Showing posts with label Muharram ul Harram. Show all posts
Showing posts with label Muharram ul Harram. Show all posts

Saturday, August 6, 2022

Way of blessed Muharram

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

.... محتاط عادات و عبادات 

کورونا وبا سے خبردار کرتے ہوئے ”نیشنل اِنسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH)“ نے محرم الحرام کی مناسبت سے منعقد ہونے والے اجتماعات و تقاریب کے شرکا پر زور دیا کہ وہ ’کوویڈ احتیاطی تدابیر (SOPs)‘ پر عمل درآمد کریں بالخصوص ایسے پرہجوم مقامات پر زیادہ دیر ٹھہرنے سے گریز کیا جائے جن کا انعقاد اندرون خانہ (اِن ڈور) مقامات پر ہو۔ ’ہیلتھ پروٹوکول‘ پر عمل درآمد اُور سماجی دوری اختیار کرنے سے متعلق یہ ہدایات حالیہ چند ہفتوں کے دوران کورونا جرثومے (وائرس) سے پھیلنے والی بیماری (انفیکشن) میں غیرمعمولی (تشویشناک) اضافے کے سبب جاری کی گئی ہیں۔ ’این آئی ایچ‘ کے ٹوئیٹر اکاو¿نٹ (@NIH_Pakistan) سے جاری ہونے والے پیغام میں کورونا وبا کی انتہا درجے صورت کو ناقابل لاعلاج قرار دیا گیا ہے‘ جس سے محفوظ رہنے کے لئے سماجی فاصلہ برقرار رکھنے اُور ماسک پہننے اُور کورونا ویکسینیشن مکمل کروانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ذہن نشین رہے کہ یکم محرم الحرام کے روز جاری کردہ اعدادوشمار سے ظاہر ہے کہ کورونا ”3.29 فیصد“ کی شرح سے پھیل رہا ہے یعنی ہر 100 افراد میں سے ساڑھے تین افراد کورونا وبا کا شکار پائے گئے ہیں ملک بھر میں 661 کورونا مریض سامنے میں سے ایک کی موت اُور 171 انتہائی نگہداشت مراکز میں زیرعلاج ہیں۔ فروری دوہزار اُنیس سے پاکستان میں مجموعی طور پر ’ساڑھے پندرہ لاکھ (1.56ملین) سے زائد افراد کورونا سے متاثر جبکہ کورونا سے ساڑھے تیس ہزار (30,503) افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ قومی سطح پر ماہرین صحت کو اندیشہ ہے کہ محرم الحرام کے پہلے عشرے کے بعد کورونا وبا پھیلنے کی زیادہ شرح سامنے آئے گی کیونکہ کورونا سے بچاو¿ کے بارے میں بالعموم عوامی رویئے حساس نہیں ہیں۔

محرم الحرام کے دوران ”محتاط عادات و عبادات“ کے حوالے سے خیبرپختونخوا کے محکمہ¿ صحت نے بھی ہدایات جاری کی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے کورونا کی پہلی اُور دوسری ویکسینیشن مکمل کر لی ہے اُور اُنہوں نے پہلی بوسٹر ڈوز (تیسرا ٹیکہ) بھی لگوا لیا ہے وہ فی الفور کسی بھی قریبی ویکسینیشن سنٹر سے دوسری بوسٹر ڈوز (چوتھا ٹیکہ) لگوا لیں۔ ”کورونا وائرس بوسٹر جابس“ کہلانے والے اِن ٹیکوں کے لئے صوبائی سطح پر خصوصی مہم پچیس جولائی سے جاری ہے اُور پچیس اگست کے روز ختم ہو جائے گی۔ قومی اُور صوبائی سطح پر محکمہ¿ صحت کے فیصلہ ساز کورونا وبا کی نئی لہر کے حوالے سے اِس لئے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کیونکہ اِس متعدی بیماری کی کئی نئی اقسام ظاہر ہو رہی ہیں اُور اِس صورتحال میں صرف وہی لوگ کورونا وبا کے انتہائی مضر اثرات سے محفوظ رہ سکتے ہیں‘ جن کے جسم میں نئی اقسام کے جرثوموں کے خلاف قوت مدافعت موجود ہو اُور صرف اِسی کورونا کے پھیلاو¿ کو روکا جا سکتا ہے۔ 

”نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر“ کی جانب سے بھی ’کورونا وبا‘ کے بارے میں نئے رہنما اصول جاری کئے گئے ہیں جن کے مطابق ملک کے طول و عرض میں سرکاری ہسپتال اُور ٹیکہ جات مراکز (ویکسی نیٹرز سنٹرز) مکمل حفاظتی ٹیکے لگانے والے افراد کو پہلی اور دوسری بوسٹر خوراک دے رہے ہیں۔ کوشش یہ ہے کہ بارہ سال سے زائد عمر کے 80فیصد آبادی کو کورونا ٹیکہ لگایا جائے۔ ایک ماہ دورانئے پر مشتمل جاری خصوصی ویکسینیشن مہم‘ امیونائزیشن توسیعی پروگرام کا حصہ ہے جس کے تحت کورونا کا دوسرا ٹیکہ لگوانے کے چھ ماہ بعد پہلی بوسٹر شاٹ اُور اِس کے چار ماہ بعد دوسری بوسٹر لینے کی ضرورت ہے۔ توجہ طلب ہے کہ ماسوائے ضلع چارسدہ خیبرپختونخوا کے کسی بھی ضلع میں 80فیصد کورونا ویکسینیشن مکمل کرنے کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکا ہے۔ اِسی طرح خیبرپختونخوا کے صرف چار اضلاع ایسے ہیں جہاں کے 30فیصد رہائشیوں نے پہلی بوسٹر ڈوز لگوا رکھی ہے لیکن اُن کی اکثریت دوسری بوسٹر ڈوز لگوانے کے لئے نہیں آ رہی جبکہ وہ دوسری بوسٹر ڈوز لگوانے کے اہل ہو چکے ہیں۔ محکمہ¿ صحت نے ’ہیلتھ مراکز‘ کے علاو¿ہ گھر گھر جا کر بھی کورونا ویکسینیشن لگانے کی مشق شروع کر رکھی ہے اُور کوشش کی جا رہی ہے کہ یومیہ 80 ہزار ’کورونا ٹیکے‘ لگانے کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔ خیبرپختونخوا کے لئے کورونا ویکسینیشن پہلے ہی وافر مقدار (حسب ضرورت) حاصل کر لی گئی ہے اُور حکام کے مطابق ضرورت پڑنے پر مزید ویکسین حاصل کی جا سکتی ہے۔ محکمہ¿ صحت کا ہدف اِس بات کو یقینی بنانا ہے کہ خیبرپختونخوا کے تمام یعنی ’چھتیس اضلاع‘ میں اکثریت کی زندگی کو ’کورونا ویکسینیشن‘ کے ذریعے محفوظ بنایا جا سکے اُور اِس مقصد کے لئے ایک ہزار سے زیادہ ویکسینیشن مراکز قائم کئے گئے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پولیو کی طرح کورونا وبا کے بارے میں بھی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں‘ جن کے ازالے کی کوششیں سوفیصدی کامیاب نہیں ہو رہیں اُور خیبرپختونخوا کے ہر ضلع میں ایسے لوگ موجود ہیں‘ جو کورونا کی ابتدائی (پہلی) ویکسین تک کروانے کو تیار نہیں ہیں اُور اِسے ایک فرضی وبا سمجھا جا رہا ہے۔ کورونا ویکسینیشن نہ کروانے کی دوسری وجہ یہ غلط تاثر ہے کہ ”کورونا وبا ختم ہو گئی ہے“ حالانکہ اِس وبا سے متاثرین کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ کورونا ویکسینیشن کے بارے میں غلط اُور گمراہ کن معلومات یا نظریات پھیلانے والے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں جہاں من گھڑت ماہرین کے ناموں اُور تحقیق کا حوالہ دے کر سادہ لوح سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ اِس سلسلے میں سوشل میڈیا صارفین ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے ایسے کسی پیغام کو پھیلانے میں آلہ¿ کار نہ بنیں‘ جس میں کورونا وبا کو فرضی یا اِس کی ویکسینیشن کو مضرصحت قرار دیا گیا ہو۔ ذہن نشین رہے کہ پہلا اور دوسرا بوسٹر شاٹ (ٹیکہ جات کورس) انتہائی اہم ہے اُور صرف یہی ایک صورت ہے جس کے ذریعے کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لئے جسمانی قوت مدافعت کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ صورتحال کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں کورونا ویکسینیشن لگوانے کی شرح ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے کم جبکہ کورونا سے اموات کی شرح زیادہ ہے اُور اگر کورونا کی نئی اقسام کو خاطر میں نہ لایا گیا تو اندیشہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس کی نئی اقسام کے حملے اُور وبا کی چھٹی لہر کے دوران متاثرہ مریضوںکی تعداد زیادہ ہوگی۔

....

Clipping from Daily Aaj Peshawar Dated 6 August 2022 Saturday


Sunday, July 24, 2022

Knowledge for peace

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

العلم

اِنسان نے اپنی لاعلمی کا اعتراف ہر دور میں کیا اُور یہی وجہ ہے کہ انسانی معاشروں میں صدیوں سے اِس مسلمہ اصول پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ ”علم صرف حقیقت نہیں بلکہ علم ہی حقیقت ہے‘ جسے انسانی معاشرہ معلومات و تجربات سے اخذ یا حاصل کرتا ہے اُور اِس حاصل شدہ مرکب کی جامعیت کے لئے جو اصول وضع کئے گئے ہیں اُن کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ انسانی معاشروں میں تعمیر و ترقی ہونی چاہئے۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ علم کے کسی خاص حد سے زیادہ ہونے کے بعد اِس کے بطن سے تخریبی عوامل کا ظہور ہونا شروع ہو جاتا ہے اُور یہ علم کے ارتقا اُور معاشرے میں پائی جانے والی علم کی ضرورت (طلب) کا ایک نہایت ہی بدلا (نکھرا) ہوا تصور ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا اپنا حاصل کردہ اُور تخلیق کردہ علم نامکمل ہے اُور اِسے جامع بنانے کے لئے ضروری ہے کہ انسانی معاشروں میں پائے جانے والے ”علم“ کو سیال بنایا جائے یعنی علم کے دامن میں اِس قدر گنجائش ہو کہ یہ مختلف نظریات‘ آرا‘ تجاویز‘ تاثرات‘ تشریحات اور تعبیرات کو سمو سکے اُور اپنے ہی وضع کردہ اصولوں پر نظرثانی کرنے جیسے ظرف کا بھی حامل ہو۔

علم کیا ہے؟

مصنفین (اساتذہ) کا نقطہ نظر ہے کہ یہ درحقیقت رجحانات‘ دلچسپیوں اور ان کے لئے دستیاب ذرائع کی بنیاد پر حاصل ہونے والا ”تاثر“ بنیادی جبکہ اِس ایک تاثر سے اُبھرنے والے تاثرات کا مجموعہ جامع ”علم“ ہے۔ علم اُور ”تعمیر نو“ کے حوالے سے علامہ اقبالؒ کے خطبات موجود ہیں لیکن اگر اُن سبھی تصورات کو کسی ایک تصور کے سانچے میں ڈھال کر پیش کیا جائے تو اُس کا عنوان ”علم فی نفس“ ہوگا۔ یہ موضوع وسیع ہے اُور یہاں صرف اشارتاً ذکر کیا جا رہا ہے کہ آج کا انسان ہر شے کے بارے میں خود سے زیادہ آشنا ہے لیکن اِسے اپنے اندر جھانکنے کی فرصت نہیں کہ جہاں اربوں برس کا ارتقائی علم محفوظ ہے۔ بہرحال ’علم فی نفس‘ کے بارے میں لاتعداد نکتہ ہائے نظر موجود ہیں اُور اِس ایک عنوان کو سمجھنے اُور بیان کرنے کے لئے قرآن و احادیث مبارکہ کے تراجم و تفاسیر‘ تاریخ اُور فقہ کی کتابوں کے علاؤہ فتاویٰ سے بھی مدد لی جا سکتی ہے تاکہ علم کی حقیقت (بنیاد) تک بنا بھٹکے پہنچا جا سکے۔ علم کسی ایک ہی بیان یا حقیقت کے متعدد پہلو اُور اِن پہلوؤں کے مختلف نظریات ہوسکتے ہیں۔ کسی خاص معاملے میں قانونی یا اخلاقی پہلو‘ کئی طرح کے احکام بھی علم ہی میں شامل ہیں۔ توجہ طلب ہے کہ ہر مصنف (معلم) کسی واقعہ یا اپنے بیان (علمی نظریئے) کی ”درست“ تشریح کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہی ’درست‘ نظریہ کسی دوسرے شخص کے لئے بالکل اُلٹ (غلط) ہو سکتا ہے کیونکہ وہ اسے مختلف (ایک بالکل نئے زاویئے) نقطہ نظر سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اِس طرزعمل کی وجہ سے ابہام پیدا ہوتا ہے اُور علم تک پہنچنے کی کوشش میں جہاں کہیں سیاق و سباق سے ہٹ کر قرآن و حدیث کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اِس سے انواع و اقسام کی تشریحات بصورت مسائل پیدا ہوتی ہیں۔ علم کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اِسے جان بوجھ کر (دانستہ کوشش سے) مسخ بھی کیا جا سکتا ہے اُور انسانی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ جہاں علم کو مفادات کے تابع کرتے ہوئے حقائق مسخ کرنے کے لئے استعمال کیا گیا۔ 

”علم“ آزادی چاہتا ہے۔ یہ آزادی اظہار کا بھی احاطہ کرتی ہے۔ علم فرمان تابع اُور قابل فروخت نہیں ہونا چاہئےکہ یہ حکمرانوں کی خواہشات اُور خوشنودی کا باعث ہو۔ بہت سے مورخین ایسا کرتے رہے ہیں۔ بہت سی قومی ریاستیں بھی اپنے سیاسی ایجنڈوں اور نظریات کے مطابق تاریخ کو مسخ کرتی آئی ہیں۔ جدید دور میں جملہ ذرائع ابلاغ (بشمول الیکٹرانک و پرنٹ اُور سوشل میڈیا) اپنے مفادات کے لئے کسی خاص شے (برانڈ) یا شخصیت یا سیاسی جماعت کو دوسروں سے بہتر (پرکشش) بنا کر پیش کرتا ہے۔ اِس طرزعمل کے باعث اختلافات کو فروغ ملتا ہے۔ علم رکھنے والے طبقات کا فرض بنتا ہے کہ وہ ایسی کسی صورتحال میں خاموشی اختیار کرنے کی بجائے ”علم“ کے ساتھ جڑے فرائض اُور ذمہ داریوں کو ادا کریں اُور کسی معاشرے کو اختلافات سے بچائیں۔ صرف علم کا فروغ ہی فرقہ پرستی (فرقہ واریت) کی حوصلہ شکنی کر سکتا ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ تاویلات کی کثرت کو تاریخی حقیقت اُور مکمل علم سمجھنے کی بجائے‘ اگر علم کی تلاش علم ہی کے ذریعے کی جائے تو اِس سے مفید نتیجہ حاصل ہوگا۔ عموماً علم کی تلاش میں جہالت سے کام لیا جاتا ہے اُور جہل کی خصوصیت یہ ہے کہ اِسے جس قدر بھی ”کھنگالا“ جائے اِس سے سوائے تاریکی کچھ برآمد نہیں ہوگا۔ علم کی شناخت یہ ہے کہ یہ فرقہ واریت (اختلافات) کم کرے گا۔ یہ معاشرے کو توڑنے کے لئے نہیں بلکہ اِسے جوڑنے کے لئے استعمال میں لایا جائے گا۔

انسان کی تشریح علم اُور علم کی تشریح انسان ہے۔ یہ دونوں لازم و ملزوم ایک دوسرے کی خوشنمائی کا باعث ہیں اُور اگر یہی ایک پہلو مدنظر رکھا جائے تو کوئی بھی خاص دن‘ ہفتہ‘ عشرہ یا مہینہ ایسا نہیں ہو سکتا جب مختلف النظریات علمی دلائل کی وجہ سے معاشرے کو خطرات لاحق ہوں اُور ہر طرف سے امن‘ امن کی بلند ہوتی صدائیں سنائی دے رہی ہوں۔ مولانا جلال الدین‘ بلخی جلال الدین رومی المعروف مولانا رومی پیدائش 1207ءوفات 1273ءنے اپنے کلام ’مثنوی مولوی معنوی‘ میں علم کے تعمیری پہلوؤں اُور انسانی کردار جیسے تصورات کو نہایت ہی خوبصورتی سے بیان کیا ہے ”تو برائے وصل کردن آمدی .... نے برائے فصل کردن آمدی (ترجمہ) اے انسان تیری تخلیق کا مقصد لوگوں کو آپس میں ملائے رکھنا ہے ناکہ تیری تخلیق کا مقصد انسانی معاشرے کو تقسیم در تقسیم کرنا ہے۔“

نظریات اگر لچکدار‘ غیرجانبدار اُور تعمیروترقی کا باعث نہیں تو یہ کچھ بھی ہو سکتے ہیں لیکن علم نہیں۔ اصول یہ ہے کہ غیر جانبدار نتائج تک پہنچنے کے لئے ان کا ممکنہ حد تک معروضی تجزیہ کیا جائے۔ دوسروں کے خیالات کو زیادہ توجہ (ہمدردی) سے سُنا جائے۔ سماجیات سے متعلق علم کا جدید پہلو یہ ہے کہ یہ ایک نقطہ نظر کی تخلیق‘ تعمیر اور تعمیر نو کا حاصل (نتیجہ) ہوتا ہے جس میں سیاق و سباق‘ اوقات اُور محرکات سے علم وسیع ہوتا چلا جاتا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں جبکہ اعلیٰ تعلیم کا تصور محدود نہیں رہا اُور اِس میں انسانی سماج کے ارتقا‘ اِس کی تاریخ و ثقافت اُور عقائد و نظریات کا مطالعہ بوساطت ’انٹرنیٹ‘ نسبتا آسان ہوگیا ہے تو وقت ہے کہ نوجوان (مرد و خواتین کے) ذہنوں کو مطالعے (کتب بینی) اُور علمی موضوعات پر بحث و مباحثے کی سہولت و ترغیب فراہم کی جائے۔ اس کے علاؤہ ”ادب (فنون لطیفہ)“ تک رسائی زیادہ وسیع اُور اِن کے معروضی مطالعے کو ممکن بنایا جائے۔ 

جدید تحقیقی مضامین جیسا کہ بشریات‘ سماجیات‘ نفسیات اور آثار قدیمہ توجہ طلب ہیں جن کے ذریعے ثقافتوں کا مطالعہ ممکن ہے اُور جب ہم دوسروں کی تاریخ و ثقافت کے مطالعے سے ”حصول ِعلم“ کا آغاز کریں گے تو یہی ’نافع (باعث نفع) عمل‘ ہوگا۔ علم کا سانس سُوال سے گھٹنا نہیں چاہئے بلکہ علم ساکت و جامد نہیں بلکہ مسلسل و جاری حقیقت ہے۔ اگر ہم غور و فکر اُور فکر و غور کریں تو معلوم ہوگا کہ ہمیں اپنے ہی تصورات (پسند و ناپسند) نے گھیر رکھا ہے۔ علم کی بنیاد تنقید ہے اُور تنقیدی سوچ ہمیں اپنے آپ کو افلاطونی غاروں کے اندھیروں میں موجود تاریکی کی پرتوں میں گم اپنا آپ تلاش کرنے میں مدد کرتی ہے۔ سوچنے کی گھڑی ہے کہ تاریخی شعور کی ہماری دیواروں پر اگر فرقہ وارانہ رنگوں سے گلکاریاں موجود ہیں تو ہمیں وقتی تعبیرات سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے اور اپنی تاریخ‘ ثقافت‘ عقائد‘ طور طریقوں کو ہمیشہ متحرک‘ تعمیر و تعمیر نو کے تناظر میں دیکھنا چاہئے۔ ہمیں تاریخ کے ارتقا‘ خیالات‘ نظریات‘ عملی نمونوں اور نقطہ ہائے نظر کے ذخائر میں چھپے ہیرے بصورت تشریحات تلاش کرنی ہیں تاکہ معاشرے کو ایک دوسرے سے زیادہ قریب لایا جا سکے‘ جس کے لئے قرآن و سنت جیسی جامع رہنمائی اُور قرآن و سنت پر عمل کرنے والے رہنما (بطور مقلد و تقلید) موجود ہیں۔

....

Clipping from DailyAaj Peshawar July 24, 2022 Sunday


Thursday, August 12, 2021

Muharram Security: All we need is love!

 ژرف ِنگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی : پیار کی سوغات چاہئے!

محرم الحرام کے لئے تشکیل دیئے گئے خصوصی حفاظتی انتظامات (سیکورٹی پلان) کے تحت پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے یکم محرم الحرام (10 اگست) سے ’دفعہ 144‘ نافذ کر رکھی ہے جو سوئم امام اُور ممکنہ طور پر اِس کے بعد بیس صفرالمظفر (چہلم ِامام) تک جاری رہے گی۔ مذکورہ خصوصی قانون کے اطلاق کے پہلے ہی روز خلاف ورزی کرنے والے 609 افراد کے خلاف قانونی کاروائی کی گئی ہے‘ جس سے اندازہ    لگایا جا سکتا ہے کہ پشاور کی اکثریت اِن خصوصی اقدامات و انتظامات سے ناواقف ہے بصورت دیگر کوئی منطق سمجھ میں نہیں آتی کہ اِس قدر بڑی تعداد میں کوئی قانون کی خلاف ورزی کیوں کرے گا۔ پشاور کی تاریخ میں شاید اِس سے قبل کبھی بھی ایسا دیکھنے میں نہیں آیا ہوگا کہ ایک دن میں 600 سے زائد افراد کے خلاف ’دفعہ 144‘ کے تحت کاروائیاں کی گئی ہوں۔ سب سے زیادہ جرمانے گاڑیوں کے سیاہ شیشوں کی وجہ سے کئے گئے ہیں لیکن پشاور میں گاڑیوں کے شیشے سیاہ کرنے والے مراکز پر پابندی نہیں! اِسی طرح وال چاکنگ پر پابندی ہے لیکن وال چاکنگ کرنے والوں کی خدمات کسی بھی وقت حاصل کی جا سکتی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے مختلف نوعیت کی کمال سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے محرم الحرام کے دوران موٹرسائیکل کی ڈبل سواری‘ گاڑیوں کے سیاہ شیشے اُور اسلحے کی نمائش پر پابندی عائد کی ہے جبکہ اصولاً اگر یہ جرائم ہیں تو اِن پر صرف محرم الحرام کے دوران ہی نہیں بلکہ سال کے دیگر ایام میں بھی پابندی کیوں عائد ہونی چاہئے؟

پشاور کو اسلحے سے پاک کرنے کی مہم کب چلائی جائے گی جبکہ یہاں ہوائی فائرنگ کی خلاف ورزی کرنے کے واقعات تواتر سے رونما ہوتے ہیں!؟

محرم الحرام اُور دیگر گیارہ مہینوں کے حفاظتی انتظامات یکساں سخت ہونے چاہیئں اُور خیبرپختونخوا کے سبھی اضلاع میں پولیس اہلکاروں بالخصوص داخلی و خارجی راستوں کے ناکوں پر کھڑے جوانوں کو ’بلٹ پروف جیکٹس اُور ہیلمٹ‘ لازم بطور یونیفارم پہننا چاہئے‘ صرف محرم کی خصوصیت اُور مخصوصیت ہی کافی نہیں کیونکہ افغانستان کی صورتحال غیریقینی ہونے کی وجہ سے پشاور میں سیکورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ حالیہ چند ہفتوں اُور مہینوں کے دوران پولیس کے گشتی اہلکاروں اُور ناکوں پر حملوں کے واقعات سے عیاں ہے کہ رواں برس (1443ہجری) محرم الحرام آسان نہیں جس دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سنگین سیکورٹی چیلنجز درپیش ہیں۔

پشاور کا محرم اُور عزاداری خیبرپختونخوا کے دیگر حصوں سے مختلف‘ قدیمی اُور روائتی ہے۔ یہاں وقت کی رفتار رکی ہوئی محسوس ہوتی ہے کیونکہ سینکڑوں برس سے جاری یہ ’اظہار ِعقیدت و پرسہ داری‘ ایک ہی ڈگر اُور ایک ہی معمول پر چل رہے ہیں‘ جس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ خانوادہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عقیدت و محبت رکھنے والے اپنی اپنی دنیاؤں میں رہتے ہیں اُور ایک دوسرے کے عقائد کو واجب الاحترام سمجھتے ہوئے حد سے تجاوز نہیں کرتے۔ یہی پشاور کا مزاج رہا ہے اُور یہی پشاور کا خاصہ بھی ہے‘ جسے نظر لگ چکی ہے اُور اِس نظر کو توڑنے (نظر ماتے) کی ضرورت ہے۔

تاریخی طور پر پشاور میں 10محرم الحرام کی مناسبت سے ذوالجناح کا پہلا جلوس 1890ءمیں نکالا گیا جو برطانوی حکومت سے حاصل کردہ خصوصی اجازت کے تحت تھا۔ یوں پشاور میں عزاداری بصورت جلوس برآمدگی کا آغاز قیام پاکستان سے قبل ہوا۔ 1890ءمیں ایک ایرانی سفارتکار نے یہاں فارسی زبان کی مجالس متعارف کروائی تھیں اُور ابتدا سے آج تک فارسی مجالس نہ صرف عشرے بلکہ اِس کے بعد چہلم امام تک خمسہ اُور ہفتہ وار شب بیداریوں میں پڑھی جاتی ہیں۔ پشاور کا محرم کثیرالسانی ہے۔ یہاں فارسی کے علاؤہ‘ اُردو‘ ہندکو‘ سرائیکی‘ پنجابی‘ کشمیری اُور پشتو زبانوں میں مجالس کا انعقاد ہوتا ہے اُور اِن کے لئے الگ الگ امام بارگاہیں (مقامات) مخصوص ہیں۔ ذہن نشین رہے کہ پشاور سے ذوالجناح کا پہلا جلوس ’امام بارگاہ سیّد عالم شاہ‘ سے برآمد ہوا تھا جو آج تک باقاعدگی سے جاری ہے اُور یوم عاشور (10محرم الحرام) صبح 9 بجے سے بوقت مغرب (دن ڈھلے) تک پشاور میں14 جلوس مختلف امام بارگاہوں سے نکالے جاتے ہیں جو اپنے روائتی راستوں سے گزرتے ہوئے جن مقامات پر اختتام پذیر ہوتے ہیں وہاں شام غریباں کی محافل برپا ہوتی ہیں جو دیر رات تک جاری رہتی ہیں۔ علا ؤہ ازیں شام غریباں کے جلوس بھی برآمد ہوتے ہیں‘ جن کے اپنے روائتی لیکن مختصر راستے ہیں۔ یوم عاشور سے قبل 9ویں محرم کی شب نکالے جانے والے جلوس تمام رات سفر کرتے ہوئے آذان فجر پر اختتام پذیر ہوتے ہیں اُور مذکورہ جلوسوں کی راہداریاں چونکہ مختلف ہوتی ہیں اِس لئے ہر جلوس کے آگے پیچھے اُور دائیں بائیں راستوں پر پولیس اہلکار نظر رکھتے ہیں۔ پشاور میں محرم الحرام کے پہلے عشرے کی خصوصیت یہ ہے کہ اِس میں ہونے والی جملہ عزاداری رات گئے شروع اُور تمام رات جاری رہنے کے بعد دن کے آغاز پر ختم ہوتی ہے‘ جن کے شرکا کی آمدورفت کے باعث اندرون شہر کی گلی کوچوں میں بھی سیکورٹی اہلکار تعینات کرنا پڑتے ہیں اُور حفاظتی انتظامات کا سب سے مشکل ترین اُور مہنگا ترین حصہ ہے‘ جسے محفوظ و آسان بنانے کے لئے ضلعی اِنتظامیہ ’دفعہ 144‘ کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خصوصی اختیارات دیتی ہے لیکن اگر دفعہ 144 نافذ نہ بھی ہو‘ تب بھی نقص امن کے جملہ محرکات جیسا کہ نفرت انگیز و آمیز تحاریر و تقاریر‘ مسالک کی دل آزاری‘ وال چاکنگ‘ اسلحے کی نمائش‘ ہوائی فائرنگ اُور گاڑیوں کے کالے شیشوں پر پابندی ہونی چاہئے۔

محرم الحرام کے آغاز پر ’دفعہ 144‘ نافذ ہونے کا علم ہر خاص و عام کو نہیں ہوتا اُور یہی وجہ ہے کہ غیردانستہ خلاف ورزی ہو جاتی ہے جسے درگزر کرنا چاہئے کیونکہ موٹرسائیکل پر ڈبل سواری کی پابندی غیرمتعلقہ علاقوں میں بھی نافذ کر دی جاتی ہے کہ جہاں محرم الحرام کی مناسبت سے کوئی تقریب یا جلوس نہیں ہوتا۔ ضلعی انتظامیہ اُور ٹریفک پولیس اہلکاروں کو کاہلی اُور سستی پر مبنی اِس لائحہ عمل پر نظرثانی کرنا ہوگی‘ جس میں پورے پشاور کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جا رہا ہے۔ صوبائی و ضلعی اُور بلدیاتی فیصلہ سازوں کو حفاظتی اقدامات و انتظامات کے نتائج سے بھی سبق سیکھنا چاہئے کہ جس کی وجہ سے نفرت ختم ہونے کی بجائے یہ بذریعہ ’دفعہ 144‘ نفرت بڑھ رہی ہے۔ پشاور میں مختلف مسالک کے درمیان معاشرت و تعلقات کی تاریخ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہاں کے تاراج سکون کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ بھائی چارے اُور مذہبی رواداری پھر سے عام کرنے کی ضرورت ہے‘ جسے سخت گیر حفاظتی انتظامات نقصان پہنچا رہے ہیں۔ تجویز ہے کہ عام آدمی کے نکتہ¿ نظر سے بھی دیکھا اُور سوچا جائے کہ اسلامی سال کے پہلے مہینے (محرم الحرام) کا آغاز خوف و ہراس اُور دہشت سے نہیں بلکہ یگانگت و محبت اُور عقیدت کے اظہار سے کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ ”امن و امان پیار کی سوغات چاہئے .... خوابوں کو نیند‘ نیند کو بھی رات چاہئے (سبین یونس)۔“

....





Tuesday, August 3, 2021

Muharram ul Harram & Security Concerns

محرم الحرام‘ تیاریاں‘ انتظامات اُور خدشات
 اسلامی سال کے پہلے مہینے ’محرم الحرام‘ کا آغاز 9 یا 10 اگست سے ہو رہا ہے جبکہ یوم عاشور (10محرم الحرام) اٹھارہ یا اُنیس اگست اُور چہلم اِمام 27 یا 28 ستمبر روائتی مذہبی جوش و خروش سے منانے کی تیاریاں اُور انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔ بنیادی طور پر محرم الحرام کے آغاز سے 8 ربیع الاوّل تک کا عرصہ بطور ’ایام ِعزا (سوگ)‘ منایا جاتا ہے اُور اِن ’ایام ِعزا‘ کے دوران عبادت گاہوں (اِمامیہ مساجد و امام بارگاہوں) کی سیّاہ پوشی کی جاتی ہے۔ کامل ”2 مہینے 8 دن“ پر مشتمل اِن ایام ِعزا کے حوالے سے ہر سال کی طرح اِس مرتبہ بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہری سہولیات فراہم کرنے والے اداروں اُور محکمہ¿ صحت کو شریک کرتے ہوئے ضلعی حفاظتی اقدامات (سیکورٹی پلانز) تشکیل دیئے ہیں‘ جن پر ’عدم اِطمینان‘ کا اظہار کرتے ہوئے امامیہ جرگہ خیبرپختونخوا نے پشاور سمیت حساس علاقوں میں سیکورٹی انتظامات سخت کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ عزاداریسیّد الشہدا  کے ذریعے تمام مسالک اُور جملہ مسلم و غیر مسلم مکاتب ِفکر کے درمیان جس ہم آہنگی کا قیام اُور فروغ ہونا چاہئے‘ اُس کی اہمیت و ضرورت تو ہر کوئی محسوس کر رہا ہے لیکن اِس سلسلے میں اِنفرادی و اجتماعی حیثیت سے ’ذمہ داری‘ اُور ’احساس ِ ذمہ داری‘ عام نہیں۔

محرم الحرام کی آمد سے قبل اخبارات میں ضلعی اِنتظامیہ اُور پولیس کے اعلیٰ حکام کے ساتھ تصاویر شائع کروانے والے مانوس چہرے نمودار ہوتے ہیں۔ امن کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں لیکن پشاور میں بالخصوص اُور خیبرپختونخوا میں بالعموم وہ امن بحال نہیں ہو رہا جو12 جولائی 1992ء(یوم عاشور) کے موقع پر ’سانحہ¿ کوہاٹی گیٹ‘ کے بعد سے متاثر ہے اُور جس کی برسی و غم صرف اہل تشیع ہی نہیں بلکہ اہل سنت کے وہ گھرانے بھی مناتے ہیں‘ جن کے پیارے مذہب کی بنیاد پر پائی جانے والی نفرت کا نشانہ بنے تھے۔ مذکورہ سانحے میں 10 افراد قتل جبکہ درجنوں زخمی ہوئے اُور اِس سانحے کے بعد پیدا ہوئی کشیدگی اپنی جگہ جبکہ املاک پر حملوں کا سلسلہ بھی شروع ہوا‘ جو پشاور کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔

محرم الحرام کی مناسبت سے حفاظتی انتظامات پر سرکاری خزانے سے ہر سال کروڑوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں لیکن مثالی صورت میں امن و امان کو بحال نہیں کیا جاتا جس کے بعد خصوصی حفاظتی انتظامات کی ضرورت ہی پیش نہ آئے جیسا کہ مقامی اُور غیرمقامی کی تمیز نہ کرتے ہوئے بازاروں اُور راستوں کو ہر قسم کی آمدورفت کے لئے بند کرنا اُور موبائل فونز کی سروسیز معطل رکھنے جیسے انتظامات ناقابل فہم ہیں۔ 1992ءسے قبل میں صرف افغان مہاجرین اُور مقامی و غیرمقامی (دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے) متنازعہ علمائے کرام کے داخلے پر پابندی عائد کی جاتی تھی لیکن سوشل میڈیا اُور انٹرنیٹ کے ذریعے نفرت انگیز تقاریر پھیل جاتی ہیں اُور یہ پابندی بے معنی ہو کر رہ گئی ہے۔ کورونا وبا کے ظاہر ہونے کے بعد سے رواں برس دوسری مرتبہ محرم الحرام کی مناسبت سے مذہبی اجتماعات منعقد ہوں گے جن میں مساجد و امام بارگاہوں کی چاردیواریوں کے اندر اُور کھلے مقامات پر ”کربلا شناسی“ عام کرنے کے لئے ذکر و فکر کی محافل منعقد ہوں گی جنہیں اِس سال کورونا قواعد (SOPs) کی روشنی میں منعقد کرنا پہلے سے زیادہ ضروری ہو چکا ہے کیونکہ نئی قسم (ڈیلٹا وائرس) کی موجودگی اُور وفاقی و خیبرپختونخوا حکومتوں کی جانب سے نئے حفاظتی انتظامات (2 اگست) جاری کئے گئے ہیں جن میں اگرچہ محرم الحرام کا ذکر نہیں لیکن چونکہ محرم الحرام کی مناسبت سے تقاریب کا آغاز ہفتے دس دن میں ہونے والا ہے‘ اِس لئے کسی الگ ہدایت نامہ کی ضرورت نہیں اُور کسی بھی مسلک کی نمائندگی کرنے والوں کو طلب کر کے اُن سے اِس بات کا تحریری عہدنامہ لینا چاہئے کہ وہ اپنے ہاں ہونے والے اجتماعات میں ’کورونا ایس اُو پیز‘ کو یقینی بنائیں گے اُور اگر زبانی کلامی یا تحریری یقین دہانی کے باوجود گزشتہ برس کی طرح اِس سال بھی ’کورونا ایس او پیز‘ پر عمل درآمد دیکھنے میں نہیں آتا تو ایسی صورت میں ضلعی اِنتظامیہ اُور پولیس کے اَعلیٰ حکام پر اُن کرداروں کی حقیقت عیاں ہو جانی چاہئے جن کے لئے محرم الحرام اُن کی ذاتی تشہیری سرگرمیوں (معمولات) کا نادر موقع ہوتا ہے۔ کسی اُور مرحلہ فکر پر بیان کیا جائے گا کہ اِمام عالی مقام رضی اللہ عنہ کی عظیم قربانی (قیام و عمل) کا ذکر کس طرح ہدایت‘ اخلاقیات پر مبنی معاشرت اُور سب سے بڑھ کر اِنسانیت کے فروغ کا ذریعہ ہیں لیکن اِس لمحہ فکریہ پر صرف اِسی جانب توجہ دلانی ہے کہ اگر ’درحسینؓ پہ ملتے ہیں ہر مزاج کے لوگ .... یہ دوستی کا وسیلہ ہے دشمنی کا نہیں“ اُور اگر اِس حقیقت کو بھی سمجھ لیا گیا ہے کہ ”اِنسان کو بیدار تو ہو لینے دو .... ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؓ“ تو پھر اختلاف کی گنجائش کہاں اُور کیوں رہ جاتی ہے!؟

علامہ ڈاکٹر سیّد کلب حسین صادق نقوی (وفات نومبر دوہزاربیس) نے ایک خاص نکتے کی جانب توجہ دلاتے ہوئے گویا دریا کو کوزے میں بند کر دیا تھا کہ ”اگر منبر سدھر جائے تو معاشرہ خود بخود سدھر جائے گا۔“ مگر مشکل تو یہی ہے کہ منبر و محراب کی ذمہ داریوں کا خاطرخواہ احساس نہیں کیا جا رہا اُور ”تو برائے وصل کردن آمدی .... نے برائے فصل کردن آمدی (ترجمہ) تو جوڑ (پیار) پیدا کرنے کے لئے (دنیا) میں آیا ہے ناکہ توڑ (اختلافات) پیدا کرنے کے لئے۔“ جیسی صورتحال درپیش ہے۔ اس لئے محرم الحرام کے دوران حالات و تعلقات معمول پر لانے اُور فاصلے و اختلافات ختم کرنے پر توجہ دینی چاہئے تاکہ اسلامی جمہوریہ میں امن دوست معاشرے کا چہرہ اُبھرے۔ اِس موقع پر تمام تر ذمہ داری علمائے کرام ہی نہیں بنتی بلکہ ہر کس و ناکس کو چاہئے کہ وہ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے تقاریر کے ایسے ٹکڑے (clips) کا  تبادلہ (share)  نہ کرے‘ جن میں فروعی باتوں کو علمی بحث کی بجائے شدت و یک طرفہ زوایئے سے بیان (پیش) کیا جاتا ہے اُور اِس سے مذہبی منافرت پھیلتی ہے۔ مذہبی تعلیمات پر عمل سے لیکر مذہبی عقائد اُور مراسم کی ادائیگی تک ہر لفظ اُور ہر اقدام احتیاط پر مبنی ہونا چاہئے جس سے دوریاں ایجاد نہ ہوں اور فاصلے قربت سے بدل جائیں جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔
....