Showing posts with label KP Govt Performance. Show all posts
Showing posts with label KP Govt Performance. Show all posts

Friday, May 12, 2017

May2017: Tale of GPS Matta Khel Shabqadar!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
آخری موقع!
خیبرپختونخوا میں تعلیمی انقلاب کے لئے ’ہنگامی حالات‘ کے ثمرات بڑے شہروں میں تو دیکھے جا سکتے ہیں لیکن صوبے کے پچیس اضلاع کے دور اُفتادہ علاقوں میں صورتحال جوں کی توں (ناقابل بیان) ہے جہاں سرکاری تعلیمی اداروں بالخصوص پرائمری و سیکنڈری سکولوں کی عمارتیں خاطرخواہ حکومتی توجہ سے محروم ہیں۔ دس مئی کو ’’آخری سال‘‘ کے عنوان سے خیبرپختونخوا کے پرائمری و سیکنڈری (بنیادی و ثانوی) تعلیمی امور کے لئے مختص مالی وسائل میں اضافے اور فیصلہ سازی کے عمل میں ترجیحات کا ذکر کیا گیا جس کا مقصد یہ تھا کہ تحریک انصاف کی قیادت میں صوبائی حکومت آخری سال کو ’آخری موقع‘ سمجھے یا نہ سمجھے لیکن حقیقت یہی ہے کہ چار سال قومی سیاست پر پارٹی کی مرکزی قیادت کے پیچھے چلنے والوں کے پاس ایک سال سے بھی کم عرصے کی مہلت باقی ہے۔ 

دانشمند وہ نہیں ہوتا جو خود غلطی نہ کرے بلکہ دوسروں اور اپنی غلطیوں سے حاصل اسباق پیش نظر رکھنے والا سرخرو ہوتا ہے اور سیاست میں عوامی مقبولیت کا معیار وہ بظاہر چھوٹے امور بھی بن جاتے ہیں‘ جن کی جانب دیگر مصروفیات میں توجہ نہیں رہتی! 

شعبۂ تعلیم بالخصوص پرائمری تعلیم کی بہتری کے نام پر غیرترقیاتی اَخراجات کم کرنے میں صوبائی حکومت کامیاب ہو سکتی تھی لیکن بجائے غیرتدریسی افرادی بوجھ کم کرنے کے محکمے نے بالواسطہ اور بلاواسطہ ایسے مشیروں اور ماہرین کی خدمات حاصل کیں جن کا مقصد صرف اور صرف اعدادوشمار جمع کرنا تھا۔ کیا یہ لمحۂ فکریہ نہیں کہ خیبرپختونخوا کے محکمۂ تعلیم میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد ملازمین ہیں اور اِن ملازمین سے کام لینے کے لئے بھی مزید ملازمین رکھنے کی ضرورت پیش آ رہی ہے! دست بستہ معذرت ہے کہ ’’آخری سال‘‘ کے عنوان سے کالم ضلع چارسدہ کی تحصیل شبقدر کے علاقے ’مٹہ مغل خیل‘ کے رہنے والوں کے زخموں پر نمک پاشی ثابت ہوا لیکن اگر وہ ایک تسلسل سے قبل ازیں لکھی گئی تحریروں کو اپنے حافظوں میں محفوظ رکھتے تو ’گلہ مند‘ ہونے کی نوبت ہی نہ آتی بہرحال مٹہ مغل خیل کی نمائندگی کرنے والوں نے بذریعہ برقی مکتوب (اِی میل) ’گورنمنٹ پرائمری سکول مٹہ مغل خیل‘ کی خستہ حالی اور بنیادی سہولیات کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے درجنوں ایسی تصاویر اور ویڈیوز ارسال کی ہیں جن میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ 1971ء میں تعمیر ہونے والے اِس سکول کی عمارت ناقابل استعمال ہے اور اِس حد تک بوسیدہ ہو چکی ہے کہ اِس سے استفادہ کرنا طالبعلموں اور اساتذہ کے لئے کسی بھی صورت محفوظ نہیں۔ 

چھتوں میں سوراخ‘ اُکھڑی ہوئی کھڑکیاں‘ دَروازے‘ ٹوٹ پھوٹ کا شکار فرش‘ کھلے آسمان تلے دو سو سے زائد بچوں کے ’کلاس رومز‘ پینے کے پانی اُور بیت الخلاء جیسی غیرمعیاری و ناکافی سہولیات اِس بات کا بین ثبوت ہیں کہ پالیسی سازی‘ کاغذی کاروائی‘ اَعدادوشمار جمع کرنے اُور اعدادوشمار سے اَخذ کی جانے والی معلومات (لائحہ عمل) کے مراحل میں کہیں نہ کہیں بہت بڑی کمی (خامی) رہ گئی ہے۔ سکول انتظامیہ (ہیڈماسٹر) کی جانب سے ’یکم جنوری دوہزار سترہ‘ کو تحریری طور پر متعلقہ حکام (ایس ڈی اِی اُو‘ اُور اے ایس ڈی اِی اُو) کو بعنوان ’’پیشگی اطلاع برائے بوسیدہ عمارت‘‘ ارسال کر دی گئی ہے جس میں ’جی پی ایس مٹہ مغل خیل‘ میں سات جماعتوں کے لئے متبادل جگہ فراہم کرنے اور نئے کمروں کی تعمیر کے لئے مالی وسائل فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے لیکن ایک سو بیس دن (چار ماہ) سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود بھی متعلقہ حکام کی توجہ سرکاری پرائمری سکولوں کی جانب مبذول نہ ہو سکی!

بنیادی و ثانوی محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا نے 16 اپریل 2014ء کو ’انڈی پینڈنیٹ منیجمنٹ یونٹ (آئی ایم یو)‘ قائم کیا‘ جبکہ اِس شعبے نے ’ماہ فروری دوہزار چودہ‘ کے پہلے ہفتے سے کام کرنا شروع کر دیا تھا اُور حسن اتفاق یہ بھی ہے کہ پاکستان میں برطانوی حکومت کے نمائندہ ادارے ’برٹش کونسل‘ کے حاضرسروس اور اِس سے وابستہ رہنے والوں کی بڑی تعداد اِس یونٹ کا حصہ بنی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے من پسند افراد کے ’سی ویز‘ سامنے رکھتے ہوئے مختلف عہدوں کے لئے بھرتیوں کو مشتہر کیا گیا اور ظاہر ہے کہ وہی ’ماہر‘ مطلوبہ قابلیت کے معیار پر پورا اُتر سکتے تھے جو منتخب ہوتے چلے گئے۔ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن محکمۂ تعلیم کی برٹش کونسل سے قربت اور اربوں روپے اساتذہ کی تربیت پر خرچ کرکے برٹش کونسل کو مالی فائدہ پہنچانے اور برٹش کونسل کے حاضر سروس ملازمین کی خدمات سے استفادہ کرنے سے متعلق بدعنوانی کے کیسز سامنے آئیں گے۔ اُمید کی جا سکتی ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں حزب اختلاف کم سے کم یہ سوال تو پوچھے گی کہ محکمہ تعلیم بشمول پرائمری وسیکنڈری سکولوں میں کتنا غیرتدریسی عملہ بھرتی کیا گیا؟ برٹش کونسل سے تربیتی معاہدے کی تفصیلات اور برٹش کونسل کے حاضر اور سابق کتنے ملازمین کی خدمات حاصل کی گئیں ہیں؟

نگرانوں پر نگران ادارے ’آئی ایم یو‘ کے قیام کا مقصد ’28 ہزار‘ سرکاری سکولوں کی نگرانی اور اُن سے متعلق اعدادوشمار جمع کرنا تھا تاکہ سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی حاضری‘ طلباء و طالبات کی تعداد‘ نتائج اور سہولیات کا معیار یکساں بنیادوں پر بہتر بنایا جا سکے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اب تک ’آئی ایم یو‘ نے پانچ سو نگرانوں (مانیٹرنگ اسسٹنٹس) کا چناؤ کیا ہے۔ ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفسیرز کی تربیت مکمل کر لی گئی ہے۔ مانیٹرنگ اسسٹنٹس کی تربیت مکمل کی لیکن اِس پوری کوشش سے حاصل ہونے والے اعدادوشمار کس قدر مشکوک ہو جاتے ہیں اگر کوئی ایک بھی سکول ایسا پایا جائے‘ جس کی عمارت ناقابل استعمال اور جہاں سہولیات کی مقدار و معیار ناقابل یقین حد تک کم ہو!؟

شبقدر کا مذکورہ گورنمنٹ پرائمری سکول قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 8 (چارسدہ ٹو) اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ ’پی کے 21 (چارسدہ فائیو)‘ اور ’پی کے 22‘ (چارسدہ سکس) کا حصّہ ہے۔ گیارہ مئی دوہزار گیارہ کے عام انتخابات (ٹھیک چار سال قبل یہاں سے) قومی اسمبلی کی نشست پر قومی وطن پارٹی (شیرپاؤ) جبکہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر یہاں سے قومی وطن پارٹی اور تحریک انصاف کے نامزد اُمیدوار کامیاب ہوئے اور یہ دونوں جماعتیں خیبرپختونخوا کی موجودہ صوبائی حکومت کا حصہ ہیں۔ 

کسی ایسے انتخابی حلقے کا ’پرائمری سکول‘ کس طرح ’نظرانداز‘ ہو سکتا ہے جبکہ وہاں سے تعلق رکھنے والے دو صوبائی اور ایک قومی اسمبلی کا رکن اقتدار کا حصہ ہوں؟ تعجب خیز امر یہ بھی ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں سہولیات کی نگرانی کرنے والے ایک سے زیادہ صوبائی حکومت کے اداروں کی موجودگی کے باوجود کس طرح ’آئی ایم یو کوڈ نمبر 12975‘ کے تحت پرائمری سکول خستہ حالی (بوسیدگی) کی تصویر ہو سکتا ہے؟

Wednesday, March 22, 2017

Mar2017: Are you going to pollute PTI?

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
کرچیاں!
شاعر مجید اِمجد نے طویل نظم ’بس اسٹینڈ پر‘ کھڑے جس تصور‘ اُمید اور شب و روز کی مصروفیات کو بیان کیا‘ اُس کا ہر ایک لفظ ’خیبرپختونخوا کے موجودہ سیاسی منظرنامے پر صادق آتا ہے: ’’ضرور اِک روز بدلے گا نظامِ قسمتِ آدم۔۔۔بسے گی اِک نئی دنیا‘ سجے گا اِک نیا عالم۔۔۔شبستاں میں نئی شمعیں‘ گلستاں میں نیا موسم!۔۔۔ ’وہ رُت‘ اَے ہم نفس جانے کب آئے گی؟۔۔۔ وہ ’فصلِ دیر رس‘ جانے کب آئے گی؟ ۔۔۔ یہ ’’نو نمبر‘‘ کی بس جانے کب آئے گی؟‘‘ کسی بس اسٹینڈ پر منتظر لوگوں کے ذہنوں میں ’پاش پاش سوالات‘ کی کرچیاں اُن کی روح کو ہمیشہ لہولہان رکھتی ہیں! 

جاگتی آنکھوں سے زیادہ بڑا عذاب کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا‘ جس سے اَخذ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا سے اگر ’حسب توقع انصاف‘ نہیں کر پائی تو اِس کا ازالہ کسی بھی دوسری صورت ممکن نہیں مگر صوبائی سطح پر تنظیم سازی کے ذریعے کارکنوں کے تحفظات اُور خدشات دور کئے جائیں۔ دیگر سیاسی جماعتوں سے ’انتخابات میں سرمایہ کاری‘ کرنے والوں کو شمولیت کی دعوت دینے سے قبل کیا پارٹی کے دیرینہ کارکنوں سے رائے لی گئی؟ اگر پارٹی کی ذیلی تنظیمیں بشمول ویمن ونگز ہی فعال و منظم نہیں تو اس قسم کی مشاورت کس سطح پر اور کس سے کی گئی؟ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ آسان سیاسی فیصلے کرنے والوں کو سوچنا چاہئے کہ مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں ’تحریک انصاف‘ کو ووٹ ملنے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے سبھی اضلاع میں عام آدمی (ہم عوام) کی اکثریت ’انتخابات بے زار‘ ہو چکی تھی جس کے لئے چہرے اُور انتخابی اتحاد بدل بدل کر وعدے ایفاء نہ کرنے والی ’روائتی سیاسی جماعتوں بشمول مسلم لیگ (نواز)‘ پاکستان پیپلزپارٹی‘ عوامی نیشنل پارٹی‘ جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن)‘ کے معنی صرف ایک تھے کہ اقتدار‘ استحصال اور بدعنوانی کرو‘ (نیب مقدمات کی بطور حوالہ ایک طویل فہرست موجود ہے!) جس کی وجہ سے عوام نے ’’متبادل‘‘ کے طور پر تحریک انصاف کو ووٹ دیئے اور اگر ماضی کے وہی انتخابی شکست خوردہ کردار تحریک انصاف میں شمولیت اِس شرط کے ساتھ شمولیت اختیار کرتے ہیں کہ وہ پارٹی فنڈ میں عطیات کے عوض آئندہ عام انتخابات کے لئے تحریک انصاف کی جانب سے نامزدگی (پارٹی ٹکٹ) پائیں گے تو اس ’(لین دین) سودے بازی‘ کا منفی اثر برآمد ہوگا۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کا ایک تعارف یہ بھی ہے کہ اِس سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے ہر قسم کی بدعنوانی کے خلاف آئینی‘ سماجی اور سیاسی سطح پر جدوجہد کرکے ایک نئے پاکستان کی تشکیل کی جا رہی ہے تو کیا ’نیا پاکستان‘ اُن پرانے چہروں سے تشکیل پا سکتا ہے جن کی ساکھ مشکوک ہو؟

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کے سیاسی تجربہ کا فائدہ ’صوبائی حکومت‘ کو کامیابی سے برقرار رکھنے میں تو دکھائی دیتا ہے لیکن خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف منتشر دکھائی دیتی ہے۔ تنظیم سازی کا عمل غیرضروری طور پر معطل رکھنے سے کارکنوں میں تشویش پائی جاتی ہے جنہیں اپنی سیاسی وابستگی اور جانی و مالی قربانیوں کے صلہ ملنے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔ تحریک انصاف (کے پیغام) میں یہ صلاحیت (طاقت) تھی کہ عہدوں‘ اختیارات اور مراعات پر مبنی شاہانہ رکھ رکھاؤ کی بجائے سادگی پر مبنی ایک ایسے طرزحکمرانی کی بنیاد رکھتی‘ جو صرف خیبرپختونخوا ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لئے عملی مثال بن جاتی لیکن نہ تو سرکاری دفاتر کے اُوقات کار بدلے اور نہ سرکاری ملازمین کے مزاج میں تبدیلی آئی ہے‘ جن کی نظر میں ’عام آدمی (ہم عوام)‘ کی حیثیت و ضروریات کیڑے مکوڑوں سے زیادہ نہیں! 

کیا آج کے خیبرپختونخوا میں بنیادی سہولیات (صحت و تعلیم‘ پینے کے صاف پانی کی دستیابی‘ نکاسی آب‘ صفائی‘ کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانے کا نظام) ملک کے دیگر حصوں سے مختلف و بہتر ہے؟ 

کیا صوبائی اقتدار سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے خیبرپختونخوا میں سیاسی شعور و شہری و دیہی علاقوں میں گردوپیش بہتر بنانے کی سوچ (سوک سینس) ملک کے دیگر حصوں سے زیادہ اور بدرجۂ اَتم پایا جاتا ہے؟ 

خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو کھیل کود‘ اپنی صلاحیتیں اُجاگر کرنے اور تعلیم و تحقیق کے شعبے میں آگے جانے کے مواقع ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے زیادہ میسر ہیں؟ صنفی مساوات اُور جنسی بنیادوں پر امتیازات کے حوالے سے خیبرپختونخوا ملک کے دیگر حصوں سے زیادہ مثالی ہے؟ یہاں صارفین کا استحصال نہیں ہو رہا؟ 

خیبرپختونخوا میں شاہراؤں کی حالت‘ بالائی و تاریخی و مذہبی سیاحتی مقامات پر سہولیات کے مقدار اور معیار تبدیل نظر آتا ہے؟ سوشل میڈیا اُور ذرائع ابلاغ کے اَن گنت وسائل کی طاقت سے ’انقلاب کی لہریں‘ اگر چائے کی پیالی سے اُچھل اُچھل کر برپا طوفان کی نشاندہی کر رہی ہوں تو اِس سے ’عام آدمی (ہم عوام)‘ کی زندگی میں عملاً بہتری نہیں آئی ہے کیونکہ نہ تو زراعت کی خاطرخواہ ترقی کی مثالیں موجود ہیں اور نہ ہی اِس اہم شعبے سے جڑے روزگار کے لاتعداد امکانات اور وسائل کی ترقی کا ہدف حاصل ہوسکا ہے۔ 

اَمور حکومت پہلے بھی چل رہے تھے اُور آج بھی رواں دواں ہیں تو کیا یہی وہ تبدیلی ہے‘ جس کی خواہش میں خیبرپختونخوا نے ’متبادل قیادت‘ کا انتخاب کیا اور اب سوچ رہے ہیں کہ کہیں یہ اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف تو نہیں تھا! 
گر جاؤ گے تم اپنے مسیحا کی نظر سے۔۔۔ 
مر کر بھی علاج دل بیمار نہ مانگو! (اَحمد فرازؔ )۔
 Politics of electibles shouldn't be priority of PTI

Friday, September 9, 2016

Sept2016: The factors of Change

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تبدیلی کے تقاضے!
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا ماضی جو بھی رہا ہو لیکن حال میں اُن کے ہاں پائے جانے والے ’امانت و دیانت کے تصورات‘ جس قدر واضح (فکری طور پر بلند) ہیں‘ اُن کا موازنہ کسی بھی دوسرے تیسرے یا چوتھے سیاسی رہنما کی عملی زندگی (قول و فعل) سے کیا جائے تو جو ایک حقیقت عیاں ہو گی وہ یہ ہے کہ ۔۔۔ ’’جب تک پاکستان مالی و انتظامی بدعنوانیوں (علت‘ وجوہات‘ محرک اُور آلۂ کاروں) سے چھٹکارہ نہیں حاصل کرلیتا اُس وقت تک صرف معاشی و اقتصادی شعبوں ہی میں نہیں بلکہ دہشت گردی و لاقانونیت کے خلاف جدوجہد (فوجی و غیرفوج مہمات) میں کامیابی ممکن نہیں۔‘‘ اگر یہ کہا جائے کہ پانامہ پیپرز کے ذریعے بیرون ملک سرمایہ کاری کے انکشافات کے بعد قوم (متوسط و غریب ہم عوام) کی نظریں عمران خان پر لگی ہوئی ہیں تو غلط نہیں ہوگا لیکن کیا عمران خان خود سے وابستہ توقعات پر پورا اُترے گا؟ 

خیبرپختونخوا میں حکومت کے قیام‘ بدعنوانوں کے بلاامتیاز احتساب‘ سرکاری محکموں کی کارکردگی مثالی بنانے اور بالخصوص طرزحکمرانی میں انقلابی تبدیلیوں کے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے پر جس ’سست روی‘ سے کام جاری ہے‘ اُس کی وجہ سے قریب تھا کہ ’تحریک انصاف‘ کی ساکھ بارے عمومی تاثر اندرون و بیرون ملک تنقید کا باعث بنتا لیکن لگتا ہے کہ مقدر عمران خان کا ساتھ دے رہا ہے جنہیں ’پانامہ پیپرز‘ کی صورت ایک ایسا نادر موقع ہاتھ آ گیا ہے! جس نے ’تحریک انصاف‘ میں نئی جان ڈال دی ہے!


پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی سطح پر ’داخلی اِصلاحات‘ کے عمل (مشکل دور) سے گزر رہی ہے۔ یہی حال پیپلزپارٹی کا بھی ہے اور یہ دونوں جماعتیں مل کر ایک ایسی گروہ کو للکار رہی ہیں جو اپنی طاقت کے مرکز (پنجاب) میں پاؤں جمائے ہوئے ہے اور چھوٹے صوبوں کی تشکیل کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کا ہنر جاتا ہے۔ ایک ایسی صورتحال میں ’کرامات‘ کی توقع کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے سابق گورنر افتخار حسین شاہ سے وابستہ کر لی گئیں ہیں‘ جن کی پارٹی میں شمولیت سے داخلی محاذ پر ’سرد جنگ‘ اور ’سکوت‘ کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ شاہ صاحب کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ اِن دنوں ’اصلاحاتی تجاویز (لائحہ عمل)‘ ترتیب دینے میں مصروف ہیں‘ جس کے بعد بڑے پیمانے پر نہ صرف صوبائی بلکہ تحریک کی مرکزی فیصلہ سازی پر مسلط اجارہ داری کو دھچکا لگے گا۔ مہم جوئی جاری رکھتے ہوئے ملک کی سیاسی تاریخ کے طویل ترین ’ایک سو چھبیس دن‘ کی احتجاج میں چھپے اسباق تلاش کرنا اپنی جگہ اہم ضرورت تھی جو پوری ہو رہی ہے لیکن ’تحریک انصاف‘ کو نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کے مقابلے متبادل حکمراں دیکھنے کی خواہشمند طاقتیں اِس مرتبہ زیادہ منظم لیکن جذبات کی بجائے ٹھنڈے دماغ سے کام لے رہی ہیں!


سیاست میں جذبات کے اظہار لیکن اظہار کے لئے (موزوں) وقت کی اہمیت ہوتی ہے۔ اِس کھیل کا یا تو کوئی ایمپائر نہیں ہوتا یا پھر ایمپائر قانون کے اندھے ہونے کی وجہ سے ’جنگل کا بادشاہ‘ ہوتا ہے‘ جس پر کسی تھرڈ ایمپائر (ریاستی ادارے) کا قانونی‘ اخلاقی یا ریاستی دباؤ معنی نہیں رکھتا اور نہ ہی اُسے اِس بات کی پرواہ ہوتی ہے کہ تماشائی (عوام) اُس کے بارے میں کیا سوچیں گے! 

آٹھ ستمبر کے روز قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کے بارے میں عمران خان کا یہ بیان کہ وہ اُنہیں ’اسپیکر‘ تسلیم نہیں کرتے تو کیا اِس سے برسرزمین حقائق تبدیل ہو جائیں گے؟ بیان دینے سے پہلے اگر سوچ لیا جاتا کہ سردار ایاز صادق بدستور اسپیکر رہیں گے تو ایسے الفاظ کس لئے بولے جاتے ہیں‘ جن کی روح نہیں ہوتی؟ طعنہ زنوں کی بات میں وزن ہے کہ ’’پارلیمانی نظام صرف اسمبلی کی رکنیت‘ تنخواہیں اور مراعات کا نام نہیں ہوتا‘‘ اگر اِس جملے کو مکمل کیا جائے تو قانون سازی کے منصب پر فائز ہونے اپنی جگہ اعزاز لیکن’’اِس میں نظریات کو دلائل کے ساتھ اسمبلی پلیٹ فارم پر مشتہر کرکے قوم کی جانب اُچھالا جاتا ہے اور اِس نظام میں سیاسی جماعت کے کارکنوں سے زیادہ ’ہم خیالوں‘ کی اہمیت ہوتی ہے۔‘‘ اپنے مؤقف کا بیج ’بنجر زمین (ذرائع ابلاغ کے نام نہاد تجزیہ کاروں)‘ میں بونے کا فائدہ نہیں جب تک کہ کاشت کے وقت اور لوازمات کا خیال نہ رکھا جائے۔ اُمید ہے کہ اب تک عمران خان سیاست اُور کھیل کے درمیان اُس باریک فرق کی تہہ داریوں کو سمجھ نہیں تو بھانپ ضرور گئے ہوں گے جو سراب جیسا فریب رکھتی ہے۔ 

سردست قوم کے اعتماد اور توقعات کا مزید امتحان نہ لیا جائے کیونکہ یقینی امر ہے کہ ’پے در پے احتجاج‘ سے اُس ٹولے کو تو قطعی پریشان نہیں کیا جاسکتا جو بالواسطہ یا بلاواسطہ حکمرانی کے ذریعے قومی وسائل و اختیارات کو ’زیرِ دست‘ کئے ہوئے ہے۔ ’کھیل میں سیاست‘ اُور ’سیاست میں کھیل‘ جیسی کیفیات کو سنجیدہ بنا کر پیش کرنے والی ’تحریک انصاف‘ کے لئے قومی منظرنامے میں جاری اِننگ (اپنی باری) کا یہ شاید ’آخری اُوور‘ (موقع) ہے! پاکستان زندہ باد ہے اور سیاست کا کھیل بھی جاری رہے گا‘ ٹیمیں کھلاڑی اُور کھیل کے اَصول بدلتے رہیں گے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔