ ’نئے سال (دوہزار اٹھارہ) کے موقع پر (دو جنوری) جاری ہونے والی اِس ویب سائٹ کا حال اور کارکردگی دیگر حکومتی ویب سائٹس جیسا نہیں ہوگا‘ جہاں نہ تو تازہ ترین معلومات (اپ ڈیٹ ڈیٹا) ملتی ہیں اور نہ ہی اُن کے ذریعے رابطہ کرنے پر سرکاری محکموں کی جانب سے سوالات کے جوابات دیئے جاتے ہیں۔ عمومی رویہ (طریقۂ کار) یہی ہے کہ دوست ممالک اور غیرملکی امدادی اداروں کو بلند بانگ دعوؤں کے ذریعے سبز باغ دکھا کر مالی امداد حاصل کر لی جاتی ہے۔ 

غیرسرکاری نجی تنظیمیں (این جی اُوز) رپورٹ رائٹنگ میں خصوصی مہارت رکھتی ہیں اور معمولی سے معمولی واقعات کو بھی اس قدر تفصیل اور چونکا دینے والے پیرائے میں بیان کیا جاتا ہے کہ امداد دینے والے انکار نہیں کر پاتے۔ ہر اچھے کام (پراجیکٹ) کے درپردہ ایسی کہانیاں ہمارے اِردگرد بکھری پڑی ہیں۔ ’این جی اُوز‘ مافیا کے طور پر منظم اور پہلے سے زیادہ فعال‘ منافع بخش کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں‘ جنہیں سرکاری سرپرستی بھی حاصل ہے۔ لمحۂ فکریہ ہے کہ خواتین کی حالت زار میں تبدیلی کسی ’دیدہ زیب ویب سائٹ‘ کے ذریعے نہیں بلکہ قوانین کے اطلاق‘ غربت میں کمی اور خواتین کے لئے روزگار اور سماجی و سیاسی شراکت داری کے ذریعے ممکن ہے۔ ایک ایسا صوبہ جہاں چند روز قبل خواتین کو ووٹ دینے سے روکا گیا اور وہاں انتخابات بھی تاحال کالعدم نہیں قرار دیئے گئے تو سرد موسم کی طرح فیصلہ سازوں کے سرد روئیوں کی موجودگی میں کوئی ویب سائٹ تبدیلی کا پیش خیمہ اور کس قدر آتش فشاں ثابت ہوگی‘ بس یہی دیکھنا باقی رہ گیا ہے!
۔

Thursday, July 20, 2017

July 2017: The homework about Education System!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
شعبۂ تعلیم: ہوم ورک!
پاکستان کے سیاسی‘ مالی اُور اِنتظامی مستقبل محفوظ بنانے کے لئے ’تحریک انصاف‘ کی آئینی و قانونی محاذوں پر جاری جدوجہد (پانامہ کیس کی پیروی) اہمیت اور مقصدیت سے انکار ممکن نہیں لیکن اپنے حصے کی ذمہ داریاں اَدا کرنے میں تحریک کس قدر کامیاب (سرخرو) ہوئی ہے‘ اِس بات کا فیصلہ خیبرپختونخوا کے 27 ہزار 261 سرکاری فعال سکولوں میں درس و تدریس اور بنیادی سہولیات کے معیارکو دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا ہے‘ جہاں زیرتعلیم طلباء و طالبات کی اکثریت صرف عام آدمی (ہم عوام) پر مشتمل ہے۔ رواں ہفتے محکمۂ تعلیم سے متعلق اعدادوشمار پر مبنی ’سالانہ رپورٹ 2015-16ء‘ مرتب کی گئی‘ جسے باضابطہ جاری کرنے کی بجائے ماضی کی رپورٹوں کی طرح ’سرکاری دستاویزات‘ کا حصہ بنا دیا گیا ہے اور ایسا کرنے کی وجہ بھی سمجھ آتی ہے کیونکہ رپورٹ میں سب اچھا کی گردان کے باوجود بھی کئی ایسے شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے‘ جن میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ مقام حیرت ہے کہ خیبرپختونخوا میں گیارہ فیصد (قریب تین ہزار) ایسے غیرفعال سرکاری سکول ہیں‘ جن کی چاردیواریاں نہیں اور اس سے بھی تعجب خیز بات یہ ہے کہ چاردیواریوں سے محروم سرکاری سکولوں کی اکثریت اُنہی علاقوں میں ہے جہاں امن و امان کی صورتحال مثالی نہیں! چونکہ سرکاری سکولوں کی ایک تعداد ایسی ہے کہ جہاں حفاظت کا خاطرخواہ انتظام نہیں اِس لئے حکومت تسلیم کرتی ہے کہ ۔۔۔ دیگر وجوہات سمیت سیکورٹی خدشات کے باعث تین ہزار سکول فعال نہیں ہیں۔ تصور کیجئے کہ ہزاروں کی تعداد میں طلباء و طالبات صرف اِس لئے سکول نہیں جا سکتے کیونکہ اُن کے بارے میں سوچنے اور فیصلہ کرنے والوں نے باقاعدگی سے تنخواہیں اور مراعات تو وصول کی ہیں لیکن اپنے حصے کی ذمہ داریاں اَدا نہیں کیں! خودمختار نگران اِدارے (انٹیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ) کی مذکورہ رپورٹ میں مذکور اعدادوشمار سے صوبائی سرکاری سکولوں کی جو تصویر ذہن میں اُبھرتی ہے‘ وہ کسی بھی سیاسی حکومت بالخصوص انقلابی و جنوبی سیاسی دھڑے کے لئے نیک نامی کا سبب نہیں اور اُمید ہے کہ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت (بنی گالہ) پہلی فرصت سے پہلے ماضی کے برعکس اِس رپورٹ کا ’سخت نوٹس‘ لے گی کیونکہ خیبرپختونخوا حکومت آئینی مدت کے آخری سال میں داخل ہو چکی ہے اور یہ بات بھی یقین سے نہیں کہی جا سکتی ہے کہ یہ آخری سال عدالت عظمیٰ میں زیرسماعت ’پانامہ کیس‘ کی وجہ سے مکمل ہو پائے گا!

خیبرپختونخوا کے سرکاری سکولوں کے بارے میں اعدادوشمار ماہ جون (دوہزارسترہ) کے دوران اکٹھا کئے گئے جن سے معلوم ہوا کہ صوبے کے دورافتادہ اور پسماندہ ترین ضلع ’تورغر (کالا ڈھاکہ)‘ میں سرکاری تعلیمی اداروں کی صورتحال سب سے زیادہ خراب ہے یعنی ’تورغر‘ میں پینسٹھ فیصد سرکاری سکولوں کی چاردیواریاں نہیں! اِسی طرح ضلع کوہستان میں ساٹھ فیصد‘ شانگلہ میں چوبیس فیصد‘ بٹ گرام میں اُنیس فیصد‘ مانسہرہ میں پندرہ فیصد‘ چترال وایبٹ آباد میں چودہ فیصد سرکاری تعلیمی ادارے ’چاردیواری سے محروم‘ ہیں۔ بھلا چند کمروں پر مشتمل کسی ایسی عمارت کو ’’سکول‘‘ کا نام (درجہ) ہی کیسے دیا گیا جس کی نہ تو چاردیواری تھی اور نہ ہی وہاں بنیادی سہولیات کی فراہمی عملاً ممکن بنائی گئی! افتتاحی تختیاں لگانے والوں کی شرمناک کارکردگی کی تشہیر ہونی چاہئے اُور انہیں اِس کارکردگی کی بنیاد پر آئندہ عام انتخابات میں بطور اُمیدوار حصہ لینے سے نااہل قرار دینا چاہئے۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ’’محکمۂ تعلیم‘‘ ملازمتیں فراہم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے جس نے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ملازمتی مواقع فراہم کر رکھے ہیں اور صوبائی وزیر و مشیر اور معاونین سے لیکر نگرانوں اور سکولوں کے عملے تک ہر ایک کردار اپنے اپنے حصے کی تنخواہ اور مراعات حاصل کر رہا ہے! رہی بات تعلیم اور معیار تعلیم کی تو فرد جرم کسی پر عائد نہیں کی جاسکتی۔ سیاسی حکمران معصوم‘ فیصلہ ساز معصوم‘ اساتذہ اور معاون عملہ معصوم اور اگر کوئی ’’قصوروار‘‘ ہے تو عام آدمی (ہم عوام) جن کے پاس بچوں کو معیاری تعلیم اور ایک ایسے نظم وضبط سے روشناس تربیت دلوانے کے لئے ماسوائے نجی اداروں سے رجوع کرنے کوئی صورت باقی نہیں رہی! اگر خدائی قانون یہ نہیں کہ غریب ہمیشہ غریب رہے تو امیر کے ہمیشہ امیر رہنے اور سیاست کرنے والوں کا وابستگیاں تبدیل کر کے حکمرانی کرنے کا بھی کوئی جواز اور منطق نہیں رہتی۔

خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے اقتدار کا سورج مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات کے بعد طلوع ہوا‘ جس سے قبل محکمۂ تعلیم کے لئے ’سالانہ 61 ارب روپے‘ مختص کئے جاتے تھے۔ موجودہ صوبائی حکومت نے سالانہ ترقیاتی حکمت عملی (صوبائی بجٹ) میں تعلیم کو ترجیح قرار دیتے ہوئے 61 ارب کے مقابلے سالانہ 138 ارب روپے مختص کرنے کے علاؤہ ’ہنگامی حالت (ایمرجنسی)‘ کا نفاذ کیا کیونکہ بناء تعلیمی ترجیح جمہوریت کی جڑیں مضبوط گہری اور اِس کا حاصل (ثمرات میٹھے) خاطرخواہ نہیں ہوسکتے! صوبائی وزیرتعلیم سے بات کی جائے تو وہ بھی منطقی لگتے ہیں کہ ’’تحریک انصاف کی حکومت میں صوبائی سطح پر تعلیمی اداروں کی جس قدر ضروریات پوری کی گئیں اِس کی ساٹھ سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ عاطف خان مطمئن ہیں کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریاں ادا کی ہیں۔ اپنے فیس بک پیج پر صوبائی وزیر کا بیان مقبولیت کے ریکارڈ توڑ رہا ہے کہ ’’موجودہ حکومت نے پانچ ہزار سرکاری سکولوں میں بیت الخلاء اور چودہ ہزار سرکاری سکولوں میں چاردیواریاں تعمیر کروائیں!‘‘ عاطف خان نے گنوا دیا کہ صوبائی حکومت نے چودہ لاکھ کرسیاں فراہم کی ہیں جبکہ پانچ ہزار سکولوں میں ہم نصابی سرگرمیوں کے آغاز کا سہرا بھی وہ اپنے سر باندھتے ہیں! صوبائی محکمۂ خزانہ (فنانس ڈیپارٹمنٹ) کی ویب سائٹس پر موجود اعدادوشمار پر نظر کی جائے تو تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے گذشتہ چار سال کے دوران سرکاری سکولوں میں سہولیات کی فراہمی پر مجموعی طور سے ’’121 ارب روپے‘‘ خرچ کئے ہیں اور یہ عمل جاری ہے کیونکہ سہولیات کی کمی اِس قدر بڑے پیمانے پر تھی کہ باوجود ایک سو اکیس ارب روپے جیسی خطیر رقم خرچ کرنے کے بھی‘ سرکاری تعلیمی ادارے اپنے قیام جیسی بنیادی سطح سے ایک درجہ بلند نہیں ہوئے۔

سرکاری سرپرستی میں ’’خیبرپختونخوا کا تعلیمی منظر اُور پس منظر‘‘ کسی بھی لحاظ (زاویئے) سے اِطمینان بخش نہیں۔ مالی وسائل میں ’تاریخی اضافہ‘ کرنے کے باوجود بھی اگر بنیادی مسائل حل نہیں ہوئے اور بنیادی ضروریات کی فراہمی ہی ممکن نہیں ہوسکی تو آئندہ کسی سیاسی حکومت سے اِس بات کی توقع نہیں کی جاسکے گی کہ وہ باقی ماندہ کام مکمل کرے گی۔ ابھی تو خیبرپختونخوا کی بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب سے نئے سکولوں کے قیام کی ضرورت کا ادراک اور تعداد پورا ہونا باقی ہے۔ فیصلہ سازوں کو سمجھنا ہوگا کہ اُنہیں اِضافی محنت (ہوم ورک) کرنا ہوگا کیونکہ سرکاری تعلیمی اِداروں کا وجود اور موجودہ حکومتی کوششیں نتیجہ خیز‘ مبنی برانصاف (کافی) ثابت نہیں ہو رہیں!

Friday, May 19, 2017

May2017: Dreaming about a technology based education system!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تعلیم: ترجیحی منظرنامہ!

خیبرپختونخوا حکومت نے درس و تدریس کے عمل کو ’انقلابی خوبیوں‘ سے روشناس (مزین) کرنے کے لئے کمپیوٹرز اور انٹرنیٹ پر مبنی ’انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی)‘ بطور بنیادی اسلوب متعارف کرانے کا نہ صرف فیصلہ بلکہ اِس لائحہ عمل کے لئے 4ارب تیس کروڑ روپے سے زائد کی خطیر رقم آئندہ مالی سال (دوہزار سترہ اٹھارہ) کے بجٹ میں مختص کر دی جائے گی۔

خیبرپختونخوا کی تاریخ کے اِس سب سے بڑے اور غیرمعمولی ’ترقیاتی منصوبے‘ میں برق رفتار انفارمیشن اور کیمونیکشن ٹیکنالوجیز پر بھروسہ اُور اِس جدید اَسلوب کو متعارف کرانے سے تعلیمی اِداروں کے روائتی رکھ رکھاؤ اُور عمارتی ڈھانچوں (ظاہری ناک نقشے) میں نمایاں تبدیلی آئے گی لیکن سوال یہ ہے کہ انفارمیشن و کیمونیکشن ٹیکنالوجیز کے ذریعے درس و تدریس دینے والے اساتذہ (افرادی قوت) کہاں سے آئیں گے؟ خیبرپختونخوا کے موجودہ (کم وبیش) ایک لاکھ چوبیس ہزار اساتذہ کی ستر فیصد تعداد انفارمیشن و کیمونیکشن ٹیکنالوجیز سے نابلد ہیں اور اِسی بات کا احساس کرتے ہوئے ’اساتذہ کی تربیت‘ کا بھی بطور خاص اہتمام کیا جا رہاہے۔ یعنی چار ارب تیس کروڑ روپے کا ایک بڑا حصہ اساتذہ کی تربیت پر خرچ ہو جائے گا! تو معلوم ہوا کہ نئی حکمت عملی سے اگر کسی اور کا فائدہ (بھلا) ہو یا نہ ہو لیکن اساتذہ کی تربیت کا اہتمام و انتظام کرنے والوں کی قسمت ضرور بدلنے جا رہی ہے! یہ کہاں کا انصاف ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت اپنے آخری مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے ایک ایسی حکمت عملی پیش کرے جسے جاری رکھنا آنے والی حکومتوں کے لئے ممکن نہ ہو؟ چار سال اساتذہ کی تربیت پر اربوں روپے خرچ کرنے اور برطانوی حکومت کے ادارے ’برٹش کونسل‘ یا اِس جیسے دیگر غیر ملکی اداروں کو منتقل کرنے سے حاصل نتائج پر غور کرنا کس کی ذمہ داری بنتی ہے؟ کیا یہ بہتر و پائیدار نہ ہوتا کہ یکایک‘ فوراً اور آن کی آن تعلیمی نظام کی اس قدر بڑے پیمانے پر اصلاح کی بجائے شعبۂ تعلیم میں انفارمیشن و کیمونیکشن ٹیکنالوجیز کا مرحلہ وار اطلاق کیا جاتا؟ توانائی بحران اور دور دراز علاقوں میں بجلی کی فراہمی کے ناقابل اعتماد نظام سے کس طرح‘ اتنی بڑی توقعات اور اُمیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں؟

یہ بات شک و شبے سے بالاتر ہے کہ آنے والا دور ’انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ ہی کا ہوگا‘ جس پر انحصار بڑھنے کے ساتھ تعلیمی اداروں اور درس و تدریس کے اوقات کی پابندی بھی بتدریج کم ہوتی چلی جائے گی لیکن یہ عمل بیک جنبش قلم (آنکھ چھپکتے) ممکن نہیں اور نہ ہی محض سرمائے کے زور میں ایسا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ترقی کا ’پائیدار پہلو‘ یہ ہوتا ہے کہ اِسے مرحلہ وار‘ حقائق سے ہم آہنگ اور دستیاب افرادی و مالی وسائل کے مطابق ہونا چاہئے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کا قبلہ درست کرنے کے لئے نجی شعبے کے عملی تجربے اور (حاصل) تجربات سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہر نجی سکول اپنے وسائل اور اپنی ضروریات کا تعین کرکے اساتذہ کی تربیت کا اہتمام کرتا ہے اور اِس کے لئے موسم گرما یا سرما کی طویل یا ہفتہ وار تعطیلات سے استفادہ کیا جاتا ہے کیا سرکاری تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد کی اُن کے متعلقہ شعبوں میں تربیت کا انتظام تعطیلات کے دوران ممکن نہیں ہوسکتا؟ کیا نصاب کو عملی تجربات اور مطالعاتی دوروں سے آسان نہیں بنایا جاسکتا؟ نجی تعلیمی اداروں کی طرح سرکاری سکولوں میں زیرتعلیم بچوں کے قیمتی وقت کو تعطیلات کی نذر کرنے کی بجائے اُنہیں اندرون یا بیرون ملک کیوں نہیں بھیجا جا سکتا؟ یاد رہے کہ خیبرپختونخوا کے میدانی (گرم) علاقوں میں ستائیس مئی سے اکتیس اگست (تین ماہ پانچ دن) جبکہ پہاڑی (سرد) علاقوں میں یکم جولائی سے اکتیس جولائی (ایک ماہ) کی تعطیلات کا اعلان کیا گیا ہے۔ سبب جو بھی ہو لیکن تعلیمی عمل مہینوں معطل رہنے اور اِس دورانیئے سے بہتر و مفید عملی استفادے کے بارے میں سوچ بچار اگر ماضی کی حکومتوں کا طرزعمل نہیں رہا تو کیا ’روایت پرستی‘ میں معاملات (وقت کا ضیاع) جوں کے توں ہوتا رہے؟ گرمی ہو یا سردی‘ ہڑتال ہو یا احتجاج‘ تعطیلات کا کوئی مقصد (جواز) ہو ہی نہیں سکتا مگر اِس کی ضرورت اُن سرمایہ داروں کو رہتی ہے جو ایک مصروف ترین سال کے چند ہفتے اہل خانہ کے ہمراہ کسی پرفضا مقام یا بیرون ملک بسر کرنے کو معمول بنائے ہوئے ہیں! موسمی شدت سے بچنے کے لئے تعلیمی اداروں کے اُوقات تبدیل کئے جا سکتے ہیں۔

سکولوں کو آمدورفت کے لئے سفری سہولیات میں اضافہ ممکن ہے۔ پرفضا مقامات کی آب وہوا کو درس وتدریس کے عمل سے زیادہ معطر بھی تو بنایا جاسکتا ہے؟ آخر فیصلہ سازوں نے یہ نتیجہ کس سائنسی بنیاد (اصول) پر اخذ کر لیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے اساتذہ کو ایک جیسی تربیت چاہئے اور سبھی کی صرف انگریزی مضمون ہی میں مہارت بڑھانے سے ضرورت پوری اور معیار تعلیم بہتر ہو جائے گا؟

شعبۂ تعلیم کے مستقبل اُور مستقبل کی ضروریات پر نظر رکھتے ہوئے آج کی تاریخ اور آج کی تقاضوں کا احساس و ادراک بھی ترجیح ہونی چاہئے۔

Friday, May 12, 2017

May2017: Tale of GPS Matta Khel Shabqadar!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
آخری موقع!
خیبرپختونخوا میں تعلیمی انقلاب کے لئے ’ہنگامی حالات‘ کے ثمرات بڑے شہروں میں تو دیکھے جا سکتے ہیں لیکن صوبے کے پچیس اضلاع کے دور اُفتادہ علاقوں میں صورتحال جوں کی توں (ناقابل بیان) ہے جہاں سرکاری تعلیمی اداروں بالخصوص پرائمری و سیکنڈری سکولوں کی عمارتیں خاطرخواہ حکومتی توجہ سے محروم ہیں۔ دس مئی کو ’’آخری سال‘‘ کے عنوان سے خیبرپختونخوا کے پرائمری و سیکنڈری (بنیادی و ثانوی) تعلیمی امور کے لئے مختص مالی وسائل میں اضافے اور فیصلہ سازی کے عمل میں ترجیحات کا ذکر کیا گیا جس کا مقصد یہ تھا کہ تحریک انصاف کی قیادت میں صوبائی حکومت آخری سال کو ’آخری موقع‘ سمجھے یا نہ سمجھے لیکن حقیقت یہی ہے کہ چار سال قومی سیاست پر پارٹی کی مرکزی قیادت کے پیچھے چلنے والوں کے پاس ایک سال سے بھی کم عرصے کی مہلت باقی ہے۔ 

دانشمند وہ نہیں ہوتا جو خود غلطی نہ کرے بلکہ دوسروں اور اپنی غلطیوں سے حاصل اسباق پیش نظر رکھنے والا سرخرو ہوتا ہے اور سیاست میں عوامی مقبولیت کا معیار وہ بظاہر چھوٹے امور بھی بن جاتے ہیں‘ جن کی جانب دیگر مصروفیات میں توجہ نہیں رہتی! 

شعبۂ تعلیم بالخصوص پرائمری تعلیم کی بہتری کے نام پر غیرترقیاتی اَخراجات کم کرنے میں صوبائی حکومت کامیاب ہو سکتی تھی لیکن بجائے غیرتدریسی افرادی بوجھ کم کرنے کے محکمے نے بالواسطہ اور بلاواسطہ ایسے مشیروں اور ماہرین کی خدمات حاصل کیں جن کا مقصد صرف اور صرف اعدادوشمار جمع کرنا تھا۔ کیا یہ لمحۂ فکریہ نہیں کہ خیبرپختونخوا کے محکمۂ تعلیم میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد ملازمین ہیں اور اِن ملازمین سے کام لینے کے لئے بھی مزید ملازمین رکھنے کی ضرورت پیش آ رہی ہے! دست بستہ معذرت ہے کہ ’’آخری سال‘‘ کے عنوان سے کالم ضلع چارسدہ کی تحصیل شبقدر کے علاقے ’مٹہ مغل خیل‘ کے رہنے والوں کے زخموں پر نمک پاشی ثابت ہوا لیکن اگر وہ ایک تسلسل سے قبل ازیں لکھی گئی تحریروں کو اپنے حافظوں میں محفوظ رکھتے تو ’گلہ مند‘ ہونے کی نوبت ہی نہ آتی بہرحال مٹہ مغل خیل کی نمائندگی کرنے والوں نے بذریعہ برقی مکتوب (اِی میل) ’گورنمنٹ پرائمری سکول مٹہ مغل خیل‘ کی خستہ حالی اور بنیادی سہولیات کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے درجنوں ایسی تصاویر اور ویڈیوز ارسال کی ہیں جن میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ 1971ء میں تعمیر ہونے والے اِس سکول کی عمارت ناقابل استعمال ہے اور اِس حد تک بوسیدہ ہو چکی ہے کہ اِس سے استفادہ کرنا طالبعلموں اور اساتذہ کے لئے کسی بھی صورت محفوظ نہیں۔ 

چھتوں میں سوراخ‘ اُکھڑی ہوئی کھڑکیاں‘ دَروازے‘ ٹوٹ پھوٹ کا شکار فرش‘ کھلے آسمان تلے دو سو سے زائد بچوں کے ’کلاس رومز‘ پینے کے پانی اُور بیت الخلاء جیسی غیرمعیاری و ناکافی سہولیات اِس بات کا بین ثبوت ہیں کہ پالیسی سازی‘ کاغذی کاروائی‘ اَعدادوشمار جمع کرنے اُور اعدادوشمار سے اَخذ کی جانے والی معلومات (لائحہ عمل) کے مراحل میں کہیں نہ کہیں بہت بڑی کمی (خامی) رہ گئی ہے۔ سکول انتظامیہ (ہیڈماسٹر) کی جانب سے ’یکم جنوری دوہزار سترہ‘ کو تحریری طور پر متعلقہ حکام (ایس ڈی اِی اُو‘ اُور اے ایس ڈی اِی اُو) کو بعنوان ’’پیشگی اطلاع برائے بوسیدہ عمارت‘‘ ارسال کر دی گئی ہے جس میں ’جی پی ایس مٹہ مغل خیل‘ میں سات جماعتوں کے لئے متبادل جگہ فراہم کرنے اور نئے کمروں کی تعمیر کے لئے مالی وسائل فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے لیکن ایک سو بیس دن (چار ماہ) سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود بھی متعلقہ حکام کی توجہ سرکاری پرائمری سکولوں کی جانب مبذول نہ ہو سکی!

بنیادی و ثانوی محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا نے 16 اپریل 2014ء کو ’انڈی پینڈنیٹ منیجمنٹ یونٹ (آئی ایم یو)‘ قائم کیا‘ جبکہ اِس شعبے نے ’ماہ فروری دوہزار چودہ‘ کے پہلے ہفتے سے کام کرنا شروع کر دیا تھا اُور حسن اتفاق یہ بھی ہے کہ پاکستان میں برطانوی حکومت کے نمائندہ ادارے ’برٹش کونسل‘ کے حاضرسروس اور اِس سے وابستہ رہنے والوں کی بڑی تعداد اِس یونٹ کا حصہ بنی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے من پسند افراد کے ’سی ویز‘ سامنے رکھتے ہوئے مختلف عہدوں کے لئے بھرتیوں کو مشتہر کیا گیا اور ظاہر ہے کہ وہی ’ماہر‘ مطلوبہ قابلیت کے معیار پر پورا اُتر سکتے تھے جو منتخب ہوتے چلے گئے۔ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن محکمۂ تعلیم کی برٹش کونسل سے قربت اور اربوں روپے اساتذہ کی تربیت پر خرچ کرکے برٹش کونسل کو مالی فائدہ پہنچانے اور برٹش کونسل کے حاضر سروس ملازمین کی خدمات سے استفادہ کرنے سے متعلق بدعنوانی کے کیسز سامنے آئیں گے۔ اُمید کی جا سکتی ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں حزب اختلاف کم سے کم یہ سوال تو پوچھے گی کہ محکمہ تعلیم بشمول پرائمری وسیکنڈری سکولوں میں کتنا غیرتدریسی عملہ بھرتی کیا گیا؟ برٹش کونسل سے تربیتی معاہدے کی تفصیلات اور برٹش کونسل کے حاضر اور سابق کتنے ملازمین کی خدمات حاصل کی گئیں ہیں؟

نگرانوں پر نگران ادارے ’آئی ایم یو‘ کے قیام کا مقصد ’28 ہزار‘ سرکاری سکولوں کی نگرانی اور اُن سے متعلق اعدادوشمار جمع کرنا تھا تاکہ سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی حاضری‘ طلباء و طالبات کی تعداد‘ نتائج اور سہولیات کا معیار یکساں بنیادوں پر بہتر بنایا جا سکے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اب تک ’آئی ایم یو‘ نے پانچ سو نگرانوں (مانیٹرنگ اسسٹنٹس) کا چناؤ کیا ہے۔ ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفسیرز کی تربیت مکمل کر لی گئی ہے۔ مانیٹرنگ اسسٹنٹس کی تربیت مکمل کی لیکن اِس پوری کوشش سے حاصل ہونے والے اعدادوشمار کس قدر مشکوک ہو جاتے ہیں اگر کوئی ایک بھی سکول ایسا پایا جائے‘ جس کی عمارت ناقابل استعمال اور جہاں سہولیات کی مقدار و معیار ناقابل یقین حد تک کم ہو!؟

شبقدر کا مذکورہ گورنمنٹ پرائمری سکول قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 8 (چارسدہ ٹو) اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ ’پی کے 21 (چارسدہ فائیو)‘ اور ’پی کے 22‘ (چارسدہ سکس) کا حصّہ ہے۔ گیارہ مئی دوہزار گیارہ کے عام انتخابات (ٹھیک چار سال قبل یہاں سے) قومی اسمبلی کی نشست پر قومی وطن پارٹی (شیرپاؤ) جبکہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر یہاں سے قومی وطن پارٹی اور تحریک انصاف کے نامزد اُمیدوار کامیاب ہوئے اور یہ دونوں جماعتیں خیبرپختونخوا کی موجودہ صوبائی حکومت کا حصہ ہیں۔ 

کسی ایسے انتخابی حلقے کا ’پرائمری سکول‘ کس طرح ’نظرانداز‘ ہو سکتا ہے جبکہ وہاں سے تعلق رکھنے والے دو صوبائی اور ایک قومی اسمبلی کا رکن اقتدار کا حصہ ہوں؟ تعجب خیز امر یہ بھی ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں سہولیات کی نگرانی کرنے والے ایک سے زیادہ صوبائی حکومت کے اداروں کی موجودگی کے باوجود کس طرح ’آئی ایم یو کوڈ نمبر 12975‘ کے تحت پرائمری سکول خستہ حالی (بوسیدگی) کی تصویر ہو سکتا ہے؟