Wednesday, April 5, 2017

Apr2017: Business of education!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
گھاٹے کا سودا
نجی تعلیمی اِدارے ’’خیر محض‘‘ ہیں‘ جن کی گرانقدر خدمات سے نہ تو انکار ممکن ہے اور نہ ہی اِس بات لائق تردید ہے کہ ’نجی تعلیمی ادارے‘ عصری تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم کا ذریعہ ہیں اور یقیناًایک ایسی ضرورت پوری کر رہے ہیں‘ جس کا معیار گرچہ سوفیصد اطمینان بخش نہیں اور جن خدمات کی قیمت کئی گنا زیادہ وصول کی جا رہی ہے لیکن اَگر یہ ’نجی تعلیمی اِدارے‘ بھی نہ ہوتے تو کیا سرکاری سرپرستی میں ’درس و تدریس‘ کے اُس وسیع و عریض نظام پر بھروسہ کیا جاسکتا تھا‘ جس پر صوبائی خزانے سے سالانہ آمدنی کا پچاس فیصد سے زائد حصہ خرچ ہو رہا ہے لیکن خواندگی کے تعلیم وتحقیق کے شعبے میں اُن کا کردار ہر گزرتے دن کم ہو رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب سرکاری سکولوں سے فارغ التحصیل بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہوا کرتے تھے لیکن یہ تناسب کم ہو رہا ہے اور تعلیم چونکہ نصاب کی حد تک محدود نہیں رہی اِس لئے کسی اُستاد (معلم) اور کسی تعلیمی ادارے کا کردار محدود نہیں رہے! اِس لمحۂ فکریہ پر اگر خیبرپختونخوا حکومت کی شعبۂ تعلیم پر توجہ اور ترجیحات کا جائزہ لیا جائے تو سب سے زیادہ مالی وسائل مختص کرنے کے باوجود بھی سرکاری تعلیمی اداروں کے نتائج میں وہ بہتری نہیں آ سکی‘ جس کی بنیاد پر یہ ادارے کشش کا باعث ہوں۔ 

پانچویں جماعت (پرائمری سے مڈل) تک معیار تعلیم مساوی بنانے کی کوششیں زیادہ غوروخوض کی متقاضی ہیں کیونکہ ’شعبۂ تعلیم کی اِصلاح‘ کئے بناء کسی بھی سرکاری و نجی محکمے یا شعبے کا معیار بلند نہیں کیا جا سکتا اُور یہی وجہ ہے کہ زبانی کلامی تعلیم کو محض ’پہلی اور آخری ترجیح‘ قرار دینا یا ہنگامی حالت کا نفاذ ہی کافی نہیں لیکن ’سزأوجزأ‘ کے مربوط نظام کے ذریعے تدریسی شعبہ جامع منصوبہ بندی کا متقاضی ہے جبکہ سرکاری سطح پر دستیاب مالی وسائل نمود و نمائش اور خودستائش پر نہیں بلکہ ’ہر ایک پائی‘ سرکاری تعلیمی اِداروں میں سہولیات کی فراہمی اُور اَساتذہ کی تربیت پر خرچ ہونی چاہئے۔

فن لینڈ (Finland) کی مثال موجود ہے‘ جہاں لازمی تعلیم کا عرصہ 9 سال (ایک سے نو گریڈ) پر محیط ہے اور سات سے سولہ سال کے ہر بچے کے لئے ’’لازمی‘‘ ہے کہ زیرتعلیم رہے گا۔ تصور کیجئے ایک ایسے ملک (فن لینڈ) کا تعلیمی نظام کہ جہاں خواندگی کی شرح سو فیصد ہے اور تین اپریل کو وہاں کی حکومت نے اعلیٰ تعلیم کی فیس مقرر کرنے کی ایک تجویز یہ کہتے ہوئے مسترد کردی کہ تعلیم کے لئے پیٹ کاٹ کر بھی وسائل اگر خرچ کرنا پڑیں تو یہ ’’گھاٹے کا سودا‘‘ نہیں ہوگا۔ کیا ہم اپنے ہاں ’فن لینڈ‘ جیسے تعلیمی نظام تو بہت دور کی بات لیکن ایسی سوچ ہی رائج کر سکتے ہیں جس میں ’تعلیم اور اِس سے جڑی تحقیق‘ کے شعبوں کے لئے مالی وسائل مختص کرتے ہوئے دیگر ضروریات کو کم ترین ترجیح پر رکھا گیا ہو؟ 

کیا ہمارے ہاں تعلیمی نظام کی بہتری کے لئے غور و خوض کا عمل بھی اُسی طاقت و توانائی سے جاری ہے‘ جیسا کہ ایک مغربی ملک میں رائج ہے۔ دنیا جان چکی ہے کہ خلاؤں کی وسعتوں سے لے کر ’زمین کی گہرائیوں‘ تک پھیلے وسائل سے استفادہ صرف اور صرف علوم کی ترقی اور ہر خاص و عام کے لئے تعلیم کے فروغ سے ممکن ہے لیکن ہمارے ہاں ابھی اِس حقیقت کا اعتراف کو عملی اطلاق کی نوبت نہیں آئی ۔۔۔ نجانے کب آئے گی؟


No comments:

Post a Comment