Showing posts with label BISE. Show all posts
Showing posts with label BISE. Show all posts

Sunday, July 9, 2017

July2017: Examination is the key to measures the Public Schools Standard, performance & Education Reforms in #KP

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تعلیمی پالیسی: ثمرات بصورت نتائج!

خیبرپختونخوا میں ’تعلیمی اَیمرجنسی‘ کے نفاذ اُور ’انقلابی اِصلاحات‘ کی شرح کامیابی جاننے کے لئے ’امتحانی نتائج‘ سے زیادہ بہتر کوئی دوسری ’غیرمتنازعہ‘ کسوٹی نہیں ہو سکتی۔ سرکاری ہوں یا نجی‘ تعلیمی اِداروں کی کارکردگی اُور معیار تعلیم ’امتحانی بورڈز کی زیرنگرانی سالانہ امتحانات‘ ہی ہو سکتے ہیں۔ رواں ہفتے (پانچ جولائی کے روز) پشاور کے امتحانی بورڈ نے ’سیکنڈری سکول سرٹیفکیٹ (میٹرک)‘ کے سالانہ نتائج کا اعلان کیا جس میں سرکاری و نجی تعلیمی اداروں سے کل ایک لاکھ اُنچاس ہزار دو سو بارہ طلباء و طالبات نے حصہ لیا اور مجموعی طور پر کامیاب ہونے والوں کی شرح 65فیصد رہی لیکن اِس معلوم خبر میں یہ تلخ حقیقت چھپی ہوئی ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے جن تعلیمی اصلاحات کا ’زور و شور‘ سے ذکر کیا تھا‘ اُن کے ’ثمرات بصورت نتائج ظاہر نہیں ہوسکے‘ اُور اگر ہم سرکاری بمقابلہ نجی سکولوں کے امتحانی نتائج کا موازنہ کریں تو نویں اور دسویں (میٹرک) کلاسوں کے لئے ’ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ پشاور (انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن بورڈ)‘ کے حالیہ اِمتحانات (برائے سال دوہزارسترہ) میں کوئی ایک بھی سرکاری سکول سے وابستہ طالب علم ’ٹاپ پوزیشنیں‘ حاصل نہیں کرسکا یعنی باوجود کوشش بھی نمایاں نمبروں کے ساتھ کامیابی حاصل نہ کرنے والوں میں بڑی تعداد سرکاری سکولوں کے طلباء و طالبات کی ہے تو کیا یہ المیہ محض ’حسن اتفاق‘ یا صوبائی حکومت کے خلاف سازش (سیاسی چال) قرار دے کر نظرانداز کر دی جائے؟ 

سبھی نمایاں پوزیشنیں نجی تعلیمی اداروں کے حصے میں آنے کا دباؤ کالج کی سطح پر تعلیمی نظام پر پڑے گا! ذرا سوچئے کہ کہ ایک جیسا نصاب تعلیم اور ایک جیسے اوقات کار رکھنے کے باوجود بھی نجی سکولوں کی انتظامیہ اور اساتذہ نے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کیں جبکہ سرکاری سکولوں کی نگران وزارت‘ مشیروں (نجی کنسلٹنٹس)‘ متعلقہ محکمہ اور سکولوں کے انتظامی عہدوں پر فائز لائق فائق و ماہرین تعلیم کا لقب رکھنے والوں کی کارکردگی ’مایوس کن‘ رہی لیکن چونکہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہورہا اِس لئے نہ تو شرمندگی کا احساس ہے اور نہ ہی اِس قسم کے نتائج پر کوئی صاحب ضمیر مستعفی ہونے کا اعلان کرے گا۔ 

ذرائع ابلاغ میں سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی بہتر و نمایاں بنانے کا دعویٰ کروڑوں روپے خرچ کرکے شائع کیا گیا لیکن یہ تمام ’شور شرابہ‘ (نمائشی اقدامات) بھی کام نہ آ سکے اُور سب زیادہ اہم بات یہ ہے کہ سرکاری سرپرستی و نگرانی میں ’شعبۂ تعلیم‘ کی بہتری کے لئے ہر سال پہلے سے زیادہ مالی وسائل مختص کرنے کے باوجود بھی خاطرخواہ ’امتحانی نتائج (ثمرات)‘ اگر حاصل نہیں ہو رہے تو دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ غلطیوں سے رجوع کر لیا جائے اُور حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے ذمہ داروں کا بناء جھجک تعین کیاجائے۔ سرکاری سکولوں کی حکمت عملی پر نظرثانی الگ سے ضروری ہے کیونکہ اگر نجی سکول کم مالی وسائل کے باوجود بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں تو سرکاری سکولوں کو بھی ٹھیکے پر دیا جا سکتا ہے جس پر مالی خرچ بھی کم آئے گا اور نتائج (حاصل وصول) بھی اثاثہ قرار پائیں گے۔ 

ظاہر ہے کہ ایسا کرنے کے لئے آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی کیونکہ آئین پاکستان کے تحت معیاری تعلیم کی فراہمی حکومتوں کی ذمہ داری ہے اور بس یہ ذمہ داری بناء معیار آئین کی حد تک محدود دکھائی دیتی ہے!
امتحانی بورڈ کے نتائج میں سرکاری سکولوں کی ’خراب کارکردگی‘ پر ہر طرف سکوت طاری ہے۔ محکمۂ تعلیم کے غیراعلانیہ ترجمانی کرنے والے موسم گرما کی تعطیلات پر چلے گئے ہیں اور سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کا دفاع کرنے والوں کو بھی الفاظ نہیں مل رہے کہ وہ کس طرح (کس منہ سے) صوبائی دارالحکومت پشاور کے سرکاری سکولوں کو ’خراج تحسین‘ پیش کریں جن کی اپنی جگہ یہ کامیابی بھی غیرمعمولی ہے کہ اُنہوں نے کم سے کم طلباء و طالبات کو امتحان کے مراحل تک پہنچایا‘ اب آگے اُن کی قسمت! یادش بخیر سال دو ہزار آٹھ میں قائم ہونے والی اپنی نوعیت کی منفرد اور 342 کے قانون ساز معزز قومی اسمبلی ایوان میں صرف ایک نشست رکھنے والی مقبول ترین سیاسی تجزیہ کار جماعت ’’عوامی مسلم لیگ‘ کے سربراہ شیخ رشید احمد جب وفاقی وزیر برائے کھیل تھے تو پاکستان کی نمائندگی کرنے والی تیراکی کی ایک ٹیم عالمی مقابلوں میں آخری پوزیشن پر آئی۔ ایک صحافی نے شیخ رشید سے اِس انتہائی خراب کارکردگی کے بارے راہ چلتے سوال کیا تو اُنہوں نے سوچ رکھا تھا اور آن کی آن میں جواب صادر فرمایا کہ ’’شکر کرو ہمارے تیراک تالاب میں ڈبکی لگانے کے بعد ڈوب نہیں گئے۔ اگر تیراکی کے مقابلے میں حصہ لینے والے ڈوب جاتے تو سوچو کہ کتنی جگ ہنسائی ہوتی!؟‘‘

 پشاور بورڈ کے امتحان میں ناکامی کوئی پیمانہ نہیں شکر ادا کرنا چاہئے کہ کم نمبروں ہی سے سہی لیکن ایک تعداد میں سرکاری سکولوں کے طلباء و طالبات کامیاب تو ہو ہی گئے ہیں۔ اب صوبائی حکومت کے لئے مسئلہ یہ ہوگا کہ اِنتہائی کم نمبر حاصل کرنے والوں کو مزید تعلیم جاری رکھنے کے لئے کن کالجوں میں بناء میرٹ داخلہ دیا جائے! 

کیا خیبرپختونخوا کو سرکاری سرپرستی کی طرح نجی شعبے میں بھی زیادہ تعداد میں ’وکیشنل انسٹی ٹیوٹس (فنی تعلیم و تربیت کے اداروں)‘ کی ضرورت نہیں؟ 

اگر تحریک انصاف اتنے سارے ہنگامے اور اصلاحاتی شورشرابے کی بجائے نہایت ہی سادگی سے خیبرپختونخوا کے سات ڈویژنوں (مالاکنڈ‘ ہزارہ‘ مردان‘ پشاور‘ کوہاٹ‘ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان) میں صرف ایک ایک ’ماڈل سکول‘ ہی بنا لیتی تو چار سالہ کارکردگی میں کم سے کم پانچ ہزار ایسے طلباء وطالبات کی عملی مثال آج پیش کی جا سکتی تھی‘ جنہوں نے سرکاری سکولوں سے استفادہ کرتے ہوئے نجی سکولوں کے مقابلے نمایاں پوزیشنیں حاصل کی ہوتیں۔ تبدیلی نیک نیتی‘ سوچ بچار اور نمائش سے نہیں آتی بلکہ کسی طویل مسافت کو طے کرنے کے لئے پہلا قدم اُٹھانا سب سے زیادہ اہم اور ضروری ہوتاہے۔ تعلیمی اصلاحات و ترجیحات کے تعین جہاں جہاں کوتاہی ہوئی‘ آئینی مدت کے آخری سال میں اُس کی 100فیصد اصلاح تو اگرچہ ناممکن ہے لیکن ’ہمت مرداں‘ مدد خدا۔‘

Wednesday, April 5, 2017

Apr2017: Business of education!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
گھاٹے کا سودا
نجی تعلیمی اِدارے ’’خیر محض‘‘ ہیں‘ جن کی گرانقدر خدمات سے نہ تو انکار ممکن ہے اور نہ ہی اِس بات لائق تردید ہے کہ ’نجی تعلیمی ادارے‘ عصری تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم کا ذریعہ ہیں اور یقیناًایک ایسی ضرورت پوری کر رہے ہیں‘ جس کا معیار گرچہ سوفیصد اطمینان بخش نہیں اور جن خدمات کی قیمت کئی گنا زیادہ وصول کی جا رہی ہے لیکن اَگر یہ ’نجی تعلیمی اِدارے‘ بھی نہ ہوتے تو کیا سرکاری سرپرستی میں ’درس و تدریس‘ کے اُس وسیع و عریض نظام پر بھروسہ کیا جاسکتا تھا‘ جس پر صوبائی خزانے سے سالانہ آمدنی کا پچاس فیصد سے زائد حصہ خرچ ہو رہا ہے لیکن خواندگی کے تعلیم وتحقیق کے شعبے میں اُن کا کردار ہر گزرتے دن کم ہو رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب سرکاری سکولوں سے فارغ التحصیل بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہوا کرتے تھے لیکن یہ تناسب کم ہو رہا ہے اور تعلیم چونکہ نصاب کی حد تک محدود نہیں رہی اِس لئے کسی اُستاد (معلم) اور کسی تعلیمی ادارے کا کردار محدود نہیں رہے! اِس لمحۂ فکریہ پر اگر خیبرپختونخوا حکومت کی شعبۂ تعلیم پر توجہ اور ترجیحات کا جائزہ لیا جائے تو سب سے زیادہ مالی وسائل مختص کرنے کے باوجود بھی سرکاری تعلیمی اداروں کے نتائج میں وہ بہتری نہیں آ سکی‘ جس کی بنیاد پر یہ ادارے کشش کا باعث ہوں۔ 

پانچویں جماعت (پرائمری سے مڈل) تک معیار تعلیم مساوی بنانے کی کوششیں زیادہ غوروخوض کی متقاضی ہیں کیونکہ ’شعبۂ تعلیم کی اِصلاح‘ کئے بناء کسی بھی سرکاری و نجی محکمے یا شعبے کا معیار بلند نہیں کیا جا سکتا اُور یہی وجہ ہے کہ زبانی کلامی تعلیم کو محض ’پہلی اور آخری ترجیح‘ قرار دینا یا ہنگامی حالت کا نفاذ ہی کافی نہیں لیکن ’سزأوجزأ‘ کے مربوط نظام کے ذریعے تدریسی شعبہ جامع منصوبہ بندی کا متقاضی ہے جبکہ سرکاری سطح پر دستیاب مالی وسائل نمود و نمائش اور خودستائش پر نہیں بلکہ ’ہر ایک پائی‘ سرکاری تعلیمی اِداروں میں سہولیات کی فراہمی اُور اَساتذہ کی تربیت پر خرچ ہونی چاہئے۔

فن لینڈ (Finland) کی مثال موجود ہے‘ جہاں لازمی تعلیم کا عرصہ 9 سال (ایک سے نو گریڈ) پر محیط ہے اور سات سے سولہ سال کے ہر بچے کے لئے ’’لازمی‘‘ ہے کہ زیرتعلیم رہے گا۔ تصور کیجئے ایک ایسے ملک (فن لینڈ) کا تعلیمی نظام کہ جہاں خواندگی کی شرح سو فیصد ہے اور تین اپریل کو وہاں کی حکومت نے اعلیٰ تعلیم کی فیس مقرر کرنے کی ایک تجویز یہ کہتے ہوئے مسترد کردی کہ تعلیم کے لئے پیٹ کاٹ کر بھی وسائل اگر خرچ کرنا پڑیں تو یہ ’’گھاٹے کا سودا‘‘ نہیں ہوگا۔ کیا ہم اپنے ہاں ’فن لینڈ‘ جیسے تعلیمی نظام تو بہت دور کی بات لیکن ایسی سوچ ہی رائج کر سکتے ہیں جس میں ’تعلیم اور اِس سے جڑی تحقیق‘ کے شعبوں کے لئے مالی وسائل مختص کرتے ہوئے دیگر ضروریات کو کم ترین ترجیح پر رکھا گیا ہو؟ 

کیا ہمارے ہاں تعلیمی نظام کی بہتری کے لئے غور و خوض کا عمل بھی اُسی طاقت و توانائی سے جاری ہے‘ جیسا کہ ایک مغربی ملک میں رائج ہے۔ دنیا جان چکی ہے کہ خلاؤں کی وسعتوں سے لے کر ’زمین کی گہرائیوں‘ تک پھیلے وسائل سے استفادہ صرف اور صرف علوم کی ترقی اور ہر خاص و عام کے لئے تعلیم کے فروغ سے ممکن ہے لیکن ہمارے ہاں ابھی اِس حقیقت کا اعتراف کو عملی اطلاق کی نوبت نہیں آئی ۔۔۔ نجانے کب آئے گی؟


Saturday, March 18, 2017

Mar2017: Monitoring of the examination halls by CCTVs!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تعلیم: کاروباری سوچ اور اَزخود نوٹس!
کیا ہوا کہ اَگر ’مفادات سے متصادم‘ آئین سازی کا عمل ’تبدیلی کے عہد و عزم‘ کے باوجود بھی ’بروقت‘ مکمل نہیں ہو پایا لیکن اگر تربیت‘ اخلاق اُور ضمیر سیاسی فیصلہ سازوں کی ترجیحات و شخصیات کا حصہ اُور خود اُنہی کے لئے رہنما ہوتے تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ خیبرپختونخوا کے طول و عرض اُور بالخصوص ’تعلیمی اِداروں کے شہر‘ اَیبٹ آباد میں نئے تعلیمی سال کے آغاز پر نجی تعلیمی اِدارے یوں من مانی کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لیجاتے دکھائی دیتے! 

وفاق اُور صوبے کے اِمتحانی تعلیمی نگران اِداروں (بورڈز) اور حکومتوں کی موجودگی میں اگر کوئی نجی تعلیمی ادارہ نئے داخل ہونے والوں سے اِضافی ماہانہ فیسیں وصول کر رہا ہے یا اُس نے پہلے سے زیرتعلیم طلباء و طالبات کی ماہانہ فیسوں میں (کم سے کم) ’دس فیصد‘ کے تناسب سے اِضافہ کرنے کی روایت اِس سال بھی برقرار رکھی گئی ہے یا سیکورٹی (حفاظتی انتظامات) اُور ہم نصابی سرگرمیوں کے نام پر ہر سال اور ہر طالب علم سے لاکھوں روپے بٹورے جا رہے ہیں یا زیرتعلیم بہن بھائیوں کے ایک ہی سکول میں داخلے کی صورت ماہانہ فیسوں میں رعائت نہیں دی جا رہی یا نجی تعلیمی اداروں کی آمدن و اخراجات میں شفافیت کا یہ عالم ہے کہ سکولوں کی آمدنی سے خریدے گئے اپنے ہی اثاثوں کا کرایہ وصول کیا جاتا ہے‘ نجی سکولوں کے مالکان اپنے اہل و عیال کی بطور ملازمین دیگر عملے سے زیادہ تنخواہیں اور مراعات مقرر کر دیتے ہیں اور یوں آمدنی کا بڑا حصہ ایک جیب سے دوسری جیب میں منتقل کر دیا جاتا ہے اور عمومی تدریسی عملے کا استحصال ایک عمومی روش بن چکا ہے تو ایسی بہت سی دیگر بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں (خرابیوں) کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انتظامی طور پر قواعدوضوابط تو موجود ہیں لیکن اِن کا اطلاق کرنے میں متعلقہ نگران ادارے اِس لئے بھی ناکام ثابت ہو رہے ہیں کیونکہ تحریک انصاف کی قیادت میں صوبائی کابینہ اور وزیراعلیٰ کے آس پاس‘ مشیر و معاونین کی صورت ایسے کردار موجود ہیں جن کے یا تو براہ راست ذاتی مفادات نجی تعلیمی اِداروں سے وابستہ ہیں یا پھر وہ معلوم وجوہات کی بناء پر اِن اداروں کے مفادات کے محافظ بنے ہوئے ہیں۔ 

بنی گالہ کو ’اَزخود نوٹس‘ لینا چاہئے کہ یہی عناصر (مافیا) ’صوبائی سطح پر اُس تعلیمی ہنگامی حالت (اِیمرجنسی)‘ کی راہ میں بھی حائل ہیں جس کے تحت اب تک صوبائی حکومت اربوں روپے سرکاری تعلیمی اداروں میں سہولیات کی فراہمی اور معیار تعلیم بلند کرنے کے لئے اساتذہ کی تربیت و حاضری یقینی بنانے پر خرچ کر چکی ہے لیکن خاطرخواہ نتائج پھر بھی حاصل نہ ہونے کی وجوہات توجہ اور مطالعہ چاہتی ہیں کیونکہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری (نام اُور کام) عام آدمی (ہم عوام) کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے اور اگر ایسا کاغذی کاروائیوں کی بجائے عملاً ہوتا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ خیبرپختونخوا میں ’نجی تعلیمی اِدارے‘ لاچار والدین کی مجبوریوں سے یوں فائدہ اُٹھا رہے ہوتے؟ تصور کیجئے کہ اَگر صوبائی حکومت ’صارفین کے حقوق کی محافظ‘ بن جائے تو کیا ایسا ممکن ہوسکتا ہے کہ نجی تعلیمی اِدارے نہ صرف داخلہ فیسوں بلکہ ماہانہ فیسوں کی مد میں بھی ہر سال ’دس فیصد‘ کے تناسب سے یا من مانا اضافہ کر سکیں؟ سوچئے کہ بناء ہتھیار ڈاکہ جیسے جرم کا اطلاق کسی ایسے مجبور و لاچار کو لوٹنے والوں پر بھی تو کیا جا سکتا ہے جس کی آنکھوں میں اپنے بچوں کے اچھے مستقبل کے خواب بسے ہوں؟ 

اگر ’بنی گالہ‘ کو فرصت نہیں تو کیا ’پشاور ہائی کورٹ‘ اَزخود نوٹس لے گی کہ ایک طرف سرکاری تعلیمی اِداروں کا معیار تعلیم کم ترین سطح سے بلند کرنے کی سست رو کوششیں ہر سال ’امتحانی نتائج کے اعلان‘ پر ناکام ثابت ہوتی دکھائی دیتی ہیں تو دوسری طرف ’بہ اَمر مجبوری‘ نجی تعلیمی اِداروں سے استفادہ کرنے والوں کا واسطہ ایک ایسی حرص و طمع سے ہے‘ جس کی تسکین مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن دکھائی دے رہی ہے!

توجہ مرکوز رہے تو ضرورت اِس امر کی بھی ہے کہ اِمتحانی بورڈز کی کارکردگی اور ساکھ بہتر بنانے پر خاص توجہ دی جائے۔ سب سے پہلے تو ایک سے زیادہ اقسام کے امتحانی نظام متعارف کرانے سے پیدا ہونے والی مشکل حل کی جائے اور طلباء و طالبات کو تدریسی عمل کے دوران ’امتحانی طریقۂ کار‘ سے متعلق باقاعدہ تربیت دی جائے جس دوران ’امتحانی مراحل‘ طے کرنے کے لئے رہنمائی کے ساتھ کامیابی کے لئے ضروری ’اعتماد و نفسیات‘ بھی شامل ہونی چاہئے۔ دوسری ضرورت امتحانی بورڈز کی کارکردگی شفاف بنانے کی ہے جس کے لئے ’آن لائن‘ وسائل کا استفادہ کم خرچ حل موجود ہے۔ ہر طالب علم کو اُس کے پرچہ جات کے نمبروں (مارکنگ) تک ’آن لائن‘ رسائی دینے میں کیا امر (مشکل) رکاوٹ ہے؟ تیسری ضرورت ہر سال چند نجی تعلیمی اداروں کے مثالی امتحانی نتائج کی روایت سے اِس شک کو تقویت ملتی ہے کہ امتحانی مراکز و نگران عملہ اور پرچہ جات کی جانچ پڑتال کا عمل درجہ بہ درجہ خرابیوں کا مجموعہ ہے۔ مثال کے طور پر بہت پرانی بات نہیں جب محکمۂ ایکسائز ایبٹ آباد کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے جب نئی نویلی (زیرو میٹر) موٹر گاڑی روک کر اُس کی ملکیت کے کاغذات طلب کئے تو معلوم ہوا کہ مذکورہ گاڑی اِمتحانی بورڈ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے زیراستعمال ہیجبکہ اِس کے ملکیتی کاغذات ایک معروف نجی سکول کے پاس ہیں‘ جس کی انتظامیہ (مالک) اور بورڈ اہکار کے درمیان ’طے شدہ امتحانی نتیجہ‘ کے اعلان تک گاڑی کے ملکیتی کاغذات سکول ہی کے پاس رہیں گے! ایسی کئی دیگر مثالیں بھی موجود ہیں لیکن صرف اِسی ایک معمولی مثال سے پورے تعلیمی و اِمتحانی نظام کے معیار اُور نجی سکولوں کے اچھے نتائج کے درپردہ ’’طریقۂ واردات‘‘ کا پول کھل جاتا ہے۔

اَیبٹ آباد کے امتحانی نگران اِدارے (بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اَینڈ سیکنڈری اِیجوکیشن) نے امتحانات کے عمل کو شفاف بنانے کے لئے دوران امتحان ’مراکز‘ کی آن لائن مانیٹرنگ (محض نگرانی) کا فیصلہ کیا ہے جبکہ بورڈ کے پاس نہ تو اِس قدر بڑے پیمانے پر ’آن لائن نگرانی‘ کا نظام موجود ہے اور نہ ہی (نان کمرشل) دستیاب انٹرنیٹ کے وسائل ہی اِس قدر قابل بھروسہ ہیں کہ اُن پر کلی طور پر انحصار کیا جائے۔ یاد رہے کہ بورڈ کے زیرانتظام ہر سال ’’گیارہ لاکھ اَسی ہزار‘‘ سے زائد طلباء و طالبات کا امتحان لیا جاتا ہے اور اِس سال تین اپریل سے امتحانات کا سلسلہ شروع ہوگا۔ قوئ امکان ہے کہ ’آن لائن آلات‘ کی خریداری پر لاکھوں روپے خرچ کئے جائیں گے‘ جس کا مالی فائدہ فیصلہ سازوں اور آلات فراہم کرنے والے اداروں کو ہو گا لیکن جہاں تک نقل (اَن فیئر مینز) کی روک تھام کا تعلق ہے تو وہ آنکھیں کہاں سے آئیں گی‘ جنہیں اگر امتحانی مراکز میں تعینات کیا جائے تو (تجاہل عارفانہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے) بند رہتی ہیں لیکن کیا الیکٹرانک آلات کی مدد سے ’آن لائن‘ نگرانی کر پائیں گی! 

آخر ہم نے بدعنوانی سے ہار کیوں مان لی ہے؟ آخر ہم انسانی دانش و بصیرت اور ایمانداری پر بھروسہ کیوں نہیں کر پا رہے؟ کیا ہم ’صاحب کردار‘ ہونے کے دعویدار اتنے ہی ’قابل فروخت‘ ہو چکے ہیں کہ اَب مشینیں ’ہم اِنسانوں‘ کی نگرانی سے زیادہ ’قابل بھروسہ‘ ہوں گی؟
Online monitoring of the examination halls, another experiment