Showing posts with label Twitter. Show all posts
Showing posts with label Twitter. Show all posts

Friday, April 14, 2023

Social Media: neediness and weakness

 ژرف نگاہ  …… شبیرحسین اِمام

اظہار ِرائے: محتاجی اُور ضعف

پہلا مرحلۂ فکر: ٹیکنالوجی کی دنیا پر ’حکمرانی‘ کا تعلق اہلیت سے نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام سے ہے اُور شاید یہی وہ وقت کا ’دجال‘ ہے جس نے معیشت سے دفاع اُور دفاع سے اظہار رائے تک ’عالمی اجارہ داری‘ قائم کر رکھی ہے۔ دنیا کی سات بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں 5 کا تعلق امریکہ سے ہے۔ امریکی ایپل (apple) 380 ارب ڈالر سالانہ آمدنی کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ دیگر کمپنیوں میں امریکہ کی ایلفابیٹ (Alphabet) 260 ارب ڈالر سالانہ‘ جنوبی کوریا کی سام سنگ (Samsung) 245 ارب ڈالر سالانہ‘ تائیوان کی ہان ہائی پریسیشن (Hon Hai Precision) 215 ارب ڈالر سالانہ‘ امریکہ کی مائیکرو سافٹ 185 ارب ڈالر سالانہ‘ امریکہ ہی کے میٹا پلیٹ فارم (فیس بک) 120 ارب ڈالر سالانہ اُور امریکی ڈیل (Dell) 110 ارب ڈالر سالانہ آمدنی رکھتی ہے۔ جب معلوم ہے کہ دنیا پر ٹیکنالوجی کی حکمرانی ہے تو اِس شعبے میں عصری اُور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے خاطرخواہ تعلیم و تحقیق میں سرمایہ کاری نہ کرنا ’مجرمانہ غفلت‘ ہے اُور بہتری اِسی میں ہے کہ جلد از جلد غفلت کو ترک کر کے حقائق کا ادراک کیا جائے کیونکہ یہی ٹیکنالوجی معاشی بہتری و آزادی کے علاؤہ قومی سلامتی و دفاع کے لئے بھی ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔

دوسرا مرحلۂ فکر: امریکہ کی معروف کاروباری شخصیت ایلون مسک (Elon Musk) ہر سیکنڈ ’پانچ سو ڈالر‘ یعنی ہر منٹ ’تیس ہزار ڈالر‘ یعنی ’بیس لاکھ ڈالر‘ فی گھنٹہ‘ یعنی ’چار کروڑ ڈالر‘ یومیہ یعنی ’تیس کروڑ ڈالر‘ ہر ہفتے یعنی ’ایک ارب ڈالر‘ ہر مہینے یعنی سالانہ ’پندرہ ارب ڈالر‘ آمدنی رکھتے ہیں۔ ایک ایسے ’کھرب پتی‘ شخص جس کی آمدنی میں ہر سال اربوں ڈالرز کا اِضافہ ہو رہا ہے‘ جب اُس نے سال 2022ء کے دوران سماجی رابطہ کاری کی معروف ویب سائٹ ’ٹوئیٹر (twitter)‘ بمعہ ادارے 44 ارب ڈالر کے عوض خریدی تو اُمید یہ تھی کہ اِس اقدام سے ’ٹوئیٹر‘ میں مزید سرمایہ کاری کی جائے گی۔ ٹوئیٹر نئی خدمات متعارف کروائے گا اُور بالخصوص یہ کہ اِس کی مفت فراہم کی جانے والی سہولیات کو زیادہ وسیع اُور معیاری بنایا جائے گا لیکن ٹوئیٹر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) بننے کے بعد ’51 سالہ‘ ایلون مسک نے نہ صرف ٹوئیٹر کمپنی کے اخراجات کم کرنے کے لئے ملازمین کی بڑی تعداد کو فارغ کیا بلکہ ایک اُور نہایت ہی متنازع فیصلہ کرتے ہوئے ٹوئیٹر کی خصوصی تصدیقی خدمت (بلیو چیک مارک Blue Checkmark) جو پہلے مفت فراہم کی جاتی تھی اُس کی قیمت ’8 امریکی ڈالر‘ مہینہ مقرر کر دی اُور کہا کہ ”ٹوئیٹر خریدنے کے وقت یہ اِدارہ ’3 ارب ڈالر سالانہ خسارہ‘ کر رہا تھا جسے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اُور منافع بخش بنانے کے لئے ملازمین کا بوجھ کم کیا گیا ہے جبکہ ’مصدقہ خدمات‘ کی قیمت (آٹھ ڈالر ماہانہ) مقرر کی گئیں ہیں اُور اُمید ہے کہ ٹوئیٹر صارفین تعاون کریں گے۔“ ذہن نشین رہے کہ ایلون مسک کے اثاثوں کی کل مالیت 200 ارب ڈالر سے زیادہ ہے! رواں ہفتے جب ٹوئیٹر کی جانب سے باقاعدہ اعلان کیا گیا کہ تصدیق شدہ ٹوئیٹر اُن کھاتوں (اکاؤنٹس) سے ’بلیو چیک مارک‘ کو ہٹا دیا جائے گا جو ماضی میں مفت فراہم کئے گئے تھے اُور اِس سلسلے میں ’20 اپریل 2023ء‘ کی آخری تاریخ (ڈیڈ لائن) مقرر کر دی گئی ہے جس کے بعد صرف وہی ٹوئیٹر اکاؤنٹ تصدیق شدہ ہونے کا اعزاز رکھیں گے جو اِس کی مقررہ قیمت اَدا کرنے کی مالی سکت رکھیں گے۔ اندازہ ہے کہ ’2 لاکھ 94 ہزار‘ ٹوئیٹر صارفین کے اکاؤنٹس ’تصدیق شدہ‘ ہیں اُور اِن میں سے اگر نصف بھی آٹھ ڈالر ماہانہ کے عوض اپنے اکاؤنٹ کی دوبارہ تصدیق خریدتے ہیں تو اِس سے ٹوئیٹر کو ماہانہ 7 لاکھ 76 ہزار ڈالر ماہانہ ہو گی جبکہ کمپنی کو اِس اقدام سے کم سے کم ’10 لاکھ (ایک ملین) ڈالر ماہانہ‘ آمدنی متوقع ہے۔ سال دوہزاربائیس کے اختتام پر ٹوئیٹر کے پوری دنیا میں فعال صارفین کی تعداد 45 کروڑ (450ملین) سے زیادہ تھی جن میں پاکستان کے 30 لاکھ (تین ملین) سے زیادہ صارفین بھی شامل ہیں۔ ذہن نشین رہے کہ ’8 امریکی ڈالر‘ پاکستانی کرنسی (PKR) میں 2300 روپے ہوتے ہیں۔

تیسرا مرحلۂ فکر: ٹوئیٹر کی جانب سے صارفین کے کھاتوں (اکاؤنٹس) کی قیمت مقرر کرنے کا ”نقصان“ یہ ہوا ہے کہ 8 امریکی ڈالر ادا کر کے اب کوئی بھی شخص تصدیق شدہ ٹوئیٹر اکاؤنٹ حاصل کر سکتا ہے جو اِس سے قبل صرف معروف کاروباری‘ سیاسی‘ فلمی شخصیات یا پیشہ وروں جیسا کہ صحافیوں کو ایک مرحلہ وار تصدیقی عمل کی تکمیل کے بعد جاری کیا جاتا تھا تاکہ اُن کے نام سے ملتا جلتا اکاؤنٹ بنا کر کوئی غلط معلومات نہ پھیلائے یا معروف شخصیات سے منسوب فرضی (جعلی) پیغامات نہ پھیلائے جائیں۔ سوشل میڈیا پر معلومات کی تصدیق کا یہ طریقہ متعارف کرانے کے بعد ’ٹوئیٹر‘ کی پیروی کئی دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے بھی کی لیکن جب سے ’آٹھ ڈالر کے عوض تصدیق شدہ اکاؤنٹ فروخت کیا جا رہا ہے‘ تو ٹوئیٹر کی آمدنی میں تو اضافہ ہوا ہے لیکن سوشل میڈیا کا ایک انتہائی معتبر ذریعہ اپنی وقعت و انفرادیت کھو گیا ہے۔ تصور کریں کہ کئی سربراہان مملکت کے علاؤہ قومی سلامتی اُور خارجہ امور کے اہم ادارے ٹوئیٹر ہی کے ذریعے اپنا مؤقف بیان کرنے کے عادی ہو چکے ہیں اُور اگر پاکستان کو دیکھا جائے تو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ٹوئیٹر کے سب سے مقبول رہنما ہیں جنہیں 1 کروڑ 90 لاکھ (19 ملین) سے زیادہ ٹوئیٹر صارفین ’فالو‘ کر رہے ہیں۔ نواز شریف کے ٹوئیٹر فالوورز کی تعداد دس لاکھ (ایک ملین)‘ بلاول بھٹو زرداری پچاس لاکھ (پانچ ملین) اُور شہباز شریف کے 66 لاکھ (چھ اعشاریہ چھ ملین) فالوورز ہیں۔ اِسی طرح پاکستان کے اہم قومی ادارے جیسا کہ دفتر خارجہ کے چار لاکھ اکسٹھ ہزار سے زیادہ‘ الیکشن کمیشن کے ستانوے ہزار سے زیادہ‘ نادرا (تین لاکھ سے زیادہ)‘ اسٹیٹ بینک آف پاکستان چار لاکھ پینسٹھ ہزار سے زیادہ  اُور پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے ویریفائیڈ اکاؤنٹ کے باسٹھ لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں۔

چوتھامرحلۂ فکر : ٹوئیٹر کی تصدیق شدہ اُور غیر تصدیق شدہ اکاؤنٹس کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی کے بعد کیا قومی اداروں کو ’ٹوئیٹر‘ استعمال کرنا چاہئے اُور اگر پاکستان کی سیاسی شخصیات اُور اداروں کے بیانات اُور سرگرمیوں سے فوری آگاہ ہونے کے لئے (مجموعی طور پر) 2 کروڑ سے زیادہ ٹوئیٹر کا استعمال کر رہے ہیں تو وقت ہے کہ ایک الگ ’سوشل میڈیا پلیٹ فارم‘ کا آغاز ہونا چاہئے اُور مسلم ممالک کے لئے یہی وہ مناسب وقت ہے کہ وہ ’ٹوئیٹر‘ کی طرز پر سماجی رابطہ کاری کا آغاز کریں جیسا کہ کامسیٹس کی صورت ایک مشترکہ سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق کا ادارہ بنایا گیا تھا یہ الگ بات ہے کہ اُس ادارے کا قیام پاکستان میں کیا گیا لیکن اِس نے اُمت مسلمہ کے لئے ٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق جیسی ضرورت کو پورا نہیں کیا ہے ورنہ آج مسلم دنیا کسی ٹوئیٹر‘ فیس بک‘ یوٹیوب یا گوگل جیسے اداروں کی محتاج نہ ہوتی!

اے مرغک ِبیچارہ! ذرا یہ تو بتا تو

تیرا وہ گنہ کیا تھا‘ یہ ہے جس کی مکافات؟

افسوس‘ صد افسوس کہ شاہیں نہ بنا تو

دیکھے نہ تری آنکھ نے فطرت کے اشارات

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ ِمفاجات!

……




Monday, September 21, 2015

Technology not in focus!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
نظرانداز ٹیکنالوجی!
پاکستان ٹیلی کیمونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں برق رفتار انٹرنیٹ بذریعہ موبائل فون تھری جی (3G) اُور فور جی (4G) کے متعارف ہونے سے صارفین کی تعداد ’ایک کروڑ پچاس لاکھ‘ سے تجاوز کر گئی ہے!‘‘ تاہم دیہی علاقوں میں ملک کی ستر فیصد آبادی کی اکثریت زراعت سے وابستہ معیشت و معاشرت رکھتی ہے جس میں ’انٹرنیٹ‘ کا عمل دخل نہ ہونے کے برابر ہے۔ شہری علاقوں میں غریب و متوسط طبقات کا انٹرنیٹ سے استفادہ بھی واجبی ہے جبکہ طرز حکمرانی (گورننس) اُور درس و تدریس جیسے شعبوں میں انٹرنیٹ سے استفادہ عام کرنے کے وسیع امکانات سے تاحال خاطرخواہ فائدہ نہیں اُٹھایا جاسکا ہے۔ نوجوان نسل کی اکثریت کے لئے انٹرنیٹ صرف اور صرف تفریح کا ایک ایسا ’قابل اعتماد ذریعہ‘ ہے کہ جس پر مکمل بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر انٹرنیٹ کی موجودگی میں ہر نئی فلم‘ گانا‘ پروگرام اور کرکٹ کی براہ راست نشریات دیکھی جا سکتی ہیں۔ واٹس ایپ‘ وائبر‘ فیس بک میسنجر یا فیس ٹائم کے ذریعے نہایت ہی رازداری سے کسی بھی خاص دلچسپی کے گروہ (گروپ) یا انفرادی حیثیت میں جانے انجانے ہم خیالوں سے تبادلۂ خیال ممکن ہے۔ انٹرنیٹ کے اِس پورے منظرنامے میں نوجوان نسل بالخصوص طلباء و طالبات کی رہنمائی کا سامان ہونا چاہئے تاکہ محض اچھے بُرے کی تمیز نہ ہو بلکہ انٹرنیٹ وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے تحقیق و تحریر کے موضوعات میں دلچسپی بڑھے لیکن ہمارے ہاں ٹیکنالوجی کا استعمال اتنا ہی محدود اُور نمودونمائشی پر مبنی نظر آتا ہے‘ جتنا کہ اس میں وسعت ہے۔

مقبول ترین سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر (twitter)‘ ہی کی مثال لیں جس کا سیاسی و غیرسیاسی پیغامات کی تشہیر کے لئے استعمال تیزی سے مقبول ہو رہا ہے لیکن یہاں صورتحال یہ ہے کہ جعلی اکاونٹس کی بھرمار ہے جنہیں سیاسی جماعتوں کی جانب سے دوسروں کو تنقید کا نشانہ بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ شاید ہی پاکستان کی کوئی ایک بھی ایسی مشہور شخصیت ملے‘ جس کے نام سے جعلی اکاونٹ گردش میں نہ ہو۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سربراہ سردار رضا کے نام سے اکاونٹ کی تردید الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر مستقل چسپاں ہے‘ جس کا مطلب ہے کہ انٹرنیٹ اور بالخصوص سماجی رابطہ کاری کرنے والے اخلاقیات کو کم اہمیت دیتے ہیں اور اِس بے راہروی کا سبب رہنمائی کا فقدان ہے۔ اگرچہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے دو کروڑ سے زائد ٹوئٹر اکاونٹس ہیں‘ تاہم اِن میں فعال اور حقیقی اکاونٹس کی تعداد چند لاکھ سے زیادہ نہیں۔ خوش آئند ہے کہ ’ٹوئٹر استعمال کرنے کی بجائے اِسے سمجھنے والوں کی تعداد میں اضافہ‘ ہو رہا ہے اور اگر پروموشن کے علاؤہ بھی موبائل کمپنیاں ’ٹوئٹر‘ کے مفت استعمال کی ترغیب و تشہیر کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ صارفین کی طرح پروگرامرز اور فیصلہ سازوں کی توجہ بھی اِس جانب مبذول ہو گی اور صحت و تعلیم جیسے کلیدی شعبوں میں اِس سے استفادہ کیا جانے لگے گا بالخصوص جہاں معلومات کی فوری ترسیل درکار ہو‘ وہاں ٹوئٹر کے ذریعے ٹریفک اور موسم کے بارے میں اعدادوشمار کی فوری تشہیر ممکن ہے‘ جبکہ ملکی و غیرملکی سیاحوں کو ہوائی جہاز‘ ریل گاڑی‘ دیگر سفری وسائل کے اُوقات یا اُن میں کسی وجہ تبدیلی سے متعلقہ افراد کو فوری آگاہ کرنے کا اِس سے بہترین‘ سہل اور صاف ستھرا ذریعہ کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا لیکن ضرورت اِس امر کی ہے کہ ٹوئٹر کی طرز پر پاکستان کا اپنا تشہیری نیٹ ورک ہونا چاہئے‘ جیسا کہ کئی ممالک نے ٹوئٹر کا متبادل تلاش کر لیا ہے اور اِس سلسلے میں ’ٹاپ فائیو‘ متبادل ویب سائٹس بھی یکساں مقبول ہو رہی ہیں جو ٹوئٹر کے 140 الفاظ پر مشتمل پیغام کے مقابلے زیادہ تفصیل سے پیغام رسانی کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔ اِن میں بالترتیب ٹمبلر ڈاٹ کام (tumblr.com)‘ پلرک ڈاٹ کام (plurk.com)‘ ایپ ڈاٹ نیٹ (app.net)‘ سوپ ڈاٹ آئی اُو (Soup.io)‘ اُور کیک (keek.com) شامل ہیں۔
http://www.socialbakers.com نامی ویب سائٹ کے مطابق ٹوئٹر کے نقشے پر پاکستان کے سب سے زیادہ مقبول صارف تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان (@ImranKhanPTI) ہیں جن کا ہر دیا ہوا پیغام 28 لاکھ 41 ہزار سے زائد ٹوئٹر صارفین تک پہنچتا ہے۔ دوسرے نمبر پر کرکٹ کھلاڑی وسیم اکرم (@wasimakramlive) ہیں جنہیں 16 لاکھ 83ہزار سے زائد اور تیسرے نمبر پر سیاسی تجزیہ کار مبشر لقمان (@mubasherlucman) ہیں جن کی آرأ جاننے کے لئے 16 لاکھ 14 ہزار سے زائد ٹوئٹر صارفین اُنہیں پسند (follow) کر رہے ہیں تاہم 20ستمبر 2015ء کو حاصل کردہ اعدادوشمار مستقل ہیں بلکہ اِن میں ردوبدل ہوتا رہتا ہے۔ ٹوئٹر استعمال کرنے والے ’ٹاپ ٹین‘ دیگر پاکستانیوں میں صحافی حامد میر(@HamidMirGeo)‘ تحریک انصاف کا آفیشل اکاونٹ(@PTIofficial)‘ وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز(@MaryamNSharif)‘ پاک فوج کے ترجمان عاصم باجوہ(@AsimBajwaISPR)‘ تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر(@Asad_Umar)‘ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد (ShkhRasheed) اُور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف (@CMShehbaz) بالترتیب چوتھے سے دسویں نمبروں پر جگمگا رہے ہیں۔

کسی ٹوئٹر صارف کی ہفتہ وار سرگرمیوں کا اَندازہ اُس کے پیغامات یا تبصروں سے باآسانی لگایا جاسکتا ہے لیکن اگر کسی صارف کے بارے میں یہ جاننا مقصود ہو کہ وہ گذشتہ ایک ہفتے میں چوبیس گھنٹے کے دوران ’ٹوئٹر‘ پر ہونے والی بحث میں کتنی دلچسپی سے حصہ لیتا رہا ہے تو اس کے لئے http://xefer.com نامی ویب سائٹ پر اُس صارف کا ٹوئٹر ہیڈنلر مثال کے طور پر @peshavar کا اندراج کریں تو آپ کے سامنے گراف کی صورت پوری صورتحال کا بیان آ جائے گا۔ اِس بلاقیمت سہولت کی بنیاد پر آپ کو یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ وہ کوئی صارف دن کے کن کن اوقات میں ٹوئٹر استعمال کرتا ہے یا اُس کے رجحانات (ہیش ٹیگز) یا آرام اور کام کرنے کے اُوقات کیا ہیں وغیرہ۔ اُس نے کتنے ٹوئٹ پیغامات کو من و عن دوسروں تک پہنچایا‘ اِس عمل کو ٹوئٹر کی دنیا میں ’ری ٹویٹ‘ کرنا کہا جاتا ہے۔ اِنٹرنیٹ وسائل عام کرنے سے متعلق سوچتے ہوئے مستقبل کی ضروریات اور تقاضوں کو مدنظر رکھنا چاہئے‘ جب پوری دنیا جی ایس ایم (موبائل) نیٹ ورکس کی بجائے صرف اور صرف انٹرنیٹ استعمال کر رہی گی اور وہ دن زیادہ دور بھی نہیں رہا۔